Explained with ayahs 14–19
جس نے صلوۃ کو بروقت ادا کیا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کرلیا احکام اسلام کی تابعداری کی نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پالی رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا (بزار) ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے حضرت ابو العالیہ نے ایک مرتبہ الو خلدہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة الْاَعْلٰی 17
یعنی آخرت دو حیثیتوں سے دنیا کے مقابلے میں قابل ترجیح ہے۔ ایک یہ کہ اس کی راحتیں اور لذتیں دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہیں اور دوسرے یہ کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
زکوة کہتے ہیں کہ وہ باقی مال کو انسان کے لئے پاک کردیتی ہے یہاں لفظ تزکی کا مفہوم عام ہے جس میں ایمانی اور اخلاقی تزکیہ و طہارت بھی داخل ہے اور مال کی زکوٰة دینا بھی ہے۔ وذکر اسم ربہ فصلی، یعنی اپنے رب کا نام لیتا اور نماز پڑھتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس میں ہر قسم کی نماز فرض ونفل شامل ہے، بعض مفسرین نے جو خاص نماز عید سے اس کی تفسیر کی ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ بل تو ثرون الحیوة الدنیا، حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ عام لوگوں میں دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کیوجہ یہ ہے کہ دنیا کی نعمت و راحت تو نقد و حاضر ہے اور آخرت کی نعمت و راحت نظروں سے غائب اور ادھار ہے۔ حقیقیت سے ناآشنا لوگوں نے حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
مخالفین کی مخالفت کی اصل علت:
یہ آخر میں مخالفین یعنی قریش کے لیڈروں کو خطاب کر کے ان کے اصل سبب مخالفت سے پردہ اٹھایا دیا کہ تمہاری ساری مخالفت کی علت محض تمہاری دنیا پرستی ہے۔ تم آخرت کو ماننے اور اس کی خاطر اپنے دنیوی مفادات قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہو اس وجہ سے بے بنیاد شبہات ایجاد کرتے اور ان کو پھیلاتے ہو تاکہ اپنے عوام کو یہ فریب دے سکو کہ تمہارے گریز کے لیے فی الواقع کچھ وجوہ ہیں لیکن نادانو، یاد رکھو کہ تم اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی محبت میں پھنس کر ابدی بادشاہی کھو رہے ہو! بہتر اور پائدار چیز آخرت ہے۔ اگر تمہارے اندر سمجھ ہے تو اس کے طالب بنو!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
17۔ 1 کیونکہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور ابدی ہے، اس لئے عاقل فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
5: یعنی زندہ رہنے کا کوئی آرام اسے حاصل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
بل توثرون ............................ وابقی
حقیقت یہ ہے کہ دنیا پرستی ہی ہر مصیبت کی جڑ ہے۔ اسی وجہ سے انسان نصیحت سے منہ موڑتا ہے کیونکہ آخرت کا مطالبہ یہ ہوتا ہے اس کی فکر کرو اور آخرت کو ترجیح دو ۔ اور لوگ ہیں کہ دنیا کے طالب ہیں اور اس کو اولیت دیتے ہیں۔
اور اس دنیا کو دنیا ویسے نہیں کہا گیا ، بلکہ یہ دنیائے دنی ہے ، قریبی ہے اور جلد مٹنے والی ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت اچھی اور بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔
والاخرة ........................ وابقی (17:87) ” یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے باقی رہنے والی اور اچھی اور ابدالا باد تک مسلسل ہونے والی ہے۔ لہٰذا جو لوگ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
9 یعنی یہ بھلائی تم کو کیسے حاصل ہو جب کہ آخرت کی فکر ہی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی اور یہاں کے عیش وآرام کو اعتقاد اً یا عملاً آخرت پر ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ دنیا حقیر وفانی اور آخرت اس سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ پھر تعجب ہے کہ جو چیز کماً و کیفاً ہر طرح افضل ہو اسے چھوڑ کر مفضول کو اختیار کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت 16{ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ } ”بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔“
دراصل انسان کی اخروی کامیابی یا ناکامی کا تمام تر انحصار اس کی ترجیحات پر ہے۔ اگر تو وہ اپنے معاملات کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے آخرت کی کامیابی کو مقدم رکھتا ہے اور دنیوی مفادات کے حوالے سے قناعت پسندی کی حکمت عملی پر کاربند رہتا ہے تو وہ کامیاب ہے اور اگر اس کا معاملہ اس کے برعکس ہے تو اس کا راستہ تباہی اور بربادی کا راستہ ہے۔ اس آیت میں اس حوالے سے ہم جیسے دنیادار مسلمانوں کے اصل مرض کی نشاندہی کردی گئی ہے کہ ہم دنیوی زندگی کے مفادات کو آخرت کے معاملات پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →11 یعنی تمہارا اصل مرض یہ ہے کہ تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو پسند کرتے ہو حالانکہ آخرت دو وجہ سے دنیا سے بہتر ہے۔ ایک تو وہاں کی نعمتیں اس دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔ اور دوسرے وہاں کی نعمتیں نہ ختم ہونے والی اور لازوال ہیں جبکہ دنیا کی نعمتیں فانی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
10۔ یہاں اہل طغیان کی غفلت کا اصل راز بتادیا، اور ان سے کہہ دیا کہ تم جو ہدایت یاب نہیں ہوتے، تو اس کی اصل بنیاد یہ ہے کہ آخرت کی تمہارے اندر کوئی طلب ہی نہیں۔ ، تم سارے عظیم الشان نظام کائنات کے چھوڑے ہوئے اپنی سطحیت وحمق سے اس کے صرف ایک اقل قلیل جزو یعنی اسی ناسوتی، مادی زندگی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہو !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →والاخرۃ خیر . حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر ہے ‘ اس میں بڑی بڑی لذتیں ہیں ‘ تمام کدورتوں سے خالی ہے۔ سب سے بڑی نعمت اللہ کا دیدار ‘ وصال اور رضامندی ہے جو آخرت میں حاصل ہوگی۔
وابقی . اور وہ لازوال بھی ہے ‘ دنیوی زندگی ایسی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
(16۔ 19) بلکہ یہ لوگ آخرت پر دنیوی زندگی اور اس کے صلہ کو فوقیت دیتے ہیں، حالانکہ ثواب آخرت دنیوی ثواب سے بدرجہا بہتر اور پائیدار ہے، یہ مضمون جو قد افلح سے بیان کیا ہے یہ پہلے لوگوں کی کتابوں میں ہے، یعنی حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں اور موسیٰ کی توریت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
(بل توثرون الحیوۃ الدنیا…: فرمایا، آخرت کی بھلائی کے کاموں میں تم اس لئے کوتاہی کرتے ہوئے کہ دنیا کے مشغلوں کو چھوڑنا تمہیں شاق گزرتا ہے، حالانکہ تم اسے نہ بھی چھوڑو گے تو وہ تمہیں چھوڑ دے گی، کیونکہ وہ باقی رہنے والی نہیں ہے اور اگر آخرت کو اختیار کرلو گے تو وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی، پھر سوچ لو کسے ترجیح دینی چاہیے۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)
Read the full tafseer →والاخرۃ خیروابقی۔
دارآخرت یعنی جنت افضل ہے اور دنیا کے مقابلہ میں دائمی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مالدنیا فی الاخرۃ الا کمایضع احدکم اصبعہ فی الیم فلینظر بمایرجع۔ دنیا آخرت کے مقابلہ میں اس قدر سے جس طرح تم میں سے کوئی ایک اپنی انگلی سمندر میں رکھے تو وہ دیکھے انگلی کیا چیز لے کر آتی ہے، یہ روایت بھی گزری ہے مالک بن دینار نے کہا، اگر دنیا سونے کی ہوتی جو ختم ہوجاتا ہے اور آخرت ٹھیکری کی ہوتی جو باقی رہتی ہے تو ضروری ہے کہ باقی رہنے والی ٹھیکری کی ہے جو فنا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
74۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ عہ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ بلکہ تم دنیا کی زندگی تو آخرت پر ترجیح دیتے ہو۔
آخرت کو دنیا پر ترجیح دینی چاہیے
75۔ ابن جریر وابن المنذر والطبرانی والبیہقی نے شعب الایمان میں عرفجہ الثقفی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن مسعود ؓ سے سورة سبح اسم ربک الاعلیٰ ۔ پڑھی۔ جب وہ اس آیت بل تو ثرون الحیوۃ الدنیا پر پہنچے۔ تو قراءت چھوڑدی اور اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تو قوم چپ ہوگئی پھر فرمایا ہم نے دنیا کو ترجیح دی کیو کہ ہم نے دیکھا اس کی زینت کو اور اس کی عورتوں کو اس کے کھانے کو…
Read the full tafseer →[وَالْاٰخِرَةُ : اس حال میں کہ آخرت ] [خَيْرٌ وَّاَبْقٰى: بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
﴿ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاٞۖ0016﴾ (بلکہ تم لوگ دنیا والی زندگی کو ترجیح دیتے ہو) ۔
پہلے تو انسانوں کی کامیابی اس میں بتائی کہ انسان اپنے نفس کو پاک صاف رکھے کفر و شرک سے بھی اور دوسرے گناہوں سے بھی اور نمازوں کا اہتمام کرے جو تزکیہ نفس کا بہت بڑا ذریعہ ہے اس کے بعد انسانوں کی ناکامی کا سبب بتایا اور وہ دنیا کو ترجیح دینا اور آخرت سے غافل ہونا ہے۔ بہت سے لوگ اسلام کو حق جانتے ہوئے دنیاوی عہدوں اور مال و جائیداد کی وجہ سے کفر و شرک میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ جو مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں وہ فرائض و واجبات تک کو دنیا داری اور دکان داری اور نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
9:۔ ” بل تؤثرون “ توحید کے بعد مضمون تزہید فی الدنیا کا ذکر۔ تمہیں چاہئے تھا (اے اہل مکہ) کہ تم پند و نصیحت کو قبول کرلیتے اور توحید کو مان لیتے مگر تم نہیں مانتے بلکہ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہو اور ایمان و عمل سے آخرت کی تیاری کرنے کے بجائے داد عیش دینے اور مال و زر جمع کرنے میں منہمک ہو حالانکہ آخرت دنیا کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر اور باقی رہنے والی چیز ہے۔ دنیا اور دنیا کی ہر چیز مال و زر جمع کرنے میں منہمک ہو حالانکہ آخرت پر دنیا کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر اور باقی رہنے والی چیز ہے۔ دنیا اور دنیا کی ہر چیز زوال پذیر اور فانی ہے مگر آخرت کا دار ازلی اور وہاں کی ہر نعمت لازوال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
(گذشتہ سے پیوستہ )
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا ذکر ہوا اور اس کی صفات کمال کا بیان ہوا۔ اس کے بعد انسان کی طبعی ضرورت ہدایت اور اس کے حصول کے ذرائع کا تذکرہ ہوا اللہ تعالیٰ نے مثال کے ذریعہ سمجھایا کہ جس طرح جانوروں کے لیے اللہ نے چارے کا بندوبست کیا ہے ۔ اسی طرح نوع انسانی کے لیے ہدایت کا انتظام بھی کردیا ہے ۔ اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم آپ کو کتاب یعنی قرآن پاک اس طرح پڑھا دیں گے کہ آپ بھولیں گے نہیں ۔ البتہ جو چیز اللہ تعالیٰ خود بھلا دینا چاہیں گے وہ آپ کی یاداشت سے خارج کردی جائیگی اور آپ کو حکم ہوا ۔ کہ آپ تبلیغ کا حق ادا کرتے رہیں ۔ لوگوں کو نصیحت…
Read the full tafseer →وَالْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى 17 ۭ
آخرت
آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] .
وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر»…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
ترکیب ¦ بل اضراب عن کلام مقدر یدل علیہ السیاق ای انتم لا تفعلون ذلک بل تو ثرون اللذات الفانیۃ العاجلۃ الحاصلۃ فی الدنیا علی الدار الآخرۃ ونعماھا الباقیۃ والآخرۃ مبتداء خیر وابقی خبر والجملۃ حال من فاعل تو ثرون ‘ صحف ابراھیم اللخ بدل من الصحف الاولیٰ ۔
تفسیر ¦ کفار دنیا پرست کہتے تھے کہ ہم کو تزکیہ اور ذکر اور نماز میں کوئی فلاح نہیں معلوم ہوتی کیا ہم عقل و ادراک نہیں رکھتے اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے یا یوں کہو کہ وہ بھی تزکیہ کے مدعی تھے۔ ان کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے تمہیں عقل و ادراک کیا نہیں بل بلکہ تم تؤثرون الحیوۃ الدنیا دنیا کی چند روزہ زندگانی اور اس کے لذات فانیہ کو آخرت اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌوَّاَبْقٰی۔ (الاَعلٰی : 16، 17)
(مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ )
مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب
اس آیت کریمہ میں مخالفین کے بڑے بڑے لیڈروں کی مخالفت کا اصل سبب منکشف فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ لوگ جو قیامت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور آنحضرت ﷺ کی دعوت ان کے نزدیک قابل قبول نہیں تو اس کا سبب یہ نہیں کہ اس مخالفت کے لیے ان کے پاس کوئی معقول دلیل موجود ہے بلکہ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ ان کی فکر پوری طرح حب دنیا میں ڈوب چکی ہے۔ وہ اس عقیدے کو قبول کرکے ناجائز دنیوی مفادات کو قربان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی لوگوں کا کردار۔
وہ شخص جہنم سے بچ جائے گا جس نے اپنے آپ کو پاک رکھا، اور اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کے حضور پنجگانہ نماز ادا کرتارہا۔ ” تَزَکیّٰ “ سے پہلی مراد کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ گناہوں سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ آدمی فرض نماز ادا کرتا رہے اور ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھے۔ رب کو یاد کرنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ زبان سے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پڑھے اور توبہ کا ورد کرتا رہے مگر عملی طور پر کفر و شرک اور نافرمانی کے کاموں میں مبتلا رہے۔ ذکر کا پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے احکام کو یاد رکھے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش…
Read the full tafseer →17 : وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی (حالانکہ آخرت بدرجہا بہتر اور پائیدار ہے) نفس دنیا سے افضل اور اس کے مقابلے میں دائمی ہے۔
Read the full tafseer →17 ۔” والاٰخرۃ خیر وابقیٰ “ عرفجہ اشجعی کہتے ہیں ہم ابن مسعود ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے یہ قرات پڑھی تو ہمیں کہا کیا تم جانتے ہو کہ ہم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر کیوں ترجیح دی ہے ؟ ہم نے کہا نہیں تو فرمایا اس لئے کہ دنیا حاضر کی گئی ہے اور ہمارے لئے اس کا کھانا، پینا اور عورتیں اور لذات اور اس کی رونق جلدی کی گئی ہے اور بیشک آخرت ہمارے لئے بیان کی گئی ہے اور ہم سے دور کی گئی ہے تو ہم نے عاجل (جلدی) کو پسند کیا اور اجل (دور والی) کو چھوڑ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
14۔ 19۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص توحید پر قائم رہا اور اللہ کی یاد دل میں رکھ کر پانچوں وقت کی نماز اس نے ادا کی اس کے لئے عقبیٰ میں بلاشک بھلائی ہے اللہ کی یاد دل میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عبادت میں دنیا کا دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو۔ بعض علماء نے اللہ کی یاد سے زبانی یاد لے کر وذکر اسم ربہ سے تکبیر تحریمہ کے فرض ہونے کا مطلب نکالا ہے مکی آیتوں میں فقط توحید اور نماز کا ذکر اس واسطے ہے کہ روزہ حج زکوٰۃ یہ چیزیں ہجرت کے بعد مدینہ کے قیام میں فرض ہوئی ہیں قد افلح من تزکی کی تفسیر بعض مفسروں نے صدقہ فطر سے جو کی ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان آیتوں میں سے جن کا نزول عمل سے پہلے ہے جیسے آیت…
Read the full tafseer →( وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى) حالانکہ آخرت ہر وصف مطلوب میں دنیا سے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔ کیونکہ آخرت دارالخلد اور دارالبقا ہے اور دنیا دارالفنا ہے اور ایک عقل مند مومن عمدہ کے مقابلے میں ردی کو منتخب کرے گا نہ ایک گھڑی کی لذت کے لیے ابدی رنج وغم کو خریدے گا پس دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا ہر گناہ کی جڑ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
نماز کا افتتاح ذکر الٰہی سے ہو
قول باری ہے (قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی) حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز اور ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ” وہ شخص فلاح پا گیا جس نے صدقہ فطر ادا کیا اور پھر عید کی نماز کے لئے نکل گیا۔ “ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے صدقہ فطرادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ نماز سے پہلے تم صدقہ فطرادا کرو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (وذکراسم ربہ فصلی ) سے تمام اذکار کے ذریعے نماز کے افتتاح کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →(17) اصل چیز آخرت ہے نہ کہ دنیا : ارشاد فرمایا گیا اور دنیا کو ترجیح دینے والوں کی مت ماری اور ان کے خسارے کو اجاگر کرنے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " حالانکہ آخرت کہیں بہتر بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی "۔ یعنی آخرت کم اور کیف دونوں کے اعتبار سے دنیا کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر اور بہتر ہے اور ظاہر ہے کہ جو چیز کم اور کیف دونوں کے اعتبار سے بہتر ہو اس کو پس پشت ڈال کر جو کوئی اس کے مقابلے میں کمتر چیز پر راضی ہوجائے گا اور اسی کو اپنا مطمع نظر اور مقصد حیات بنا لے گا اس سے بڑھ کر محروم اور بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا محرومیوں کی محرومی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے
تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الاعلی۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔
مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔
قدرت کا عطیہ۔
یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…
Read the full tafseer →ف 2 مخاطب ہر وہ شخص ہے جو نماز نہیں پڑھتا اور ذکر الٰہی کا خیال نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →(87:17) والاخرۃ خیر وابقی۔ واؤ حالیہ ہے الاخرۃ مبتداء خیر وابقی اس کی خبر۔
جملہ یؤثرون کے فاعل سے حال ہے۔ خیر۔ اخیر کے معنی میں افعل التفضیل کا صیغہ بھی ہے اور اسم بھی۔ اس صورت میں اس کی جمع خیار واخیار ہوگی۔ ابقی : بقاء سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ اگر یہ لفظ اللہ کی صفت ہوگا تو اس کے معنی سدا باقی رہنے والا کے ہوں گے۔ ورنہ دیر تک رہنے والے کے ہوں گے۔
ترجمہ ہوگا :۔ حالانکہ آخرت (کا گھر) بہتر اور سدا رہنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔
لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔
تشریح :
ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔
٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…
Read the full tafseer →(ف 2) فرمایا کہ عقبی کی بھلائی کے کاموں میں اکثر لوگ کوتاہی اس لیے کرتے ہیں دنیا کے مشغلوں کو چھوڑ کر عقبی کے کاموں میں مصروف ہوناان کو شاق گذرتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ دنیا کے مشغلوں کو نہ چھوڑیں ایک دن وہ دنیا کے مشغلے خودان کو چھوڑ دیں گے کیونکہ دنیا اور ان کے مشغلے ان میں کوئی باقی رہنے والی چیز نہیں اور عقبی کے کاموں کو یہ چھوڑ بیٹھے ہیں مگر عقبی ان کو نہیں چھوڑے گی کس لیے کہ وہ باقی رہنے والی چیز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[11] یعنی آخرت دو حیثیتوں سے دنیا کے مقابلے میں قابل ترجیح ہے۔ ایک یہ کہ اس کی راحتیں اور لذتیں دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہیں اور دوسرے یہ کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ہمہ گیر صداقت
1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…
Read the full tafseer →(17) حالانکہ آخرت بدرجہا بہتر اور باقی رہنے والی ہے - یعنی تم نے دنیوی زندگی کو اختیار کررکھا اور اعتقاداً اور عملاً آخرت کو نظرانداز کررکھا ہے حالانکہ آخرت دنیا سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے تعجب ہے کہ جو چیز ہر اعتبار سے افضل ہے اس کو چھوڑ رکھا ہے اور جو چیز مفضول اور گھٹیا ہے اسے اختیار کررکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
ف 5۔ روح المعانی میں عبد بن حمید کی روایت سے حدیث مرفوع مذکور ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر قبل توراة کے دس۔
Read the full tafseer →اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے
17 ؎ دنیا کی زندگی عارضی زندگی ہے اور آخرت کی زندگی ابدی اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے پھر چند روززندگی کے لیے اتنی دوڑ دھوپ اور ابدی زندگی کے لیے اتنی بےفکری کہ اس کی طرف دھیان تک نہیں دیا گیا تو یہ عقل کی بات نہیں بلکہ سراسر بےعقلی اور بیوقوفی کی بات ہے۔ جس شخص نے اتنا بھی خیال نہیں کیا اور آخرت کی طرف سے ایسا بےفکر اور غافل رہا بلکہ آخرت کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا اور وہ بالکل دنیا ہی کا ہو کر رہ گیا اس کا کیا ہوگا یہی کہ دنیوی زندگی جب ختم ہو جائیگی تو دنیاوی نعمتیں بھی ختم ہوجائیں گی اور خالی ہاتھ یہاں سے رخصت ہوجائے گا آخرت کے لیے عمل بھی اس کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (Success is surely achieved by him who purifies himself,..87:14) The word tazakka is derived from zakah, the primitive meaning of which is 'to purify'. The zakah of wealth is so called because it purifies the rest of man's wealth for him. In this context, the word tazakka is used in a general sense, which comprehends the purity of faith and character, and purity of wealth.
وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ (and pronounces the name of his Lord, then offers prayer....87:15). This covers all categories of prayer, obligatory as well as supererogatory. Some commentators…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17 That is, the Hereafter is preferable to the world for two reasons: first, that its comforts and pleasures are far superior to aII the blessings of the world; second, that the world is transitory and the Hereafter everlasting.
Read the full tafseer →