Explained with ayahs 1–10
تخلیق انسان
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھتا ہے طارق کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوجاتے ہیں ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بیخبر آجائے یہاں بھی لفظ طروق ہے، آپ کی ایک دعا میں بھی طارق کا لفظ آیا ہے ثاقب کہتے ہیں چمکیلے اور روشنی والے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے جیسے اور جگہ ہے کہ آیت (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة الطَّارِق 1
نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے جس کے وجود میں لانے سے ہر شے وجود میں آئی ہے جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے، جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے، اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں نمودار ہونے والے ہر تارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے۔ (النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے، لیکن مراد اس سے ایک ہی تارا نہیں ہوتا بلکہ تاروں کی جنس ہے)۔ یہ قسم اس معنی میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ان کل نفس لما علیھا حافظ، یہ جواب قسم ہے، اس میں شروع کا حرف ان نافیہ ہے اور حرف لما بتشدید میم بمعنے الا ہے جو قبیلہ ہذیل کے لغت میں استشناء کے معنے دیتا ہے اور معنے آخرت کے یہ ہیں کہ کوئی نفس ایسا نہیں جس ہر حافظ نہ ہو، حافظ کے معنے نگراں کے بھی آتے ہیں جو کسی کے اعمال کو نظر میں رکھے تاکہ ان کا حساب لے، اور حافظ بمعنے محافظ بھی آتا ہے جس کے معنے مصائب وآفات سے حفاظت کرنے والے کے ہیں، پہلے معنے کے اعتبار سے حافظ سے مراد فرشتہ کا تب اعمال ہے، اور یہاں اگرچہ اس کو بلفظ مفرد بمعنی جنس بیان کیا ہے مگر ان کا متعدد ہونا دوسری آیت سے ثابت ہے ان علیکم لحفظین کراما کتبین
اور دوسرے معنے کے اعتبار سے…
Read the full tafseer →ستاروں کی شہادت اس دعوے پر کہ ہر جان پر خدا کے نگران ہیں:
یہ مقسم علیہ یا اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا قسم کھائی گئی ہے۔
’لَمَّا‘ کا استعمال یہاں ذرا نادر ہے اس وجہ سے اس کی توجیہ میں اہل نحو نے اختلاف کیا ہے۔ ہم اس کی تحقیق سورۂ ہود آیت ۱۱۱ اور سورۂ زخرف آیت ۳۵ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
ستاروں کی شہادت اس دعوے پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جان پر نگران مقرر کر رکھے ہیں ایک تو اس پہلو سے ہے کہ انسان سوچے کہ جس خدا کی مقرر کی ہوئی اتنی ان گنت آنکھیں رات بھر جاگتی اور ٹکٹکی لگائے زمین والوں کو گھورتی رہتی ہیں کس کی مجال ہے کہ اس کے دام سے بچ کے نکل سکے۔ سائنس کی ایجاد کردہ بڑی سے بڑی…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اچھے یا برے سارے اعمال لکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ انسانوں کی حفاطت کرنے والے فرشتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1: طارق سے مراد چمکتا ہوا ستارا ہے، کیونکہ وہ رات ہی کہ وقت نظر آتا ہے، اس کی قسم کھاکر فرمایا گیا ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر کوئی نگران مقرر نہ ہو، ستارے کی قسم کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ جس طرح ستارے آسمان پر دنیا کی ہر جگہ نظر آتے ہیں، اور دنیا کی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ خود بھی ہر انسان کے ہر قول وفعل کی نگرانی فرماتا ہے اور اسکے فرشتے بھی اس کام پر مقرر ہیں۔
Read the full tafseer →ان کل .................. حافظ (4:86) ” کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو “۔ جن الفاظ اور جس ترکیب میں یہ بات کہی گئی ہے وہ سخت تاکیدی اسلوب ہے۔ نفی و اثبات کہ کوئی نفس نہیں ہے مگر اس پر نگراں مقرر ہے۔ جو اس کی نگرانی بھی کرتا ہے اور اس کے اعمال کو بھی لکھتا ہے۔ اور یہ نگران اس کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اس کی تقرری اللہ کے حکم سے ہے۔ ان تمام باتوں کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا ہے کیونکہ تمام انسانی راز تمام انسانی افکار ، انسانی نفس کے اندر ہوتے ہیں اور یہ نفس ہی سزا وجزا کا ذمہ دار ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کو یونہی نہیں چھوڑ دیا گیا کہ شتر بےمہار کی طرح جہاں چاہیں گھومیں پھریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 یعنی فرشتے رہتے ہیں آدمی کے ساتھ۔ بلاؤں سے بچاتے ہیں یا اس کے عمل لکھتے ہیں (موضح القرآن) اور قسم میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ جس نے آسمان پر ستاروں کی حفاظت کے ایسے سامان کئے ہیں، اس کو زمین پر تمہاری یا تمہارے اعمال کی حفاظت کرنا کیا دشوار ہے۔ نیز جس طرح آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ان کا ظہور خاص شب میں ہوتا ہے۔ ایسے ہی سب اعمال نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ ہیں، مگر ظہور ان کا خاص قیامت میں ہوگا۔ جب یہ بات ہے تو انسان کو قیامت کی فکر چاہیے۔ اور اگر اس کو مستبعد سمجھتا ہے تو اس کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4{ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْہَا حَافِظٌ۔ } ”کوئی جان ایسی نہیں جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔“
سورة الانفطار کی ان آیات میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے : { وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ - کِرَامًا کَاتِبِیْنَ - یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”جبکہ ہم نے تمہارے اوپر محافظ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔ بڑے باعزت لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو“۔ انسان کے محافظ فرشتوں کا ذکر سورة الانعام کی اس آیت میں بھی ہے : { وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃًط } آیت 61 ”اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے“۔ ان آیات سے…
Read the full tafseer →3 ہر جاندار کی حفاظت کرنے والی ہستی :۔ ان تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی قسم اٹھائی گئی ہے جو اہل زمین کو (شہاب ثاقب) جیسی بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس بات پر قسم اٹھائی گئی ہے کہ ہر انسان پر ایک نگہبان مقرر ہے جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتا ہے۔ یہ نگہبان کون ہے ؟ یہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے۔ اور جس نے ہر جاندار کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے
اور اس کی موت کے مقررہ وقت تک آفات ارضی و سماوی سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ یہ حفاظت اکثر اوقات ایسے غیر شعوری طریقوں سے ہوتی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ (اور اعمال پر محاسبہ یقینی ہے) مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آسمان پر ستارے موجود تو ہر وقت ہیں مگر ان کا ظہور شب ہی میں ہوتا ہے، اسی طرح اعمال سب کے سب نامہ اعمال میں محفوظ اس وقت بھی ہیں، مگر اس کا ظہور قیامت میں ہوگا (تھانوی (رح))
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ان کل نفس لما علیھا حافظ یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے محافظ اور نگران مقرر ہیں اور وہ فرشتے ہیں جیسا کہ سورة رعد کی آیت 11 سے معلوم ہوتا ہے اور بع مفسرین نے حافظ سے مراد خود اللہ تعالیٰ کو لیا ہے۔
Read the full tafseer →ان کل نفس لما علیھا حافظ . ابن عامر ‘ عاصم اور حمزہ کی قراءت میں لَمَّا میم کی تشدید کے ساتھ آیا ہے
اور بنی ہذیل کے محاورہ میں لَمَّا استثنائیہ آتا ہے۔ اس صورت میں اِنْ نافیہ ہوگا۔ ترجمہ اس طرح ہوگا ‘ نہیں ہے کسی حالت میں کوئی نفس مگر اس پر نگراں موجود ہے۔ دوسرے اہل قراءت نے لما بغیر تشدید کے پڑھا ہے اس وقت انکو مخففہ کہا جائیگا۔ اصل میں انّ (حرف مشبہ بلفعل) تھا۔ انکا اسم محذوف ضمیر ہے۔ لمَّا میں لام تاکیدی ہے اور مَا کو مزید تاکید کیلئے ذکر کیا گیا (یعنی مَا موصولہ نہیں ‘ نہ نافیہ ہے)
مطلب اس طرح ہوگا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر نفس انسانی پر بلاشک و شبہ رب کی طرف سے کوئی نگراں مقرر ہے جو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) قسم ہے آسمان کی اور طارق کی اور آپ کو کچھ علم ہے کہ طارق کیا چیز ہے، وہ روشن ستارہ ہے یعنی زحل ہے کہ رات کو نکلتا ہے اور دن کو غائب ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص ایسا ہیں خواہ نیک ہو یا گنہگار جس پر کوئی اس کے اعمال کا یاد رکھنے والا فرشتہ مقرر نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
4(1) والسمآء و الطارق…:”طرق یطرق“ (ن) کا اصل معنی زور سے مارنا ہے جس سے آواز پیدا ہو۔ ”مطرفۃ“ (ہتھوڑا) اور ”طریق“ (راستہ) اسی سے مشتق ہیں، کیونکہ راستے پر چلنے والوں کے قدم زور سے پڑتے ہیں تو آواز دیتے ہیں۔ ”الطارق“ رات کو آنے والے کو کہتے ہیں، کیونکہ عام طور پر اسے دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔”النجم الثاقب“ میں الف لام جنس کے لئے ہے، اس لئے اگرچہ لفظ واحد ہے مگر اس میں تمام ستارے آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ شیطانوں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ (دیکھییص افات : 6، 7) ”ان“ نی کے معنی میں ہے اور ”لما“ بمعنی ”الا“ ہے۔
(2) قسم کسی بات کی…
Read the full tafseer →ان کل نفس لما علیھا حافظ۔
قتادہ نے کہا حافظ سے مراد حفظہ ہیں جو تیرے رزق، تیرے عمل اور تیری اجل کی حفاظت کرتے ہیں ان سے یہ بھی مروی ہے اس سے مراد اس کا قرین ہے جو اس کے اچھے برے عمل کی حفاظت کرتا ہے یہ جواب قسم ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جواب انہ علی رجعہ لقادر ہے امام ترمذی کے قول کے مطابق، یہاں قائل محمد بن علی ہے، ان مثقلہ سے مخففہ ہے اور ماتاکید یہ ہے تقدیر کلام یوں ہوگی ان کل نفس لعلیھا حافظ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کوئی نفس نہیں مگر اس پر ایک نگہبان ہے جو آفات سے اسے محفوظ رکھتا ہے یہاں تک کہ اس کے حق میں جو مقدر ہوتا ہے اس کے سپرد کردیتا ہے فراء نے کہا، اللہ تعالیٰ کی جانب…
Read the full tafseer →13۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ان کل نفس لما علیہا حافظ میں لما لام کو مشدد اور منصوب پڑھا۔
Read the full tafseer →[ان كُلُّ نَفْسٍ : نہیں ہے کوئی بھی جان ][ لَمَا عَلَيْهَا حَافِـظٌ ]
ترکیب : (آیت۔ 4) اس آیت میں اِنْ کو اِنْ مخفّفہ بھی مانا گیا ہے اور اِنْ نافیہ بھی۔ جو لوگ اسے اِنْ مخفّفہ مانتے ہیں وہ لَمَّا کو لَمَا (میم بغیر تشدید کے پڑھتے ہیں) اور لام کو اِنَّ کی خبر پر آنے والا لام تاکید مانتے ہیں اور مَا کو زائدہ مانتے ہیں۔ اور جو لوگ اسے اِنْ نافیہ مانتے ہیں وہ لَمَّا کو اِلاً کے مفہوم میں لیتے ہیں۔ ہم اِنْ نافیہ کے طور پر ترجمہ کریں گے۔
نوٹ 1: آیت۔ 4 ۔ میں حافظ سے مراد فرشتے ہیں جو ہر آدمی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کو بلائوں سے بچاتے ہیں اور اس کے عمل لکھتے ہیں۔ اس کے لیے ستاروں کی قسم کھانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اللہ تعالیٰ نے آسمان کی اور چمکتے ہوئے ستارہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ دنیا میں جو لوگ بھی رہتے اور بستے ہیں ان کے اعمال کی نگرانی کے لیے ہم نے فرشتے لگا رکھے ہیں ہر جان کے ساتھ فرشتہ لگا ہوا ہے۔ یہ فرشتے انسانوں کے اعمال کو لکھتے ہیں اور اعمالنامہ کو محفوظ کرلیتے ہیں پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ اعمال نامے انسانوں کے سامنے آجائیں گے۔ یہ حافظ ( کی ایک تفسیر ہے جو آیت کریمہ ﴿ وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ0010﴾ کے مطابق ہے بعض مفسرین نے فرمایا ہے اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو ہر انسان کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں جس کا سورة ٴ رعد کی آیت ﴿ لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
دعوت فکر در تخلیق انسانی وشہادت ارض وسماء ونجوم برمسئلہ بعث بعد الموت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء والطارق ...... الی ....... امھلہم رویدا “۔
(ربط) گذشتہ سورت ایمان اور ایمان پر استقامت اور راہ خداوندی میں صبر اور قربانی کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس امر پر کہ دنیا کی طاقت ایمان کو کفر کی طرف نہیں لوٹا سکتی، اب اس سورت میں قیامت اور بعث بعد الموت کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو اس امر کی دعوت دی ہے کہ وہ خود اپنی تخلیق وپیدائش میں غور وفکر کرے، ارض وسماء اور روشن ستاروں کو دیکھے اور یہ کہ زمین کس طرح شق ہو کر اپنے اندر سے نباتات اور سبزہ باہر نکالتی ہے اور وہ تخم جو زمین میں دب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
2:۔ ” والسماء “ یہ تخویف اخروی پر شاہد ہے۔ یعنی آسمان پر رات کو چمکنے والا ستارہ شاہد ہے کہ جس طرح وہ ستارہ روشن اور قائم رہتا ہے اسی طرح تم میں سے ہر ایک پر فرشتے نگران مقرر ہیں جو اس کے تمام اعمال خیر و شرکو لکھتے رہتے ہیں۔ ” ان کل نفس الخ “ جواب قسم ہے۔ ھو من یحفظ عملہا من الملائکۃ (علیہم السلام) و یحصی علیہا ما تکسب من خیر او شر الخ “ (روح ج 30 ص 96) ۔ ” النجم الثاقب “ چمکتا ستارہ سے روشن ستارہ مراد ہے جو نمایاں طور پر دوسرے ستاروں کی نسبت زیادہ روشن ہو یا مراد ثریا ہو یا زحل (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
(طارق کیا ہے )
ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔
(دیگر معانی )
عربی زبان میں…
Read the full tafseer →اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْہَا حَافِظٌ 4 ۭ
نفس
الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب ¦ وللقسم۔ السماء محبرور معطوف علیہ والطارق عطف علیہ۔ والطارق ما یاتی لیلا سوا کان کو کبا وغیرہ لطروق بشب آمدن (ععا ض 2) طارق بشب آیندہ و ستارہ و کشتی کردن فحل۔ از صراح) وما ادراک الجملۃ الاستفہامیۃ لتفخیم الطارق النجم الثاقب مستانفہ جواب سوال کانہ قیل ما ھو فقال النجم الثاقب۔ ثقوب افروختہ شدن آتش۔ ص۔ ان کل نفس لما علیہا حافظ قرء ابن کثیر و ابی عمر و نافع وکسائی لما بالتخفیف و قرء عاصم وحمزۃ والنخعی بالتشدید فمن خفف کانت ان عندہ الخففۃ من المثقلۃ واللام فی لماتد خل مع ان المخفۃ للفرق بین النافیۃ والمخفۃ وما صلۃ کما فی قولہ فبما رحمۃ ومن اثقل فان عندہ النافیۃ ولما بمعنی الاحافظ مبتداء…
Read the full tafseer →اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ۔ (الطارق : 4)
(کوئی جان ایسی نہیں جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ )
اس آیت کے آغاز میں حرف ” اِنْ “ نافیہ ہے۔ اور حرف ” لَمَّا “ اِلاَّ کے معنی میں ہے۔ جو قبیلہ ہذیل کی لغت میں استثناء کا معنی دیتا ہے۔
یہ ہے مقسم علیہ اور دعویٰ ۔ اسے ثابت کرنے کے لیے متذکرہ بالا قسم کھائی گئی۔
یہ مقسم علیہ ہے اور قسم اس پر دلیل ہے
دعویٰ یہ ہے کہ کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ اصل نگہبان تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کررہی ہے۔ اس نے ہر مخلوق کو زندگی بخشی ہے تو زندگی کی بقاء کے امکانات بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : البروج کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ ” اللہ “ کے ارشادات اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں وہ انہیں ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہے۔ الطّارق میں نجم ثاقب کی قسم اٹھا کر بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نفس پر نگران مقرر کر رکھے ہیں اور جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے اسے اپنی تخلیق پر غور کرنا چاہیے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جس رب نے انسان کو عدم سے وجود بخشا ہے وہی رب قیامت کے دن انسان کو دوبارہ عدم سے وجود میں لائے گا۔
آسمان اور رات کے وقت نمودار ہونے والے ستارے کی قسم ! آپ کیا جانیں کہ رات کے وقت طلوع ہونے والا کیا ہے ؟ وہ ایک چمکنے والا ستارہ ہے۔ اہل علم نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →4 : اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ (اور کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی یاد رکھنے والا مقرر نہ ہو) یہ جواب قسم ہے۔ کیونکہ لما باوجودیکہ مشدد ہے۔ مگر الاؔ کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ قراءت عاصم، حمزہ، ابن عامر میں آیا ہے۔ پس ان نافیہ ہوا ای ماکل نفس الا علیھا حافظ کوئی نفس ایسا نہیں جس پر محافظ نہ ہو۔ نمبر 2۔ اگر اِنْ تخفیف کے ساتھ ہو جیسے دیگر قراء کی قراءت میں ہے۔ تو یہ مخففہ من المثقلہ ہے ای ان کل نفس لعلیھاحافظ یحفظھا من الاٰفات۔ ہر نفس پر نگران مقرر ہے جو آفات سے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ نمبر 3۔ اس کے اعمال، رزق اور اجل کی حفاظت کرتا ہے جب پورا کرچکتا ہے تو مرجاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے…
Read the full tafseer →4 ۔” ان کل نفس “ قسم کا جواب ہے۔ ” لما علیھا حافظ “ ابوجعفر، ابن عامر، عاصم اور حمزہ رحمہم اللہ نے ” لما “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ وہ مراد لیتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی نفس مگر اس پر حافظ ہے اور یہ ہذیل کی لغت ہے وہ ” لما “ کو ” الا “ کے مرتبہ میں کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ” نشدتک اللہ لما قمت “ یعنی ” الاقمت “ اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے (ما) کو صلہ بنایا ہے اس کا مجاز ” ان کل نفس علیھا حافظ “ ہے۔ آیت کی تاویل یہ ہے کہ ہر نفس پر اس کے رب کی طرف سے نگران ہے جو اس کے اعمال کی نگرانی کرتا ہے اور جو وہ شر وخیر کا کسب کرتا ہے اس کو لکھتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ فرشتوں میں سے حفاظت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ طارق رات کو آنے والی چیز کو کہتے ہیں صبح کا تارا اور تاروں کی طرح شام سے نہیں نکلتا بلکہ رات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد نکلتا ہے اس واسطے اس کو بھی طارق کہتے ہیں ثاقب چمک دار چیز کو کہتے ہیں یہ تارا خوب روشن اور چمک دار ہوتا ہے اس لئے اس کو ثاقب فرمایا اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر جاندار کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں سورة رعد میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَالسَّمَاۗءِ وَالطَّارِقِ ) آسمان اور طارق کی قسم ! پھر (الطارق) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا (النَّجْمُ الثَّاقِبُ ) یعنی روشن ستارہ جس کی روشنی آسمانوں میں سوراخ کردیتی ہے آر پار چھید بن جاتا ہے حتی کہ زمین سے دکھائی دیتا ہے۔ ) مگر صحیح یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جو تمام روشن ستاروں کو شامل ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد زحل ہے جو ساتوں آسمانوں کو چھید کر سوراخ کردیتا ہے اور ان میں سے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کو (الطارق اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت نمودار ہوتا ہے جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے اللہ کا ارشاد (اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِـظٌ) ہر…
Read the full tafseer →(3) ہر شخص کی نگرانی کا ذکرو بیان : سو مذکورہ بالا قسم کے جواب میں اور اثبات مدعا کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہر جان پر ایک نگران مقرر ہے "۔ جو اس کی گونا گوں ضرورتوں اور طرح طرح کی حاجتوں کا نہایت ہی پر حکمت اور رحمتوں بھرے طریقے سے انتظام فرماتا ہے، اور اتنا اور اس قدر کہ اس کی ان رحمتوں اور عنایتوں کا احاطہ کرنا بھی کسی کے بس اور امکان میں نہیں۔ سو " لما " یہاں پر " الا " کے معنی میں ہے، اور " ان " نافیہ ہے، یعنی ایسا کوئی شخص نہیں جس پر ایک محافظ موجود نہ ہو۔ " حافظ " بمعنی " محافظ و نگران " کے ہے۔ جیسا کہ فاللہ خیر حافظا میں ہے، اس محافظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
قیامت اٹل ہے اور حق کامیاب ہو گا
تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بیشمار حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اس میں عالم افلاک اجرام سماوی ' نگران فرشتے ' انسانی پیدائش کا جو ہر مادہ منویہ ' اس کے اجزا کو اکٹھا کرنے کی جگہ یعنی مادہ منویہ کو جمع کر کے سینہ و پیٹھ کے کارخانے میں آخری شکل دی جاتی ہے جو اچھلتے ہوئے پانی کی شکل میں عورت کے رحم میں پہنچا دیا جاتا ہے اور یوں انسانی جسم مادی دنیا میں وارد ہونے کے لیے تیار ہونے لگتا ہے۔ تیاری کے تمام مدارج جو 6 سے 9 ماہ تک پورے ہوجاتے ہیں۔ تفصیلاً بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد انسان اپنی طبعی عمر جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر کی جاچکی ہے، اس دنیا میں گزارتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
سورة الطارق۔
آیات 1 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے آسمان کی اور اندھیروں میں چمکنے والے ستارے کی ، وہ جو تاریکی میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جس طرح آسمان پرستارے موجود ہیں مگر جب دن ختم ہوتا ہے توجگمگانے لگتے ہیں ایسے ہی انسانی اعمال کا نظام ہے کہ ہر عمل محفوظ ہے جب موت کا اندھیراچھائے تو سامنے آجاتا ہے اور یقینا ہر متنفس پر نگہبان فرشتے جو اس کے کردار کو لکھتے ہیں۔
حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ ہر متنفس پہ محافظ فرشتے مقرر ہیں جو اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کی طرف سے اس پر آئے۔ ذرادوبارہ زندگی کا انکار کرنے والا انسان یہ تو دیکھے کہ اسے کس طرح پیدا فرمایا اور کس چیز نے…
Read the full tafseer →ف 1 اسی کو دوسری آیت میں فرمایا :” وان علیکم لحفظین بیشک تم پر نگہبان (فرشتے) ہیں۔ “ (نفطار :10) مراد وہ فرشتے ہیں جو ہر آن آدمی کے ساتھ رہتے ہیں اور بلائوں سے اس کی حفاظت کرتے ہیں یا اس کے اعمال کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ (دیکھیے سورة رعد :11)
Read the full tafseer →(86:4) ان کل نفس لما علیہا حافظ : یہ جملہ جواب قسم ہے ان نافیہ ہے۔ لما استثنائیہ ہے گو شرطیہ بھی آتا ہے جیسے فلما نجکم الی البر اعرضتم (17:67) پھر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے۔ تم منہ پھیر لیتے ہو۔
اور بطور حرف جازم بھی آتا ہے اور لم کی طرح فعل مضارع پر داخل ہوکر اس کو جزم دیتا ہے اور ماضی منفی کے معنی میں کردیتا ہے جیسے کہ ولما یدخل الایمان فی قلوبکم (49:14) اور ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور الا بمعنی مگر کا ہم معنی ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کوئی نفس نہیں مگر اس پر نگران (فرشتہ) مامور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
لغات القرآن۔
الطارق۔ اندھیرے میں آنے والا۔ چمکنے والا۔ دافق۔ اچھلنے والا۔ الصلب۔ پیٹھ۔ الترائب (تریبۃ) ۔ سینے کے اوپر کا حصہ۔ سرائر (سریر) ۔ پلنگ۔ مسہریاں۔ ذات الرجع۔ بار بار لوٹنے والا۔ ذات الصدع۔ پھٹ جانے والا۔ چکر لگانے والا۔ الھزل۔ ہنسی کھیل ۔ مذاق۔ اکید۔ میں تدبیر کرتا ہوں۔ مھل۔ مہلت دیدے۔ روید۔ کچھ دن۔ تھوڑے دن۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے سورة الطارق میں چار اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ ” الطارق “ یعنی ستارے کیا ہیں ؟ خود ہی جواب عنایت فرمایا کہ وہ روشن ستاروں کا ایک سلسلہ ہے۔
اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(ف 1) شان نزول :
ایک شب نبی ﷺ کی خدمت مین ابوطالب کچھ ہدیہ لائے، حضور ﷺ اس کو تناول فرما رہے تھے اس درمیان میں ایک تاراٹوٹا اور تمام فضا آگ سے بھرگئی، ابوطالب گھبرا کر کہنے لگے، یہ کیا ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا یہ ستارہ ہے جس سے شیاطین کو مارا جاتا ہے اور یہ قدرت الٰہی کی نشانیوں میں سے ہے، ابوطالب کو اس سے تعجب ہوا اور یہ سورت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے انسان تو کیا جانے کہ اس تارے کی کیا کیفیت ہے وہ ایسا تارا ہے کہ شیطان کی آنکھوں میں اس تارے سے چکاچوندی ہوجاتی ہے بعض اوقات اس تارے میں ایک شعلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ شیاطین کو جلادتیا ہے اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر شخص کے لیے اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →[2] یہ ہے وہ بات جس پر آسمان اور ستاروں کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی جیسے آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ رہتے ہیں مگر ظہور ان کا خاص شب میں ہوتا ہے اسی طرح ہر انسان کے اعمال اس کے نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ ہیں مگر ظہور ان کا قیامت میں ہوگا۔ نگراں سے مراد کراماً کاتبین ہیں جن کا ذکر سورة انفطار میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(4) کہ کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی نگہبان مقرر نہ ہو۔ طارق کے معنی اصل میں کوٹنے والے کے ہیں پھر اس شخص پر بولا جانے لگا جو رات میں آکر دروازہ کھٹکھٹائے پھر کثرت استعمال کی وجہ سے ہر اس حادثے کو کہنے لگے جو رات میں پیش آئے۔
رات کے تخلیہ میں معشوق کے جو خیالات دل اور دماغ میں آتے ہیں ان کو بھی طارق کہنے لگے بہرحال ! یہاں طارق سے مراد وہ ستارہ ہے جو رات کو روشن اور بلند نظر اتٓا ہے اس سورت میں بھی مسئلہ معاد اور قیامت اور بعث کا ذکر کرنا مقصود ہے اس لئے اسی کی مناسبت سے قسمیں کھا کر فرماتے ہیں۔
قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے طارق کی یعنی جو رات کے اندھیرے میں ظاہر ہونے والا ہے اس کی وضاحت فرمائی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 2۔ مطلب یہ کہ ان اعمال پر محاسبہ ہونے والا ہے اور اس قسم کو مقصود سے مناسب یہ ہے کہ جیسے آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ظہور ان کا خاص شب میں ہوتا ہے، اسی طرح اعمال سب نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ رہیں گے مگر ان کا ظہور خاص قیامت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →کوئی شخص ایسا نہیں کہ اس پر نگہبان مقرر نہ ہو
4 ؎ جس مضمون کو مؤکد کر کے بیان کیا گیا ہے اور جس پر شہادت و گواہی پیش کی جا رہی ہے اب اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ فرمایا تم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جس پر نگہبان مقرر نہ ہوں اور وہ تمہاری ہر حرکت کو نوٹ نہ کر رہے ہوں اور تم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے ایسے ہی بےلگام گھوڑے یا بےمہار اونٹ کی طرح چھوڑ دیا ہو ، نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ تمہاری پوری پوری نگہداشت (Intensive Care) کی گئی ہے اور اس کے نظام کے تحت کی جا رہی ہے اور بلا شبہ یہ حفاظت و نگہبانی تمہاری آخری منزل یعنی موت تک کی جائے گی ۔ اس طرح تمہاری زندگی کا پورا ریکارڈ ہمارے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ (there is no human being, but there is a watcher over him....86:4). This is the subject of the oath. The particle in at the beginning of the statement is used in the sense of 'no', that is, a negative particle; and the particle lamma is used in the sense of 'but/except', that is, it is an exceptive particle in the dialect of Banu Hudhail. The verse purports to say that there is not a single person over whom there is not a watcher [ hafiz ]. The word hafiz may mean 'guardian' who may watch over someone's actions and deeds, so that the reckoning is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 "A Guardian": Allah Almighty Himself, Who is looking after and watching over every creature, big or small, in the earth and heavens. He it is Who has brought everything into existence, Who is maintaining and sustaining everything in its place and position, and Who has taken the responsibility to provide for every creature and to protect it from calamities till an appointed tune. On this, an oath has been sworn by the heaven and by every star and planet which appears in the darkness of the night. (Although lexically, an-najm ath-thaqib is singular, it does not imply any one star but the star…
Read the full tafseer →