Explained with ayahs 1–13
مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40) 75۔…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْلٰی 7
حاکم نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ مجاہد اور کلبی کہتے ہیں کہ جبریل وحی سنا کر فارغ نہ ہوتے تھے کہ حضور بھول جانے کے اندیشے سے ابتدائی حصہ دہرانے لگتے تھے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپ خاموشی سے سنتے رہیں، ہم آپ کو اسے پڑھوا دیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کو یاد ہوجائے گی، اس بات کا کوئی اندیشہ آپ نہ کریں کہ اس کا کوئی لفظ بھی آپ بھول جائیں گے۔ یہ تیسرا موقع ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کو وحی اخذ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سنقرئک فلاتنسی، الا ماشاء اللہ، سابقہ آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کے چند مظاہر بیان فرمانیکے بعد رسول اللہ ﷺ کو انکے فریضہ پیغمبری کی طرف چند ہدایات دی ہیں اور ہدایات سے پہلے آپ کے کام کو آسان کردینے کی خوشخبری سنائی ہے وہ یہ کہ ابتداء میں جب آپ پر قرآن نازل ہوتا اور جبرئیل امین کوئی آیت قرآن سناتے تو آپ کو یہ فکر ہوتی تھی کہ ایسا نہ ہو کہ الفاظ آیت ذہن سے نکل جائیں اسلئے جبرئیل امین کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ بھی الفاظ قرآن پڑھتے جاتے تھے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ کام یعنی قرآن کا یاد کرادینا اپنے ذمہ لے لیا اور آپکو بےفکر کردیا کہ جبرئیل امین کے چلے جانے کے بعد آیات قرآن کا آپ سے…
Read the full tafseer →حقیقت جو پیغمبر کو سمجھائی گئی:یہ وہ اصل مدعا ہے جو آنحضرت ﷺ کو سمجھانے کے لیے اوپر کی تمہید بیان ہوئی ہے یعنی قدرت کا جو قانون تدریج و ترتیب انسان کے خلق اور اس کی تکمیل میں، قوتوں اور صلاحیتوں کو مقدر کرنے اور ان کو بروئے کار لانے میں، سبزے کو اگانے اور اس کو پروان چڑھانے میں کار فرما ہے اسی قانون کے تحت اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی معاملہ کرے گا۔ اس نے تمہیں جس منصب پر سرفراز فرمایا ہے اور جس وحی آسمانی سے نوازا ہے اس کے مرحلے بالتدریج طے ہوں گے اور جلد وہ وقت آئے گا کہ تم دیکھو گے کہ جس راہ پر تمہیں چلنے کا حکم دیا گیا اس کے تمام عقبات طے ہو گئے اور آخری منزل آ گئی۔
وحی الٰہی کے باب میں…
Read the full tafseer →6۔ 1 حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر آتے تو آپ جلدی جلدی پڑھتے تاکہ بھول نہ جائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس طرح جلدی نہ کریں، نازل شدہ وحی ہم آپ کو پڑھوائیں گے، یعنی آپ کی زبان پر جاری کردیں گے۔ پس آپ بھولیں گے نہیں۔ مگر جسے اللہ چاہے گا لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، اس لیے آپ کو سب کچھ یاد ہی رہا بعض نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے کہ جن کو اللہ منسوخ کرنا چاہے گا وہ آپ کو بھلوا دے گا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2: اشارہ اس طرف ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ کچھ عرصے اپنی بہار دکھانے کے بعد وہ بد شکل اور پھر فنا ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔
سنقرنک .................................... الذکری
اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔
سنقرءک فلا تنسی (6:87) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
15 یعنی جس طرح ہم نے اپنی تربیت سے ہر چیز کو بتدریج اس کے کمال مطلب تک پہنچایا ہے تم کو بھی آہستہ آہستہ کامل قرآن پڑھا دیں گے اور ایسا یاد کرادیں گے کہ اس کا کوئی حصہ بھولنے نہ پاؤ گے بجز ان آیتوں کے جن کا بالکل بھلا دینا ہی مقصود ہوگا کہ وہ بھی ایک قسم نسخ کی ہے۔
16 یعنی وہ تمہاری مخفی استعداد اور ظاہری اعمال و احوال کو جانتا ہے اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا۔ نیز یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جو آیات ایک مرتبہ نازل کردی گئیں، پھر ان کو منسوخ کرنے اور بھلا دینے کے کیا معنی۔ اس کی حکمتوں کا احاطہ کرنا اسی کی شان ہے جو تمام کھلی چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے اسی کو معلوم ہے کہ کونسی چیز ہمیشہ باقی…
Read the full tafseer →آیت 6{ سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰٓی۔ } ”اے نبی ﷺ ! ہم آپ کو پڑھا دیں گے ‘ پھر آپ بھولیں گے نہیں۔“
یعنی قرآن مجید میں سے کوئی چیز آپ کو بھولے گی نہیں۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة القیامہ کی ان آیات میں آیا ہے : { لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ - اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ - فَاِذَا قَرَاْنٰــہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ۔ } ”آپ اس قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔ اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب ہم اسے پڑھوا دیں تو آپ اس کی قراءت کی پیروی کیجیے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 مَرعٰی کا لغوی معنی چارہ ہے۔ یعنی جانوروں کی خوراک جو تازہ ہو یعنی گھاس وغیرہ تاہم اس کے وسیع معنوں میں تمام نباتات بھی شامل ہے۔ یعنی اللہ ہی ہے جو زمین پر بہار اور موسم بہار لاتا ہے۔ پھر موسم خزاں بھی لاتا ہے۔ اور اس تازہ نباتات کے فالتو اجزا خس و خاشاک بن کر پاؤں کے نیچے مسلے جاتے ہیں۔ لہذا تم لوگوں کو اس دنیا کی بہار پر ہی فریفتہ نہ ہوجانا چاہئے اس پر خزاں بھی آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4۔ (اپنی کسی مصلحت سے، سو وہ اس پر بھی قادر ہے) بہرحال اس کلام کا یاد رکھنا ہو تو اور اس کے کسی جزو کو بھلا دینا ہو تو ہمیشہ وہی قرین حکمت ومطابق مصلحت ہی ہوگا۔ (آیت) ” سنقرئک “۔ اشارہ قرآن مجید کی جانب ہے، جو طریق طاعت بتانے ہی کے لیے ہے۔
5۔ (اور اس سے کسی چیز کی کوئی بھی مصلحت مخفی نہیں) چناچہ کسی کلام کا محفوظ رکھنا ہی جب مصلحت ہوتا ہے، حق تعالیٰ اسے محفوظ رکھتا ہے، اور جب اسے بھلا دینا ہی مصلحت ہوتا ہے تو وہ اسے بھلا بھی دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سنقرئک فلاتنسی حاکم نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ساتھ ساتھ دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں، مجاہد اور کلبیک ہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) وحی سنا کر فارغ نہ ہوتے تھے کہ آپ ﷺ بھول جانے کے اندیشہ سے دہرانے لگتے تھے اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپ ﷺ خاموشی سے سنتے رہیں ہم اسے آپ ﷺ کو پڑھوا دیں گے اور وہ ہمیشہ کے لئے آپ ﷺ کو یاد ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →سنقرئک فلا تنسی . ہم یقیناً تم سے پڑھوائیں گے تم (جبرئیل کی قراءت ) نہیں بھولو گے۔ چناچہ اس کے بعد
رسول اللہ ﷺ کچھ نہیں بھولے۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح جبرئیل کی زبانی ہم نے قرآن نازل کیا ‘ اسی طرح تمہارے دل میں ہم اس کی قراءت الہام کردیں گے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ اصل لفظ : فَلاَ تَنْسَ ۔ (بصیغۂ نہی) ہے۔ سین کے بعد الف کی زیادتی فواصل آیات کی رعایت سے کردی گئی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن کی نگہداشت کرو۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ جس طرح اونٹ اپنے زانو بند سے چھوٹ کر بھاگتا ہے قرآن (اگر اس کی طرف سے غفلت کی جائے تو) اس سے بھی زیادہ تیزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6۔ 7) اے محمد جتنا قرآن کریم ہم آپ کو بذریعہ جبریل پڑھا دیا جریں گے، یا یہ کہ آپ کو سکھا دیا کریں گے تو مشیت خداوندی یہی ہے کہ آپ اس کو نہ بھولیں گے۔ چناچہ اس کے بعد رسول اکرم قرآن حکیم کے کسی حصہ کو نہیں بھولے اور وہ ظاہر اور ایسی مخفی بات کو جس کا ابھی تک تکلم نہیں کیا ہے جانتا ہے۔
شان نزول : سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى (الخ)
امام طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم کے پاس جبریل امین جس وقت وحی لے کر آتے تو جبریل امین وحی سے فارغ نہ ہونے پاتے اور رسول اکرم سے اس کو بھولنے کے ڈر کی وجہ سے پڑھنا شروع کردیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اس روایت کے راوی بہت…
Read the full tafseer →(سنقرنک فلا تنسی : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة قیامہ کی آیات (16 تا 19) کی تفسیر۔ یہ پیشین گوئی ابتدائے اسلام میں مکہ کے اندر ہوئی، پھر سب لوگوں نے دیکھا کہ واقعی رسول اللہ ﷺ کو صرف ایک دفعہ جبریل ؑ سے سن کر کسی کتابت یا تکرار کے بغیر اتنا بڑا قرآن حفظ ہوگیا۔ یہ قرآن کا بھی معجزہ ہے کہ اس کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کا بھی جنہیں قرآن یاد ہوا اور پھر بھولا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سنقرئک فلا تنسی۔۔۔ تا۔۔۔ للیسری۔
سنقرئک فلا تنسی۔ اے محمد ﷺ ہم تجھے قرآن پڑھائیں گے اور تجھے تعلیم دیں گے اور آپ نہ بھولیں گے یعنی آپ یاد رکھیں گے یہ ابن وہب نے امام مالک سے روایت کی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بشارت ہے، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو ﷺ کو بشارت دی کہ اس نے اسے واضح نشانی عطا فرمائی ہے وہ یہ کہ جبرائیل امین آپ پر جو بھی پڑھتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے جبکہ رسول اللہ امی ہیں نہ لکھنا سیکھا اور نہ پڑھا آپ ﷺ اسے یادرکھتے ہیں اور اسے بھولتے نہیں، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ بھول جانے کے ڈر سے اسے یاد کیا کرتے تھے تو آپ کو کہا گیا میں تجھے اس کی جانب سے کافی ہوں، اس…
Read the full tafseer →38۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سنقرئک فلا تنسی۔ البتہ ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے۔ سے مراد ہے کہ آپ قرآن کو دل میں یاد کرتے تھے۔ اسی خوف سے کہ بھول نہ جائے۔
وحی الٰہی کا بوجھ
39۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے تھے تو ابھی تک جبریل (علیہ السلام) وحی سے فارغ نہ ہوتے تھے کہ آپ وحی کے بوجھ سے دب جاتے تھے اور آپ اس کے اول سے پڑھنے لگے تھے اس خوف سے کہ وہ آپ کے دل کو ڈھانپ لے گی اور آپ کو بھول جائے گی۔ تو جبریل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آپ ایسا کیوں کرتے…
Read the full tafseer →[سَنُقْرِئُكَ : ہم پڑھائیں گے آپ ﷺ کو ][ فَلَا تَنْسٰٓى: تو آپ ﷺ نہیں بھولیں گے ]
نوٹ۔ 2: آیت نمبر۔ 6 ۔ کے یہ الفاظ کہ ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے پھر تم نہیں بھولو گے یہ بتاتے ہیں کہ یہ سورة اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ کو ابھی وحی اخذ کرنے کی اچھی طرح مشق نہیں ہوئی تھی اور نزول وحی کے وقت آپ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں اس کے الفاظ بھول نہ جائیں۔ اس آیت کے ساتھ سورة طٰہٰ کی آیت۔ 114 ۔ اور سورة قیامہ کی آیات۔ 16 تا 19 ۔ کو ملا کر دیکھا جائے تو واقعات کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اس سورة میں حضور ﷺ کو اطمینان دلایا گیا کہ ہم یہ کلام آپ کو پڑھوا دیں گے اور آپ ﷺ اسے نہ بھولیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ006﴾ (ہم آپ کو قرآن پڑھائیں گے سو آپ نہیں بھولیں گے) ۔
اس میں وعدہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوچکا ہے اور اس کے بعد مزید نازل ہوگا آپ اس قرآن کو بھولیں گے نہیں، یہ وہ ہی مضمون ہے جسے سورة ٴ قیامہ کی آیت کریمہ ﴿ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ0017﴾ میں بیان فرمایا ہے ﴿ اِلَّا مَا شَآء اللّٰهُ ﴾ (مگر اللہ جو چاہے) اس میں یہ بتادیا کہ آپ پر جو وحی آئے اس میں سے آپ بعض چیزوں کو بھول جائیں گے اور آپ کا یہ بھولنا ہماری مشیت سے ہوگا حکمت کے مطابق ہوگا اس میں منسوخ التلاوۃ اور منسوخ الحکم دونوں کو بیان فرما دیا، سورة ٴ بقرہ میں فرمایا ہے : ﴿ مَا نَنْسَخْ…
Read the full tafseer →4:۔ ” سنقرئک “ یہ پہلے دعوے پر انعام ہے جب آپ پہلا دعوی توحید بیان کریں گے کہ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں، تو ہم آپ کو قرآن انعام میں دیں گے آپ کو قرآن پڑھا دیں گے اور آپ کو اس طرح یاد کرادیں گے کہ پھر آپ اس کو بھولیں گے نہیں۔ ” الا ماشاء اللہ “ البتہ جن آیتوں کی تلاوت کو منسوخ کرنا منظور ہوگا وہ ہم آپ کو بھلا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(پہلی سورة کے ساتھ ربط)
پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى 6 ۙ
قرأ
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب ¦ الاعلیٰ صفۃ ربک الذین الجملۃ صفۃ اخریٰ للرب والذی صفۃ اخریٰ او معطوف علی الموصول الذی قبلہ قدر قریٔ مخففۃ ومثقلا والذی اخرج صفۃ اخریٰ فجعلہ غثاء فی القاموس الغثاء والقماش والزید والھالک البالی من ورق الشجر قال قتادہ الغثاء الیابس احویٰ اسود ماخوذ من الحوۃ وھی سواد یضرب الی الخضرۃ فے القاموس الحوۃ سواد الی خضرۃ او حمرۃ الی السوا وحوی کر ضی وفی الصحاح الحوۃ بالضم حمرۃ الشفۃ قال ابن عباس غثا ھشیما احوی متغیر افل اتنسی قیل نفی وقیل نھی والالف للاشباع الا استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای لاتنس لیٰ مماک علمک اللہ شیئاً من الاشیاء الاماشاء اللہ ان تنساہ قال الفراء ولم یشاء اللہ ان ینسی نبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰٓی۔ اِلاَّ مَاشَآئَ اللّٰہُ ط اِنَّـہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفٰی۔ (الاَعلٰی : 6، 7)
(ہم آپ کو پڑھائیں گے تو پھر آپ نہیں بھولیں گے۔ سوائے اس کے جو اللہ چاہے، وہ علانیہ کو بھی جانتا ہے اور اس کو بھی جو چھپا ہوتا ہے۔ )
وحی کے بارے میں ایک وضاحت
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار اور اس کی عنایات کا بیان ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے وحی کا نزول اور آپ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اور اس کی قدرت کا ظہور ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وحی کے نزول کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہار نہ فرمائے اور اپنے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
فہم القرآن
ربط کلام : رب تعالیٰ کی قدرتوں کا ذکر جاری ہے۔ جو ” رب “ اپنی قدرت سے نباتات کو اگاتا اور اسے کوڑا کرکٹ بناتا ہے اسی نے اپنی قدرت سے نبی ﷺ کو قرآن پڑھایا اور یاد کروایا۔
ان آیات کا یہاں لانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ جس طرح انسان اور نباتات کا پہلے وجود نہیں تھا اسی طرح وحی سے پہلے آپ کی نبوت کا وجود نہ تھا۔ انسان اور دیگر چیزوں کے لیے فنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی کو فنا نہیں ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں نبی ﷺ وحی کو یاد رکھنے کے لیے عجلت فرمایا کرتے تھے تاکہ وحی کا کوئی حصہ بھول نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو پڑھنے اور یاد کرنے میں عجلت سے کام…
Read the full tafseer →6 : سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰٓی (ہم قرآن آپ کو پڑھا دیا کریں گے پھر آپ نہیں بھولیں گے) عنقریب آپ کو قرآن پڑھا دیں گے پس آپ اس کو نہ بھولیں گے۔
Read the full tafseer →6 ۔” سنقرئک “ عنقریب ہم آپ کو جبرئیل (علیہ السلام) کے آپ قرات کرنے کا علم دیں گے۔ ” فلا تنسیٰ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…
Read the full tafseer →(اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی اصل اور اس کے مادے یعنی قرآن کا ذکر کرکے احسان جتلایا ہے چناچہ فرمایا (سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى) ہم نے آپ کی طرف جو کتاب وحی کی ہے اسے محفوظ کردیں گے اور آپ کے قلب کو یاد کرادیں گے پس آپ اس میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا علم عطا کرے گا جسے آپ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →(6) پیغمبر کی تعلیم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی تسکین و تسلی کے لیے آپ ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم خود ہی آپ کو پڑھائیں گے ( اے پیغمبر) سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کی تعلیم براہ راست حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ہوتی ہے، پیغمبر کسی انسان یا کسی بھی دوسری ہستی سے علم نہیں حاصل کرتا، البتہ فرشتہ اور خاص کر فرشتوں کے امام اور ان کے افضل حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اس ارشاد خداوندی اور تعلیم ربانی میں ذریعہ و وسیلہ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوَی ( النجم 5 پ 27) یعنی ان کو سکھایا پڑھایا بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے
تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔
مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔
قدرت کا عطیہ۔
یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →ف 16 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ بھول جانے کے اندیشہ سے قرآن یاد کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ فکر مند نہ ہوں۔ آپ کو قرآن یاد رکھوانا ہمارا ذمہ ہے۔ (فتح القدیر بحوالہ ابن مردویہ)17 یعنی قرآن میں بعض آیات کی تلاوت منسوخ کردی گئی تو وہ بھولنے کے ضمن میں نہیں آتی۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کچھ بھلانا چاہے تو بھلا سکتا ہے مگر اس نے ایسا نہیں چاہا۔
Read the full tafseer →(87:6) سنقرئک فلا تنسی : س جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے پھر خود اس کا ایک جزء بن جاتا ہے اسی لئے مضارع میں کوئی عمل نہیں کرتا۔
نقرئک : نقرء مضارع جمع متکلم اقراء (افعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم آپ کو پڑھا دیا کریں گے۔
القرء (ق ر ء مادہ) بمعنی عورت کو حیض آنا کے ہیں۔ مثلاً قرءت المرء ۃ عورت کو حیض آنا شروع ہوگیا۔ عورت حیض میں آگئی۔ اس کے اصل معنی طہر سے حیض میں داخل ہونے کے ہیں۔ اور چونکہ یہ لفظ طہر اور حیض دونوں کا جامع ہے اس لئے دونوں پر اس کا اطالق ہوتا ہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو اسم دو چیزوں کے لئے بحیثیت مجموعی وضع کیا گیا ہو وہ ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔
لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔
تشریح :
ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔
٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →(ف 3) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول کریم کو بشارت ہے کہ آپ کو حفظ قرآن کی نعمت بےمحنت عطا ہوئی اور یہ آپ کا معجزہ ہے کہ اتنی بڑی کتاب عظیم بغیر محنت ومشقت اور بغیر ورد کے آپ کو حفظ ہوگئی۔ (جمل)
Read the full tafseer →[5] یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو نبی ﷺ کو سمجھانے کے لئے اوپر کی تمہید بیان ہوئی ہے۔ یعنی قدرت کا جو قانون تدریج و ترتیب انسان کے پیدا کرنے اور اس کی تکمیل میں اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کے مقدر کرنے اور ان کو بروئے کار لانے میں، سبزے کو اگانے اور اس کو پروان چڑھانے میں کارفرما ہے اسی قانون کے تحت اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی معاملہ کرے گا۔ اس نے تمہیں جس منصب نبوت پر سرفراز فرمایا ہے اس کے مرحلے بتدریج ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الاعلیٰ
1: سنقرئک فلا تنسی میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کا دماغ خدا کی جانب سے محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تک شرعیات کا تعلق ہے ، اس پر کبھی سہو ونسیان کی کیفیتیں طاری نہیں ہوتیں ۔ الا ماشاء اللہ کا استثناء تائید کے لئے ہے ۔ یعنی خدا کو یہ منظور نہ ہو کہ پیغمبر ﷺ تعلیمات کو بھول جائے ۔ ورنہ دوسری قوت ایسی نہیں جو ذہن پیغمبر پر غالب آسکے ۔
حل لغات :۔ فسوی ۔ اعضاء میں تسویہ پیدا کرنا فھدی ۔ بدن میں اعضاء واحشاء کو ان کے وظائف طبعی سے اطلاع بخشی ۔
Read the full tafseer →(6) ہم آپ کو قرآن پڑھا دیا کریں گے پھر آپ اس کو نہیں بھولیں گے - یعنی جس قدر قرآن کریم ہم آپ پر نازل کرتے ہیں ہم اس کو یاد کرادیں گے پھر آپ اس کو نہیں بھولیں گے یہ شاید حضور ﷺ کو مشقت سے بچانے کے لئے ارشاد فرمایا جیسا کہ سورة قیامت میں گزر چکا ہے کہ آپ بھول جانے کے خوف سے جلدی جلدی پڑھتے تھے۔
اس لئے فرمایا کہ ہم آپ کو پڑھادیں گے یعنی یاد کرادیں گے اور پھر آپ بھولیں گے نہیں یہاں شاید اس لئے ذکر فرمایا کہ چونکہ دین کی تبلیغ مقصود ہے اور اوپر دین حنیف کا خلاصہ بیان فرمایا اس لئے تبلیغ کے سلسلے میں قرآن کی طرف سے اطمینان دلادیا کہ جو قرآن کا حصہ ہم آپ کو یاد کرادیں گے آپ اس کو فراموش نہیں کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 3۔ پس اس سے کسی چیز کی مصلحت مخفی نہیں اس لئے جب محفوظ رکھنا مصلحت ہوتا ہے محفوظ رکھتے ہیں۔ جب بھلا دینا مصلحت ہو بھلا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →عنقریب ہم آپ ﷺ کو پڑھا دیں گے پھر آپ ﷺ کبھی نہ بھولیں گے
6 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے پہلے ان ساری چیزوں کی طرف توجہ دلائی اور کیا کچھ سکھا دیا ، سمجھا دیا اور پھر ان باتوں سے استدلال کر کے آپ ﷺ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ بےفکر رہیں جس اللہ نے انسان کے فائدہ کے لیے اتنے اتنے بڑے کام کیے ہیں اور اتنا کچھ بنایا اور تیار کیا ہے اسی اللہ نے آپ ﷺ کے اندر یہ صلاحیت پیدا کردی ہے یا ودیعت کردی ہے کہ آپ ﷺ کو جو چیز پڑھائی جائے گی اس کو آپ ﷺ ہرگز نہیں بھولیں گے اور یہ چیز اللہ نے آپ ﷺ کے اندر وافر پیدا کردی ہے جو دوسرے انسانوں کے مقابلہ میں آپ ﷺ کے اندر بہت زیادہ ہے کہ آپ ﷺ بغیر محنت و مشقت ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ ۔ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ (We will make you recite, then you will not forget, except that which Allah wills. Indeed He knows what is manifest and what is hidden....87:6-7). In the preceding verses, Allah depicted the manifestation of His Omnipotence and [ profound ] wisdom. Thereafter, a few guidelines are given to the Holy Prophet ﷺ regarding his prophetic obligation. Before putting forth the guidelines, he is given the cheerful news of making his task easier. When the Qur'an was revealed initially, and as Jibra'il (علیہ السلام) began to recite, the Holy Prophet…
Read the full tafseer →7 Hakim has related from Hadrat Sa'd bin Abi Waqqas and Ibn Marduyah from Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas that the Holy Prophet (upon whom be peace) repeated the words of the Qur'an for fear lest he should forget them. Mujahid and Kalbi say that even before Gabriel finished recitation of the Revelation the Holy Prophet would start repeating the initial verses lest he should forget them. Ou this very basis AIlah assured him that he should listen quietly when the Revelation was coming down, for, "We shall enable you to recite it; then you will remember it for ever. You should have no fear that you…
Read the full tafseer →