وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰی ۟وَالَّذِىۡ قَدَّرَ فَهَدٰى
اور جس نے (اس کا) اندازہ ٹہرایا (پھر اس کو) رستہ بتایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And who destined and [then] guided
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰی ۟وَالَّذِىۡ قَدَّرَ فَهَدٰى
اور جس نے (اس کا) اندازہ ٹہرایا (پھر اس کو) رستہ بتایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And who destined and [then] guided
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
Read the whole surah · Surah Al-A'laa
جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی
اور جس نے (اس کا) اندازہ ٹہرایا (پھر اس کو) رستہ بتایا
اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازه کیا اور پھر راه دکھائی
اور جس نے ہر چیز کو ایک خاص انداز دیا، پھر راستہ بتایا۔
اور جس نے اندازہ پر رکھ کر راہ دی
اور جس نے (ہر ہر چیز کے لئے) قانون مقرر کیا پھر (اسے اپنے اپنے نظام کے مطابق رہنے اور چلنے کا) راستہ بتایا،
اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر ہدایت کی۔
اور جس نے اس کی تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی
جس نے مقدار کیا اور ہدایت بخشی
جس نے ایک خاص اندازے پر رکھا (ہر چیز کو) پھر اس نے اسے راہ دکھائی
اور جس نے اندازہ دیا پھر راہ بتلائی۔
اور جس نے (ہر شے کا) اندازہ مقرر کیا پھر اسے (فطری) ہدایت عطا فرمائی۔
جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی
Who determined and guided them,
and who determined a measure (for everything) , then guided (it) ,
and who determined a measure (for everything) , then guided (it) ,
And Who has measured; and then guided.
Who measureth, then guideth;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And who destined and [then] guided
decreed their destinies, and provided them with guidance.
And Who makes (things) according to a measure, then guides (them to their goal),
And Who hath disposed and then guided,
Who hath ordained laws. And granted guidance;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–13
مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40) 75۔…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْلٰی 3 یعنی ہر چیز کے پیدا کرنے سے پہلے یہ طے کردیا کہ اسے دنیا میں کیا کام کرنا ہے اور اس کام کے لیے اس کی مقدار کیا ہو، اس کی شکل کیا ہو، اس کی صفات کیا ہوں، اس کا مقام کس جگہ ہو، اس کے لیے بقاء اور قیام اور فعل کے لیے کیا مواقع اور ذرائع فراہم کیے جائیں، کس وقت وہ وجود میں آئے، کب تک اپنے حصے کا کام کرے اور کب کس طرح ختم ہوجائے۔ اس پوری اسکیم کا مجموعی نام اس کی " تقدیر " ہے، اور یہ تقدیر اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کے لیے اور مجموعی طور پر پوری کائنات کے لیے بنائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تخلیق کسی پیشگی منصوبے کے بغیر کچھ یونہی الل ٹپ نہیں ہوگئی ہے بلکہ اس کے لیے ایک پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تخلیق کائنات میں لطیف اور دقیق حکمتیں الذی خلق فسوی۔ والذی قدر رفھدی، یہ سب رب اعلیٰ کی صفات کا ذکر ہے جو تخلیق کائنات میں اس کی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کے مشاہدہ سے متعلق ہیں ان میں پہلی صفت خلق ہے خلق کے معنے محض صنعت گری کے نہیں بلکہ عدم سے بغیر کسی مادہ سابقہ کے وجود میں لانا ہے اور یہ کام کسی مخلوق کے بس میں نہیں صرف حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ ہے کہ بغیر کسی سابق مادہ کے جب چاہتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں عدم سے وجود میں لے آتے ہیں۔ دوسری صفت اس تخلیق ہی کے ساتھ وابستہ فسویٰ ہے جو تسویہ سے مشتق ہے اور اس کے لفظی معنی برابر کرنے کے ہیں اور مراد برابر کرنے سے یہ ہے کہ ہر چیز کو جو…
Read the full tafseer →’قَدَّرَ فَہَدٰی‘ کا وسیع مفہوم: یہی حال اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کے نشوونما اور اس کے مادی و عقلی عروج کمال کا بھی ہے۔ قدرت نے اس کی زندگی کو جن چیزوں کا محتاج بنایا ہے ان کے تقاضے بھی اس کے اندر رکھے مثلاً بچے کو دودھ کا محتاج بنایا ہے تو اس کی ماں کی چھاتی میں دودھ بھی پیدا کیا ہے اور پھر بچے کو یہ رہنمائی دی ہے کہ وہ ماں کی چھاتی کو چوسے اور اس سے اپنی غذا حاصل کرے۔ بعد کے ادوار میں جب اس کی ضروریات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو ہر ضرورت کے لیے زمین میں ذخیرے محفوظ ہیں۔ اور خالق نے انسان کو عقل دی ہے کہ وہ ان ذخائر کا سراغ لگائے ان کے حاصل کرنے کی راہیں کھولے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقے…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی نیکی اور بدی کی، ضروریات زندگی، اشیا کی جنسوں کی، ان کی انواع وصفات اور خصوصیات کا اندازہ فرما کر انسان کی بھی ان کی طرف رہنمائی فرما دی تاکہ انسان ان سے استفادہ حاصل کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
1: اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ہر چیز ایک خاص انداز سے بنائی ہے پھر ہر ایک کو اس کے مناسب دنیا میں رہنے کا طریقہ بھی بتادیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ…
Read the full tafseer →13 حضرت شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں " یعنی اول تقدیر لکھی پھر اسی کے موافق دنیا میں لایا "۔ گویا دنیا میں آنے کی راہ بتادی۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز تحریر فرماتے ہیں کہ " ہر شخص کے لئے ایک کمال کا اندازہ ٹھہرایا۔ پھر اس کو وہ کمال حاصل کرنے کی راہ بتلا دی۔ " و فیہ اقوال اخر الانطول بذکرھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت 2 ‘ 3{ الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی - وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی۔ } ”جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ‘ پھر تناسب قائم کیا۔ اور جس نے ہر شے کا اندازہ مقرر کیا ‘ پھر اسے فطری ہدایت عطا فرمائی۔“ ان چار الفاظ خَلَقَ ‘ فَسَوّٰی ‘ قَدَّرَ ‘ فَھَدٰی میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان بھی ہے اور تخلیقی عمل کے مختلف مراحل کا ذکر بھی۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کے حوالے سے تین اسمائے حسنیٰ اَلْخَالِقُ ‘ اَلْـبَارِیٔ‘ اَلْمُصَوِّرُ کا ایک ساتھ ذکر قبل ازیں سورة الحشر کی آخری آیت میں بھی آچکا ہے۔ سورة الحشر کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی یہ تین صفات ایک خاص منطقی ترتیب سے بیان ہوئی ہیں۔ یہ ترتیب دراصل تخلیقی عمل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 تقدیر بمعنی اندازہ کرنا۔ بنانے سے پہلے کسی چیز کا مکمل نقشہ، اس کی شکل و صورت، اس کے مقاصد اور غرض وغایت کے متعلق پوری سکیم تیار کرنا۔ پھر اس کے متعلق یہ طے کرنا کہ اس چیز کے لیے کس قسم کا مواد درکار ہے۔ کتنی مقدار میں درکار ہے۔ اس چیز میں کیا کیا خصوصیات درکار ہیں۔ تاکہ جس مقصد کے لیے وہ بنائی گئی ہے اسے بطریق احسن انجام دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پیشتر اس کی تقدیر بنائی ہے۔ کائنات میں آج تک جو اشیا وجود میں آچکی ہیں اور جو کچھ بعد میں پیدا ہوں گی سب کچھ اللہ کی اس تقدیر یا اندازے یا اسکیم کے مطابق ہو رہا ہے جو اس نے پہلے سے طے کر رکھا ہے۔ 4 یعنی جس چیز کو جس مقصد کے لیے…
Read the full tafseer →2۔ (ہر جاندار کو اس کے مناسب اعمال اور ضرور اشیاء کی طرف) یعنی ہر ایک کی طبیعت میں ان مناسب حال چیزوں کا تقاضا پیدا کردیا۔ (آیت) ” الذی قدر “۔ یعنی مناسب ماحول ہر جاندار کے لیے اندازدے دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کر یعنی اپنے رب کی ان چیزوں سے پاکی بیان کر جو اس کی شایان شان نہیں ہیں اور لفظ اسم زائد ہے (الاعلیٰ ) رب کی صفت ہے جس نے پیدا کیا اور اپنی مخلوق کو درست کیا (یعنی) متناسب الاعضاء بنایا نہ کہ غیر متناسب جس نے جیسی چاہی تقدیر بنائی پھر اس نے اس خیر و شر کی راہ بتائی جو اس نے مقدر فرمائی جس نے نباتات گھاس اگائی پھر اس کو ہریالی کے بعد سوکھا سیاہ کوڑا کرکٹ کردیا ہم قرآن آپ کو پھڑھوا دیں گے پھر آپ ﷺ جو پڑھیں گے اس کو نہ بھولیں گے سوائے اس کے کہ جس کو اللہ بھلانا چاہے گا اس حکم اور اس…
Read the full tafseer →والذین قدر . کسائی کی قراءت میں قَدَرَ بغیر تشدید کے آیا ہے۔ یعنی وہ ہر ممکن پر قادر ہے۔ مشہور قراءت تشدید دال کے ساتھ ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی اللہ نے اپنی مشیت کے مطابق تمام چیزوں کے اجناس ‘ انواع ‘ افراد ‘ مقادیر ‘ احوال ‘ افعال ‘ رزق اور مدت بقاء کو مقرر کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان و زمین کی آفرنیش سے پچاس ہزار برس پہلے ساری مخلوقات کے مقدرات کو مقرر فرما دیا تھا ‘ اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ (رواہ مسلم) حضرت ابن عمر کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر چیز مقدر ہے یہاں تک کہ فہم کی نارسائی اور ہوشیاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(3۔ 5) جس نے ہر جاندار کو بنایا اور پھر اس کے تمام اعضاء کو ٹھیک اور درست پیدا کیا اور جس نے ہر جاندار کے لیے اس کے مناسب تجویز کیا اور پھر اس کو باہم اختلاط کی رہنمائی کی، یا یہ کہ اس کو اچھا یا برا لمبا یا چھوٹا بنایا، یا یہ مطلب ہے کہ سعادت و شقاوت کو مخلوق کے لیے تجویز فرما کر پھر اس کو کفر و ایمان اور خیر و شر کی راہنمائی فرمائی اور جس نے سبز چارہ زمین سے نکالا پھر ایک سال کے بعد اس کو سیاہ کوڑا کردیا۔
Read the full tafseer →(والذی قدر فھدیٰ : یعنی اس نے ہر چیز کے متعلق اندازہ لگا کر پہلے ہی لکھ دیا کہ وہ کیا کرے گا ؟ اس کا رزق عمر، سعادت یا شقاوت سب کچھ لکھ دیا۔ اسی کا نام تقدیر ہے، اللہ تعالیٰ کا اندازہ ہمارے اندازے کی طرح نہیں کہ غلط ہوجائے۔”فھدی“ پھر جس نے جو کچھ کرنا تھا اسے اس راہ پر لگا دیا۔ ایک معنی یہ ہے کہ ہر جاندار کو پیدا کر کے اس کی ضرورتوں کا اندازہ مقرر کردیا کہ اسے کیا کیا ضرورت ہوگی، پھر اسے اس کی ضروریات و مصالح حاصل کرنے کا راستہ بتادیا۔ مثلاً بچے کو پستان چوسنے کا اور نر و مادہ کو بقائے نسل کا راستہ بتادیا اور اس پر چلا دیا۔ پرندوں کو شام کے وقت اپنے گھونسلوں کی طرف واپسی کا اور شہد کی مکھی کو…
Read the full tafseer →والذی قدر فھدی۔ حضرت علی، اسلمی اور کسائی نے اسے قدر پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے مشدد پڑھا ہے، دونوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی ہر ایک شکل مقدر کی اور اس کو تیار کیا اور اس کی راہنمائی کی، مجاہد نے کہا، شقاوت اور سعادت کو مقدر کیا اور ہدایت اور گمراہی کی طرف راہنمائی کی، ان سے ایک قول یہ بھی مروی ہے انسان کی ہدایت اور سعادت کی طرف راہنمائی کی اور چوپاؤں کی چراگاہوں کی طرف راہنمائی کی، ایک قول یہ کیا، ان کے رزق کو مقدر کیا اگر وہ انسان تھے تو ان کی معاش کی طرف ان کی راہنمائی کی اور اگر چوپائے تھے تو ان کی چراگاہوں کی طرف ان کی راہنمائی کی۔ حضرت ابن عباس، سدی، مقاتل، اور کلبی نے فھدی کے بارے میں…
Read the full tafseer →33۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت والذی قدر فہدی اور جس نے اندازہ ٹھہرایا پھر راہ دکھائی یعنی انسان کو راستہ دکھایا بدبختی کا اور سعادت مندی کا اور چوپاؤں کو ان کی چراگاہوں کی راہ دکھائی۔
Read the full tafseer →[وَالَّذِي : اور وہ، جس نے ][ قَدَّرَ : اور وہ، جس نے ][ فَهَدٰى: پھر اس نے راہ سجھائی (اس کو)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
﴿الَّذِيْ خَلَقَ﴾ (جس نے پیدا فرمایا) اور تیسری صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ فَسَوّٰىۙ002﴾ (کہ اس نے بالکل ٹھیک بنایا) اور چوتھی صفت بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْ قَدَّرَ ﴾ (اور جس نے جانداروں کے لیے ان کے مناسب حال چیزوں کو تجویز فرمایا۔ ﴿فَهَدٰى ۪ۙ003﴾ (پھر ان جانداروں کو راہ بتائی) یعنی ان کی طبیعتوں کو ایسا بنا دیا کہ وہ ان چیزوں کو چاہتی ہیں، جو ان کے لیے تجویز فرمائی ہیں۔ معالم التنزیل صفحہ 475: ج 4 میں ﴿وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى﴾ کی تفسیر میں اور بھی چند اقوال لکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ انسان کو خیر اور شر کا سعادت و شقاوت کا راستہ بتایا اور ایک معنی یہ لکھا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
3:۔ ” الذی خلق “۔ دعوی توحید کے پہلے جزو کا بیان یعنی اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور متصرف و مختار ہے۔ اسی نے سب کو پیدا کیا اور درست اندام بنایا، اعضاء بدن کو متناسب اور خوبصورت بنایا۔ خلق کل شیء فسی خلقہ تسیۃ ولم یات بہ متفاوتا غیر ملتئم ولکن علی احکام ؟ ؟ (مدارک) ۔ ” والذی قدر فہدی “ پیدا کرنے کے بعد سب کی روزی کا اندازہ بھی اسی نے مقرر کیا اور پھر ہر ایک کو روزی حاصل کرنے کی راہ بھی دکھائی۔ ” والذی اخرج المرعی “ اسی نے مویشیوں کے لیے چارہ پیدا کیا۔ پھر اسے خشک اور چورا چورا کردیا۔ چارہ خشک ہونے کے بعد چورہ بن جاتا ہے یہ تمام صفاتِ کمال اس کی دلیل ہیں کہ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَہَدٰى 3 قدر تَقْدِيرُ اللہ علی وجهين : أحدهما بالحکم منه أن يكون کذا أو لا يكون کذا، إمّا علی سبیل الوجوب، وإمّا علی سبیل الإمكان . وعلی ذلک قوله : قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] . والثاني : بإعطاء الْقُدْرَةِ عليه . وقوله : فَقَدَرْنا فَنِعْمَ الْقادِرُونَ [ المرسلات/ 23] ، تنبيها أنّ كلّ ما يحكم به فهو محمود في حكمه، ، ، تقدیرالہی ِ ، ، کی دوصورتیں ہیں اللہ تعالیٰ کا اشیاء کو قدرت بخشنا یا اللہ تعالیٰ کا اشیاء کو مقدار مخصوص اور طرز مخصوص پر بنانا جیسا کہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے اس لئے کہ فعل دوقسم پر ہے اول ایجاد بالفعل یعنی ابتداء سے کسی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب ¦ الاعلیٰ صفۃ ربک الذین الجملۃ صفۃ اخریٰ للرب والذی صفۃ اخریٰ او معطوف علی الموصول الذی قبلہ قدر قریٔ مخففۃ ومثقلا والذی اخرج صفۃ اخریٰ فجعلہ غثاء فی القاموس الغثاء والقماش والزید والھالک البالی من ورق الشجر قال قتادہ الغثاء الیابس احویٰ اسود ماخوذ من الحوۃ وھی سواد یضرب الی الخضرۃ فے القاموس الحوۃ سواد الی خضرۃ او حمرۃ الی السوا وحوی کر ضی وفی الصحاح الحوۃ بالضم حمرۃ الشفۃ قال ابن عباس غثا ھشیما احوی متغیر افل اتنسی قیل نفی وقیل نھی والالف للاشباع الا استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای لاتنس لیٰ مماک علمک اللہ شیئاً من الاشیاء الاماشاء اللہ ان تنساہ قال الفراء ولم یشاء اللہ ان ینسی نبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی۔ وَالَّذِیْ قَدَّرَفَھَدٰی۔ (الاَعلٰی : 2، 3) (جس نے پیدا کیا اور پھر اس کا تناسب قائم کیا۔ اور جس نے تقدیر بنائی پھر اس نے ہدایت بخشی۔ ) تکوینِ وجود کے چار مراتب خالق کائنات نے ان آیات میں تکوینِ وجود کے چار مراتب بیان فرمائے ہیں۔ خلق، تسویہ، تقدیر اور ہدایت۔ کائنات کی ہر مخلوق کا عدم سے وجود میں آنا اس کی صفت خلق کا اظہار ہے۔ مگر ہر مخلوق کا اس طرح پیدا کیا جانا جس طرح اسے ہونا چاہیے تھا اور اس کے نک سک کا درست ہونا اور اس میں انتہا درجہ کا تناسب پایا جانا اور ہر طرح سے اپنے ماحول سے اس کا مناسبت رکھنا اور ماحول کا اس کے ساتھ مناسب ہونا یہ وہ چیز ہے جس کو تسویہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تسبیح اس لیے بھی کرنا ہے کیونکہ وہ پوری کائنات کی بقا اور فنا کا مالک ہے۔ ” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے اس کائنات کو بنایا اور انسان کو پیدا فرمایا ہے، نہ صرف انسان کو پیدا کیا بلکہ اس کے اعضاء اور جوارح کو اس طرح بنایا اور درست فرمایا ہے کہ پوری مخلوق میں انسان ” اللہ “ کی قدرت کا عظیم شاہکار قرار پایا ہے، انسان کو پیدا فرما کر اسے زمین و آسمانوں میں ایسی تکریم دی جو تکریم کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی۔ یہاں تک انسان کے اعضاء اور جوارح کا تعلق ہے اس میں اس طرح توازن قائم کیا ہے کہ ہر عضو اور جوڑ اپنی انتہا پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے، یہی توازن اس نے ہر چیز میں…
Read the full tafseer →3 : وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَھَدٰی (اور جس نے تجویز کیا پھر راہ بتلائی) یعنی ہر حیوان کیلئے وہ تجویز کیا جو اس کے مناسب تھا پھر اس کو اس کی راہ بتلائی اور اس سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ بتلادیا۔ نمبر 2۔ پھر ہدایت دی اور گمراہ کیا۔ لیکن اضل کو حذف کر کے فھدی پر اکتفاء کیا جیسا کہ اس ارشاد میں یضل من یشاء و یھدی من یشاء ] النحل : 93[
Read the full tafseer →3 ۔” والذی قدر فھدی “ کسائی (رح) نے ” قدر “ دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کو شد دی ہے اور یہ دونوں ایک معنی میں ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں انسان کی رہنمائی کی خیر و شر اور سعادت و شقاوت کے راستہ کی طرف اور چوپایوں کی رہنمائی کی ان کے چرنے کی جگہوں و چیزوں کی طرف اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہر چیز کے لئے اس کے چلنے کی جگہ مقرر کی، پھر اس کی رہنمائی کی۔ اس کو معرفت دی کہ مذکر، مونث کے پاس کیسے آئے اور کہا گیا ہے کہ رزق کو مقدر کیا، پھر رہنمائی کی رزق اور معاش کمانے کی طرف۔ اور کہا گیا ہے اشیاء میں منافع پیداکیے اور انسان کی رہنمائی کی ان سے نفع نکالنے کے طریقوں کی طرف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(وَالَّذِيْ قَدَّرَ ) اس نے اندازہ مقرر کردیا جس کی تمام مقدرات پیروی کرتی ہیں ( فَهَدٰى) اور اس کی طرف تمام مخلوقات کی راہنمائی کی یہ ہدایت عام ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے مصالح کی راہ دکھائی ہے اس میں اس کی تمام دنیاوی نعمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے اس لیے اس کے بارے میں فرمایا۔ (وَالَّذِيْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی سے نباتات اور سرسبز گھاس کی مختلف اصناف اگائیں جنہیں انسان چوپائے اور تمام حیوانات کھاتے ہیں پھر اس نباتات وغیرہ کا جتنا جو بن مقدر ہوتا ہے۔ اس کے مکمل کرلینے کے بعد نباتات اور سبز گھاس کو خشک کرد یتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3) ہر چیز کی تقدیر کی عنایت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس نے خاص اندازے پر رکھا ( یعنی ہر چیز کو اور ہر اعتبار سے) " اور اسی کے نتیجے میں اس کے جسم کے اندر کی قوتیں صلاحتیں اور مختلف اخلاط حیرت انگیز حد تک ایک تناسب اور اعتدال پر قائم ہیں، جہاں کہیں انسان کی اپنی کوتاہیوں اور تقصیرات کی وجہ سے ان میں ذرہ برابر کوئی فرق آتا ہے، وہیں سے طرح طرح کے فساد و بگاڑ اور امراض پیدا ہونے لگتے ہیں، جیسا کہ آج کے سائنسی انکشافات سے عیاں ہے، پھر اس قا ادر مطلق نے انسان کی زندگی و موت اور اس کے عروج وزوال وغیرہ ہر چیز کو ایک ایسے خاص اندازے پر رکھا، کہ کوئی بھی انسان اس سے کسی بھی طرح نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اسم اعظم رب اعلیٰ کی وضاحت تشریح : میں تمام مفسرین حضرات سے معذرت چاہتے ہوئے ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر کی روشنی میں تشریح کرنا چاہوں گی۔ سورت ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ اپنے رب اعلی کے نام کی تسبیح کرو۔ یعنی انسان کو توحید کی تعلیم کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے۔ انسان کو ہمیشہ ایک ایسے سہارے کی ضرورت رہی کہ جو اس کو مصیبت ' پریشانی ' دکھ درد میں سہارا دے۔ جب بچہ لاچار ہوتا ہے تو ماں کا طلب گار ہوتا ہے جب شعور کو پہنچتا ہے تو پھر ماں سے مضبوط سہارا تلاش کرتا ہے۔ اس سہارے کی وضاحت اس سورة مقدسہ میں کی گئی ہے۔ کہ صرف اس کی طرف توجہ کرو ' سجدہ کرو اور مدد مانگو جو سب سے اعلی وارفع ہے۔ تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 14 یعنی اول تقدیر لکھی پھر اسی کے موافق دنیا میں دای (موضح) گویا دنیا میں آنے کی راہ بتائی۔ عموماً مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس نے آدمی کو خیر و شر اور سعادت و شقاوت کی راہ بتائی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس نے تقدیر میں ہر ایک کی روزی لکھی اور پھر ہر ایک کو وہ راہ بتائی جس سے وہ اپنی روزی حاصل کرے۔ (کذافی ابن کثیر وغیرہ۔
Read the full tafseer →(87:3) والذی قدر فھدی (یہ بھی رب کی صفت ہے) اور رب تعالیٰ وہ ذات ہے کہ پیدا کرنے کے ساتھ ہی اپنی مشیت کے مطابق چیزوں کے اجناس، انواع، افراد، مقادیر، احوال، افعال، رزق اور مدت بقاء کو مقرر کردیا۔ قدر : تقدیر (تفعیل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے سوچ کر۔ غور کرکے اندازہ کیا۔ مثلاً یہ اندازہ کرلیا کہ یہ حیوان تمام عمر میں اس قدر کھائے گا۔ اور اتنے دنوں جئے گا اور اتنے اندازہ کردہ ایام میں اتنی مقرر کردہ خوارک ہضم کرنے میں اس کو قوت ہضم کی یہ مقدار ضروری ہوگی۔ اپنی مدت العمر میں اس کا اتنا پھرنا ہوگا۔ اور اس مسافت کے طے کرنے کے لئے اس کی ٹانگوں اور پاؤں میں اس قدر قوت درکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی اس نے ہر چیز کو اندازہ سے بنایا مرد عورت کو بنای اور کفر وایمان اور شر وخیر کی راہ دکھلائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فرقان حاشیہ 2 صفحہ 856۔ [3] یعنی جو چیز بھی جس کام کے لئے پیدا کی اسے اس کام کے انجام دینے کا طریقہ بھی بتادیا۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ محض خالق ہی نہیں ہادی بھی ہے۔ اس نے یہ ذمہ لیا ہے کہ ہر چیز کو ایسی ہی ہدایت دے جس کے وہ لائق ہے اور اس طریقے سے ہدایت دے جو اس چیز کے لئے موزوں ہے۔ مثلاً ایک قسم کی ہدایت نباتات کے لئے ہے جس کے مطابق وہ پھلتے پھولتے ہیں اور وہ کام پورا کرتے ہیں جو ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ ایک اور قسم کی ہدایت خشکی اور تری کے حیوانات کے لئے ہے جس کے حیرت انگیز مظاہر حیوانات کی زندگی اور ان کے کاموں میں نظر آتے ہیں۔ پھر انسان کے لئے دو الگ الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الاعلیٰ 1: سنقرئک فلا تنسی میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کا دماغ خدا کی جانب سے محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تک شرعیات کا تعلق ہے ، اس پر کبھی سہو ونسیان کی کیفیتیں طاری نہیں ہوتیں ۔ الا ماشاء اللہ کا استثناء تائید کے لئے ہے ۔ یعنی خدا کو یہ منظور نہ ہو کہ پیغمبر ﷺ تعلیمات کو بھول جائے ۔ ورنہ دوسری قوت ایسی نہیں جو ذہن پیغمبر پر غالب آسکے ۔ حل لغات :۔ فسوی ۔ اعضاء میں تسویہ پیدا کرنا فھدی ۔ بدن میں اعضاء واحشاء کو ان کے وظائف طبعی سے اطلاع بخشی ۔
Read the full tafseer →(3) اور وہ جس نے اندازہ کیا پھر راہ دکھائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 2۔ اول عام تصرفات مذکور ہیں، پھر حیوانات کے متعلق پھر نباتا کے متعلق۔ مطلب یہ کہ طاعات سے آخرت کا تہیہ کرنا چاہئے جہاں جزا و سزا ہونے والی ہے اور اسی طاعت کا طریقہ بتلانے کے لئے ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور آپ کو اس کی تبلیغ کا مامور فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →وہ اللہ جس نے اندازہ ٹھہرایا اور اسے ہدایت دی 3 ؎ ( قدر) واحد مذکر غائب ماضی معروف تقدیر مصدر باب تفعیل۔ سوچ کر غور کر کے اندازہ کیا ۔ رزق بخشا ۔ روزی تنگ کی ۔ اگر مفعول دوم پر علی یا لام ہو جیسے قدرہٗ علیہ ولہٗ تو معنی ہوں گے کسی چیز کو کسی شخص کے لیے اندازہ کرنے کے بعد مقرر کردیا اور حکم دے دیا کہ فلاں چیز فلاں کو مل جائے ۔ رفتار کی مقدار مقرر کردی ۔ بناوٹ اور تخلیق کو درست کیا ۔ ( محلی) یا اس کو مقررہ قوتیں عطا فرمائیں۔ ( راغب) اس کو مصلحت کے مطابق ٹھیک بنایا۔ (کشاف) شکل و صورت ، حجم ، مقدار اور ہرچیز کا اندازہ مقرر کردیا۔ ( جمل) مصلحت کے موافق ہرچیز عطا فرمائی پھر فطری طور پر تعلیم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
Subtle and Profound Wisdom in the Creation of the Universe الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ (who created [ everything ], then made [ it ] well, and who determined a measure [ for everything ], then guided [ it ]...87:2, 3). All these are the attributes of the 'Most Exalted Lord'. The first attribute is khalaqa which does not simply mean 'to make' or 'manufacture'. It has a deeper significance: 'to bring out something from pure non-existence into the realm of existence without the help of any pre-existing matter'. (This is the correct meaning of 'creation'. If something is…
Read the full tafseer →3 "Set a destiny": determined beforehand what would be the function of a certain thing in the world, and for that purpose what would be its size, its form and shape, its qualities, its place of location, and what opportunities and means should be provided for its survival, existence and functioning, when it should come into being, and when and how it should cease to be after completing its part of the work. Such a scheme for a thing is its "destiny" (taqdir) . And this destiny AIIah has set for everything in the universe and for the entire universe as a whole. This means that the creation has…
Read the full tafseer →