Explained with ayahs 14–19
جس نے صلوۃ کو بروقت ادا کیا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کرلیا احکام اسلام کی تابعداری کی نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پالی رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا (بزار) ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے حضرت ابو العالیہ نے ایک مرتبہ الو خلدہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْلٰی 14
یاد سے مراد دل میں بھی اللہ کو یاد کرنا ہے اور زبان سے بھی اس کا ذکر کرنا ہے۔ دونوں چیزیں ذکر الہی کی تعریف میں آتی ہیں۔
سورة الْاَعْلٰی 15
یعنی صرف یاد کر کے رہ نہیں گیا بلکہ نماز کی پابندی اختیار کر کے اس نے ثابت کردیا کہ جس خدا کو وہ اپنا خدا مان رہا ہے اس کی اطاعت کے لیے وہ عملاً تیار ہے اور اس کو ہمیشہ یاد کرتے رہنے کا اہتمام کر رہا ہے، اس آیت میں علی الترتیب دو باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے اللہ کو یاد کرنا، پھر نماز پڑھنا، اسی کے مطابق یہ طریقہ مقرر کیا گیا ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر نماز کی ابتدا کی جائے۔ یہ من جملہ ان شواہد کے ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا جو طریقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
زکوة کہتے ہیں کہ وہ باقی مال کو انسان کے لئے پاک کردیتی ہے یہاں لفظ تزکی کا مفہوم عام ہے جس میں ایمانی اور اخلاقی تزکیہ و طہارت بھی داخل ہے اور مال کی زکوٰة دینا بھی ہے۔ وذکر اسم ربہ فصلی، یعنی اپنے رب کا نام لیتا اور نماز پڑھتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس میں ہر قسم کی نماز فرض ونفل شامل ہے، بعض مفسرین نے جو خاص نماز عید سے اس کی تفسیر کی ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ بل تو ثرون الحیوة الدنیا، حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ عام لوگوں میں دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کیوجہ یہ ہے کہ دنیا کی نعمت و راحت تو نقد و حاضر ہے اور آخرت کی نعمت و راحت نظروں سے غائب اور ادھار ہے۔ حقیقیت سے ناآشنا لوگوں نے حاضر…
Read the full tafseer →دین میں نماز کی اہمیت:
’وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی‘۔ یہ اس تزکیہ کی اولین علامت بھی ہے اور اس کا اصل طریقہ بھی۔ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ تمام علم کا سرچشمہ درحقیقت اسمائے الٰہی ہیں۔ انہی سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے رب کی صفات کیا ہیں اور پھر انہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان صفات کی روشنی میں ہمارے عقائد کیا ہونے چاہییں اور وہ عقائد ہمارے اوپر ہمارے رب اور اس کے بندوں سے متعلق کیا حقوق و فرائض عائد کرتے ہیں۔ گویا نماز کا ذکر یہاں ایمان باللہ کے اولین مظہرکی حیثیت سے ہوا ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس نکتہ کی وضاحت کر چکے ہیں کہ ایمان کا اولین مظہر نماز ہے اور پھر یہی چیز تمام شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14۔ 1 جنہوں نے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک کی آلودگی سے پاک کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
5: یعنی زندہ رہنے کا کوئی آرام اسے حاصل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قد افلح ................................ فصلی (15:87) ” فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی “۔ تزکی کے معنی ہیں ہر گندگی اور ہر گناہ سے پاکیزگی اختیار کی۔ اس آیت میں اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ جو پاکیزگی اختیار کرے اور اپنے دل میں رب کا جلال بسائے اور پھر نماز پڑھے یا اللہ سے ڈرے اور اطاعت کرے۔ دونوں معنوں سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی ہے اور جلال دل میں بیٹھتا ہے اور ضمیر میں اللہ کی ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ تو فیصلہ یہ ہے کہ وہ شخص فلاح پائے گا۔ دنیا میں بھی وہ فلاح پائے گا کہ اس کا دل اللہ سے جڑا ہوا ہوگا ، زندہ ہوگا ، اللہ کے ذکر میں وہ مٹھاس محسوس کرے گا اور…
Read the full tafseer →8 یعنی پاک و صاف ہو کر تکبیر تحریمہ میں اپنے رب کا نام لیا۔ پھر نماز پڑھی۔ اور بعض سلف نے کہا کہ " تزکی " زکوٰۃ سے ہے جس سے مراد یہاں " صدقۃ الفطر " ہے، اور " ذکر اسم ربہ " سے تکبیرات عید مراد ہیں۔ اور " فصلی " پھر تکبیریں، پھر نماز، والظاھر ھو الاول۔ (تنبیہ) حنفیہ نے پہلی تفسیر کے موافق اس آیت سے دو مسئلے نکالے ہیں۔ اول یہ کہ تحریمہ میں خاص لفظ " اللہ اکبر " کہنا فرض نہیں، مطلق ذکر اسم رب کافی ہے جو مشعر تعظیم ہو اور اپنی غرض و حاجت پر مشتمل نہ ہو۔ ہاں " اللہ اکبر " کہنا احادیث صحیحہ کی بناء پر سنت یا واجب قرار پائے گا دوسرے تکبیر تحریمہ نماز کے لئے شرط ہے رکن نہیں۔ کیونکہ " فصلی کا " ذکر…
Read the full tafseer →آیت 15{ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ } ”اور اس نے اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی۔“
اس آیت کے الفاظ کی عملی تصویر جمعہ کا اجتماع ہے۔ اجتماعِ جمعہ میں بھی پہلے خطبہ کی صورت میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے پھر نماز پڑھی جاتی ہے۔ مسلم شریف کی ایک حدیث میں اجتماعِ جمعہ کے حوالے سے حضور ﷺ کا یہ معمول نقل ہوا ہے :
کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ خُطْبَتَانِ کَانَ یَجْلِسُ بَیْنَھُمَا ‘ یَـقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیُذَکِّرُ النَّاسَ 1
”اللہ کے رسول ﷺ کے دو خطبے ہوتے تھے ‘ ان کے دوران آپ ﷺ بیٹھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ قرآن حکیم پڑھ کر سناتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے۔“
حضور ﷺ کے دونوں خطبات بہت مختصر ہوتے تھے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
10 یعنی جس نے اپنے آپ کو کفر و شرک عقائد فاسدہ سے اور اخلاقی رذیلہ سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ یہاں بعض لوگوں نے تزکی ٰسے مراد زکوٰۃ اور بالخصوص صدقہ فطر اور (وذکر اسم ربہ) سے مراد تکبیرات عیدین اور فصلی سے مراد نماز عید لی ہے۔ اور اگر اس آیت کو اس کے عام مفہوم میں لیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ یعنی جو شخص اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لے پھر اللہ کو زبان سے بھی یاد کرتا رہے اور دل میں بھی یاد رکھے۔ پھر اسی کی تائید کے طور پر باقاعدگی سے نمازیں ادا کرتا رہے تو سمجھ لو کہ اس کی زندگی سنور گئی اور کامیاب ہوگیا۔ یہاں کامیابی سے مراد اخروی کامیابی تو یقینی ہے اور اس دنیا میں اس کی کامیاب زندگی کا انحصار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
9۔ یعنی عقائد و اعمال میں راہ طاعت پر قائم رہا۔ (آیت) ” من تذ کی “۔ یعنی جس نے اپنے کو قرآن اور رسول ﷺ کے ذریعہ سے، عقائد واخلاق کی ساری خباثتوں سے پاک صاف کرلیا، (آیت) ” قد افلح “۔ فلاح کا مفہوم دنیوی واخروی ساری کامیابیوں کا جامع ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ دو مختصر آیتیں اہل طریق کے اعمال مقصودہ کی جامع ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →و ذکر اسم ربہ فصلی . اور اپنے رب کی یاد کی اور نماز پڑھی۔ حضرت جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قد افلح من تزکّٰی (یعنی) جس نے لا الٰہ الاّ اللہ کی شہادت دی اور اللہ کے شرکاء کو نکال باہر کیا اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دی اور ذکر اسم ربہ فصلّٰی (کی تشریح) میں فرمایا : یہ پانچ نمازیں اور ان کی نگہداشت و اہتمام ہے۔
حنفیہ نے کہا : ذکر اسم ربہ سے تکبیر تحریمہ مراد ہے۔ اسی بناء پر احناف کے نزدیک تکبیر افتتاح کو وہ نماز کا رکن نہیں قرار دیتے بلکہ شرط صلوٰۃ کہتے ہیں کیونکہ فصلّٰی میں فاء عطف ہے اور تعقیب کے لیے ہے اور عطف تعقیبی کا تقاضا ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ جدا ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(14۔ 15) وہ شخص کامیاب ہوا جس نے قرآن سن کر نصیحت حاصل کی اور توحید خداوندی کا قائل ہوا اور اپنے پروردگار کے حکم سے پانچوں نمازیں باجماعت پڑھتا رہا، یا یہ مطلب کہ وہ شخص کامیاب ہوا جس نے عیدگاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کیا اور آتے جاتے راستہ میں تکبیر و تہلیل کرتا رہا اور عید کی نماز امام کے ساتھ پڑھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(قد افلح من تزکی…:) یعنی کفر و شرک اور گناہوں سے پاک ہو کر اللہ اکبر کہہ کر پانچوں نمازیں پڑھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قد افلح من تزکی۔۔۔ فصلی
اس میں تین مسائل ہیں :
تزکی سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ قدافلح، جس نے ایمان کے ذریعے شرک سے پاکیزگی حاصل کی اس نے جنت میں بقا کو پالیا، حضرت حضرت ابن عباس، عطا اور عکرمہ کا قول ہے، حضرت حسن بصری، اور ربیع نے کہا، جس کا عمل بڑھنے والا تھا اس نے کامیابی حاصل کی، معمر نے قتادہ سے ذکر کیا ہے جس نے اچھے عمل کے ذریعے تزکیہ کیا، ان سے، عطا سے اور ابوالعالیہ سے مروی ہے، یہ حکم صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوا۔ ابن سیرین نے کہا : وہ نکلا اور صدقہ فطر کی ادائیگی کے بعد نماز ادا کی، عکرمہ نے کہا، آدمی کہا کرتا تھا میں صدقہ فطر اپنی نماز سے پہلے ادا کرتا ہوں، سفیان نے کہا، اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
47۔ البزار وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول آیت قد افلح من تزکی بیشک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہوگیا کے بارے میں فرمایا یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور بتوں سے ہٹ گیا۔ اور یہ گواہی دی کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اور آیت وذکر اسم ربہ فصلی اور اپنے رب کا نام دیا کیا پھر نماز پڑھی اس سے پانچ نمازیں مراد ہیں اور ان کے وقتوں کیساتھ ان پر پابندی اور اہتمام کرنا ہے۔
48۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جو شرک سے پاک ہوا اس نے فلاح پائی آیت وذکر اسم ربہ یعنی اللہ کی توحید کا اقرار کیا آیت فصلی…
Read the full tafseer →[وَذَكَرَ : اور اس نے یاد رکھا ][ اسْمَ رَبِهٖ : اپنے رب کے نام کو ][ فَصَلّٰى : پھر نماز پڑھی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قیامت کے دن کافر ناکام ہوں گے دوزخ میں جائیں گے جنت سے محروم ہوجائیں گے ان کی ناکامی بتانے کے بعد ارشاد فرمایا : ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ0014 وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ0015﴾ (وہ شخص کامیاب ہوا جو پاک ہوا اور اس نے اپنے رب کا نام لیا پھر نماز پڑھی) پاک ہونے میں عقائد باطلہ شرکیہ اور بدعیہ سے اور برے اخلاق اور برے اعمال سے پاک ہونا سب داخل ہے۔ اس میں لفظ تزکی باب تفعل سے لایا گیا ہے۔ جو مشقت پر دلالت کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ نفس راضی ہوا یا نہ ہوا بہرحال پاکیزہ زندگی اختیار کی اور سب سے بڑا تزکیہ نماز کے اہتمام سے حاصل ہوتا ہے اس لیے ساتھ یہ بھی فرمایا۔ اس نے رب کا نام لیا اور نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
8:۔ ” قد افلح “ یہ پند و نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ آخرت میں کامیاب وہی ہوگا جو شرک سے پاک رہا اور جس نے مصائب و حاجات میں صرف اللہ ہی کو پکارا اور نماز کی پابندی کی۔ ” من تزکی “ ای تطھر من الشرک بتذکرہ واتعاظہ بالذکری (روح) ۔ ” وذکر اسم ربہ “ مصائب وحاجات میں صرف اللہ کو پکارا اور اسی کے نام کا ورد کیا (الشیخ (رح) تعالی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
(گذشتہ سے پیوستہ )
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا ذکر ہوا اور اس کی صفات کمال کا بیان ہوا۔ اس کے بعد انسان کی طبعی ضرورت ہدایت اور اس کے حصول کے ذرائع کا تذکرہ ہوا اللہ تعالیٰ نے مثال کے ذریعہ سمجھایا کہ جس طرح جانوروں کے لیے اللہ نے چارے کا بندوبست کیا ہے ۔ اسی طرح نوع انسانی کے لیے ہدایت کا انتظام بھی کردیا ہے ۔ اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم آپ کو کتاب یعنی قرآن پاک اس طرح پڑھا دیں گے کہ آپ بھولیں گے نہیں ۔ البتہ جو چیز اللہ تعالیٰ خود بھلا دینا چاہیں گے وہ آپ کی یاداشت سے خارج کردی جائیگی اور آپ کو حکم ہوا ۔ کہ آپ تبلیغ کا حق ادا کرتے رہیں ۔ لوگوں کو نصیحت…
Read the full tafseer →وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰى 15 ۭ
اسْمُ
والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها .
وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین :
أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس .
والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ.
ويقال ذلک للأنواع الثلاثة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
ترکیب ¦ بل اضراب عن کلام مقدر یدل علیہ السیاق ای انتم لا تفعلون ذلک بل تو ثرون اللذات الفانیۃ العاجلۃ الحاصلۃ فی الدنیا علی الدار الآخرۃ ونعماھا الباقیۃ والآخرۃ مبتداء خیر وابقی خبر والجملۃ حال من فاعل تو ثرون ‘ صحف ابراھیم اللخ بدل من الصحف الاولیٰ ۔
تفسیر ¦ کفار دنیا پرست کہتے تھے کہ ہم کو تزکیہ اور ذکر اور نماز میں کوئی فلاح نہیں معلوم ہوتی کیا ہم عقل و ادراک نہیں رکھتے اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے یا یوں کہو کہ وہ بھی تزکیہ کے مدعی تھے۔ ان کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے تمہیں عقل و ادراک کیا نہیں بل بلکہ تم تؤثرون الحیوۃ الدنیا دنیا کی چند روزہ زندگانی اور اس کے لذات فانیہ کو آخرت اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قَدْاَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۔ وَذَکَرَاسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ (الاَعلٰی : 14، 15)
(کامیاب ہوا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔ )
فلاح کے مستحق کون ہیں اور اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟
تَزَکّٰی … زکوٰۃ سے مشتق ہے۔ اس کے اصل معنی پاک کردینے کے ہیں۔ مال کی زکوٰۃ کو بھی اس لیے زکوٰۃ کہتے ہیں کہ وہ باقی مال کو انسان کے لیے پاک کردیتی ہے۔ یہاں لفظ تَزَکّٰی کا مفہوم عام ہے جس میں ایمانی اور اخلاقی تزکیہ اور طہارت بھی داخل ہے اور مال کی زکوٰۃ بھی۔ اور سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی تبلیغ و دعوت اور تذکیر سے فائدہ اٹھایا اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی لوگوں کا کردار۔
وہ شخص جہنم سے بچ جائے گا جس نے اپنے آپ کو پاک رکھا، اور اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کے حضور پنجگانہ نماز ادا کرتارہا۔ ” تَزَکیّٰ “ سے پہلی مراد کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ گناہوں سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ آدمی فرض نماز ادا کرتا رہے اور ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھے۔ رب کو یاد کرنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ زبان سے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پڑھے اور توبہ کا ورد کرتا رہے مگر عملی طور پر کفر و شرک اور نافرمانی کے کاموں میں مبتلا رہے۔ ذکر کا پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے احکام کو یاد رکھے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش…
Read the full tafseer →15 : وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی (اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھتا رہا) ذکر اسمؔ سے تکبیر افتتاح مراد ہے۔ صَلّٰی سے پانچوں نمازیں مراد ہیں۔
دلیل :
یہ وہ آیت ہے جس سے تکبیر افتتاح کی فرضیت پر دلیل پکڑی جاتی ہے۔ نمبر 1۔ اس طور پر کہ ذکر اسمؔ نماز میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ فصلیؔ کا عطف ہے۔ اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے۔ نمبر 2۔ دوسری بات یہ ہے کہ افتتاحِ صلوٰۃ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہر اسم کے ساتھ جائز ہے۔
قولِ ابن عباس ؓ :
ذکرؔ اس نے اپنے معاد کو یاد کیا۔ اور اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑا ہونا یاد کر کے اس کے لئے نماز پڑھی۔
قولِ ضحاک :
اس نے اپنے رب کا نام لیا۔ عید گاہ کے راستہ میں پھر…
Read the full tafseer →15 ۔” وذکراسم ربہ فصلی “ فرمایا عید کے لئے نکلا اور اس کی نماز پڑھی اور ابن مسعود ؓ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ ایسے بندہ پر رحم کریں جو صدقہ دے، پھر نماز پڑھے، پھر یہ آیت پڑھتے اور نافع (رح) فرماتے ہیں ابن عمر ؓ جب صبح کی نماز پڑھتے یعنی عید کے دن تو فرماتے اے نفع ! تونے صدقہ ادا کردیا۔ پس اگر میں کہتا جی ہاں تو عیدگاہ کی طرف چل پڑتے اور اگ ر میں کہتا نہیں تو فرماتے اب ادا کرے کیونکہ یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
” قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی “ اور یہ ابوالعالیہ اور ابن سیرین رحمہما اللہ کا قول ہے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ میں اس تاویل کی وجہ نہیں جان سکا اس لئے کہ یہ سورة مکی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
14۔ 19۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص توحید پر قائم رہا اور اللہ کی یاد دل میں رکھ کر پانچوں وقت کی نماز اس نے ادا کی اس کے لئے عقبیٰ میں بلاشک بھلائی ہے اللہ کی یاد دل میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عبادت میں دنیا کا دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو۔ بعض علماء نے اللہ کی یاد سے زبانی یاد لے کر وذکر اسم ربہ سے تکبیر تحریمہ کے فرض ہونے کا مطلب نکالا ہے مکی آیتوں میں فقط توحید اور نماز کا ذکر اس واسطے ہے کہ روزہ حج زکوٰۃ یہ چیزیں ہجرت کے بعد مدینہ کے قیام میں فرض ہوئی ہیں قد افلح من تزکی کی تفسیر بعض مفسروں نے صدقہ فطر سے جو کی ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان آیتوں میں سے جن کا نزول عمل سے پہلے ہے جیسے آیت…
Read the full tafseer →(وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى) اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔ یعنی جو ذکر الٰہی سے متصف ہوا اور اس کا قلب ذکر الٰہی کے رنگ میں ڈوب گیا تو یہ ان اعمال کا موجب بنتا ہے۔ جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے خاص طور پر نماز جو ایمان کی میزان ہے یہ ہیں آیت کریمہ کے معنی۔ اور جو کوئی اللہ کے ارشاد (تزکٰی) کے معنی یہ کرتا ہے اس نے زکوۃ فطر دی اور (وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى) سے مراد وعید کی نماز ہے، تو یہ اگرچہ لفظ کے عمومی معنی میں داخل ہے اور اس کی جزئیات میں سے ہے مگر صرف یہی ایک معنی نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
نماز کا افتتاح ذکر الٰہی سے ہو
قول باری ہے (قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی) حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز اور ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ” وہ شخص فلاح پا گیا جس نے صدقہ فطر ادا کیا اور پھر عید کی نماز کے لئے نکل گیا۔ “ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے صدقہ فطرادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ نماز سے پہلے تم صدقہ فطرادا کرو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (وذکراسم ربہ فصلی ) سے تمام اذکار کے ذریعے نماز کے افتتاح کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(15) ایمان اور تزکیہ نفوس کی اولین علامت نماز : چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی " جو کہ باطن کی صفائی اور پاکیزگی حاصل کرنے کا عظیم الشان ذریعہ ہے، سو یہ اس تذکیہ کی اولین علامت بھی ہے اور اس کا اصل طریقہ بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت کا اصل اور صحیح طریقہ یہی ہے کہ اس کے اسمائے حسنی اور اس کی صفات علیا کی یاد دلشاد کے ذریعے اس کی معرفت کے حصول کی کوشش کی جائے، اور ان کی اسمائے صفات کی روشنی میں دیکھا جائے کہ حضرت حق جل مجدہ کے بارے میں ہمارے عقائد کیا ہونے چاہیں، اور ان عقائد کی بنا پر اس کے ہم پر کیا حقوق و فرائض عائد ہوتے ہیں، اور ان کو کس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے
تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔
مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔
قدرت کا عطیہ۔
یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فوائد صفحہ ہذا1 آیت کا یہی مطلب واضح ہے بعض مفسرین نے … جیسے عطار … نے لفظ ” تزکی “ کے لفظ سے یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں زکوۃ یعنی صدقہ فطر ادا کرنے پھر تکبیریں کنے اور پھر عید کی نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن یہ مطلب لینا اس لئے صحیح نہیں ہے کہ آیت مکی ہے حالانکہ صدقہ فطر اور عید کا حکم مدینہ میں دیا گیا ہے۔ (تنبیہ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبیر تکریمہ (یعنی نماز شروع کرتے وقت ” اللہ اکبر “ کہنا) فرض ہے اور یہی چیز حدیث میں نبی ﷺ سے ثابت ہے چناچہ آپ کا ارشاد ہے :” نماز کی کنجی طہارت ہے، اس کی تحریم ” اللہ اکبر “ کہنا ہے اور اس کی تحلیل (کھولنا) سلام پھیرنا ہے۔ “ (ابودائود۔ ترمذی وغیرہ من…
Read the full tafseer →(87:15) وذکر اسم ربہ فصلی : ذکر کا عطف تذ کی پر ہے۔ اور صلی کا عطف ذکر پر ہے۔ اور جو اپنے رب کا نام لیتا رہا اور نماز پڑھتا رہا۔ پس وہ فلاح پا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔
لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔
تشریح :
ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔
٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
طہارت و پاکیزگی اور اس کی اقسام
(ف 1) نجات اسی شخص کو ہے جو پاکیزگی حاصل کرے، پاکیزگی کئی قسم کی ہوتی ہے، اول تو کفر اور شرک اور عقائد باطلہ اور خلاق ذمیمہ سے دل کو پاک کرنا، دوسری قسم یہ ہے کہ بدن اور کپڑوں کو نجاسات حقیقیہ سے پاک رکھے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ نجاست حکمی سے پاک رہے۔ چوتھی قسم یہ ہے کہ موئے زیرناف اور بغل کے بال اور ناخن اور بدن کی میل علیحدہ کرے ، پس اگر کسی کی ڈاڑھی لمبی ہو یاسر پر بال رکھتا ہو تو اس کے واسطے ہر جمعہ کے دن بالوں کو دھونا اور کنگھے کا کرنا، اور عطر ملنا سنت موکدہ ہے ، پانچویں پاکی یہ ہے کہ مال کی زکوۃ دے اور خیرات کرے اور حرام اور مشتبہ مال سے اپنے مال کو بچائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
[10] یعنی نہ موت ہی آئے گی کہ تکلیفوں کا خاتمہ کر دے اور نہ آرام کی زندگی ہی نصیب ہوگی۔ ہاں ایسی زندگی نصیب ہوگی جس کے مقابلے میں موت کی تمنا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ہمہ گیر صداقت
1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…
Read the full tafseer →(15) اور وہ اپنے پروردگار کا نام لیتا اور نماز پڑھتا رہا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا ہوسکتا ہے کہ نماز سے مراد یہاں عید کی نماز اور پروردگار کے نام کو یاد کرنے سے مراد تکبیرات عیدہوں اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔
جیسا کہ متقدمین سے مروی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تزکی سے مراد صدقہ فطر ہو یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جس نے صدقہ فطرانہ ادا کیا اپنے رب کے نام کو یاد کیا اور نماز پڑھی یا اپنے کو اخلاق رذیلہ سے پاک کیا تکبیر تحریمہ میں اپنے پروردگار کا نام لیا اور نماز پڑھی۔
مفسرین کے نزدیک یہ قول راجح اور صحیح ہے آگے منکروں کا ذکر ہے کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
ف 5۔ روح المعانی میں عبد بن حمید کی روایت سے حدیث مرفوع مذکور ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر قبل توراة کے دس۔
Read the full tafseer →اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھتا رہا
15 ؎ اپنے پروردگار کے نام کو یاد کرنے کی ترکیب شروع سورت میں بتا دی گئی ہے کہ اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو اعلیٰ ہے۔ بدقسمتی ہے ہمارے ہاں اللہ کے ذکر کی تسبیح کا مفہوم بڑا عجیب سمجھ لیا گیا کہ موتیوں کی مالا بنائی گئی جس میں ایک سو ایک ، ایک ہزار ایک دانے تک موتی لگائے گئے اور پھر اس مالا کو لے کر صاحب بیٹھ گئے اور اللہ کے نام کا ورد شروع کردیا خواہ اس کے ذاتی نام اللہ کا اور خواہ اس کے صفاتی ناموں میں سے کسی ایک یا دو ناموں کا اور اس طرح موتی گراتے گئے اور ساتھ ساتھ اللہ اللہ یا یا حی ویا قیوم کرتے گئے اور پھر اس طرح کرتے کرتے کبھی ہزار دانہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (Success is surely achieved by him who purifies himself,..87:14) The word tazakka is derived from zakah, the primitive meaning of which is 'to purify'. The zakah of wealth is so called because it purifies the rest of man's wealth for him. In this context, the word tazakka is used in a general sense, which comprehends the purity of faith and character, and purity of wealth.
وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ (and pronounces the name of his Lord, then offers prayer....87:15). This covers all categories of prayer, obligatory as well as supererogatory. Some commentators…
Read the full tafseer →14 To remember AIlah signifies His remembrance in the heart as well as with the tongue.
15 That is, he did not remain content only with remembering AIlah but proved by performing the Prayer that he is practically also prepared to obey God in Whom he has affirmed the faith, and will remember His name as long as he lives. In this verse mention has been made of two things respectively: first, to remember Allah, then to perform the Prayer. Accordingly, the method enjoined is that the Prayer be begun with Allahu Akbar. This is an evidence to prove that all the elements of the procedure that the…
Read the full tafseer →