ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَلَا یَحْیٰی ۟ؕثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰىؕ
پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Neither dying therein nor living.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَلَا یَحْیٰی ۟ؕثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰىؕ
پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Neither dying therein nor living.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz
Read the whole surah · Surah Al-A'laa
پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا
پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا
جہاں پھر نہ وه مرے گا نہ جیے گا، (بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا)
پھر اس آگ میں نہ مرے گا اور نہ جیے گا۔
پھر نہ اس میں مرے اور نہ جیے
پھر وہ اس میں نہ مرے گا اور نہ جیئے گا،
پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔
پھر اس میں نہ مرے گا نہ جیے گا
پھر نہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔
پھر وہاں نہ تو وہ مرے گا نہ جئے گا
پھر اس میں نہ مرہی جائیگا نہ جئے گا۔
پھر نہ اس میں وہ مرے گا نہ زندہ رہے گا۔
پھر وہاں نہ مرے گانہ جیئے گا
Then he will neither die in it, nor live.
then he will neither die therein, nor live (a desirable life) .
then he will neither die therein, nor live (a desirable life) .
There he will neither die nor live.
Wherein he will neither die nor live.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Neither dying therein nor living.
wherein they will neither live nor die.
Then therein he shall neither live nor die.
Wherein he shall neither die nor live,
In which they will then neither die nor live.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–13
مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40) 75۔…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْلٰی 12 یعنی نہ اسے موت ہی آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے، اور نہ جینے کی طرح جیے گا کہ زندگی کا کوئی لطف اسے حاصل ہو۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے ہے جو سرے سے اللہ اور اس کے رسول کی نصیحت کو قبول ہی نہ کریں اور مرتے دم تک کفر و شرک یا دہریت پر قائم رہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل میں ایمان رکھتے ہوں مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر جہنم میں ڈالے جائیں تو ان کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ اپنی سزا بھگت لیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں موت دے دے گا، پھر ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی ہوئی لاشیں جنت کی نہروں پر لا کر ڈالی جائیں گی اور اہل جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
فذکر ان نعفت الذکری، سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کو آپ کے فریضہ پیغمبری کے ادا کرنے میں حق تعالیٰ کیطرف سے دی ہوئی سہولتوں کا بیان تھا، اس آیت میں آپکو اس فریضہ کی ادائیگی کا حکم ہے اور معنے الفاظ آیت کے یہ ہیں کہ آپ لوگوں کو تبلیغ و نصیحت کیجئے اگر نصیحت نفع دیتی ہو، یہ الفاظ اگرچہ شرط کے آئے ہیں مگر درحقیقت مقصود کوئی شرط نہیں بلکہ اس کا تاکیدی حکم دینا ہے جس کی مثال ہمارے عرف میں یہ ہے کہ کسی شخص کو بطور تنبیہ کے کہا جائے کہ اگر تو ادمی ہے تو فلاں کام کرنا ہوگا یا اگر توفلاں کا بیٹا ہے تو تجھے ایسا کرنا چاہئے۔ یہاں مقصود شرط نہیں ہوتی بلکہ اس کا اظہار ہوتا ہے کہ جب تو آدمی زاد ہے یا جبکہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
یہ بتایا ہے کہ کون آپ کی بات پر کان دھریں گے اور کس مزاج کے لوگ اس سے گریز کریں گے۔ فرمایا کہ جن کے دلوں میں خدا اور آخرت کا کچھ خوف ہو گا وہ آپ کی بات سنیں گے اور جن کے دل اس خوف سے خالی ہیں ان پر آپ کا انذار بے اثر ہی رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کی دعوت سے بدک رہے ہیں ان کے بدکنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس دعوت میں یا اس کے داعی میں کوئی خرابی ہے بلکہ ان بدکنے والوں کے دلوں میں ہی خرابی ہے۔ وہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ آخرت کا کوئی اندیشہ ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اس بڑی آگ میں پڑیں گے جو ان کے لیے تیار ہے۔ پھر اس میں…
Read the full tafseer →13۔ 1 ان کے برعکس جو لوگ صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں رہ گئے ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ ایک طرح کی موت دے دے گا حتی کہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہوجائیں گے پھیر اللہ تعالیٰ انبیاء وغیرہ کی سفارش سے ان کو گروہوں کی شکل میں نکالے گا، ان کو جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، جنتی بھی ان پر پانی ڈالیں گے جس سے وہ اس طرح اٹھیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے سے دانہ اگ آتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
5: یعنی زندہ رہنے کا کوئی آرام اسے حاصل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
الذی .................... ولا یحی (13:87) ” جو بڑی آگ میں جائے گا اور نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا “۔ یہ بڑی آگ کیا ہے ؟ جہنم کی آگ۔ جس کی شدت بڑی ہوگی ، جس کے زمانے بڑے ہوں گے ، جس کی ضخامت بڑی ہوگی جس میں رہائش طویل ہوگی۔ اس میں نہ مرمٹ سکے گا کہ احساس عذاب نہ رہے اور نہ زندہ رہے گا کہ آرام سے ہو بلکہ دائمی عذاب ہوگا اور وہاں لوگ موت کو اس طرح چاہیں گے جس طرح یہاں بڑی بڑی خواہشات کے پیچھے مرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نجات ہے ، فلاح ہے ، پاکیزگی اور نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی نہ موت ہی آئے گی کہ تکلیفوں کا خاتمہ کردے اور نہ آرام کی زندگی ہی نصیب ہوگی۔ ہاں ایسی زندگی ہوگی جس کے مقابلہ میں موت کی تمنا کرے گا۔ العیاذ باللہ۔
Read the full tafseer →آیت 13{ ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی۔ } ”پھر نہ اس میں وہ مرے گا نہ زندہ رہے گا۔“ جہنم کی یہی خصوصیت سورة المدثر میں بایں الفاظ بیان ہوئی ہے : { لَا تُبْقِیْ وَلَا تَذَرُ۔ } ”وہ انسان کو نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ ہی اسے چھوڑے گی۔“
Read the full tafseer →9 یعنی اخروی زندگی میں مر تو سکے گا نہیں اور جو زندگی ہوگی وہ عذاب کی وجہ سے موت سے بدتر ہوگی۔ ایسی زندگی پر وہ خود بھی موت کو ترجیح دینگے مگر موت نام کی وہاں کوئی چیز نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
8۔ یعنی نہ اس معنی میں مرے گا کہ دردواذیت کا احساس باطل ہوجائے، اور نہ جئے گا اس معنی میں راحت ولذت کسی قسم کی بھی محسوس کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →ثم لا یموت فیھا . پھر اس میں نہ تو اسے موت ہی آئے گی کہ مر کر عذاب سے چھوٹ جائے۔ ولا یحییٰ . اور نہ خوشگوار زندگی ہی پائے گا۔ ثم لا یموت کا عطف یصلٰی پر ہے۔ نفس عذاب سے دوام عذاب زیادہ ہولناک ہے اور زمانہ کے لحاظ سے بھی مؤخر ہے۔ اس طرح شدت اور وجود دونوں لحاظ سے دوامی عذاب نفس عذاب سے متراخی ہے۔ اسی لیے ثمَّ کا استعمال کیا گیا (جو کبھی تراخی زمانی اور کبھی تراخی مرتبہ پر دلالت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(8۔ 13) اور ہم آپ کو تبلیغ رسالت کے لیے اور تمام طاعتوں کے لیے سہولت دے دیں گے اور قرآن کریم کے ذریعے سے نصیحت کیا کیجیے اور سب کو یہ نصیحت مفید نہیں ہوسکتی، سوائے اس مومن کے جو اس نصیحت کو قبول کرتا ہو اور اللہ سے ڈرتا ہو اور جو سخت بد نصیب ہے وہ قرآنی نصیحتوں اور اللہ تعالیٰ سے دور بھاگتا ہے، بالاخر دوزخ کی بڑی آگ میں داخل ہوگا کہ اس سے بڑا عذاب اور کوئی نہیں اور پھر اس دوزخ میں نہ مر ہی جائے گا کہ چھٹکارا ہوجائے گا اور نہ آرام کی زندگی پائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(الذی یصلی النار الکبری …: سب سے بڑی آگ اس لئے کہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر (69) گنا بڑھی ہوئی ہے۔ (دیکھیے بخاری : 3265)”ثم لایموت فیھا ولا یحییٰ“ یعنی نہ مرے گا کہ جان چھوٹ جائے اور نہ ایسی زندگی ہوگی کہ کوئی راحت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ویتجنبھا الاشقی۔۔۔ تا۔۔ ولایحییٰ ۔ وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کے علم میں بدبخت ہے وہ نصیحت سے اجتناب کرے گا اور اس سے دور بھاگے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئیں۔ کبری سے مراد بڑی آگ ہے یہ جہنم کے طبقوں میں سے سب سے نچلا طبقہ ہے یہ فراء نے کہا، حضرت حسن بصری سے مروی ہیی، کبری سے مراد جہنم کی آگ ہے اور صغری سے مراد دنیا کی آگ ہے یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ وہ نہ مرے گا کہ عذاب سے آرام پائے اور نہ ایسی زندگی پائے گا جو اسے نفع دے، جس طرح شاعر نے کہا : الامالنفس لات موت فینقضی، عناھا ولاتحیا حیاۃ لھاطعم۔ خبردار نفس کے لیے موت نہ ہوگی کہ اس کی مشقت ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
46۔ عبد بن ھمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت سیذکر من یخشی ویتجنبہا الاشقی جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ جلدی سمجھ جائے گا اور اس سے بڑا بدنصیب الگ رہے گا۔ اللہ کی قسم جو بندہ کبھی بھی اللہ سے ڈرا اس نے اس کا ذکر کیا اور جو بندہ اس ذکر سے بےرغبتی کے سبب اور ذکر اور اہل ذکر سے بغض رکھنے کے سبب دور ہٹتا ہے تو وہ بدبختوں میں سے ایک بدبخت ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →[ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا : پھر نہ وہ مرے گا اس میں [وَلَا يَحْيٰي : پھر نہ وہ مرے گا اس میں ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 13 ۔ کا مطلب ہے کہ نہ اسے موت ہی آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے اور نہ جینے کی طرح جیئے گا کہ زندگی کا کوئی لطف اسے حاصل ہو۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے ہے جو سرے سے اللہ اور اس کے رسول کی نصیحت کو قبول نہ کریں اور مرتے دم تک کفروشرک یا دہریت پر قائم رہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل میں ایمان رکھتے ہوں مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر جہنم میں ڈالے جائیں تو ان کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ اپنی سزا بھگت لیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں موت دے دے گا۔ پھر ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی…
Read the full tafseer →﴿ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى ؕ0013﴾ (پھر وہ دوزخ کی آگ میں نہ مرے گا نہ جیے گا) ۔ مرے گا تو اس لیے نہیں کہ وہاں موت آنی ہی نہیں ہے اور جیے گا اس لیے نہیں کہ وہ زندگی، زندگی کہنے کے قابل نہیں۔ بھلا وہ بھی کوئی زندگی ہے جو اتنی بڑی آگ میں گزر رہی ہو جس کا اوپر ذکر ہوا۔ سورة ٴ فاطر میں فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ 1ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا 1ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ0036﴾ (اور کافروں کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ان سے اس کا عذاب ہلکا کیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
7:۔ ” سیذکر “ اس میں پہلے فریق کا ذکر ہے۔ پند و نصیحت اور وعظ و ارشاد سے صرف وہی فائدہ اٹھائیں گے جن کے دلوں میں خدا کا خوف اور اللہ کی طرف انابت و رجوع کا جذبہ موجود ہو۔ ” ویتجنبہا الاشقی “ یہ دوسرے فریق کا بیان ہے اور ساتھ اس فریق کے لیے تخویف اخروی ہے۔ وہ بدبخت کفار و مشرکین جو انکار وعناد پر اصرار کرتے ہیں، پند و نصیحت کو قبول کرنے سے اجتنبا کریں گے۔ ان کی سزا یہ ہوگی کہ وہ سب سے بڑی آگ میں داخل ہوں گے۔ مراد دوزخ کا سب سے نچلا طبقہ ہے۔ ای الطبقۃ السفلی من اطباق النار کما قال الفراء (روح ج 30 ص 108) ۔ ایسے بدبخت جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے سزا پاتے رہیں گے ان کو وہاں نہ موت ہی آئے گی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی…
Read the full tafseer →ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْہَا وَلَا يَحْيٰي 13 ۭ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
ترکیب ¦ ونیسرک معطوف علی سنقرئک وقولہ انہ یعلم الجہر وما یخفٰی اعتراض ای سنقرئک فلا تنسٰی ونو فقک للطریقۃ التیھی اسہل والیسران شرطیۃ نفعت الذکریٰ شرط وقولہ فذکر یدل علی الجزاء الذی یصلی الخ صفۃ الاشقیٰ ثم لایموت عطف علی یصلی وذکر عطف علی تزکی وفصلی عطف علی ذکر۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا سبح اسم ربک الاعلیٰ کہ اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح بیان کر اور اب اس تسبیح کے ثمرات بیان فرماتا ہے۔ فقال ونیسرک للیسریٰ کہ ہم تیرے لیے نجات کے رستے کو آسان کردیں گے۔ نجات کو یسریٰ یوں کہا کہ وہ کوئی درحقیقت مشکل اور محال بات نہیں جیسا کہ مذاہب باطلہ میں ہے کہ کوئی بتوں پر اپنی اولاد کی قربانی کو نجات کا سبب جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
وَیَتَجَنَّـبُـھَا الْاَشْقٰی۔ الَّذِیْ یَصْلَی النَّارَالْــکُبْرٰی۔ ثُمَّ لاَ یَمُوْتُ فِیْھَا وَلاَ یَحْیٰی۔ (الاَعلٰی : 11 تا 13) (اور گریز کرے گا وہ جو بدبخت ہوگا۔ وہ پڑے گا بڑی آگ میں۔ پھر نہ اس میں مرے گا، نہ جئے گا۔ ) آپ کی تمام تر مساعی کے باوجود جو لوگ آپ کی تبلیغ و دعوت سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ہر ممکن طریقے سے آپ کی دعوت کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی دعوت میں کوئی کجی ہے یا آپ کے طریق دعوت میں کوئی کمزوری ہے، یا آپ کے اندر اخلاص و دردمندی کی کمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دراصل انتہائی محروم القسمت لوگ ہیں۔ انھوں نے اپنی قسمت پھوڑ لی ہے۔ یہ لوگ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی قدرتوں کا ذکر جاری ہے۔ جو ” رب “ اپنی قدرت سے نباتات کو اگاتا اور اسے کوڑا کرکٹ بناتا ہے اسی نے اپنی قدرت سے نبی ﷺ کو قرآن پڑھایا اور یاد کروایا۔ ان آیات کا یہاں لانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ جس طرح انسان اور نباتات کا پہلے وجود نہیں تھا اسی طرح وحی سے پہلے آپ کی نبوت کا وجود نہ تھا۔ انسان اور دیگر چیزوں کے لیے فنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی کو فنا نہیں ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں نبی ﷺ وحی کو یاد رکھنے کے لیے عجلت فرمایا کرتے تھے تاکہ وحی کا کوئی حصہ بھول نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو پڑھنے اور یاد کرنے میں عجلت سے کام…
Read the full tafseer →13 : ثُمَّ لَایَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْیٰی (پھر نہ اس میں وہ مر ہی جائے گا اور نہ جئے گا) لایموتؔ نہ مرے گا کہ عذاب سے چھوٹ جائے۔ ولا یحییٰ : نہ وہ لذت والی زندگی پائے گا جس سے اس کو فائدہ ہو۔ ایک قول ثمؔ کے متعلق : موت زندگی کے درمیان لٹکے رہنا یہ آگ میں داخل ہونے سے زیادہ سخت اور اذیت ناک ہے۔ اور آگ کے داخلہ سے یہ شدت مراتب میں پیچھے ہے۔ اس لئے ثم استبعاد یہ لایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →13 ۔” ثم لا یموت فیھا “ کہ وہ راحت حاصل کرے۔ ” ولا یحییٰ “ ایسی زندگی جو اس کو نفع دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل…
Read the full tafseer →(ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي) جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جیے گا۔ یعنی ان کو دردناک عذاب دیا جائے گا، اس میں کوئی راحت نہ استراحت حتی کہ وہ موت کی تمنا کریں گے مگر موت ان کو نہیں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لایقضی علیھم فیموتوا ولایخفف عنھم من عذابھا۔ فاطر 36) نہ ان کو موت آئے گی کہ مرجائیں نہ جہنم کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(13) منکروں کے لیے ہمیشہ کا عذاب، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکروں اور نور حق و ہدایت سے محروم بدبختوں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہوگا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر وہاں پر نہ تو وہ مرے گا " تاکہ اس طرح وہ اس عذاب الیم و شدید سے چھٹکارا پاس کے کہ دنیا میں آنے والے کسی عذاب سے والعیاذ باللہ۔ چھٹکارے اور بچاؤ کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کو موت آجائے، اور دوزخ میں پڑے ان بدبختوں کے لیی اس کی بھی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، سو یہ لوگ وہاں کے اس ہولناک عذاب سے تنگ آکر دوزخ کے داروغے سے کہیں گے کہ اپنے رب کے حضور ہمارے بارے میں عرض کریں کہ وہ ہمارا قصہ تمام کردے تاکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ف 20 ان نفعت الذکری کا لفظی ترجمہ یوں ہے اگر سمجھانا فائدہ دے “ یہ صرف ایک حالت کا ذکر ہی دوسری حالت یہ ہے کہ سمجھانے کا فائدہ نہ ہو نبی صلعم پر لوگوں کو سمجھانا چونکہ دونوں حالتوں میں ضروری تھا اس لئے ترجمے میں آیت کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ (لوگوں کو) سمجھایئے۔ فائدہ ہو (یا نہ ہو) “ قاضی شو کانی نے آیت کے اس مطلب کو ترجیح دی بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ لوگوں کو اس وقت تک سمجھایئے جب تک سمجھانا فائدہ دے۔ یعنی موقع کی مناسبت سے لوگوں کو سمجھایا کیجیے کہ سمجھنے کے لئے متوجہ ہوں اور ملول نہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(87:12) الذی یصلی النار الکبری یہ جملہ صفت ہے الاشقی کی۔ جو بڑی آگ میں پڑے گا۔ یصلی مضارع واحد مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر سے وہ داخل ہوگا۔ وہ پڑیگا النار الکبری۔ موصوف و صفت مل کر مفعول یصلی کا۔ کبری کبیر کا مؤنث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 6) اے محبوب ﷺ اس وحی کو یاد رکھنا آسان ہوجائے گا اور اللہ کی معرفت اور عبادت اور ملک وملت کی سیاست کے طریقے سب سہل کردیے جائیں گے اور کامیابی کا راستہ سے تمام مشکلات ہٹادی جائیں گی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایسے انعام فرمائے ہیں آپ دوسروں کو فیض پہنچائیں اور اپنے کمال سے دوسروں کی تکمیل کیجئے، ہاں یہ نہ ہوگا کہ سب آدمی نصیحت پالیں اور ایمان لے آئیں بلکہ سمجھانے سے وہی سمجھتا ہے اور نصیحت سے وہ ہی فائدہ اٹھاتا ہے جس کے دل میں تھوڑا بہت خدا کا ڈر اور اپنے انجام کی فکر ہو اور جس بدقسمت کے نصیب میں دوزخ کی آگ لکھی ہے وہ کہاں سمجھتا ہے اسے خدا کا اور اپنے انجام کا ڈر ہی نہیں جو نصیحت کی طرف متوجہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
[10] یعنی نہ موت ہی آئے گی کہ تکلیفوں کا خاتمہ کر دے اور نہ آرام کی زندگی ہی نصیب ہوگی۔ ہاں ایسی زندگی نصیب ہوگی جس کے مقابلے میں موت کی تمنا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ہمہ گیر صداقت 1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…
Read the full tafseer →(13) پھر وہ اس آگ میں نہ مرے گا اور نہ جئے گا - یعنی موت تو آنے ہی کی نہیں اور حیات بھی مثل لاحیات ہوگی وہ زندگی جس سے آدمی موت کو لاکھ درجے بہتر سمجھتا ہو وہ زندگی نہ جینے کے برابر ہے آگے ڈرنے والوں کی تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
ف 5۔ روح المعانی میں عبد بن حمید کی روایت سے حدیث مرفوع مذکور ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر قبل توراة کے دس۔
Read the full tafseer →پھر وہاں نہ مرے گا نہ جئے گا 13 ؎ ہم قبل ازیں بہت دفعہ یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے ، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بالکل صحیح ہے لیکن یہ ہم انسانوں کی زبان میں ہے اس لیے اس کی زبان بالکل اسی طرح پر ہے جس طرح ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنی زبان کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک حالت حالت ِ موت ہے اور ایک حالت حالت ِ زندگی لیکن ہم اپنی زبان میں چونکہ یہ بھی استعمال کرتے ہیں کہ فلاں کی کچھ بات نہ پوچھو وہ تو نہ زندوں میں ہے اور نہ مردوں میں اور اس سے ہماری مراد بیکار زندگی ہے جب انسان دوسروں پر بوجھ بن کر رہ جائے اور ان کے کام تو وہ آ نہ سکے بلکہ وہ زندوں پر ایک طرح کا بوجھ بن جائے خود نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَىٰ (So, extend advice [ to people ] if advice is useful....87:9) The preceding verses described the facilities created by Allah for the Holy Prophet in performing his Prophetic obligation. This verse commands him to perform his obligation. The verse contains the conditional particle 'in' (if) that apparently makes the sentence a conditional statement. But, in fact, the command is not intended to be made conditional. It is rather an emphatic statement. This is similar to the grammatical phenomenon in many languages. The particle 'if' is sometimes used when…
Read the full tafseer →12 That is, "He will neither die so as to escape the punishment nor live as one truly lives so as to enjoy the pleasures of life." This punishment is for those who do not at all accept the admonition of AIlah and His Messenger and persist in disbelief, polytheism and atheism till death. As for those who believe in their hearts but are cast into Hell because of their evil deeds, it has been said in the Hadid that when they will have undergone their punishment, AIlah will give them death; then intercession on their behalf will be accepted, and their scorched bodies will be brought to the canals…
Read the full tafseer →