At-Taariq 86:6

At-Taariq · from ayah 6

86:6

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ ۟ۙخُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍۙ

وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He was created from a fluid, ejected,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah At-Taariq

All translations of 86:6

ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اسے ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جَست کرتے (اوچھلتے ہوئے) پانی سے، ف۵)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ قوت سے اچھلنے والے پانی (یعنی قوی اور متحرک مادۂ تولید) میں سے پیدا کیا گیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ پیدا کیا گیا ہے ذرا سے اچھلتے پانی سے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کو ایک ایسے اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ پیدا کیا گیا ہے اچھلتے ہوئے پانی سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He was created of a gushing fluid,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is created of spouting water

— Muhammad Taqi Usmani

He is created of spouting water

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He is created from a water gushing forth,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He was created from a fluid, ejected,

— Saheeh International

He has been created from an ejected drop of fluid

— Muhammad Sarwar

He is created of water pouring forth,

— Muhammad Habib Shakir

He is created from a water drip-ping,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 86:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

تخلیق انسان اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھتا ہے طارق کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوجاتے ہیں ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بیخبر آجائے یہاں بھی لفظ طروق ہے، آپ کی ایک دعا میں بھی طارق کا لفظ آیا ہے ثاقب کہتے ہیں چمکیلے اور روشنی والے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے جیسے اور جگہ ہے کہ آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الطَّارِق 3 اصل میں صلب اور ترائب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ صلب ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں، اور ترائب کے معنی ہیں سینے کی ہڈی، یعنی پسلیاں، چونکہ عورت اور مرد دونوں کے مادہ تولید انسان کے اس دھڑ سے خارج ہوتے ہیں جو صلب اور سینے کے درمیان واقع ہے، اس لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان اس پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ مادہ اس صورت میں بھی پیدا ہوتا ہے جبکہ ہاتھ اور پاؤں کٹ جائیں، اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ یہ انسان کے پورے جسم سے خارج ہوتا ہے۔ درحقیقت جسم کے اعضاء ریئسہ اس کے ماخذ ہیں اور وہ سب آدمی کے دھڑ میں واقع ہیں۔ دماغ کا الگ ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

خلق من ماء عافق، یعنی انسان پیدا کیا گیا ہے ایک اچھلنے والے پانی سے جو نکلتا ہے پشت اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے۔ عام طور سے حضرات مفسرین نے اس کا یہ مفہوم قرار دیا ہے کہ نطفہ مرد کی پشت اور عورت کے سینہ سے نکلتا ہے مگر اعضائے انسانی کے ماہر اطبا کی تحقیق اور تجربہ یہ ہے کہ نطفہ درحقیقت انسان کے ہر ہر عضو سے نکلتا ہے اور بچے کا ہر عضو اس جز نطفہ سے بنتا ہے جو مرد و عورت کے اسی عضو سے نکلا ہے۔ البتہ دماغ کو اس معاملے میں سب سے زیادہ دخل ہے اسی لئے مشاہدہ ہوتا ہے کہ جماع کی کثرت کرنے والے اکثر صعف دماغ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ انکی تحقیق یہ بھی ہے کہ نطفہ تمام اعضا سے منفصل ہو کر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

’خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۵ یَخْرُجُ مِنۡ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ‘۔ یہ اس پانی کی نوعیت، اس کے خروج کی صورت اور اس کی جگہ کے حدود اربعہ کی وضاحت فرما دی تاکہ انسان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ پانی نہ کوئی جوہر نایاب ہے اور نہ یہ کسی ایسی ولایت سے آتا ہے جو خدا کی خدائی کے حدود سے باہر ہو بلکہ انسان ہی کی ریڑھ اور اس کی چھاتیوں کے بیچ سے اچھلتا ہے اور قدرت اسی کو اپنے سانچے میں جس شکل و صورت پر چاہتی ہے ڈھالتی ہے اور پھر اس کو بطن مادر سے باہر لاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی اس عظیم قدرت و حکمت کا مشاہدہ ہر شخص خود اپنے وجود کے اندر کر رہا ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ زندہ کرنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

7۔ 1 کہا جاتا ہے کہ پیٹھ مرد کی اور سینہ عورت کا، ان دونوں کے پانی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن اسے ایک پانی اس لیے کہا کہ یہ دونوں مل کر ایک ہی بن جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–6

1: طارق سے مراد چمکتا ہوا ستارا ہے، کیونکہ وہ رات ہی کہ وقت نظر آتا ہے، اس کی قسم کھاکر فرمایا گیا ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر کوئی نگران مقرر نہ ہو، ستارے کی قسم کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ جس طرح ستارے آسمان پر دنیا کی ہر جگہ نظر آتے ہیں، اور دنیا کی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ خود بھی ہر انسان کے ہر قول وفعل کی نگرانی فرماتا ہے اور اسکے فرشتے بھی اس کام پر مقرر ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–7

انسان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے کیا بن گیا۔ ایک ایسے پانی سے پیدا کیا جو اچھل کر جسم انسانی سے نکلتا ہے اور یہ آتا کہاں سے ہے ، انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ پانی مرد کی ریڑھ کی ہڈیوں سے جمع ہوتا ہے۔ اور عورت کی سینے کی بالائی ہڈیوں سے نکلتا ہے اور اس پانی کا بننا اور اس کا یوں خارج ہونا اللہ کے رازوں میں سے ایک راز تھا جسے انسان ابھی تک نہیں جانتا تھا ، گزشتہ نصف صدی میں سائنس نے اپنے اسلوب تحقیق کے مطابق اس کے بعض پہلوﺅں سے پردہ اٹھایا اور معلوم ہوا کہ انسان کی پیٹھ کی ہیوں اور عورت کے سینے کی بلائی ہڈیوں کے اندر عورت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–7

آیت 7{ یَّخْرُجُ مِنْم بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ۔ } ”جو نکلتا ہے پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے۔“ مرد کے مادہ منویہ کا اصل منبع ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہے۔ یہاں سے پیدا ہو کر یہ مادہ ان غدودوں تک پہنچتا ہے جو اس کے لیے مخصوص ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

5 مادہ منویہ کہاں اور کیسے پیدا ہوتا ہے ؟:۔ صُلْبْ ۔ صَلَبَ الْعَظْمِ بمعنی ہڈی سے مغز یا گودا نکالنا اور صلب بمعنی ریڑھ کی ہڈی کا گودا۔ اور چونکہ یہ ہڈی انسان کی پشت کے درمیان ہوتی ہے۔ لہذا اس ریڑھ کی ہڈی کو اور پشت کو بھی صلب ہی کہہ دیا جاتا ہے۔ اور ترائب۔ تریبۃ کی جمع ہے بمعنی سینہ کی ہڈیاں اور پسلیاں۔ اس آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ نطفہ ان اعضاء سے نکلتا ہے جو صلب اور سینہ کی پسلیوں کے درمیان ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ مرد کا نطفہ تو صلب سے نکلتا ہے اور عورت کا سینہ کی پسلیوں سے۔ لیکن یہ خیال کچھ درست معلوم نہیں ہوتا۔ اطباء کا یہ خیال ہے کہ منی خواہ مرد کی ہو یا عورت کی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–8

2۔ (اور اس کو مستبعد سمجھنا خود ایک تمامتر احمقانہ خیال ہے) (آیت) ” فلینظرالانسان ..... دافق “۔ یعنی انسان اپنے آغاز وابتداء پر غور کیا تو کرے۔ اس مراقبہ سے موت ومعاد کی یاد تازہ ہوتی رہے گی۔ ع :۔ بہ آغاز ردکن کہ پایاں ہمیں است :۔ (آیت) ” رجعہ “۔ ضمیر انسان کی طرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

خلق من ماء دافق یعنی انسان کو ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے انسان کا مادہ تولید مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے خارج ہوتا ہے اور یہ مادہ انسان کے ہر عضو سے نکل کر یہاں جمع ہوتا ہے لہٰذا دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خلق من ماء . کودنے والا دافِقٌ اسم فاعل ہے پانی کی طرف۔ دفق کی نسبت مجازی ہے یا اسم فاعل بمعنی اسم مفعول ہے جیسے عِیْشَۃٌ رَّاضِیَۃٌ میں راضیۃٌ (پسند کرنے والی) کا معنی مرضیۃٌ (پسندیدہ) ہے۔ دفقٌ کا معنی ہے یکدم بہنا۔ اس وقت مادہ کی طرف دافق کی اسناد حقیقی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

(5۔ 7) انسان کو اپنے اندر غور کرنا چاہیے کہ کس چیز سے اسے پیدا کیا گیا، وہ ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے۔ شان نزول : فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (الخ) ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے اس آیت مبارکہ کے متعلق روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابوالاشد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ چمڑے پر کھڑا ہو کر کہا کرتا تھا اے گروہ قریش جو مجھ کو اس پر ہٹا دے اس کے لیے اس یا ہے اور بکواس کیا کرتا تھا کہ محمد کہتے ہیں کہ دوزخ کے انیس خازن ہیں تو میں اکیلا ہی ان میں سے دس کو کافی ہوں اور نو کو تم کافی ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–7

(1) فلینظر الانسان مم خلق…: ایک مقرر وقت تک انسان کی ذات کی حفاظت اور اعمال کی نگہداشت یوم حسابکے لئے ہے، اگر اسے اپنا دوبارہ زندہ کیا جانا محال معلوم ہوتا ہے تو اپنی پیدائش پر غور کرلے کہ کس چیز سے ہوتی ہے ؟ ایک اچھلنے والے پانی سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے پانی جیسی مائع چیز پر صورت گری کر کے ایک کامل انسان پیدا کردیا جس میں مکمل اعضائے جسم، حیات، قوت، عقل اور ادراک سب کچھ موجود ہے تو یقیناً وہ اس انسان کو اس کی مٹی سے دوبارہ پہلی صورت میں پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ بتاؤ، انسان کو پانی سے بنانا مشکل ہے یا اسی کی خاک سے دوبارہ بنادینا ؟ اور پہلی دفعہ بغیر نمونے کے پیدا کرنا مشکل ہے یا پہلے نمونے پر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

یخرج من بین الصلب واترائب۔ یخرج کی ھوضمیر سے مراد پانی ہے، صلب سے مراد پشت ہے اس میں چار لغتیں ہیں، صلب، صلب صلب اور صالب۔ پہلی دو کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے اس معنی میں حضرت ابن عباس کا قول ہے، تنقل من صالب الی رحم تجھے پشت سے رحم کی طرف نقل کیا جاتا رہا، ترائب سے مراد سینہ ہے اس کا واحد تریبہ ہے یہ سینے کی وہ جگہ ہے جہاں ہار ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا، مھفھۃ بیضاء غیر مفاضۃ، ترائبھا مصقولۃ کالسجنجل۔ وہ تھوڑے گوشت والی سفید رنگت والی، ڈھیلے پیٹ والی نہیں اس کے سینے کی ہڈیاں یوں صیقل شدہ ہیں جیسے سونے کا پانی۔ صلب مرد کی اور ترائب عورت کی، حضرت ابن عباس نے فرمایا ترائب سے مراد ہار لٹکانے کی جگہ ہے۔ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

14۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلینظر الانسان مم خلق پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا سے ابو الاشدین مراد ہے جو چمڑہ پر کھڑے ہو کر کہتا تھا اے قریش کی جماعت جو مجھے اس سے ہٹادے اور اس کے لیے اتنا انعام ہوگا اور وہ کہتا تھا کہ محمد ﷺ یہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کے نگران فرشتے انیس ہیں میں اکیلا تم دس کے لیے کافی ہوں اور تم نو مجھے کافی ہوتے ہو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[خُلِقَ مِنْ مَاۗءٍ دَافِقٍ : وہ پیدا کیا گیا اچھل کر بہنے والے پانی سے ] دق (ن) دُفُوْقًا پانی کا ابل کر گرنا۔ اچھل کر بہنا۔ دَافِقٌ اسم الفاعل ہے۔ اچھل کر بہنے والا۔ زیر

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–6

اللہ تعالیٰ نے آسمان کی اور چمکتے ہوئے ستارہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ دنیا میں جو لوگ بھی رہتے اور بستے ہیں ان کے اعمال کی نگرانی کے لیے ہم نے فرشتے لگا رکھے ہیں ہر جان کے ساتھ فرشتہ لگا ہوا ہے۔ یہ فرشتے انسانوں کے اعمال کو لکھتے ہیں اور اعمالنامہ کو محفوظ کرلیتے ہیں پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ اعمال نامے انسانوں کے سامنے آجائیں گے۔ یہ حافظ ( کی ایک تفسیر ہے جو آیت کریمہ ﴿ وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ0010﴾ کے مطابق ہے بعض مفسرین نے فرمایا ہے اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو ہر انسان کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں جس کا سورة ٴ رعد کی آیت ﴿ لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔ (ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–7

3:۔ ” فلینظر الانسان “ یہ حشر و نشر کے لیے پہلا عقلی نمونہ ہے انسان اس پر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس کو کدنے والے پانی (نطفہ) سے پیدا کیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان میں سے نکلتا ہے (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–17

(طارق کیا ہے ) ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔ (دیگر معانی ) عربی زبان میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خُلِقَ مِنْ مَّاۗءٍ دَافِقٍ۝ 6 ۙ ماء قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه : أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو، ( م ی ہ ) الماء کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک ( اور نتھرا ہوا پانی اور محاورہ ہے : ۔ ماء بنی فلان فلاں قبیلے کا پانی یعنی ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب ¦ وللقسم۔ السماء محبرور معطوف علیہ والطارق عطف علیہ۔ والطارق ما یاتی لیلا سوا کان کو کبا وغیرہ لطروق بشب آمدن (ععا ض 2) طارق بشب آیندہ و ستارہ و کشتی کردن فحل۔ از صراح) وما ادراک الجملۃ الاستفہامیۃ لتفخیم الطارق النجم الثاقب مستانفہ جواب سوال کانہ قیل ما ھو فقال النجم الثاقب۔ ثقوب افروختہ شدن آتش۔ ص۔ ان کل نفس لما علیہا حافظ قرء ابن کثیر و ابی عمر و نافع وکسائی لما بالتخفیف و قرء عاصم وحمزۃ والنخعی بالتشدید فمن خفف کانت ان عندہ الخففۃ من المثقلۃ واللام فی لماتد خل مع ان المخفۃ للفرق بین النافیۃ والمخفۃ وما صلۃ کما فی قولہ فبما رحمۃ ومن اثقل فان عندہ النافیۃ ولما بمعنی الاحافظ مبتداء…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–8

فَلْیَنْظُرِالْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۔ خُلِقَ مِنْ مَّـآئٍ دَافِقٍ ۔ یَّخْرُجُ مِنْ م بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ ۔ اِنَّـہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ۔ (الطارق : 5 تا 8) (پس انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔ جو نکلتا ہے ریڑھ اور پسلیوں کے بیچ سے۔ بیشک وہ اس کے لوٹا سکنے پر پوری طرح قادر ہے۔ ) دوسری زندگی پر انسان کے وجود سے استدلال عالمِ بالا میں اپنی قدرت کی شانوں کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ خود اپنی ہستی پر غور کرے تاکہ اسے اندازہ ہو جس ذات کے بارے میں اسے یہ بدگمانی ہے کہ وہ اس عالم کو دوبارہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–10

فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان پر نگران مقرر کیے ہیں وہی انسان کو ٹپکتے ہوئے پانی سے پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے اسے قیامت کے دن زندہ کرنا اور اپنے حضور کھڑا کرنا ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں متوجہ کیا اور فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنی پیدائش پر غور کرنا چاہیے کہ تیرے رب نے تجھے کن مراحل سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیری ابتدا اچھلتے ہوئے پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔ یقین جان ! کہ تیرا رب تجھے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے نہ صرف تجھے دوبارہ پیدا کرے گا بلکہ اس دن دلوں کے تمام راز…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : خُلِقَ مِنْ مَّآ ئٍ دَافِقٍ (وہ ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا) یہ استفہام سابق کا جواب ہے۔ الدفقؔ۔ دفعۃً بہنا۔ یکدم بہنا۔ دافق تو اصل میں صاحب ماء ہے مگر پانی کی طرف مجازاً نسبت کردی۔ گویا اسم فاعل بمعنی مفعول ہے۔ بعض اہل لغت : کہتے ہیں : یہ دفقت الماء دفقًا میں نے پانی بہایا۔ دفق الماء بنفسہٖ پانی خود بہنے لگا۔ اس لحاظ سے نسبت حقیقی ہوئی۔ نکتہ : یہاں ایک ہی پانی فرمایا۔ ماء ین نہیں فرمایا کیونکہ ماں کے رحم میں دونوں مل جاتے ہیں۔ اور جب ابتدائی تخلیق ہوتی ہے تو ایک ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔ پھر بیان کرتے ہوئے فرمایا ” خلق من ماء دافق “ یعنی اللہ تعالیٰ کا قول ” عیشۃ راضیۃ “ ہے اور دفق بہانا اور آدمی اور عورت کا پانی مراد ہے اس لئے کہ بچہ ان دونوں سے پیدا ہوتا ہے اور اس کو ایک بنایا ہے ان دونوں کے باہم مل جانے کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ طارق رات کو آنے والی چیز کو کہتے ہیں صبح کا تارا اور تاروں کی طرح شام سے نہیں نکلتا بلکہ رات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد نکلتا ہے اس واسطے اس کو بھی طارق کہتے ہیں ثاقب چمک دار چیز کو کہتے ہیں یہ تارا خوب روشن اور چمک دار ہوتا ہے اس لئے اس کو ثاقب فرمایا اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر جاندار کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں سورة رعد میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(خُلِقَ مِنْ مَّاۗءٍ دَافِقٍ ) ، پیدا کیا گیا ہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے۔ اس سے مراد منی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–7

(4) انسان کو خود اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان ذرا خود اپنے وجود ہی کے بارے میں دیکھ اور سوچ لے کہ اس کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اس کو پیدا کیا گیا ہے ایک ایسے اچھلتے پانی سے جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے "۔ " تربیہ " جمع ہے " ترائب " کی، جس کے معنی آتے ہیں سینے کی ہڈی اور پسلی۔ سو اس ضمن میں حضرت قادر مطلق جل جلالہ کی قدرت کا کرشمہ ملاحظہ ہو کہ کس طرح قسما قسم کی غذاوں سے چھن چھنا کر خون کا وہ جوہر پیدا ہوتا ہے جو کہ زندگی کا قوام ہے، اور پھر کس حیرت انگیز طریقے سے اس خون سے انسانی دھڑ کے اندر ہڈیوں پسلیوں کے درمیان سے مادہ تولید…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

قیامت اٹل ہے اور حق کامیاب ہو گا تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بیشمار حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں عالم افلاک اجرام سماوی ' نگران فرشتے ' انسانی پیدائش کا جو ہر مادہ منویہ ' اس کے اجزا کو اکٹھا کرنے کی جگہ یعنی مادہ منویہ کو جمع کر کے سینہ و پیٹھ کے کارخانے میں آخری شکل دی جاتی ہے جو اچھلتے ہوئے پانی کی شکل میں عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے اور یوں انسانی جسم مادی دنیا میں وارد ہونے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ تیاری کے تمام مدارج جو 6 سے 9 ماہ تک پورے ہوجاتے ہیں۔ تفصیلاً بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد انسان اپنی طبعی عمر جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر کی جاچکی ہے، اس دنیا میں گزارتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–17

سورة الطارق۔ آیات 1 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–8

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کیونکہ عقل خود تسلیم کرتی ہے ؟ کہ کس چیز کو دوبارہ بنانا اسے ابتداء بنانے کی بہ نسبت کہیں آسان ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(86:6) خلق من ماء دافق۔ جملہ مستانفہ ہے۔ سوال مقدر کا جواب ہے۔ دافق ماء کی صفت ہے۔ دفق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ کودنے والا۔ اچھلنے والا۔ پانی کی طرف دفق کی نسبت مجازی ہے۔ دافق اسم مفعول بھی ہوسکتا ہے (اچھل کر نکالا گیا) جیسے کہ عیشۃ راضیۃ (101:7) میں راضیۃ (پسند کرنے والی) بمعنی مرضیۃ (پسندیدہ) ہے۔ جب دافق کا معنی یکدم بہنا۔ سرعت کے ساتھ بہنا۔ اچھل کر تیزی سے گرنا۔ لئے جائیں تو دافق کی نسبت ماء کی طرف حقیقی ہوگی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–17

لغات القرآن۔ الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

انسان کی پیدائش کا ذکر۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو غور کرے کہ وہ کس شے سے پیدا کیا گیا ہے پھر خود بتلادیا کہ وہ پانی یعنی منی سے پیدا کیا گیا ہیی جو مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کی ہڈیوں سے نکلتا ہے ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہک عورت کے سینہ کے اس مقام سے جہاں ہار پہناجاتا ہے اور انہیں سے منقول ہے کہ عورت کی دونوں چھاتیوں کے درمیان سے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان کے تمام اعضا سے برآمد ہوتی ہے اور اس کا زیادہ حصہ دماغ سے مرد کی پشت پر آتا ہے اور عورت کے بدن کے اگلے حصہ میں بہت سی رگوں میں جو سینہ کے مقام پر ہیں نازل ہوتا ہے اسی لیے ان دونوں مقاموں کا ذکر خصوصیت سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–6

ف 2۔ مطلب یہ کہ ان اعمال پر محاسبہ ہونے والا ہے اور اس قسم کو مقصود سے مناسب یہ ہے کہ جیسے آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ظہور ان کا خاص شب میں ہوتا ہے، اسی طرح اعمال سب نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ رہیں گے مگر ان کا ظہور خاص قیامت میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اچھلتے ہوئے پانی ہی سے تو پیدا کیا گیا ہے 6 ؎ (دافق) کا اصل مادہ دق ہے معنی ہیں اچھلنے والا دفق سے جس کے معنی اچیخ کر اور کود کر چلنے کے ہیں ۔ اسم فاعل کا صیغہ واح مذکرغائب ۔ جن خلیوں سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے ان کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اور استعارہ کے طور پر اس کو مار سے تعبیر کیا ہے اور پھر اس کے ٹپکنے کی اصلیت کو بھی ظاہر کردیا ہے کہ وہ کسی طرح ٹپک کر نکل آتا ہے اور پھر قدرت کے نشانات کے مطابق کہاں سے کہاں ہوتا ہوا کہاں پہنچ کر قرار پکڑتا ہے اور پھر ایک خاص اندازہ کے مطابق اس مستقر میں ٹھہرنے کے بعد وہاں سے اس زمین پر منتقل ہوتا ہے اور زمین کی طرف اس کی مراجعت ہوتی ہے تو اس کی کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ ﴿6﴾ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ (He is created of a spouting water that comes out from between the loins and the chest-bones...86:6, 7). The general body of commentators have explained that the spouting water (sperm) comes out from the loins of men and the chest-bones of women. However, the research of embryological science on the subject shows that the seminal fluid comes out from every part of human body, and every part of the foetus is made of the seminal fluid that has come out from that part of the man's and woman's body. The brain, of course,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

3 "Sulb" is the backbone and "tara'ib"the breast- bones, i.e. the ribs. Since the procreative fluid in both man and woman is discharged from that part of the body which is between the back and the breast, it is said that tnan has been created from the fluid issuing out froth between the back and the breast. This fiuid is produced even in case the hands and feet are cut off. Therefore, it is not correct to say that it issues out from the whole body of man. In fact, the principal organs of the body are its source and all these are located in the trunk. The brain has not been mentioned…

Read the full tafseer →