Al-A'laa 87:14

Al-A'laa · from ayah 14

87:14

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰی ۟ۙقَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَكّٰىۙ

بے شک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He has certainly succeeded who purifies himself

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'laa

All translations of 87:14

فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بے شک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

فلاح اس نے پائی ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک وہی بامراد ہوا جو (نفس کی آفتوں اور گناہ کی آلودگیوں سے) پاک ہوگیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ کامیاب ہوگیا جو پاک ہوگیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کامیاب ہوا جس نے اپنے کو پاک کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یقینا فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی

— مولانا اسحاق مدنی

بامراد ہوا وہ جو پاک ہوگیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا وہ کامیاب ہوگیا جس نے خود کو پاک کرلیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا

— محترمہ رفعت اعجاز

He who purified himself shall prosper,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Success is surely achieved by him who purifies himself,

— Muhammad Taqi Usmani

Success is surely achieved by him who purifies himself,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed whosoever purifies himself shall achieve success.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He has certainly succeeded who purifies himself

— Saheeh International

Lasting happiness will be for those who purify themselves,

— Muhammad Sarwar

He indeed shall be successful who purifies himself,

— Muhammad Habib Shakir

He indeed hath attained bliss who hath cleansed himself,

— Abdul Majid Daryabadi

But those will prosper who purify themselves,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 87:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–19

جس نے صلوۃ کو بروقت ادا کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کرلیا احکام اسلام کی تابعداری کی نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پالی رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا (بزار) ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے حضرت ابو العالیہ نے ایک مرتبہ الو خلدہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْلٰی 13 پاکیزگی سے مراد ہے کفر و شرک چھوڑ کر ایمان لانا، برے اخلاق چھوڑ کر اچھے اخلاق اختیار کرنا، اور برے اعمال چھوڑ کر نیک اعمال کرنا، فلاح سے مراد دنیوی خوشخالی نہیں ہے بلکہ حقیقی کامیابی ہے، خواہ دنیا کی خوشحالی اس کے ساتھ میسر ہو یا نہ ہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 32۔ جلد سوم، المومنون، حواشی 1۔ 11۔ 50۔ جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 4)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–17

زکوة کہتے ہیں کہ وہ باقی مال کو انسان کے لئے پاک کردیتی ہے یہاں لفظ تزکی کا مفہوم عام ہے جس میں ایمانی اور اخلاقی تزکیہ و طہارت بھی داخل ہے اور مال کی زکوٰة دینا بھی ہے۔ وذکر اسم ربہ فصلی، یعنی اپنے رب کا نام لیتا اور نماز پڑھتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس میں ہر قسم کی نماز فرض ونفل شامل ہے، بعض مفسرین نے جو خاص نماز عید سے اس کی تفسیر کی ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ بل تو ثرون الحیوة الدنیا، حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ عام لوگوں میں دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کیوجہ یہ ہے کہ دنیا کی نعمت و راحت تو نقد و حاضر ہے اور آخرت کی نعمت و راحت نظروں سے غائب اور ادھار ہے۔ حقیقیت سے ناآشنا لوگوں نے حاضر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان لوگوں کا انجام جن کے دل زندہ ہیں: اوپر کی آیات میں نبی ﷺ کی دعوت سے گریز اختیار کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا۔ اب یہ ان لوگوں کا انعام بیان ہو رہا ہے جن کا ذکر اوپر ’سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ بے شک ان لوگوں نے فلاح پائی جنھوں نے نبی ﷺ کی تذکیر سے فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلودگی سے پاک کر لیا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی فلاح کے دروازے کھلیں گے اور آخرت میں بھی یہ اپنے رب کی رحمت و رضوان سے نوازے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–16

14۔ 1 جنہوں نے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک کی آلودگی سے پاک کرلیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–15

قد افلح ................................ فصلی (15:87) ” فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی “۔ تزکی کے معنی ہیں ہر گندگی اور ہر گناہ سے پاکیزگی اختیار کی۔ اس آیت میں اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ جو پاکیزگی اختیار کرے اور اپنے دل میں رب کا جلال بسائے اور پھر نماز پڑھے یا اللہ سے ڈرے اور اطاعت کرے۔ دونوں معنوں سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی ہے اور جلال دل میں بیٹھتا ہے اور ضمیر میں اللہ کی ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ تو فیصلہ یہ ہے کہ وہ شخص فلاح پائے گا۔ دنیا میں بھی وہ فلاح پائے گا کہ اس کا دل اللہ سے جڑا ہوا ہوگا ، زندہ ہوگا ، اللہ کے ذکر میں وہ مٹھاس محسوس کرے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ظاہری و باطنی، حسی و معنوی نجاستوں سے پاک ہو اور اپنے قلب و قالب کو عقائدِ صحیحہ، اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ سے آراستہ کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۔ } ”یقینا وہ کامیاب ہوگیا جس نے خود کو پاک کرلیا۔“ ان آیات میں بہت اہم اور بنیادی نوعیت کے مضامین بیان ہوئے ہیں۔ اگلی سورتوں میں مختلف مقامات پر ان مضامین کی مزید وضاحت آئے گی۔ تَزَکّٰیسے مراد یہاں روح کی پاکیزگی ہے۔ بنیادی طور پر انسان کی روح بہت بلند اور اعلیٰ چیز ہے۔ سورة التین کی اس آیت میں دراصل انسان کی روح کی تخلیق ہی کا ذکر ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ } کہ ہم نے انسان کو بہت عمدہ تخلیق پر بنایا ہے۔ لیکن جب اس روح کو جسد حیوانی میں قید کر کے دنیا میں بھیجا گیا تو وقتی طور پر روح اپنے اعلیٰ مقام سے گر کر پستی میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–16

10 یعنی جس نے اپنے آپ کو کفر و شرک عقائد فاسدہ سے اور اخلاقی رذیلہ سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ یہاں بعض لوگوں نے تزکی ٰسے مراد زکوٰۃ اور بالخصوص صدقہ فطر اور (وذکر اسم ربہ) سے مراد تکبیرات عیدین اور فصلی سے مراد نماز عید لی ہے۔ اور اگر اس آیت کو اس کے عام مفہوم میں لیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ یعنی جو شخص اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لے پھر اللہ کو زبان سے بھی یاد کرتا رہے اور دل میں بھی یاد رکھے۔ پھر اسی کی تائید کے طور پر باقاعدگی سے نمازیں ادا کرتا رہے تو سمجھ لو کہ اس کی زندگی سنور گئی اور کامیاب ہوگیا۔ یہاں کامیابی سے مراد اخروی کامیابی تو یقینی ہے اور اس دنیا میں اس کی کامیاب زندگی کا انحصار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

9۔ یعنی عقائد و اعمال میں راہ طاعت پر قائم رہا۔ (آیت) ” من تذ کی “۔ یعنی جس نے اپنے کو قرآن اور رسول ﷺ کے ذریعہ سے، عقائد واخلاق کی ساری خباثتوں سے پاک صاف کرلیا، (آیت) ” قد افلح “۔ فلاح کا مفہوم دنیوی واخروی ساری کامیابیوں کا جامع ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ دو مختصر آیتیں اہل طریق کے اعمال مقصودہ کی جامع ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–19

فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قد افلح من تزکی . یعنی جس کا باطن شرک سے اور ظاہر ہر نجاست سے اور مال زکوٰۃ نہ دینے کے میل سے اور دل یاد الٰہی کی غفلت سے اور ضمیر نفسانی عیوب سے اور اعضاء جسمانی گناہوں کے میل کچیل سے پاک ہوگیا ‘ وہ کامیاب ہوگیا (مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ سے جس نے مالی کثافت کو دور کیا اور نماز سے ظاہری نجاست کو اور ذکر خداوندی سے دل کی کدورت کو اور نفس کو امراض نفسانیہ کی آلائش سے اور اعضاء جسم کو گناہوں کے گندگی سے دور کیا وہی نجات پا گیا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–15

(14۔ 15) وہ شخص کامیاب ہوا جس نے قرآن سن کر نصیحت حاصل کی اور توحید خداوندی کا قائل ہوا اور اپنے پروردگار کے حکم سے پانچوں نمازیں باجماعت پڑھتا رہا، یا یہ مطلب کہ وہ شخص کامیاب ہوا جس نے عیدگاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کیا اور آتے جاتے راستہ میں تکبیر و تہلیل کرتا رہا اور عید کی نماز امام کے ساتھ پڑھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–15

(قد افلح من تزکی…:) یعنی کفر و شرک اور گناہوں سے پاک ہو کر اللہ اکبر کہہ کر پانچوں نمازیں پڑھیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

قد افلح من تزکی۔۔۔ فصلی اس میں تین مسائل ہیں : تزکی سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 1۔ قدافلح، جس نے ایمان کے ذریعے شرک سے پاکیزگی حاصل کی اس نے جنت میں بقا کو پالیا، حضرت حضرت ابن عباس، عطا اور عکرمہ کا قول ہے، حضرت حسن بصری، اور ربیع نے کہا، جس کا عمل بڑھنے والا تھا اس نے کامیابی حاصل کی، معمر نے قتادہ سے ذکر کیا ہے جس نے اچھے عمل کے ذریعے تزکیہ کیا، ان سے، عطا سے اور ابوالعالیہ سے مروی ہے، یہ حکم صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوا۔ ابن سیرین نے کہا : وہ نکلا اور صدقہ فطر کی ادائیگی کے بعد نماز ادا کی، عکرمہ نے کہا، آدمی کہا کرتا تھا میں صدقہ فطر اپنی نماز سے پہلے ادا کرتا ہوں، سفیان نے کہا، اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

47۔ البزار وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول آیت قد افلح من تزکی بیشک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہوگیا کے بارے میں فرمایا یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور بتوں سے ہٹ گیا۔ اور یہ گواہی دی کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اور آیت وذکر اسم ربہ فصلی اور اپنے رب کا نام دیا کیا پھر نماز پڑھی اس سے پانچ نمازیں مراد ہیں اور ان کے وقتوں کیساتھ ان پر پابندی اور اہتمام کرنا ہے۔ 48۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من تزکی یعنی جو شرک سے پاک ہوا اس نے فلاح پائی آیت وذکر اسم ربہ یعنی اللہ کی توحید کا اقرار کیا آیت فصلی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَدْ اَفْلَحَ مَنْ : اس نے مراد پالی ہے جس نے ][ تَزَكّٰى : پاکیزگی حاصل کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–15

قیامت کے دن کافر ناکام ہوں گے دوزخ میں جائیں گے جنت سے محروم ہوجائیں گے ان کی ناکامی بتانے کے بعد ارشاد فرمایا : ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ0014 وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ0015﴾ (وہ شخص کامیاب ہوا جو پاک ہوا اور اس نے اپنے رب کا نام لیا پھر نماز پڑھی) پاک ہونے میں عقائد باطلہ شرکیہ اور بدعیہ سے اور برے اخلاق اور برے اعمال سے پاک ہونا سب داخل ہے۔ اس میں لفظ تزکی باب تفعل سے لایا گیا ہے۔ جو مشقت پر دلالت کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ نفس راضی ہوا یا نہ ہوا بہرحال پاکیزہ زندگی اختیار کی اور سب سے بڑا تزکیہ نماز کے اہتمام سے حاصل ہوتا ہے اس لیے ساتھ یہ بھی فرمایا۔ اس نے رب کا نام لیا اور نماز…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–15

8:۔ ” قد افلح “ یہ پند و نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ آخرت میں کامیاب وہی ہوگا جو شرک سے پاک رہا اور جس نے مصائب و حاجات میں صرف اللہ ہی کو پکارا اور نماز کی پابندی کی۔ ” من تزکی “ ای تطھر من الشرک بتذکرہ واتعاظہ بالذکری (روح) ۔ ” وذکر اسم ربہ “ مصائب وحاجات میں صرف اللہ کو پکارا اور اسی کے نام کا ورد کیا (الشیخ (رح) تعالی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–19

(گذشتہ سے پیوستہ ) سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا ذکر ہوا اور اس کی صفات کمال کا بیان ہوا۔ اس کے بعد انسان کی طبعی ضرورت ہدایت اور اس کے حصول کے ذرائع کا تذکرہ ہوا اللہ تعالیٰ نے مثال کے ذریعہ سمجھایا کہ جس طرح جانوروں کے لیے اللہ نے چارے کا بندوبست کیا ہے ۔ اسی طرح نوع انسانی کے لیے ہدایت کا انتظام بھی کردیا ہے ۔ اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم آپ کو کتاب یعنی قرآن پاک اس طرح پڑھا دیں گے کہ آپ بھولیں گے نہیں ۔ البتہ جو چیز اللہ تعالیٰ خود بھلا دینا چاہیں گے وہ آپ کی یاداشت سے خارج کردی جائیگی اور آپ کو حکم ہوا ۔ کہ آپ تبلیغ کا حق ادا کرتے رہیں ۔ لوگوں کو نصیحت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى۝ 14 ۙ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–19

ترکیب ¦ بل اضراب عن کلام مقدر یدل علیہ السیاق ای انتم لا تفعلون ذلک بل تو ثرون اللذات الفانیۃ العاجلۃ الحاصلۃ فی الدنیا علی الدار الآخرۃ ونعماھا الباقیۃ والآخرۃ مبتداء خیر وابقی خبر والجملۃ حال من فاعل تو ثرون ‘ صحف ابراھیم اللخ بدل من الصحف الاولیٰ ۔ تفسیر ¦ کفار دنیا پرست کہتے تھے کہ ہم کو تزکیہ اور ذکر اور نماز میں کوئی فلاح نہیں معلوم ہوتی کیا ہم عقل و ادراک نہیں رکھتے اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے یا یوں کہو کہ وہ بھی تزکیہ کے مدعی تھے۔ ان کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے تمہیں عقل و ادراک کیا نہیں بل بلکہ تم تؤثرون الحیوۃ الدنیا دنیا کی چند روزہ زندگانی اور اس کے لذات فانیہ کو آخرت اور اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 14–15

قَدْاَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۔ وَذَکَرَاسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ (الاَعلٰی : 14، 15) (کامیاب ہوا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔ ) فلاح کے مستحق کون ہیں اور اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟ تَزَکّٰی … زکوٰۃ سے مشتق ہے۔ اس کے اصل معنی پاک کردینے کے ہیں۔ مال کی زکوٰۃ کو بھی اس لیے زکوٰۃ کہتے ہیں کہ وہ باقی مال کو انسان کے لیے پاک کردیتی ہے۔ یہاں لفظ تَزَکّٰی کا مفہوم عام ہے جس میں ایمانی اور اخلاقی تزکیہ اور طہارت بھی داخل ہے اور مال کی زکوٰۃ بھی۔ اور سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی تبلیغ و دعوت اور تذکیر سے فائدہ اٹھایا اور اپنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–19

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی لوگوں کا کردار۔ وہ شخص جہنم سے بچ جائے گا جس نے اپنے آپ کو پاک رکھا، اور اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کے حضور پنجگانہ نماز ادا کرتارہا۔ ” تَزَکیّٰ “ سے پہلی مراد کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ گناہوں سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ آدمی فرض نماز ادا کرتا رہے اور ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھے۔ رب کو یاد کرنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ زبان سے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پڑھے اور توبہ کا ورد کرتا رہے مگر عملی طور پر کفر و شرک اور نافرمانی کے کاموں میں مبتلا رہے۔ ذکر کا پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے احکام کو یاد رکھے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی (بامراد ہوا جو شخص پاک ہوگیا) افلح کامیابی پالی۔ تزکیؔ شرک سے پاک کرلیا۔ یا نماز کیلئے پاکیزگی اختیار کی۔ یا زکوٰۃ ادا کی۔ یہ زکوٰۃ سے باب تفعل ہے۔ جیسا تصدق ؔ صدقہ سے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” قد افلح من تزکی “ جو شرک سے پاک ہوا اور کہا لا الہ الا اللہ۔ یہ عطاء اور عکرمہ رحمہما اللہ کے قول کا معنی ہے اور ولبی اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں جس کا عمل صاف ستھرا ہو اور دیگر حضرات نے کہا ہے وہ صدقۃ الفطر ہے۔ ابو سعید خدری ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” قد افلح من تزکی “ کے بارے میں مروی ہے فرماتے ہیں اس نے صدقہ فطر دیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–19

14۔ 19۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص توحید پر قائم رہا اور اللہ کی یاد دل میں رکھ کر پانچوں وقت کی نماز اس نے ادا کی اس کے لئے عقبیٰ میں بلاشک بھلائی ہے اللہ کی یاد دل میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عبادت میں دنیا کا دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو۔ بعض علماء نے اللہ کی یاد سے زبانی یاد لے کر وذکر اسم ربہ سے تکبیر تحریمہ کے فرض ہونے کا مطلب نکالا ہے مکی آیتوں میں فقط توحید اور نماز کا ذکر اس واسطے ہے کہ روزہ حج زکوٰۃ یہ چیزیں ہجرت کے بعد مدینہ کے قیام میں فرض ہوئی ہیں قد افلح من تزکی کی تفسیر بعض مفسروں نے صدقہ فطر سے جو کی ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان آیتوں میں سے جن کا نزول عمل سے پہلے ہے جیسے آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔ شرک، ظلم اور برے اخلاق سے اس کی تطہیر کی، اس نے نفع اٹھایا اور فوزیاب ہوا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–19

نماز کا افتتاح ذکر الٰہی سے ہو قول باری ہے (قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی) حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز اور ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ” وہ شخص فلاح پا گیا جس نے صدقہ فطر ادا کیا اور پھر عید کی نماز کے لئے نکل گیا۔ “ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے صدقہ فطرادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ نماز سے پہلے تم صدقہ فطرادا کرو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (وذکراسم ربہ فصلی ) سے تمام اذکار کے ذریعے نماز کے افتتاح کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(14) فوزو فلاح سے سرفرازی کی اولین شرط تزکیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور " قد " کے حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی "۔ یعنی وہ اس حقیقی فوز و فلاح اور دائمی و ابدی کامیابی سے سرفراز ہوگیا جس جیسی دوسری کوئی کامیابی نہ ہوئی نہ ہوسکتی ہے۔ وذلک الفوز العظیم۔ یعنی یہی ہے بڑی کامیابی، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔ بہرکیف اوپر کی آیات کریمات میں ان بدبختوں کا انجام بیان فرمایا گیا تھا جنہوں نے پیغمبر کی دعوت سے منہ موڑا اور اس سے اعراض برتا کہ انہوں نے دوزخ کی اس سب سے بڑی اور ہولناک آگ میں داخل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–19

اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–14

ف 20 ان نفعت الذکری کا لفظی ترجمہ یوں ہے اگر سمجھانا فائدہ دے “ یہ صرف ایک حالت کا ذکر ہی دوسری حالت یہ ہے کہ سمجھانے کا فائدہ نہ ہو نبی صلعم پر لوگوں کو سمجھانا چونکہ دونوں حالتوں میں ضروری تھا اس لئے ترجمے میں آیت کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ (لوگوں کو) سمجھایئے۔ فائدہ ہو (یا نہ ہو) “ قاضی شو کانی نے آیت کے اس مطلب کو ترجیح دی بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ لوگوں کو اس وقت تک سمجھایئے جب تک سمجھانا فائدہ دے۔ یعنی موقع کی مناسبت سے لوگوں کو سمجھایا کیجیے کہ سمجھنے کے لئے متوجہ ہوں اور ملول نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(87:14) قد افلح من تزکی : قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور اس کو زمانہ حال سے قریب کردیتا ہے۔ افلح ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب افلاح (افعال) مصدر۔ اس نے فلاح پائی اس نے کامیابی یا مقصد کو پالیا۔ وہ مراد کو پہنچا۔ من تزکی : من موصولہ۔ تزکی ماضی واحد مذکر غائب تزکی (تفعل) مصدر سے جس کے معنی زکوۃ دینے اور پاک ہونے کے ہیں۔ وہ پاک ہوا۔ وہ سنور گیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–16

طہارت و پاکیزگی اور اس کی اقسام (ف 1) نجات اسی شخص کو ہے جو پاکیزگی حاصل کرے، پاکیزگی کئی قسم کی ہوتی ہے، اول تو کفر اور شرک اور عقائد باطلہ اور خلاق ذمیمہ سے دل کو پاک کرنا، دوسری قسم یہ ہے کہ بدن اور کپڑوں کو نجاسات حقیقیہ سے پاک رکھے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ نجاست حکمی سے پاک رہے۔ چوتھی قسم یہ ہے کہ موئے زیرناف اور بغل کے بال اور ناخن اور بدن کی میل علیحدہ کرے ، پس اگر کسی کی ڈاڑھی لمبی ہو یاسر پر بال رکھتا ہو تو اس کے واسطے ہر جمعہ کے دن بالوں کو دھونا اور کنگھے کا کرنا، اور عطر ملنا سنت موکدہ ہے ، پانچویں پاکی یہ ہے کہ مال کی زکوۃ دے اور خیرات کرے اور حرام اور مشتبہ مال سے اپنے مال کو بچائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[10] یعنی نہ موت ہی آئے گی کہ تکلیفوں کا خاتمہ کر دے اور نہ آرام کی زندگی ہی نصیب ہوگی۔ ہاں ایسی زندگی نصیب ہوگی جس کے مقابلے میں موت کی تمنا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

ہمہ گیر صداقت 1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) یقینا وہ شخص کامیاب ہوا اور من مانی مراد کو پہنچا جو پاک ہوگیا۔ یعنی قرآن سن کر عقائد خبیثہ اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہوگیا اور اپنی اصلاح کرلی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–19

ف 5۔ روح المعانی میں عبد بن حمید کی روایت سے حدیث مرفوع مذکور ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر قبل توراة کے دس۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ با مراد ہوا جس نے اپنے آپ کو پاک کر لیا 14 ؎ (اقلح) وہ جیت گیا ، وہ مراد کو پہنچ افلاح سے جس کے معنی کامیابی اور مقصد روی کے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ فلاح کی دو قسمیں ہیں دنیوی اور اخروی ۔ فلاح دنیوی ان کامیابیوں کا حصول ہے جن سے دنیوی زندگی سنور جائے یعنی مال و دولت ، صحت و عزت اور اخروی فلاح چار چیزوں میں ہے : (1) بقا بلا فنا (2) غنابلا فقر (3) عزت بغیر ذلت (4) علم بغیر جہالت اور اگر ان کی وضاحت کی جائے تو پھر مضمون زیادہ بڑھ جائے گا ۔ آپ ان سب اشارات کو ایک دوبارہ پڑھ کر دیکھیں خود بخود اصلاح کی طرف رہنمائی ہوگی اور معلوم ہوجائے گا کہ فلاح کیا ہے ؟ مختصر یہ کہ اخروی فلاح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–17

قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (Success is surely achieved by him who purifies himself,..87:14) The word tazakka is derived from zakah, the primitive meaning of which is 'to purify'. The zakah of wealth is so called because it purifies the rest of man's wealth for him. In this context, the word tazakka is used in a general sense, which comprehends the purity of faith and character, and purity of wealth. وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ (and pronounces the name of his Lord, then offers prayer....87:15). This covers all categories of prayer, obligatory as well as supererogatory. Some commentators…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 "Who purified himself": who affirmed the faith giving up disbelief and polytheism, adopted good morals giving up evil morals, and performed good deeds giving up evil deeds. Success dces not imply worldly prosperity, but true and real success whether worldly prosperity accompanies it or not. (For explanation, see E.N. 23 of Yunus, E.N.'s 1, I 1-50 of Al-Mu'minun, E.N. 4 of Luqman) .

Read the full tafseer →