84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 84:1–5

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جبکہ آسمان پھٹ جائے

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے رب کا حکم سن لے اور اس کا فرض ہے کہ سنے

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جبکہ زمین پھیلا دی جاوے

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور جو کچھ اس میں ہے اگل دے اور خالی ہوجاوے

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے رب کا حکم سن لے اور اس کا فرض ہے کہ سنے۔

ترکیب ¦ اذا قیل شرطیہ فیقدر بعد ھا فعل والتقدیر اذا انشقت السماء انشقت فالسماء فاعل بفعل محذوف وقیل لیست بشرطیۃ بلھی منصوبۃ باذکرالمحذوف وھی مبتداء وخبرھا اذا لثانیۃ والو او مزیدۃ والتقدیر وقت انشقاق السماء وقت مد الارض واذنت معطوف علی انشقت ومعنی اذنت اطاعت فی الانشقاق ولم تاب ولم تمنع بمشتق من الاذن وھو الاستماع للشیء والاصغا رالیہ واستعمال الاذن فی الاستماع کثیر فی کلام العرب وحقت الجملۃ حال من فاعل اذنت قال الضحاک ومعنی حقت حق لھا ان تطیع ربھا ای لاتمنع ما ارادہ اللہ بھا واذ الارض مثل اذا السماء الخ ومعنی مدت بسطت وصارت قاعا وقیل زید فی سع تھا من المدد وھو الزیادۃ والقت ما فیھا من الکنوز والد فائن والاموات وطرحت الی ظہورھا فعلی تقدیر کون اذا شرطیہ جو ابہا اما محذوف تقدیرہ بعثتم وقیل مذکور فقیل ھو قولہ یا ایہا الانسان الخ وقیل قولہ فاما من الخ قالہ المبرد والکسائی وقیل فملاقیہ قالہ اخفش۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی بلاخلاف مکی ہے۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا یہی قول ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہما نے ابی رافع سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے عشاء کی نماز میں یہ سورة پڑھی اور بعد میں سجدہ ٔ تلاوت کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے اور میں سدا ایسا کروں گا اور بھی روایات صحیحہ میں اس سورة کے اختتام پر سورة کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت کرنا واجب بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید میں ایسے بہت سے مواقع ہیں جن کے پڑھنے اور سننے والے کو سجدہ کرنا چاہیے۔ کس لیے کہ وہاں اس کا حکم یا ذکر ہے۔ اس قسم کے سجدہ کو سجدہ تلاوت کہتے ہیں اور چودہ سورتیں ہیں جن میں سجدہ تلاوت ہے۔ آخر اعراف ‘ رعد ‘ نحل ‘ بنی اسرائیل ‘ مریم ‘ اول سجدہ حج میں ‘ فرقان ‘ نمل ‘ الم تنزیل ‘ ص ‘ حم سجدہ ‘ النجم ‘ اذا السماء انشقت ‘ اقراء ہدایہ۔ مضامین سجدہ کے لحاظ سے علماء کا سجدہ تلاوت میں اختلاف ہوا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا تو یہی قول ہے جس کو اوپر بیان کیا۔ امام شافعی اور امام احمد سورة حج میں اخیر سجدہ بھی مانتے ہیں اور سورة ص میں نہیں مانتے۔ ربط ¦ اس کا پہلی سورة سے ظاہر ہے دونوں میں قیامت کے واقعات اور مرنے کے بعد کے حالات مذکور ہیں۔ ذرا تامل سے معلوم ہوسکتا ہے۔ سب سے اول یہ بتلایا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ جس میں اس جہان کا درہم برہم ہونا علم الٰہی میں ٹھہر چکا ہے تاکہ پھر ایک دوسرا جہاں قائم کیا جائے اور جو کچھ دنیا میں نیک و بد کیا تھا اس کی جزا اور سزا دی جاوے گی اور اس نئے جہان کی ابتداء کب سے ہے۔ آپ ہی فرماتا ہے اذا السماء انشقت جبکہ آسمان پھٹ جائے اور یہ بات کچھ محال نہیں کس لیے کہ واذنت لربہا وہ اپنے رب کے حکم پر کان رکھے گا یعنی جو کچھ امرتکوینی اس کی نسبت صادر ہوگا اس کو وہ فوراً قبول کرے گا۔ فوراً آسمان پر وہی حالت طاری ہوجاوے گی جو خدائے قادر ذوالجلال چاہے گا۔ وحقت اور آسمان کو لائق بھی یہی ہے کہ وہ تعمیل حکم کرے۔ کس لیے کہ وہ ممکن ہے ہر وقت اپنے وجود اور بقاء میں اسی کا محتاج ہے اور جب ممکن اور محتاج ہے تو اس کا وجود اور عدم دونوں اس کے آگے یکساں ہیں جب چاہے نیست و نابود کر دے۔ ان آیات میں بہت سے اوہام باطلہ کا جن کو لوگوں نے مذہب بنا رکھا ہے ابطال کردیا گیا۔ بہت سے لوگ آسمان ہی کو انسانی سعادت و نحوست کا مالک و مختار جانتے تھے۔ اسی لیے شعراء ناکامی کے وقت آسمان کو برا بھلا کہا کرتے ہیں اور بہت سی اقوام اجرام سماویہ کو معبود جانتے تھے۔ کوئی زہرہ کو ‘ کوئی آفتاب کو ‘ کوئی کسی اور ستارے کو اسی خیال سے پوجتا تھا۔ ان سے مدد مانگتا تھا۔ فرقہ صابیہ اور اس کی شاخیں مجوس و ہنود اب تک ایسا کرتے ہیں اور عرب میں بھی یہی خیال تھا ان سب کے خیال کو باطل کردیا کہ ایک روز آسمان پھٹ جاوے گا اور اس کے بعد ستارے بےنور ہو کر جھڑ پڑیں گے۔ یہ سب ہماری مخلوق اور حکم کے تابعدار ہیں یعنی یہ مخلوق ہیں ٗ حادث ہیں ٗ فانی ہیں ٗ حکم بردار ہیں۔ یہ اس عالم کی چیزیں ہیں۔ ایک وقت معہود تک باقی ہیں ٗ پھر ہم ایک اس عالم سے وسیع عالم پیدا کریں گے تو ان کو نیست و نابود کردیں گے۔ یہاں تک تو عالم علوی کی کیفیت بیان ہوئی اس کے بعد عالم سفلی کی حالت بیان فرماتا ہے۔ واذا لارض مدت اور جبکہ زمین پھیلائی جاوے یا بڑھائی جاوے زمین بالفعل گول کروی الشکل ہے جب حق سبحانہ اس کو بھی نیست کرنا چاہے گا تو یہ چپٹی ہوجائے گی اس کی صورت جو محافظ تھی اس سے چھین لی جاوے گی اور عادتاً بھی یوں ہی ہے کہ کروی چیز ٹوٹتے وقت پھیل جاتی ہے۔ یہ نفخ صور اولیٰ کے وقت کا حادثہ ہے۔ جیسا کہ آسمان کا پھٹنا بھی اسی وقت کا حادثہ ہوگا اور بعد میں تو نیا آسمان اور نئی زمین پیدا ہوگی کما قال یوم تبدل الارض غیر الارض والسماوات۔ اور جب زمین کی یہ حالت ہوجاوے گی تو والقت مافیہا وتخلت تو جو کچھ اس کے اندر ہے اس کو باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجاوے گی اور یہ ظاہر ہے۔ کس لیے کہ جب یہ درہم برہم ہوگی اور اس کی صورت و شکل بگڑ جاوے گی جس طرح کہ مرتے وقت ہر جاندار کی اور ڈھیتے وقت مکانات کی بگڑتی ہے اور اس وقت اس کے اندر جو کچھ مخفی ہے جس سے مراد خزائن و دفائنِ زر و جواہر اور مردے ہیں جو اس میں دفن ہوئے تھے یا جو کچھ اس کے رب نے اس میں ودیعت رکھا ہے وہ سب اوپر آپڑے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آج جن چیزوں کو عزیز از جان سمجھ کر زمین کی تہ میں چھپاتے اور زمین کو اپنا خزانچی جانتے ہو ایک روز یہ سب کچھ باہر آجاوے گا اور یہ بات کچھ محال نہیں۔ کس لیے کہ واذنت لربہا کہ زمین بھی اپنے رب کے حکم کی طرف کان لگائے گی یعنی مانے گی اور کوئی وجہ سرتابی کی اس کو حاصل نہ ہوگی وحقت اور ماننا بھی چاہیے۔ اس کو لائق بھی یہی ہے کہ حکم الٰہی مانے کیونکہ یہ بھی ممکن ہے اس کا وجود اور عدم دونوں اسی کے ہاتھ میں ہیں جس کو چاہے بلند کرے جس کو چاہے پست۔ ان حوادث کی نسبت اذا اذا کرکے یہ تو بیان فرمایا کہ جب ایسا ہوگا اور جب ایسا ہوگا مگر یہ نہیں فرمایا کہ جب یہ ہوگا تو کیا ہوگا یعنی اذا شرطیہ کی جزا یا شرط کا جواب بیان نہیں فرمایا اس کو اہل زبان کے مذاق پر چھوڑ دیا کہ وہ خود سمجھ لیں گے کہ اس وقت ضرور انسان کا یہ خیال غلط ثابت ہوجاوے گا کہ اس کو مر کر کسی دار جزاء و سزا کی طرف جانا نہیں ہے اور اسی لیے بعد میں اسی مقصود کی تصریح بھی کردی جس کو بعض نے جواب شرط سمجھ لیا۔ فقال
Ayahs 84:6–15

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے آدمی ! تو تو کھٹا کھٹ اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

پھر تو اس سے جا ملے گا پھر جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

تو اس سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جاوے گا

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے اہل و عیال میں خوش واپس آئے گا

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کو نامہ اعمال پیٹھ پیچھے سے دیا گیا

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

تو وہ موت کو پڑا پکارے گا

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور دوزخ میں بسے گا

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

کیونکہ وہ تو اپنے گھر میں خوشیاں منایا کرتا تھا

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اس نے سمجھ لیا تھا کہ پھر کر تو جانا ہی نہیں۔

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

کیوں نہیں اس کا رب تو اسے دیکھتا ہی رہتا ہے۔

ترکیب ¦ انک الخ الجملۃ نداء الکدح السعی فی الشیء بحھدہ کدح ورزیدن وکار کردن و کوشش نمودن۔ دردی خراشیدن یقال بہ کدح وکدوح ای خدوش وفی الحدیث فی وجھہ کدوح وھو یکدح بعیالہ ای یکسب لھم از صراح فامامن فیہ معنی الشرط فسوف جو ابہ وینقلب معطوف علی یحاسب مسرورا حال وراء ظہرہ ظرف لاوتی لن یحور قال الراغب الاصفہانی الحور الترد فی الامرو محاورۃ الکلام مراجعۃ والمحارالمرجع۔ الحور الرجوع یقال حاریحورا اذا رجع ومنہ قولہ (علیہ السلام) اللھم انی اعوذبک من الحور بعد الکور یعنی من الرجوع الی انقصان بعد الزیادۃ بلٰی ایجاب للمنفی بلن اے بلی یحور۔ ان ربہ جواب قسم مقدر فالجملۃ تعلیل لما افادتہ بلی۔ تفسیر ¦ فقال یا ایھا الانسان انک کا دح الیٰ ربک کدحا فملاقیہ۔ کدح کے معنی لغت میں حرکت کرنا اور کوشش کرنا ہے۔ اس لحاظ سے مفسرین نے اس کے کئی معنی بیان فرمائے اور ہر ایک معنی کے لحاظ سے انسان سے بھی کبھی کافر مراد لیا ہے۔ فرد ناقص سمجھ کر اور کبھی نبی کریم ﷺ فرد کامل جان کر اور کبھی مطلقاً ۔ پس بعض نے یوں معنی بیان کئے ہیں کہ اے انسان ! یعنی نبی کریم تو ابلاغ رسالت میں اور ارشاد وتعلیم میں جو کوشش بلیغ اور سرگرمی کر رہا ہے ضرور تو اس کا بدلہ نیک پاوے گا تیری کوشش رائیگاں نہ جاوے گی۔ بعض نے کہا یہ معنی ہیں کہ اے کافر ! ابو جہل و ابی بن خلف تو جو طلب دنیا اور ابطال رسالت اور اصرار کفر پر کوشش کر رہا ہے اس کا بدلہ پاوے گا یہ تیرا کام تجھے ملے گا ایک دن ہیبت ناک شکل میں تیرے سامنے آئے گا۔ تیسرے یہ معنی کہ اے انسان ! (سب کی طرف خطاب ہے مومن ہو یا کافر نیک ہو یا بد) تو جو دنیا میں سرگرمی کر رہا ہے نیک حسنات میں بد فسق و فجور و طلب دنیا اور اس کے لذات و شہوات میں تجھے یہ تیری کوشش اور عمل کا نیک و بد پھل ضرور ملنا ہے۔ یوں ہی عبث نہیں چھوڑا جائے گا۔ اس میں کمال درجہ کی تنبیہ ہے کہ جو کچھ کرو آنکھ بند کرکے نہ کرو ٗ تقلیدِ آبائی و پابندی رسم و رواج میں اندھے بن کر نہ گرو ٗ سوچ بچار لو کہ کیا کر رہے ہو۔ یہ جو تم کر رہے ہو ایک روز تمہارے سامنے آئے گا۔ چوتھے معنی یہ ہیں اور وہ زیادہ تر چسپاں ہیں کہ اے انسان ! سب کی طرف خطاب ہے۔ تو یہ نہ سمجھ کہ میں سدا دنیا ہی میں رہوں گا۔ مجھے اپنے خدا پاس نہیں جانا ہے مر کر خاک ہوجائوں گا یا اس میدان ناسوت میں تناسخ کے ذریعہ سے قوالب بدلتا رہوں گا ‘ اس جہان میں ٹھوکریں کھاتا رہوں گا۔ یہ ہرگز نہیں بلکہ تو کھٹا کھٹ ہماری طرف چلا آرہا ہے۔ یہ رات اور دن تیری سواری کے دو پہیے ہیں یا تیرے سفر کرنے کے لیے دو پائوں ہیں۔ تو بےاختیار اس میدان وجود کو طے کر رہا ہے۔ ایک دن حمل میں تھا پھر باہر آیا لڑکا بنا رہا ٗ جوان ہوا بڈھا ہوا مرگیا۔ یہ حمل اور لڑکپن اور جوانی اور بڑھاپا تیرے اس تیز سفر کے منازل ہیں۔ آخر ایک روز ہمارے پاس آئے گا ‘ مرنے کے بعد ہمارے سامنے کھڑا کیا جائے گا ‘ پھر تیرے نیک و بد اعمال تول تول کر تیرے پلے میں ڈالے جائیں گے۔ فامن اوتی کتابہ بیبمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیر او ینقلب الیٰ اھلہ مسرورا پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا اور یہ نیک لوگ ہوں گے۔ یمین و یمن خیر و برکت کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور اس ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جانا اس کے لیے بشارت ہے کہ یہ اہل خیر میں سے ہے تو اس کے بعد جھٹ پٹ اس سے حساب آسان لیا جاوے گا اور حساب آسان یہ ہے کہ اس کے زلات اور ان جرائم سے جس کے بعد اس نے توبہ و استغفار کیا اور نادم ہوا ‘ در گزر کیا جاوے گا اور دراصل یہ حساب نہیں بلکہ ایک ملاحظہ کرانا ہے کہ بندہ اپنے اعمال اور اس پر اس کے بےحد افضال کا اندازہ کرلے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا وہ تو ہلاک ہوا۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ تو یوں فرماتا ہے فسوف یحاسب الخ یعنی آیت پڑھی آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ حساب نہیں جو مومن سے آسانی سے لیا جاوے گا۔ یہ تو ایک ملاحظہ کرانا ہے اور جس سے حساب لیا جاوے گا وہ تو ہلاک ہوجاوے گا (رواہ البخاری و مسلم و غیر ہما) اور اس لیے آنحضرت ﷺ بعض اوقات یہ دعا بھی مانگا کرتے تھے۔ امت کو تعلیم کرنے کے لیے اللہم حاسبنی حسابا یسیراً کہ اے اللہ مجھ سے حساب یسیر لینا (اخرجہ احمد) اور اس حساب یسیر سے فرصت پا کر وہ شخص اپنے گھر کی طرف جو پہلے سے جنت میں تیار کیا گیا ہے جہاں اس کے دنیاوی اقارب زن و فرزند اس سے پہلے گئے ہیں اور حور عین بھی ہے خوشی خوشی سے جاوے گا اور وہ گھر اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہیں رہا کرتا تھا اور اب لوٹ کر وہیں جاتا ہے۔ لفظ ینقلب اسی طرف اشارہ کر رہا ہے اور یہ سچ ہے کس لیے کہ یہ دار آخرت کا گھر اس کے ان اعمال حسنہ اور محبت الٰہی کا تو مظہر ہے جو ہمیشہ اس کے پاس رہا کرتے تھے گویا ان میں رہا کرتا تھا۔ اس کے بعد بدوں کا حال بیان فرماتا ہے وامامن اوتی کتابہ وراء ظہرہ اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کی طرف سے دیا گیا تھا کہ پہلے سے معلوم ہو کہ بد ہے اور آیات میں وراء ظہرہ کی جگہ بشمالہ کا لفظ آیا ہے مگر یہ ملزم زنجیروں میں کسا ہوگا مشکیں بندھی ہوں گی۔ ہاتھ پیٹھ کی طرف پیچھے بندھے ہوں گے۔ اس لیے پیٹھ کے پیچھے سے دینا یہاں ذکر فرمایا تاکہ اس کی مشکیں بندھی ہونے کو بھی ثابت کرے (اس لیے دونوں لفظوں میں کوئی تعارض نہیں) تو وہ ہلاکی اور موت کو پکارے گا ‘ ہائے ہائے کرے گا اور کہے گا کہ موت آجاوے تو میں مر کر اس مصیبت سے بچ جائوں پھر وہاں موت کہاں ویصلیٰ سعیراً دہ تو دہکتی آگ میں ڈالا جاوے گا وہیں پڑا جلا کرے گا۔ اب اس کا سبب بھی بیان فرماتا ہے کہ وہ کیوں دہکتی آگ میں ڈالا جاوے گا انہ کان فی اھلہ مسروررا کہ وہ اپنے گھر میں مگن تھا شہوات و لذات کے گھوڑوں پر سوار تھا۔ آخرت کی کچھ فکر نہ تھی بلکہ سرے سے قائل ہی نہ تھا۔ رات دن طلب مال و زر میں مصروف تھا۔ حرام و حلال کی کچھ پروا نہ کرتا تھا۔ شراب ‘ زنا ‘ ناچ ‘ تماشا ‘ راگ رنگ میں مسرور تھا اور اس کے سواء انہ ظن ان لن یحور وہ یہ بھی سمجھے ہوئے تھے کہ اللہ کے پاس جانا نہیں ‘ حساب دینا ‘ نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جو چاہو کرو۔ یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ اس خیال میں تھا کہ اس کی یہ حالت کبھی متغیر نہ ہوگی ہمیشہ یوں ہی رہے گا یہ دو باتیں سبب ہیں اس کے آگ میں پڑنے کا۔ اس کی وہ خوشی اور وہ اعتقاد کہ جس میں یہ پڑا ہوا تھا آج آتش جہنم بن گئی گویا یہ خود ہی جہنم میں پڑا ہوا تھا۔ بلی ہاں ہاں اس کا یہ خیال غلط تھا کیونکہ ان ربہ کان بہ بصیرا اس کا رب تو اس کو دیکھا کرتا تھا کوئی حرکت و سکون اس کی نظر سے غائب نہ تھا۔ فائدہ : بلٰی کا کلمہ نفی کا اثبات کرتا ہے یعنی وہ جو سمجھتا تھا کہ خدا کے پاس نہ جائوں گا اس کے جواب میں ہے بلٰی ہاں جاوے گا اور یہ کلمہ اول کلام سے بھی متصل ہے اور بعد سے بھی اس لیے اس پر وقف بھی درست ہے اور ملا کر بھی پڑھا جاتا ہے۔
Ayahs 84:16–25

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

پھر میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات اور اس کے چھا جانے کی بھی

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب وہ پورا ہوجائے

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم کو تو ایک منزل سے دوسری منزل پر چڑھنا ہوگا۔

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

پھر انہیں ہوا کیا جو ایمان نہیں لاتے

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ منکر تو جھٹلا رہے ہیں

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (دل میں) بھرا رکھتے ہیں

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

سو آپ ان کو عذاب الیم کا مژدہ سنا دیں

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

مگر وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے ہیں ان کو تو بےانتہا اجر ملے گا۔

ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن الرکوب وقریٔ بفتح الباء خطاب للواحدوھو النبی ﷺ او کل فرد من افراد الانسان وقریٔ لیرکبن بالتحتیۃ وضم الموحدۃ علی الاخبار طبقا منصوب علی انہ مفعول ترکبن عن طبق صفۃ بطبقا اے طبقا حاصلا عن طبق اے حال عن حال واذا قریٔ الجملۃ فی محل النصب علی الحال الا الذین استثناء منقطع او متصل۔ تفسیر ¦ یعنی اگر تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مرنے کے بعد جزاء وسزا ہے اور تمہارے عقول متکدرہ کو وہاں تک رسائی نہیں تو ہمارے کہنے سے مان لو اور اگر اس طرح سے کہنے پر بھی اعتبار نہیں کرتے ہو تو لو۔ فلا اقسم بالشفق میں ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جو ہماری قدرت کاملہ کا پورا نمونہ اور تمہارے متبدل حالات کا کامل آئینہ ہے۔ اول شفق کی۔ شفق آفتاب غروب ہونے کے بعد کی سرخی کو کہتے ہیں۔ ذرات پر جو آفتاب کی شعاعیں پڑتی ہیں تو ایک سرخ رنگ آسمان کے کناروں پر نمودار ہوتا ہے۔ طلوع کے وقت بھی اور غروب کے وقت بھی اور چونکہ یہ رقیق ہوتی ہے اس لیے اس کو شفق کہتے ہیں اور اسی لیے مہربان کو شفیق کہتے ہیں کہ اس کے دل میں اپنے دوست کی طرف سے رقت ہوتی ہے یعنی نرمی۔ فائدہ : جمہور کے نزدیک نماز مغرب کا وقت غروب آفتاب سے لے کر اس سرخی کے غائب ہونے تک رہتا ہے مگر امام ابوحنیفہ (رح) سے ایک روایت ہے کہ اس سرخی کے بعد سفیدی بھی شفق ہے۔ اس تک مغرب کا وقت رہتا ہے اور جب یہ سفیدی جاتی رہے اور سیاہی اٹھ آوے تو عشاء کا وقت آجاتا ہے۔ جمہور کے نزدیک اس سفیدی کے وقت عشاء کا وقت آجاتا ہے۔ مغرب کا وقت باقی نہیں رہتا۔ اس شفق کے وقت ایک درمیانی حالت رہتی ہے نہ تو پورا پورا دن ہی رہتا ہے نہ پوری رات ہی آجاتی ہے۔ اس شفق کی قسم کھانے میں انسان کو اس کے مرنے کے بعد سے لے کر حشر تک کے زمانہ کو یاد دلاتا ہے۔ ایک پوری تشبیہ میں تصویر کھینچ دیتا ہے۔ کس لیے کہ جب انسان کا آفتاب روح غروب ہوجاتا ہے یعنی اس جسم عنصری کو چھوڑ دیتا ہے تو اس وقت روح پر شفق کے وقت جیسی حالت طاری ہوتی ہے۔ کسی قدر دن سا ہوتا ہے تو ایسا ہی روح پر کسی قدر ہنوز آثار زندگی باقی رہتے ہیں۔ اپنے اقارب سے محبت ‘ دنیاوی مالوفات کے ترک کا رنج۔ اسی لیے تھوڑے دنوں تک مردہ خواب میں بکثرت آتا اور پتے پتے کی باتیں جو دنیا میں اس کے متعلق تھیں بتا جاتا ہے۔ ایک بوڑھیا ماما کا انتقال ہوگیا بظاہر اس نے کچھ نہیں چھوڑا تھا۔ ایک رات ایک عورت کی خواب میں آکر کہا کہ میرے اتنے روپے اتنے پیسے میرے اس بوسیدہ تکیہ میں سئے ہوئے ہیں کہ جس کو تم نے گندہ جان کر کوڑے کی جگہ پھینک رکھا ہے۔ صبح کو کھولا تو اسی قدر روپے اور پیسے برآمد ہوئے۔ یہ معاملہ اور اس قسم کے اور صدہا واقعات کاتب الحروف کے سامنے کے ہیں اور اسی لیے مردہ اس وقت اپنے تئیں زندہ سمجھتا اور کوئی کہتا ہے دعونی 1 ؎ اصلی کہ ذرا مجھے چھوڑ دو کہ نماز پڑھ لوں اور اپنے اس حال کی اپنے لوگوں کو خبر کر آئوں۔ ارجع الی اہلی فاخبرہم 2 ؎ اور اسی لیے احیاء کی طرف سے صدقات ودعا کا زیادہ منتظر رہا کرتا ہے۔ اس وقت رات کے آثار بھی نمودار ہوتے ہیں تو ایسا ہی میت پر بھی دوسری حالت طاری ہوتی ہے کہ اس کے نیک و بد اعمال کے آثار اس پر وہاں منکشف ہوتے ہیں اور جوں جوں وقت زیادہ گزرتا جاتا ہے۔ اتنا ہی دنیا سے تعلقات کا انقطاع ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ استغراق عظیم وہاں کی ان کیفیات کے مشاہدہ میں اس پر طاری ہوتا ہے جو اس کے نیک یا بد اعمال کا نتیجہ ہیں اور اس کے قوائے مدرکہ و متصرفہ اس جہان سے بالکل منقطع ہوجاتے ہیں اور اس کے اور دنیا کے درمیان ایک پردہ اندھیری رات جیسا حائل ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد رات کی قسم کھاتا ہے۔ والیل وما وسق اور قسم ہے رات اور اس چیز کی کہ جس کو رات سمیٹے یعنی جمع کرے۔ دن کو لوگ اور حیوانات پھرا کرتے ہیں۔ رات میں اپنے ٹھکانوں پر آجاتے ہیں۔ گویا رات دن کے بچھڑے ہوئوں کو جمع کرلیتی ہے۔ 1 ؎ رواہ ابن ماجہ۔ 12 منہ 2 ؎ رواہ ترمذی۔ 12 منہ اس لیے اس کا نام عشاق کے نزدیک جامع المتفرقین ہے اور ما کو مصدر یہ بھی کہہ سکتے ہیں تب یہ معنی ہوں گے کہ رات کے سمیٹنے کی قسم کہ بےاختیار سب سمٹے چلے آتے ہیں۔ اشیاء بھی ‘ آفتاب کا نور بھی سمٹ جاتا ہے۔ یہ دوسری قسم تھی جس میں رات کی اور رات میں سمٹنے والوں کی قسم تھی۔ ان کا سمیٹنا بھی ایک شان ہے جو اس کی طرف رجوع کرنے کو اور موت کو یاددلاتی ہے اور اسی لیے نبی کریم ﷺ جب رات کو سوتے تو ایسی دعائیں پڑھتے جن میں مرنے کی طرف اور خدا کے پاس جانے کی طرف اشارہ ہوتا تھا اور لوگوں کو بھی اس کی تعظیم دیا کرتے تھے۔ چناچہ بخاری و مسلم نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ جو سونے کا قصد کیا کرتے تو اپنے ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر یہ کہا کرتے تھے اللہم باسمک اموت واحی کہ الٰہی تیرے ہی نام سے مرتا اور جیتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو یہ کہتے الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور کہ سب تعریف اس اللہ کو ہے کہ جس نے ہم کو مرنے کے بعد زندہ کردیا اور اس کے پاس جا کر جمع ہونا ہے اور صحیحین میں اس دعا کا پڑھنا بوقت خواب ثابت ہوا ہے۔ اللہم اسلمت نفسی الیک ووجہت وجہی الیک والجات ظہری الیک رغبۃ ورہبۃ الیک لا ملجاء ولا منجا منک الا الیک آمنت بکتابک الذی انزلت ونبیک الذی ارسلت۔ بہرحال خواب و بیداری میں خصوصاً رات کے وقت منازل پر جمع ہونے اور سونے میں جس کو رات کے سمیٹنے سے تعبیر کیا اس کی قدرت کاملہ کا پورا نمونہ ہے کہ تھوڑی دیر پہلے تو دنیا آباد تھی اب ہے کہ سناٹا ہے ٗ موت کا نمونہ طاری ہے۔ اسی لیے ایسے انقلابات پر اہل اللہ اس کی تسبیح وتہلیل اور یاد کرتے ہیں جو روح کے منور کرنے میں بڑا اثر رکھتا ہے۔ اس کے بعد یعنی اس رات کے بعد پھر چاند روشن ہوگا وہ کیا قیامت برپا ہو کر ابدان کو ایک نئی زندگانی عطا ہوگی۔ اس لیے اس تیسری قسم میں یہ تیسری حالت مذکور ہوتی ہے فقال والقمر اذا لتسق کہ قسم ہے چاند کی جبکہ اس کی روشنی پوری ہوجاوے تیرہویں چودھویں پندرہویں رات کا چاند۔ اس وقت حجاب دور ہوجائیں گے۔ ہر ایک پر حقائق منکشف ہوجاویں گے نیکی بدی کا راز کھل جاوے گا۔ ان تینوں حالات کی قسم کھا کر فرماتا ہے لترکبن طبقا عن طبق کہ ضرور اے بنی آدم ! تم کو ایک سیڑھی پر دوسری سیڑھی کے بعد چڑھنا ہے یعنی ایک منزل کے بعد دوسری منزل طے کرنی پڑے گی۔ پہلے ماں کے پیٹ میں رہنے کی ایک منزل تھی جب اس پر چڑھ چکے تو دوسری منزل پر چڑھے کہ پیدا ہوئے باہر آئے۔ اب لڑکپن کی منزل پر چڑھے اس کو طے کرکے جوانی کی منزل پر چڑھے اس کے بعد بڑھاپے کی سیڑھی طے کی۔ اس کے بعد موت کی اور عالم برزخ میں رہنے کی اس کے بعد حشر کی پھر حشر سے جنت کی یا دوزخ کی۔ تغیرات عالم خصوصاً انسان کا تغیر و تبدل بآواز بلند پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ انسان کہیں سے آیا ہے اور بےاختیار یہ مسافر کہیں جا رہا ہے جو کسی کے روکنے سے نہیں رکتا اور چونکہ ان حالات کا طے کرنا قطع مراحل و طے منازل سے مشابہ تھا اس لیے لفظ رکوب کو جس کے معنی سوار ہونا ہے استعمال کیا۔ اور چونکہ یہ حرکت صعودی ہے کہ اس خاکدان پست سے عالم بالا کی بلندی پر جانا ہے اس لیے ان حالات و مقامات کو طبقا عن طبق سے تعبیر فرمایا کس لیے کہ طبقا عن طبق تہ پر تہ کو کہتے ہیں جیسا کہ آسمان کے سات طبق اور بلند مکانات کے طبقات یعنی درجات عرف میں مستعمل ہیں اور یہ آیات گویا پہلی آیت یایھا الانسان انک کا دح الٰی ربک کدحا فملاقیہ کی تفصیل و تشریح ہے۔ فائدہ۔ طبق اس کو کہتے ہیں جو دوسرے سے مطابق ہو کہتے ہیں ما ھذا یطبق کذا اے لایطابقہ ومنہ قیل الغطاء الطبق ثم قیل للحال المطابقۃ بغیرھا طبق و منہ قولہ تعالیٰ طبقاعن طبق ای حالاً بعد حال کل واحدۃ مطابقۃ لا ختھا فی الشدۃ والھول ویجوزان یکون جمع طبقۃ وھی المرتبۃ من قولھم ھو علی طبقات (کبیر) لترکبن کی مختلف قرأتوں کی وجہ سے معنی بھی متعدد پیدا ہوسکتے ہیں صیغہ جمع مذکر حاضر کی صورت میں ایک تو یہی معنی ہیں جو ہم نے بیان کئے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اے لوگو ! تم قیامت کا انکار کیا کرتے ہو۔ ہم ان تین چیزوں کی قسم کھا کر کہ جو علویات میں تغیر و تبدل پیدا کرنے کے سبب ہماری قدرت و جبروت پر دلیل بین ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ دن ہو کر ہی رہے گا اور اس روز شدائد و احوال پیش آویں گے اور ایک مصیبت کے بعد دوسری کا سامنا ہوگا۔ تیسرے معنی یہ ہیں کہ دنیا کے لوگوں کا اس روز حال متبدل ہوجاوے گا بہت سے امیر فقیر ہوجاویں گے اور ذلیل عزیز ہوجاویں گے ؎ بسا امیر کہ آنجا اسیر خواہد شد بسا پیادہ کہ آنجا سوار خواہد شد خافضۃ رافعۃ چوتھے یہ کہ تم پہلوں کے طریقہ کو اختیار کرو گے شبراً بشبر یہ معنی یہاں مناسبت نہیں رکھتے اور جس نے لترکبن کو واحد مذکر حاضر کا صیغہ پڑھا ہے۔ تب آیت کے معنی بلحاظ مخاطب کے بھی متعدد ہوں گے۔ اگر مخاطب آنحضرت ﷺ ہیں تو یہ آنحضرت ﷺ کے لیے ایک بشارت ہے اعدا پر فتح و ظفر پانے کی کہ اے محمد ﷺ تو ایک حال پر مسلط ہو کر دوسرے حال پر مسلط ہوگا۔ ایک فتح و ظفر کے بعد دوسری پر متمکن ہوگا۔ یہ کفار جو آج تیری تکذیب کرتے ہیں نادم ہوں گے (2) یہ کہ تجھ کو رفعت مرتبت نصیب ہوگی۔ رفعت ظاہری معراج میں اور باطنی ترقی مراتب قرب و وصال میں ہر روز اور ہر آن آنحضرت ﷺ ایک مرتبہ قرب کے بعد دوسرے کو طے کرتے جاتے تھے جیسا کہ فرمایا ہے وللآخرۃ خیر لک من الاولیٰ کہ پچھلی ساعت تیرے لیے ترقی قرب کے لحاظ سے اول ساعت سے بہتر ہے واللہ اعلم باسرار کلامہ۔ چونکہ بہت تغیرات عالم اور خاص انسان کے تبدلات برہان ہیں اس بات پر کہ ضرور انسان کو کسی اور جگہ جانا اور اپنے کئے کا بدلہ پانا ہے۔ یہ ایسی بات ہے کہ ذرا غور کرنے سے بھی واضح ہوجاتی ہے۔ اس لیے فرماتا ہے فما لھم لایؤمنون کہ انہیں کیا ہوگیا جو ایمان نہیں لاتے اور آخرت کے لیے کوئی سامان نہیں کرتے۔ مصیبت سر پر آنے والی ہے۔ اس سے کس قدر غافل ہو کر دنیاوی مشاغل میں غرق ہیں۔ عاقل کو ذرا ذرا بھی کھٹکا ہوتا ہے تو اس کی تدبیر سے غافل نہیں رہتا اور اس دار آخرت کے لیے ہادی ہے تو صرف قرآن ہے اور ان کا قرآن سے یہ حال ہے واذا قریٔ علیھم القرآن لایسجدون کہ جب ان کو قرآن سنایا جاتا ہے آپ پڑھنا اور غور و تدبر کرنا تو کجا اس کے آگے نہیں جھکتے یعنی اس کے پابند نہیں ہوتے بلکہ قہق ہے اڑاتے ہیں یا یوں کہو کہ اسے سن کر نازل کرنے والے کے آگے اس شکریہ میں کہ اس نے ہمارے لیے ایسی کتاب نازل کی جو ہماری مشکلات دنیاء و آخرت کی رہبر ہے سجدہ نہیں کرتے اور حق سبحانہ کی عبادت جو آخرت کا سرمایہ اور قرآن کی تعلیم کا اعلیٰ تر مقصود ہے ادا نہیں کرتے۔ فائدہ : جمہور علماء کے نزدیک اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے کو سجدہ کرنا چاہیے کس لیے کہ یہاں سجدہ نہ کرنے والوں کی برائی مذکور ہے۔ احادیث صحیحہ سے سجدہ کرنے کا ثبوت ہم شروع میں کرچکے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ سجدہ واجب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ سجدہ کرنا تو کجا بل الذین کفروا یکذبون بلکہ منکر تو جھٹلاتے ہیں اور گو بعض زبان سے نہیں جھٹلاتے لیکن دل میں قائل نہیں واللہ اعلم بما یوعون اور اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں مخفی ہے۔ اس کی حبِّ شہوات و لذات اور انکارِ آخرت کے متعلق ان کے دلوں میں جو گندگی بھری پڑی ہے اور زبان سے بڑے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں ان کو خدا خوب جانتا ہے۔ فائدہ : اس میں ان ریاکاروں کی طرف تعریض ہے کہ زبان سے دعوائے اسلام و محبت خدا و رسول اور دل میں حب شہوات و لذات جب ان بدنصیبوں کی یہ حالت ہے تو اے نبی کریم فبشرھم بعذاب الیم ان کو مژدہ سنا دے سخت عذاب کا۔ بشارت کا لفظ علی سبیل تہکم و استہزاء استعمال کرنا عین بلاغت ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی بت پرستی اور بےہودگی پر نتائجِ نیک کے امیدوار تھے۔ کوئی شخص اس جہان میں فلاح نہیں پاسکتا۔ الا الذین آمنوا وعملوا الصلحت مگر وہ جو ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے نیک کام بھی کئے لھم اجران کے لیے اجرا ہے۔ ان کے ایمان اور نیک کاموں کا نیک بدلہ ہے اور بدلہ بھی کیسا غیر ممنون بےانتہا اگرچہ ایمان و عمل محدود تھا کیونکہ عمر کا زمانہ بھی محدود ہے۔ وہ کریم و رحیم اپنے فضل و کرم سے ابدالآباد تک کا بدلہ دیتا رہے گا جو غیر محدود ہے۔ (الٰہی ہمارا خاتمہ بالخیر کر۔ آمین)