Ayahs 84:1–5یہ سورة الانشقاق کی پندرہ آیات کا ترجمہ ہے۔ ان آیات میں اولاً آسمان و زمین کا حال بیان فرمایا ہے پھر انسان کے اعمال والی محنت اور حاصل محنت یعنی آخرت کے دن کی کامیابی اور ناکامیابی کو بتایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم کو سن لے گا اور مان لے گا اور حکم ماننا اس کے لیے ضروری ہی ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے نافرمانی اور سرتابی کی مجال نہیں ہے اور جبکہ زمین کو پھیلا دیا جائے گا یعنی اس وقت جو اس کا انبساط اور پھیلاؤ ہے اس سے زیادہ پھیلا دی جائے گی اور اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کو نکال کر باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی، جو اموات اس میں دفن ہیں اور ان کے علاوہ جو دفینے ہیں اس سے باہر آجائیں گے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوگا جیسے آسمان کو حکم کے مطابق انکار کرنے کی کوئی مجال نہیں ہے اسی طرح زمین کو بھی نافرمانی کی کوئی گنجائش نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو اس کا حکم ہوگا اسے ماننا ہی لازم ہوگا، دونوں جگہ ﴿ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ002﴾ جو فرمایا ہے اس کا یہی مطلب ہے، حکم کے مطابق آسمان کو پھٹنا ہی پڑے گا زمین کو مزید بڑھایا جائے گا اور اسے بڑھنا ہی پڑے گا اور اسے خالی ہونے اور مردوں اور دفینوں کو باہر ڈالنے کا حکم ہوگا تو اسے حکم ماننا لازم ہی ہوگا دونوں جگہ جو لفظ ” اذا “ آیا ہے اس کی جزا محذوف ہے اور وہ یہ ہے کہ راٰی الانسان عملہ مطلب یہ ہے کہ جس دن آسمان پھٹ پڑے گا اور زمین پھیلا دی جائے گی اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں اسے باہر ڈال دے گی اس دن انسان اپنے اعمال کو دیکھ لے گا۔
سورة ابراہیم کی آیت ﴿ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ ﴾ سے معلوم ہو رہا ہے کہ آسمان زمین بدل دیئے جائیں گے بدلے بھی جائیں گے اور وہ صورت حال بھی ہوجائے جس کا یہاں سورة الانشقاق میں تذکرہ فرمایا ہے اس میں کوئی منافاۃ نہیں ہے۔
Ayahs 84:6–12﴿يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ ﴾ اس میں انسان کی زندگی کا حاصل اور خلاصہ بیان فرمایا دنیا میں رہتے بستے ہیں کچھ نہ کچھ محنت اور عمل کرتے ہی ہیں جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں فرشتے اسے لکھتے ہیں زندگی سب کی گزر رہی ہے اعمال بھی ہو رہے ہیں دنیا بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے قیامت قریب آتی جا رہی ہے مرنے والے مر رہے ہیں اپنے اعمال ساتھ لے جا رہے ہیں اسی طرح دنیا رواں دواں ہے حتیٰ کہ اچانک قیامت آجائے گی، پہلا صور پھونکا جائے گا، تو اس سے لوگ بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے۔
پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے میدان حشر میں جمع ہوں گے حساب ہوگا اعمال نامے دیئے جائیں گے ہر شخص اپنے عمل سے ملاقات کرلے گا، اچھے لوگوں کے اعمال نامے سیدھے ہاتھ میں اور برے آدمیوں کے اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ سوۃ الحاقہ میں اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کا ذکر ہے اور یہاں پشت کے پیچھے سے دینے کا تذکرہ فرمایا ہے دونوں آیات کے ملانے سے معلوم ہوا کہ برے لوگوں کو جو اعمال نامہ دیا جائے گا وہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا۔
﴿فَمُلٰقِيْهِ﴾ میں یہ بتادیا کہ انسان جو عمل کرتا ہے اس کے سارے اعمال اس کے سامنے آجائیں گے اور ان سے ملاقات کرے گا۔ اعمال ناموں میں اعمال لکھے ہوئے ہوں گے جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور وہ سمجھ لے گا کہ میرے لیے خیر ہی خیر ہے اور میری نجات ہوگئی اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ نجات پا کر اپنے اہل و عیال کے پاس خوشی خوشی چلا جائے گا، سورة الحاقۃ میں فرمایا ہے کہ جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ کہے گا : ﴿هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ0019﴾ (آؤ پڑھ لو میری کتاب) اور جس کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ تو سمجھ لے گا کہ میں ہلاک ہوگیا اعمال نامہ ملتے ہی یوں کہے گا : ﴿يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَهْۚ0025 وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ0026﴾ (ہائے كاش ! میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا جاتا اور میں اپنا حساب نہ جانتا) اور اسی حال میں وہ اپنی ہلاکت کو پکارے گا یعنی یوں کہے گا کہ مجھے موت آجاتی تو اچھا تھا تاکہ حساب کتاب اور اس کا نتیجہ سامنے نہ آتا لیکن پچھتانے سے اور افسوس کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا ایسے شخص کو دوزخ میں جانا ہی ہوگا اسی کو فرمایا ﴿ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ0010 فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ0011 وَّ يَصْلٰى سَعِيْرًاؕ0012﴾ (اور جس کو پشت کے پیچھے سے اعمالنامہ دیا گیا تو وہ ہلاکت کو پکارے گا اور دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا) ۔
Ayahs 84:13–14ایسے شخص کی بربادی کا سبب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ0013﴾ (بیشک جب وہ دنیا میں تھا تو اپنے کنبہ خاندان میں خوش تھا) یعنی ایمان سے اور ایمان والے اعمال سے غافل تھا قیامت کو نہیں مانتا تھا اور وہاں کی حاضری کا یقین نہیں رکھتا تھا دنیا کی مستی اور مسرت اور اکڑ مکڑ میں زندگی گزارتا رہا، مزید فرمایا ﴿ اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَۚۛ0014﴾ (بےشک اس کا خیال تھا کہ اسے واپس نہیں ہونا ہے) یعنی میدان حساب میں نہیں جانا اسی غلط گمان کی وجہ سے وہ ایمان نہ لایا بلی (ہاں اس کو ضرور اپنے رب کی طرف لوٹنا ہوگا اور حساب کے لیے پیش ہوگا) ۔
Ayah 84:15﴿ بَلٰۤى1ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ0015﴾ (بیشک اس کا رب اس کو دیکھنے والا ہے) وہ یہ سمجھے کہ میں آزاد ہوں جو چاہوں کروں بلکہ اس کو مرنا ہے پیشی ہونی ہے۔
فائدہ : حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ تو ہلاک ہی ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ﴿فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیْرًا﴾ (جس کے داہنے ہاتھ میں اعمالنامہ دیا گیا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا) ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسان حساب سے مراد یہ ہے کہ صرف اعمال نامہ پیش کردیا جائے اور پوچھ گچھ نہ کی جائے اور جس کے حساب میں چھان بین کی گئی وہ ضرور ہلاک ہوگا کیونکہ جواب نہیں دے پائے گا۔ (رواہ البخاری صفحہ 726: ج 2، صفحہ 968: ج 2 )
Ayahs 84:16–20اللہ جل شانہ نے ان آیات میں شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم کھائی جو آرام کرنے کے لیے رات کو اپنے اپنے ٹھکانے پر آجاتی ہیں اور چاند کی قسم کھائی جبکہ وہ پورا ہوجائے یعنی بدر بن کر آشکارا ہوجائے، قسم کھا کر فرمایا تم ضرور ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچو گے یعنی احوال کے اعتبار سے مختلف طبقات سے گزرو گے ایک حال گزشتہ حال سے شدت میں بڑھ کر ہوگا پہلا حال موت کا اور دوسرا حال برزخ کا اور تیسرا حال قیامت کا ہوگا پھر ان حالات میں بھی تکثر و تعدد ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ0020 ﴾ (پھر کیا بات ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے) جب دنیا کے احوال سے گزر رہے ہیں اور انہیں مرنا بھی ہے اور مرنے کے بعد کے احوال سے بھی گزرنا ہے تو کیا مانع ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے) ۔
Ayahs 84:21–24﴿ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَؕ 0021﴾ (اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو نہیں جھکتے) نہ ان کا قلب جھکتا ہے نہ ان کا سر جھکتا ہے۔ ﴿ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَٞۖ0022﴾ (بلکہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ جھٹلاتے ہیں) یعنی ایمان کی طرف رجوع کرنے کی بجائے تکذیب ہی پر جمے رہتے ہیں ﴿ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَٞۖ0023﴾ (اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ جمع کر رہے ہیں) اپنے دلوں میں کفر و حسد، بغض اور بغاوت کو چھپائے ہوئے ہیں یہ ﴿بِمَا يُوْعُوْنَ﴾ کی ایک تفسیر ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں جو برے اعمال جمع کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں خوب جانتا ہے وہ اپنے علم کے مطابق انہیں سزا دے دے گا یہ معنی بعد کی آیت سے زیادہ اقرب وانسب ہے کیونکہ بعد میں فرمایا ہے ﴿ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍۙ0024﴾ (سو آپ انہیں عذاب الیم کی بشارت دے دیں) بشارت تو خوشی کی چیزوں کی ہوتی ہے لیکن عذاب کی خبر دینے کو بطور بشارت سے تعبیر فرمایا ہے، کیونکہ وہ لوگ اپنے کفر کو اپنے لیے کامیابی کا سبب سمجھتے تھے۔
Ayah 84:25﴿ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ (رح) 0025﴾ (لیکن جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ لوگ عذاب سے محفوظ رہیں گے اور ایمان اور اعمال کی وجہ سے انہیں بڑا اجر ملے گا جو کبھی بھی ختم نہ ہوگا) ۔
وھذا اخر سورة الانشقاق والحمد للہ العلی الخلاق