Al-A'laa 87:5

Al-A'laa · from ayah 5

87:5

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰی ۟ؕفَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحۡوٰىؕ

پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کر دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [then] makes it black stubble.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'laa

All translations of 87:5

پھر اُن کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کر دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اس نے اس کو (سکھا کر) سیاه کوڑا کر دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اسے کالے رنگ کا کوڑا بنادیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اسے خشک سیاہ کردیا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اسے سیاہی مائل خشک کردیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس نے اسے سیاہ کوڑا کرکٹ کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اسے سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ان کو گھنی سر سبز و شاداب بنایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (وقت آنے پر) اس کو سیاہ کوڑا بنادیا

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اس کو کردیا سیاہ چورا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔ (سیلاب میں تبدیل کردیا)

— محترمہ رفعت اعجاز

and then made it into a blackish straw.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then turned it into a blackening stubble.

— Muhammad Taqi Usmani

then turned it into a blackening stubble.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And then makes it dark stubble.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And [then] makes it black stubble.

— Saheeh International

then caused it to wither away.

— Muhammad Sarwar

Then makes it dried up, dust-colored.

— Muhammad Habib Shakir

Then maketh it to stubble dusky.

— Abdul Majid Daryabadi

And then doth make it (but) swarthy stubble.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 87:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْلٰی 6 یعنی وہ صرف بہار ہی لانے والا نہیں ہے، خزاں بھی لانے والا ہے۔ تمہاری آنکھیں اس کی قدرت کے دونوں کرشمے دیکھ رہی ہیں۔ ایک طرف وہ ایسی ہری بھری نباتات اگاتا ہے جن کی تازگی و شادابی دیکھ کر دل خوش ہوجاتے ہیں، اور دوسری طرف اسی نباتات کو وہ زرد، خشک اور سیاہ کر کے ایسا کوڑا کرکٹ بنا دیتا ہے جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور سیلاب خس و خاشاک کی صورت میں بہا لے جاتے ہیں۔ اس لیے کسی کو بھی یہاں اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ وہ دنیا میں صرف بہار ہی دیکھے گا، خزاں سے اس کو سابقہ پیش نہیں آئے گا۔ یہی مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دوسرے انداز میں بیان ہوا ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

والذی اخرج المرعی۔ فجعلہ غثاء احوی، مرعی کے معنی چراگاہ کے ہیں جہاں چوپائے جانور چرتے ہیں اور غثاء اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو پانی کے سیلاب میں اوپر آجاتا ہے۔ احویٰ ، حوة سے مشتق ہے گہری سبزی میں جو ایک قسم کی سیاہی آجاتی ہے اس کو حوت کہتے ہیں، اس آیت میں حق تعالیٰ نے بناتات سے متعلق کچھ اپنی قدرت و حکمت کا بیان فرمایا ہے کہ زمین سے سر سبز گھاس نکالی پھر اس کو خشک کرکے سیاہ رنگ کردیا وہ سر سبزی جاتی رہی، اس میں انسان کو اسکے انجام کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ جسم کی شادابی خوبصورتی اور چشتی چالاکی حق تعالیٰ کا عطیہ ہے مگر انجام کار پھر اس سب کو ختم ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

ایک ادبی اشکال کا حل: اس ٹکڑے میں ایک ادبی اشکال ہے اس کو پہلے سمجھ لیجیے تب اس کا صحیح موقع و محل واضح ہو گا۔ ’غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے کالا کوڑا یا سیاہ خس و خاشاک کیا ہے لیکن عربی میں لفظ ’غثاء‘ تو بے شک جھاگ اور خس و خاشاک کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن ’اَحْوٰی‘ ہرگز اس سیاہی کے لیے نہیں آتا جو کسی شے میں اس کی کہنگی، بوسیدگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ اس سیاہی مائل سرخی یا سبزی کے لیے آتا ہے جو کسی شے پر اس کی تازگی، شادابی، زرخیزی اور جوش نمو کے سبب سے نمایاں ہوتی ہے۔ یہ نباتات اور باغوں کی صفت کے طور پر بکثرت استعمال ہوا ہے اور بلااستثنا ہر جگہ ان کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–6

2: اشارہ اس طرف ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ کچھ عرصے اپنی بہار دکھانے کے بعد وہ بد شکل اور پھر فنا ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

14 یعنی اول نہایت سبزو خوشنما گھاس چارہ زمین سے پیدا کیا پھر آہستہ آہستہ اس کو خشک و سیاہ کر ڈالا تاکہ خشک ہو کر ایک مدت تک جانوروں کے لئے ذخیرہ کیا جاسکے اور خشک کھیتی کٹ کر کام میں آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ فَجَعَلَہٗ غُثَآئً اَحْوٰی۔ } ”پھر اس کو کردیا سیاہ چورا۔“ یعنی اسی کے طے کردہ نظام کے تحت گھاس اور نباتات وغیرہ زمین سے اگتے ہیں اور پھر گل سڑ کر ختم ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5 مَرعٰی کا لغوی معنی چارہ ہے۔ یعنی جانوروں کی خوراک جو تازہ ہو یعنی گھاس وغیرہ تاہم اس کے وسیع معنوں میں تمام نباتات بھی شامل ہے۔ یعنی اللہ ہی ہے جو زمین پر بہار اور موسم بہار لاتا ہے۔ پھر موسم خزاں بھی لاتا ہے۔ اور اس تازہ نباتات کے فالتو اجزا خس و خاشاک بن کر پاؤں کے نیچے مسلے جاتے ہیں۔ لہذا تم لوگوں کو اس دنیا کی بہار پر ہی فریفتہ نہ ہوجانا چاہئے اس پر خزاں بھی آسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

3۔ پہلے مثالیں حیات حیوانی میں تصرفات کی بیان ہوئیں، اب حیات نباتی میں تصرفات کی بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” والذی اخرج المرعی “۔ یہ چارہ کی سبز، خوشنما حالت کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کر یعنی اپنے رب کی ان چیزوں سے پاکی بیان کر جو اس کی شایان شان نہیں ہیں اور لفظ اسم زائد ہے (الاعلیٰ ) رب کی صفت ہے جس نے پیدا کیا اور اپنی مخلوق کو درست کیا (یعنی) متناسب الاعضاء بنایا نہ کہ غیر متناسب جس نے جیسی چاہی تقدیر بنائی پھر اس نے اس خیر و شر کی راہ بتائی جو اس نے مقدر فرمائی جس نے نباتات گھاس اگائی پھر اس کو ہریالی کے بعد سوکھا سیاہ کوڑا کرکٹ کردیا ہم قرآن آپ کو پھڑھوا دیں گے پھر آپ ﷺ جو پڑھیں گے اس کو نہ بھولیں گے سوائے اس کے کہ جس کو اللہ بھلانا چاہے گا اس حکم اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فجعلہ غثا . پھر سبزی کے بعد اس کو خشک اور ریزہ ریزہ کردیا۔ احوٰی . سیاہ۔ یہ غثاءً کی صفت ہے۔ بعض علماء نے مرعیٰ سے حال قرار دیا ہے یعنی گھاس کو گہری سبزی کی وجہ سے اس نے سیاہ سبزی مائل بنا دیا۔ 1 ؂

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–5

(3۔ 5) جس نے ہر جاندار کو بنایا اور پھر اس کے تمام اعضاء کو ٹھیک اور درست پیدا کیا اور جس نے ہر جاندار کے لیے اس کے مناسب تجویز کیا اور پھر اس کو باہم اختلاط کی رہنمائی کی، یا یہ کہ اس کو اچھا یا برا لمبا یا چھوٹا بنایا، یا یہ مطلب ہے کہ سعادت و شقاوت کو مخلوق کے لیے تجویز فرما کر پھر اس کو کفر و ایمان اور خیر و شر کی راہنمائی فرمائی اور جس نے سبز چارہ زمین سے نکالا پھر ایک سال کے بعد اس کو سیاہ کوڑا کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 4–5

(والذی اخرج المرعی …:) حیوانوں کی ایک بڑی ضرورت چارا تھی ، جو اس نے اگایا، پھر بتدریج اسے سیاہ کوڑا بنادیا۔ یہ اشارہ ہے ہر چیز کے کمال کے بعد زوال کی طرف۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

والذی اخرج المرعی۔ بعض اوقات کھیتی گوبروالی زمین پر پیدا ہوجاتی ہے۔ فعلہ غثاء احوی۔ غثاء سے مراد وہ چیز ہے جسے سیلاب وادی کی اطراف پر پھینک دیتا ہے وہ گھاس ہو، نباتات ہو یاچھوٹے چھوٹے ریزے ہوں، اسی طرح جب یہ لفط مشدد استعمال ہو اس کی جمع اغثاء آتی ہے قتادہ نے کہا، غثاء سے مراد خشک چیز ہے سبزی اور گھاس جب ٹکرے ٹکڑے اور خشک ہوجائے تو اسے غثاء کہتے ہیں جس طرح کہا : کان طمیۃ المجیمرۃ غدوۃ، من السیل والاغثاء فلکۃ مغزل۔ گویا مجیمر کا پہاڑ اس صبح سیلاب اور گھاس پھوس کی وجہ سے چرخے کا دمکڑا تھا۔ اہل لغت نے یہ حکایت بیان کی ہے، غثا الوادی وجفا اسی طرح پانی ہے جب اس پر جھاگ اور چھوتے چھوٹے ذرات غالب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

35۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فجعلہ غثاء پھر اس کو خشک چورا کردیا یعنی خشک اور ٹوٹا ہوا۔ احوی۔ سیاہ۔ یعنی جس کی رنگ بدلی ہوئی ہو۔ 36۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فجعلہ غثار احوی پھرا کو خشک چورا سیاہ کردیا۔ یعنی الغثاء سے مراد ہے ایک بوسیدہ چیز۔ واحوی یعنی زرد، سبز اور سفید رنگ ہوتا ہے پھر وہ خشک ہوجاتا ہے یہاں تک کہ سبز ہونے کے بعد خشک ہوجاتا ہے۔ 37۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فجعلہ غثاء احوی یعنی پھر اسے سیلاب کے کوڑے کی طرح بنادیا آیت تو احوی سے مراد ہے سیاہ رنگ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ005﴾ (پھر اسے سیاہ کوڑا بنا دیا) یعنی زمین سے جو چارہ نکلتا ہے اس میں سے بہت سا تو مویشی کھالیتے ہیں اور بچا کھچا جو رہ جاتا ہے وہ کوڑا کرکٹ بن جاتا ہے جو پڑے پڑے کالا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–5

3:۔ ” الذی خلق “۔ دعوی توحید کے پہلے جزو کا بیان یعنی اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور متصرف و مختار ہے۔ اسی نے سب کو پیدا کیا اور درست اندام بنایا، اعضاء بدن کو متناسب اور خوبصورت بنایا۔ خلق کل شیء فسی خلقہ تسیۃ ولم یات بہ متفاوتا غیر ملتئم ولکن علی احکام ؟ ؟ (مدارک) ۔ ” والذی قدر فہدی “ پیدا کرنے کے بعد سب کی روزی کا اندازہ بھی اسی نے مقرر کیا اور پھر ہر ایک کو روزی حاصل کرنے کی راہ بھی دکھائی۔ ” والذی اخرج المرعی “ اسی نے مویشیوں کے لیے چارہ پیدا کیا۔ پھر اسے خشک اور چورا چورا کردیا۔ چارہ خشک ہونے کے بعد چورہ بن جاتا ہے یہ تمام صفاتِ کمال اس کی دلیل ہیں کہ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَجَعَلَہٗ غُثَاۗءً اَحْوٰى۝ 5 ۭ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ غثا الغُثَاءُ : غُثَاءُ السّيل والقدر، وهو ما يطفح ويتفرّق من النّبات الیابس، وزبد القدر، ويضرب به المثل فيما يضيع ويذهب غير معتدّ به، ويقال : غَثَا الوادي غَثْواً ، وغَثَتْ نفسُه تَغْثِي «4» غَثَيَاناً : خبثت . ( غ ث و ) الغثاء ہانڈی کے جھاگ اور اس کو ڑاکرکٹ کہتے ہیں جسے سیلاب بہا کر لاتا ہے اور یہ ہر اس چیز کے لئے ضرب المثل ہے جسے ( بوجہ بےسود ہونے کے ) ضائع ہونے دیا جائے اور اس کی کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب ¦ الاعلیٰ صفۃ ربک الذین الجملۃ صفۃ اخریٰ للرب والذی صفۃ اخریٰ او معطوف علی الموصول الذی قبلہ قدر قریٔ مخففۃ ومثقلا والذی اخرج صفۃ اخریٰ فجعلہ غثاء فی القاموس الغثاء والقماش والزید والھالک البالی من ورق الشجر قال قتادہ الغثاء الیابس احویٰ اسود ماخوذ من الحوۃ وھی سواد یضرب الی الخضرۃ فے القاموس الحوۃ سواد الی خضرۃ او حمرۃ الی السوا وحوی کر ضی وفی الصحاح الحوۃ بالضم حمرۃ الشفۃ قال ابن عباس غثا ھشیما احوی متغیر افل اتنسی قیل نفی وقیل نھی والالف للاشباع الا استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای لاتنس لیٰ مماک علمک اللہ شیئاً من الاشیاء الاماشاء اللہ ان تنساہ قال الفراء ولم یشاء اللہ ان ینسی نبیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَالَّذِیْ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی۔ فَجَعَلَـہٗ غُثَـآئً اَحْوٰی۔ (الاَعلٰی : 4، 5) (جس نے نباتات اگائیں۔ پھر کر ڈالا اس کو کوڑا سیاہ۔ ) مَرْعٰی … چارے کو بھی کہتے ہیں اور چراگاہ کو بھی۔ لیکن سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف چارہ نہیں ہر قسم کی نباتات مراد ہیں جو زمین سے اگتی ہیں۔ غُثَـآئً … اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو پانی کے سیلاب میں اوپر آجاتا ہے۔ مکھن کے جھاگ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اَحْوٰی، حُوَّۃٌ سے مشتق ہے۔ گہری سبزی میں جو ایک قسم کی سیاہی آجاتی ہے اس کو حَوَّۃٌ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلیل یعنی اس اللہ کی تسبیح کرو جس نے زمین سے نباتات کو اگایا، جس کی ابتداء…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–5

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تسبیح اس لیے بھی کرنا ہے کیونکہ وہ پوری کائنات کی بقا اور فنا کا مالک ہے۔ ” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے اس کائنات کو بنایا اور انسان کو پیدا فرمایا ہے، نہ صرف انسان کو پیدا کیا بلکہ اس کے اعضاء اور جوارح کو اس طرح بنایا اور درست فرمایا ہے کہ پوری مخلوق میں انسان ” اللہ “ کی قدرت کا عظیم شاہکار قرار پایا ہے، انسان کو پیدا فرما کر اسے زمین و آسمانوں میں ایسی تکریم دی جو تکریم کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی۔ یہاں تک انسان کے اعضاء اور جوارح کا تعلق ہے اس میں اس طرح توازن قائم کیا ہے کہ ہر عضو اور جوڑ اپنی انتہا پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے، یہی توازن اس نے ہر چیز میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : فَجَعَلَہٗ غُثَآ ئً اَحْوٰی (پھر اس کو سیاہ کوڑا کردیا) غثاءؔ : خشک ‘ ریزہ ریزہ۔ نحو : احویؔ : سیاہ۔ یہ غثاء کی صفت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” فجعلہ “ سرسبزی کے بعد۔ ” غثائ “ خشک ٹوٹا ہوا اس جھاگ کی طرح جس کو تو سیلاب کے اوپر دیکھتا ہے ” احوی “ سیاہ سرسبز ہونے کے بعد کیوں کہ گھاس جب خشک ہوجائے تو سیاہ ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَجَعَلَهٗ غُثَاۗءً اَحْوٰى) پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس نباتات کو چورا چورا اور بوسیدہ بنا دیتا ہے اور اس میں وہ دینی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(5) نباتات کے اگانے کی عنایت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس نے طرح طرح کی نباتات کو نکالا " اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے تقاضوں کے مطابق، آیت کریمہ میں " مرعی " کا استعمال ہوا ہے جو کہ اصل میں جانوروں کے چارے کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن سیاق عبارت سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں پر اس لفظ سے صرف جانوروں کا چارہ ہی مراد نہیں بلکہ اس سے مراد ہر قسم کی نباتات مراد ہیں جو کہ زمین سے اگتی ہیں، کیونکہ زمین سے اگنے والی ہر قسم کی نباتات اور ہر طرح کی انگوری کسی نہ کسی جاندار کے کام آتی ہے، سو یہ سب کچھ قدرت کی عظمت، رحمت اور عنایت بےنہایت کا ایک اور ثبوت عظیم الشان مظہر ہے۔ سبحانہ و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–5

قرآن میں تیل کی نشان دہی تشریح : ان آیات میں علم ارضیات کے شعبہ سے متعلق معلومات دی گئی ہیں۔ یعنی زمین کے اندر تیل کی موجودگی اور اس کے بننے کی طبیعیاتی وجوہات بیان کی گئی ہیں میں ان آیات کی تشریحات میں بھی ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے مدد لونگی کیونکہ انہوں نے بڑی منفرد باتیں بتائی ہیں۔ '' جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ زمین پہلے پہل نباتات ' دیوہیکل درختوں اونچے گھاس کے میدانوں پر مشتمل تھی۔ یہ عظیم جنگلات جو کرہ ارض پر زندگی کی نشانیوں میں سے تھے۔ بعد میں عظیم ارضیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ عظیم جنگلات زیر زمین چلے گئے اور ایک خاص کیمیائی عمل کی وجہ سے تیل کی صورت اختیار کر گئے ''۔ یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(87:5) فجعلہ غثاء احوی :بمعنی پھر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع المرعی ہے۔ غثاء مفعول ثانی جعل کا۔ بمعنی سیلاب کا کوڑا اور جھاگ۔ ھو ما یقذف بہ السیل علی جانب الوادی من الحشیش والنبات : سیلاب کا کوڑا اور جھاگ، سوکھے سڑے گلے پتے۔ (روح المعانی) غ ث و۔ حروف مادہ غثا یغثوا (باب نصر) غثو مصدر۔ الغثاء ہانڈی کی جھاگ، اور وہ کوڑا کرکٹ جسے سیلاب بہا کر لائے ۔ یہ ہر اس چیز کے لئے ضرب المثل ہے جسے بوجہ بےسود ہونے کے ضائع ہونے دیا جائے۔ (المفردات) احوی ۔ غثاء کی صفت ہے۔ کالا سیاہ مائل بہ سبزی، سرخ مائل بہ سیاہی۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر اس (المرعی) کو کالا سیاہ مائل بہ سبزی کوڑا کرکٹ بنادیا۔ (اس میں مخلوق خصوصا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 2) یعنی اول نہایت سبز و خوشنما گھاس چارا ، زمین سے پیدا کیا پھر آہستہ آہستہ اس کو خشک سیاہ کرڈالا، تاکہ خشک ہوکر ایک مدت تک جانوروں کے لیے ذخیرہ کیا جاسکے اور خشک کھیتی کٹ کر کام میں آئے، اس تذکرہ میں یہ اشارہ ہے کہ یہ حال دنیا کی تمام چیزوں کا ہے کہ اس کی ہر ایک چیز کا کمال زوال سے خالی نہیں ہے اور جب یہ بات ہے تو دنیا فقط اس لیے نہیں پیدا کی گئی کہ ہے کہ اس کا کمال وزوال بغیر کسی نتیجہ کے ایک تماشہ کے طور پر ہو، بلکہ دنیا کے بعد اس کا ایک بہت بڑا نتیجہ یہی ہے کہ جس کا نام قیامت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یعنی وہ صرف بہار ہی لانے والا نہیں ہے خزاں بھی لانے والا ہے۔ ایک طرف وہ ایسی ہری بھری نباتات اگاتا ہے دوسری طرف اسی نباتات کو وہ کوڑا کرکٹ بنا دیتا ہے۔ اس لئے کسی کو بھی یہاں اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ وہ دنیا میں صرف بہار ہی دیکھے گا، خزاں سے اس کو سابقہ پیش نہیں آئے گا۔ اصل الفاظ میں '' غشاء احویٰ '' جس کا ترجمہ عام طور پر مفسرین نے کالا کوڑا یا سیاہ خس و خاشاک کیا ہے۔ لیکن یہاں سلسلہ کلام کی مناسبت سے اوپر والا ترجمہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو '' تدبر قرآن '' ازمولانا امین احسن اصلاحی، جلد ہفتم صفحہ 315۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة الاعلیٰ 1: سنقرئک فلا تنسی میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کا دماغ خدا کی جانب سے محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تک شرعیات کا تعلق ہے ، اس پر کبھی سہو ونسیان کی کیفیتیں طاری نہیں ہوتیں ۔ الا ماشاء اللہ کا استثناء تائید کے لئے ہے ۔ یعنی خدا کو یہ منظور نہ ہو کہ پیغمبر ﷺ تعلیمات کو بھول جائے ۔ ورنہ دوسری قوت ایسی نہیں جو ذہن پیغمبر پر غالب آسکے ۔ حل لغات :۔ فسوی ۔ اعضاء میں تسویہ پیدا کرنا فھدی ۔ بدن میں اعضاء واحشاء کو ان کے وظائف طبعی سے اطلاع بخشی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) پھر اس کو خشک و سیاہ کوڑا کردیا - اس پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے جو سب سے بلند وبالا ہے نام سے مراد یا تو حضرت حق مجدہ کی ذات مراد ہے جیسا کہ عرب کا قاعدہ ہے اور اکثر مفسرین نے یہی معنی کئے ہیں کہ اس کی ذات کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک اور منزہ سمجھئے اور مسلمانوں کو بھی اس کی ہدایت فرمائیے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو منزہ سمجھیں اور اس کی تسبیح و تقدیس بیان کریں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اجعلوھافی سجودکم یعنی سجدوں میں سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرو جیسا کہ رکوع میں سبحان ربی العظیم کہنے کا حکم دیا اور اگر یہاں اسم سے ذات مراد نہ لی جائے تب بھی یہ مطلب ہوگا کہ اس کے نام کو شرک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 2۔ اول عام تصرفات مذکور ہیں، پھر حیوانات کے متعلق پھر نباتا کے متعلق۔ مطلب یہ کہ طاعات سے آخرت کا تہیہ کرنا چاہئے جہاں جزا و سزا ہونے والی ہے اور اسی طاعت کا طریقہ بتلانے کے لئے ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور آپ کو اس کی تبلیغ کا مامور فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر اس کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا 5 ؎ ( غشاء) سیلاب کا کوڑا کرکٹ اور جھاگ ۔ سوکھے سڑے ، گلے ہوئے پتے مراد ہیں بےسود ، بےفائدہ اور ناکارہ چیز مراد ہے۔ (احوی) کا لا سیاہ مائل بہ سبزی یا ماء بہ سیاہی حوۃ سے مآخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس چارہ میں سے جو جانور استعمال کرلیتے ہیں باقی کو دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیاہ بھوسی کی طرح کردیتا ہے اور وہ کوڑا کرکٹ بن جاتا ہے جس کو لوگ اکٹھا کر کے آگ لگا کر جلا دیتے ہیں اور اس طرح ماحول کو صاف اور ستھرا بنا لیتے ہیں اگر اس کوڑے کرکٹ کے ڈھیر اکٹھے ہونے شروع ہوجائیں تو زمین پر جگہ ہی باقی نہ رہے۔ یہ قدرت خداوندی ہے کہ ایک فصل کے تیار ہونے تک دوسری کا کسی نہ کسی طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ ﴿4﴾ فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىٰ (and who brought forth pasturage, then turned it into a blackening stubble....87:4, 5) The word مَرْعَىٰ ma’ ra means 'pasturage'. This is the land that has grass growing on it, and that is used for animals to graze. The word ghutha' غُثَا refers to 'stubble, and scum borne upon the surface of a torrent'. The word أَحْوَىٰ ahwa is derived from the root huwwah which refers to 'a kind of black colour that comes upon a dense vegetation'. The verse purports to depict the Divine power and wisdom related to herbage and vegetation. He…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 That is, "He does not only bring about spring but autumn as well. You witness both the manifestations of this power. On the one side, He causes lush green vegetation to grow, the freshness of which pleases the hearts and, on the other, He renders the same vegetation pale, dry and black rubbish, which is blown about by winds and swept away by floods. Therefore, no one here should be involved in the misunderstanding that he will only experience spring and will never see autumn." This same theme has been expressed at several other places in the Qur'an in other ways. For example see Yunus: 24,…

Read the full tafseer →