Explained with ayahs 1–10
تخلیق انسان
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھتا ہے طارق کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوجاتے ہیں ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بیخبر آجائے یہاں بھی لفظ طروق ہے، آپ کی ایک دعا میں بھی طارق کا لفظ آیا ہے ثاقب کہتے ہیں چمکیلے اور روشنی والے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے جیسے اور جگہ ہے کہ آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →سورة الطَّارِق 2
عالم بالا کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ خود ذرا اپنی ہستی ہی پر غور کرلے وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔ کون ہے جو باپ کے جسم سے خارج ہونے والے اربوں جرثوموں میں سے ایک جرثومے اور ماں کے اندر سے نکلنے والے بکثرت بیضوں میں سے ایک بیضے کا انتخاب کر کے دونوں کو کسی وقت جوڑ دیتا ہے اور اس سے ایک خاص انسان کا استقرار حمل واقع ہوجاتا ہے ؟ پھر کون ہے جو استقرار حمل کے بعد ماں کے پیٹ میں درجہ بدرجہ اسے نشو ونما دے کر اسے اس حد کو پہنچاتا ہے کہ وہ ایک زندہ بچے کی شکل میں پیدا ہوتا، پھر کون ہے جو رحم مادر ہی میں اس کے جسم کی ساخت اور اس کی جسمانی و ذہنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ان کل نفس لما علیھا حافظ، یہ جواب قسم ہے، اس میں شروع کا حرف ان نافیہ ہے اور حرف لما بتشدید میم بمعنے الا ہے جو قبیلہ ہذیل کے لغت میں استشناء کے معنے دیتا ہے اور معنے آخرت کے یہ ہیں کہ کوئی نفس ایسا نہیں جس ہر حافظ نہ ہو، حافظ کے معنے نگراں کے بھی آتے ہیں جو کسی کے اعمال کو نظر میں رکھے تاکہ ان کا حساب لے، اور حافظ بمعنے محافظ بھی آتا ہے جس کے معنے مصائب وآفات سے حفاظت کرنے والے کے ہیں، پہلے معنے کے اعتبار سے حافظ سے مراد فرشتہ کا تب اعمال ہے، اور یہاں اگرچہ اس کو بلفظ مفرد بمعنی جنس بیان کیا ہے مگر ان کا متعدد ہونا دوسری آیت سے ثابت ہے ان علیکم لحفظین کراما کتبین
اور دوسرے معنے کے اعتبار سے…
Read the full tafseer →انسان کا وجود خود شاہد ہے کہ خدا اس کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے:
یہ اس احساس ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہر اس انسان کے اندر پیدا ہونا چاہیے جو اس حقیقت کو پا گیا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کا خالق ایک ایک چیز پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور جب وہ نگاہ رکھے ہوئے ہے تو لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں نیکوں کے سامنے ان کی نیکی اور بدوں کے سامنے ان کی بدی اپنے حقیقی نتائج کی صورت میں بے نقاب ہو۔
’فَلْیَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ‘۔ یہ انسان کو خود اس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنی ہی خلقت پر غور کرے تو خدا کی قدرت، حکمت اور اس کی صفت گری کی ایسی شانیں ظاہر…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی منی سے جو قضائے شہوت کے بعد زور سے نکلتی ہے۔ یہی قطرہ آب رحم عورت میں جر اللہ کے حکم سے حمل کا باعث بنتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1: طارق سے مراد چمکتا ہوا ستارا ہے، کیونکہ وہ رات ہی کہ وقت نظر آتا ہے، اس کی قسم کھاکر فرمایا گیا ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر کوئی نگران مقرر نہ ہو، ستارے کی قسم کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ جس طرح ستارے آسمان پر دنیا کی ہر جگہ نظر آتے ہیں، اور دنیا کی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ خود بھی ہر انسان کے ہر قول وفعل کی نگرانی فرماتا ہے اور اسکے فرشتے بھی اس کام پر مقرر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
انسان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے کیا بن گیا۔ ایک ایسے پانی سے پیدا کیا جو اچھل کر جسم انسانی سے نکلتا ہے اور یہ آتا کہاں سے ہے ، انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ پانی مرد کی ریڑھ کی ہڈیوں سے جمع ہوتا ہے۔ اور عورت کی سینے کی بالائی ہڈیوں سے نکلتا ہے اور اس پانی کا بننا اور اس کا یوں خارج ہونا اللہ کے رازوں میں سے ایک راز تھا جسے انسان ابھی تک نہیں جانتا تھا ، گزشتہ نصف صدی میں سائنس نے اپنے اسلوب تحقیق کے مطابق اس کے بعض پہلوﺅں سے پردہ اٹھایا اور معلوم ہوا کہ انسان کی پیٹھ کی ہیوں اور عورت کے سینے کی بلائی ہڈیوں کے اندر عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 یعنی فرشتے رہتے ہیں آدمی کے ساتھ۔ بلاؤں سے بچاتے ہیں یا اس کے عمل لکھتے ہیں (موضح القرآن) اور قسم میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ جس نے آسمان پر ستاروں کی حفاظت کے ایسے سامان کئے ہیں، اس کو زمین پر تمہاری یا تمہارے اعمال کی حفاظت کرنا کیا دشوار ہے۔ نیز جس طرح آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ان کا ظہور خاص شب میں ہوتا ہے۔ ایسے ہی سب اعمال نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ ہیں، مگر ظہور ان کا خاص قیامت میں ہوگا۔ جب یہ بات ہے تو انسان کو قیامت کی فکر چاہیے۔ اور اگر اس کو مستبعد سمجھتا ہے تو اس کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 7{ یَّخْرُجُ مِنْم بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ۔ } ”جو نکلتا ہے پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے۔“
مرد کے مادہ منویہ کا اصل منبع ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہے۔ یہاں سے پیدا ہو کر یہ مادہ ان غدودوں تک پہنچتا ہے جو اس کے لیے مخصوص ہیں۔
Read the full tafseer →4 عالم بالا کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ ذرا اپنی پیدائش پر بھی غور کرلے کہ ماں کے پیٹ میں کون اس کی پرورش کرتا رہا اور کس نے اس کے حمل کو رحم مادر میں جمائے رکھا اور اتنا سخت جمایا کہ بغیر کسی شدید حادثہ کے حمل ضائع نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر جب وہ ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو اتنا زیادہ ناتواں اور کمزور تھا جتنا کمزور بچہ دوسری کسی جاندار مخلوق کا نہیں ہوتا۔ پھر دوسری تمام مخلوق سے بڑھ کر اس کی نشوونما کے انتظامات فرمائے۔ پھر پیدائش سے لے کر موت تک اس کی مسلسل نگرانی کرتا رہتا ہے۔ اسے بیماریوں سے، حادثات سے اور طرح طرح کی آفات سے بچاتا رہتا ہے۔ اس کی زندگی اور زندگی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
2۔ (اور اس کو مستبعد سمجھنا خود ایک تمامتر احمقانہ خیال ہے) (آیت) ” فلینظرالانسان ..... دافق “۔ یعنی انسان اپنے آغاز وابتداء پر غور کیا تو کرے۔ اس مراقبہ سے موت ومعاد کی یاد تازہ ہوتی رہے گی۔
ع :۔ بہ آغاز ردکن کہ پایاں ہمیں است :۔ (آیت) ” رجعہ “۔ ضمیر انسان کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ان کل نفس لما علیھا حافظ یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے محافظ اور نگران مقرر ہیں اور وہ فرشتے ہیں جیسا کہ سورة رعد کی آیت 11 سے معلوم ہوتا ہے اور بع مفسرین نے حافظ سے مراد خود اللہ تعالیٰ کو لیا ہے۔
Read the full tafseer →فلینظر الانسان مم خلق . فاء سببی ہے نگراں فرشتوں کا وجود (اور ہر چھوٹے ‘ بڑے عمل کے اندراج کا
اندیشہ) اس امرکا سبب ہے کہ آدمی اپنے حالات پر غور کرے تاکہ اپنے تخلیقی احوال سے دوبارہ تخلیق کی صحت پر استدلال کرسکے اور اس کے لیے اللہ اور رسول کو ماننا ‘ ان کے احکام پر چلنا اور ممنوعات سے اجتناب رکھنا لازم ہوجائے۔ مِمَّ میں مِنْ ابتدائیہ اور ما استفہامیہ ہے اور مِمَّ خُلِقَ پورا جملہ ینظر کا مفعول ہے (یعنی مادۂ تخلیق کی حالت پر غور کرے کہ اس کو کس چیز سے پیدا کیا گیا) اس استفہام کے جواب میں خود ہی فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5۔ 7) انسان کو اپنے اندر غور کرنا چاہیے کہ کس چیز سے اسے پیدا کیا گیا، وہ ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے۔
شان نزول : فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (الخ)
ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے اس آیت مبارکہ کے متعلق روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابوالاشد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ چمڑے پر کھڑا ہو کر کہا کرتا تھا اے گروہ قریش جو مجھ کو اس پر ہٹا دے اس کے لیے اس یا ہے اور بکواس کیا کرتا تھا کہ محمد کہتے ہیں کہ دوزخ کے انیس خازن ہیں تو میں اکیلا ہی ان میں سے دس کو کافی ہوں اور نو کو تم کافی ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(1) فلینظر الانسان مم خلق…: ایک مقرر وقت تک انسان کی ذات کی حفاظت اور اعمال کی نگہداشت یوم حسابکے لئے ہے، اگر اسے اپنا دوبارہ زندہ کیا جانا محال معلوم ہوتا ہے تو اپنی پیدائش پر غور کرلے کہ کس چیز سے ہوتی ہے ؟ ایک اچھلنے والے پانی سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے پانی جیسی مائع چیز پر صورت گری کر کے ایک کامل انسان پیدا کردیا جس میں مکمل اعضائے جسم، حیات، قوت، عقل اور ادراک سب کچھ موجود ہے تو یقیناً وہ اس انسان کو اس کی مٹی سے دوبارہ پہلی صورت میں پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ بتاؤ، انسان کو پانی سے بنانا مشکل ہے یا اسی کی خاک سے دوبارہ بنادینا ؟ اور پہلی دفعہ بغیر نمونے کے پیدا کرنا مشکل ہے یا پہلے نمونے پر…
Read the full tafseer →فلینظرالانسان مم خلق۔۔۔ تا۔۔۔ لقادر۔
فلینظرالانسان مم خلق۔ انسان سے مراد ابن آدم ہے اس کا ماقبل سے اتصال ہے کہ انسان کو اپنے امر کی ابتدا کی طرف دیکھنے کا خصوصی کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ اسے علم ہوجائے جس ذات نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا ہے وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے اور اس کو بدلہ دینے پر قادر ہے پس وہ اعادہ اور جزاء کے دن کے لیے عمل کرے اور وہ اپنے محافظ پر کوئی ایسی چیز املاء نہ کرائے مگر جو اسے انجام کارخوش کرے، مم خلق، یہ استفہام ہے معنی ہے اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا پھر فرمایا، خلق من ماء دافق۔ اس سے مراد مادہ منویہ ہے۔ دفق کا معنی پانی بہنا ہے، دفقت الماء ادفقہ دفقا۔ میں نے اسے بہایا ووہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
14۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلینظر الانسان مم خلق پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا سے ابو الاشدین مراد ہے جو چمڑہ پر کھڑے ہو کر کہتا تھا اے قریش کی جماعت جو مجھے اس سے ہٹادے اور اس کے لیے اتنا انعام ہوگا اور وہ کہتا تھا کہ محمد ﷺ یہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کے نگران فرشتے انیس ہیں میں اکیلا تم دس کے لیے کافی ہوں اور تم نو مجھے کافی ہوتے ہو۔
Read the full tafseer →[فَلْيَنْظُرِ الْانسَان : پس چاہیے کہ غور کرے انسان ][ مِمَّ خُلِقَ : کس چیز سے اس کو پیدا کیا گیا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اللہ تعالیٰ نے آسمان کی اور چمکتے ہوئے ستارہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ دنیا میں جو لوگ بھی رہتے اور بستے ہیں ان کے اعمال کی نگرانی کے لیے ہم نے فرشتے لگا رکھے ہیں ہر جان کے ساتھ فرشتہ لگا ہوا ہے۔ یہ فرشتے انسانوں کے اعمال کو لکھتے ہیں اور اعمالنامہ کو محفوظ کرلیتے ہیں پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ اعمال نامے انسانوں کے سامنے آجائیں گے۔ یہ حافظ ( کی ایک تفسیر ہے جو آیت کریمہ ﴿ وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ0010﴾ کے مطابق ہے بعض مفسرین نے فرمایا ہے اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو ہر انسان کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں جس کا سورة ٴ رعد کی آیت ﴿ لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔
(ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3:۔ ” فلینظر الانسان “ یہ حشر و نشر کے لیے پہلا عقلی نمونہ ہے انسان اس پر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس کو کدنے والے پانی (نطفہ) سے پیدا کیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے نکلتا ہے (کبیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے )
ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔
(دیگر معانی )
عربی زبان میں…
Read the full tafseer →فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ 5 ۭ
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي :
منتظرین،
( ن ظ ر )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ وللقسم۔ السماء محبرور معطوف علیہ والطارق عطف علیہ۔ والطارق ما یاتی لیلا سوا کان کو کبا وغیرہ لطروق بشب آمدن (ععا ض 2) طارق بشب آیندہ و ستارہ و کشتی کردن فحل۔ از صراح) وما ادراک الجملۃ الاستفہامیۃ لتفخیم الطارق النجم الثاقب مستانفہ جواب سوال کانہ قیل ما ھو فقال النجم الثاقب۔ ثقوب افروختہ شدن آتش۔ ص۔ ان کل نفس لما علیہا حافظ قرء ابن کثیر و ابی عمر و نافع وکسائی لما بالتخفیف و قرء عاصم وحمزۃ والنخعی بالتشدید فمن خفف کانت ان عندہ الخففۃ من المثقلۃ واللام فی لماتد خل مع ان المخفۃ للفرق بین النافیۃ والمخفۃ وما صلۃ کما فی قولہ فبما رحمۃ ومن اثقل فان عندہ النافیۃ ولما بمعنی الاحافظ مبتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فَلْیَنْظُرِالْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۔ خُلِقَ مِنْ مَّـآئٍ دَافِقٍ ۔ یَّخْرُجُ مِنْ م بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ ۔ اِنَّـہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ۔ (الطارق : 5 تا 8)
(پس انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔ جو نکلتا ہے ریڑھ اور پسلیوں کے بیچ سے۔ بیشک وہ اس کے لوٹا سکنے پر پوری طرح قادر ہے۔ )
دوسری زندگی پر انسان کے وجود سے استدلال
عالمِ بالا میں اپنی قدرت کی شانوں کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ خود اپنی ہستی پر غور کرے تاکہ اسے اندازہ ہو جس ذات کے بارے میں اسے یہ بدگمانی ہے کہ وہ اس عالم کو دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
فہم القرآن
ربط کلام : جس خالق نے انسان پر نگران مقرر کیے ہیں وہی انسان کو ٹپکتے ہوئے پانی سے پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے اسے قیامت کے دن زندہ کرنا اور اپنے حضور کھڑا کرنا ہے۔
قرآن مجید نے کئی مقامات پر انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں متوجہ کیا اور فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنی پیدائش پر غور کرنا چاہیے کہ تیرے رب نے تجھے کن مراحل سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیری ابتدا اچھلتے ہوئے پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔ یقین جان ! کہ تیرا رب تجھے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے نہ صرف تجھے دوبارہ پیدا کرے گا بلکہ اس دن دلوں کے تمام راز…
Read the full tafseer →وہ لکھوائے جو آخرت میں کام آئے :
5 : فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے) جب یہ بات ذکر فرمائی کہ ہر نفس پر ایک نگران مقرر ہے۔ تو انسان کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی ابتداء پر غور کرے۔ تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ جو ذات اس کو ایجاد کرنے والی ہے تو وہ اس کے اعادہ پر قدرت بھی رکھتی ہے۔ پس انسان کو یوم جزاء کیلئے عمل کرنا چاہیے اسے اپنے نگران کو وہ کچھ لکھوانا چاہیے جو آخرت میں اس کو خوش کر دے۔ مم خلقؔ استفہام ہے۔ ای من ای شیٔ خلق ؟ کس چیز سے اس کو بنایا۔
Read the full tafseer →5 ۔” فلینظر الانسان مم خلق “ یعنی پس چاہیے کہ غور وفکر کرے کہ کس چیز سے اس کو اس کے رب نے پیدا کیا ہے ۔ یعنی چاہیے کہ وہ غور وفکر کرنے والے کی طرح نظر کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ طارق رات کو آنے والی چیز کو کہتے ہیں صبح کا تارا اور تاروں کی طرح شام سے نہیں نکلتا بلکہ رات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد نکلتا ہے اس واسطے اس کو بھی طارق کہتے ہیں ثاقب چمک دار چیز کو کہتے ہیں یہ تارا خوب روشن اور چمک دار ہوتا ہے اس لئے اس کو ثاقب فرمایا اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر جاندار کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں سورة رعد میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو…
Read the full tafseer →(فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ) یعنی انسان کو اپنی تخلیق اور اس کی ابتدا پر غور کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(4) انسان کو خود اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان ذرا خود اپنے وجود ہی کے بارے میں دیکھ اور سوچ لے کہ اس کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اس کو پیدا کیا گیا ہے ایک ایسے اچھلتے پانی سے جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے "۔ " تربیہ " جمع ہے " ترائب " کی، جس کے معنی آتے ہیں سینے کی ہڈی اور پسلی۔ سو اس ضمن میں حضرت قادر مطلق جل جلالہ کی قدرت کا کرشمہ ملاحظہ ہو کہ کس طرح قسما قسم کی غذاوں سے چھن چھنا کر خون کا وہ جوہر پیدا ہوتا ہے جو کہ زندگی کا قوام ہے، اور پھر کس حیرت انگیز طریقے سے اس خون سے انسانی دھڑ کے اندر ہڈیوں پسلیوں کے درمیان سے مادہ تولید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
قیامت اٹل ہے اور حق کامیاب ہو گا
تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بیشمار حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں عالم افلاک اجرام سماوی ' نگران فرشتے ' انسانی پیدائش کا جو ہر مادہ منویہ ' اس کے اجزا کو اکٹھا کرنے کی جگہ یعنی مادہ منویہ کو جمع کر کے سینہ و پیٹھ کے کارخانے میں آخری شکل دی جاتی ہے جو اچھلتے ہوئے پانی کی شکل میں عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے اور یوں انسانی جسم مادی دنیا میں وارد ہونے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ تیاری کے تمام مدارج جو 6 سے 9 ماہ تک پورے ہوجاتے ہیں۔ تفصیلاً بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد انسان اپنی طبعی عمر جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر کی جاچکی ہے، اس دنیا میں گزارتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔
آیات 1 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔
حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی اپنی حقیقت اور بساط پر غور کر زنا چاہیے کہ کس برتے پر اللہ ذوالجلا والا کرام کے مقابلے میں اکڑفون دکھاتا ہے۔
Read the full tafseer →(86:5) فلینظر الانسان مم خلق۔سببیہ ہے۔ نگران فرشتوں کا وجود (اور ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندیشہ اندراج) اس امر کا سبب ہے کہ آدمی اپنے حالات پر غور کرے۔
لینظر فعل امر واحد مذکر غائب (باب نصر) مصدر سے۔ چاہیے کہ وہ دیکھے۔ مم مرکب ہے من حرف جار اور ما استفہامیہ سے اصل میں من ما تھا۔ کسی چیز سے خلق ماضی مجہول واحد مذکر غائب ، پیدا کیا گیا۔
پس آدمی خود ہی دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ جملہ مم خلق مفعول ہے ینظر کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔
الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔
اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
انسان کی پیدائش کا ذکر۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو غور کرے کہ وہ کس شے سے پیدا کیا گیا ہے پھر خود بتلادیا کہ وہ پانی یعنی منی سے پیدا کیا گیا ہیی جو مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کی ہڈیوں سے نکلتا ہے ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہک عورت کے سینہ کے اس مقام سے جہاں ہار پہناجاتا ہے اور انہیں سے منقول ہے کہ عورت کی دونوں چھاتیوں کے درمیان سے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان کے تمام اعضا سے برآمد ہوتی ہے اور اس کا زیادہ حصہ دماغ سے مرد کی پشت پر آتا ہے اور عورت کے بدن کے اگلے حصہ میں بہت سی رگوں میں جو سینہ کے مقام پر ہیں نازل ہوتا ہے اسی لیے ان دونوں مقاموں کا ذکر خصوصیت سے…
Read the full tafseer →[3] یعنی جب یہ بات ہے کہ انسان کے اعمال کا ظہور قیامت میں ہوگا تو انسان کو قیامت کی فکر کرنی چاہیے۔ اگر وہ قیامت کے وقوع کو ناممکن سمجھتا ہے تو اس کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(5) سو انسان کو اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے بنایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 2۔ مطلب یہ کہ ان اعمال پر محاسبہ ہونے والا ہے اور اس قسم کو مقصود سے مناسب یہ ہے کہ جیسے آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ظہور ان کا خاص شب میں ہوتا ہے، اسی طرح اعمال سب نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ رہیں گے مگر ان کا ظہور خاص قیامت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →بس انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟
5 ؎ انسان پر جو غفلت کے پردے پڑتے ہیں ان کو ہٹانے کے لیے اس کی اپنی توجہ کی ضرورت ہے اگر وہ خود توجہ نہ کرے تو اس کی اصلاح کبھی ممکن نہیں ہے۔ اللہ کی کتاب ہو یا اللہ کا رسول یا رسول اللہ ﷺ کا کوئی نمائندہ اور انسان کے سامنے دلائل کے انبار لگا دیئے جائیں اور چاروں طرف اس کو سمجھانے والے موجود ہوں بہر حال حالات کچھ بھی ہوں سمجھ صرف اور صرف اسی وقت آتی ہے جب انسان خود توجہ سے کس بات کو سمجھنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے اگر انسان خود آمادہ نہ ہو تو کوئی بھی اس کی سمجھ میں بات نہیں ڈال سکتا ۔ رہی یہ بات کہ انسان کو سمجھنے کے لئے جن دلائل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ (there is no human being, but there is a watcher over him....86:4). This is the subject of the oath. The particle in at the beginning of the statement is used in the sense of 'no', that is, a negative particle; and the particle lamma is used in the sense of 'but/except', that is, it is an exceptive particle in the dialect of Banu Hudhail. The verse purports to say that there is not a single person over whom there is not a watcher [ hafiz ]. The word hafiz may mean 'guardian' who may watch over someone's actions and deeds, so that the reckoning is…
Read the full tafseer →2 After making man ponder over the heavens, he is now being invited to consider his ownself and see how he has been created, Who is it Who selects one spermatozoon from among billions of spermatozoa emitted by the father and combines it at some time with one ovum out of a large number of the ova produced by the mother, and thus causes a particular human being to be conceived? Then, Who is it Who after conception develops it gradually in the mother's womb Until it is delivered in the form of a living child? Then, Who is it Who in the mother's womb itself brings about a certain proportion and…
Read the full tafseer →