وَشَاهِدٍ وَّمَشْهُوْدٍ ۟ؕوَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍؕ
اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اسکی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the witness and what is witnessed,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
وَشَاهِدٍ وَّمَشْهُوْدٍ ۟ؕوَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍؕ
اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اسکی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the witness and what is witnessed,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Burooj
اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی
اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اسکی
حاضر ہونے والے اور حاضر کئے گئے کی قسم!
اور حاضر ہونے والے کی اور اس کی جس کے پاس لوگ حاضر ہوں
اور اس دن کی جو گواہ ہے اور اس دن کی جس میں حاضر ہوتے ہیں
جو (اس دن) حاضر ہوگا اس کی قَسم اور جو کچھ حاضر کیا جائے گا اس کی قَسم،
اور حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے !
اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی
اور دیکھنے والے اور دیکھی ہوئی کی۔
اور قسم ہے شاہد اور مشہود کی
اور حاضر ہونے والے (دن) کی اور جس میں حاضری ہو۔
اور قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور اس کی جس کے پاس حاضر ہوا جائے۔
اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی
and by the witness and what is witnessed:
and by that which attends, and that which is attended,
and by that which attends, and that which is attended,
And by the Witness and by the Witnessed.
And by the witness and that whereunto he beareth testimony,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the witness and what is witnessed,
and by the witness (Muhammad) and that which is witnessed (the Day of Judgment),
And the bearer of witness and those against whom the witness is borne.
And by the Day witnessing and the Day witnessed,
By one that witnesses, and the subject of the witness;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت (جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61) 25۔ الفرقان :61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
سورة الْبُرُوْج 3 دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں، مگر ہمارے نزدیک سلسلہ کلام سے جو بات مناسبت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ دیکھنے والے سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قیامت کے روز حاضر ہوگا اور دیکھی جانے والی چیز سے مراد خود قیامت ہے جس کے ہولناک احوال کو سب دیکھنے والے دیکھیں گے۔ یہ مجاہد، عکرمہ، ضحاک، ابن نجیح اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
والیوم المرعودہ وشاھد ومشھود خلاصہ تفسیر میں ترمذی کی مرفوع حدیث کے حوالہ سے ان الفاظ کی تفسیر لکھدی گئی ہے کہ یوم موعود سے مراد روز قیامت اور شاہد سے مراد روز جمعہ اور مشہود سے مراد روز عرفہ ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی اول برجوں والے آسمان کی۔ پھر قیامت کے روز کی پھر جمعہ اور عرفہ کے دنوں کی۔ مناسبت ان چیزوں کی قسم کی جواب قسم کیساتھ یہ کہ یہ سب چیزیں حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ پر اور پھر قیامت کے روز حساب کتاب اور جزا سزا پر دلیل ہیں اور روز جمعہ و عرفہ مؤمنین کے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرنے کے مبارک دن ہی، آگے جواب قسم میں ان کفار پر لعنت آئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →قیامت کے ان تمام شواہد کی طرف اشارہ جو آفاق میں موجود ہیں: نکرہ یہاں تعمیم کے لیے ہے جس سے قیامت اور جزاء و سزا کے ان تمام دلائل و شواہد کی طرف اشارہ ہو گیا ہے جو آفاق کے ہر گوشے میں موجود ہیں بشرطیکہ انسان آنکھیں اور عبرت پذیر دل رکھتا ہو۔ مثلاً ۔۔۔ اس کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز خالق کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت اور دوسری اعلیٰ صفات کی گواہی دیتی ہے۔ ان صفات کا بدیہی تقاضا، جیسا کہ قرآن نے وضاحت فرمائی ہے، یہ ہے کہ یہ دنیا نہ یوں ہی چلتی رہے اور نہ یوں ہی ایک حادثہ کے طور پر تمام ہو جائے بلکہ واجب ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ اس کے نیکوں اور بدوں میں امتیاز کرے۔ جنھوں نے اس کے…
Read the full tafseer →3۔ 1 شَاھْدٍ اور مَشْھُوْدِ کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے، امام شوکانی نے احادیث و آثار کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا، اور مشہود سے عرفہ (9 ذوالحجہ) کا دن ہے جہاں لوگ حج کے لئے جمع اور حاضر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →2: قرآن کریم میں اصل لفظ ”شاہد“ اور ”مشہود“ ہیں۔ شاہد کا ترجمہ ”حاضر ہونے والے“ سے اور مشہود کا ”جس کے پاس لوگ حاضر ہوں“۔ سے کیا گیا ہے۔ اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ اس کی تائید ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جسے امام ترمذی نے ضعیف کہا ہے، اور طبرانی میں حضرت ابو مالک اشعری ؓ کی ایک حدیث سے بھی جسے علامہ ہیثمی نے ضعیف کہا ہے۔ اس کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ شاہد سے مراد انسان ہے، اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے، کیونکہ ہر انسان اس دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوجائے گا۔ حافظ ابن جریر نے یہ تفسیر حضرت مجاہد اور…
Read the full tafseer →وشاھد ومشھود (3:85) ” اور دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کی “۔ اس دن لوگوں کے اعمال بھی پیش ہوں گے ، سب لوگ بھی پیش ہوں گے ، تو یہ سب مشہود ہوئے ، اور سب لوگ دیکھیں گے تو وہ شاہد بھی ہوئے ، اس دن ہر چیز پردے سے باہر آجائے گی اور ہر کسی کو نظر آئے گی۔ یہ عظیم اجرام فلکی والا آسمان ، اور یہ عظیم دن جس میں حساب و کتاب ہوگا اور سب شاہد اور مشہود جمع ہوں گے۔ ان کے ذکر سے جو فضا بنتی ہے۔ وہ اپنی عظمت ، اہمیت اور عظیم اجتماع کے لحاظ سے ، اس بات کے لئے مناسب ہے کہ اس میں اصحا بےالاخدود کا عظیم سانحہ بیان کیا جائے۔ یہ وسیع و عریض فضا گویا اس واقعہ کے بیان کے لئے اور اس حقیقت اور وزن دار بنانے کے…
Read the full tafseer →4 سب شہروں میں حاضر ہوتا ہے جمعہ کا دن۔ اور سب ایک جگہ حاضر ہوتے ہیں عرفہ کے دن حج کے لیے اسی لئے روایات میں آیا کہ " شاہد " جمعہ کا دن ہے اور " مشہود " عرفہ کا دن۔ اس کے علاوہ " شاہد " و " مشہود " کی تفسیر میں اقوال بہت ہیں لیکن اوفق بالروایات یہ ہی قول ہے۔ واللہ اعلم۔ (تنبیہ) قرآنی قسموں کے متعلق ہم سورة " قیامہ " کے شروع میں جو لکھ چکے ہیں، اس کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے۔ اور ان قسموں کو جواب قسم سے مناسبت یہ ہے کہ ان سب سے اللہ تعالیٰ کا مالک امکنہ وازمنہ ہونا ظاہر ہوتا ہے اور ایسے مالک الکل کی مخالفت کرنے والے کا مستحق لعن و عقوبت ہونا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3{ وَشَاہِدٍ وَّمَشْہُوْدٍ۔ } ”اور قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور اس کی جس کے پاس حاضر ہوا جائے۔“ اس آیت کی بہت سی تعبیرات کی گئی ہیں ‘ جن میں سے ایک تعبیر یہ ہے کہ شَاہِد سے مراد جمعہ کا دن ہے ‘ جو شہر شہر بستی بستی لوگوں کے پاس حاضر ہوتا ہے ‘ جبکہمَشْہُوْد عرفہ 10 ذی الحجہ کا دن ہے جس کے پاس لوگوں کو خود میدانِ عرفات میں جا کر حاضر ہونا پڑتا ہے۔
Read the full tafseer →2 آیت نمبر 2 میں (الیوم الموعود) سے مراد تو قیامت کا دن ہے مگر آیت نمبر 3 میں شاہد اور مشہود کی تعبیر میں بہت اختلاف واقع ہوا ہے۔ کسی نے کہا کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے جو ہر قریہ اور ہر شہر میں ہر جگہ حاضر ہوتا ہے۔ اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ جب کہ دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ وہاں حاضر ہوتے ہیں کسی نے کہا شاہد سے مراد یوم النحر اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے وغیرہ وغیرہ لیکن ربط مضمون کے لحاظ سے یہی تعبیر بہتر معلوم ہوتی ہے کہ مشہود سے مراد بھی قیامت کا دن ہو اور شاہد سے مراد قیامت کے دن اکٹھا کی جانے والی خلقت سے ہر فرد مراد ہو جو قیامت اور اس کی ہولناکیوں کو بچشم خود ملاحظہ کر رہا ہو۔…
Read the full tafseer →2۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ شاھد یوم جمعہ ہے، یہ شاید اس لیے کہ ہر ہفتہ یہ مسلمانون پر آتا رہتا ہے، اور مسلمان اس کے لیے کہیں باہر نکل کر نہیں جاتے۔ اور مشھود یوم عرفات ہے کہ اس روز دنیا کے مسلمان اپنے اپنے مقام سے سفر کرکے وہاں جمع ہوتے ہیں۔ واخرج الترمذی، وجماعۃ عن ابی ہریرہ مرفوعا الشاھد یوم الجمعۃ والمشھود یوم العرفۃ وروی ذلک عن ابی مالک الاشعری وجبیر بن مطعم مرفوعا ایضا واخرجہ جماعۃ عن علی ؓ عنہوغیرہ عن الصحابۃ والتابعین (روح) (آیت) ” شاھد، مشھود “۔ دونوں کا صیغہ نکرہ میں ہونا ان کے اظہار تعظیم کے لیے ہے، تنکیر الوصفین للتعظیم (روح) بعض محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ (آیت) ” شاھد ومشھود “…
Read the full tafseer →وشاھدو مشھود، شاہد اور مشہود کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے، علامہ شوکانی (رح) تعالیٰ نے آثار و روایات کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، یعنی اس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے جس میں لوگ 9/ذی الحجہ کو عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →و شاھد . یعنی روز جمعہ کی قسم یا ہر اس شاہد کی قسم جو حق کی شہادت دے۔ و مشھود . اور یوم عرفہ کی قسم یا ہر اس چیز کی قسم جس کی شہادت سچا شاہد دیتا ہے۔ یہ امور عظمت والے ہیں اس لیے اللہ نے ان کی قسم کھائی۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یوم موعود ‘ یوم قیامت ہے اور مشہود یوم عرفہ اور شاہد روز جمعہ۔ یوم جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اگر ٹھیک اس ساعت میں کوئی مؤمن بندہ اللہ سے کسی بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے اور جس شر سے پناہ مانگتا ہے ‘ اللہ اس شر سے اس کو بچا لیتا ہے۔ (رواہ احمد والترمذی) ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔ اس کا راوی حضرت موسیٰ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) قسم ہے برجوں والے آسمان کی یا یہ کہ محلوں والے آسمان کی، آسمان و زمین کے درمیان بارہ محل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے اور قسم ہے قیامت کے دن کی اور جمعہ کے دن کی اور عرفہ کے دن کی، یا یہ کہ یوم النحر کی اور کہا گیا ہے کہ شاہد سے انسان مراد ہیں اور مشہود قیامت کا دن ہے یا کہ شاہد رسول اکرم ہیں اور مشہود آپ کی امت ہے۔
Read the full tafseer →واشھد و مشھود :”شاھد“ حاضر ہونے والا۔”مشھود“ جس کے پاس حاضر ہوا جائے۔ لفظوں کے لحاظ سے اس میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو کہیں حاضر ہوسکتے ہیں اور مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جن کا مشاہدہ ہوسکتا ہے یا جن کے پاس کوئی حاضر ہوسکتا ہے۔ اہل علم نے ”شاھد“ اور ”مشھود“ کی تفسیر کرتے ہوئے جس چیز کو زیادہ اہم یا معروف یا مناسب مسجھا اس کے ساتھ تفسیر کردی۔ چناچہ بہت سے صحابہ و تابعین نے ”شاھد“ سے مراد یوم جمعہ اور ”مشھود“ سے مراد یوم عرفہ لیا ہے۔ الفاظ کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ فرد ہے جو کہیں حاضر ہوتا ہے اور حاضری کا ہر وہ موقع ہے جس میں کوئی فرد حاضر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
والیوم الموعود، وشاھدومشھود۔ یوم موعود سے مراد وہ دن ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے یہ دوسری قسم ہے جو یوم قیامت ہے علماء کی تاویل میں کوئی اختلاف نہیں، حضرت ابن عباس نے کہا، آسمان اور زمین والوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اس میں جمع ہوں۔ شاھد اور مشھود کی تعبیر میں علماء نے اختلاف کیا ہے حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، اروحضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ شاہد سے مراد یوم جمعہ ہے اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے ایک مرفوع روایت نقل کی ہے یوم موعود سے مراد قیامت ہے، یوم مشھود سے مرا اد یوم عرفہ اور شاھد سے مراد یوم جمعہ ہے ابوعیسی ترمذی نے اپنی جامع میں اسے…
Read the full tafseer →شاہد ومشہود کی تعیین 10۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابوہریرہ ؓ نے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ آیت وشاہد ومشہود میں الشاہد سے مراد ہے عرفہ کا دن اور جمعہ کا دن اور المشہود ہی الیوم الموعود اور اس سے مراد ہے قیامت کا دن۔ 11۔ عبد بن حمید وابن المنذر علی ؓ سے روایت کیا کہ الیوم الموعود سے مراد ہے قیامت کا دن اور الشاہد سے مراد ہے جمعہ کا دن اور والمشہود سے مراد ہے قربانی کا دن 12۔ ابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے شریح بن عبید کے طریق سے ابو مالک اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الیوم الموعود سے مراد ہے قیامت کا دن اور الشاہد سے مراد ہے جمعہ کا دن اور والمشہود…
Read the full tafseer →[وَشَاهِدٍ : اور قسم ہے حاضر ہونے والے کی ] [ وَّمَشْهُوْدٍ : اور قسم ہے معائنہ کیے جانے والے کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے آسمان کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت ذات البروج بتائی ہے (ان بروج سے بڑے بڑے ستارے مراد ہیں) نیز ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ002﴾ کی اور شاہد اور مشہود کی بھی قسمیں کھائی ہیں، سنن ترمذی (ابواب التفسیر من سورة البروج) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ﴾ سے یوم القیامة اور الیوم المشھود سے یوم عرفہ اور الشاھد سے یوم الجمعہ مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی دن ایسا نہیں جس پر سورج نکلتا چھپتا ہو جو یوم جمعہ سے افضل ہو، اس دن میں ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی کوئی مومن بندہ اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تنبیہ وتہدید برسرتابی انسان از طاعت خداوندی وتاکید استقامت بر ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء ذات البروج ...... الی ........ واللہ علی کل شیء شھید “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کا ذکر تھا اور یہ کہ خداوند عالم جب عالم پر قیامت برپا فرمانے کا ارادہ کرے گا تو آسمان شق کردیا جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے غرض نظام عالم سب ہی درہم برہم ہوجائے گا، اب اس سورت میں حق تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی نافرمانی اور اطاعت خداوندی سے سرتابی پر وعید اور تنبیہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار…
Read the full tafseer →3:۔ ” والیوم “ یہ ثبوت قیامت پر دوسرا شاہد ہے اور اس قسم کا جواب محذوف ہے ” یوم موعود “ سے قیامت کا دن مراد ہے۔ جس طرح قیامت کا یوم موعود پر نہایت سخت اور ہولناک ہوگا۔ اسی طرح اس دن میں مجرموں پر اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی سخت ہوگی۔ ” وشاہد و مشہود “ یہ ثبوت قیامت پر تیسرا شاہد ہے۔ شاہد سے وہ کفار مراد ہیں جو دنیا میں مسلمانوں کو ایذائیں دیتے اور ایذاء رسانی کے وقت ان کے پاس حاضر ہوتے۔ مشہود سے وہ مسلمان مراد ہیں جن کو ایذاء دی جاتی تھی یہ شاہد ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کافروں کو سخت سزا دے گا۔ اس دن مسلمان کفار کے عذاب کے شاہد ہوں گے اور وہ مشہود ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
(سابقہ سورة کے ساتھ ربط) اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔ حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…
Read the full tafseer →وَشَاہِدٍ وَّمَشْہُوْدٍ 3 ۭ شاهِدٌ وقد يعبّر بالشهادة عن الحکم نحو : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] ، وعن الإقرار نحو : وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] ، أن کان ذلک شَهَادَةٌ لنفسه . وقوله وَما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] أي : ما أخبرنا، وقال تعالی: شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] ، أي : مقرّين . لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] ، وقوله : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] ، فشهادة اللہ تعالیٰ بوحدانيّته…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ والسماء الوا وللقسم۔ ذات البروج صفۃ السماء والیوم موصوف الموعود وصفۃ المجموع معطوف علی السماء وکذا شاھد و مشھود و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ونحوہ وقیل جو ابہ قتل اصحاب الاخدود الخ وقیل جو ابہ ان بطش ربک لشدید الاخدود جمع خدوھو الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق و منہ الخد لمجاری الدموع النار قرء الجمہور بالجر علی انھا بدل اشتمال من الاخدود لان الاخدود مشتمل علیھا وقیل التقدیر ذی النار وقرء بالرفع علی انھا خبر مبتدء محذوف ایھی النار ذات الوقود صفۃ النار بانھا نا رعظیمۃ والوقود عند الجمہور بفتح الواو وقریٔ بضمھا وھو الحطب اذہم ظرف لقتل ای لعنواحین احرقوا بالنار قاعدین علی جو انبھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ ۔ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْھُوْدٍ ۔ (البروج : 2، 3) (اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی۔ ) قیامت کی قیامت پر قسم یومِ موعود سے مراد روز قیامت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ ترمذی کی مرفوع روایت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اور شاہد اور مشہود کی تفسیر میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ بعض ائمہ تفسیر نے ترمذی کی ایک مرفوع روایت سے استدلال کرتے ہوئے شاہد سے جمعہ کا دن مراد لیا ہے اور مشہود سے روز عرفہ کا۔ یہ حدیث اگر واقعی پایہ ثقاہت اور درجہ استناد کو پہنچتی ہے تو پھر مفسرین کے اقوال میں اختلاف ناقابلِ فہم ہے۔ لیکن یہ اختلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن ربط سورت : سورة الانشقاق کے آخر میں دو کردار اور ان کا الگ الگ انجام بیان ہوا۔ اسی بات کو البروج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں پر بڑا مہربان ہے، فرعون اور ثمود جیسا کردار رکھنے والوں کے لیے بڑا سخت ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد یہ برج نہیں ہیں۔ کچھ اہل علم نے قرآنی بروج سے مراد پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں…
Read the full tafseer →شاہد و مشہود : 3 : وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ (اور حاضرہونے والے کی اور جس میں حاضری ہوئی ہے) اور اس دن میں حاضر ہونے والے کی قسم اور مشہودؔ جس میں حاضری ہوئی ہے شاہد سے وہ تمام مخلوق مراد ہے جو اس میں حاضر ہوگی اور مشہود فیہؔ سے اس دن کے عجائبات مراد ہیں جو پیش آئیں گے۔ ان دونوں کو نکرہ یا تو اسی طریق سے لائے جیسا علمت نفس ما احضرت میں گویا اس طرح کہا گیا وما افرطت کثرتہ من شاہد و مشہود۔ نمبر 2۔ یا پھر وصف میں ابہام کے لئے نکرہ لائے گویا اس طرح کہا گیا اور قسم ہے شاہدو مشہود کی جن کی حقیقت بیان میں نہیں آسکتی۔ مفسرین کے اقوال اس سلسلہ میں کثرت سے وارد ہیں۔ نمبر 1۔ حضرت محمد ﷺ اور قیامت کا دن…
Read the full tafseer →3 ۔” وشاھد ومشھود “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” الیوم الموعود “ قیامت کا دن ہے اور ” الیوم المشھود “ عرفہ کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن ہے اور سورج اس جمعہ کے دن سے افضل دن پر نہ طلوع ہوتا ہے اور نہ ہی غروب ہوتا ہے اس میں ایک گھڑی اس میں بندہ نہیں موافقت کرتا کہ اللہ تعالیٰ سے اس میں خیر کی دعا کررہا ہو مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرلیتے ہیں اور نہ کسی چیز سے پناہ مانگتا ہے مگر اس کو پناہ دے دیتے ہیں اور یہ ابن عباس ؓ اور اکثر حضرات کا قول یہ ہے کہ شاہد ہر جمعہ کا دن اور مشہور عرفہ کا دن اور ابن عمر ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ شاہد جمعہ کا دن اور مشہور یوم نحر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت…
Read the full tafseer →(وَشَاهِدٍ وَّمَشْهُوْدٍ ) یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس وصف سے متصف ہے۔ یعنی دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا، حاضر ہونے والا اور جس کے پاس حاضر ہوا جائے، بصیرت سے دیکھنے والا اور دکھائی دینے والا۔
Read the full tafseer →(3) شاھد اور مشھود سے مقصود و مراد ؟ " شاھد " شہادت دینے والا اور " مشھود " جس کی شہادت دی گئی۔ سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق حضرات مفسرین کرام کے اقول مختلف ہیں۔ مثلا یہ کہ " شاھد " سے مراد خود پیغمبر ہیں، (علیہ الصلوۃ والسلام) کہ آپ حق و صداقت کی شہادت اور گواہی دینے والے ہیں، اور حضرت حق جل مجدہ نے آپ کو " شاہد " بنا کر ہی بھیجا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاہِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِیْراً ( الاحزاب 45 پ 22) یعنی ( اے پیغمبر) بلاشبہ ہم نے آپ کو " شاہد "، " مبشر " اور " نذیر " بنا کر بھیجا ہے۔ اور " مشھود " سے مراد یوم قیامت یا جمعہ ہے، یا بن آدم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 14 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ ” حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس وہ حاضر ہوگا اس کی قسم “ اس لحاظ سے شاہد سے مراد لوگ ہیں اور مشہور سے مراد و عجائب وغرائب جنہیں وہ قیامت کے روز دیکھیں گے۔ اکثر صحابہ وتابعین اس طرف گئے ہیں کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن اور مشہور سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ خود آنحضرت سے بھی ثابت ہے اور صحیح بھی ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(85:3) وشاہد ومشھود یہ جملہ بھی عطفیہ ہے۔ اس کا عطف بھی السماء پر ہے۔ واؤ قسم محذوف ہے۔ اور قسم ہے شاہد اور مشہود کی۔ شاھد سے کیا مراد ہے :۔ لغت میں شاہد کے معنی سامنے ہونے والے کے ہیں۔ اور پاس آنے والے کے اور گواہی دینے والے کے۔ لفظ وسیع المعنی ہے اور اس کے کئی معنی ہیں۔ اس کے متعلق علماء کے متعدد اقوال ہیں :۔ (1) بعض علماء نے فرمایا کہ شاہد جمعہ کا دن ہے کہ ہر شہر اور ہر مسجد میں آتا ہے اور مشہور عرفہ کا دن ہے کہ تمام بلاد و اطراف سے حاجی وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ چونکہ جمہ ہر ہفتہ میں ایک بار اور عرفہ ہر سال آتا ہے اس لئے ان کو نکرہ لایا گیا ہے اور قیامت کا دن چونکہ ایک ہی ہے اس لئے معرف باللام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ف 2) وشاھد سے مراد یوم جمعہ ہے کہ ہر شہر میں ہر ہفتہ آتا ہے ، اور مشھود سے مراد عرفہ کا دن ہے جس میں حج کے لیے دور دور سے ہزارہا آدمی جمع ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
[3] دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں لیکن جو قول رائج اور سلسلہ کلام کے مناسب ہے وہ یہ ہے کہ دیکھنے والے سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قیامت کے روز حاضر ہوگا اور دیکھی جانے والی چیز سے مراد خود قیامت ہے جس کی ہولناکیاں سب دیکھنے والے دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة البروج اصحاب اخدود کا قصہ یہ ہے کہ ذونواس یہودی نے جب یہ دیکھا کہ بہت سے لوگوں نے دین مسیحی کو قبول کرلیا ہے تو اس کا خون کھولنے لگا ۔ اس نے ان مسیحیوں سے کہا کہ تم لوگ دو چیزوں میں سے ایک چیز کو پسند کرلو ۔ یا تو آگ یا یہودیت ۔ ان صاحب عزیمت لوگوں نے عیسائیت سے انحراف کو دیانت وتقوی کے خلاف سمجھا اور دہکتی ہوئی کھائیوں میں کود پڑے ۔ ان آیات میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ اور بتانا یہ مقصود ہے کہ حق کی اشاعت کے لئے پہلی قوموں نے کتنی تکلیفیں برداشت کیں اور کتنے استقلال سے کام لیا ہے ۔ اس لئے مسلمان بھی مکہ والوں کی مخالفت سے نہ گھبرائیں ۔ بلکہ ان عیسائیوں کی طرح بڑی سے بڑی مصیبت برداشت…
Read the full tafseer →(3) اور حاضر ہونے والے دن کی قسم اور اس دن کی قسم جس میں حاضری ہونی ہے۔ اس آسمان کی قسم جس میں برج ہیں برجوں سے مراد یا تو وہ مشہور بارہ برج ہیں جن کو علم ہیئت والوں نے بیان کیا ہے کہ آفتاب کی گردش کے باعث آسمان میں ایک دائرہ پیدا ہوتا ہے جس کو دائرۃ البروج کہتے ہیں آفتاب اس دائرہ کو سال بھر میں پورا کرتا ہے اور جو جو ستارے ان بروج میں جمع ہوتے ہیں ان سے جو شکل پیدا ہوتی ہے ان کے نام یہ ہیں۔ حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت ہم کہیں ان برجوں کے نام کسی دوسری جگہ بھی بتا چکے ہیں یہ ایک فرض تقسیم ہے پھر ان برجوں کے خواص اور ان کے انقلابات وغیرہ پر مفسرین نے بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 6۔ حدیث ترمذی میں مرفوعا ہے کہ یوم معود قیامت کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن، لیکن علی قول المشہور وہ یوم عرفہ ہے جس میں حجاج اپنے اپنے مقامات سے سفر کر کے عرفات میں اس یوم کے قصد سے جمع ہوتے ہیں، تو گویا وہ دن مقصود اور دوسرے لوگ حاضری کا قصد کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →اور دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کے رب کی قسم 3 ؎ ( شاھد) گواہ ، حاضر ہونے والا ، بتانے والا شھادۃ اور مشھود سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ایک اسم مبارک بھی ہے کیونکہ آپ ﷺ قیامت کے روز امت کے گواہ اور دنیا میں تعلیم ربانی کے بتانے والے ہیں اور مراد اس کائنات کی ہر ایک چیز بھی ہے اور خصوصاً وہ نشانات بھی جو قوموں کی امتیازی حیثیت کو بتانے والے اور ان کا کھوج ظاہر کرنے والے ہیں اور اس کے معنوں میں بہت وسعت پائی جاتی ہے ( مشھود) اسم فاعل واحد مذکر مجرور حاضر کیا گیا ۔ جس دن کی شہادت میں بہت سے لوگ پیش کیے جاسکیں یا بہت سے نشانات پائے جاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (and by the Promised Day, and by that which attends, and that which is attended...85:2-3) With reference to a prophetic Hadith reported by Tirmidhi, the phrase 'the Promised Day' refers to the Day of Judgment; the phrase 'that which attends' refers to 'Friday'; and the phrase 'that which is attended' refers to the day of ` Arafah. Thus in this verse, Allah has taken oath by four objects: [ 1] 'the sky, the one having stellar formations'; [ 2] 'the Day of Judgment'; [ 3] 'Friday'; and [ 4] 'the Day of ` Arafah'. The relationship between the objects of oath and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3 The conunentators have expressed many different views about "the seer" and "that which is seen". In our opinion what fits in well with the context is that the seer is every such person who will witness the Day of Resurrection and that which is seen is the Resurrection itself, the dreadful scenes of which will be seen by aII This is the view of Mujahid. 'Ikrimah, Dahhak, lbn Nujaih and some other conunentators.
Read the full tafseer →