الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ۟الَّذِىۡ خَلَقَ فَسَوّٰى
جس نے (انسان کو) بنایا پھر (اس کے اعضاء کو) درست کیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Who created and proportioned
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ۟الَّذِىۡ خَلَقَ فَسَوّٰى
جس نے (انسان کو) بنایا پھر (اس کے اعضاء کو) درست کیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Who created and proportioned
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
Read the whole surah · Surah Al-A'laa
جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا
جس نے (انسان کو) بنایا پھر (اس کے اعضاء کو) درست کیا
جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا
جس نے سب کچھ پیدا کیا اور ٹھیک ٹھیک بنایا۔
جس نے بناکر ٹھیک کیا
جس نے (کائنات کی ہر چیز کو) پیدا کیا پھر اسے (جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ) درست توازن دیا،
وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا۔
جس نے پیدا کیا پھر اسے درست کیا
جس نے خاکہ بنایا پھر نوک پلک سنوارے
جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا پھر (اسے ٹھیک) بنایا
جس نے خلق کیا پھر ٹھیک ٹھیک بنایا۔
جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا پھر تناسب قائم کیا۔
جس نے پیدا کیا پھر اس نے ٹھیک کیا
Who created all things and fashioned them in good proportion;
who created (everything) , then made (it) well,
who created (everything) , then made (it) well,
Who has created, and then proportioned it.
Who createth, then disposeth;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Who created and proportioned
Who has created (all things) proportionately,
Who creates, then makes complete,
Who hath created and then proportioned,
Who hath created, and further, given order and proportion;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–13
مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40) 75۔…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْلٰی 2 یعنی زمین سے آسمانوں تک کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا، اور جو چیز بھی پیدا کی اسے بالکل راست اور درست بنایا، اس کا توازن اور تناسب ٹھیک ٹھیک قائم کیا، اس کو ایسی صورت پر پیدا کیا کہ اس جیسی چیز کے لیے اس سے بہتر صورت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہی بات ہے جو سورة سجدہ میں یوں فرمائی گئی ہے کہ الذی احسن کل شیء خلقہ (آیت 7)۔ " جس نے ہر چیز جو بنائی خوب بنائی "۔ اس طرح دنیا کی تمام اشیاء کا موزوں اور متناسب پیدا ہونا خود اس امر کی صریح علامت ہے کہ کوئی صانع حکیم ان سب کا خالق ہے۔ کسی اتفاقی حادثے سے، یا بہت سے خالقوں کے عمل سے کائنات کے ان بیشمار اجزاء کی تخلیق میں یہ سلیقہ، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تخلیق کائنات میں لطیف اور دقیق حکمتیں الذی خلق فسوی۔ والذی قدر رفھدی، یہ سب رب اعلیٰ کی صفات کا ذکر ہے جو تخلیق کائنات میں اس کی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کے مشاہدہ سے متعلق ہیں ان میں پہلی صفت خلق ہے خلق کے معنے محض صنعت گری کے نہیں بلکہ عدم سے بغیر کسی مادہ سابقہ کے وجود میں لانا ہے اور یہ کام کسی مخلوق کے بس میں نہیں صرف حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ ہے کہ بغیر کسی سابق مادہ کے جب چاہتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں عدم سے وجود میں لے آتے ہیں۔ دوسری صفت اس تخلیق ہی کے ساتھ وابستہ فسویٰ ہے جو تسویہ سے مشتق ہے اور اس کے لفظی معنی برابر کرنے کے ہیں اور مراد برابر کرنے سے یہ ہے کہ ہر چیز کو جو…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں ایک تدریج ہوتی ہے جو اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے: اب اس آیت اور آگے کی چند آیات میں خدائے برتر کی چند صفات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کے ہر کام میں ایک ترتیب و تدریج ہوتی ہے جو یکسر اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے اس وجہ سے بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل میں صبر و استقامت کے ساتھ لگا رہے اور یہ امید رکھے کہ جس راہ پر چلنے کا اس نے حکم دیا ہے اس کی آخری منزل، اپنی تمام برکتوں کے ساتھ، بالآخر آ کے رہے گی۔ اس میں جو دیر ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہو گی اور جو مشکلیں پیش آئیں گی ان کے اندر بھی دنیا اور آخرت…
Read the full tafseer →2۔ 1 دیکھیے سورة انفطار کا حاشیہ نمبر 7
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ…
Read the full tafseer →12 یعنی جو چیز بنائی عین حکمت کے موافق بہت ٹھیک بنائی اور باعتبار خواص وصفات اور ان کے فائدوں کے جو اس چیز سے مقصود ہیں اس کی پیدائش کو درجہ کمال تک پہنچایا اور ایسا معتدل مزاج عطا کیا جس سے وہ منافع و فوائد اس پر مرتب ہو سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت 2 ‘ 3{ الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی - وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی۔ } ”جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ‘ پھر تناسب قائم کیا۔ اور جس نے ہر شے کا اندازہ مقرر کیا ‘ پھر اسے فطری ہدایت عطا فرمائی۔“ ان چار الفاظ خَلَقَ ‘ فَسَوّٰی ‘ قَدَّرَ ‘ فَھَدٰی میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان بھی ہے اور تخلیقی عمل کے مختلف مراحل کا ذکر بھی۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کے حوالے سے تین اسمائے حسنیٰ اَلْخَالِقُ ‘ اَلْـبَارِیٔ‘ اَلْمُصَوِّرُ کا ایک ساتھ ذکر قبل ازیں سورة الحشر کی آخری آیت میں بھی آچکا ہے۔ سورة الحشر کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی یہ تین صفات ایک خاص منطقی ترتیب سے بیان ہوئی ہیں۔ یہ ترتیب دراصل تخلیقی عمل کے…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات کی سب اشیاء کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اس چیز سے جو کام لینا مقصود تھا اس کے مطابق اس کی شکل و صورت بنائی اور شکل وصورت کو اس طرح ٹھیک ٹھاک اور درست کیا کہ اس کے لیے اس سے بہتر شکل و صورت ممکن ہی نہ تھی۔ مثلاً ناک کا ایک کام یہ ہے کہ اس سے دماغ کے فضلات خارج ہوتے رہیں اور یہ مقصد ناک کو سر کے پیچھے بنانے سے بھی حاصل ہوسکتا تھا۔ مگر اس کے تصور سے ہی انسان کو گھن آنے لگتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ناک کو چہرہ پر سامنے بنایا تاکہ چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ ہو، نیز انسان کی ناک بہتی ہی نہ رہے بلکہ انسان بوقت ضرورت اپنے ہاتھ سے جھاڑ سکے اور صاف کرسکے۔ یہی صورت حال ایک ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ کمالات الہی میں سے یہاں دو الگ الگ کمالات کا ذکر ہے۔ پہلا کمال عمل خلاقی کا کہ ایک ایک معدوم کو موجود کردیا، دوسرا کمال عمل صناعی کا، کہ ہر شے کو اس کے ہر ہر جزو میں بالکل ٹھیک ٹھیک اور ہر طرح کے تناسب وموزونیت کے ساتھ بنایا۔ (آیت) ” سبح ...... الاعلی “۔ یہی وہ تسبیح ہے جو سجدۂ نماز کی حالت میں ساری امت کے لیے لازمی قرار دے دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کر یعنی اپنے رب کی ان چیزوں سے پاکی بیان کر جو اس کی شایان شان نہیں ہیں اور لفظ اسم زائد ہے (الاعلیٰ ) رب کی صفت ہے جس نے پیدا کیا اور اپنی مخلوق کو درست کیا (یعنی) متناسب الاعضاء بنایا نہ کہ غیر متناسب جس نے جیسی چاہی تقدیر بنائی پھر اس نے اس خیر و شر کی راہ بتائی جو اس نے مقدر فرمائی جس نے نباتات گھاس اگائی پھر اس کو ہریالی کے بعد سوکھا سیاہ کوڑا کرکٹ کردیا ہم قرآن آپ کو پھڑھوا دیں گے پھر آپ ﷺ جو پڑھیں گے اس کو نہ بھولیں گے سوائے اس کے کہ جس کو اللہ بھلانا چاہے گا اس حکم اور اس…
Read the full tafseer →الذی خلق . جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا مفعول کے عموم کو بتانے کے لیے خَلَقَ کا مفعول حذف کردیا گیا یعنی اس نے تمام جواہر (مستقل وجود رکھنے والی چیزیں جیسے آسمان ‘ زمین ‘ تمام عناصر و ملائکہ اور حیوانات ‘ نباتات ‘ جمادات وغیرہ) اور اعراض (مستقل وجود نہ رکھنے والی چیزیں جیسے مختلف رنگ ‘ شکل ‘ ہیئت ‘ آواز ‘ تمام کیفیات اور مقادیر وغیرہ) اور انسان کے تمام اعمال پیدا کیے 1 ۔ فسوی . یعنی پھر اس نے ہر چیز کے اجزاء متناسب اور متوازن بنائے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جن ناقابل تصور منافع اور مصالح کے پیش نظر اس نے بنانا چاہا ٹھیک ویسا ہی بنا دیا ‘ یا یہ معنی ہے کہ نظام کائنات کا جیسا تقاضا تھا ‘ ویسا ہی اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) آپ اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھیے، یا یہ کہ اس کی توحید بیان کیجیے، یا یہ کہ سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہیے۔
Read the full tafseer →(الذی خلق فسویٰ :”الذی خلق“ (جس نے پیدا کیا) اس کا مفعول بہم حذوف ہے، یعنی یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ کسے پیدا کیا، کیونکہ پیدا کرنا کام اسی کا ہے اور سب اسی کی مخلوق ہیں۔”فسوی“”پس درست بنایا“ یعنی ہر چیز کو ٹھیک، متوازن اور عمدہ ترین شکل میں بنایا، کوئی چیز بےڈھب اور غیر متوازن نہیں، جیسا کہ فرمایا :(الذی احسن کل شیء خلقہ) (السجدۃ : 8)”وہ جس نے جو چیز پیدا کی خوبصورت پیدا کی۔“ اس آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں رب تعالیٰ کی بعض وہ صفات بیان ہوئی ہیں جن کی وجہ سے وہ تسبیح کا مستحق ہے۔
Read the full tafseer →الذی خلق فسوی۔۔ تا۔۔۔ احوی۔ الذی خلق فسوی۔ تسویہ کا معنی سورة الانفطار اور دوسری صورتوں میں گزرچکا ہے یعنی جو بنایا اس کو درست بنایا اس کی تخلیق میں کوئی بھدا پن نہیں ہے زجاج نے کہا، اس کی قدوقامت کو مناسب بنایا، حضرت ابن عباس سے مروی ہے جو پیدا کیا اس کو حسین بنایا، ضحاک نے کہا، حضرت آدم کو بنایاتوان کی خلقت کو مناسب کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے آباء کی پشتوں میں پیدا کیا اور ماؤں کے رحموں میں درست کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اجسام کو ابنایا اوذہنوں کو درست کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے انسان کو بنایا اور اسے مکلف بنانے کے لیے تیار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح اسم ربک الاعلیٰ مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح اسم ربک الاعلی مکہ میں نازل ہوئی۔ 4۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ والبخاری نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے ہم کو قرآن پڑھانا شروع کیا پھر عمار، بلال اور سعد ؓ آئے پھر بیسویں نمبر پر عمر بن خطاب ؓ تشریف لائے پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز کے…
Read the full tafseer →[الَّذِي خَلَقَ فَسَوّٰى: وہ، جس نے پیدا کیا پھر اس نے نوک پلک درست کی (اس کی)] (آیت۔ 2 ۔ 3) خَلَقَ ۔ سَوّٰی۔ قَدَّرَ ۔ ھٰدٰی۔ اِن افعال کے مفعول محذوف ہیں۔ اس لیے مفہوم میں وسعت پیدا ہوئی اور یہاں ساری مخلوق مراد ہے، جس میں فرشتے، جن واِنس، حیوانات، نباتات، جمادات وغیرہ سب شامل ہوگئے۔ (حافظ احمد یار صاحب) ۔ آگے آیات۔ 2 تا 5 میں رَبِّ اَعْلٰی کی صفات کا ذکر ہے جو تخلیق کائنات میں اس کی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کے مشاہدہ سے متعلق ہیں۔ خلق کے معنی محض صنعت گری کے نہیں بلکہ عدم سے وجود میں لانا بھی ہے۔ دوسری صفت فَسَوّٰی ہے۔ برابر کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز کو جو وجود عطا فرمایا ہے اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
﴿الَّذِيْ خَلَقَ﴾ (جس نے پیدا فرمایا) اور تیسری صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ فَسَوّٰىۙ002﴾ (کہ اس نے بالکل ٹھیک بنایا) اور چوتھی صفت بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْ قَدَّرَ ﴾ (اور جس نے جانداروں کے لیے ان کے مناسب حال چیزوں کو تجویز فرمایا۔ ﴿فَهَدٰى ۪ۙ003﴾ (پھر ان جانداروں کو راہ بتائی) یعنی ان کی طبیعتوں کو ایسا بنا دیا کہ وہ ان چیزوں کو چاہتی ہیں، جو ان کے لیے تجویز فرمائی ہیں۔ معالم التنزیل صفحہ 475: ج 4 میں ﴿وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى﴾ کی تفسیر میں اور بھی چند اقوال لکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ انسان کو خیر اور شر کا سعادت و شقاوت کا راستہ بتایا اور ایک معنی یہ لکھا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
3:۔ ” الذی خلق “۔ دعوی توحید کے پہلے جزو کا بیان یعنی اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور متصرف و مختار ہے۔ اسی نے سب کو پیدا کیا اور درست اندام بنایا، اعضاء بدن کو متناسب اور خوبصورت بنایا۔ خلق کل شیء فسی خلقہ تسیۃ ولم یات بہ متفاوتا غیر ملتئم ولکن علی احکام ؟ ؟ (مدارک) ۔ ” والذی قدر فہدی “ پیدا کرنے کے بعد سب کی روزی کا اندازہ بھی اسی نے مقرر کیا اور پھر ہر ایک کو روزی حاصل کرنے کی راہ بھی دکھائی۔ ” والذی اخرج المرعی “ اسی نے مویشیوں کے لیے چارہ پیدا کیا۔ پھر اسے خشک اور چورا چورا کردیا۔ چارہ خشک ہونے کے بعد چورہ بن جاتا ہے یہ تمام صفاتِ کمال اس کی دلیل ہیں کہ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى 2 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سوا ( مساوات برابر) الْمُسَاوَاةُ : المعادلة المعتبرة بالذّرع والوزن،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب ¦ الاعلیٰ صفۃ ربک الذین الجملۃ صفۃ اخریٰ للرب والذی صفۃ اخریٰ او معطوف علی الموصول الذی قبلہ قدر قریٔ مخففۃ ومثقلا والذی اخرج صفۃ اخریٰ فجعلہ غثاء فی القاموس الغثاء والقماش والزید والھالک البالی من ورق الشجر قال قتادہ الغثاء الیابس احویٰ اسود ماخوذ من الحوۃ وھی سواد یضرب الی الخضرۃ فے القاموس الحوۃ سواد الی خضرۃ او حمرۃ الی السوا وحوی کر ضی وفی الصحاح الحوۃ بالضم حمرۃ الشفۃ قال ابن عباس غثا ھشیما احوی متغیر افل اتنسی قیل نفی وقیل نھی والالف للاشباع الا استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای لاتنس لیٰ مماک علمک اللہ شیئاً من الاشیاء الاماشاء اللہ ان تنساہ قال الفراء ولم یشاء اللہ ان ینسی نبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی۔ وَالَّذِیْ قَدَّرَفَھَدٰی۔ (الاَعلٰی : 2، 3) (جس نے پیدا کیا اور پھر اس کا تناسب قائم کیا۔ اور جس نے تقدیر بنائی پھر اس نے ہدایت بخشی۔ ) تکوینِ وجود کے چار مراتب خالق کائنات نے ان آیات میں تکوینِ وجود کے چار مراتب بیان فرمائے ہیں۔ خلق، تسویہ، تقدیر اور ہدایت۔ کائنات کی ہر مخلوق کا عدم سے وجود میں آنا اس کی صفت خلق کا اظہار ہے۔ مگر ہر مخلوق کا اس طرح پیدا کیا جانا جس طرح اسے ہونا چاہیے تھا اور اس کے نک سک کا درست ہونا اور اس میں انتہا درجہ کا تناسب پایا جانا اور ہر طرح سے اپنے ماحول سے اس کا مناسبت رکھنا اور ماحول کا اس کے ساتھ مناسب ہونا یہ وہ چیز ہے جس کو تسویہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تسبیح اس لیے بھی کرنا ہے کیونکہ وہ پوری کائنات کی بقا اور فنا کا مالک ہے۔ ” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے اس کائنات کو بنایا اور انسان کو پیدا فرمایا ہے، نہ صرف انسان کو پیدا کیا بلکہ اس کے اعضاء اور جوارح کو اس طرح بنایا اور درست فرمایا ہے کہ پوری مخلوق میں انسان ” اللہ “ کی قدرت کا عظیم شاہکار قرار پایا ہے، انسان کو پیدا فرما کر اسے زمین و آسمانوں میں ایسی تکریم دی جو تکریم کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی۔ یہاں تک انسان کے اعضاء اور جوارح کا تعلق ہے اس میں اس طرح توازن قائم کیا ہے کہ ہر عضو اور جوڑ اپنی انتہا پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے، یہی توازن اس نے ہر چیز میں…
Read the full tafseer →متناسب بنایا : 2 : الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی (جس نے بنایا پھر ٹھیک بنایا) خلقؔ یعنی ہر چیزکوبنایا۔ سویؔ متناسب بنایا۔ اس کو متفرق اور آپس میں نامناسب نہیں بنایا لیکن اس میں پختگی اور اتساق کا لحاظ رکھ کر بنایا۔ اور اس طرح بنایا جو دلالت کررہا ہے کہ یہ کسی حکیم وعلیم نے بنایا ہے۔ نمبر 2۔ اس کے منافع و مصالح کے مطابق اس کو درست بنایا۔
Read the full tafseer →2 ۔” الذی خلق فسوی “ کلبی (رح) فرماتے ہیں ہر ذی روح کو پیدا کیا۔ پس ان کے دونوں ہاتھ دونوں پائوں اور دونوں آنکھیں ٹھیک ٹھیک بنائیں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں انسان کو سیدھا پیدا کیا اور ” سویٰ “ کا معنی اس کی قامت کو سیدھا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح وتنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر اس کی عبادت اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے یعنی اس کے اسمائے حسنی وعالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کے معنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ان کو درست کیا یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔
Read the full tafseer →(2) اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ’ ’ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر ٹھیک کیا " اور اس نے ہر چیز کو وہ ساخت بخشی جو اس کے وظیفہ زندگی اور مقصد حیات کے عین مطابق تھی، اور اتنی اور ایسی مطابق کہ اس سے بہتر کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ الَّذِیْ أَحْسَنَ کُلَّ شَیْْء ٍ خَلَقَہُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِیْنٍ (السجدہ 7 پ 21) یعنی اس نے ہر چیز کو عمدہ بنایا جس کو بھی اس نے پیدا کیا، اور انسان کی پیدائش کو اس نے مٹی سے شروع کیا، سو انسان اگر خود اپنی خلقت ہی پر صحیح طریقے سے غور کرے تو اس کو قدرت کے عجائب وغرائب اور عظیم الشان احسانات نظر آئیں، کہ کس طرح اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اسم اعظم رب اعلیٰ کی وضاحت تشریح : میں تمام مفسرین حضرات سے معذرت چاہتے ہوئے ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر کی روشنی میں تشریح کرنا چاہوں گی۔ سورت ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ اپنے رب اعلی کے نام کی تسبیح کرو۔ یعنی انسان کو توحید کی تعلیم کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے۔ انسان کو ہمیشہ ایک ایسے سہارے کی ضرورت رہی کہ جو اس کو مصیبت ' پریشانی ' دکھ درد میں سہارا دے۔ جب بچہ لاچار ہوتا ہے تو ماں کا طلب گار ہوتا ہے جب شعور کو پہنچتا ہے تو پھر ماں سے مضبوط سہارا تلاش کرتا ہے۔ اس سہارے کی وضاحت اس سورة مقدسہ میں کی گئی ہے۔ کہ صرف اس کی طرف توجہ کرو ' سجدہ کرو اور مدد مانگو جو سب سے اعلی وارفع ہے۔ تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی جس چیز میں جو صفات اور فوائد ہونے چاہئیں تھے وہ اس نے اس میں رکھے اور ظاہری طور پر بھی اس کی ساخت نہایت موزوں رکھی۔
Read the full tafseer →(87:2) الذی خلق فسوی : الذی خلق موصولہ و صلہ مل کر رب کی صفت ثانی ہے۔ فسوی کا عطف الذی (موصول ما قبل) پر ہے ای والذی فسوی (پاکی بیان کرو اس رب کی) کہ جس نے (انسان کو) پیدا کیا۔ اور پھر ٹھیک بنایا۔ (فسوی بھی رب کی صفت ہے) یعنی اس نے انسان کو پیدا کیا ۔ اور پیدا کرکے یونہی بےڈول اور بےکار نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ اس کو ٹھیک اور درست بھی کیا جس کے لئے جس عضو اور جس قوت کی اور صورت کی حاجت تھی وہی اس کو عطا کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی جو چیز بنائی عین حکمت کے موافق بہت ٹھیک بنائی اور باعتبار خواص صفات ، اور ان فائدوں کے جو اس چیز سے مقصود ہیں اس کی پیدائش کو درجہ کمال تک پہنچایا اور ایسا معتدل مزاج عطا کیا جس سے وہ منافع وفوائد اس پر مرتب ہوسکیں۔
Read the full tafseer →[1] یعنی اس کو باعتبار خواص وصفات اور ان فائدوں کے جو اس چیز سے مقصود ہیں ایسی صورت پر پیدا کیا کہ اس چیز کے لئے اس سے بہتر تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الاعلیٰ 1: سنقرئک فلا تنسی میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کا دماغ خدا کی جانب سے محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تک شرعیات کا تعلق ہے ، اس پر کبھی سہو ونسیان کی کیفیتیں طاری نہیں ہوتیں ۔ الا ماشاء اللہ کا استثناء تائید کے لئے ہے ۔ یعنی خدا کو یہ منظور نہ ہو کہ پیغمبر ﷺ تعلیمات کو بھول جائے ۔ ورنہ دوسری قوت ایسی نہیں جو ذہن پیغمبر پر غالب آسکے ۔ حل لغات :۔ فسوی ۔ اعضاء میں تسویہ پیدا کرنا فھدی ۔ بدن میں اعضاء واحشاء کو ان کے وظائف طبعی سے اطلاع بخشی ۔
Read the full tafseer →(2) وہ جس نے بنایا سو ٹھیک بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 2۔ اول عام تصرفات مذکور ہیں، پھر حیوانات کے متعلق پھر نباتا کے متعلق۔ مطلب یہ کہ طاعات سے آخرت کا تہیہ کرنا چاہئے جہاں جزا و سزا ہونے والی ہے اور اسی طاعت کا طریقہ بتلانے کے لئے ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور آپ کو اس کی تبلیغ کا مامور فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →جس نے ہرچیز کو پیدا کیا اور پھر درست بھی کیا 2 ؎ وہ اللہ جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اس زمین کو بھی اور آسمانوں کو بھی اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے درمیان ان فضائوں میں ہے سب کا خالق وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے اور زمین کے اندر جو کچھ پیدا کیا گیا ہے اور زمین کے نیچے جو کچھ پیدا کیا گیا ہے ، آسمانوں کو پیدا کرنے والا اور آسمانوں سے اوپر جو کچھ ہے سب کا خالق اللہ ہے اور پھر اسنے اس ساری کائنات کی مخلوق کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا کہ وہ چاہے جدھر ٹھوکریں کھائیں کھاتے رہیں بلکہ ہر طرح کی قوتیں پیدا کر کے ان کو بالکل درست بھی کیا اور ان کو طاقت بہم پہنچانے کے لیے ہر ایک چیز کا غذائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
Subtle and Profound Wisdom in the Creation of the Universe الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ (who created [ everything ], then made [ it ] well, and who determined a measure [ for everything ], then guided [ it ]...87:2, 3). All these are the attributes of the 'Most Exalted Lord'. The first attribute is khalaqa which does not simply mean 'to make' or 'manufacture'. It has a deeper significance: 'to bring out something from pure non-existence into the realm of existence without the help of any pre-existing matter'. (This is the correct meaning of 'creation'. If something is…
Read the full tafseer →2 That is, He created everything, from the earth to the heavens, in the universe, and gave whatever he created the right proportion and balance and gave every creature the best conceivable form and shape. The same thing has been expressed in Surah As-Sajdah, thus: "Who gave everything He created the best form" (v. 7) Thus, the creation of everything in the world giving it due order and proportion, is an express sign of the truth that some Wise Designer is its Creator. Had the creation of the countless things in the universe been the result of a chance accident, or the work of many creators,…
Read the full tafseer →