Explained with ayahs 11–17
صداقت قرآن کا ذکر
رجع کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہوجائیں سورج چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں اے نبی تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31۔…
Read the full tafseer →سورة الطَّارِق 10
یعنی انہیں ذرا مہلت دو کہ جو کچھ یہ کرنا چاہیں کر دیکھیں۔ زیادہ مدت نہ گزرے گی کی نتیجہ ان کے سامنے خود آجائے گا اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ میری تدبیر کے مقابلہ میں ان کی چالیں کتنی کار گر ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
انہ لقول فصل، یعنی قرآن کریم ایک فیصلہ کن قول ہے جو حق و باطل میں فیصلہ کرتا ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔
حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ قرآن کے متعلق فرمایا کتاب فیہ خبر ما قبلکم وحکم ما بعد کم وھو الفصل لیس بالھزل یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلی امتوں کے حالات واخبار ہیں اور تمہارے بعد آنیوالوں کے لئے احکام ہیں وہ فیصلہ کن قول ہے ہنسی مذاق نہیں۔
تمت سورة الطارق بحمد اللہ تعالیٰ 71 شوال 9131
Read the full tafseer →یعنی جب یہ ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کے گھیرے میں ہیں تو خواہ ان کو کتنی ہی ڈھیل ملے اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ یہ خدا کی گرفت سے باہر نکل جائیں گے، تو تم بھی ان کو ڈھیل ہی دو۔ یعنی ان کے طعنوں اور مطالبات سے تنگ آ کر یہ تمنا نہ کرو کہ اب ان کو کوئی نشانئ عذاب دکھا ہی دی جائے یا سرے سے ان کا قصہ ہی پاک کر دیا جائے۔
’اَمْہِلْہُمْ رُوَیْدًا‘۔ یہ اوپر کے ٹکڑے ہی کی وضاحت ہے کہ اس ڈھیل سے یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی غیر محدود مدت کے لیے ان کو ڈھیل دی جائے بلکہ بس ذرا سی ان کی رسی دراز کر دی جائے تاکہ جو کلیلیں یہ کرنی چاہتے ہیں کر لیں بالآخر تو ان کو اپنے انجام سے دوچار ہونا ہی ہے۔
یہاں کلام کا یہ…
Read the full tafseer →17۔ 1 یعنی ان کے لئے جلدی عذاب کا سوال نہ کر بلکہ انہیں کچھ مہلت دے دے۔
Read the full tafseer →4: یعنی ابھی ان کافروں کو سزا دینے کا وقت نہیں آیا۔ اس لیے ان کو فی الحال اپنی حالت پر چھوڑ دو جب وقت آئے گا تو اللہ تعالیٰ ان کو خود اپنی پکڑ میں لے لے گا۔
Read the full tafseer →فمھل ................ رویدا (17:86) ” پس چھوڑ دو اے نبی ان کافروں کو ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو “۔ جلدی نہ کرو ، اس معرکے کا انجام دور نہیں ہے۔ آپ نے اس معرکے کی حقیقت کو دیکھ لیا ہے ، ان لوگوں کو ذرا سی مہلت بھی ایک بڑی حکمت کے تحت دی جارہی ہے ، اور یہ مہلت قلیل ہی ہے۔ اگرچہ تمہاری پوری زندگی اس میں لگ جائے اس لئے انسانوں کو جو عمر اس دنیا کے لئے دی گئی ہے ، وہ تو قلیل ہی ہے۔
انداز تعبیر محبت بھرا ہے ، اللہ تعالیٰ رسول اللہ سے فرماتا ہے کہ آپ ان کو مہلت دے دیں۔
فمھل…………رویدا (17:86) ” آپ ان کافروں کو مہلت دے دیں ایک تھوڑے وقت کے لئے “۔ گویا نبی ﷺ کے ہاتھ میں ہیں۔ گویا مہلت دینا آپ کے اختیارات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
10 یعنی منکرین داؤ پیچ کرتے رہتے ہیں کہ شکوک و شبہات ڈال کر یا اور کسی تدبیر سے حق کو ابھرنے اور پھیلنے نہ دیں۔ اور میری تدبیر لطیف بھی (جس کا انہیں احساس نہیں) اندر اندر کام کر رہی ہے کہ ان کے تمامی مکرو کید کا جال توڑ پھوڑ کر رکھ دیا جائے اور ان کے سب داؤ پیچ ان ہی کی طرف واپس کئے جائیں۔ اب خود سوچ لو کہ اللہ کی تدبیر کے مقابلہ میں کسی کی چالاکی اور مکاری کیا کام دے سکتی ہے لا محالہ یہ لوگ ناکام اور خائب و خاسر ہو کر رہیں گے۔ اس لئے مناسب ہے کہ آپ ان کی سزا دہی میں جلدی نہ کریں اور ان کی حرکات شنیعہ سے گھبرا کر بد دعا نہ فرمائیں بلکہ تھوڑے دن ڈھیل دیں پھر دیکھیں نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 17{ فَمَہِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْہِلْہُمْ رُوَیْدًا۔ } ”تو آپ ان کافروں کو ذرا مہلت دے دیجیے ‘ تھوڑی دیر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے !“
ابتدائی مکی دور کی سورتوں میں حضور ﷺ کے لیے یہ ہدایت بہت تکرار کے ساتھ آئی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے لیے جلدی نہ کریں ‘ ان کے بارے میں تھوڑی دیر انتظار کریں : { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْط } الاحقاف : 35 ”تو اے محمد ﷺ ! آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول علیہ السلام صبر کرتے رہے ہیں اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے !“ اس دور میں چونکہ مشرکین ِمکہ ّنے اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا تھا ‘ اس لیے ان آیات…
Read the full tafseer →13 یعنی آپ تھوڑی مدت مزید صبر سے کام لیجیے۔ کچھ زیادہ مدت نہ نہ گزرنے پائے گی کہ ان لوگوں کی کرتوتوں کا انجام سب کے سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
6۔ (اور نہ ان کی مخالفت سے گھبرائیے، اور نہ ان کے جلد ہی معذب ہونے کی کوشش کیجئے) (آیت) ” ان یکیدون کیدا “۔ یعنی یہ حق کی مخالفت میں ہر طرح کا زور لگا رہے اور ساری ہی چالیں چل رہے ہیں۔ (آیت) ” و اکیدکیدا “۔ یعنی ادھر سے خدائی تدبیریں انکے انتقام و عقوبت کی ہورہی ہیں۔ کید پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں، حق تعالیٰ کی جانب منسوب ہو کر جب یہ لفظ آتا ہے، تو مراد ہوتی ہے، معاندین کی چالوں کو الٹ دینے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
انھم یکیدون کیداً یعنی یہ کفار قرآنی دعوت کو شکست دینے کے لئے طرح طرح کی چالیں چل رہے ہیں، اپنی پھونکوں سے اس چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں، ہر قسم کے شبہات لوگوں کے دلوں میں ڈال رہے ہیں، ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر اس کے پیش کرنے والے نبی ﷺ پر لگا رہے ہیں تاکہ دنیا میں اس کی بات چلنے نہ پائے اور کفر و جہالت کی وہی تاریکی چھائی رہے جسے وہ چھانٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور خدا بھی ایک تدبیر کر رہا ہے کہ ان کی کوئی تدبیر اور مکر چلنے نہ پائے اور وہ نور پھیل کر رہے جسے یہ بجھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →فمھل الکفرین . تم بھی کافروں کو مہلت دو یعنی ان سے انتقام لینے میں مشغول نہ ہو ‘ یا بددعا کر کے ان کے ہلاک کیے جانے کی فوری طلب نہ کرو۔ اوّل مطلب پر یہ آیت قتال والی آیت سے منسوخ قرار دی جائے گی۔
امھلھم . یہ حکم مہلت کی تاکید ہے مَھِّل (باب تفعیل) اَمْھِلْ (باب افعال) میں لفظ کا تغیر محض
تحسین لفظی یا تسکین کے لیے ہے۔
رویدا . کسی قدر رویدًا کا معنی ہے اروادًا یعنی قدرے مہلت دینا ‘ یا روید ‘ ارواد کی تصغیر
ہے۔ اس میں تصغیر ترخیم ہے یعنی حروف زوائد حذف کرنے کے بعد تصغیر کی گئی ہے۔ اس کا مادہ رَوْدٌ ہے رَوْدٌ آہستہ حرکت کرنا۔ رادت الریح : ہوا آہستہ آہستہ چلی۔
بغیر تصغیر کے اس کا استعمال عربی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
(14۔ 17) اور کوئی لغو چیز ہیں۔ یہ مکہ والے لوگوں کو اسلام سے روکنے کی یا یہ کہ دار الندوہ میں آپ کو نقصان پہنچانے کی تدابیر کر رہے ہیں اور میں بھی بدر کے دن ان کو تہ تیغ کرنے کی تدبیر کر رہا ہوں، تو آپ ان کافروں کو بدر تک یوں ہی چھوڑ دیجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(انھم یکیدون کیداً …:”رویداً“ مختار الصحاح میں ہے : ”فلان یمشی علی رود بوزن عود ای علی مھل و تصغیرہ روید“ یعنی ”روید“ ”رود“ بروزن ”عود“ کی تصغیر ہے جس کا معنی مہلت ہے۔ گویا ”رویداً کا معنی تھوڑی سی مہلت ہے۔ آیت میں یہ ”امھلھم“ کے مصدر محذوف ”مھالا“ کی صفت ہے۔ یہ لوگ قیامت کو جھٹلانے اور حق کو مٹانے کے لئے خفیہ تدبیریں کر رہے ہیں اور میں خفیہ طور پر ان کے توڑ کے لئے ان سے بھی بڑی تدبیر کر رہا ہوں۔ آپ نہ ان کی مخالفت سے گھبرائیں، نہ جلد عذاب کی دعا کرئیں اور میرے کہنے پر انہیں تھوڑی سی مہلت دیں، آخر انہوں نے میرے ہی پاس آنا ہے، پھر میں جانوں اور یہ جانیں۔
Read the full tafseer →فمھل الکافرین امھلھم رویدا۔
یعنی کفار کو مہلت دیں اللہ تعالیٰ سے ان کی جلد ہلاکت کا سوال نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں جو تدبیر فرماتا ہے اس پر راضی ہوجائیں، پھر یہ آیت فاقتلوالمشرکین حیث وجدتموہم، توبہ 5) مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو قتل کردو، سے منسوخ کردی گئی۔ امھلھلم یہ تاکید ہے دونوں کا معنی ایک ہے جس طرح نزل اور انزل کا معنی ایک ہے امھلہ یعنی اسے مہلت دیجئے، اس کا اسم مھلہ ہے استمھال کا معنی الاستنظار ہے، تمھل فی امرہ، یعنی اس امر میں آہستگی کارویہ اپنایا، اتمھل اتمھلال، اعتدال کا مظاہرہ کیا، اس کا معنی سکون اور شگفتگی بھی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، مھلایافلان، اے فلان، نرمی اور سکون سے…
Read the full tafseer →11۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ لقول فصل بیشک قرآن قطعی بات ہے۔ بلاشبہ یہ قول حق ہے آیت وما ہو بالہزل اور وہ ہنسی کی بات نہیں ہے۔ یعنی یہ جھوٹی بات نہیں ہے آیت امہلہم رویدا تھوڑے دنوں کی مہلت یعنی آپ ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجیے۔
12۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمہل الکفرین امہلہم رویدا پس کافروں کو تھوڑے دنوں کی مہلت دیدوں یعنی ان کو مہلت دے دو یہاں تک کہ میں ان سے لڑنے کا حکم کروں۔
13۔ ابن ابی شیبہ والدارمی والترمذی ومحمد بن نصر وابن الانبار نے المصاحف میں الحارث الاعور (رح) سے روایت کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگ احادیث کے بارے میں عیب اور…
Read the full tafseer →[فَمَــهِلِ الْكٰفِرِيْنَ : تو آپ ﷺ ڈھیل دیتے رہیں کافروں کو ][ اَمْهِلْهُمْ : (یعنی) آپ ﷺ مہلت دیں ان کو ] رُوَيْدًا : غیر محسوس طریقہ سے ]
مَھِّلْ باب تفعیل کا فعل امر ہے جس میں کام کو تدریحاً اور تسلسل سے کرنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا مطلب ہے تُو ڈھیل دیتا رہ۔ جبکہ باب افعال میں تدریج اور تسلسل کا مفہوم نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کے فعل امر اَمْھِلْ کا مطلب ہے تُو مہلت دے۔
نوٹ 3: آیت 17 ۔ میں کافروں کو مہلت دینے کی وجہ مفسرین نے یہ بتائی ہے کہ یہ لوگ اللہ سے بچ کر کہیں جا تو سکتے نہیں، اس لیے ان کو مہلت دو تاکہ یہ لوگ جو کرنا چاہتے ہیں وہ کرلیں اور ان پر اتمام حجت ہوجائے۔ آخرکار اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
﴿وَّ اَكِيْدُ كَيْدًاۚۖ0016﴾ (اور میں طرح طرح کی تدبیریں کرتا ہوں) ان لوگوں کی تدبیروں کا کاٹ مجھے معلوم ہے ان کی تدبیریں فیل ہوں گی میری تدبیر غالب آئے گی۔ ﴿ فَمَهِّلِ الْكٰفِرِيْنَ ﴾ (سو کافروں کو چھوڑیئے) یعنی ان کی حرکتوں سے غمگین نہ ہوجایئے۔ ﴿اَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا (رح) 0017﴾ (انہیں تھوڑے دنوں کے لیے مہلت دیجئے) ۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ غمگین نہ ہوں آپ اپنا کام کرلیجئے تھوڑے دنوں بعد ہم ان پر عذاب نازل کریں گے، ہر کافر کو موت کے بعد عذاب تو ہونا ہی ہے۔ موت سے پہلے بھی عذاب ہوسکتا ہے جیسا کہ قریش مکہ غزوہٴ بدر میں مبتلائے عذاب ہوئے۔
وھذا آخر سورة الطارق والحمد للہ العلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔
(ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →8:۔ ” فمہل الکفرین “ یہ تخویف ہے ایسے شواہد و بیانات کے باوجود وہ نہیں مانتے۔ وہ ضدی اور معاند ہیں، ان سے ایمان کی توقع نہ رکھیے، نہ ان سے انتقام لینے میں عجلت سے کام لیجیے بلکہ ان کو مہلت دیجئے وقت آنے پر ہم خود ان سے انتقام لے لیں گے۔ چناچہ دنیا میں میدان بدر کے معرکہ میں ان سے انتقام لیا گیا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ دردناک اور ہولناک ہوگا۔ قال ابن عباس ھذا وعید من اللہ عز وجل قد اخذہم اللہ یوم بدر۔ (مظہری ج 10 ص 242) ۔
سورة الطارق ختم ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے )
ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔
(دیگر معانی )
عربی زبان میں…
Read the full tafseer →فَمَــہِّلِ الْكٰفِرِيْنَ اَمْہِلْہُمْ رُوَيْدًا 17 ۧ
مهل
المَهْل : التُّؤَدَةُ والسُّكونُ ، يقال : مَهَلَ في فعله، وعمل في مُهْلة، ويقال : مَهْلًا . نحو : رفقا، وقد مَهَّلْتُهُ : إذا قُلْتَ له مَهْلًا، وأَمْهَلْتُهُ : رَفَقْتُ به، قال : فَمَهِّلِ الْكافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْداً
[ الطارق/ 17] والمُهْلُ : دُرْدِيُّ الزَّيْت، قال : كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ [ الدخان/ 45] .
( م ھ ل ) المھل
کے معنی حلم و سکون کے ہیں ۔ اور مھل فی فعلہ کے معنی ہیں اس نے سکون سے کام کیا اور مھلا کے معنی رفقا کے ہیں یعنی جلدی مت کرو ۔ مھلۃ کسی کو مھلا کہنا اور امھلتہ کے معنی کسی کے ساتھ نرمی سے پیش آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
ترکیب ¦ یوم منصوب برجعہ وقیل بقادر وقیل العامل مقدر ای یرجعہ اواذکر فیکون مفعولا بہ والسرائر جمع سریرۃ والسر جمعہ اسرار وھو الذی یکتم والابتلا الاختبار والا متحان قال ابو مسلم بلوث یقع علے اظہار الشی وعلے امتحانہ والسماء الوا بہ للقسم ذات الرجع صفتہ للسما قال الزجاج الرجع المطر لانہ یجی ویرجع ویتکرر وقال الخلیل الرجع المطرنفسہ والرجع نبات الربیع وقال الواحدی الرجع المطر فی قول المفسرین وقال ابن زید الراجع الشمس والقمر والنجوم یرجعن فی السماء تطلع من ناحیتہ وتغیب فی ناحیتہ وقال القفال معناہ ذات ( ؟ ؟ ؟ ؟ ) وقال ابن عباس الرجع المطر والارض معطوف علے السماء ذات الصدع صفتہ للارض الصدع ہوالشق قال…
Read the full tafseer →فَمَھِّلِ الْـکٰفِرِیْنَ اَمْھِلْہُمْ رُوَیْدًا۔ (الطارق : 17)
(پس اے پیغمبر ! ان کافروں کو مہلت دے دیجیے اور ذرا سی ذرا ان کو چھوڑ دیجیے۔ )
چونکہ یہ لوگ ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے گھیرے میں آچکے ہیں۔ ان کو جتنی بھی مہلت دی جائے یہ اس گھیرے سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ وہ ہزار سمجھتے رہیں کہ ہم اپنی کارروائیوں میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم نے اسلام کا ناطقہ بند کردیا ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ تو جب صورتحال یہ ہے کہ تو آپ ﷺ کافروں کو ڈھیل دے دیجیے۔ یعنی وہ آپ ﷺ کو طعنے دیں، مطالبات سے پریشان کریں، اذیت رسانی سے مسلمانوں کا جینا مشکل کردیں، آپ ﷺ کسی بات سے متأثر ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
فہم القرآن
ربط کلام : جس خالق نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ ہر صورت اسے قیامت کے دن اٹھا کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بات فرما کر زمین و آسمان کی قسم اٹھائی ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے اور قسم ہے اس زمین کی جو پھٹ جاتی ہے کہ ” اللہ “ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ کوئی بےمقصد بات نہیں ہے۔ یہاں تک جو لوگ تدبیریں اور سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم بھی تدبیر کرنے والے ہیں اور ہماری تدبیر کے مقابلے میں کسی کی تدبیر اور سازش اسے فائدہ نہیں دے سکتی لہٰذا کفار کو تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اس مقام پر آسمان کے لیے ” ذات الرجع “ اور زمین کے لیے ” ذَات…
Read the full tafseer →17 : فَمَھِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْھِلْہُمْ رُوَیْدًا (تو آپ ان کافروں کو یونہی رہنے دیجئے۔ ان کو تھوڑے دنوں رہنے دیجئے) فمھل الکافرین ان کی ہلاکت کی دعا نہ کریں اور نہ ان کے سلسلے میں جلد بازی کریں۔ امھلھم ان کو مہلت دیں۔ یہ لفظ دوبارہ لائے تاکہ تسکین و تصبیر زیادہ ہو۔ رویدًا مہلت دینا معمولی۔ یہ لفظ چھوٹائی کو ظاہر کرنے کیلئے بولا جاتا ہے۔ یہ رادت الریح ترود رودًاسے ہے۔ جس کا معنی ہوا آہستہ آہستہ چلی۔
Read the full tafseer →17 ۔” فمھل الکافرین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو وعید ہے۔
” املھلھم رویدا “ تھوڑی سی اور ” مھل “ اور ” امھل “ کا معنی آپ انتظار کریں اور جلدی نہ کریں۔ پھر ان کو بدر کے دن پکڑا اور ” امھال “ کو آیت سیف کے ذریعے منسوخ کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ رجع سے مراد بارش ہے چناچہ حاکم کی روایت میں صحیح سند سے یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ثابت ہوا ہے۔ اسی واسطے امام بخاری نے صحیح 1 ؎ بخاری کی کتاب التفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد کی روایت سے اس قول کو لیا ہے ترجمہ میں چکر مارنے والا آسمان جو ترجمہ کیا گیا ہے سلف میں سے یہ قول عبد الرحمن بن زید بن اسلم تبع تابعی کا ہے ان عبد الرحمن نے تفسیر کی روایات اپنے باپ زید بن اسلم کوفی سے لی ہیں یہ زید بن اسلم مشہور مفسر اہل مدینہ میں سے ہیں لیکن عبد الرحمن کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے غرض یہ قول پہلے قول کے مرتبہ کا نہیں ہے…
Read the full tafseer →( فَمَــهِّلِ الْكٰفِرِيْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا) یعنی کافروں کو تھوڑی سی مہلت دو ، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپٹ میں لے لے گا تو انہیں اپنے انجام کا علم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →(13) ہٹ دھرم منکرین سے بےاعتنائی برتنے کی ہدایت : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ہٹ دھرم منکرین سے بےاعتنائی برتنے کی ہدایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " پس تم چھوڑ دو ان کافروں کو " یعنی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، ان کا معاملہ ہمارے حوالے کردو، اور ان کی وجہ سے غم نہ اٹھاؤ کہ اپنے کفر و انکار کی وجہ سے یہ لوگ دائمی ہلاکت و تباہی کی جس راہ پر چلے جارہے ہیں وہ ان کے لیے کافی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّی عَن ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ إِلَّا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا ( ، النجم 29 پ 27) یعنی " منہ موڑ لو ہر ایسے شخص سے جو پھر گیا ہماری یاد سے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
قرآن کی سچائی اور کامیابی کی خوشخبری
تشریح : یہاں آسمان کی یہ ڈیوٹی کہ بارش برساتا ہے اور زمین کا یہ فرض کہ نباتات کو اگاتی ہے (اللہ کے حکم سے) تو یہ دونوں کام ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ معمول کا کام ہے مگر غور و فکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کس قدر عجیب و غریب ' مشکل اور انسان کی قدرت سے باہر کام ہے۔ تو ان دونوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ قرآن پاک بڑی محکم ' مقدس اور سچی کتاب ہے اس کا ہر ہر لفظ ہر ہر مضمون اور ہر ہر بات اسی طرح حقیقت پر مبنی ہے جس طرح تم یہ تمام مظاہر قدرت دیکھ رہے ہو۔ تو اس قرآن حکیم میں دی گئی یہ خبر ہے کہ کفار کی تمام تدبیریں دھری رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔
آیات 1 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔
حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی عنقریب وہ اپنی خفیہ سازشوں اور اسکیموں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے لہٰذا آپ گھبرائیں نہیں بلکہ صبر و ہمت سے دعوت کا کام جاری رکھیں۔
Read the full tafseer →(86:17) فمہل الکفرین۔سببیہ ہے مہل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تمہیل (تفعیل) مصدر۔ تو مہلت دے۔ یعنی چونکہ میں خود ان سے نپٹ رہا ہوں جب چاہوں گا ان کی کرتوتوں کا ان کو مزہ چکھا دوں گا آپ ان کافروں کو ذرا مہلت دیں ان کی ہلاکت کے لئے بددعا نہ کریں۔ اور ان کی فوری سزا یابی کے لئے پریشان نہ ہوں۔
امہلہم رویدا۔ یہ پہلے حکم مہلت کی تاکید ہے۔ مہل اور امہل دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ محض تغیر لفظی ہے۔
رویدا تھوڑی سی مہلت۔ اسم فعل ہے۔ ابن خالویہ کہتے ہیں یہ اصل میں اردادا ہے۔ یہ رویدا اس کی تصغیر ہے۔ رویدا کے معنی مہلت دینے اور ٹھہرنے کے ہیں کہا جاتا ہے امش مشیا رویدا۔ آہستہ چل۔ جلدی نہ کر۔
علامہ سیوطی (رح) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔
الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔
اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 4) ان سب کی قسم کہ قرآن قول فیصل وحکم الٰہی ہیے یہ قران باطل و خرافات نہیں یہ قرآن دنیا میں نیک راستہ بتلانے اور بدی سے روکنے اور عقبی میں جزا وسزا کی خبر سنانے کا ایک فیصلہ قطعی ہے اگر یہ لوگ قرآن کو جھٹلائیں تو تھوڑے دنوں تک ان سے درگزر کی جائے کوئی مکروفریب تو ان لوگوں کو قرآن سے روکنے میں اللہ کی تدبیر کے آگے نہیں چل سکتا بلکہ تھوڑے دنوں کے بعد اللہ کی تدبیرکا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، چناچہ نبی ﷺ کی حیات میں ہی کچھ قرآن کے مخالف لوگ ذلت و خواری سے ہلاک ہوگئے اور اکثر قرآن کے حامی بن گئے۔
Read the full tafseer →[11] کہ یہ جو کچھ کرنا چاہیں کر دیکھیں انہیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ ہماری تدبیر کے مقابلے میں ان کی چالیں کتنی کارگر ہوئیں چناچہ جنگ بدر میں ایسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
ف 1: والسماء ذات الرجع سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل واشگاف طور پر موجود تھی کہ بخارات سمندر سے اٹھتے ہیں اور اس کے بعد یہی بخارات ابر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر یہی برستے ہیں ۔ اسی لئے اس کو ذات الرجع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ایسے ابر جو اس امانت کو جو انہوں نے سمندروں سے لی ہے ۔ پھر سمندروں کو لوٹا دیتے ہیں ۔
زمین کو بھی تمثیل میں پیش کیا ہے ۔ جس میں سبزیاں نکلتی ہیں اور وہ پھٹ جاتی ہے ۔ وجہ تشبیہہ یہ ہے کہ جس طرح ابر برستا ہے اور کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور جس طرح زمین بوقلمون سبزیوں کو اگلتی ہے ، اسی طرح قرآن فیضان الٰہی ہے اور اس سے دلوں کے کھیت شگفتہ و شاداب…
Read the full tafseer →(17) سو اے پیغمبر آپ ان کو مہلت دیجئے ان کو ان کی حالت پر اور تھوڑے دنوں کی مہلت دیجئے - یعنی جب میں ان کی تمام تدابیر اور مکروفریب کا توڑ کررہا ہوں تو آپ گھبرائیے نہیں اور عذاب طلب کرنے میں تعجیل نہ کیجئے اور ان کے معذب ہونے کی خواہش میں عجلت نہ کیجئے بلکہ ان کو یوں ہی رہنے دیجئے اور زیادہ دنوں کے لئے نہیں بلکہ تھوڑے دنوں کے لئے ان کو اور مہلت دے دیجئے پھر وقت آنے پر ان کو عذاب دیا جائے گا خواہ وہ دنیوی عذاب ہو اور سا کا وقوع قبل الموت ہو یا عذاب اخروی ہو اور بعد الموت ہو۔
بہرحال پیغمبر کو تسلی دی اور کفار کو وعید سنائی۔
تم تفسیر سورة الطارق
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 1۔ جس طرح قرآن اپنی دلالت سے واقعات وغیرہ واقعیات میں فیصلہ کردینے والا ہے اسی طرح اپنی صفت اعجاز سے ان دو احتمالوں کا بھی کہ یہ منجانب اللہ ہے یا نہیں فیصلہ کردینے والا ہے اور منجانب اللہ ہونے کی شق کو متعین کردینے والا ہے۔ اور اخیر کی قسم کو اخیر کے مضمون سے یہ مناسبت ہے کہ قرآن آسمان سے آتا ہے اور جس میں قابلیت ہوتی ہے اس کو ہدایت وسعادت سے مالا مال کرتا ہے، جیسے بارش آسمان سے آتی ہے، اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے۔
Read the full tafseer →پس آپ ﷺ کافروں کو تھوڑی سی مہلت دے دیں ، کچھ دیر کچھ نہ کہیں
17 ؎ (مھل) واحد مذکر امر حاضر تمھیل مصدر باب تفعیل مہلت دے۔ یہ بات پیغمبر اسلام ﷺ کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! ہمارے قانون نے ان کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے آپ ﷺ اس کی فکر نہ کریں کہ یہ لوگ اپنے کیے کے نتیجہ سے دو چار نہیں ہوں گے کیوں نہیں ضرور دو چار ہوں گے لیکن ابھی ان کو اپنے سارے ارمان نکال لینے دیں اور ان کی تکلیف رسانیوں پر صبر کریں اگر یہ لوگ اس طرح اپنے ارمان پورے نہ کرتے تو آپ لوگوں کو اجر وثواب کس چیز کا ملتا ؟ آپ اپناکام کرتے جائیں ان کو ہمارے قانون کے سپرد رہنے دیں ہم ان سے نمٹ لیں گے اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (this is a decisive word..86:13) In other words, the Qur'an is truly a Decisive Word that decides between truth and falsehood, and there is no room for any doubt in it.
Sayyidna ` Ali ؓ says that he heard the Holy Prophet ﷺ as saying about the Holy Qur'an:
کتاب فیہ خبرما قبلکم و حکم مابعدکم وھو الفصل لیس بلھزل
'[ It is ] a book which describes the stories of past communities and [ it contains ] injunctions for future generations. It is truly a Decisive Word. It is no joke.'
Alhamdulillah
The Commentary on
Surah At-Tariq
Ends here
Read the full tafseer →10 That is, "Leave them for a while to have their will. Before long the result will be before them and they will realize how far their scheming has become successful against My plan.
Read the full tafseer →