وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ ۟ۙوَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِۙ
اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the promised Day
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ ۟ۙوَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِۙ
اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the promised Day
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Burooj
اور اُس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے
اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے
وعده کیے ہوئے دن کی قسم!
اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے
اور اس دن کی قَسم جس کا وعدہ کیا گیا ہے،
اور اس دن کی جس کا وعدہ دیا گیا ہے !
اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے
اور وعدہ کئے ہوئے دن کی
اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے
اور وعدہ کئے ہوئے دن کی۔
اور قسم ہے اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے
by the Promised Day,
and by the Promised Day,
and by the Promised Day,
And by by the Promised Day.
And by the Promised Day.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the promised Day
by the promised day,
And the promised day,
And by the Day promised,
By the promised Day (of Judgment);
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت (جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61) 25۔ الفرقان :61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ…
Read the full tafseer →سورة الْبُرُوْج 2 یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
والیوم المرعودہ وشاھد ومشھود خلاصہ تفسیر میں ترمذی کی مرفوع حدیث کے حوالہ سے ان الفاظ کی تفسیر لکھدی گئی ہے کہ یوم موعود سے مراد روز قیامت اور شاہد سے مراد روز جمعہ اور مشہود سے مراد روز عرفہ ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی اول برجوں والے آسمان کی۔ پھر قیامت کے روز کی پھر جمعہ اور عرفہ کے دنوں کی۔ مناسبت ان چیزوں کی قسم کی جواب قسم کیساتھ یہ کہ یہ سب چیزیں حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ پر اور پھر قیامت کے روز حساب کتاب اور جزا سزا پر دلیل ہیں اور روز جمعہ و عرفہ مؤمنین کے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرنے کے مبارک دن ہی، آگے جواب قسم میں ان کفار پر لعنت آئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →قیامت کی قسم خود قیامت پر:یہ اس روز قیامت کی قسم ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ جس طرح سورۂ قیامہ میں اس کی قسم کھائی ہے اسی طرح یہاں بھی قسم کھائی ہے۔ قیامت کی قسم خود قیامت ہی سے ڈرانے کے لیے اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جس سے کسی ذی ہوش کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ سورۂ قیامہ میں فرمایا ہے کہ اس کی شہادت خود انسان کے نفس ہی کے اندر موجود ہے، اس کو ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔ ’بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہِ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقَی مَعَاذِیْرَہُ‘ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵) (بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے اگرچہ وہ کتنے ہی…
Read the full tafseer →2۔ 1 اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →1: یعنی قیامت کا دن
Read the full tafseer →والیوم الموعود (2:85) ” اور قسم ہے اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے “۔ یہ وہ دن ہے جس میں دنیا کے اعمال اور واقعات کے فیصلے ہوں گے۔ اس دنیا میں جس نے جو کمایا ہوگا ، اس کی جزاء و سزا ہوگی۔ اور اس دن کو الیوم الموعود اس لئے کہا گیا کہ اس کے آنے کا اللہ نے وعدہ فرمایا تھا کہ اس دن حساب کے بعد جزاء وسزا ہوگی اور جن لوگوں پہ دنیا میں زیادتی ہوئی یا جنہوں نے کسی پر زیادتی کی اس دن تک اللہ نے ان کو مہلت دی اور یہ ایک عظیم دن ہوگا ، جس کا لوگوں کو انتظار ہے تاکہ وہ دیکھیں کہ اس کے اندر کیا فیصلے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →3 یعنی قیامت کا دن۔
Read the full tafseer →آیت 2{ وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ۔ } ”اور قسم ہے اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔“ یعنی قیامت کا دن ‘ جو آکر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 آسمان اور اسکے برج :۔ بطلیموسی نظریہ ہیئت کے مطابق فلک ہشتم کو بارہ برجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو دراصل ستاروں کے جھرمٹ یا مجمع النجوم (Constalations) ہیں۔ جنہیں دیکھنے سے ایک مخصوص تصور یا شکل ذہن میں آجاتی ہے۔ ان برجوں کے ناموں سے ہی ان کی شکلوں کا کچھ نہ کچھ تصور ذہن میں آجاتا ہے۔ ان کے نام درج ذیل شعر میں منظوم کیے گئے ہیں۔ حمل و ثور و جوزا، سرطان و اسد سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی دلو و حوت انہیں بروج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورة الحجر کی آیت نمبر 10 میں فرمایا : اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور اس آسمان کو دیکھنے والوں کے لیے سجا دیا اب اگر ایک عام قاری اس آیت میں بروج کے لفظ سے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ یعنی قیامت کے دن کی۔ (آیت) ” البروج “۔ بروج سے مراد ستارے ہیں جن کی منزلیں مقرر رہتی ہیں۔ الواحد برج وبہ سمی بروج النجوم لمنازلھا المختصۃ بھا (راغب) وقال مجاھد والحسن وعکرمۃ وقتادۃ ھو النجوم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے برجوں والے آسمان کی سبع سیارہ کے بارہ برج ہیں (جن کی تفصیل سورة فرقان میں گذر چکی ہے) اور قسم ہے یوم موعود (یعنی) قامت کے دن کی اور حاضر ہونے والے جمعہ کے دن کی قسم اور اس دن کی قسم جس میں حاضری ہوتی ہے یعنی یوم عرفہ کی، حدیث شریف میں تینوں کی ایسی ہی تفسیر کی گئی ہے اول معودبہ ہے دوسرا (یعنی جمعہ) اپنے اندر ہونے والے عمل کی شہادت دینے والا ہے اور تیسرا (یعنی) یوم عرفہ کہ اس میں انسان اور ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور جواب قسم کا صدر محذوف ہے اور وہ لقد ہے ای لقد قتل اصحب الاخدود، ہلاک کئے گئے گڑھے والے یعنی زمین میں…
Read the full tafseer →والیوم الموعود . اور مقرر دن یعنی روز قیامت کی قسم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) قسم ہے برجوں والے آسمان کی یا یہ کہ محلوں والے آسمان کی، آسمان و زمین کے درمیان بارہ محل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے اور قسم ہے قیامت کے دن کی اور جمعہ کے دن کی اور عرفہ کے دن کی، یا یہ کہ یوم النحر کی اور کہا گیا ہے کہ شاہد سے انسان مراد ہیں اور مشہود قیامت کا دن ہے یا کہ شاہد رسول اکرم ہیں اور مشہود آپ کی امت ہے۔
Read the full tafseer →والیوم الموعود : قیامت کا دن، جس کا جزا و سزا کے لئے وعدہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
والیوم الموعود، وشاھدومشھود۔ یوم موعود سے مراد وہ دن ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے یہ دوسری قسم ہے جو یوم قیامت ہے علماء کی تاویل میں کوئی اختلاف نہیں، حضرت ابن عباس نے کہا، آسمان اور زمین والوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اس میں جمع ہوں۔ شاھد اور مشھود کی تعبیر میں علماء نے اختلاف کیا ہے حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، اروحضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ شاہد سے مراد یوم جمعہ ہے اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے ایک مرفوع روایت نقل کی ہے یوم موعود سے مراد قیامت ہے، یوم مشھود سے مرا اد یوم عرفہ اور شاھد سے مراد یوم جمعہ ہے ابوعیسی ترمذی نے اپنی جامع میں اسے…
Read the full tafseer →8۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت والیوم الموعود وشادہد ومشہود کے بارے میں روایت کیا کہ آیت والمیوم الموعود سے مراد ہے قیامت کا دن اور الشاہد سے مراد ہے جمعہ کا دن اور المشہود سے مراد ہے عرفہ کا دن اور وہ حج اکبر سے ہے اور جمعہ کے دن کو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ اور ان کی امت کے لیے عید بنایا اور اس کے ذریعے ساری مخلوق پر ان کو فضیلت دی اور وہ اللہ کے نزدیک سارے دنوں کا سردار ہے اور اس میں کیے جانے والے اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب اور پسندیدہ ہیں۔ اور اس میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی بندہ اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرتا ہے…
Read the full tafseer →[وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ : اور قسم ہے وعدہ کیے ہوئے دن کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے آسمان کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت ذات البروج بتائی ہے (ان بروج سے بڑے بڑے ستارے مراد ہیں) نیز ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ002﴾ کی اور شاہد اور مشہود کی بھی قسمیں کھائی ہیں، سنن ترمذی (ابواب التفسیر من سورة البروج) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ﴾ سے یوم القیامة اور الیوم المشھود سے یوم عرفہ اور الشاھد سے یوم الجمعہ مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی دن ایسا نہیں جس پر سورج نکلتا چھپتا ہو جو یوم جمعہ سے افضل ہو، اس دن میں ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی کوئی مومن بندہ اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تنبیہ وتہدید برسرتابی انسان از طاعت خداوندی وتاکید استقامت بر ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء ذات البروج ...... الی ........ واللہ علی کل شیء شھید “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کا ذکر تھا اور یہ کہ خداوند عالم جب عالم پر قیامت برپا فرمانے کا ارادہ کرے گا تو آسمان شق کردیا جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے غرض نظام عالم سب ہی درہم برہم ہوجائے گا، اب اس سورت میں حق تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی نافرمانی اور اطاعت خداوندی سے سرتابی پر وعید اور تنبیہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” والسماء “۔ یہ ثبوت قیامت پر شاہد اول ہے اور جواب قسم محذوف ہے۔ یہ آسمان جو تمہیں احاطہ کیے ہوئے ہے اور جس کے گھیرے سے تم نکل کر کہیں نہیں جاسکتے یہ اس پر شاہد ہے کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں محیط ہے اور قیامت کے دن تم اس کے عذاب سے کہیں نکل بھاگ نہیں سکو گے۔ بروج سے بارہ برج مراد ہیں جن کو سورج سال بھر میں اور چاند ایک ماہ میں طے کرلیتا ہے یا اس سے اٹھائیس منازل قمر مراد ہیں (کبیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
(سابقہ سورة کے ساتھ ربط) اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔ حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…
Read the full tafseer →وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ 2 ۙ وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ [ البروج/ 2] وإشارة إلى القیامة
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ والسماء الوا وللقسم۔ ذات البروج صفۃ السماء والیوم موصوف الموعود وصفۃ المجموع معطوف علی السماء وکذا شاھد و مشھود و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ونحوہ وقیل جو ابہ قتل اصحاب الاخدود الخ وقیل جو ابہ ان بطش ربک لشدید الاخدود جمع خدوھو الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق و منہ الخد لمجاری الدموع النار قرء الجمہور بالجر علی انھا بدل اشتمال من الاخدود لان الاخدود مشتمل علیھا وقیل التقدیر ذی النار وقرء بالرفع علی انھا خبر مبتدء محذوف ایھی النار ذات الوقود صفۃ النار بانھا نا رعظیمۃ والوقود عند الجمہور بفتح الواو وقریٔ بضمھا وھو الحطب اذہم ظرف لقتل ای لعنواحین احرقوا بالنار قاعدین علی جو انبھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ ۔ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْھُوْدٍ ۔ (البروج : 2، 3) (اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی۔ ) قیامت کی قیامت پر قسم یومِ موعود سے مراد روز قیامت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ ترمذی کی مرفوع روایت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اور شاہد اور مشہود کی تفسیر میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ بعض ائمہ تفسیر نے ترمذی کی ایک مرفوع روایت سے استدلال کرتے ہوئے شاہد سے جمعہ کا دن مراد لیا ہے اور مشہود سے روز عرفہ کا۔ یہ حدیث اگر واقعی پایہ ثقاہت اور درجہ استناد کو پہنچتی ہے تو پھر مفسرین کے اقوال میں اختلاف ناقابلِ فہم ہے۔ لیکن یہ اختلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن ربط سورت : سورة الانشقاق کے آخر میں دو کردار اور ان کا الگ الگ انجام بیان ہوا۔ اسی بات کو البروج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں پر بڑا مہربان ہے، فرعون اور ثمود جیسا کردار رکھنے والوں کے لیے بڑا سخت ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد یہ برج نہیں ہیں۔ کچھ اہل علم نے قرآنی بروج سے مراد پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں…
Read the full tafseer →2 : وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ (اور وعدہ کیے ہوئے دن کی) وعدہ کے دن سے قیامت کا دن مراد ہے۔
Read the full tafseer →والیوم الموعود اور وشاھد ومشھود کی تفسیر میں مختلف اقوال
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت…
Read the full tafseer →(وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ ) اور وعدے کے دن کی۔ یہ قیامت کا دن ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ وعدہ کررکھا ہے کہ وہ اس دن انہیں اکٹھا کرے گا چناچہ ان کے اول وآخر اور دور نزدیک کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا اس دن بدلنا ممکن ہے نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(2) یوم موعود کی قسم کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے یوم موعود کی " یعنی قیامت کے دن کی، جس کا وعدہ حضرت حق جل مجدہ نے اپنے بندوں سے فرمایا اور تاکید و تکرار کے ساتھ فرمایا ہے تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیا جاس کے۔ جیسا کہ سورة نساء میں ارشاد فرمایا گیا اللّہُ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّہِ حَدِیْثاً ( النسائ 87 پ 5) یعنی اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا قیامت کے اس دن تک جس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ سو اس قسم سے واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 14 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ ” حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس وہ حاضر ہوگا اس کی قسم “ اس لحاظ سے شاہد سے مراد لوگ ہیں اور مشہور سے مراد و عجائب وغرائب جنہیں وہ قیامت کے روز دیکھیں گے۔ اکثر صحابہ وتابعین اس طرف گئے ہیں کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن اور مشہور سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ خود آنحضرت سے بھی ثابت ہے اور صحیح بھی ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(85:2) والیوم الموعود۔ واؤ عاطفہ ، واؤ قسم محذوف ہے۔ اور قسم ہے الیوم الدعود کی۔ موصوف و صفت۔ وعدہ کئے ہوئے دن کی۔ یعنی روز قیامت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 1) ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گذرچکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں ، چاند، سورج، زہرہ، مریخ ، عطارد ، مشتری ، زحل ، تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی تبدیل موسم طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →[2] یعنی قیامت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة البروج اصحاب اخدود کا قصہ یہ ہے کہ ذونواس یہودی نے جب یہ دیکھا کہ بہت سے لوگوں نے دین مسیحی کو قبول کرلیا ہے تو اس کا خون کھولنے لگا ۔ اس نے ان مسیحیوں سے کہا کہ تم لوگ دو چیزوں میں سے ایک چیز کو پسند کرلو ۔ یا تو آگ یا یہودیت ۔ ان صاحب عزیمت لوگوں نے عیسائیت سے انحراف کو دیانت وتقوی کے خلاف سمجھا اور دہکتی ہوئی کھائیوں میں کود پڑے ۔ ان آیات میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ اور بتانا یہ مقصود ہے کہ حق کی اشاعت کے لئے پہلی قوموں نے کتنی تکلیفیں برداشت کیں اور کتنے استقلال سے کام لیا ہے ۔ اس لئے مسلمان بھی مکہ والوں کی مخالفت سے نہ گھبرائیں ۔ بلکہ ان عیسائیوں کی طرح بڑی سے بڑی مصیبت برداشت…
Read the full tafseer →(2) اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اس دن کے رب کی قسم جس کا وعدہ کیا گیا ہے 2 ؎ ( الموعود) اس مفعول واحد مذکر وعد مصدر۔ وعدہ کیا ہوا دن یعنی روز قیامت جس کے آنے کا وعدہ پختہ کیا گیا ہے اور اس کے آنے میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ یہ دوسری قسم ہے آنے والے مضمون کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے جو مضمون آگے آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (and by the Promised Day, and by that which attends, and that which is attended...85:2-3) With reference to a prophetic Hadith reported by Tirmidhi, the phrase 'the Promised Day' refers to the Day of Judgment; the phrase 'that which attends' refers to 'Friday'; and the phrase 'that which is attended' refers to the day of ` Arafah. Thus in this verse, Allah has taken oath by four objects: [ 1] 'the sky, the one having stellar formations'; [ 2] 'the Day of Judgment'; [ 3] 'Friday'; and [ 4] 'the Day of ` Arafah'. The relationship between the objects of oath and…
Read the full tafseer →2 That is, the Day of Resurrection.
Read the full tafseer →