87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 87:1

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

تسبیح کرو اپنے رب کے نام (پاک) کی جو سب سے بلند شان والا ہے

( 1) اپنے رب کے نام کی تسبیح کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تسبیح کرو اپنے رب کے نام کی " اور اس کی پاکی بیان کرو ہر نقص و عیب سے، ہر قسم کے شرک اور ہر شائبہ شرک سے، اور ہر اس صفت سے جو اس کی شان اقدس و اعلی کے لائق نہ ہو، کہ وہ ایسی ہر صفت اور اس طرح کے تمام شوائب و علائق سے پاک اور بالا و برتر ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ ( الصفت 180 پ 23) یعنی پاک ہے تمہارا رب جو کہ عزت کا مالک ہے ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ ( اسکے بارے میں بناتے ہیں، مسند احمد اور سنن ابو داؤد وغیرہ میں حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا " اجعلوھا فی سجودکم " یعنی اس آیت کو اپنے سجدوں میں پڑھا کرو۔ اسی لیے سجدہ میں " سبحان ربی الاعلی " کی یہ تسبیح پڑھی جاتی ہے، رب تعالیٰ کی یاد دلشاد اور اس کی تسبیح انسان کی روحانی زندگی کے لیے غذا ہے۔ سو جس طرح جسمانی زندگی کے لیے ظاہری اور حسی غذا کی انسان کو ہمیشہ ضرورت رہتی ہے اسی طرح روحانی زندگی کے لیے اس کو ذکر و یاد خداوندی کی معنوی اور روحانی غذا کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس کی اس سے بھی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اور خداوند قدوس کی صحیح معرفت ہی انسان کی قوت اور اس کے اعتماد کا سرچشمہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں صحیح تصور ہی تمام علم و معرفت اور قوت و اعتماد کا سرچشمہ ہے، اگر اس میں کوئی خلل پیدا ہوجائے والعیاذ باللہ العظیم تو انسان صحیح علم و معرفت کی شاہراہ سے ہٹ کر شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ وہ آخر کار ایمان و یقین، توکل و اعتماد علی اللہ، شرح صدر کے نور، سکون و اطمینان کے قلب کی دولت، اور عزت و استقامت کی سعادت، سے محروم ہوجاتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت اور اس کی یاد دلشاد انسان کو سکون و اطمینان قلب کی دولت سے سرفراز کرتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور " الا " کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُہُم بِذِکْرِ اللّہِ أَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ( الرعد 28 پ 13) یعنی آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکر ( اور اس کی یاد دلشان) ہی سے اطمینان ملتا ہے دلوں کو (اور وہ آباد ہوتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے سرفرازی اس کے اسماء حسنی ہی سے ممکن ہوسکتی ہے، اسی لیے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا تسبیح کرو اپنے رب کے ( پاک) نام کی جو کہ سب سے بلند شان والا ہے، سبحانہ وتعالی، فالحمدللہ علی ھذا الفتح والعنایۃ فانہ لاتتم الصالحات الا بتوفیق منہ۔
Ayah 87:2

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا پھر (اسے ٹھیک) بنایا

(2) اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ’ ’ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر ٹھیک کیا " اور اس نے ہر چیز کو وہ ساخت بخشی جو اس کے وظیفہ زندگی اور مقصد حیات کے عین مطابق تھی، اور اتنی اور ایسی مطابق کہ اس سے بہتر کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ الَّذِیْ أَحْسَنَ کُلَّ شَیْْء ٍ خَلَقَہُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِیْنٍ (السجدہ 7 پ 21) یعنی اس نے ہر چیز کو عمدہ بنایا جس کو بھی اس نے پیدا کیا، اور انسان کی پیدائش کو اس نے مٹی سے شروع کیا، سو انسان اگر خود اپنی خلقت ہی پر صحیح طریقے سے غور کرے تو اس کو قدرت کے عجائب وغرائب اور عظیم الشان احسانات نظر آئیں، کہ کس طرح اس خالق ومالک نے اس کو نیست سے ہست کیا، اس کی تخلیق کا آغاز فرمایا، اور پھر اس کو درجہ بدرجہ اور آہستہ آہستہ ترقی دی اور پروان چڑھایا، اور اس کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا، ایک وہ دور ہوتا ہے جب اس کا ابتدائی خاکہ بنتا ہے، پھر یہ درجہ بدرجہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اپنے شباب اور کمال کو پہنچتا ہے، اور ہر مرحلے میں یہ اپنے خالق ومالک کی عظیم الشان رحمتوں اور عنایتوں میں ڈوبا رہتا ہے، اس کے باوجود جو لوگ اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد سے غافل ہو کر اس کے باغی و سرکش بن جاتے ہیں وہ کس قدر ظالم اور کتنے بڑے بےانصاف اور نا شکرے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " خلق " سے یہاں پر مراد کسی چیز کا پتلہ بنانا ہے، اور تسویہ سے مراد اس کو نوک پلک سنوارنا ہے، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر مخلوق اپنی تخلیق و آفرینش کے آغاز سے لے کر اس کی تکمیل اور انجام تک کے ہر مرحلے میں اپنے اس خالق و حکیم قدیر کی رحمت و عنایت کی محتاج اور اسی کی پروردہ ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کی یاد دلشاد اور اس کے حقوق و فرائض سے غفلت و لاپرواہی جہاں بڑی ناقدری اور بےانصافی ہے وہاں یہ خود اپنے نفع و نقصان سے بھی غفلت و لاپرواہی کے مترادف ہے کہ خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے، اسی لیے دوسرے مقام پر اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا، وَلَا تَکُونُوا کالَّذِیْنَ نَسُوا اللَّہَ فَأَنسَاہُمْ أَنفُسَہُمْ أُوْلَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ (الحشر 19 پ 28) یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو خود اپنی جانوں سے غافل کردیا، اور یہی لوگ فاسق اور بدکار ہیں، سو اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ خدا فراموشی کا طبعی اور منقطی نتیجہ و اثر خود فراموشی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی یاد دلشاد سے سرشار و سرفراز اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یار ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، جل وعلا۔
Ayahs 87:3–4

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

جس نے ایک خاص اندازے پر رکھا (ہر چیز کو) پھر اس نے اسے راہ دکھائی

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور جس نے (زمین سے) طرح طرح کی نباتات کو نکالا

(3) ہر چیز کی تقدیر کی عنایت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس نے خاص اندازے پر رکھا ( یعنی ہر چیز کو اور ہر اعتبار سے) " اور اسی کے نتیجے میں اس کے جسم کے اندر کی قوتیں صلاحتیں اور مختلف اخلاط حیرت انگیز حد تک ایک تناسب اور اعتدال پر قائم ہیں، جہاں کہیں انسان کی اپنی کوتاہیوں اور تقصیرات کی وجہ سے ان میں ذرہ برابر کوئی فرق آتا ہے، وہیں سے طرح طرح کے فساد و بگاڑ اور امراض پیدا ہونے لگتے ہیں، جیسا کہ آج کے سائنسی انکشافات سے عیاں ہے، پھر اس قا ادر مطلق نے انسان کی زندگی و موت اور اس کے عروج وزوال وغیرہ ہر چیز کو ایک ایسے خاص اندازے پر رکھا، کہ کوئی بھی انسان اس سے کسی بھی طرح نکل نہیں سکتا، فصدق اللہ القائل فی کتابہ المجید، وکل شیء عندہ بمقدار " یعنی اس کے یہاں ہر چیز ایک خاص ( نپے تلے) انداز پر ہے مزید یہ کہ قدرت نے اس کی زندگی کو جن چیزوں کا محتاج بنایا ہے ان سب کے تقاضے بھی اس کے وجود کے اندر کچھ دیے، اور دوسرے طرف ان ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب و وسائل بھی اس کے لیے مہیا کردیے، اور اس کے استعمال کے طریقے بھی اس کو بذریعہ القاء والہام تعلیم و تقلین فرما دیے، جس سے ہر چیز اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر طرح طرح سے مستفید ہوتی ہے۔ (4) راہنمائی بخشنے کی عنایت کا ذکرو بیان : سو تخلیق و تسویہ اور اندازہ و تقدیر کی نعمتوں کے ذکر کے بعد اس کی ہدیات و راہنمائی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ " پھر اس نے راہ دکھائی "۔ یعنی وہ راہ جس کی اسے اپنی زندگی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضرورت تھی۔ جس سے ہر جاندار اپنے کھانے پینے، رہنے سہنے، چلنے پھرنے اور دیگر تمام لوازم زندگی کے حصول کے لیے کوشش کرنا سیکھتا ہے۔ چناچہ یہ پیدا ہوتے ہی اپنی خوراک مانگتا ہے، اور پھر کسی کے سکھائے بتائے بغیر فوری طور پر خود اسے استعمال کرتا ہے، بچہ ماں کا دودھ چوسنے لگتا ہے، اور پھر اس کے بعد وہ خود اپنی ضرورت کے مطابق کھانا پینا شروع کردیتا ہے، مچھلی پانی میں تیرنا اور پرندہ ہوا میں اڑنا سیکھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ فصدق اللہ سبحانہ و تعالیٰ حیث قال قال رَبُّنَا الَّذِیْ أَعْطَی کُلَّ شَیْْء ٍ خَلْقَہُ ثُمَّ ہَدَی ( طہ 50 پ 16) یعنی جس نے ہر چیز کو اس کی مناسب زندگی بخشی، پھر اس کو ( اس کے لائق) اس کی راہنمائی فرمائی، پھر آگے چل کر جب اس کی ضروریات کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے تو قدرت کی رحمت و عنایت نے اس کی مختلف ضروریات کی تکمیل کے لیے زمین کے اندر جو گونا گوں اور قسما قسم کے ذخائر محفوظ فرما رکھے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا وَجَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ مِن فَوْقِہَا وَبَارَکَ فِیْہَا وَقَدَّرَ فِیْہَا أَقْوَاتَہَا فِیْ أَرْبَعَۃِ أَیَّامٍ سَوَاء لِّلسَّائِلِیْنَ ( حم السجدہ 10 پ 24) یعنی اس نے زمین کے اندر طرح طرح کی برکات رکھ دیں اور اس کے اندر قسما قسم کی روزیاں و دیعت فرما دیں، تو ان خیرات و برکات کا سراغ لگانے اور ان کو نکال کر ان سے طرح طرح کے فائدہ اٹھانے کے لیے انسان کو جو ہر عقل کی بےمثال نعمت سے نوازا گیا، اور پھر خیر و شر اور صلاح و فساد کے درمیان فرق وتمیز کے لیے اس کو ایک طرف تو فطری ہدایت سے نوازا گیا اور خیرو شر کے درمیان فرق وتمیز کو اس کی فطرت وجبلت میں ودیعت فرما دیا گیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا۔ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا ( الشمس 8, 9 پ 30) یعنی پھر اس نے اس کو اس کے فجور کا بھی الواء الہام فرما دیا۔ اور اس کے تقوی و پرہیزگاری کا بھی، یعنی اس نے اس کی فطرت میں یہ بات ودیعت فرما دی کہ یہ ہے فسق و فجور، جس سے تجھے بچنا ہے، اور یہ تقوی و پرہیزگاری ہے جسے تجھے اپنانا ہے، اور دوسری طرف اس نے اس کو جوہر عقل کی بےمثال روشنی اور مابہ الامتیاز عنایت سے نواز دیا، اور تیسری طرف اس نے ہدایت و رہنمائی کے لیے حضرات انبیاء و رسول کی قدسی صفات ہستیوں کو مبعوث فرمایا، اور ان پر آسمانی کتابیں اتاریں جن کی تکمیل امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور خاتم الکتب قرآن حکیم کی تنزیل سے فرما دی سو اس طرح انسان کو راہ حق سے آگہی کا کامل اور بےمثال انتظام فرما دیا گیا۔ والحمدللہ جل و علا علی کرمہ واحسانہ، سبحانہ و تعالیٰ فلہ الحمد ولہ الشکر۔
Ayah 87:5

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر (وقت آنے پر) اس کو سیاہ کوڑا بنادیا

(5) نباتات کے اگانے کی عنایت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس نے طرح طرح کی نباتات کو نکالا " اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے تقاضوں کے مطابق، آیت کریمہ میں " مرعی " کا استعمال ہوا ہے جو کہ اصل میں جانوروں کے چارے کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن سیاق عبارت سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں پر اس لفظ سے صرف جانوروں کا چارہ ہی مراد نہیں بلکہ اس سے مراد ہر قسم کی نباتات مراد ہیں جو کہ زمین سے اگتی ہیں، کیونکہ زمین سے اگنے والی ہر قسم کی نباتات اور ہر طرح کی انگوری کسی نہ کسی جاندار کے کام آتی ہے، سو یہ سب کچھ قدرت کی عظمت، رحمت اور عنایت بےنہایت کا ایک اور ثبوت عظیم الشان مظہر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ( مراغی وغیرہ) سو جس خداوند قدوس نے اس قدر پر حکمت طریقے سے تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے طرح طرح کی ایسی نباتات اگائیں تم سب اسی کی تسبیح کرو، کہ وہی اس کا اہل اور حق دار ہے، جس نے تمہارے لیے اور تمہارے جانوروں کے لیے اس قدر پر حکمت طریقے سے ضروریات زندگی کا انتظام فرمایا، اور اس طرح تم لوگوں کو اس نے بالواسطہ اور بلا واسطہ دونوں قسموں کی ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا مَتَاعاً لَّکُمْ وَلِأَنْعَامِکُمْ ( النازعات 33، پ 30) یعنی یہ سارا اہتمام و انتظام تمہارے بھلے اور فائدے کے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے ( جن کو تمہارے ہی بھلے کے لیے پیدا کیا گیا ہے) وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 87:6

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

ہم خود ہی آپ کو پڑھائیں گے (اے پیغمبر اور اس طور پر کہ) آپ کبھی (اس میں سے کچھ) بھولیں گے نہیں

(6) پیغمبر کی تعلیم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی تسکین و تسلی کے لیے آپ ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم خود ہی آپ کو پڑھائیں گے ( اے پیغمبر) سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کی تعلیم براہ راست حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ہوتی ہے، پیغمبر کسی انسان یا کسی بھی دوسری ہستی سے علم نہیں حاصل کرتا، البتہ فرشتہ اور خاص کر فرشتوں کے امام اور ان کے افضل حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اس ارشاد خداوندی اور تعلیم ربانی میں ذریعہ و وسیلہ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوَی ( النجم 5 پ 27) یعنی ان کو سکھایا پڑھایا بڑی ہی قوتوں والے نے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قدرت کا جو قانون تدریج و ترتیب انسان کی تخلیق اور اس کی تکمیل میں اور اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کو مقدر کرنے اور ان کو برائے کار لانے میں سبزے کو اگانے اور اس کو پروان چڑھانے میں کار فرما ہے، اسی قانون کے تحت اللہ آپ ﷺ سے بھی معاملہ فرمائے گا ( اے پیغمبر) اس نے آپ کو نبوت کے جس منصب عظیم سے سرفراز فرمایا ہے اور جس وحی آسمانی سے نوازا ہے اس کے مرحلے بھی بتدریج طے ہوں گے۔ اور جلد ہی وہ وقت آئے گا کہ آپ ﷺ اس راہ حق و صواب کی تمام منزلوں کو طے کر کے اپنی آخری منزل کو پہنچ جائیں گے۔ سو پیغمبر ﷺ کے شوق و اضطراب اور بےکلی و بےقراری کی بنا پر اپ کی تسکین و تسلی کے لیے آپ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم خود ہی آپ کو پڑھائیں گے، جس سے آپ کبھی بھولیں گے نہیں، پس پیغمبر کی تعلیم بھی منفرد و یکتا، اور بےمثال ہوتی ہے، اور آپ ﷺ کے علوم بھی یکتا اور منفرد و بےمثال ہوتے ہیں، کیونکہ یہ سب کچھ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ فلہ الحمد ولہ الشکر جل وعلا۔ (7) تعلیم خداوندی کے ایک اہم نتیجہ و اثر کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور تعلیم خداوندی کے ایک اہم نتیجہ و اثر کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ کبھی بھولیں گے نہیں "۔ سو یہ بھی ایک عظیم الشان معجزہ ہے قرآن حکیم کا، جس سے حضرت قادر مطلق جل جلالہ وعم نوالہ نے نحض اپنی رحمت بےنہایت اور کرم لا محدود سے حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) کو نوازا، اور سرفراز فرمایا کہ قرآن حکیم کی اس عظیم الشان کتاب اور جلیل القدر وحی کو ایک ہی مرتبہ سنانے اور سکھا دینے سے پیغمبر نے اس کو ایسا ازبر کردیا کہ آپ اس میں سے کچھ بھی بھولنے نہیں پائے، نہ اس کے الفاظ و کلمات میں سے اور نہ ہی اس کے معانی و مطالب اور خزائن و معارف میں سے، حالانکہ عام انسان عمر بھر کی محنت و مشقت کے باوجود اس کتاب حکیم کے علوم و معارف کا احاطہ کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔ جیسا کہ ظاہر اور واضح ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ حضرت حق جل مجدہ نے آپ ﷺ سے اس کا صاف وصریح طور پر اور پکاو پختہ وعدہ فرما دیا تھا ارشاد ہوتا ہے لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ ۔ إِنَّ عَلَیْْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ ۔ فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ ۔ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْْنَا بَیَانَہُ ( القیامہ 16 تا 19 پ 29) یعنی آپ ( اے پیغمبر) اس وحی کے ساتھ اپنی زبان کو مت ہلایا کرو، کہ آپ ﷺ اس کو جلدی جلدی لے لیں، بیشک ہمارے ذمے ہے اس جمع کردینا ( آپ کے سینے میں) اور اس پو پڑھا دینا ( آپ کی زبان سے) پس جب ہم اس کو پڑھا کریں تو آپ اس کی پیروی کیا کریں، پھر ہمارے ہی ذمے بیان کردینا اس ( کے معانی و مطلب) کو۔ سو سورة اعلی کی یہ آیت کریمہ بالکل اسی محل میں آئی ہے جس میں سورة طہ کی آیت نمبر 114 اور سورة قیامہ کی آیت نمبر 16 آئی ہے۔ پیغمبر فرط شوق سے چاہتے تھے کہ پوری وحی ایک ہی سانس میں سینے میں اتر جائے، اور وحی خداوندی کی اس امانت عظمی کا کوئی ایک لفظ بھی آپ ﷺ کے سینہ مبارک میں محفوظ ہونے سے نہ رہ جائے۔ سو آپ ﷺ کے اسی شوق و اضطراب اور اسی عجلت و بےقراری پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ ﷺ اس کے لیے اس قدر جلد بازی سے کام نہ لیں۔ اور اس کے لیے اتنی تکلیف مت اٹھائیں، یہ اسی پروگرام کے تحت اترے گی جو ہم نے اس کے لیے مقرر کیا ہے، اور اس کے پڑھانے اور محفوظ رکھنے کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے، ہم آپ ﷺ کو ایسا پڑھائیں گے کہ آپ کبھی نہیں بھولیں گے، سو اس سے تعلیم خداوندی کے ایک اہم نتیجہ واثر کو بیان فرما دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنا پڑھا ہوا کبھی بھولیں گے نہیں، جس طرح قادر مطلق خود بےمثال ہے اسی طرح اس کا ہر کام بھی بےمثال ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 87:7

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

مگر جو اللہ چاہے بلاشبہ وہ (ایک برابر) جانتا ہے کھلی بات کو اور اس کو بھی جو پوشیدہ ہو

(8) اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صحیح توکل کی تعلیم کے لیے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے حوالے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک وہ ظاہری بات کو بھی جانتا ہے اور اس کو بھی جو مخفی ہوتی ہے "۔ پس اس سے نہ کسی انسان کی کوئی نیت اور اس کی داخلی کیفیت چھپی رہ سکتی ہے، اور نہ اس کی طبیعت و فطرت کا کوئی تقاضا اور اس کی حاجت و ضرورت، اس لیے وہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق اپنی وحی میں سے جو چاہے آپ کے سینہ اطہر میں باقی رکھے اور جو چاہے بھلا دے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بالَّذِیْ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَکَ بِہِ عَلَیْْنَا وَکِیْلا ( بنی اسرائیل 86 پ 15) یعنی اگر ہم چاہیں تو اس وحی کو لے جائیں جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے ( اے پیغمبر) سو آپ کو اے پیغمبر راہ حق میں جو پریشانیاں اور مشکلات پیش آتی ہیں وہ سب ہمارے علم میں ہیں، اور آپ کے دشمنوں کی کھلی ہوئی شرارتوں اور مخفی سازشوں کو بھی ہم پوری طرح اور ایک برابر جانتے ہیں۔ لہذا آپ کو ان کے مقابلے کے لیے ہم کافی ہیں، اس لیے آپ ان کے بارے میں کوئی فکر نہ کریں، اور دل کا بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لا شریک کارساز مطلق پر رکھیں جس کا علم بھی کامل ہے اور جو بڑا زبردست انتہائی مہربان بھی ہے، اور جو ہر حال میں آپ کو دیکھتا اور آپ پر نظر عنایت رکھے ہوئے ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ان اہم امور اور صفات جلیلہ کی تصریح اس طرح فرمائی گئی ہے وَتَوَکَّلْ عَلَی الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ ۔ الَّذِیْ یَرَاکَ حِیْنَ تَقُومُ ۔ وَتَقَلُّبَکَ فِیْ السَّاجِدِیْنَ ( الشعراء 217, 219 پ 19) یعنی آپ بھروسہ ہمیشہ اس ذات پر رکھیں جو بڑی زبردست نہایت مہربان ہے، جو آپ کو دیکھتا ہے اس وقت جبکہ آپ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ دیکھتا ہے آپ کی چلت پھرت کو بھی سجدہ کرنے والوں کے درمیان، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 87:8

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور ہم آسانی سے دے دیں گے آپ کو (شریعت مقدسہ کی) اس آسان راہ کی

(9) پیغمبر کے لیے تیسیر یسری کی بشارت کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو تیسیر یسر کی نوید مسرت سناتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور ہم آپ ﷺ کو آسانی دیں گے اس آسان راہ کی " جو کہ انسانی فطرت وجبلت اور اس کے تقاضوں کے عین مطابق، اور انسان کے لیے دنیاو آخرت کی سعادتوں کی کفیل وضامن راہ ہے، اور ہماری اس تیسیر کے بعد اس کا سمجھنا سمجھانا، اور اس کے مطابق عمل کرنا اور کرانا، سب آپ کے لیے بالکل آسان ہوجائے گا ( ابن کثیر، صفوۃ البیان اور مدارک التنزیل وغیرہ) سو اس سے نہایت واضح لفظوں میں پیغمبر کو بشارت دی گئی ہے کہ مشکلات و مصائب کے یہی دن ہمیشہ نہیں رہیں گے، بلکہ ہم عنقریب ہی آپ کو ان مشکلات سے نکال کر آسان راہ پر لے جائیں گے۔ " یسری " کا لفظ صفت ہے جس کا موصوف " طریقہ " یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے، اور " تیسیر " کا مفہوم کسی چیز کو کسی برتر مقصد کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔ چناچہ عرب کہتے ہیں " یسرنا الفرس للرکوب " یعنی ہم نے گھوڑے کو سواری کے لیے تیار کرلیا۔ یعنی اس پر زین وغیرہ ڈال کر اس کو سواری کے لیے تیار کرلیا، سو اس سے یہاں پر یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس وقت آپ جن مشکلات سے دوچار ہیں یہ سب عارضی اور وقتی ہیں، اور یہ سب کچھ دراصل آپ کی تربیت کے لیے ہے، تاکہ اس طرح اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے ان افضال و عنایات کا اہل اور حق دار بنائے جن سے وہ آپ کو مستقبل میں نوازنا اور بہرہ مند فرمانا چاہتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی مضمون کے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وللاخرۃ خیر لک من الاولی " یعنی یقینا آپ کے لیے پچھلی حالت پچھلی حالت سے بہتر ہے، اور ایسے ہی ہوا اور ہمیشہ ہوا، سو پیغمبر کی تعلیم و تربیت براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ صلوت اللہ وسلامہ علیہ۔
Ayah 87:9

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

پس آپ یاد دہانی کراتے رہیں اگر یاد دہانی سے نفع ہو

(10) پیغمبر کو تذکیر کا حکم و ارشاد : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر علی السلام کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا " پس آپ یا دہانی کراتے رہیں اگر یاد دہانی نفع دے " کہ یہی آپ کی اصل ذمہ داری ہے یعنی تذکیر اور انذار وتبشیر، سو جس طرح حضرت واہب ملطق جل جلالہ نے آپ ﷺ پر یہ عظیم الشان کرم فرمایا کہ آپ ﷺ کو منصب نبوت و رسالت سے نوازا، خاتم الرسالات کے شرف سے مشرف فرمایا، اور نبیوں کا امام و پیشوا بنایا، اسی طرح آپ ﷺ آگے ان غافل و بیخبر لوگوں کو نفع رسانی کے لیے جدوجہد کریں، جیسا کہ حضرت عیسیٰ نے اپنے حواریوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ " لوگو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دولت سے مفت نوازا ہے، میں آگے تم کو مفت تقسیم کرر ہا ہوں، سبحان اللہ، کیا کہنے حضرت واہب مطلق جل جلالہ کی کرم نوازیوں اور اس کے احسانات کے کہ حق و ہدایت کی نعمت کو جو کہ سب سے بڑی اور انمول نعمت ہے اور جو اس کی بارگہ اقدس و اعلی کے سوا اور کہیں سے مل سکتی ہی نہیں، اس کو اس واہب مطلق نے ہمیشہ تقسیم فرمایا، ہر طالب صادق کو اس سے نوازا۔ اور اس کو آسان اور ہر طرح سے آسان فرما دیا، پھر بھی جو انسان اپنے اعراض و استکبار کی وجہ سے اس سے محروم رہتا ہے تو یہ اس کی اپنی ہی شقاوت و بدبختی اور انتہا درجے کی شقاوت و بدبختی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ لوگوں کی بےقدریوں، ناشکریوں اور مخالفتوں کی وجہ سے بددل و مایوس نہ ہوں۔ بلکہ تذکیر کرتے رہیں یہ اگر نہیں مانتے تو اس کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں، آپ ﷺ کا کام تو صرف تذکیر ہے، آگے منوانا اور حق بات کو ان کے دلوں میں اتار دینا آپ کے بس میں ۃ ے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے، آپ کی اصل اور حقیقی ذمہ داری تبلیغ و تذکیر ہے، اور بس بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ آپ نصیحت و یاد دہانی کراتے رہیں اگر نصیحت و یاد دہانی سے فائدہ پہنچتا ہو اور سچے ایمانداروں کو تذکیر سے فائدہ بہرحال پہنچتا ہے، اسی لیے دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ حکم و ارشاد فرمایا گیا، وَذَکِّرْ فَإِنَّ الذِّکْرَی تَنفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ( الذاریات 55 پ 27) یعنی " آپ تذکیرو یاد دہانی اور نصیحت کرتے رہیں کہ تذکیر و یاد دہانی اور نصیحت سے ایمان والوں کو بہر حال نفع اور فائدہ پہنچتا ہے "۔ اور جو بدبخت اس کی طرف کان ہی نہ دھرے اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّی عَن ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ إِلَّا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا ( النجم 29 پ 27) یعنی اور آپ اعراض اور روگردانی ہی سے کام لیں ہر اس شخص کی طرف سے جو ہمارے ذکر اور ہماری یاد دلشاد سے منہ موڑے ہوئے ہے، اور اس کی مراد و مقصود دنیا کے سوا کچھ بھی نہیں، کہ ایسوں کے پیچھے پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں، لہذا آپ جب بھی موقع پائیں اور ان میں سننے کے لیے آمادگی محسوس کریں تو ان کو نصیحت کردیا کریں، اور ہٹ دھرموں کو ان کی تقدیر کے حوالے کردیں، سو اس میں دراصل پیغمبر کے لیے سامان تسلیہ و تسکین ہے کہ آپ ﷺ کے ذمے صرف تبلیغ اور تذکیر ہے اور بس۔ آگے منوا لینا اور حق بات کو ان لوگوں کے دلوں میں اتار دینا نہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے نہ ہی یہ چیز آپ کے بس میں ہے، اس لیے آپ اس پر پریشان اور دلگیر نہ ہوں، سو یہ ایسے ہی جیسے دوسرے مقام پر آپ کو فرمایا گیا فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْْہِمْ حَسَرَاتٍ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ بِمَا یَصْنَعُونَ ( فاطر 8 پ 22) یعنی آپ ان ( بےقدرے اور ناشکرے) لوگوں پر افسوس میں اپنی جان ہلکان نہ کریں ( تفسیر المراغی وغیرہ) سو لوگوں کی ذمہ داری تبلیغ و تذکیر ہے اور بس۔
Ayahs 87:10–11

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

وہ شخص ضرور نصیحت قبول کرے گا جو ڈرتا ہے (اپنے خدا اور آخرت کی پکڑ سے)

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور گریز (و روگردانی) کرے گا اس سے وہ سب بڑا بدبخت،

(11) خوف و خشیت خداوندی باعث سعادت و سرفرازی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ شخص ضرور نصیحت قبول کرے گا جو ڈرتا ہو، یعنی جو ڈرتا ہو اپنے خالق ومالک سے، اور اس کے حضور جوابدہی سے، کیونکہ اس خوف اور فکر سے وہ ایک ذمہ دار شخص بن جاتا ہے جس سے اس کے اندر ہدایت و حق کی سچی طلب اور تڑپ پیدا ہوجاتی ہے، اور ایسی طلب و تڑپ کے بعد تذکیر و نصیحت سے نفع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے دوسری جگہ فرمایا گیا فَذَکِّرْ بالْقُرْآنِ مَن یَخَافُ وَعِیْدِ ( ق 45) یعنی آپ تذکیر و یاد دہانی کریں اس قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کی جو ڈرتا ہو میری وعید اور عذاب سے اور آخرت کے عقیدے سے محرومی اور لاپرواہی انسان کو حیوان محض اور شتر بےمہار، بلکہ اس سے بھی کہیں برا بنا دیتی ہے، جہاں چاہا منہ اٹھا کر چل دیا، مقصد حیات سے غافل، فکر آخرت سے لاپرواہ سو ایسوں کا انجام نہایت برا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس عقیدہ آخرت اور اس کے یقین سے محرومی انسان کو راہ حق و ہدایت اور جادہ صدق و صواب سے محروم کردیتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَإِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُون بالْآخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنَاکِبُونَ ( المومنون 74 پ 18) یعنی بلا شبہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ قطعی طور پر سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے برعکس اپنے رب کے حضور قیام اور جواب دہی کا ایمان و یقین جنت کی نعیم مقیم اور وہاں کی ابدی بادشاہی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کے لیے یقینی طور پر جنت کا ٹھکانا ہے، چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور ادوات تاکید اور اسلوب حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد ہوتا ہے، وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوَی۔ فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَأْوَی ( النازعات 40, 41 پ 30) یعنی جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا، اور اس نے اپنے نفس کو خواہش ( کی پیروی) سے روکے رکھا تو یقینا اس کا ٹھکانہ جنت ہے، پس سو خوف و خشیت خداوندی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayah 87:12

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

جس نے داخل ہونا ہے (دوزخ کی) اس سب سے بڑی آگ میں

(12) بدبختوں اور ان کے انجام کا ذکرو بیان : سو فائز المرام نیک بختوں کے ذکرو بیان کے بعد شقی اور بدبخت لوگوں کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے گریز و فرار کی راہ اختیار کرے گا، وہ سب سے بڑا بدبخت جس نے داخل ہونا ہے اس سب سے بڑی آگ میں، والعیاذ باللہ۔ اس کی اپنی بدبختی اور سوء اختیار کی بنا پر والعیاذ باللہ۔ کیونکہ ایسے لوگوں نے اس دنیا اور اس کی عارضی لذتوں اور اس کے وقتی فائدوں ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے، آخرت کا کوئی اندیشہ ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ یہ صرف خواہشات بطن وفرج کے غلام اور مادہ و معدہ کے تقاضوں کے پجاری اور پرستار بن کر رہ گئے ہیں، سو ایسے محروم القسمت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، کہ یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں۔ کہ ایسوں کے پیچھے لگنے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے اپنے نور فطرت کو گل کردیا ہے، اب انسے کوئی خیر کی کوئی توقع نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔
Ayah 87:13

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر وہاں نہ تو وہ مرے گا نہ جئے گا

(13) منکروں کے لیے ہمیشہ کا عذاب، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکروں اور نور حق و ہدایت سے محروم بدبختوں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہوگا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر وہاں پر نہ تو وہ مرے گا " تاکہ اس طرح وہ اس عذاب الیم و شدید سے چھٹکارا پاس کے کہ دنیا میں آنے والے کسی عذاب سے والعیاذ باللہ۔ چھٹکارے اور بچاؤ کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کو موت آجائے، اور دوزخ میں پڑے ان بدبختوں کے لیی اس کی بھی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، سو یہ لوگ وہاں کے اس ہولناک عذاب سے تنگ آکر دوزخ کے داروغے سے کہیں گے کہ اپنے رب کے حضور ہمارے بارے میں عرض کریں کہ وہ ہمارا قصہ تمام کردے تاکہ اس طرح اس عذاب سے ہماری جان چھوٹ سکے، تو وہ ان سے اس کے جواب میں کہے گا کہ تم لوگوں کو ہمیشہ اسی حال میں ر ہنا ہے، چناچہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی وَنَادَوْا یَا مَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْْنَا رَبُّکَ قَالَ إِنَّکُم مَّاکِثُونَ ( الزخرف 77 پ 25) سو کافروں اور منکروں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر وہاں پر نہ تو وہ مرے گا اور نہ ہی زندہ رہے گا "۔ یعنی ایسا جینا جس سے وہ زندگی کا کوئی لطف اٹھا سکے سو ان کو ایسا کوئی جینا نصیب نہیں ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس حق سے منہ موڑنے والے ایسے محروم القسمت بدبختوں کا آخری اور ہولناک انجام یہ ہوگا کہ انہوں نے دوزخ کی اس سب سے بڑی اور ہولناک آگ میں داخل ہونا ہے، اور وہاں پر ان کو " لا یموت ولا یحی " کی زندگی گزارنا ہوگی، والعیاذ باللہ۔ وہاں پر وہ ہمیشہ کے لیے ایسے ہولناک عذاب میں گرفتار رہیں گے، اس میں وہ رہ رہ کر موت کی تمنا کریں گے مگر نہ موت آئے گی اور نہ ان کا کوئی وہاں پرسان حال ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَکَیْْفَ کَانَ نَکِیْرِ ( فاطر 26 پ 22) یعنی جو لوگ اپنے کفر و باطل پر اڑے رہے ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ ان پر یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ مرجائیں اور نہ ہی ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر بڑے ناشکرے کو، سو اس طرح ان لوگوں کو ہاں پر لطف زندگی سے محروم ایسی زندگی گزارنی ہوگی جو موت سے بھی بدتر ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 87:14

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

یقینا فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی

(14) فوزو فلاح سے سرفرازی کی اولین شرط تزکیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور " قد " کے حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی "۔ یعنی وہ اس حقیقی فوز و فلاح اور دائمی و ابدی کامیابی سے سرفراز ہوگیا جس جیسی دوسری کوئی کامیابی نہ ہوئی نہ ہوسکتی ہے۔ وذلک الفوز العظیم۔ یعنی یہی ہے بڑی کامیابی، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔ بہرکیف اوپر کی آیات کریمات میں ان بدبختوں کا انجام بیان فرمایا گیا تھا جنہوں نے پیغمبر کی دعوت سے منہ موڑا اور اس سے اعراض برتا کہ انہوں نے دوزخ کی اس سب سے بڑی اور ہولناک آگ میں داخل ہونا ہے، اور وہاں پر انہوں نے ہمیشہ کے لیے رہنا اور " لا یموت فیھا ولا یحی " والی زندگی گزارنی ہے، والعیاذ باللہ۔ اب اس کے مقابلے میں یہ ان خوش نصیبوں اور نیک بختوں کا انجام اور ان کا انعام بیان فرمایا جارہا ہے جن کا ذکر اوپر " سیذکر من یخشی " کے الفاظ سے فرمایا گیا تھا کہ بیشک ان کو ابدی اور ہمیشہ کی فوز و فلاح اور حقیقی کامیابی نصیب ہوگی، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے ان افائز المرام خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنہوں نے پیغمبر کی دعوت پر کان دھرا، اس پر لبیک کہا، اور ان کی تذکیر سے فائدہ اٹھایا۔ بہرکیف اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ فوز و فلاح سے سرفرازی کے لیے تزکیہ نفوس اور تصفیہ باطن الین اساس ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی "، یعنی اس نے پاکیزگی اختیار کی کفر و شرک کی غلاظتوں اور بےدینی و بد عقیدگی کی نجاستوں اور خباثتوں سے، اور اس طرح وہ پاکیزہ انسان بن گیا، سو جنہوں نے پیغمبر کی دعوت سے اعراض برتنے اور منہ موڑنے کی بجائے اس کو غور سے سنا اور صدق دلا سے اس کو اپنایا اور اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو کفر و شرک سے اور بےدینی کی گندگیوں سے پاک کرلیا اور وہ فوزوفلاح کی دولت سے سرفراز ومالا مال ہوگئے، جس سے وہ دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزگی زندگی سے بہرہ ور ہوگئے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم اور وہاں کی سدابہار نعمتوں اور ہمیشہ کی اور حقیقی کامیابی سے سرفراز ہوگئے، سو ان کے لیے اس دنیا میں بھی فوز و فلاح کے دروازے کھلیں گے اور وہ آخرت میں بھی وہاں کی نعیم مقیم اور اپنے رب کے عظیم الشان انعامات اور اس کی رحمت و رضوان کی نعمت عظمی سے سرفراز و سرشار ہوں گے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین، فی کل ان و حین۔
Ayahs 87:15–16

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور وہ اپنے رب کا نام لیتا اور نماز پڑھتا رہا

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو ہی ترجیح دیتے ہو

(15) ایمان اور تزکیہ نفوس کی اولین علامت نماز : چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی " جو کہ باطن کی صفائی اور پاکیزگی حاصل کرنے کا عظیم الشان ذریعہ ہے، سو یہ اس تذکیہ کی اولین علامت بھی ہے اور اس کا اصل طریقہ بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت کا اصل اور صحیح طریقہ یہی ہے کہ اس کے اسمائے حسنی اور اس کی صفات علیا کی یاد دلشاد کے ذریعے اس کی معرفت کے حصول کی کوشش کی جائے، اور ان کی اسمائے صفات کی روشنی میں دیکھا جائے کہ حضرت حق جل مجدہ کے بارے میں ہمارے عقائد کیا ہونے چاہیں، اور ان عقائد کی بنا پر اس کے ہم پر کیا حقوق و فرائض عائد ہوتے ہیں، اور ان کو کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سو نماز کا ذکر یہاں پر ایمان کے اولین مظہر کی حیثیت سے فرمایا گیا ہے۔ اور یہ عظیم الشان عبادت شریعت کی اساس بھی ہے اور اس کی محافظ بھی، جیسا کہ سورة مومنون کی ابتدائی آیات وغیرہ مختلف مقامات سے ظاہر ہے۔ بہرکیف کامیاب اور فائز المرام لوگوں کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے اپنے رب کے نام کو دیا کیا پھر اس نے نماز پڑھی " اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔
Ayah 87:17

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

حالانکہ آخرت اس سے کہیں بڑھ کر اچھی بھی ہے اور سدا باقی رہنے والی بھی

(17) اصل چیز آخرت ہے نہ کہ دنیا : ارشاد فرمایا گیا اور دنیا کو ترجیح دینے والوں کی مت ماری اور ان کے خسارے کو اجاگر کرنے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " حالانکہ آخرت کہیں بہتر بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی "۔ یعنی آخرت کم اور کیف دونوں کے اعتبار سے دنیا کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر اور بہتر ہے اور ظاہر ہے کہ جو چیز کم اور کیف دونوں کے اعتبار سے بہتر ہو اس کو پس پشت ڈال کر جو کوئی اس کے مقابلے میں کمتر چیز پر راضی ہوجائے گا اور اسی کو اپنا مطمع نظر اور مقصد حیات بنا لے گا اس سے بڑھ کر محروم اور بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا محرومیوں کی محرومی ہے کہ دنیا و آخرت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر اور عارضی اور فانی ہے، اور فانی کو باقی پر ترجیح دینا عقل اور نقل دونوں تقاضوں کے خلاف اور محرمیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، وسوء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن۔
Ayah 87:18

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

بلاشبہ یہ مضمون پہلے صحیفوں میں بھی آچکا ہے

(18) قرآن حکیم کی تعلیم گزشتہ صحیفوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ یہ مضمون پہلے کے صحیفوں میں بھی آچکا ہے "۔ " ھذا " کے مشار الیہ میں یہاں پر دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا تعلق " قد افلح " سے بعد کی چار آیتوں سے ہو، اور دوسرا یہ کہ اس کا تعلق پوری سورت کے مضمون سے ہو۔ یہ دونوں ہی احتمال موجود ہیں، اور حضرات اہل علم سے یہ دونوں ہی قول منقول ہیں۔ ( ابن کثیر، محاسن التاویل، مدار کا لتنزیل اور جامع البیان و خازن وغیرہ) سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت خاتم الانبیاء جو کچھ تم لوگوں کو بتا رہے ہیں کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، بلکہ تمام اگلے رسولوں نے بھی اسی کی تعلیم دی ہے، اور یہ تعلیم دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے، اور یہی بات سورة نجم کی آیت نمبر 36 تا 38 میں بتائی گئی ہے۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 87:19

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

(19) صحف ابراہیم و موسیٰ کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا یعنی " ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں "۔ جس سے اس کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اس لیے ان ہدایات و ارشادات کو دل و جان سے اپنانے کی ضرورت ہے، تاکہ اس طرح دارین کی سعادت و سرخوئی سے سرفرازی نصیب ہوسکے، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے متعدد دوسرے نبیوں کے صحیفے اسفار تورات کی شکل میں موجود ہیں، اگرچہ تورات میں بہت کچھ تحریفات ہوچکی ہیں اور ان کی حیثیت تاریخ کی کتابوں سے زیادہ نہیں رہ گئی، تاہم ان سب میں توحید اور قیامت سے متعلق آج بھی بہت کچھ موجود ہے، اور ان میں بھی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ اسل زندگی آخرت کی ہی زندگی ہے۔ جیسا کہ سورة نجم کی آیت نمبر 36, 37 میں اس کی تصریح فرمائی گئی۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نام لیواؤں کو بھی زبانی کلام محبت کے دعو وں کے بجائے ان کی ان پاکیزہ تعلیمات کو اپنانا چاہیے تاکہ ان کا بھلا ہو۔ پس یہود و نصاری اور مشرکین عرب جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسی پاکیزہ ہستیوں کے نام لیتے اور ان کی محبت کا دم بھرتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ان تعلیمات کو صدق دل سے اپنائیں جو انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑی ہیں، ورنہ محض زبانی کلامی اور جھوٹے دعوے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ سراسر دھوکے کا سامان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف۔