وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ۟ۙوَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِۙ
آسمان کی قسم جس میں برج ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the sky containing great stars
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
The Constellations · Meccan · 22 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ۟ۙوَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِۙ
آسمان کی قسم جس میں برج ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the sky containing great stars
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Burooj
قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی
آسمان کی قسم جس میں برج ہیں
برجوں والے آسمان کی قسم!
قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔
قسم آسمان کی، جس میں برج ہیں
برجوں (یعنی کہکشاؤں) والے آسمان کی قَسم،
قسم ہے برجوں والے آسمان کی !
برجوں والے آسمان کی قسم
قسم ہے برجوں والے آسمان
قسم ہے برجوں والے آسمان کی
قسم ہے برجوں والے آسمان کی
قسم ہے آسمان کی جو برجوں والا ہے۔
آسمان کی قسم جس میں برج ہیں
By the heaven with its impregnable castles;
I swear by the sky, the one having stellar formations,
I swear by the sky, the one having stellar formations,
By the heaven holding the Buruj.
By the heaven, holding mansions of the stars,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
By the sky containing great stars
By the heavens with constellations,
I swear by the mansions of the stars,
By the heaven adorned with big stars.
By the sky, (displaying) the Zodiacal Signs;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت (جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61) 25۔ الفرقان :61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ…
Read the full tafseer →سورة الْبُرُوْج 1 اصل الفاظ ہیں ذات البروج۔ یعنی برجوں والے آسمان کی۔ مفسرین میں سے بعض نے اس سے مراد قدیم علم ہیبت کے مطابق آسمان کے 12 برج لیے ہیں۔ اور ابن عباس، مجاہد، قتادہ، حسن بصری، ضحاک اور سدی کے نزدیک اس سے مراد آسمان کے عظیم الشان تارے اور سیارے ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر شان نزول۔ اس سورت میں ایک قصہ کا اجمالاً ذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکورہ ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کوئی کافر بادشاہ تھا اس کے پاس ایک کاہن تھا (کاہن اس کو کہا جاتا ہے جو شیاطین کے ذریعہ یا نجوم کے آثار کے ذریعہ کچھ مستقبل کی غیبی خبریں معلوم کر کے لوگوں کو بتائے) اس کا ہن نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو ایک ہوشیار لڑکا دیا جاوے تو اس کو اپنا علم سکھا دوں، چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستے میں ایک راہب یعنی عیسائی پادری رہتا تھا اور اس زمانے میں دین عیسیٰ ؑ ہی دین حق تھا اور یہ راہب اسی پر قائم عبادت گزار تھا وہ لڑکا اس کے پاس آنے جانے لگا اور خفیہ مسلمان ہوگیا، ایک بار اس لڑکے نے…
Read the full tafseer →لفظ ’برج‘ کی تحقیق: لفظ ’برج‘ قلعوں اور گڑھیوں کے لیے آتا ہے۔ عربی زبان اور قرآن دونوں میں یہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ آسمان کی صفت کے طور پر یہ جہاں آیا ہے اس سے مراد آسمان کے وہ قلعے اور دیدبان ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے برابر مامور رہتے ہیں کہ وہ خدا کی ملکوت میں شیاطین کو ایک خاص حد سے آگے یعنی ملاء اعلیٰ کے حدود میں داخل نہ ہونے دیں۔ اگر اس حد سے وہ آگے بڑھنے کی جسارت کرتے ہیں تو، جیسا کہ آپ مختلف سورتوں میں پڑھ چکے ہیں، ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی جن یا انسان ملاء اعلیٰ کے حدود میں داخل یا غیب کے اسرار کی کچھ سن گن لے سکے۔ قسم کی نوعیت: قسم یہاں، جیسا کہ…
Read the full tafseer →1۔ 1 بروج، برج کی جمع ہے، برج کے اصل معنی ظہور کے ہیں، یہ کواکب کی منزلیں ہیں جنہیں ان کے محل اور قصور کی حثییت حاصل ہے ظاہر اور نمایاں ہونے کی وجہ سے انہیں برج کہا جاتا ہے تفصیل کے لیے دیکھیے الفرقان، 61 کا حاشیہ بعض نے بروج سے مراد ستارے لیے ہے۔ یعنی ستارے والے آسمان کی قسم، بعض کے نزدیک اس سے آسمان کے دروازے یا چاند کی منزلیں مراد ہیں (فتح القدیر)
Read the full tafseer →واقعہ اصحاب الاخدود کی طرف آنے سے قبل سورت کا آغاز اس قسم سے ہوتا ہے ” قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی “۔” بروج “ سے مراد یا تو عظیم الجثہ اجرام فلکی ہیں ، گویا وہ آسمانوں کے عظیم الشان قلعے ہیں ، سورة ذاریات میں کہا گیا۔ والسماء .................... لموسعون (47:79) ” اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم بہت وسعت دینے والے ہیں “۔ اور سورة نازعات میں فرمایا : ءانتم .................... بنھا (27:79) ” کیا تخلیق کے لحاظ سے تم مضبوط ہو یا آسمان جسے ہم نے بنایا “۔ اور یا بروج سے مراد وہ منزلیں ہیں جن کے اندر یہ اجرام گردش کرتے ہیں یعنی جب یہ اجرام اپنے ایک مدار کے اندر گردش کرتے ہیں اور اس…
Read the full tafseer →2 برجوں سے مراد تو وہ بارہ برج ہیں جن کو آفتاب ایک سال کی مدت میں تمام کرتا ہے یا آسمانی قلعہ کے وہ حصے جن میں فرشتے پہرہ دیتے ہیں یا بڑے بڑے ستارے جو دیکھنے میں آسمان پر معلوم ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 1{ وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ۔ } ”قسم ہے آسمان کی جو برجوں والا ہے۔“ برجوں سے مراد آسمان کے عظیم الشان ستارے اور سیارے لیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 آسمان اور اسکے برج :۔ بطلیموسی نظریہ ہیئت کے مطابق فلک ہشتم کو بارہ برجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو دراصل ستاروں کے جھرمٹ یا مجمع النجوم (Constalations) ہیں۔ جنہیں دیکھنے سے ایک مخصوص تصور یا شکل ذہن میں آجاتی ہے۔ ان برجوں کے ناموں سے ہی ان کی شکلوں کا کچھ نہ کچھ تصور ذہن میں آجاتا ہے۔ ان کے نام درج ذیل شعر میں منظوم کیے گئے ہیں۔ حمل و ثور و جوزا، سرطان و اسد سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی دلو و حوت انہیں بروج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورة الحجر کی آیت نمبر 10 میں فرمایا : اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور اس آسمان کو دیکھنے والوں کے لیے سجا دیا اب اگر ایک عام قاری اس آیت میں بروج کے لفظ سے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ یعنی قیامت کے دن کی۔ (آیت) ” البروج “۔ بروج سے مراد ستارے ہیں جن کی منزلیں مقرر رہتی ہیں۔ الواحد برج وبہ سمی بروج النجوم لمنازلھا المختصۃ بھا (راغب) وقال مجاھد والحسن وعکرمۃ وقتادۃ ھو النجوم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے برجوں والے آسمان کی سبع سیارہ کے بارہ برج ہیں (جن کی تفصیل سورة فرقان میں گذر چکی ہے) اور قسم ہے یوم موعود (یعنی) قامت کے دن کی اور حاضر ہونے والے جمعہ کے دن کی قسم اور اس دن کی قسم جس میں حاضری ہوتی ہے یعنی یوم عرفہ کی، حدیث شریف میں تینوں کی ایسی ہی تفسیر کی گئی ہے اول معودبہ ہے دوسرا (یعنی جمعہ) اپنے اندر ہونے والے عمل کی شہادت دینے والا ہے اور تیسرا (یعنی) یوم عرفہ کہ اس میں انسان اور ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور جواب قسم کا صدر محذوف ہے اور وہ لقد ہے ای لقد قتل اصحب الاخدود، ہلاک کئے گئے گڑھے والے یعنی زمین میں…
Read the full tafseer →والسماء ذات البروج . برجوں والے آسمان کی قسم ‘ برج کا معنی ہے قلعہ لغوی معنی ہے ظہور۔ تَبَرَّجَتِ الْمَرْأَۃُ : وہ عورت برآمد ہوگئی۔ قلعہ بھی بالکل نمایاں ہوتا ہے (عموماً پہاڑیوں پر قلعے بنائے جاتے تھے) اس لیے اس کو برج کہا جاتا ہے۔ ظاہر کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر کچھ مکان ہیں جن کو برج کہا جاتا ہے۔۔ عطیہ عوفی نے بروج کا ترجمہ کیا ہے : وہ محل جہاں چوکیدار متعین ہوں۔ صحیحین میں حدیث معراج کی تفصیل میں آیا ہے کہ پھر بیت معمور تک مجھے اٹھا کرلے جایا گیا یعنی ساتویں آسمان پر کعبہ کے مقابل سورة تطفیف میں وہب بن منبہ کا قول گزر چکا ہے کہ ساتویں آسمان میں ایک مکان ہے جس کو سفید مکان کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) قسم ہے برجوں والے آسمان کی یا یہ کہ محلوں والے آسمان کی، آسمان و زمین کے درمیان بارہ محل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے اور قسم ہے قیامت کے دن کی اور جمعہ کے دن کی اور عرفہ کے دن کی، یا یہ کہ یوم النحر کی اور کہا گیا ہے کہ شاہد سے انسان مراد ہیں اور مشہود قیامت کا دن ہے یا کہ شاہد رسول اکرم ہیں اور مشہود آپ کی امت ہے۔
Read the full tafseer →(والسمآء ذات البروج :”البروج“ ”برج“ کی جمع ہے، اس کا اصل معنی ہے ”نمایاں اور ظاہر ہونے والی چیز۔“ ”تربج“ کا معنی بےپردہ ہونا، ظاہر ہونا ہے۔ اس لئے بلند محل کو برج کہتے ہیں، شہر کی فصیل کے بلند حصوں کو بھی برج کہتے ہیں اور آسمان پر ستاروں کے اجتماع سے جو صورتیں نظر آتی ہیں انہیں بروج کہتے ہیں۔ وہ آسمانی ٹھکانے بھی بروج کہلاتے ہیں جن میں شیطانوں سے آسمان کی حفاظت کے لئے فرشتے پہرا دیتے ہیں۔ سورج اور چاند کی منزلوں کو بھی بروج کہا اجتا ہے۔
Read the full tafseer →والسماء ذات البروج۔ یہ قسم ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی ہے بروج میں چار قول ہیں۔ (1) ستاروں والا، یہ حضرت حسن بصری، قتادہ اور مجاہد اور ضحاک کا قول ہے۔ (2) محلات، یہ حضرت ابن عباس، عکرمہ اور مجاہد کا قول ہے، عکرمہ نے کہا، یہ آسمان میں محلات ہیں مجاہد نے کہا، ایسے برج جن میں نگہبان ہوتے ہیں۔ (3) اچھی صورت والا، یہ منہال بن عمرو کا قول ہے۔ (4) منازل والا، یہ ابوعبیدہ اور یحییٰ بن سلام کا قول ہے، یہ بارہ برج ہیں یہ ستاروں، چاند اور سورج کی منازل ہیں۔ چاند ایک برج میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا رہتا ہے، یہ اٹھائیس دن ہوجاتے ہیں پھر دوراتیں وہ چھپ جاتا ہے اور اس سورج ہر برج میں ایک ماہ…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ البروج سے آسمان میں محلات مراد ہیں۔ 2۔ ابن المنذر نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کے اصحاب اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت والسماء ذات البروج کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اس سے مراد ہے کہ قسم ہے آسمان کی جو محلات والا ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ ذات البروج سے مراد ہے بڑے بڑے ستارے۔ 4۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے آیت والسماء ذات البروج کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہیں ستارے یعنی قسم ہے آسمان کی جو ستاروں والا ہے اور آیت الذی جعل فی السماء بروجا (الفرقان آیت 61۔…
Read the full tafseer →[وَالسَّمَاۗءِ : قسم ہے آسمان کی ][ ذَاتِ الْبُرُوْج : جو (سیاروں کی) منزلوں والا ہے ] نوٹ 1: اس آیت۔ 1 ۔ میں بروج سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک بڑے بڑے ستارے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ بعض مفسرین نے بروج سے مراد قصور یعنی محلات لیے ہیں اور اس سے مراد وہ مقامات ہیں جو آسمان میں پہرے داروں اور نگراں فرشتوں کے لیے مقرر ہیں۔ بعض متاخرین (بعد میں آنے والے) نے اس سے مراد وہ بروج بتلائے ہیں جو فلاسفہ کی اصطلاح ہے، جس میں کل آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصہ کو ایک برج کہا جاتا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ثابت ستارے انہی برجوں میں اپنی اپنی جگہ مقیم ہیں۔ اور سیارے حرکت فلک کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے آسمان کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت ذات البروج بتائی ہے (ان بروج سے بڑے بڑے ستارے مراد ہیں) نیز ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ002﴾ کی اور شاہد اور مشہود کی بھی قسمیں کھائی ہیں، سنن ترمذی (ابواب التفسیر من سورة البروج) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ﴿وَ الْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ﴾ سے یوم القیامة اور الیوم المشھود سے یوم عرفہ اور الشاھد سے یوم الجمعہ مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی دن ایسا نہیں جس پر سورج نکلتا چھپتا ہو جو یوم جمعہ سے افضل ہو، اس دن میں ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی کوئی مومن بندہ اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تنبیہ وتہدید برسرتابی انسان از طاعت خداوندی وتاکید استقامت بر ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء ذات البروج ...... الی ........ واللہ علی کل شیء شھید “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کا ذکر تھا اور یہ کہ خداوند عالم جب عالم پر قیامت برپا فرمانے کا ارادہ کرے گا تو آسمان شق کردیا جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے غرض نظام عالم سب ہی درہم برہم ہوجائے گا، اب اس سورت میں حق تعالیٰ اپنی عظمت وکبریائی اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر کرتے ہوئے انسان کی نافرمانی اور اطاعت خداوندی سے سرتابی پر وعید اور تنبیہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” والسماء “۔ یہ ثبوت قیامت پر شاہد اول ہے اور جواب قسم محذوف ہے۔ یہ آسمان جو تمہیں احاطہ کیے ہوئے ہے اور جس کے گھیرے سے تم نکل کر کہیں نہیں جاسکتے یہ اس پر شاہد ہے کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں محیط ہے اور قیامت کے دن تم اس کے عذاب سے کہیں نکل بھاگ نہیں سکو گے۔ بروج سے بارہ برج مراد ہیں جن کو سورج سال بھر میں اور چاند ایک ماہ میں طے کرلیتا ہے یا اس سے اٹھائیس منازل قمر مراد ہیں (کبیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
(سابقہ سورة کے ساتھ ربط) اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔ حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة…
Read the full tafseer →وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ 1 ۙ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ترکیب ¦ والسماء الوا وللقسم۔ ذات البروج صفۃ السماء والیوم موصوف الموعود وصفۃ المجموع معطوف علی السماء وکذا شاھد و مشھود و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ونحوہ وقیل جو ابہ قتل اصحاب الاخدود الخ وقیل جو ابہ ان بطش ربک لشدید الاخدود جمع خدوھو الشق العظیم المستطیل فی الارض کالخندق و منہ الخد لمجاری الدموع النار قرء الجمہور بالجر علی انھا بدل اشتمال من الاخدود لان الاخدود مشتمل علیھا وقیل التقدیر ذی النار وقرء بالرفع علی انھا خبر مبتدء محذوف ایھی النار ذات الوقود صفۃ النار بانھا نا رعظیمۃ والوقود عند الجمہور بفتح الواو وقریٔ بضمھا وھو الحطب اذہم ظرف لقتل ای لعنواحین احرقوا بالنار قاعدین علی جو انبھا…
Read the full tafseer →وَالسَّمَآئَ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ۔ (البروج : 1) (قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ ) لفظِ بروج کی تحقیق بروج، برج کی جمع ہے۔ یہ لفظ محلات پر بھی بولا جاتا ہے اور قلعوں اور گڑھیوں پر بھی۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں اور بعض دیگر ائمہ تفسیر نے اس سے وہ محلات اور مکانات مراد لیے ہیں جو آسمان میں پہرے داروں اور نگران فرشتوں کے لیے مقرر ہیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں بھی یہ لفظ آسمان کی صفت کے طور پر آیا ہے وہاں اس سے مراد آسمان کے وہ قلعے اور دیدبان ہیں جہاں نگران فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معمور کیے گئے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مملکت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
فہم القرآن ربط سورت : سورة الانشقاق کے آخر میں دو کردار اور ان کا الگ الگ انجام بیان ہوا۔ اسی بات کو البروج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں پر بڑا مہربان ہے، فرعون اور ثمود جیسا کردار رکھنے والوں کے لیے بڑا سخت ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد یہ برج نہیں ہیں۔ کچھ اہل علم نے قرآنی بروج سے مراد پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں…
Read the full tafseer →1 : وَالسَّمَآ ئِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ (قسم ہے برجوں والے آسمان کی) وہ برج بارہ ہیں۔ ایک قول : یہ ہے اس سے ستارے مراد ہیں۔ نمبر 2۔ بڑے ستارے مراد ہیں۔
Read the full tafseer →1 ۔” والسماء ذات البروج۔ 2 ۔” والیوم المرعود “ وہ قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت…
Read the full tafseer →(وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ) برجوں والے آسمان کی قسم۔ یعنی جو منازل والا ہے اور جو سورج، چاند اور ان کواکب کی منازل پر مشتمل ہے جو اپنے چلنے میں کامل ترین ترتیب اور ایسے نظام میں منسلک ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و رحمت اور وسعت علم پر دلالت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) برجوں والے آسمان کی قسم کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے برجوں والے آسمان کی "۔ " بروج " جمع ہے " برج " کی، جس کے لغوی معنی ظہور اور بروز کے آتے ہیں، اس لیے اس کا اطلاق بڑے مضبوط قلعوں پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا أَیْْنَمَا تَکُونُواْ یُدْرِککُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِیْ بُرُوجٍ مُّشَیَّدَۃٍ (النسائ 78 پ 5) یعنی تم لوگ جہاں بھی ہوؤ گے تم کو موت بہرحال آکر رہے گی، اگرچہ تم مضبوط قلعوں کے اندر بند ہو، اور اسی طرح اس کا اطلاق بلند وبالا محلات و قصور پر بھی ہوتا ہے کہ وہ بھی دور سے نظر آتے ہیں، اور اپنی خصوصیت اہمیت کی بنا پر وہ تو جہات کا مرکز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →ف 13 برجوں سے مراد وہ منزلیں ہیں جنہیں سورج ایک سال کی مدت میں طے کرتا ہے یا وہ قلعے جن میں فرشتے پہرہ دیتے ہیں یا بڑے بڑے ستارے
Read the full tafseer →(85:1) والسماء ذات البروج : واؤ قسمیہ، السماء مقسم بہٖ ونیز موصوف۔ ذات البروج : مضاف مضاف الیہ مل کر صفت السماء کی۔ برجوں والا۔ برجوں سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) آسمان کے بارہ حصے۔ ان کا نام برج۔ ہر ایک پرستاروں کا پتہ، حدیں رکھی ہیں حساب کو۔ (موضح القرآن از شاہ عبد القادر 25:61) ۔ علم نجوم کو جاننے والوں نے ستاروں کے حساب سے آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے ہر ایک برج کی اپنی خصوصیات ہیں جن کے حساب سے ماہرین علم نجوم پیشین گوئیاں کرتے ہیں یہ برج یہ ہیں :۔ برج یا دیدم کہ از مشرق برآور دند سر جملہ در تسبیح و در تہلیل حق لایموت چوں حمل چوں ثور چوں جوزاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 1) ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گذرچکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں ، چاند، سورج، زہرہ، مریخ ، عطارد ، مشتری ، زحل ، تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی تبدیل موسم طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →[1] برج کے معنی قلعے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد آسمان کے وہ قلعے ہیں جن میں فرشتے برابر پہرہ دیتے ہیں تاکہ شیاطین ایک خاص حد سے آگے ملاء اعلیٰ میں داخل نہ ہونے پائیں۔ اگر وہ اس حد سے آگے بڑھنے کی جسارت کرتے ہیں تو جیسا کہ پچھلی سورتوں میں مذکور ہے ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة البروج اصحاب اخدود کا قصہ یہ ہے کہ ذونواس یہودی نے جب یہ دیکھا کہ بہت سے لوگوں نے دین مسیحی کو قبول کرلیا ہے تو اس کا خون کھولنے لگا ۔ اس نے ان مسیحیوں سے کہا کہ تم لوگ دو چیزوں میں سے ایک چیز کو پسند کرلو ۔ یا تو آگ یا یہودیت ۔ ان صاحب عزیمت لوگوں نے عیسائیت سے انحراف کو دیانت وتقوی کے خلاف سمجھا اور دہکتی ہوئی کھائیوں میں کود پڑے ۔ ان آیات میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ اور بتانا یہ مقصود ہے کہ حق کی اشاعت کے لئے پہلی قوموں نے کتنی تکلیفیں برداشت کیں اور کتنے استقلال سے کام لیا ہے ۔ اس لئے مسلمان بھی مکہ والوں کی مخالفت سے نہ گھبرائیں ۔ بلکہ ان عیسائیوں کی طرح بڑی سے بڑی مصیبت برداشت…
Read the full tafseer →(1) قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔
Read the full tafseer →قسم ہے برجوں والے آسمان کے رب کی 1 ؎ (ذات) والی ۔ صاحب مؤنث ہے ذو کا جس کے معنی صاحب ہی کے ہوں اور ذوات اس کی جمع ہے ( بروج) برجیں برج کی جمع ہے جس کے معنی بلند عمارات اور محل کے ہیں ۔ آسمان کے برجوں سے کیا مراد ہے ؟ کہا گیا ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں اور ان کا نام برج ہے اور ہر ایک پرستاروں کا پتہ چلتا ہے اور یہ حد میں رکھی گئی ہیں ، حساب کے لیے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے کے بارہ خانے اور برج مقرر کیے گئے ہیں اور ان برجوں میں سورج کا طلوع تبدیل ہوتا رہتا ہے اور یہ آسمان کے مشرق کی طرف ہیں ۔ ان بارہ برجوں کے الگ الگ نام بھی رکھے گئے ہیں ۔ کسی نے ان ناموں کو اس طرح جمع کیا ہے…
Read the full tafseer →Commentary وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ (I swear by the sky, the one having stellar formations....85:1) The word buruj is the plural of burj which means 'a large mansion or fortress'. The Qur'an says: وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ '...even though you are in fortified castles [ 4:78] ' Here the word buruj means 'castles'. The primitive sense of the word barj is to become manifest'. The word tabarruj means 'to display one's beauty' as in the verse: وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ '...and do not display your beauty as it was previously displayed in the Time of…
Read the full tafseer →1 Literally: "By the heaven having constellations." Some of the commentators have interpreted it to mean the twelve signs of the zodiac in the heavens according to ancient astronomy, However, according to Ibn 'Abbas, Mujahid, Qatadah, Hasan Basri, Dahhak and Suddi it unplies the glorious stars and platters of the sky.
Read the full tafseer →