Al-A'laa 87:4

Al-A'laa · from ayah 4

87:4

وَالَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی ۟وَالَّذِىۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى

اور جس نے چارہ اگایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And who brings out the pasture

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'laa

All translations of 87:4

اور جس نے چارہ اگایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس نے تازه گھاس پیدا کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس نے سبز چارہ (زمین سے) نکالا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس نے چارہ نکالا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جس نے (زمین سے) چارہ نکالا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جس نے چارا اگایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس نے نباتات اگائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس نے (زمین سے) طرح طرح کی نباتات کو نکالا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس نے چارہ (زمین سے) نکالا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس نے (زمین سے) چارہ نکالا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس نے چارہ اگایا

— محترمہ رفعت اعجاز

Who brought forth the pasture,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and who brought forth pasturage,

— Muhammad Taqi Usmani

and who brought forth pasturage,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Who brings out the pasturage,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And who brings out the pasture

— Saheeh International

It is He who has caused the grass to grow,

— Muhammad Sarwar

And Who brings forth herbage,

— Muhammad Habib Shakir

And Who bringeth forth the pasturage,

— Abdul Majid Daryabadi

And Who bringeth out the (green and luscious) pasture,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 87:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْلٰی 5 اصل میں لفظ مرعیٰ استعمال ہوا ہے جو جانوروں کے چارے کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن سیاق عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں صرف چارہ مراد نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی نباتات مراد ہیں جو زمین سے اگتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

والذی اخرج المرعی۔ فجعلہ غثاء احوی، مرعی کے معنی چراگاہ کے ہیں جہاں چوپائے جانور چرتے ہیں اور غثاء اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو پانی کے سیلاب میں اوپر آجاتا ہے۔ احویٰ ، حوة سے مشتق ہے گہری سبزی میں جو ایک قسم کی سیاہی آجاتی ہے اس کو حوت کہتے ہیں، اس آیت میں حق تعالیٰ نے بناتات سے متعلق کچھ اپنی قدرت و حکمت کا بیان فرمایا ہے کہ زمین سے سر سبز گھاس نکالی پھر اس کو خشک کرکے سیاہ رنگ کردیا وہ سر سبزی جاتی رہی، اس میں انسان کو اسکے انجام کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ جسم کی شادابی خوبصورتی اور چشتی چالاکی حق تعالیٰ کا عطیہ ہے مگر انجام کار پھر اس سب کو ختم ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

ایک ادبی اشکال کا حل: اس ٹکڑے میں ایک ادبی اشکال ہے اس کو پہلے سمجھ لیجیے تب اس کا صحیح موقع و محل واضح ہو گا۔ ’غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے کالا کوڑا یا سیاہ خس و خاشاک کیا ہے لیکن عربی میں لفظ ’غثاء‘ تو بے شک جھاگ اور خس و خاشاک کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن ’اَحْوٰی‘ ہرگز اس سیاہی کے لیے نہیں آتا جو کسی شے میں اس کی کہنگی، بوسیدگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ اس سیاہی مائل سرخی یا سبزی کے لیے آتا ہے جو کسی شے پر اس کی تازگی، شادابی، زرخیزی اور جوش نمو کے سبب سے نمایاں ہوتی ہے۔ یہ نباتات اور باغوں کی صفت کے طور پر بکثرت استعمال ہوا ہے اور بلااستثنا ہر جگہ ان کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–4

1: اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ہر چیز ایک خاص انداز سے بنائی ہے پھر ہر ایک کو اس کے مناسب دنیا میں رہنے کا طریقہ بھی بتادیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

14 یعنی اول نہایت سبزو خوشنما گھاس چارہ زمین سے پیدا کیا پھر آہستہ آہستہ اس کو خشک و سیاہ کر ڈالا تاکہ خشک ہو کر ایک مدت تک جانوروں کے لئے ذخیرہ کیا جاسکے اور خشک کھیتی کٹ کر کام میں آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–4

آیت 2 ‘ 3{ الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی - وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی۔ } ”جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ‘ پھر تناسب قائم کیا۔ اور جس نے ہر شے کا اندازہ مقرر کیا ‘ پھر اسے فطری ہدایت عطا فرمائی۔“ ان چار الفاظ خَلَقَ ‘ فَسَوّٰی ‘ قَدَّرَ ‘ فَھَدٰی میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان بھی ہے اور تخلیقی عمل کے مختلف مراحل کا ذکر بھی۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کے حوالے سے تین اسمائے حسنیٰ اَلْخَالِقُ ‘ اَلْـبَارِیٔ‘ اَلْمُصَوِّرُ کا ایک ساتھ ذکر قبل ازیں سورة الحشر کی آخری آیت میں بھی آچکا ہے۔ سورة الحشر کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی یہ تین صفات ایک خاص منطقی ترتیب سے بیان ہوئی ہیں۔ یہ ترتیب دراصل تخلیقی عمل کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3 تقدیر بمعنی اندازہ کرنا۔ بنانے سے پہلے کسی چیز کا مکمل نقشہ، اس کی شکل و صورت، اس کے مقاصد اور غرض وغایت کے متعلق پوری سکیم تیار کرنا۔ پھر اس کے متعلق یہ طے کرنا کہ اس چیز کے لیے کس قسم کا مواد درکار ہے۔ کتنی مقدار میں درکار ہے۔ اس چیز میں کیا کیا خصوصیات درکار ہیں۔ تاکہ جس مقصد کے لیے وہ بنائی گئی ہے اسے بطریق احسن انجام دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پیشتر اس کی تقدیر بنائی ہے۔ کائنات میں آج تک جو اشیا وجود میں آچکی ہیں اور جو کچھ بعد میں پیدا ہوں گی سب کچھ اللہ کی اس تقدیر یا اندازے یا اسکیم کے مطابق ہو رہا ہے جو اس نے پہلے سے طے کر رکھا ہے۔ 4 یعنی جس چیز کو جس مقصد کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

3۔ پہلے مثالیں حیات حیوانی میں تصرفات کی بیان ہوئیں، اب حیات نباتی میں تصرفات کی بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” والذی اخرج المرعی “۔ یہ چارہ کی سبز، خوشنما حالت کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کر یعنی اپنے رب کی ان چیزوں سے پاکی بیان کر جو اس کی شایان شان نہیں ہیں اور لفظ اسم زائد ہے (الاعلیٰ ) رب کی صفت ہے جس نے پیدا کیا اور اپنی مخلوق کو درست کیا (یعنی) متناسب الاعضاء بنایا نہ کہ غیر متناسب جس نے جیسی چاہی تقدیر بنائی پھر اس نے اس خیر و شر کی راہ بتائی جو اس نے مقدر فرمائی جس نے نباتات گھاس اگائی پھر اس کو ہریالی کے بعد سوکھا سیاہ کوڑا کرکٹ کردیا ہم قرآن آپ کو پھڑھوا دیں گے پھر آپ ﷺ جو پڑھیں گے اس کو نہ بھولیں گے سوائے اس کے کہ جس کو اللہ بھلانا چاہے گا اس حکم اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–5

(3۔ 5) جس نے ہر جاندار کو بنایا اور پھر اس کے تمام اعضاء کو ٹھیک اور درست پیدا کیا اور جس نے ہر جاندار کے لیے اس کے مناسب تجویز کیا اور پھر اس کو باہم اختلاط کی رہنمائی کی، یا یہ کہ اس کو اچھا یا برا لمبا یا چھوٹا بنایا، یا یہ مطلب ہے کہ سعادت و شقاوت کو مخلوق کے لیے تجویز فرما کر پھر اس کو کفر و ایمان اور خیر و شر کی راہنمائی فرمائی اور جس نے سبز چارہ زمین سے نکالا پھر ایک سال کے بعد اس کو سیاہ کوڑا کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 4–5

(والذی اخرج المرعی …:) حیوانوں کی ایک بڑی ضرورت چارا تھی ، جو اس نے اگایا، پھر بتدریج اسے سیاہ کوڑا بنادیا۔ یہ اشارہ ہے ہر چیز کے کمال کے بعد زوال کی طرف۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

والذی اخرج المرعی۔ بعض اوقات کھیتی گوبروالی زمین پر پیدا ہوجاتی ہے۔ فعلہ غثاء احوی۔ غثاء سے مراد وہ چیز ہے جسے سیلاب وادی کی اطراف پر پھینک دیتا ہے وہ گھاس ہو، نباتات ہو یاچھوٹے چھوٹے ریزے ہوں، اسی طرح جب یہ لفط مشدد استعمال ہو اس کی جمع اغثاء آتی ہے قتادہ نے کہا، غثاء سے مراد خشک چیز ہے سبزی اور گھاس جب ٹکرے ٹکڑے اور خشک ہوجائے تو اسے غثاء کہتے ہیں جس طرح کہا : کان طمیۃ المجیمرۃ غدوۃ، من السیل والاغثاء فلکۃ مغزل۔ گویا مجیمر کا پہاڑ اس صبح سیلاب اور گھاس پھوس کی وجہ سے چرخے کا دمکڑا تھا۔ اہل لغت نے یہ حکایت بیان کی ہے، غثا الوادی وجفا اسی طرح پانی ہے جب اس پر جھاگ اور چھوتے چھوٹے ذرات غالب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

34۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذی اخرج المرعی۔ یعنی وہ جس نے زمین سے چارا نکالا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–4

﴿الَّذِيْ خَلَقَ﴾ (جس نے پیدا فرمایا) اور تیسری صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ فَسَوّٰىۙ002﴾ (کہ اس نے بالکل ٹھیک بنایا) اور چوتھی صفت بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْ قَدَّرَ ﴾ (اور جس نے جانداروں کے لیے ان کے مناسب حال چیزوں کو تجویز فرمایا۔ ﴿فَهَدٰى ۪ۙ003﴾ (پھر ان جانداروں کو راہ بتائی) یعنی ان کی طبیعتوں کو ایسا بنا دیا کہ وہ ان چیزوں کو چاہتی ہیں، جو ان کے لیے تجویز فرمائی ہیں۔ معالم التنزیل صفحہ 475: ج 4 میں ﴿وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى﴾ کی تفسیر میں اور بھی چند اقوال لکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ انسان کو خیر اور شر کا سعادت و شقاوت کا راستہ بتایا اور ایک معنی یہ لکھا ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–5

3:۔ ” الذی خلق “۔ دعوی توحید کے پہلے جزو کا بیان یعنی اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور متصرف و مختار ہے۔ اسی نے سب کو پیدا کیا اور درست اندام بنایا، اعضاء بدن کو متناسب اور خوبصورت بنایا۔ خلق کل شیء فسی خلقہ تسیۃ ولم یات بہ متفاوتا غیر ملتئم ولکن علی احکام ؟ ؟ (مدارک) ۔ ” والذی قدر فہدی “ پیدا کرنے کے بعد سب کی روزی کا اندازہ بھی اسی نے مقرر کیا اور پھر ہر ایک کو روزی حاصل کرنے کی راہ بھی دکھائی۔ ” والذی اخرج المرعی “ اسی نے مویشیوں کے لیے چارہ پیدا کیا۔ پھر اسے خشک اور چورا چورا کردیا۔ چارہ خشک ہونے کے بعد چورہ بن جاتا ہے یہ تمام صفاتِ کمال اس کی دلیل ہیں کہ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۝ 4 خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ رعی الرَّعْيُ في الأصل : حفظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب ¦ الاعلیٰ صفۃ ربک الذین الجملۃ صفۃ اخریٰ للرب والذی صفۃ اخریٰ او معطوف علی الموصول الذی قبلہ قدر قریٔ مخففۃ ومثقلا والذی اخرج صفۃ اخریٰ فجعلہ غثاء فی القاموس الغثاء والقماش والزید والھالک البالی من ورق الشجر قال قتادہ الغثاء الیابس احویٰ اسود ماخوذ من الحوۃ وھی سواد یضرب الی الخضرۃ فے القاموس الحوۃ سواد الی خضرۃ او حمرۃ الی السوا وحوی کر ضی وفی الصحاح الحوۃ بالضم حمرۃ الشفۃ قال ابن عباس غثا ھشیما احوی متغیر افل اتنسی قیل نفی وقیل نھی والالف للاشباع الا استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای لاتنس لیٰ مماک علمک اللہ شیئاً من الاشیاء الاماشاء اللہ ان تنساہ قال الفراء ولم یشاء اللہ ان ینسی نبیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَالَّذِیْ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی۔ فَجَعَلَـہٗ غُثَـآئً اَحْوٰی۔ (الاَعلٰی : 4، 5) (جس نے نباتات اگائیں۔ پھر کر ڈالا اس کو کوڑا سیاہ۔ ) مَرْعٰی … چارے کو بھی کہتے ہیں اور چراگاہ کو بھی۔ لیکن سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف چارہ نہیں ہر قسم کی نباتات مراد ہیں جو زمین سے اگتی ہیں۔ غُثَـآئً … اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو پانی کے سیلاب میں اوپر آجاتا ہے۔ مکھن کے جھاگ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اَحْوٰی، حُوَّۃٌ سے مشتق ہے۔ گہری سبزی میں جو ایک قسم کی سیاہی آجاتی ہے اس کو حَوَّۃٌ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلیل یعنی اس اللہ کی تسبیح کرو جس نے زمین سے نباتات کو اگایا، جس کی ابتداء…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–5

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تسبیح اس لیے بھی کرنا ہے کیونکہ وہ پوری کائنات کی بقا اور فنا کا مالک ہے۔ ” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے اس کائنات کو بنایا اور انسان کو پیدا فرمایا ہے، نہ صرف انسان کو پیدا کیا بلکہ اس کے اعضاء اور جوارح کو اس طرح بنایا اور درست فرمایا ہے کہ پوری مخلوق میں انسان ” اللہ “ کی قدرت کا عظیم شاہکار قرار پایا ہے، انسان کو پیدا فرما کر اسے زمین و آسمانوں میں ایسی تکریم دی جو تکریم کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی۔ یہاں تک انسان کے اعضاء اور جوارح کا تعلق ہے اس میں اس طرح توازن قائم کیا ہے کہ ہر عضو اور جوڑ اپنی انتہا پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے، یہی توازن اس نے ہر چیز میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : علی نے قَدَرَ پڑھا ہے۔ 4 : وَالَّذِیْ اَخَرَجَ الْمَرْعٰی (اور جس نے چارہ نکالا) وہ اگا دیا جس کو چوپائے چرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” والذی اخرج المرعی “ گھاس، پھوس اور جو مویشی چرتے ہیں وہ اگایا سبز، زرد، سرخ اور سفید میں سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–4

(وَالَّذِيْ قَدَّرَ ) اس نے اندازہ مقرر کردیا جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ( فَهَدٰى) اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی یہ ہدایت عام ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے اس لیے اس کے بارے میں فرمایا۔ (وَالَّذِيْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی سے نباتات اور سرسبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں جنہیں انسان چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے۔ اس کے مکمل کرلینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کرد یتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–4

(3) ہر چیز کی تقدیر کی عنایت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس نے خاص اندازے پر رکھا ( یعنی ہر چیز کو اور ہر اعتبار سے) " اور اسی کے نتیجے میں اس کے جسم کے اندر کی قوتیں صلاحتیں اور مختلف اخلاط حیرت انگیز حد تک ایک تناسب اور اعتدال پر قائم ہیں، جہاں کہیں انسان کی اپنی کوتاہیوں اور تقصیرات کی وجہ سے ان میں ذرہ برابر کوئی فرق آتا ہے، وہیں سے طرح طرح کے فساد و بگاڑ اور امراض پیدا ہونے لگتے ہیں، جیسا کہ آج کے سائنسی انکشافات سے عیاں ہے، پھر اس قا ادر مطلق نے انسان کی زندگی و موت اور اس کے عروج وزوال وغیرہ ہر چیز کو ایک ایسے خاص اندازے پر رکھا، کہ کوئی بھی انسان اس سے کسی بھی طرح نکل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–5

قرآن میں تیل کی نشان دہی تشریح : ان آیات میں علم ارضیات کے شعبہ سے متعلق معلومات دی گئی ہیں۔ یعنی زمین کے اندر تیل کی موجودگی اور اس کے بننے کی طبیعیاتی وجوہات بیان کی گئی ہیں میں ان آیات کی تشریحات میں بھی ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے مدد لونگی کیونکہ انہوں نے بڑی منفرد باتیں بتائی ہیں۔ '' جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ زمین پہلے پہل نباتات ' دیوہیکل درختوں اونچے گھاس کے میدانوں پر مشتمل تھی۔ یہ عظیم جنگلات جو کرہ ارض پر زندگی کی نشانیوں میں سے تھے۔ بعد میں عظیم ارضیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ عظیم جنگلات زیر زمین چلے گئے اور ایک خاص کیمیائی عمل کی وجہ سے تیل کی صورت اختیار کر گئے ''۔ یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–4

ف 14 یعنی اول تقدیر لکھی پھر اسی کے موافق دنیا میں دای (موضح) گویا دنیا میں آنے کی راہ بتائی۔ عموماً مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس نے آدمی کو خیر و شر اور سعادت و شقاوت کی راہ بتائی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس نے تقدیر میں ہر ایک کی روزی لکھی اور پھر ہر ایک کو وہ راہ بتائی جس سے وہ اپنی روزی حاصل کرے۔ (کذافی ابن کثیر وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(87:4) والذی اخرج المرعی۔ یہ بھی رب کی صفت ہے۔ وہ ذات جس نے چارہ نکالا۔ المرعی اسم ظرف مکان ۔ چراگاہ۔ جانوروں اور انسانوں کی خوراک ، یعنی گھاس غلہ، پھل وغیرہ۔ اصل میں رعی کے معنی ہیں جانور کی حفاظت کرنا۔ اس کو باقی رکھنا ۔ حفاظت کی تین صورتیں ہیں :۔ (1) خوراک کے ذریعے سے۔ (2) دشمنوں سے نگرانی کرکے۔ (3) مناسب انتظام کرکے۔ اچھی سیاست کرکے۔ حق دار کو اس کا حق دے کر۔ ہر چیز کا اس کے مناسب لحاظ کرکے۔ ان ہی معانی کا لحاط رکھتے ہوئے راعی چروا ہے کو بھی کہتے ہیں اور حاکم کو بھی اور ہر نگران کو بھی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 2) یعنی اول نہایت سبز و خوشنما گھاس چارا ، زمین سے پیدا کیا پھر آہستہ آہستہ اس کو خشک سیاہ کرڈالا، تاکہ خشک ہوکر ایک مدت تک جانوروں کے لیے ذخیرہ کیا جاسکے اور خشک کھیتی کٹ کر کام میں آئے، اس تذکرہ میں یہ اشارہ ہے کہ یہ حال دنیا کی تمام چیزوں کا ہے کہ اس کی ہر ایک چیز کا کمال زوال سے خالی نہیں ہے اور جب یہ بات ہے تو دنیا فقط اس لیے نہیں پیدا کی گئی کہ ہے کہ اس کا کمال وزوال بغیر کسی نتیجہ کے ایک تماشہ کے طور پر ہو، بلکہ دنیا کے بعد اس کا ایک بہت بڑا نتیجہ یہی ہے کہ جس کا نام قیامت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–4

[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فرقان حاشیہ 2 صفحہ 856۔ [3] یعنی جو چیز بھی جس کام کے لئے پیدا کی اسے اس کام کے انجام دینے کا طریقہ بھی بتادیا۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ محض خالق ہی نہیں ہادی بھی ہے۔ اس نے یہ ذمہ لیا ہے کہ ہر چیز کو ایسی ہی ہدایت دے جس کے وہ لائق ہے اور اس طریقے سے ہدایت دے جو اس چیز کے لئے موزوں ہے۔ مثلاً ایک قسم کی ہدایت نباتات کے لئے ہے جس کے مطابق وہ پھلتے پھولتے ہیں اور وہ کام پورا کرتے ہیں جو ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ ایک اور قسم کی ہدایت خشکی اور تری کے حیوانات کے لئے ہے جس کے حیرت انگیز مظاہر حیوانات کی زندگی اور ان کے کاموں میں نظر آتے ہیں۔ پھر انسان کے لئے دو الگ الگ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة الاعلیٰ 1: سنقرئک فلا تنسی میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کا دماغ خدا کی جانب سے محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تک شرعیات کا تعلق ہے ، اس پر کبھی سہو ونسیان کی کیفیتیں طاری نہیں ہوتیں ۔ الا ماشاء اللہ کا استثناء تائید کے لئے ہے ۔ یعنی خدا کو یہ منظور نہ ہو کہ پیغمبر ﷺ تعلیمات کو بھول جائے ۔ ورنہ دوسری قوت ایسی نہیں جو ذہن پیغمبر پر غالب آسکے ۔ حل لغات :۔ فسوی ۔ اعضاء میں تسویہ پیدا کرنا فھدی ۔ بدن میں اعضاء واحشاء کو ان کے وظائف طبعی سے اطلاع بخشی ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 2۔ اول عام تصرفات مذکور ہیں، پھر حیوانات کے متعلق پھر نباتا کے متعلق۔ مطلب یہ کہ طاعات سے آخرت کا تہیہ کرنا چاہئے جہاں جزا و سزا ہونے والی ہے اور اسی طاعت کا طریقہ بتلانے کے لئے ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور آپ کو اس کی تبلیغ کا مامور فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اللہ جس نے زمین سے چارہ اگایا 4 ؎ ( المرعی) ظرف مکان ۔ چراگاہ۔ جانوروں اور انسانوں کی خوراک یعنی گھاس ، غلہ جات اور پھل وغیرہ ۔ اصل میں رعی کے معنی ہیں جاندار کی حفاظت کرنا اور اس کو باقی رکھنا ۔ حفاظت کی تین صورتیں ہیں۔ (1) خوراک کے ذریعہ سے (2) دشمنوں کو دفع کر کے ختم کرنا یا ان کے شر سے بچانا یعنی نگرانی کرنا (3) مناسب انتظام کر کے اچھی سیاست کر کے حق دار کو اس کا حق دے کر ہرچیز اس کو مناسب لحاظ کر کے سب کچھ بہم پہنچانا ۔ پھر انہیں چیزوں کا لحاظ رکھتے ہوئے راعی چرواہے کو کہتے ہیں اور حاکم و بادشاہ کو بھی اور اسی طرح ہر نگران کو بھی اور اس جگہ صرف یہ ایک لفظ ( مرعی) بول کر جو کچھ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ ﴿4﴾ فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىٰ (and who brought forth pasturage, then turned it into a blackening stubble....87:4, 5) The word مَرْعَىٰ ma’ ra means 'pasturage'. This is the land that has grass growing on it, and that is used for animals to graze. The word ghutha' غُثَا refers to 'stubble, and scum borne upon the surface of a torrent'. The word أَحْوَىٰ ahwa is derived from the root huwwah which refers to 'a kind of black colour that comes upon a dense vegetation'. The verse purports to depict the Divine power and wisdom related to herbage and vegetation. He…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 The word mar`a as used in the Text means the fodder for animals but the context shows that here it dces not imply mere fodder but every kind of vegetation that grows out of the soil.

Read the full tafseer →