فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟ۙفَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ
تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So give them tidings of a painful punishment,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟ۙفَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ
تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So give them tidings of a painful punishment,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq
لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو
تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
انہیں المناک عذابوں کی خوشخبری سنا دو
اب تم انہیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔
تو تم انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو
سو آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیں،
پس انھیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری دے دے۔
لہٰذا انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے
تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔
سو خوشخبری سنا دو ان کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی
سو آپ انہیں ایک عذاب دردناک کی خبر دے دیجئے
تو (اے نبی ﷺ !) ان کو بشارت دے دیجیے دردناک عذاب کی۔
تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
So give them the good news of a painful chastisement,
So, give him the _good news‘ of a painful punishment,
So, give him the _good news‘ of a painful punishment,
So, announce to them a painful torment.
So give them tidings of a painful doom,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So give them tidings of a painful punishment,
(Muhammad), tell them that they will all suffer a painful torment
So announce to them a painful punishment~
Wherefore announce thou Unto them a torment afflictive.
So announce to them a Penalty Grievous,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–25
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة الْاِنْشِقَاق 13 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے سینوں میں کفر اور عناد اور عداوت حق اور برے ارادوں اور فاسد نیتوں کی جو گندگی انہوں نے بھر رکھی ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
واذا قری علیھم القرآن لایستجدون یعنی جب ان کے اسمنے اور واضح ہدایات سے بھرا ہوا قرآن پڑھا جاتا ہے اس وقت بھی وہ اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ سجدہ اور سجود کے معنی لغت میں جھکنے کے ہیں اور یہ اطاعت شعاری اور فرمانبرداری سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس جگہ سجدہ سے مراد سجدہ اصطلاحی نہی بلکہ اللہ کے سامنے اطاعت کیساتھ جھکنا جسکو خشوع و خضوع کہتے ہیں وہ مراد ہے اور وجہ اس کی یہ کھلی ہوئی ہے کہ اس آیت میں حکم سجدہ کسی خاص آیت کے متعلق نہیں بلکہ پورے قرآن کے متعلق ہے اگر اس سے سجدہ اصطلاحی مراد لیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ پورے قرآن کی ہر آیت پر سجدہ لازم ہو جو باجماع امت مراو نہیں ہو سکتا۔ سلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
یعنی اگر یہ محبت دنیا میں پھنس کر، قرآن کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو ان کو اس دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو جس کے تمام اسباب انھوں نے فراہم کر لیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ نجات کی خوش خبری سننے پر آمادہ نہیں ہیں تو عذاب کی خوش خبری تو انھیں سنا ہی دو۔۔۔ اس عذاب سے صرف وہی محفوظ رہیں گے جو ایمان اور عمل صالح کی وہ راہ اختیار کر لیں گے جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک دائمی اجر ہو گا!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
22۔ 1 یعنی ایمان لانے کی بجائے جھٹلا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
9: اس کا ایک مطلب تو یہ کہ وہ اپنے اعمال کا جو ذخیرہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں میں جو باتیں چھپا رکھی ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے خوب واقف ہے۔
Read the full tafseer →فبشرھم ............ الیم (24:84) ” لہٰذا ان کو درد ناک عذاب کی بشارت دے دو “۔ کیا ہی بری خوشخبری ہے جس میں کوئی مسرت نہیں ، جس کو پانے والا پسند ہی نہیں کرتا۔ نہ ایسی خوشخبری کا کوئی انتظار کرتا ہے۔ اور اہل ایمان جو تکذیب نہیں کرتے۔ ان کے لئے کیا کیا تیاریاں ہیں ؟ جو عمل صالح کے ذریعہ قیامت کی تیاریاں کرتے ہیں تو اسے تکذیب کرنے والوں کے انجام سے مستثنیٰ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →18 یعنی خوشخبری سنا دیجئے کہ جو کچھ وہ کما رہے ہیں اس کا پھل ضرور ملے گا۔ ان کی یہ کوشش ہرگز خالی نہیں جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت 23{ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ۔ } ”اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اپنے اندر کیا بھرے ہوئے ہیں۔“ عام طور پر اس آیت کے بارے میں یہی سمجھا گیا ہے کہ اس میں انسان کے مال و دولت جمع کرنے کی طرف اشارہ ہے ‘ لیکن دراصل اس سے دلوں اور سینوں کی گندگی مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان لوگوں کے سینے کفر ‘ عداوت ‘ بغض ‘ حسد ‘ تکبر وغیرہ کی غلاظتوں سے بھرے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے یہ اللہ کی آیات کو پہچان لینے کے بعد بھی ان کی تکذیب کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
19 مَنَّ کا لغوی مفہوم :۔ مَمْنُوْن۔ منّ کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے (1) احسان کرنا (2) احسان جتلانا (3) کاٹنا اور کٹنا۔ یعنی قطع و انقطاع۔ یہاں یہ لفظ تیسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور اس معنی میں لازم و متعدی دونوں طرح آتا ہے۔ من میں انقطاع یک دم نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز کے آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہوجانے اور اس طرح سلسلہ منقطع ہوجانے کے معنوں میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کو جو اجر ملے گا اس میں نہ کبھی کمی واقع ہوگی اور نہ ہی اس میں انقطاع واقع ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
11۔ اور یہی معنی ہیں جنت اور اہل جنت کے دوام وخلود کے۔ (آیت) ” بمایوعون “۔ یعنی اعمال کفریہ کا ذخیرہ حق سے دشمنی، رسول حق سے بعض وعناد، وغیرہا۔ (آیت) ” فبشرھم بعذاب الیم “۔ ان کافروں کی سعی ناحق بھی رائیگاں نہ جائے گی، ایک ایک چیز کا بدلہ مل کررہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →فبشرھم بعذا الیم . فاء سببی ہے تکذیب ‘ سبب بشارت ہے۔ عذاب سے ڈرانے کی جگہ ‘ عذاب کی خوشخبری دینے کا حکم استہزاءً ا آیا (یعنی ان کے حق میں یہی بشارت ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(23۔ 25) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و اقوال اور ان کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہے آپ ان کو دردناک عذاب کی خبر دے دیجیے جو کہ بدر میں اور آخرت میں ان پر واقع ہوگا۔ البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے جنت میں ایسا ثواب ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں، یا یہ کہ بڑھاپے اور موت کے بعد ان کی نیکیوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(الا الذین امنوا و عملوا الصلحت…:”غیر ممنون“ ”من یمن“ (ن) (قطع کرنا) سے اسم مفعلو ہے، کہا جاتا ہے :”مننت الحبل“”میں نے رسی کاٹ دی۔“ یعنی ایسا اجر جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، جس کی کوئی نعمت نہ کم ہوگی اور نہ ختم ہوگی۔ یہ سورت مسلمانوں کو اہل مکہ کی ایذا رسانی پر صبر و استقامت کی تلقین کے لئے نازل ہوئی۔ اس مقصد کے لئے پہلی امتوں کے مسلمانوں کو پیش آنے والے شدید ترین امتحان اور اس پر ان کے صبر و ثبات اور انہیں ستانے والوں کے انجام بد کا تذکرہ فرمایا، تاکہ ان کے حالات سن کر انہیں تسلی ہو اور یقین ہوجائے کہ جس طرح اصحاب الاخدود مارے گئے اسی طرح وہ لوگ بھی…
Read the full tafseer →فبشرھم بعذاب الیم۔ انہوں نے جو تکذیب کی اس پر ان کے لیے ایسا عذاب ہے جو دردناک ہے یعنی اسے بشارت کی جگہ رکھ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
49۔ عبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی تم کو ایک امر کے بعد دوسرے امرت کی طرت بتدریج چڑھنا ہے۔ 51۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لترکبن طبقا عن طبق ایک حال کے بعد دوسرا حال کی طرف چڑھنا ہے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کے بارے میں ہے۔ 52۔ ابی عبید فی القراءات و سعید بن منصور وابن منیع وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی باء کے فتح کے ساتھ اور فرمایا تمہارے نبی نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔ 53۔ ابو عبید فی القراء ات و سعید بن منصور وابن منیع وعبد بن حمید وابن جریر…
Read the full tafseer →[فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ : تو آپ ﷺ بشارت دیں ان کو ایک درد ناک عذاب کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
﴿ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَؕ 0021﴾ (اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو نہیں جھکتے) نہ ان کا قلب جھکتا ہے نہ ان کا سر جھکتا ہے۔ ﴿ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَٞۖ0022﴾ (بلکہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ جھٹلاتے ہیں) یعنی ایمان کی طرف رجوع کرنے کی بجائے تکذیب ہی پر جمے رہتے ہیں ﴿ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَٞۖ0023﴾ (اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ جمع کر رہے ہیں) اپنے دلوں میں کفر و حسد، بغض اور بغاوت کو چھپائے ہوئے ہیں یہ ﴿بِمَا يُوْعُوْنَ﴾ کی ایک تفسیر ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
9:۔ ” فبشرھم “ یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔ کفر و انکار کی ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ ” الا الذین امنوا “ استثناء متصل ہے اور مطلب یہ ہے کہ کفار میں سے جو ایمان لے آئیں گے وہ عذاب سے بچ جائیں گے یا استثناء منقطع ہے۔ مطلب یہ ہے لیکن مومنوں کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا اور نہ کم ہوگا۔ سورة انشقاق ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(گذشتہ سے پیوستہ) جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…
Read the full tafseer →فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 24 ۙ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُمَمْنُوْنٍ ۔ (الانشقاق : 24، 25) (تو ان کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے۔ البتہ جو ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ ) انھوں نے جس طرح اپنی فکر اور زندگی کے معیار کو بگاڑا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ انھیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں۔ کیونکہ ان کی زندگی جس نہج پر جارہی ہے اور انھوں نے اپنے اعمال کی صورت میں جو کچھ بویا ہے اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ انھیں عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ البتہ اس عذاب سے وہ لوگ بچیں گے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فہم القرآن ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔ خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…
Read the full tafseer →24 : فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (پس آپ ان کو ایک دردناک عذاب کی خبر دیجئے) یعنی ان کو ایسی خبر سنا دو جس کا اثر ان کے ظاہری چہرہ پر نمایاں ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
25-24 ۔…” فبشرھم بعداب الیم۔ الا الذین امنوا وعملوا الصالحات لھم اجر غیر ممنون “ نہ ختم ہوگا اور نہ کم ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَ ) یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں اللہ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے پس عنقریب وہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا بنابریں فرمایا ( فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) پس انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو ۔ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے یہ ہے کہ اکثر لوگوں کا حال قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
سجدہ تلاوت واجب ہے قول باری ہے (واذا قری علیھم القران لا یسجدون اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے توک سجدہ نہیں کرتے) اس سے سجد ہ تلاوت کے وجوب پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت سن کر سجدہ نہ کرنے والے کی مذمت کی ہے ہم نے لفظ کے عموم کی بنا پر سجود کے مقامات میں اس پر عمل کیا ہے۔ اگر ہم مقامات سجود میں اس پر عمل نہ کرتے تو ہم سرے سے اس حکم کو نظر انداز کردینے کے مرتکب قرار پاتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جھکنا مراد لیا ہے کیونکہ سجود کا اسم خضوع یعنی جھکنے کے فعل پر واقع ہوتا ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ بات اسی طرح ہے تاہم خضوع کو ایک خاص وصف کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
(16) منکرین کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب، والعیاذ باللہ : سو اس سے منکرین کے لیے ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنانے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ ان کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو، یعنی ایسے بڑے اور دردناک عذاب کی جس کی شدت اور سختی کا اندازہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جب انہوں نے حق کی تکذیب کر کے اور اس سے منہ موڑ کر اور کفر و بغاوت کی راہ کو اپنا کر اپنے آپ کو اس عذاب الیم کا مستحق بنادیا ہے تو انہوں نے اپنے آپ کو ایسے ہی عذاب کا مورد و مستحق بنادیا ہے اس لیے ان کو اس کی خوشخبردی سنا دو ۔ اور جب یہ نجات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 11 جو کبھی ختم یا کم نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →(84:24) فبشرھم بذاب الیمسببیہ ہے تکذیب سبب بشارت سے۔ عذاب سے ڈرانے کی بجائے عذاب کی خوشخبری دینے کا حکم استہزاء دیا ہے (بمعنی ان کے حق میں یہی بشارت ہے) ۔ بشر فعل امر واحد مذکر حاضر تبشیر (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع تکذیب کرنے والے ہیں۔ تو ان کو بشارت (خوشخبری) دیدے۔ عذاب الیم موصوف صفت دردناک عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
(ف 2) بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس آیت میں نبی ﷺ کا حال بیان فرمایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ آپ کو مشرکین پر فتح وظفر حاصل ہوگی اور انجام بہت بہتر ہوگا، آپ کفار کی سرکشی اور ان کی تکذیب سے غمگین نہ ہوں، اور ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ خطاب نبی کو ہے کہ آپ شب معراج ایک آسمان پر تشریف لے گئے پھر دوسرے پر ، اسی طرح درجہ بدرجہ مرتبہ بمرتبہ منازل قرب میں واصل ہوئے یا یہ خطاب انسان کو ہے اس تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ تم ہمیشہ زندہ نہیں رہو گے بلکہ موت کے بعد کی سختیاں تم کو جھیلنی ہیں۔ مسندامام احمد اور طبرانی میں انس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگرچہ انسان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
[9] یعنی اعمالِ بد کا ذخیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
زندگی یک قلم تحولات کا نام ہے اس سے قبل کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بعثت وحشر کے عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اس آیت کی وجہ استحالہ کی تردید ہے ۔ اور فرمایا کہ اس میں عقلاً کوئی اشکال نہیں ہے ۔ جس طرح نظام قدرت میں تم دوسری تبدیلیاں دیکھتے ہو اور تم کو کوئی تعجب نہیں ہوتا ۔ اسی طرح یہ بھی فطرت کی ایک تبدیلی اور محول ہے ۔ جیسا کہ سورج غروب ہوتا ہے اور اس وقت ایک سرخی سی افق پر چھاجاتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے اور رات کی تاریکی اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ جیسا کہ چودھویں شب کا چاند سارے آسمان کو روشن کردیتا ہے ۔ اسی طرح تمہاری زندگی کا آفتاب غروب ہوتا ہے تو موت کی شفق برزخ کے کناروں پر نظر آتی…
Read the full tafseer →(24) سو اے پیغمبر آپ ان کو ایک دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے اور خوشخبری سنا دیجئے - یعنی ان کے اعمال کفریہ اور ان کی منکرانہ روش کی بنا پر ان کو دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئے لفظ بشر تحکم کے طور پر استعمال کیا گیا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ف 5۔ وہ حالتیں ایک موت ہے اس کے بعد احوال برزخ، اس کے بعد احوال قیامت، پھر خود ان میں بھی تعدد تکثیر ہے، اور ان قسموں کا مناسب مقام ہونا اس طرح ہے کہ رات کے احوال کا مختلف ہونا کہ اول شفق نمودار ہوتی ہے، پھر زیادہ رات آتی ہے تو سب سو جاتے ہیں اور پھر ایک رات کا دوسری رات سے نور قمر کی زیادت و نقصان میں مختلف ہونا یہ سب اختلاف احوال بعد الموت کے مشابہ ہے، نیز موت سے عالم آخرت شروع ہوتا ہے جیسے شفق سے رات شروع ہوتی ہے، پھر لبث برزگ لوگوں کے سو رہنے کے مشابہ ہے اور چاند کا پورا ہونا بعد محاق کے حیوة قیامت کے بعد فناء عالم کے مشابہ ہے۔
Read the full tafseer →پس آپ ان کو درد ناک عذاب کی خبر پہنچا دیں 24 ؎ ( بشرھم) بشر کا مادہ ب ش ر ہے اور یہ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے ۔ تو خوش خبری دے ۔ تو خبردے ۔ تبشیر سے نفس انسانی کا خاصہ ہے کہ جب اس کو خوش خبری سنائی جاتی ہے تو وفور محبت اور حسرت سے اس کا جسم پر خون دورہ کرنے لگتا ہے اس لیے ایسی خوشخبری جس کو سنانے سے انسان کے چہرے پر مسرت اور فرحت کے آثار ظاہر ہونے لگیں بشر کہتے ہیں لیکن کبھی کبھی غصہ کے اظہار کے لیے بطور اطلاع اس کا استعمال افسوسناک ، اندوہ گین اور بری خبر سنانے کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور دراصل یہ اس لیے بھی بولا جاتا ہے کہ اس سے مراد افسوس کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔ گویا مطلب یہ ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
Therefore, the verse concludes: فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿20﴾ وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ So, what has happened to them that they do not believe, and when the Qur'an is recited to them, they do not offer sajdah [ prostration ] ۩? (84:20-21) It means that when the Qur'an, replete with clear guidelines, is recited to them, they do not bow in submission. The word sajdah /sujud literally denotes 'to bow' and it connotes 'obedience'. Obviously, the word here is not used in its technical sense. It is used in the sense of bowing in submission with respect, humbleness…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
13 Another meaning also can be: "Allah knows best what tilth of disbelief, malice, hostility to the Truth and evil intentions and designs they keep tilled in their breasts."
Read the full tafseer →