Al-A'laa 87:1

87. Al-A'laaالأعلى

The Most High · Meccan · 19 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

87:1

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَی ۟ۙسَبِّحِ اسۡمَ رَبِّكَ الۡاَعۡلَىۙ‏

(اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Exalt the name of your Lord, the Most High,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'laa

All translations of 87:1

(اے نبیؐ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرو جس کی شان سب سے اونچی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جب سے بلند ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اپنے رب کے نام کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کیجیے جو سب سے برتر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اپنے خداوند برتر کے نام کی تسبیح کر

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تسبیح کرو اپنے رب کے نام (پاک) کی جو سب سے بلند شان والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ تسبیح کیجئے اپنے عالی شان پروردگار کے نام کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پاکی بیان کرو اپنے رب کے نام کی جو بہت بلند وبالا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر اپنے رب اعلیٰ کے نام کی تسبیح کرو

— محترمہ رفعت اعجاز

Glorify the name of your Lord, the Most High,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Pronounce the purity of the name of your most exalted Lord,

— Muhammad Taqi Usmani

Pronounce the purity of the name of your most exalted Lord,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Glorify the Name of your Lord, the Most High.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Praise the name of thy Lord the Most High,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Exalt the name of your Lord, the Most High,

— Saheeh International

(Muhammad), glorify the Name of your lord, the Most High,

— Muhammad Sarwar

Glorify the name of your Lord, the Most High,

— Muhammad Habib Shakir

Hallow thou the name of thine Lord, the Most High,

— Abdul Majid Daryabadi

Glorify the name of thy Guardian-Lord Most High,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 87:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْلٰی 1 1۔ لفظی ترجمہ ہوگا " اپنے رب برتر کے نام کو پاک کرو "۔ اس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں اور وہ سب ہی مراد ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کو ان ناموں سے یاد کیا جائے جو اس کے لائق ہیں اور ایسے نام اس کی ذات برتر کے لیے استعمال نہ کیے جائیں جو اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے اس کے لیے موزوں نہیں ہیں، یا جن میں اس کے لیے نقص یا گستاخی یا شرک کا کوئی پہلو نکلتا ہے، یا جن میں اس کی ذات یا صفات یا افعال کے بارے میں کوئی غلط عقیدہ پایا جاتا ہے۔ اس غرض کے لیے محفوظ ترین صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وہی نام استعمال کیے جائیں جو اس نے خود قرآن مجید میں بیان فرمائے ہیں، یا جو دوسری زبان میں ان کا صحیح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اے پیغمبر ﷺ آپ (اور جو مومن آپ کے ساتھ ہیں) اپنے پروردگار عالیشان کے نام کی تسبیح (و تقدیس) کیجئے جس نے (ہر شی کو) بنایا پھر (اس کو) ٹھیک بنایا (یعنی ہر شی کو مناسب طور پر بنایا) اور جس نے (جانداروں کے لئے ان کے مناسب چیزوں کو) تجویز کیا پھر (ان جانداروں کو ان چیزوں کی طرف) راہ بتلائی (یعنی ان کی طبائع میں ان اشیاء کا تقاضا پیدا کردیا) اور جس نے (سبز خوشنما) چارہ (زمین سے) نکالا پھر اس کو سیاہ کوڑا کردیا (اول عام تصرفات مذکور ہیں، پھر حیوانات کے متعلق پھر نباتات کے متعلق مطلب یہ ہے کہ طاعات کے ذریعہ آخرت کی تیاری کرنا چاہئے جہاں اعمال پر جزا و سزا ہونے والی ہے اور اسی اطاعت کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اللہ تعالیٰ کی یاد کی اہمیت: ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ لفظ ’تَسْبِیْحٌ‘ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے پاک اور برتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ شان کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا صحیح تصور ہی تمام علم و معرفت اور تمام قوت و اعتماد کا سرچشمہ ہے۔ اگر اس میں کوئی خلل پیدا ہو جائے تو انسان صحیح معرفت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا اور شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ اس کا دل ایمان و توکل کی نعمت، طمانیت و شرح صدر کے نور اور عزیمت و استقامت کی قوت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت اور اس کی یاد ہی ہے جو دل کو پابرجا اور مستقیم و مطمئن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 یعنی ایسی چیزوں سے اللہ کی پاکیزگی اس کے لائق نہیں ہے حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ اس کے جواب میں پڑھا کرتے تھے، سُبْحَانَ رَبَّیَ ا لاَّعْلَیٰ (مسند احمد 232۔ 1)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

سبح اسم ..................... احوی سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔ سبح اسم……………. احوی (1:87 تا 5) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا " اجعلوھا فی سجودکم " (اس کو اپنے سجود میں رکھو) اسی لئے سجدہ کی حالت میں " سبحان ربی الاعلیٰ " کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی۔ } ”پاکی بیان کرو اپنے رب کے نام کی جو بہت بلند وبالا ہے۔“ یہ حکم یوں بھی ہوسکتا تھا کہ ”اپنے رب کی پاکی بیان کرو“ لیکن یہاں خصوصی طور پر اسم نام کا لفظ اس لیے آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمارے تصور سے وراء الوراء ‘ ثم وراء الوراء ہے۔ اس کی ذات کے ساتھ ہمارا ذہنی و قلبی تعلق صرف اور صرف اس کے ناموں کے حوالے سے ہے۔ اسی لیے ہمیں حکم دیا گیا ہے : { وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَاص } الاعراف : 180 ”اور تمام اچھے نام اللہ ہی کے ہیں ‘ تو پکارو اسے اُن اچھے ناموں سے“۔ چناچہ ہم انسان اگر اللہ کا ذکر کرنا چاہیں یا اس کی تسبیح وتحمید کرنا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 سبحان کا لغوی مفہوم : سَبَّحَ : ابن الفارس کے نزدیک لفظ سَبَّحَ کے بنیادی معنی دو ہیں (1) عبادت کی قسم، اور (2) دوڑنے کی قسم، اور امام راغب کے نزیک سبح کا معنی کسی چیز کا پانی، ہوا میں تیرنا یا تیزی سے گزر جانا اور سَبَّاح یعنی تیراک ہے اور سبحان سبح سے مصدر ہے جیسے غفر سے غُفْرَان۔ فضا میں لاکھوں کروڑوں سیارے نہایت تیزی سے گردش کر رہے ہیں جن میں نہ کبھی لرزش پیدا ہوتی ہے نہ جھول اور نہ تصادم یا ٹکراؤ۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پر کنٹرول کرنے والی ہستی اپنی تقدیر و تدبیر اور انتظام میں نہایت محکم اور ہر قسم کی بےتدبیری، عیب یا نقص سے پاک ہستی ہی ہوسکتی ہے۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی مدبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ کمالات الہی میں سے یہاں دو الگ الگ کمالات کا ذکر ہے۔ پہلا کمال عمل خلاقی کا کہ ایک ایک معدوم کو موجود کردیا، دوسرا کمال عمل صناعی کا، کہ ہر شے کو اس کے ہر ہر جزو میں بالکل ٹھیک ٹھیک اور ہر طرح کے تناسب وموزونیت کے ساتھ بنایا۔ (آیت) ” سبح ...... الاعلی “۔ یہی وہ تسبیح ہے جو سجدۂ نماز کی حالت میں ساری امت کے لیے لازمی قرار دے دی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کر یعنی اپنے رب کی ان چیزوں سے پاکی بیان کر جو اس کی شایان شان نہیں ہیں اور لفظ اسم زائد ہے (الاعلیٰ ) رب کی صفت ہے جس نے پیدا کیا اور اپنی مخلوق کو درست کیا (یعنی) متناسب الاعضاء بنایا نہ کہ غیر متناسب جس نے جیسی چاہی تقدیر بنائی پھر اس نے اس خیر و شر کی راہ بتائی جو اس نے مقدر فرمائی جس نے نباتات گھاس اگائی پھر اس کو ہریالی کے بعد سوکھا سیاہ کوڑا کرکٹ کردیا ہم قرآن آپ کو پھڑھوا دیں گے پھر آپ ﷺ جو پڑھیں گے اس کو نہ بھولیں گے سوائے اس کے کہ جس کو اللہ بھلانا چاہے گا اس حکم اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سبح اسم ربک الاعلی . اپنے مالک برتر کے نام کو پاک رکھو۔ یعنی اس کے نام میں نہ کوئی الحاد کرو ‘ نہ کسی دوسرے پر اسکے نام کا اطلاق کرو ‘ یا تنزیہ اسم رب سے یہ مراد ہے کہ تعظیم و احترام کے ساتھ اللہ کا نام لو اور اپنی طرف سے اسکا کوئی نام مقرر نہ کرو بلکہ وہی نام لو جو اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیے ہیں یا اپنے پیغمبر کی زبانی ظاہر فرمائے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اس آیت میں اسم سے مراد ذات مسمّٰی ہے جیسے آیت : ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا انتم واٰباء کم میں اسماء سے مراد مسمّٰی ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک لفظ اسم زائد ہے۔ مراد یہ ہے کہ زبان سے اپنے رب کی پاکی بیان کرو اور بےدین لوگ جو رب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) آپ اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھیے، یا یہ کہ اس کی توحید بیان کیجیے، یا یہ کہ سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) سبح اسم ربک الاعلی :”تسبح“ کا معین ہے ”ہر برائی سے پاک کرنا۔“ رب الاعلیٰ کے نام کو پاک کرنے کے حکم کے مفہوم میں کئی چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ ”سبحان ربی الاعلی“ کہو۔ چناچہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ”سبح اسم ربک الاعلیٰ“ پڑھتے تو کہتے :(سبحان ربی الاعلی) (ابوداؤد الصلاۃ باب الدعاء فی الصلاۃ ، 883، وصححہ الالبانی)”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے۔“ اس کے علاوہ آپ ﷺ سجدے میں اس حکم پر عمل کے لئے ”سبحان ربی الاعلی“ کم از کم تین دفعہ پڑھتے تھے۔ (دیکھیے نسائی، التطبیق، باب نوع اخر : 1133، صحیح) ’ وسری یہ کہ اپنے رب کو ہر قسم کے نقص، عیب، کمزوری اور کسی بھی شریک سے پاک سمجھو اور اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

سبح اسم ربک الاعلی۔ قاری کے لیے مستحب یہ ہے کہ جب وہ اس آیت کو پڑھتے تو اس کے بعد وہ سبحان ربی الاعلی کہے، یہ نبی کریم کا فرمان ہے، صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا بھی یہی نقطہ نظر ہے جن کا ذکر بعد میں ہورہا ہے، جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جس کو حزقیائیل کہتے ہیں جس کے اٹھارہ ہزار پر ہیں ایک پر سے دوسرے پر کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اس کے دل میں خیال آیا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ تو تمام عرش کو دیکھے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اتنے ہی پروں کا اضافہ کیا، اس کے چھتیس ہزار پر ہوگئے ایک پر سے دوسرے کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح اسم ربک الاعلیٰ مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة سبح اسم ربک الاعلی مکہ میں نازل ہوئی۔ 4۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ والبخاری نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے ہم کو قرآن پڑھانا شروع کیا پھر عمار، بلال اور سعد ؓ آئے پھر بیسویں نمبر پر عمر بن خطاب ؓ تشریف لائے پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[سَبِحِ : آپ ﷺ تسبیح کریں ][ اسْمَ رَبِكَ الْاَعْلَى: اپنے اعلیٰ رب کے نام کی ] ترکیب : (آیت۔ 1) الْاَعْلٰی پر رفع، نصب، جر ظاہر نہیں ہوتی۔ اس لئے گرامر کے لحاظ سے یہ ممکن ہے کہ اس کو حالت نصب میں مانا جائے تو یہ اِسْمَ کی صفت ہوگا اور اگر حالت جر میں مانیں تو یہ رَبِّ کی صفت ہوگا۔ لیکن مضمون کے لحاظ سے مناسب یہی ہے کہ اس کو رَبِّکی صفت مانا جائے۔ نوٹ۔ 1: لفظ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے پاک اور برتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ شان کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا صحیح تصور ہی تمام علم و معرفت اور قوت و اعتماد کا سرچشمہ ہے۔ اگر اس میں کوئی خلل پید اہو جائے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہاں سے سورة الاعلیٰ شروع ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح بیان کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی چند صفات بیان فرمائی ہیں، سب سے پہلے الاعلیٰ فرمایا یعنی برتر اور بلند تر حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے بیان فرمایا کہ جب آیت ﴿فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (رح) 0074﴾ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اجعلوھا فی رکوعکم) (کہ رکوع میں جاؤ تو اس پر عمل کرو) پھر جب ﴿ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ001﴾ (نازل ہوئی تو فرمایا کہ سجدہ میں جاؤ تو اس پر عمل کرو) یعنی رکوع میں ﴿سُبْحَانَ رَبِیَّ الْعَظِیْم﴾ كہو اور سجدہ میں ﴿سُبْحَانَ رَبِیَّ الْاَعْلٰی﴾ كہو۔ (رواہ ابو داؤد) الْاَعْلَى…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” سبح اسم “ یہ دعوائے توحید کے دونوں حصوں کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔ جب آئندہ بیان سے ثابت ہوگیا کہ کارساز، متصرف و مختار اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں تو اس کو شریکوں سے پاک سمجھو اور اس کی دعاء و پکار میں کسی کو شریک نہ بناؤ۔ اقتدار اعلی کے مالک اپنے پروردگار کی ہر عیب اور شرک سے قولا و عملا تنزیہ و تقدیس کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى۝ 1 ۙ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب ¦ الاعلیٰ صفۃ ربک الذین الجملۃ صفۃ اخریٰ للرب والذی صفۃ اخریٰ او معطوف علی الموصول الذی قبلہ قدر قریٔ مخففۃ ومثقلا والذی اخرج صفۃ اخریٰ فجعلہ غثاء فی القاموس الغثاء والقماش والزید والھالک البالی من ورق الشجر قال قتادہ الغثاء الیابس احویٰ اسود ماخوذ من الحوۃ وھی سواد یضرب الی الخضرۃ فے القاموس الحوۃ سواد الی خضرۃ او حمرۃ الی السوا وحوی کر ضی وفی الصحاح الحوۃ بالضم حمرۃ الشفۃ قال ابن عباس غثا ھشیما احوی متغیر افل اتنسی قیل نفی وقیل نھی والالف للاشباع الا استثناء مفرغ من اعم المفاعیل ای لاتنس لیٰ مماک علمک اللہ شیئاً من الاشیاء الاماشاء اللہ ان تنساہ قال الفراء ولم یشاء اللہ ان ینسی نبیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی۔ (الاَعلٰی : 1) (اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کیجیے۔ ) اللہ تعالیٰ کی یاد کی اہمیت تسبیح کا معنی پاک کرنا ہوتا ہے۔ اس لفظ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے۔ یعنی اس کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے پاک اور برتر قرار دیا جائے جو اس کی اعلیٰ شان کے منافی ہیں۔ یعنی اسے ایسے ناموں سے نہ پکارا جائے جو اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے اس کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ یعنی ان میں کوئی نقص، گستاخی یا شرک کا پہلو نکلتا ہے۔ اس کے لیے وہی نام استعمال کیے جائیں جو اس کی شان کے لائق ہوں۔ اور بہتر یہ ہے کہ جنھیں خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے یا دوسری زبان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط سورت : الطارق میں انسان کو اس کی تخلیق کے حوالے سے قیامت کا ثبوت دیا ہے اور سورة الاعلیٰ میں ہر جاندار کی تخلیق کے حوالے سے قیامت کا ثبوت دیا گیا ہے کہ وہی ذات انسان کو دوبارہ زندہ کرے گی جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اسی نے اس کی رہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ لہٰذا ہر دم اسے یاد رکھنا چاہیے۔ یہ سورت مسبّحات میں سے چھٹی سورت ہے جس کی ابتدا باب ” سَبَّحَ یُسَبِّحُ “ کے صیغہ امر ” سَبِّحْ “ سے ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھنے میں یہ بات لازم ہے کہ اس کی ذات کے لیے وہی الفاظ استعمال کیے جائیں اور ایسا طریقہ اور انداز اختیار کیا جائے جس کا ثبوت قرآن اور حدیث میں پایا جاتا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی (آپ اپنے پروردگار عالیشان کے نام کی تسبیح کیجئے) اس کی ذات کو ان تمام باتوں سے پاک قرار دو جو اس کے مناسب نہیں۔ اسمؔ یہ صلہ ہے اس طرح کہ اعلیٰ کی تفسیر العلو کے معنی سے کی جائے جو قہر و اقتدار کیلئے آتا ہے۔ علوفی المکان کے معنی سے نہیں۔ ایک قول یہ ہے سبحان ربی الاعلٰی کہو۔ سجدہ کی تسبیح : حدیث شریف میں وارد ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اجعلوھا فی سجود کم۔ تم اس کو اپنے سجود میں مقرر کرلو۔ ] ابو دائود : 869، ابن ماجہ : 887، الدارمی 4/299[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ یعنی آپ سبحان ربی الاعلیٰ “ کہیں اور اسی طرف صحابہ کرام ؓ اور تابعین کی ایک جماعت گئی ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پڑھا ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ پھر کہا ” سبحان ربی الاعلیٰ “ اور ایک قوم نے کہا ہے اپنے ” رب اعلیٰ “ کی پاکی بیان کریں اس سے جو ملحدین بیان کرتے ہیں اور انہوں نے اسم کو صلہ بنایا ہے اور اس سے وہ استدلال کرتے ہیں جو اسم اور مسمی کو ایک قرار دیتے ہیں مگر کوئی شخص یوں نہیں کہتا ” سبحان اسم اللہ و سبحان اسم ربنا “ سب یوں کہتے ہیں ” سبحان اللہ و سبحان ربنا “ اور یہ ” سبح اسم ربک “ کا معنی ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ اپنے رب کے نام کی پاکی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

اللہ تعالیٰ اپنی تسبیح وتنزیہہ کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذکر اس کی عبادت اس کے جلال کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہونے کو متضمن ہے نیز تسبیح ایسی ہو جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لائق ہے یعنی اس کے اسمائے حسنی وعالیہ کا اس اسم سے ذکر جس کے معنی اچھے اور عظیم ہوں۔ اس کے افعال کا ذکر کیا جائے ان افعال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ان کو درست کیا یعنی نہایت مہارت کے ساتھ ان کو اچھی طرح تخلیق کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

( 1) اپنے رب کے نام کی تسبیح کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تسبیح کرو اپنے رب کے نام کی " اور اس کی پاکی بیان کرو ہر نقص و عیب سے، ہر قسم کے شرک اور ہر شائبہ شرک سے، اور ہر اس صفت سے جو اس کی شان اقدس و اعلی کے لائق نہ ہو، کہ وہ ایسی ہر صفت اور اس طرح کے تمام شوائب و علائق سے پاک اور بالا و برتر ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ ( الصفت 180 پ 23) یعنی پاک ہے تمہارا رب جو کہ عزت کا مالک ہے ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ ( اسکے بارے میں بناتے ہیں، مسند احمد اور سنن ابو داؤد وغیرہ میں حضرت عقبہ بن عامر سے مروی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

اسم اعظم رب اعلیٰ کی وضاحت تشریح : میں تمام مفسرین حضرات سے معذرت چاہتے ہوئے ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر کی روشنی میں تشریح کرنا چاہوں گی۔ سورت ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ اپنے رب اعلی کے نام کی تسبیح کرو۔ یعنی انسان کو توحید کی تعلیم کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے۔ انسان کو ہمیشہ ایک ایسے سہارے کی ضرورت رہی کہ جو اس کو مصیبت ' پریشانی ' دکھ درد میں سہارا دے۔ جب بچہ لاچار ہوتا ہے تو ماں کا طلب گار ہوتا ہے جب شعور کو پہنچتا ہے تو پھر ماں سے مضبوط سہارا تلاش کرتا ہے۔ اس سہارے کی وضاحت اس سورة مقدسہ میں کی گئی ہے۔ کہ صرف اس کی طرف توجہ کرو ' سجدہ کرو اور مدد مانگو جو سب سے اعلی وارفع ہے۔ تو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی جو باتیں اس کی شان کے لائق نہیں ہیں (جیسے شرک یا بندوں جیسی کمزوریاں وغیرہ) ان سے اس کی پاکی بیان کیا کرو۔ حضرت عتبہ بن عامر کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اسے اپنے سجدوں کے لئے مخصوص کرلو۔ “ اس لئے سجدہ میں ’ دسبحان ربی الاعلی کہا جاتا ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(87:1) سبح اسم ربک الاعلی : سبح فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تسبیح (تفعیل) مصدر سے۔ تو تسبیح کر، تو پاکی بیان کر۔ تو عبادت کر۔ اسم مفعول سبح کا مضاف ربک مضاف مضاف الیہ ۔ مل کر اسم کا مضاف الیہ اپنے رب کے نام کی۔ الاعلی صفت ہے رب کی۔ علو (باب نصر) مصدر سے اور علا یعلوا کا مصدر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ (اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں اسم سے مراد ذات مسمی ہے جیسے آیت ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا انتم واباء کم (12:40) جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں ۔ جو تم نے اور تمہارے باپ داد نے رکھ لئے ہیں (یہاں اسماء سے مراد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے سجدہ میں داخل کرو، اسی لیے کہ سجدہ کی حالت میں سبحان ربی الاعلی کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة الاعلیٰ 1: سنقرئک فلا تنسی میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کا دماغ خدا کی جانب سے محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تک شرعیات کا تعلق ہے ، اس پر کبھی سہو ونسیان کی کیفیتیں طاری نہیں ہوتیں ۔ الا ماشاء اللہ کا استثناء تائید کے لئے ہے ۔ یعنی خدا کو یہ منظور نہ ہو کہ پیغمبر ﷺ تعلیمات کو بھول جائے ۔ ورنہ دوسری قوت ایسی نہیں جو ذہن پیغمبر پر غالب آسکے ۔ حل لغات :۔ فسوی ۔ اعضاء میں تسویہ پیدا کرنا فھدی ۔ بدن میں اعضاء واحشاء کو ان کے وظائف طبعی سے اطلاع بخشی ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 2۔ اول عام تصرفات مذکور ہیں، پھر حیوانات کے متعلق پھر نباتا کے متعلق۔ مطلب یہ کہ طاعات سے آخرت کا تہیہ کرنا چاہئے جہاں جزا و سزا ہونے والی ہے اور اسی طاعت کا طریقہ بتلانے کے لئے ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور آپ کو اس کی تبلیغ کا مامور فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

1 ؎ (سبح) تو تسبیح کر ۔ تو پاکیزگی بیان کر ، تو عبادت کر ۔ تسبیح سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ( سبح) کا لفظ قرآن کریم میں 13 بار ذکر کیا گیا ہے مثلاً سورة آل عمران کی آیت 41 ، سورة الحجر کی آیت 98 ، سورة طہٰ کی آیت 130 ، سورة الفرقان کی آیت 58 ، سورة غافر کی آیت 55 ، سورة ق کی آیت 39 ، سورة الطور کی آیت 48 ، سورة الواقعہ کی آیت 74 ، 96 ، سورة الحاقہ کی آیت 52 ، سورة الاعلیٰ کی آیت اول ، سورة النصر کی آیت 3 میں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! اپنے لیے پروردگار کی پاکیزگی بیان کرو اور پاکیزگی بیان کرنے کے متعل ہم قبل ازیں بیان کرچکے ہیں کہ لوگوں نے جو عیوب اللہ رب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Ruling [ 1] Scholars have ruled that when anyone recites the verse: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (Pronounce the purity of the name of your most exalted Lord...87:1) it is commendable to say: سُبحانَ رَبِِّیَ الْأَعْلَى 'I pronounce the purity of my most exalted Lord.' This was the practice of all the noble Companions, like Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbaa, Ibn ` Umar, Ibn Zubair, Abu Musa and ` Abdullah Ibn Masud ؓ Whenever they started reciting the Surah, they would recite: سُبحانَ رَبِِّیَ الْأَعْلَى 'I pronounce the purity of my most exalted Lord.' [ Qurtubi ]. It should be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 Literally: "Purify the name of your Lord, the Highest." This can have several meanings and all are implied: (1) Allah should be remembered by the names which fit Him, and no such name should be used for His exalted Being which, with regard to its meaning and sense, does not fit Him, or which reflects some aspect of deficiency, lack of reverence, polytheism about Him, or which refers to some wrong belief in respect of His Being, attributes, or works. For this purpose, the safest way is that only such names be used for Allah, which He himself has mentioned in the Qur'an, or which are a…

Read the full tafseer →