Al-Inshiqaaq 84:25

Al-Inshiqaaq · from ayah 25

84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ۟۠اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بےانتہا اجر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except for those who believe and do righteous deeds. For them is a reward uninterrupted.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:25

البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بےانتہا اجر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو بے شمار اور نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو ایسا ثواب ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے وہ ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لئے غیر منقطع (دائمی) ثواب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے اجر ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہاں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے دائمی انعام ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بجز ان (خوش نصیبوں) کے جو ایمان لائے (صدق دل سے) اور انہوں نے کام بھی نیک کیے کہ ان کے لئے ایک ایسا عظیم الشان اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ان کے لئے تو ایسا اجر ہے جو کبھی موقوف ہونے والا نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بےانتہا اجر ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

except for those who believe and do good deeds. Theirs shall be an unending reward.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

but those who believed and did righteous deeds will have a reward that will never be interrupted.

— Muhammad Taqi Usmani

but those who believed and did righteous deeds will have a reward that will never be interrupted.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Save those who believe and

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Save those who believe and do good works, for theirs is a reward unfailing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except for those who believe and do righteous deeds. For them is a reward uninterrupted.

— Saheeh International

except the righteously striving believers, who will receive a never-ending reward.

— Muhammad Sarwar

Except those who believe and do good; for them is a reward that shall never be cut off.

— Muhammad Habib Shakir

But those who believe and work righteous works, theirs shall be a hire unending.

— Abdul Majid Daryabadi

Except to those who believe and work righteous deeds: For them is a Reward that will never fail.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 84:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–25

پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–25

سورة الْاِنْشِقَاق 13 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے سینوں میں کفر اور عناد اور عداوت حق اور برے ارادوں اور فاسد نیتوں کی جو گندگی انہوں نے بھر رکھی ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–25

واذا قری علیھم القرآن لایستجدون یعنی جب ان کے اسمنے اور واضح ہدایات سے بھرا ہوا قرآن پڑھا جاتا ہے اس وقت بھی وہ اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ سجدہ اور سجود کے معنی لغت میں جھکنے کے ہیں اور یہ اطاعت شعاری اور فرمانبرداری سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس جگہ سجدہ سے مراد سجدہ اصطلاحی نہی بلکہ اللہ کے سامنے اطاعت کیساتھ جھکنا جسکو خشوع و خضوع کہتے ہیں وہ مراد ہے اور وجہ اس کی یہ کھلی ہوئی ہے کہ اس آیت میں حکم سجدہ کسی خاص آیت کے متعلق نہیں بلکہ پورے قرآن کے متعلق ہے اگر اس سے سجدہ اصطلاحی مراد لیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ پورے قرآن کی ہر آیت پر سجدہ لازم ہو جو باجماع امت مراو نہیں ہو سکتا۔ سلف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 24–25

یعنی اگر یہ محبت دنیا میں پھنس کر، قرآن کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو ان کو اس دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو جس کے تمام اسباب انھوں نے فراہم کر لیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ نجات کی خوش خبری سننے پر آمادہ نہیں ہیں تو عذاب کی خوش خبری تو انھیں سنا ہی دو۔۔۔ اس عذاب سے صرف وہی محفوظ رہیں گے جو ایمان اور عمل صالح کی وہ راہ اختیار کر لیں گے جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک دائمی اجر ہو گا!

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–25

9: اس کا ایک مطلب تو یہ کہ وہ اپنے اعمال کا جو ذخیرہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں میں جو باتیں چھپا رکھی ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے خوب واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

عربی زبان میں اسے استثنائے منقطع کیا جاتا ہے۔ اس لئے کہ کفار کو جو ناگوار اور سیاہ خوشخبری دی گئی ہے یا سیاہ وارنٹ دیا گیا ہے اس میں اہل ایمان کو شامل ہی نہ تھے ، لیکن اس استثنائی انداز سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کو مستثنیٰ کیا گیا وہ بہت ہی خوش قسمت ہیں۔ اور اجر غیر ممنون کیا ہے ، وہ جو ختم نہ ہو ہمیشہ باقی رہنے والا دائمی اجر۔ اس فیصلہ کن ضرت پر یہ سورت ختم ہوتی ہے۔ یہ ایک مختصر سورت ہے ، چند سطری لیکن وسیع اور فکر انگیز موضوعات بحث پیش کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۔ } ”البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ‘ ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔“ مَنَّ یَمُنُّ مَنًّاکے لغوی معنی کسی چیز کو کاٹ دینے کے ہیں۔ ظاہر ہے جب کسی چیز کو کاٹ دیا جاتا ہے تو اس کی انتہا ہوجاتی ہے۔ چناچہ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْن سے مراد ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–25

19 مَنَّ کا لغوی مفہوم :۔ مَمْنُوْن۔ منّ کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے (1) احسان کرنا (2) احسان جتلانا (3) کاٹنا اور کٹنا۔ یعنی قطع و انقطاع۔ یہاں یہ لفظ تیسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور اس معنی میں لازم و متعدی دونوں طرح آتا ہے۔ من میں انقطاع یک دم نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز کے آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہوجانے اور اس طرح سلسلہ منقطع ہوجانے کے معنوں میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کو جو اجر ملے گا اس میں نہ کبھی کمی واقع ہوگی اور نہ ہی اس میں انقطاع واقع ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–25

11۔ اور یہی معنی ہیں جنت اور اہل جنت کے دوام وخلود کے۔ (آیت) ” بمایوعون “۔ یعنی اعمال کفریہ کا ذخیرہ حق سے دشمنی، رسول حق سے بعض وعناد، وغیرہا۔ (آیت) ” فبشرھم بعذاب الیم “۔ ان کافروں کی سعی ناحق بھی رائیگاں نہ جائے گی، ایک ایک چیز کا بدلہ مل کررہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا الذین امنوا وعملوا الصلحت لھم اجر غیر ممنون یہ استثناء متصل ہے یا منقطع ہے یعنی الاَّ کا معنی لکنّ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو بشارت نہ دو جو ان میں سے ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں کیونکہ ان کے لیے ثواب لازوال ہے یا غیر ناقص (پورا پورا) ثواب ہے یا بلا منت ثواب ہے۔ یہ استثناء کی علّت ہے۔ سورۃ الانشقاق ختم ہوئی ‘ بحمدہ و منہ تعالیٰ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–25

(23۔ 25) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و اقوال اور ان کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہے آپ ان کو دردناک عذاب کی خبر دے دیجیے جو کہ بدر میں اور آخرت میں ان پر واقع ہوگا۔ البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے جنت میں ایسا ثواب ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں، یا یہ کہ بڑھاپے اور موت کے بعد ان کی نیکیوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–25

(الا الذین امنوا و عملوا الصلحت…:”غیر ممنون“ ”من یمن“ (ن) (قطع کرنا) سے اسم مفعلو ہے، کہا جاتا ہے :”مننت الحبل“”میں نے رسی کاٹ دی۔“ یعنی ایسا اجر جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، جس کی کوئی نعمت نہ کم ہوگی اور نہ ختم ہوگی۔ یہ سورت مسلمانوں کو اہل مکہ کی ایذا رسانی پر صبر و استقامت کی تلقین کے لئے نازل ہوئی۔ اس مقصد کے لئے پہلی امتوں کے مسلمانوں کو پیش آنے والے شدید ترین امتحان اور اس پر ان کے صبر و ثبات اور انہیں ستانے والوں کے انجام بد کا تذکرہ فرمایا، تاکہ ان کے حالات سن کر انہیں تسلی ہو اور یقین ہوجائے کہ جس طرح اصحاب الاخدود مارے گئے اسی طرح وہ لوگ بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الا الذین آمنواوعملوالصالحات لھم اجرغیرممنون۔ یہ مستثنی منقطع ہے گویا فرمایا، لیکن جنتیوں نے لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے کر تصدیق کی اور نیک اعمال یعنی فرائض ادا کیے ان کے لیے ایسا اجر ہے جس سے نہ کوئی کمی ہوگی نہ وہ جلد ختم ہوگا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، منت الحبل جب تو اسے کاٹ دے، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے نافع بن ازرق نے حضرت ابن عباس سے لھم اجر غیرممنون۔ کے بارے میں پوچھا فرمایا وہ ختم ہونے والانہ ہوگا، پوچھا گیا عرب اس معنی کو پہنچانتے ہیں فرمیا، ہاں، اخویشکر اس معنی کی وضاحت کرتا ہے، جب وہ کہتا ہے، فتری خلفھن من سرعۃ الرجع، منینا کا نہ اھبائ۔ تیزی سے پلٹنے کی وجہ سے تو ان کے پیچھے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

67۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللہ اعلم بما یوعون۔ اور اللہ خوب جانتا ہے وہ جو دل میں محفوظ رکھتے ہیں یعنی جو وہ چھپاتے ہیں۔ 68۔ عبدالرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اعلم بما یوعون یعنی جیسے وہ چھپاتے ہیں آیت لہم اجر غیر ممنون ان کے لیے بےانتہا اجر ہے یعنی ان کے لیے بےحساب اجر ہے۔ 69۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لہم اجر غیر ممنون کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے ایسا اجر جو کم نہیں ہوگا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے زہیر کو یہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِلَّا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ][ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور عمل کیے نیکیوں کے ][ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ : ان کے لیے ایک ایسا اجر ہے جو غیر منقطع ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ (رح) 0025﴾ (لیکن جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ لوگ عذاب سے محفوظ رہیں گے اور ایمان اور اعمال کی وجہ سے انہیں بڑا اجر ملے گا جو کبھی بھی ختم نہ ہوگا) ۔ وھذا اخر سورة الانشقاق والحمد للہ العلی الخلاق

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–25

9:۔ ” فبشرھم “ یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔ کفر و انکار کی ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ ” الا الذین امنوا “ استثناء متصل ہے اور مطلب یہ ہے کہ کفار میں سے جو ایمان لے آئیں گے وہ عذاب سے بچ جائیں گے یا استثناء منقطع ہے۔ مطلب یہ ہے لیکن مومنوں کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا اور نہ کم ہوگا۔ سورة انشقاق ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–25

(گذشتہ سے پیوستہ) جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ۝ 25 ۧ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–25

ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُمَمْنُوْنٍ ۔ (الانشقاق : 24، 25) (تو ان کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے۔ البتہ جو ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ ) انھوں نے جس طرح اپنی فکر اور زندگی کے معیار کو بگاڑا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ انھیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں۔ کیونکہ ان کی زندگی جس نہج پر جارہی ہے اور انھوں نے اپنے اعمال کی صورت میں جو کچھ بویا ہے اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ انھیں عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ البتہ اس عذاب سے وہ لوگ بچیں گے جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–25

فہم القرآن ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔ خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

45 : اِلَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ (لیکن جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے ان کے لئے ایسا اجر ہے جو منقطع نہ ہونے والا ہے) الا الذین یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ غیر ممنونؔ نہ منقطع ہونے والا یا کم نہ کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 24–25

25-24 ۔…” فبشرھم بعداب الیم۔ الا الذین امنوا وعملوا الصالحات لھم اجر غیر ممنون “ نہ ختم ہوگا اور نہ کم ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–25

16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انہوں نے اس چیز کو قبول کرلیا جو رسول لے کر آئے پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے یہی وہ لوگ ہیں (لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ ) جن کے لیے انتہا۔ یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزرا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 21–25

سجدہ تلاوت واجب ہے قول باری ہے (واذا قری علیھم القران لا یسجدون اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے توک سجدہ نہیں کرتے) اس سے سجد ہ تلاوت کے وجوب پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت سن کر سجدہ نہ کرنے والے کی مذمت کی ہے ہم نے لفظ کے عموم کی بنا پر سجود کے مقامات میں اس پر عمل کیا ہے۔ اگر ہم مقامات سجود میں اس پر عمل نہ کرتے تو ہم سرے سے اس حکم کو نظر انداز کردینے کے مرتکب قرار پاتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جھکنا مراد لیا ہے کیونکہ سجود کا اسم خضوع یعنی جھکنے کے فعل پر واقع ہوتا ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ بات اسی طرح ہے تاہم خضوع کو ایک خاص وصف کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(17) ایمان والوں کے لیے دائمی اجر کا مژدہ جانفزا، والحمدللہ جل وعلا : سو اس میں ایمان والوں کے لیے اجر غیر ممنون کی بشارت ہے، کہ ایسے خوش نصیب اپنے ایمان و یقین کی برکت سے اور اس کے صلہ وثمرہ کے طور پر یہ جنت کی سدابہار نعمتوں سے ہمیشہ ہمیش کے لیے مستفید و فیضیاب ہوتے رہیں گے۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین، سبحان اللہ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت اور کتنا عظیم اور بےمثل ہے اس کا ثمرہ و پھل جو اہل ایمان کو آخرت کے اس جہان کرم غیب میں جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں نصیب ہوگا۔ فایاک نسال اللھم التوفیق لذالک والسداد فانک انت ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:25) الا الذین امنوا وعملوا الصلحت لہم اجر غیر ممنون۔ استثناء منقطع یا استثنا متصل ہے یعنی الا کا معنی لکن ہے۔ مطلب یہ کہ ان لوگوں کو بشارت نہ دو جو ان میں سے ایمان لے آئیں۔ اور نیک کام کریں۔ کیونکہ ان کے لئے اجر لازوال ہے یا غیر ناقص (پورا پورا) ثواب ہے۔ یا بلامنت ثواب ہے۔ یہ استثناء کی علت ہے۔ ممنون : من (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر ، کم کیا ہوا۔ ۔ قطع کیا ہوا۔ غیر ممنون صفت ہے اجر کی جو موصوف ہے کم نہ کیا ہوا۔ غیر منقطع۔ غیر حرف استثناء ہے اس کے بعد مستثنیٰ مجرور ہوتا ہے۔ ایسا اجر جس میں کبھی کمی نہ کی جائے گی اور نہ کبھی منقطع ہوگا۔ ترجمہ : لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–25

(ف 2) بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس آیت میں نبی ﷺ کا حال بیان فرمایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ آپ کو مشرکین پر فتح وظفر حاصل ہوگی اور انجام بہت بہتر ہوگا، آپ کفار کی سرکشی اور ان کی تکذیب سے غمگین نہ ہوں، اور ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ خطاب نبی کو ہے کہ آپ شب معراج ایک آسمان پر تشریف لے گئے پھر دوسرے پر ، اسی طرح درجہ بدرجہ مرتبہ بمرتبہ منازل قرب میں واصل ہوئے یا یہ خطاب انسان کو ہے اس تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ تم ہمیشہ زندہ نہیں رہو گے بلکہ موت کے بعد کی سختیاں تم کو جھیلنی ہیں۔ مسندامام احمد اور طبرانی میں انس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگرچہ انسان کے لیے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–25

زندگی یک قلم تحولات کا نام ہے اس سے قبل کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بعثت وحشر کے عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اس آیت کی وجہ استحالہ کی تردید ہے ۔ اور فرمایا کہ اس میں عقلاً کوئی اشکال نہیں ہے ۔ جس طرح نظام قدرت میں تم دوسری تبدیلیاں دیکھتے ہو اور تم کو کوئی تعجب نہیں ہوتا ۔ اسی طرح یہ بھی فطرت کی ایک تبدیلی اور محول ہے ۔ جیسا کہ سورج غروب ہوتا ہے اور اس وقت ایک سرخی سی افق پر چھاجاتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے اور رات کی تاریکی اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ جیسا کہ چودھویں شب کا چاند سارے آسمان کو روشن کردیتا ہے ۔ اسی طرح تمہاری زندگی کا آفتاب غروب ہوتا ہے تو موت کی شفق برزخ کے کناروں پر نظر آتی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے تو ان کے لئے ایسا اجر اور ایسا صلہ ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں یعنی نہ کبھی ختم ہونے والا اور نہ کم ہونے والا۔ تم تفسیر سورة الانشقاق

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–25

ف 5۔ وہ حالتیں ایک موت ہے اس کے بعد احوال برزخ، اس کے بعد احوال قیامت، پھر خود ان میں بھی تعدد تکثیر ہے، اور ان قسموں کا مناسب مقام ہونا اس طرح ہے کہ رات کے احوال کا مختلف ہونا کہ اول شفق نمودار ہوتی ہے، پھر زیادہ رات آتی ہے تو سب سو جاتے ہیں اور پھر ایک رات کا دوسری رات سے نور قمر کی زیادت و نقصان میں مختلف ہونا یہ سب اختلاف احوال بعد الموت کے مشابہ ہے، نیز موت سے عالم آخرت شروع ہوتا ہے جیسے شفق سے رات شروع ہوتی ہے، پھر لبث برزگ لوگوں کے سو رہنے کے مشابہ ہے اور چاند کا پورا ہونا بعد محاق کے حیوة قیامت کے بعد فناء عالم کے مشابہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مگر ہاں ! وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے اجر غیر منقطع ہے 25 ؎ جب برے اعمال کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایک کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔ نہیں ! جہاں برے اعمال کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب کی خبر ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے اس طرح کا اجر محفوظ کر رکھا ہے کہ وہ اس کو دیکھ کر محظوظ ہونے لگیں گے اور وہ اجر بھی ایسا ہے جو کبھی احسان نہیں کہا گیا بلکہ ایسا ہے کہ غیر منقطع بھی ہے اور کسی کے سر پر احسان بھی نہیں کیا گیا ہوگا کیونکہ کسی کے کیے کے بدلہ کو احسان نہیں کہا جاسکتا ۔ بلا شبہ اجر دینے والا ایسا سمجھے اور ایسے سمجھتا ہے لیکن جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–25

Therefore, the verse concludes: فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿20﴾ وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ So, what has happened to them that they do not believe, and when the Qur'an is recited to them, they do not offer sajdah [ prostration ] ۩? (84:20-21) It means that when the Qur'an, replete with clear guidelines, is recited to them, they do not bow in submission. The word sajdah /sujud literally denotes 'to bow' and it connotes 'obedience'. Obviously, the word here is not used in its technical sense. It is used in the sense of bowing in submission with respect, humbleness…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

13 Another meaning also can be: "Allah knows best what tilth of disbelief, malice, hostility to the Truth and evil intentions and designs they keep tilled in their breasts."

Read the full tafseer →