Al-A'laa 87:16

Al-A'laa · from ayah 16

87:16

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا ۟ۚۖبَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا

مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

But you prefer the worldly life,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'laa

All translations of 87:16

مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ تم (اﷲ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے) دنیاوی زندگی (کی لذتوں) کو اختیار کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو ہی ترجیح دیتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اصل یہ ہے کہ تم مقدم دنیوی زندگی کو رکھتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

No; but you prefer the present life,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But you prefer the worldly life,

— Muhammad Taqi Usmani

But you prefer the worldly life,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Rather you prefer the life of this world.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But you prefer the worldly life,

— Saheeh International

However, (the disbelievers) prefer the worldly life

— Muhammad Sarwar

Nay! you prefer the life of this world,

— Muhammad Habib Shakir

But ye prefer the life of this world,

— Abdul Majid Daryabadi

Nay (behold), ye prefer the life of this world;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 87:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–19

جس نے صلوۃ کو بروقت ادا کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کرلیا احکام اسلام کی تابعداری کی نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پالی رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا (بزار) ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے حضرت ابو العالیہ نے ایک مرتبہ الو خلدہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْلٰی 16 یعنی تم لوگوں کی ساری فکر بس دنیا اور اس کی راحت و آسائش اور اس کے فائدوں اور لذتوں کے لیے ہے یہاں جو کچھ حاصل ہوجائے تم سمجھتے ہو کہ بس وہی اصل فائدہ ہے جو تمہیں حاصل ہوگیا، اور یہاں جس چیز سے محروم رہے تمہارا خیال ہے کہ بس وہی اصل نقصان ہے جو تمہیں پہنچ گیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–17

زکوة کہتے ہیں کہ وہ باقی مال کو انسان کے لئے پاک کردیتی ہے یہاں لفظ تزکی کا مفہوم عام ہے جس میں ایمانی اور اخلاقی تزکیہ و طہارت بھی داخل ہے اور مال کی زکوٰة دینا بھی ہے۔ وذکر اسم ربہ فصلی، یعنی اپنے رب کا نام لیتا اور نماز پڑھتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس میں ہر قسم کی نماز فرض ونفل شامل ہے، بعض مفسرین نے جو خاص نماز عید سے اس کی تفسیر کی ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ بل تو ثرون الحیوة الدنیا، حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ عام لوگوں میں دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کیوجہ یہ ہے کہ دنیا کی نعمت و راحت تو نقد و حاضر ہے اور آخرت کی نعمت و راحت نظروں سے غائب اور ادھار ہے۔ حقیقیت سے ناآشنا لوگوں نے حاضر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–17

مخالفین کی مخالفت کی اصل علت: یہ آخر میں مخالفین یعنی قریش کے لیڈروں کو خطاب کر کے ان کے اصل سبب مخالفت سے پردہ اٹھایا دیا کہ تمہاری ساری مخالفت کی علت محض تمہاری دنیا پرستی ہے۔ تم آخرت کو ماننے اور اس کی خاطر اپنے دنیوی مفادات قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہو اس وجہ سے بے بنیاد شبہات ایجاد کرتے اور ان کو پھیلاتے ہو تاکہ اپنے عوام کو یہ فریب دے سکو کہ تمہارے گریز کے لیے فی الواقع کچھ وجوہ ہیں لیکن نادانو، یاد رکھو کہ تم اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی محبت میں پھنس کر ابدی بادشاہی کھو رہے ہو! بہتر اور پائدار چیز آخرت ہے۔ اگر تمہارے اندر سمجھ ہے تو اس کے طالب بنو!

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–16

14۔ 1 جنہوں نے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک کی آلودگی سے پاک کرلیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

بل توثرون ............................ وابقی حقیقت یہ ہے کہ دنیا پرستی ہی ہر مصیبت کی جڑ ہے۔ اسی وجہ سے انسان نصیحت سے منہ موڑتا ہے کیونکہ آخرت کا مطالبہ یہ ہوتا ہے اس کی فکر کرو اور آخرت کو ترجیح دو ۔ اور لوگ ہیں کہ دنیا کے طالب ہیں اور اس کو اولیت دیتے ہیں۔ اور اس دنیا کو دنیا ویسے نہیں کہا گیا ، بلکہ یہ دنیائے دنی ہے ، قریبی ہے اور جلد مٹنے والی ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت اچھی اور بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ والاخرة ........................ وابقی (17:87) ” یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے باقی رہنے والی اور اچھی اور ابدالا باد تک مسلسل ہونے والی ہے۔ لہٰذا جو لوگ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

9 یعنی یہ بھلائی تم کو کیسے حاصل ہو جب کہ آخرت کی فکر ہی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی اور یہاں کے عیش وآرام کو اعتقاد اً یا عملاً آخرت پر ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ دنیا حقیر وفانی اور آخرت اس سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ پھر تعجب ہے کہ جو چیز کماً و کیفاً ہر طرح افضل ہو اسے چھوڑ کر مفضول کو اختیار کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

آیت 16{ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ } ”بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔“ دراصل انسان کی اخروی کامیابی یا ناکامی کا تمام تر انحصار اس کی ترجیحات پر ہے۔ اگر تو وہ اپنے معاملات کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے آخرت کی کامیابی کو مقدم رکھتا ہے اور دنیوی مفادات کے حوالے سے قناعت پسندی کی حکمت عملی پر کاربند رہتا ہے تو وہ کامیاب ہے اور اگر اس کا معاملہ اس کے برعکس ہے تو اس کا راستہ تباہی اور بربادی کا راستہ ہے۔ اس آیت میں اس حوالے سے ہم جیسے دنیادار مسلمانوں کے اصل مرض کی نشاندہی کردی گئی ہے کہ ہم دنیوی زندگی کے مفادات کو آخرت کے معاملات پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–16

10 یعنی جس نے اپنے آپ کو کفر و شرک عقائد فاسدہ سے اور اخلاقی رذیلہ سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ یہاں بعض لوگوں نے تزکی ٰسے مراد زکوٰۃ اور بالخصوص صدقہ فطر اور (وذکر اسم ربہ) سے مراد تکبیرات عیدین اور فصلی سے مراد نماز عید لی ہے۔ اور اگر اس آیت کو اس کے عام مفہوم میں لیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ یعنی جو شخص اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لے پھر اللہ کو زبان سے بھی یاد کرتا رہے اور دل میں بھی یاد رکھے۔ پھر اسی کی تائید کے طور پر باقاعدگی سے نمازیں ادا کرتا رہے تو سمجھ لو کہ اس کی زندگی سنور گئی اور کامیاب ہوگیا۔ یہاں کامیابی سے مراد اخروی کامیابی تو یقینی ہے اور اس دنیا میں اس کی کامیاب زندگی کا انحصار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–17

10۔ یہاں اہل طغیان کی غفلت کا اصل راز بتادیا، اور ان سے کہہ دیا کہ تم جو ہدایت یاب نہیں ہوتے، تو اس کی اصل بنیاد یہ ہے کہ آخرت کی تمہارے اندر کوئی طلب ہی نہیں۔ ، تم سارے عظیم الشان نظام کائنات کے چھوڑے ہوئے اپنی سطحیت وحمق سے اس کے صرف ایک اقل قلیل جزو یعنی اسی ناسوتی، مادی زندگی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہو !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–19

فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا . یعنی اے بدبختو ! تم نہ تزکیہ کرتے ہو ‘ نہ اللہ کی یاد کرتے ہو ‘ نہ نماز پڑھتے ہو بلکہ آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–19

(16۔ 19) بلکہ یہ لوگ آخرت پر دنیوی زندگی اور اس کے صلہ کو فوقیت دیتے ہیں، حالانکہ ثواب آخرت دنیوی ثواب سے بدرجہا بہتر اور پائیدار ہے، یہ مضمون جو قد افلح سے بیان کیا ہے یہ پہلے لوگوں کی کتابوں میں ہے، یعنی حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں اور موسیٰ کی توریت میں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 16–19

(بل توثرون الحیوۃ الدنیا…: فرمایا، آخرت کی بھلائی کے کاموں میں تم اس لئے کوتاہی کرتے ہوئے کہ دنیا کے مشغلوں کو چھوڑنا تمہیں شاق گزرتا ہے، حالانکہ تم اسے نہ بھی چھوڑو گے تو وہ تمہیں چھوڑ دے گی، کیونکہ وہ باقی رہنے والی نہیں ہے اور اگر آخرت کو اختیار کرلو گے تو وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی، پھر سوچ لو کسے ترجیح دینی چاہیے۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

بل توثرون الحیوۃ الدنیا۔ یہ عام قراء کی قرات ہے اس کی تصدیق حضرت ابی کی قرات بھی کرتی ہے بل انتم توثرون، ابوعمرو اور نصر بن عاصم نے اسے بل یوثرون یاء کے ساتھ پڑھا ہے تقدیرکلام یہ ہے بل یوثرون الاشقون الحیاۃ الدنیا۔ پہلی تعبیر کی صورت میں معنی یہ ہوگا بلکہ اے مسلمانو ! تم دنیا کی کثرت چاہتے ہو تاکہ تم زیادہ ثواب حاصل کرسکو، حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی اور پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ ہم نے دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے ؟ کیونکہ دنیاحاضر ہے اس کی پاکیزگیاں، اس کا کھانا، اس کا مشروب، اس کی لذت اور رونقیں جلدی نصیب ہوتی ہیں، جب کہ آخرت ہم سے غائب ہے پس ہم نے دنیا کو لے لیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–17

74۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ عہ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ بلکہ تم دنیا کی زندگی تو آخرت پر ترجیح دیتے ہو۔ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینی چاہیے 75۔ ابن جریر وابن المنذر والطبرانی والبیہقی نے شعب الایمان میں عرفجہ الثقفی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن مسعود ؓ سے سورة سبح اسم ربک الاعلیٰ ۔ پڑھی۔ جب وہ اس آیت بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا پر پہنچے۔ تو قراءت چھوڑدی اور اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تو قوم چپ ہوگئی پھر فرمایا ہم نے دنیا کو ترجیح دی کیو کہ ہم نے دیکھا اس کی زینت کو اور اس کی عورتوں کو اس کے کھانے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ : بلکہ تم لوگ ترجیح دیتے ہو ][ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : اس دنیوی زندگی کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–17

﴿ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاٞۖ0016﴾ (بلکہ تم لوگ دنیا والی زندگی کو ترجیح دیتے ہو) ۔ پہلے تو انسانوں کی کامیابی اس میں بتائی کہ انسان اپنے نفس کو پاک صاف رکھے کفر و شرک سے بھی اور دوسرے گناہوں سے بھی اور نمازوں کا اہتمام کرے جو تزکیہ نفس کا بہت بڑا ذریعہ ہے اس کے بعد انسانوں کی ناکامی کا سبب بتایا اور وہ دنیا کو ترجیح دینا اور آخرت سے غافل ہونا ہے۔ بہت سے لوگ اسلام کو حق جانتے ہوئے دنیاوی عہدوں اور مال و جائیداد کی وجہ سے کفر و شرک میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ جو مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں وہ فرائض و واجبات تک کو دنیا داری اور دکان داری اور نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

9:۔ ” بل تؤثرون “ توحید کے بعد مضمون تزہید فی الدنیا کا ذکر۔ تمہیں چاہئے تھا (اے اہل مکہ) کہ تم پند و نصیحت کو قبول کرلیتے اور توحید کو مان لیتے مگر تم نہیں مانتے بلکہ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہو اور ایمان و عمل سے آخرت کی تیاری کرنے کے بجائے داد عیش دینے اور مال و زر جمع کرنے میں منہمک ہو حالانکہ آخرت دنیا کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر اور باقی رہنے والی چیز ہے۔ دنیا اور دنیا کی ہر چیز مال و زر جمع کرنے میں منہمک ہو حالانکہ آخرت پر دنیا کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر اور باقی رہنے والی چیز ہے۔ دنیا اور دنیا کی ہر چیز زوال پذیر اور فانی ہے مگر آخرت کا دار ازلی اور وہاں کی ہر نعمت لازوال اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–19

(گذشتہ سے پیوستہ ) سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا ذکر ہوا اور اس کی صفات کمال کا بیان ہوا۔ اس کے بعد انسان کی طبعی ضرورت ہدایت اور اس کے حصول کے ذرائع کا تذکرہ ہوا اللہ تعالیٰ نے مثال کے ذریعہ سمجھایا کہ جس طرح جانوروں کے لیے اللہ نے چارے کا بندوبست کیا ہے ۔ اسی طرح نوع انسانی کے لیے ہدایت کا انتظام بھی کردیا ہے ۔ اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم آپ کو کتاب یعنی قرآن پاک اس طرح پڑھا دیں گے کہ آپ بھولیں گے نہیں ۔ البتہ جو چیز اللہ تعالیٰ خود بھلا دینا چاہیں گے وہ آپ کی یاداشت سے خارج کردی جائیگی اور آپ کو حکم ہوا ۔ کہ آپ تبلیغ کا حق ادا کرتے رہیں ۔ لوگوں کو نصیحت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۝ 16 ۡ ۖ بل بَلْ كلمة للتدارک، وهو ضربان : - ضرب يناقض ما بعده ما قبله، لکن ربما يقصد به لتصحیح الحکم الذي بعده وإبطال ما قبله، وربما يقصد تصحیح الذي قبله وإبطال الثاني، فممّا قصد به تصحیح الثاني وإبطال الأول قوله تعالی: إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ كَلَّا بَلْ رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ ما کانوا يَكْسِبُونَ [ المطففین/ 13- 14] ، أي : ليس الأمر کما قالوا بل جهلوا، فنبّه بقوله : رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ علی جهلهم، وعلی هذا قوله في قصة إبراهيم قالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هذا بِآلِهَتِنا يا إِبْراهِيمُ قالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–19

ترکیب ¦ بل اضراب عن کلام مقدر یدل علیہ السیاق ای انتم لا تفعلون ذلک بل تو ثرون اللذات الفانیۃ العاجلۃ الحاصلۃ فی الدنیا علی الدار الآخرۃ ونعماھا الباقیۃ والآخرۃ مبتداء خیر وابقی خبر والجملۃ حال من فاعل تو ثرون ‘ صحف ابراھیم اللخ بدل من الصحف الاولیٰ ۔ تفسیر ¦ کفار دنیا پرست کہتے تھے کہ ہم کو تزکیہ اور ذکر اور نماز میں کوئی فلاح نہیں معلوم ہوتی کیا ہم عقل و ادراک نہیں رکھتے اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے یا یوں کہو کہ وہ بھی تزکیہ کے مدعی تھے۔ ان کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے تمہیں عقل و ادراک کیا نہیں بل بلکہ تم تؤثرون الحیوۃ الدنیا دنیا کی چند روزہ زندگانی اور اس کے لذات فانیہ کو آخرت اور اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌوَّاَبْقٰی۔ (الاَعلٰی : 16، 17) (مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ ) مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب اس آیت کریمہ میں مخالفین کے بڑے بڑے لیڈروں کی مخالفت کا اصل سبب منکشف فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ لوگ جو قیامت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور آنحضرت ﷺ کی دعوت ان کے نزدیک قابل قبول نہیں تو اس کا سبب یہ نہیں کہ اس مخالفت کے لیے ان کے پاس کوئی معقول دلیل موجود ہے بلکہ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ ان کی فکر پوری طرح حب دنیا میں ڈوب چکی ہے۔ وہ اس عقیدے کو قبول کرکے ناجائز دنیوی مفادات کو قربان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–19

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی لوگوں کا کردار۔ وہ شخص جہنم سے بچ جائے گا جس نے اپنے آپ کو پاک رکھا، اور اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کے حضور پنجگانہ نماز ادا کرتارہا۔ ” تَزَکیّٰ “ سے پہلی مراد کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ گناہوں سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ آدمی فرض نماز ادا کرتا رہے اور ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھے۔ رب کو یاد کرنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ زبان سے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پڑھے اور توبہ کا ورد کرتا رہے مگر عملی طور پر کفر و شرک اور نافرمانی کے کاموں میں مبتلا رہے۔ ذکر کا پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے احکام کو یاد رکھے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا (بلکہ تم اپنی دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو) آخرت کے مقابلہ میں مقدم رکھتے ہو۔ پس وہ کام نہیں کرتے جن سے آخرت میں کامیاب ہوجائو۔ مخاطبین کفار ہیں۔ اس کی دلیل قراءت ابی عمرو ہے۔ قراءت : یوثرون یاءؔ کے ساتھ ابو عمرو نے پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” بل توثرون “ ابوعمرو اور یعقوب رحمہما اللہ نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ بدبخت لوگ جن کا ذکر کیا گیا اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل ابی بن کعب ؓ کی قرات ہے۔ ” بل انتم توثرون الحیوۃ الدنیا “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–19

14۔ 19۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص توحید پر قائم رہا اور اللہ کی یاد دل میں رکھ کر پانچوں وقت کی نماز اس نے ادا کی اس کے لئے عقبیٰ میں بلاشک بھلائی ہے اللہ کی یاد دل میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عبادت میں دنیا کا دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو۔ بعض علماء نے اللہ کی یاد سے زبانی یاد لے کر وذکر اسم ربہ سے تکبیر تحریمہ کے فرض ہونے کا مطلب نکالا ہے مکی آیتوں میں فقط توحید اور نماز کا ذکر اس واسطے ہے کہ روزہ حج زکوٰۃ یہ چیزیں ہجرت کے بعد مدینہ کے قیام میں فرض ہوئی ہیں قد افلح من تزکی کی تفسیر بعض مفسروں نے صدقہ فطر سے جو کی ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان آیتوں میں سے جن کا نزول عمل سے پہلے ہے جیسے آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا) یعنی تم دنیا کی زندگی کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو اور آخرت کے مقابلے میں ختم ہونے والی مکدر کرنے والی اور زائل ہوجانے والی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–19

نماز کا افتتاح ذکر الٰہی سے ہو قول باری ہے (قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی) حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز اور ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ” وہ شخص فلاح پا گیا جس نے صدقہ فطر ادا کیا اور پھر عید کی نماز کے لئے نکل گیا۔ “ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے صدقہ فطرادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ نماز سے پہلے تم صدقہ فطرادا کرو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (وذکراسم ربہ فصلی ) سے تمام اذکار کے ذریعے نماز کے افتتاح کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–16

(15) ایمان اور تزکیہ نفوس کی اولین علامت نماز : چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی " جو کہ باطن کی صفائی اور پاکیزگی حاصل کرنے کا عظیم الشان ذریعہ ہے، سو یہ اس تذکیہ کی اولین علامت بھی ہے اور اس کا اصل طریقہ بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت کا اصل اور صحیح طریقہ یہی ہے کہ اس کے اسمائے حسنی اور اس کی صفات علیا کی یاد دلشاد کے ذریعے اس کی معرفت کے حصول کی کوشش کی جائے، اور ان کی اسمائے صفات کی روشنی میں دیکھا جائے کہ حضرت حق جل مجدہ کے بارے میں ہمارے عقائد کیا ہونے چاہیں، اور ان عقائد کی بنا پر اس کے ہم پر کیا حقوق و فرائض عائد ہوتے ہیں، اور ان کو کس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–19

اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

فوائد صفحہ ہذا1 آیت کا یہی مطلب واضح ہے بعض مفسرین نے … جیسے عطار … نے لفظ ” تزکی “ کے لفظ سے یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں زکوۃ یعنی صدقہ فطر ادا کرنے پھر تکبیریں کنے اور پھر عید کی نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن یہ مطلب لینا اس لئے صحیح نہیں ہے کہ آیت مکی ہے حالانکہ صدقہ فطر اور عید کا حکم مدینہ میں دیا گیا ہے۔ (تنبیہ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبیر تکریمہ (یعنی نماز شروع کرتے وقت ” اللہ اکبر “ کہنا) فرض ہے اور یہی چیز حدیث میں نبی ﷺ سے ثابت ہے چناچہ آپ کا ارشاد ہے :” نماز کی کنجی طہارت ہے، اس کی تحریم ” اللہ اکبر “ کہنا ہے اور اس کی تحلیل (کھولنا) سلام پھیرنا ہے۔ “ (ابودائود۔ ترمذی وغیرہ من…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(87:16) بل تؤثرون الحیوۃ الدنیا : تؤثرون مضارع جمع مذکر حاضر ایثار (افعال) مصدر سے تم اختیار کرتے ہو۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ تم پسند کرتے ہو۔ (نیز ملاحظہ ہو 79:38) بل حرف اضراب ہے ماقبل سے اعراض اور مابعد کا اقرار۔ یعنی اے بدبختو (خطاب کفار مکہ سے ہے) تم نہ تزکیہ کرتے ہو نہ اللہ کی یاد کرتے ہو نہ نماز پڑھتے ہو بلکہ آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ (تفسیر مظہری) بل اس کلام مقدرہ سے اعراض ہے جس کی طرف سیاق کلام (رفتار کلام ، ترتیب کلام) دلالت کر رہا ہے۔ اور جو تم نہیں کر رہے ہو بلکہ تم دنیا کی لذات فانیہ و عاجلہ (جلدی ہاتھ آنے والی) کو آخرت کی نعمتوں پر جو کہ باقی رہنے والی اور بہتر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–16

طہارت و پاکیزگی اور اس کی اقسام (ف 1) نجات اسی شخص کو ہے جو پاکیزگی حاصل کرے، پاکیزگی کئی قسم کی ہوتی ہے، اول تو کفر اور شرک اور عقائد باطلہ اور خلاق ذمیمہ سے دل کو پاک کرنا، دوسری قسم یہ ہے کہ بدن اور کپڑوں کو نجاسات حقیقیہ سے پاک رکھے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ نجاست حکمی سے پاک رہے۔ چوتھی قسم یہ ہے کہ موئے زیرناف اور بغل کے بال اور ناخن اور بدن کی میل علیحدہ کرے ، پس اگر کسی کی ڈاڑھی لمبی ہو یاسر پر بال رکھتا ہو تو اس کے واسطے ہر جمعہ کے دن بالوں کو دھونا اور کنگھے کا کرنا، اور عطر ملنا سنت موکدہ ہے ، پانچویں پاکی یہ ہے کہ مال کی زکوۃ دے اور خیرات کرے اور حرام اور مشتبہ مال سے اپنے مال کو بچائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[10] یعنی نہ موت ہی آئے گی کہ تکلیفوں کا خاتمہ کر دے اور نہ آرام کی زندگی ہی نصیب ہوگی۔ ہاں ایسی زندگی نصیب ہوگی جس کے مقابلے میں موت کی تمنا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

ہمہ گیر صداقت 1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) بلکہ اے منکرو ! حقیقت یہ ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو اور مقدم رکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–19

ف 5۔ روح المعانی میں عبد بن حمید کی روایت سے حدیث مرفوع مذکور ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر قبل توراة کے دس۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلکہ تم دنیا ہی کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو 16 ؎ ( توئثرون) کا اصل مادہ ا ث ر ہے۔ تم اختیار کرتے ہو ۔ تم پسند کرتے ہو ۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ ایثار سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ زیر نظر آیت میں انسان کی اصل بیماری کا ذکر کردیا گیا جہاں سے وہ مارکھا جاتا ہے ۔ فرمایا انسان کی ساری شقاوت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بےپروائی کی اصل وجہ دنیا اور آخرت کی خواہشات کو مقدم کرنا ہے حالانکہ ہر ایک عقل مند سمجھتا ہے کہ دنیا کا ہر ایک عیش اور راحت محدود اور فانی ہے پس اس فانی اور محدود چیز کو آخرت کی خاطر چھوڑنا جو دائمی اور ہمیشگی سے بہت ہی بہتر ہے اور جو شخص اپنی زندگی میں دنیاوی زندگی پر آخرت کو ترجیح دے دے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–17

قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (Success is surely achieved by him who purifies himself,..87:14) The word tazakka is derived from zakah, the primitive meaning of which is 'to purify'. The zakah of wealth is so called because it purifies the rest of man's wealth for him. In this context, the word tazakka is used in a general sense, which comprehends the purity of faith and character, and purity of wealth. وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ (and pronounces the name of his Lord, then offers prayer....87:15). This covers all categories of prayer, obligatory as well as supererogatory. Some commentators…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 That is, "O man, alI your thoughts and endeavors are only for the world, its ease and comforts, its benefits and enjoyments. You regard whatever you gain here as the real gain and whatever you lose here as your real loss"

Read the full tafseer →