Ayah 87:1یہاں سے سورة الاعلیٰ شروع ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح بیان کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی چند صفات بیان فرمائی ہیں، سب سے پہلے الاعلیٰ فرمایا یعنی برتر اور بلند تر حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے بیان فرمایا کہ جب آیت ﴿فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (رح) 0074﴾ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اجعلوھا فی رکوعکم) (کہ رکوع میں جاؤ تو اس پر عمل کرو) پھر جب ﴿ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ001﴾ (نازل ہوئی تو فرمایا کہ سجدہ میں جاؤ تو اس پر عمل کرو) یعنی رکوع میں ﴿سُبْحَانَ رَبِیَّ الْعَظِیْم﴾ كہو اور سجدہ میں ﴿سُبْحَانَ رَبِیَّ الْاَعْلٰی﴾ كہو۔ (رواہ ابو داؤد)
الْاَعْلَى کا معنی ہے خوب زیادہ بلند اور برتر، یہ پروردگار عالم جل مجدہ کی صفت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد دوسری صفت بیان فرمائی۔
Ayahs 87:2–4﴿الَّذِيْ خَلَقَ﴾ (جس نے پیدا فرمایا) اور تیسری صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ فَسَوّٰىۙ002﴾ (کہ اس نے بالکل ٹھیک بنایا) اور چوتھی صفت بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْ قَدَّرَ ﴾ (اور جس نے جانداروں کے لیے ان کے مناسب حال چیزوں کو تجویز فرمایا۔
﴿فَهَدٰى ۪ۙ003﴾ (پھر ان جانداروں کو راہ بتائی) یعنی ان کی طبیعتوں کو ایسا بنا دیا کہ وہ ان چیزوں کو چاہتی ہیں، جو ان کے لیے تجویز فرمائی ہیں۔ معالم التنزیل صفحہ 475: ج 4 میں ﴿وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى﴾ کی تفسیر میں اور بھی چند اقوال لکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ انسان کو خیر اور شر کا سعادت و شقاوت کا راستہ بتایا اور ایک معنی یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق کو مقدر فرمایا پھر انسانوں کو رزق کے کمانے اور حاصل کرنے کے طریقے بتائے اور ایک قول یہ ہے کہ اشیاء میں منافع پیدا فرمائے پھر انسان کو ان سے مستفید ہونے کے طریقے بتائے۔ پانچویں صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰىۙ004﴾ (اور وہ ذات جس نے چارہ نکالا) ۔ اس چارہ کو انسانوں کے جانور کھاتے ہیں، پھر یہ جانور اس سے حاصل شدہ طاقت اور توانائی سے انسانوں کی خدمات بجا لاتے ہیں۔
Ayah 87:5﴿فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ005﴾ (پھر اسے سیاہ کوڑا بنا دیا) یعنی زمین سے جو چارہ نکلتا ہے اس میں سے بہت سا تو مویشی کھالیتے ہیں اور بچا کھچا جو رہ جاتا ہے وہ کوڑا کرکٹ بن جاتا ہے جو پڑے پڑے کالا ہوجاتا ہے۔
Ayahs 87:6–9﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ006﴾ (ہم آپ کو قرآن پڑھائیں گے سو آپ نہیں بھولیں گے) ۔
اس میں وعدہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوچکا ہے اور اس کے بعد مزید نازل ہوگا آپ اس قرآن کو بھولیں گے نہیں، یہ وہ ہی مضمون ہے جسے سورة ٴ قیامہ کی آیت کریمہ ﴿ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ0017﴾ میں بیان فرمایا ہے ﴿ اِلَّا مَا شَآء اللّٰهُ ﴾ (مگر اللہ جو چاہے) اس میں یہ بتادیا کہ آپ پر جو وحی آئے اس میں سے آپ بعض چیزوں کو بھول جائیں گے اور آپ کا یہ بھولنا ہماری مشیت سے ہوگا حکمت کے مطابق ہوگا اس میں منسوخ التلاوۃ اور منسوخ الحکم دونوں کو بیان فرما دیا، سورة ٴ بقرہ میں فرمایا ہے : ﴿ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا ﴾ (ہم کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں) ۔
﴿اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰىؕ007 ﴾ (بلاشبہ وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور چھپی ہوئی چیزوں کو بھی، یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر حالت کا اور بندوں کی ہر مصلحت کا علم ہے ظاہر ہو یا پوشیدہ ہو، وہ اپنے علم کے موافق اور حکمت کے مطابق قرآن کا جو حصہ چاہے بھلا دے گا۔ (اور ہم آسان شریعت کے لیے آپ کو سہولت دیں گے) ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے وعدہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو جو شریعت دی ہے اس پر عمل کرنے کے لیے اور اس کو بھلانے کے لیے آپ کو سہولت دیں گے۔
الیسرٰی : آسان کے معنی میں ہے اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین ﷺ کو شریعت دی ہے اس پر عمل کرنا سہل اور آسان ہے، کوئی حکم ایسا نہیں ہے جو بندوں کی استطاعت سے باہر ہو یا اس کی ادائیگی میں بہت مشقت برداشت کرنی پڑتی ہو، مریض آدمی اگر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر رکوع سجدہ کے ساتھ ادا کرلے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اشارہ سے اور اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کی نماز پڑھ لے۔
زکوٰۃ بھی صاحب نصاب پر فرض ہے جو کچھ واجب ہوتا ہے وہ بھی بہت تھوڑا سا ہے یعنی کل مال کا چالیسواں حصہ اور وہ بھی چاند کے حساب سے نصاب پر ایک سال گزر جانے کے بعد اسی طرح حج بھی ہر شخص پر فرض نہیں ہے۔
جس کے پاس مکہ معظمہ سواری سے آنے جانے کی استطاعت ہو سفر خرچ ہو۔ بال بچوں کا ضروری خرچہ بھی پیچھے چھوڑ جانے کے لیے ہو ایسے شخص پر حج فرض ہوتا ہے وہ بھی زندگی میں ایک بار۔
رمضان میں مریض اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانے والی کے لیے آسانی رکھ دی گئی ہے کہ رمضان میں روزہ نہ رکھے اور بعد میں اس کی قضاء کرلے (جس کی شرائط اور تفاصیل کتب فقہ میں مذکور ہیں) ۔
انہیں آسانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ شرعی مسافر کے ذمہ چار رکعت فرض والی نماز کی جگہ دو رکعت کی ادائیگی ذمہ کردی گئی ہے، دیگر احکام میں بھی جو آسانیاں ہیں وہ بھی عام طور پر مشہور و معروف ہیں۔
معالم التنزیل میں بعض حضرات سے ﴿ وَ نُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى ۚۖ008﴾ کی تفسیر یوں نقل کی ہے۔ ای نھون علیک الوحی حتی تحفظہ وتعلمہ یعنی ہم آپ کے لیے وحی کو آسان کردیں گے تاکہ آپ اسے یاد کرلیں اور دوسروں کو سکھا دیں۔ ﴿ فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى ؕ009﴾ (سو آپ نصیحت کیجئے اگر نصیحت نفع دے) بظاہر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نصیحت کرنا اسی صورت میں ہے جبکہ نفع مند ہو لیکن معالم التنزیل میں ہے کہ یہ من قبیل الاکتفاء ہے جس میں ایک چیز کے ذکر کرنے پر اکتفا کرلیا جاتا ہے اور اس کے مخالف دوسری صورت کو ترک کردیا جاتا ہے لہٰذا آیت کا معنی یہ ہوا۔ نفعت اولم تنفع۔ یعنی آپ نصیحت کیا کریں نفع دے یا نہ دے۔
ولم یذکر العالہ الثانیة کقولہ : سرابیل تقیکم الحر “ واراد الحر والبرد جمیعا اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ دوسری آیت میں ﴿ وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ 0055﴾ فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر نفع دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت نفع کی چیز ہے لہٰذا آپ نصیحت کیا کیجئے۔
وقد سنح قلبی احتمال آخر وھو ان تکون ان مخففة من المثقلة وقد حذف اسمھا، والمعنی انہ نفعت الذکریٰ ، واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 87:10–11پھر فرمایا : ﴿ سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى ۙ0010﴾ (وہ شخص نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے) ۔ ﴿ وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ0011﴾ (اور اس نصیحت سے وہ شخص پرہیز کرے گا جو بڑا بدبخت ہے) ۔
Ayah 87:12﴿ الَّذِيْ يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰى ۚ0012﴾ (جو بڑی آگ میں داخل ہوگا) ۔ اس سے دوزخ کی آگ مراد ہے جس آگ کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر درجہ زیادہ گرم ہے یعنی اگر دنیا والی آگ کی حرارت ستر بار جمع کرلی جائے تو اس سے جو حرارت کی ڈگری حاصل ہو وہ دوزخ کی آگ کی گرمی ہے۔
Ayah 87:13﴿ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى ؕ0013﴾ (پھر وہ دوزخ کی آگ میں نہ مرے گا نہ جیے گا) ۔ مرے گا تو اس لیے نہیں کہ وہاں موت آنی ہی نہیں ہے اور جیے گا اس لیے نہیں کہ وہ زندگی، زندگی کہنے کے قابل نہیں۔ بھلا وہ بھی کوئی زندگی ہے جو اتنی بڑی آگ میں گزر رہی ہو جس کا اوپر ذکر ہوا۔ سورة ٴ فاطر میں فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 1ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا 1ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ0036﴾ (اور کافروں کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ان سے اس کا عذاب ہلکا کیا جائے گا ہم اسی طرح ہر کافر کو سزا دیتے ہیں) ۔ آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ نصیحت حاصل کرنا انہیں لوگوں کا طریقہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، وہ جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر جیے اور مرے تو اس کا انجام برا ہوگا۔
Ayahs 87:14–15قیامت کے دن کافر ناکام ہوں گے دوزخ میں جائیں گے جنت سے محروم ہوجائیں گے ان کی ناکامی بتانے کے بعد ارشاد فرمایا : ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ0014 وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ0015﴾ (وہ شخص کامیاب ہوا جو پاک ہوا اور اس نے اپنے رب کا نام لیا پھر نماز پڑھی) پاک ہونے میں عقائد باطلہ شرکیہ اور بدعیہ سے اور برے اخلاق اور برے اعمال سے پاک ہونا سب داخل ہے۔ اس میں لفظ تزکی باب تفعل سے لایا گیا ہے۔ جو مشقت پر دلالت کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ نفس راضی ہوا یا نہ ہوا بہرحال پاکیزہ زندگی اختیار کی اور سب سے بڑا تزکیہ نماز کے اہتمام سے حاصل ہوتا ہے اس لیے ساتھ یہ بھی فرمایا۔ اس نے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی، نماز کا اہتمام کرنا برائی سے بچنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ سورة عنکبوت میں فرمایا ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ ﴾ (بلاشبہ نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے) ۔
واستدل بالآیة الکریمة الحنفیة علی ان لفظ التکبیر لیست بشرط فی التحریمة بل لو قال اللہ الاجل او الاعظم او الرحمن اکبر اجزاہ عندابی حنیفة كما ذکرہ صاحب الھدایہ۔
Ayahs 87:16–17﴿ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاٞۖ0016﴾ (بلکہ تم لوگ دنیا والی زندگی کو ترجیح دیتے ہو) ۔
پہلے تو انسانوں کی کامیابی اس میں بتائی کہ انسان اپنے نفس کو پاک صاف رکھے کفر و شرک سے بھی اور دوسرے گناہوں سے بھی اور نمازوں کا اہتمام کرے جو تزکیہ نفس کا بہت بڑا ذریعہ ہے اس کے بعد انسانوں کی ناکامی کا سبب بتایا اور وہ دنیا کو ترجیح دینا اور آخرت سے غافل ہونا ہے۔ بہت سے لوگ اسلام کو حق جانتے ہوئے دنیاوی عہدوں اور مال و جائیداد کی وجہ سے کفر و شرک میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ جو مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں وہ فرائض و واجبات تک کو دنیا داری اور دکان داری اور نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جبکہ مستحبات تک کا اہتمام کرنا چاہیے جس طرح فرائض و واجبات سے آخرت کے اجور اور رفع درجات سے تعلق ہے اسی طرح سنن و مستحبات سے بھی ہے، لوگ دنیا پر نظر رکھتے ہیں اور اس کے حقیر منافع کے لیے (حلال و حرام کا خیال کیے بغیر) آخرت کے اعمال کو چھوڑ بیٹھتے ہیں ﴿ وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ؕ0017﴾ (حالانکہ آخرت بہتر بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی) ۔ آخرت کا بہتر ہونا تو اسی سے سمجھ لیا جائے کہ ساری دنیا آخرت کے تھوڑے سے عمل کے سامنے بھی ہیچ ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا : لغدوة فی سبیل اللہ اور وحة خیر من الدنیا وما فیھا۔ (البتہ اللہ کے راستہ میں ایک صبح کو یا ایک شام کو چلا جانا ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے) ۔
فجر کی دو سنتوں کے بارے میں یہی فرمایا : رکعتا الفجر خیر من الدنیا وما فیھا کہ فجر کی دو سنتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔
یاد رہے کہ دنیا میں رہنا اور حلال کمانا اور حلال کھانا حلال پہننا اور حلال مال سے بیوی بچوں کی پرورش کرنا۔ یہ دنیاداری نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو تو اس سب میں بھی ثواب ہے، دنیا داری یہ ہے کہ آخرت سے غافل ہوجائے وہاں کام آنے والے اعمال کی طرف دھیان نہ دے اور دنیا ہی کو آگے رکھ لے اسی کے لیے مرے اور اسی کے لیے جیے گناہوں میں لت پت رہے۔
سورة القیامہ میں فرمایا : ﴿ كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ0020 وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ0021﴾ (بلکہ تم دنیا سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو) اور سورة الدھر میں فرمایا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ يَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيْلًا 0027﴾ (بےشک یہ لوگ دنیا سے محبت رکھتے ہیں اور اپنے آگے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں) ۔
Ayahs 87:18–19﴿اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ۙ0018 صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى (رح) 0019﴾ (بلاشبہ یہ ان صحیفوں میں ہے جو پہلے نازل کیے گئے جو ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفے تھے) ۔
مفسرین نے فرمایا ہے کہ ھٰذَا کا ارشاد ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ0014﴾ سے لے کر ﴿ وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ؕ0017﴾ تک جو مضامین بیان ہوئے ان سب کی طرف ہے۔
صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن مردویہ اور ابن عساکر نے حضرت ابوذر ؓ سے ایک حدیث نقل کی ہے جس کے آخر میں یہ ہے کہ انہوں نے خدمت عالی میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا ابراہیم اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے صحیفوں میں سے آپ پر کچھ نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا : ہاں اس کے بعد آپ نے ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ0014﴾ سے لے کر ﴿ وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ؕ0017﴾ تک آیات تلاوت فرمائیں۔
صاحب روح المعانی نے آخر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ : واللہ تعالیٰ اعلم بصحة الحدیث۔
بعض حضرات نے پوری سورة کے مضامین کو اور بعض حضرات نے مضامین قرآن کو ھذا کا مشار الیہ قرار دیا ہے۔ والعلم عند اللہ العلیم آیت کریمہ ﴿اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ0036 وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤىۙ0037﴾ اور ان کے بعد کی چند آیات کی تفسیر دیکھ لی جائے۔