سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰی ۟ۙسَيَذَّكَّرُ مَنۡ يَّخۡشٰىۙ
جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
He who fears [Allah] will be reminded.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰی ۟ۙسَيَذَّكَّرُ مَنۡ يَّخۡشٰىۙ
جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
He who fears [Allah] will be reminded.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
Read the whole surah · Surah Al-A'laa
جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے گا
جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا
ڈرنے واﻻ تو نصیحت لے گا
جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا، وہ نصیحت مانے گا۔
عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے
البتہ وہی نصیحت قبول کرے گا جو اﷲ سے ڈرتا ہوگا،
عنقریب نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے۔
جو شخص (اللہ سے) ڈرتا ہے وہ تو نصیحت قبول کرلے گا
فائدہ اٹھالے گا وہ جس کو ڈر ہو گا
وہ شخص ضرور نصیحت قبول کرے گا جو ڈرتا ہے (اپنے خدا اور آخرت کی پکڑ سے)
نصیحت مانتا وہی ہے جو خشیت رکھتا ہے
وہ نصیحت حاصل کرلے گا جو ڈرتا ہے۔
جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا
He who fears (Allah) shall heed it,
The one who fears (Allah) will observe the advice,
The one who fears (Allah) will observe the advice,
The reminder will be received by him who fears,
He will heed who feareth,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
He who fears [Allah] will be reminded.
Those who have fear of God will benefit
He who fears will mind,
Admonished is he indeed who feareth,
The admonition will be received by those who fear (Allah):
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–13
مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40) 75۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
سورة الْاَعْلٰی 11 یعنی جس شخص کے دل میں خدا کا خوف اور انجام بد کا اندیشہ ہوگا اسی کو یہ فکر ہوگی کہ کہیں میں غلط راستے پر تو نہیں جا رہا ہوں، اور وہی اللہ کے اس بندے کی نصیحت کو توجہ سے سنے گا جو اسے ہدایت اور گمراہی کا فرق اور فلاح وسعادت کا راستہ بتارہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
فذکر ان نعفت الذکری، سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کو آپ کے فریضہ پیغمبری کے ادا کرنے میں حق تعالیٰ کیطرف سے دی ہوئی سہولتوں کا بیان تھا، اس آیت میں آپکو اس فریضہ کی ادائیگی کا حکم ہے اور معنے الفاظ آیت کے یہ ہیں کہ آپ لوگوں کو تبلیغ و نصیحت کیجئے اگر نصیحت نفع دیتی ہو، یہ الفاظ اگرچہ شرط کے آئے ہیں مگر درحقیقت مقصود کوئی شرط نہیں بلکہ اس کا تاکیدی حکم دینا ہے جس کی مثال ہمارے عرف میں یہ ہے کہ کسی شخص کو بطور تنبیہ کے کہا جائے کہ اگر تو ادمی ہے تو فلاں کام کرنا ہوگا یا اگر توفلاں کا بیٹا ہے تو تجھے ایسا کرنا چاہئے۔ یہاں مقصود شرط نہیں ہوتی بلکہ اس کا اظہار ہوتا ہے کہ جب تو آدمی زاد ہے یا جبکہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
یہ بتایا ہے کہ کون آپ کی بات پر کان دھریں گے اور کس مزاج کے لوگ اس سے گریز کریں گے۔ فرمایا کہ جن کے دلوں میں خدا اور آخرت کا کچھ خوف ہو گا وہ آپ کی بات سنیں گے اور جن کے دل اس خوف سے خالی ہیں ان پر آپ کا انذار بے اثر ہی رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کی دعوت سے بدک رہے ہیں ان کے بدکنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس دعوت میں یا اس کے داعی میں کوئی خرابی ہے بلکہ ان بدکنے والوں کے دلوں میں ہی خرابی ہے۔ وہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ آخرت کا کوئی اندیشہ ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اس بڑی آگ میں پڑیں گے جو ان کے لیے تیار ہے۔ پھر اس میں…
Read the full tafseer →یعنی آپ کی نصیحت سے وہ یقینا عبرت حاصل کریں گے جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوگا، ان میں خشیت الہی اور اپنی اصلاح کا جذبہ مزید قوی ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
4: اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو جو شریعت عطا فرمائی ہے، وہ بذات خود آسان ہے، پھر مزید تسلی دی گئی ہے کہ ہم اس پر چلنے کو بھی آپ کے لیے آسان کردیں گے۔
Read the full tafseer →سیذکر ................................ فصلی آپ یاد دہانی کرائیں اور اس یاد دہانی سے استفادہ وہی شخص کرے گا جو ڈرتا ہو۔ من یخشیٰ (10:87) جس کے دل میں خدا کا خوف ہو ، اور جو خدا کے غضب اور خدا کے عذاب سے ڈرتا ہے ، اور وہی شخص ڈرتا ہے اور محتاط رہتا ہے جو زندہ ہو۔ اور یہ شخص جانتا ہو کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے ، جس نے اس جہاں کو پیدا کرکے اسے نہایت متوازن بنایا ہے ، تقدیر مقرر کی اور لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کی۔ اس نے لوگوں کو ویسا ہی شتر بےمہار بناکر نہیں چھوڑ دیا اور نہ مہمل پیدا کیا ہے۔ لہٰذا خیروشر کے سلسلے میں اللہ حساب لینے والا ہے اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو ایسا شخص…
Read the full tafseer →4 سمجھانے سے وہ ہی سمجھتا ہے اور نصیحت سے وہ ہی فائدہ اٹھاتا ہے، جس کے دل میں تھوڑا بہت خدا کا ڈر اور اپنے انجام کی فکر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت 10{ سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی۔ } ”وہ نصیحت حاصل کرلے گا جو ڈرتا ہے۔“ آپ ﷺ لوگوں کو تذکیر و نصیحت کرتے جایئے ‘ جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا وہ اس کا اثر ضرور قبول کرے گا اور اسے فائدہ بھی ہوگا۔ چناچہ اے نبی ﷺ جب بھی آپ پر کوئی نئی وحی آئے تو آپ وہ نیا کلام پڑھ کر لوگوں کو ضرور سنائیں۔ آپ ﷺ کے اہل ایمان ساتھیوں کے علم اور ایمان میں اس سے ضرور اضافہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
8 یعنی جب آپ دیکھیں کہ آپ کی نصیحت سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو ایسے لوگوں کو بار بار وغط و نصیحت کرتے رہیے۔ اور جو لوگ وعظ و نصیحت سے الٹا اثر لیں، مذاق اڑانے لگیں، یا مخالفت پر اتر آئیں تو ایسے لوگوں کو وعظ و نصیحت سے اجتناب کیجیے۔ واضح رہے کہ دعوت و تبلیغ اور چیز ہے اور وعظ و نصیحت اور چیز۔ نبی کی ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ کا پیغام سب لوگوں تک پہنچا دے خواہ وہ اسے قبول کریں یا برا مانیں۔ لیکن وعظ و نصیحت صرف ان کے لیے ہے جو وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہوں، سب کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس کے لیے جس کے دل میں کچھ اللہ کا ڈر ہو اور جو ڈرتا ہی نہیں اس کے لیے وعظ و نصیحت کچھ معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
8۔ یعنی نہ اس معنی میں مرے گا کہ دردواذیت کا احساس باطل ہوجائے، اور نہ جئے گا اس معنی میں راحت ولذت کسی قسم کی بھی محسوس کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →سیذکر من یخشی . یہ فائدہ اٹھانے والے کا ذکر ہے یعنی جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے ‘ وہی نصیحت اندوز اور منفعت گیر ہوگا کیونکہ وہی نصیحت پر غور کرے گا اور اللہ کے عذاب کے ڈر سے عمل کرے گ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(8۔ 13) اور ہم آپ کو تبلیغ رسالت کے لیے اور تمام طاعتوں کے لیے سہولت دے دیں گے اور قرآن کریم کے ذریعے سے نصیحت کیا کیجیے اور سب کو یہ نصیحت مفید نہیں ہوسکتی، سوائے اس مومن کے جو اس نصیحت کو قبول کرتا ہو اور اللہ سے ڈرتا ہو اور جو سخت بد نصیب ہے وہ قرآنی نصیحتوں اور اللہ تعالیٰ سے دور بھاگتا ہے، بالاخر دوزخ کی بڑی آگ میں داخل ہوگا کہ اس سے بڑا عذاب اور کوئی نہیں اور پھر اس دوزخ میں نہ مر ہی جائے گا کہ چھٹکارا ہوجائے گا اور نہ آرام کی زندگی پائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(فذکر ان نفعت الذکری…:”تو نصیحت کر اگر صنیحت کرنا فائدہ دے“ اس پر سوال پیدا ہوتا کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے تو کیا نصیحت چھوڑ دی جائے ؟ جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ نصیحت کرتے رہنا لازم ہے۔ تو پھر آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آیت کی مختلف تفاسیر میں سیت ین تفسیریں زیادہق ریب ہیں :(1) تفسیر ثنئای میں ہے کہ اس آیت کی بنا پر بعض لوگ گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ نصیحت کے نفع دینے کی صورت میں نصیحت کرنے کا حکم ہے ورنہ نہیں، یہ ان کی غلطی ہے۔ آیت میں ”ان“ ہے کہ جب تک انسان کو کسی قطعی دلیل سے یہ معلوم نہ ہوجائے کہ فلاں شخص کو نصیحت فائدہ نہ دے گی ”ان“ کا محل رہتا ہے اورق طعی…
Read the full tafseer →سیذکر من یخشی۔ جو اللہ تعالیٰ سے تقوی اختیار کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے وہ نصیحت حاصل کرے گا، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابن مکتوم کے حق میں نازل ہوئی، ماوردی نے کہا : جو آدمی اس سے امیدر کھتا ہے وہ بھی نصیحت حاصل کرتا ہے مگر ڈرنے والے کا نصیحت حاصل کرنا امیدر کھنے والے کے نصیحت حاصل کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ اس وجہ سے یہاں تذکرہ کو خشیت کے ساتھ معلق کیا ہے رجاء کے ساتھ معلق نہیں کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ وعظ ونصیحت ہر کسی کو کریں گے اگرچہ واعظ اسے نفع دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے لیکن تجھے دعوت کا ثواب تو مل جائے گا یہ قشیری نے بیان کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
46۔ عبد بن ھمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت سیذکر من یخشی ویتجنبہا الاشقی جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ جلدی سمجھ جائے گا اور اس سے بڑا بدنصیب الگ رہے گا۔ اللہ کی قسم جو بندہ کبھی بھی اللہ سے ڈرا اس نے اس کا ذکر کیا اور جو بندہ اس ذکر سے بےرغبتی کے سبب اور ذکر اور اہل ذکر سے بغض رکھنے کے سبب دور ہٹتا ہے تو وہ بدبختوں میں سے ایک بدبخت ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →[سَيَذَّكَّرُ مَنْ : نصیحت حاصل کرے گا (اس سے) وہ، جو ][ يَّخْشٰى: ڈرتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
پھر فرمایا : ﴿ سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى ۙ0010﴾ (وہ شخص نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے) ۔ ﴿ وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ0011﴾ (اور اس نصیحت سے وہ شخص پرہیز کرے گا جو بڑا بدبخت ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
7:۔ ” سیذکر “ اس میں پہلے فریق کا ذکر ہے۔ پند و نصیحت اور وعظ و ارشاد سے صرف وہی فائدہ اٹھائیں گے جن کے دلوں میں خدا کا خوف اور اللہ کی طرف انابت و رجوع کا جذبہ موجود ہو۔ ” ویتجنبہا الاشقی “ یہ دوسرے فریق کا بیان ہے اور ساتھ اس فریق کے لیے تخویف اخروی ہے۔ وہ بدبخت کفار و مشرکین جو انکار وعناد پر اصرار کرتے ہیں، پند و نصیحت کو قبول کرنے سے اجتنبا کریں گے۔ ان کی سزا یہ ہوگی کہ وہ سب سے بڑی آگ میں داخل ہوں گے۔ مراد دوزخ کا سب سے نچلا طبقہ ہے۔ ای الطبقۃ السفلی من اطباق النار کما قال الفراء (روح ج 30 ص 108) ۔ ایسے بدبخت جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے سزا پاتے رہیں گے ان کو وہاں نہ موت ہی آئے گی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى 10 ۙ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
ترکیب ¦ ونیسرک معطوف علی سنقرئک وقولہ انہ یعلم الجہر وما یخفٰی اعتراض ای سنقرئک فلا تنسٰی ونو فقک للطریقۃ التیھی اسہل والیسران شرطیۃ نفعت الذکریٰ شرط وقولہ فذکر یدل علی الجزاء الذی یصلی الخ صفۃ الاشقیٰ ثم لایموت عطف علی یصلی وذکر عطف علی تزکی وفصلی عطف علی ذکر۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا سبح اسم ربک الاعلیٰ کہ اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح بیان کر اور اب اس تسبیح کے ثمرات بیان فرماتا ہے۔ فقال ونیسرک للیسریٰ کہ ہم تیرے لیے نجات کے رستے کو آسان کردیں گے۔ نجات کو یسریٰ یوں کہا کہ وہ کوئی درحقیقت مشکل اور محال بات نہیں جیسا کہ مذاہب باطلہ میں ہے کہ کوئی بتوں پر اپنی اولاد کی قربانی کو نجات کا سبب جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی۔ (الاَعلٰی : 10) (نصیحت قبول کرے گا وہ شخص جو ڈرتا ہے۔ ) ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی یعنی تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں آپ کو تجربہ ہوجائے گا کہ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے وہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔ اور جنھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میری زندگی کا کوئی مقصد ہے یا نہیں۔ ہر چیز کا ایک انجام ہے تو کیا میری زندگی کا کوئی انجام نہیں۔ اگر واقعی آخرت ہوئی تو میں نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے۔ ایسے شخص سے کسی بہتری کی امید رکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے آپ بھی اس پر جان نہ ماریں۔ لیکن جس دل میں سنجیدگی ہو اور جس دماغ میں سلامتی ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی قدرتوں کا ذکر جاری ہے۔ جو ” رب “ اپنی قدرت سے نباتات کو اگاتا اور اسے کوڑا کرکٹ بناتا ہے اسی نے اپنی قدرت سے نبی ﷺ کو قرآن پڑھایا اور یاد کروایا۔ ان آیات کا یہاں لانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ جس طرح انسان اور نباتات کا پہلے وجود نہیں تھا اسی طرح وحی سے پہلے آپ کی نبوت کا وجود نہ تھا۔ انسان اور دیگر چیزوں کے لیے فنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی کو فنا نہیں ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں نبی ﷺ وحی کو یاد رکھنے کے لیے عجلت فرمایا کرتے تھے تاکہ وحی کا کوئی حصہ بھول نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو پڑھنے اور یاد کرنے میں عجلت سے کام…
Read the full tafseer →10 : سَیَذَّکَّرُمَنْ یَّخْشٰی (وہی شخص نصیحت مانتا ہے۔ جو ڈرتا ہے) عنقریب وہ نصیحت حاصل کرے گا اور نصیحت کو قبول کرے گا۔ جو اللہ تعالیٰ سے اور اپنی بد انجامی سے ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔” سیذکر “ عنقریب نصیحت حاصل کرے گا۔ ” من یخشیٰ “ اللہ عزوجل سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…
Read the full tafseer →(سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى) جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ نصیحت حاصل کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اعمال کی جزاوسزا دینے اس کی قدرت کا علم بندے کے لیے ان امور سے باز رہنے کا موجب بنتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے بھلائی کے امور میں سعی کا موجب بنتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(11) خوف و خشیت خداوندی باعث سعادت و سرفرازی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ شخص ضرور نصیحت قبول کرے گا جو ڈرتا ہو، یعنی جو ڈرتا ہو اپنے خالق ومالک سے، اور اس کے حضور جوابدہی سے، کیونکہ اس خوف اور فکر سے وہ ایک ذمہ دار شخص بن جاتا ہے جس سے اس کے اندر ہدایت و حق کی سچی طلب اور تڑپ پیدا ہوجاتی ہے، اور ایسی طلب و تڑپ کے بعد تذکیر و نصیحت سے نفع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے دوسری جگہ فرمایا گیا فَذَکِّرْ بالْقُرْآنِ مَن یَخَافُ وَعِیْدِ ( ق 45) یعنی آپ تذکیر و یاد دہانی کریں اس قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کی جو ڈرتا ہو میری وعید اور عذاب سے اور آخرت کے عقیدے سے محرومی اور لاپرواہی انسان کو حیوان محض اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ف 20 ان نفعت الذکری کا لفظی ترجمہ یوں ہے اگر سمجھانا فائدہ دے “ یہ صرف ایک حالت کا ذکر ہی دوسری حالت یہ ہے کہ سمجھانے کا فائدہ نہ ہو نبی صلعم پر لوگوں کو سمجھانا چونکہ دونوں حالتوں میں ضروری تھا اس لئے ترجمے میں آیت کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ (لوگوں کو) سمجھایئے۔ فائدہ ہو (یا نہ ہو) “ قاضی شو کانی نے آیت کے اس مطلب کو ترجیح دی بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ لوگوں کو اس وقت تک سمجھایئے جب تک سمجھانا فائدہ دے۔ یعنی موقع کی مناسبت سے لوگوں کو سمجھایا کیجیے کہ سمجھنے کے لئے متوجہ ہوں اور ملول نہ ہوں۔
Read the full tafseer →(87:10) سیذکر : سین کے لئے ملاحظہ ہو 87:6 متذکرہ الصدر۔ یذکر مضارع واحد مذکر غائب تذکرۃ (تفعل) مصدر۔ یہ اصل میں یتذکر تھا ت کو ذال میں مدغم کیا۔ یذکر ہوگیا۔ نصیحت پکڑے گا۔ من یخشی : من موصولہ۔ یخشی (صلہ) مضارع واحد مذکر غائب خشیۃ (باب سمع) مصدر۔ بمعنی ڈرنا۔ من یخشی جو ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 6) اے محبوب ﷺ اس وحی کو یاد رکھنا آسان ہوجائے گا اور اللہ کی معرفت اور عبادت اور ملک وملت کی سیاست کے طریقے سب سہل کردیے جائیں گے اور کامیابی کا راستہ سے تمام مشکلات ہٹادی جائیں گی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایسے انعام فرمائے ہیں آپ دوسروں کو فیض پہنچائیں اور اپنے کمال سے دوسروں کی تکمیل کیجئے، ہاں یہ نہ ہوگا کہ سب آدمی نصیحت پالیں اور ایمان لے آئیں بلکہ سمجھانے سے وہی سمجھتا ہے اور نصیحت سے وہ ہی فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں تھوڑا بہت خدا کا ڈر اور اپنے انجام کی فکر ہو اور جس بدقسمت کے نصیب میں دوزخ کی آگ لکھی ہے وہ کہاں سمجھتا ہے اسے خدا کا اور اپنے انجام کا ڈر ہی نہیں جو نصیحت کی طرف متوجہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[8] یعنی ہم ایک آسان طریقہ تمہارے لئے میسر کئے دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ نصیحت کرو جہاں تم محسوس کرو کہ کوئی اس سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ہمہ گیر صداقت 1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…
Read the full tafseer →(10) وہی شخص جلدی نصیحت قبول کرتا ہے جو ڈرتا ہے - یعنی وہی شخص سمجھائے سے سمجھتا ہے جس کے دل میں خدا کا ڈر ہو اور وہ اپنے انجام کی فکر رکھتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
ف 5۔ روح المعانی میں عبد بن حمید کی روایت سے حدیث مرفوع مذکور ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر قبل توراة کے دس۔
Read the full tafseer →عنقریب وہ شخص نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرنے والا 10 ؎ فرمایا نصیحت کرنے والے کی نصیحت سے وہی فائدہ حاصل کرتا ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف موجود ہے اور روز جزاء کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے کیونکہ وہ تو خود اس تلاش میں ہے کہ کوئی اس کو نصیحت کرنے والا ملے جو اس کو نصیحت کرے اور وہ اس کی نصیحت سے فائدہ حاصل کرے اور سنت اللہ یہی ہے کہ جو تلاش کرتا ہے وہ حاصل کرلیتا ہے اور جو تلاش نہیں کرتا اور نہ جستجو کرتا ہے اس کو کچھ بھی میسر نہیں ہوتا ۔ آپ کے دروازے کے سامنے نہر بہہ رہی ہے لیکن آپ اس میں اترنا نہیں چاہتے بلکہ اوپر سے گزرتے ہیں اور ساری عمر گزرتے رہتے ہیں تو آپ کا میل دور ہوگا ؟ لیکن جس کے دروازے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَىٰ (So, extend advice [ to people ] if advice is useful....87:9) The preceding verses described the facilities created by Allah for the Holy Prophet in performing his Prophetic obligation. This verse commands him to perform his obligation. The verse contains the conditional particle 'in' (if) that apparently makes the sentence a conditional statement. But, in fact, the command is not intended to be made conditional. It is rather an emphatic statement. This is similar to the grammatical phenomenon in many languages. The particle 'if' is sometimes used when…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
11 That is, only the one who has fear of God and of evil consequences, will consider whether or not he is following a wrong way, and he only will heed the admonition of the Servant of Allah who is distinguishing guidance from misguidance for him and guiding him to true successes and piety.
Read the full tafseer →