84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 84:1–2

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا فرمان بجالائے گا اور اسے واجب بھی یہی ہے

اذالسماء انشقت۔۔۔ تا۔۔۔ وحقت۔ اذالسماء انشقت۔ جب آسمان بادلوں کی صورت میں پھٹ جائے گا، غمام، سفید بادل کی مثل ہے ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے اس کی مثل روایت نقل کی ہیی، حضرت علی سے مروی ہے کہ آسمان کہکشاں سے پوچھے گا کہا، کہاں آسمان کا دراوزہ ہے۔ یہ قیامت کی نشانیاں میں سے ایک ہے۔ واذنت لربھا وحقت۔ وہ اپنے رب کا حکم سنے گا اور سننا اس پر لازم ہے، یہی معنی حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے کہ، حضرت ابن عباس نے رسول اللہ کا یہ ارشاد نقل کی ا ہے، ما اذن اللہ لشی کا ذنہ لنبی یتغنی بالقرآن۔ اللہ تعالیٰ کسی شی کو توجہ سے نہیں سنتا جیسے وہ اپنے نبی کی آواز کو سنتا ہے جو قرآن کریم کو خوبصؤرت لہجہ میں پڑھ رہا ہو۔ شاعر نے کہا : صم اذاسمعو خیرا، ذکرت بہ، وان ذکرت بسوء عندھم اذنوا۔ وہ بہرے ہیں جب کسی اچھی بات کو سنیں گے جس کے ساتھ میرا ذکر کیا جاتا ہو اگر ان کے ہاں مراد براذکر کیا جائے تو وہ توجہ سے بات سنتے ہیں۔ قعنب بن ام صاحب نے کہا : ان یاذنو ربیۃ طارو بھافرحا، وماھم اذنوامن صالح دفنو۔ اگر وہ شک والی بات سنیں تو خوشی سے اسے لے اڑتے ہیں اور جو وہ اچھائی کی بات سنیں تو اسے دفن کردیتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو پھٹ جانے کا حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ حکم سننالازم کردیا ہے، ضحاک نے کہا، حقت کا معنی ہے اس نے اطاعت کی، یہ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے رب کی طاعت کرے کیونکہ یہ اس کی مخلوق ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، فلان محقوق بکذا، فلاں پر یہ لازم ہے آسمان کی اطاعت کرنے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آسمان کے بارے میں جس کا ارادہ کیا وہ اس سے روکنے والا نہیں، آسمان میں زندگی کا پید کرنا کوئی بعید نہیں یہاں تک کہ وہ طاعت کرے اور حکم بجالائے، قتادہ نے کہا، اس پر لازم تھا کہ وہ اس حکم کو بجالاتا۔ اس معنی میں کثیر کا قول ہے، فان تکن العتبی فاھلا، ومرحبا، وحقت لھا العتبی لدینا وقلت۔ اگر رضامندی ہے تو خوش آمدید ہمارے ہاں اس کے لیے رضامندی لازم ہے اور وہ بلند ہے۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین ہموار کردی جائے گی

واذالارض مدت۔ زمین کو بچھا دیا جائے گا اور پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا، نبی کریم نے فرمایا، تمد مد الادیم، اسے چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا کیونکہ جب چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے جو اس میں سلوٹ ہوتی وہ زائل ہوجاتی ہے وہ لمبا ہوجاتا ہے اور ہموار ہوجاتا ہے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے کہا، اس کی وسعت کو اتنا اتنا وسیع کردیا جائے گا کیونہ مخلوقات کے حساب کے لیے اس پر وقوف کرنا ہوتا ہے یہاں تک کہ مخلوقات کی زیادتی کی وجہ سے ایک انسان کے لیے صرف ایک قدم کی جگہ ہوتی ہے سورة ابراہیم میں یہ بات گزرچکی ہے کہ زمین کو دوسری زمین میں بدل دیا جائے گا حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق وہی ساہرہ ہے جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔
Ayah 84:4

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر باہر کر دے گی اور (بالکل) خالی ہوجائے گی

والقت مافیھا وتخلت۔ وہ اپنے مردوں کو نکال دے گی اور ان سے خالی ہوجائے گی ابن جبیر نے کہا، اس کے بطن میں جو مردے ہوں گے انہیں باہر پھینک دے گی اور اس کے اوپر جو زندہ ہوں گے ان سے خالی ہوجائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے بطن میں جو خزانہ اور معدنیات ہوں گی ان کو باہر پھینک دے گی اور ان سے خالی ہوجائے گی یعنی ان کا پیٹ خالی ہوجائے گا اس کے پیٹ میں کوئی چیز نہ ہوگی، یہ امر کے عظیم ہونے کی خبر دے رہی ہے جس طرح مصیبت کے وقت حاملہ حمل کو گرادیتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے اوپر جو پہاڑ اور سمندر ہیں ان سے خالی ہوجائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس میں جو چیز ودیعت رکھی گئی تھی اس کو پھینک دے گی اور جو چیزیں اس میں محفوظ کی گئی تھی اس سے خالی ہوجائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زندہ اور مردہ بندوں کو اس میں ودیعت رکھا تھا، اور اس کے شہروں کو مزارعت اور روزی کے لیے محفوظ رکھا تھا۔
Ayah 84:5

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے ارشاد کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی ہے (تو قیامت قائم ہوجائے گی)

واذنت لربھا وحقت۔ وہ مردوں کو باہر پھینکنے میں اپنے رب کا حکم سنے گی اور اللہ تعالیٰ کا حکم سننا اس کا حق ہے اذآ کے جواب میں اختلاف ہے، فراء نے کہا، اذنت ہے واؤ زائدہ ہے اسی طرح القت ہے، ابن انباری نے کہا، ایک مفسر نے کہا، اذا السماء نشقت، کا جواب اذنت ہے اور گمان یہ کیا کہ واؤ زائدہ ہے یہ غلط ہے کیونکہ سب واؤ کو زائدہ ذکر نہیں کرتے مگر جب وہ حتی، اذا کے ساتھ استعمال ہو، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، حتی اذآ جاء وھا فتحت ابوابھا۔ زمر 71) وہ جب اس کے پاس آئیں گے تو کھول دیے جائیں گے اس کے دروازے تیزی کے ساتھ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فلما اسلما وتلہ للجبیبن۔ جب دونوں نے سراطاعت خم کردیا اور باپ نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا اس کا معنی ہے ہم نے اسے ندا دی واؤ ان دو کے علاوہ زائد نہیں ہوتی ایک قول یہ کیا گیا ہے جواب مضمر ہے گویا کلام یوں کی گئی ہے، اذالسماء انشقت یا ایھا الانسان انک کا دح۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا جواب وہ ہے جس پر فملاقیہ دلالت کرتا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، یا ایھا الانسان انک کا دح الی ربک کدحا فملاقیہ، یہ مبرد کا قول ہے اس سے یہ قول بھی مروی ہے، اس کا جواب فاما من اوتی کتبہ بیمینہ۔ ہے یہی کسائی کا قول ہے تقدیرکلام یہ ہوگی اذالسماء انشقت فمن اوتی کتاب بیمینہ فحکمہ کذا۔ یہ کلام اس معنی میں ہے اذکراذالسماء انشقت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جواب محذوف ہے کیونکہ مخاطبین اسے جانتے تھے یعنی جب یہ چیزیں ہوجائیں گی تو دوبارہ اٹھانے کی تکذیب کرنے والے اپنی گمراہی اور گھاٹے کو جان جائیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے ان کی جانب سے قیامت کے وقت کے بارے میں سوال گزرچکا تھا تو انہیں کہا گیا جب اس کی علامات ظاہر ہوجائیں گی تو قیامت برپا ہوگی تو تم نے اپنے جھٹلانے کے انجام کو دیکھ لیا قرآن ایک آیت کی طرح ہے کیونکہ اس کا بعض بعض پر دلالت کرتا ہے، حضرت حسن بصری سے مروی ہے، اذالسماء انشقت، قسم ہے جبکہ جمہور کا نقطہ نظر ہے ان کے خلاف ہے کیونکہ یہ خبر ہے قسم نہیں۔
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا

یا ایھا الانسان انک۔۔۔ تا۔۔۔ مسرورا۔ یایھالانسان انک کا دح الی ربک کدحا۔ انسان سے مراد جنس ہے، مراد یہ ہے اے ابنی آدم، سعید نے قتادہ سے یہی روایت نقل کی ہے اے ابن آدم تیری کاوش کمزور ہے جو یہ طاقت رکھتا ہو کہ اس کی کدوکاوش اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہو تو وہ ایسا کرے امور کو بجالانے کی طاقت نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد مخصوص فرد ہے، مقاتل نے کہا اس سے مراد اسود بن عبدالاسد ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ابی بن خلف ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے تمام کفار ہیں اے کافر تو عمل کرنے والا ہے کلام عرب میں کدح سے مراد عمل اور کسب ہے، ابن مقبل نے کہا، وما الدھر الاتارتان فمنھا، اموت واخری ابتغی العیش اکدح۔ زمانہ نہیں ہے مگر دوساعتیں ان میں سے ایک میں مررہا ہوتا ہوں اور دوسرے میں تگ ودو کررہا ہوتا ہوں۔ دوسرے شاعر نے کہا : ومضت بشاشہ کل عیش صالح، وبیقت اکدح للحیاۃ وانصب۔ ہر اچھی زندگی کی بشاشت گزرگئی اور زندگی کے لیے تگ ودو کررہا ہوں اور تھک رہا ہوں۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ربک کدحا کا معنی ہے تولوٹنے والا ہے یعنی اپنے رب کی طرف ہر صورت لوٹنے والا ہے یعنی اپنے رب سے ملاقات کرنے والا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اپنے عمل سے ملنے والا ہے قتبی نے کہا تو اپنی زندگی میں اپنے رب کی ملاقات کے لیے تھکنے والا ہے، ملاقات سے مراد تو اپنے رب کو اپنے عمل کے ساتھ ملے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے تو اپنے عمل کی کتاب کو ملے گا کیونکہ عمل تو ختم ہوچکا، اسی وجہ سے فرمایا، فاما من اوتی کتبہ بیینمہ۔
Ayahs 84:7–9

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

تو جس کا نامہ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

اس سے حساب آسان لیا جائے گا

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھروالوں میں خوش خوش آئے گا

فاما من اوتی کتبہ بییمینہ، فسوف یحاسب حسابایسیرا۔ ونقلب الی اھلہ مسرروا۔ اس میں کوئی مناقشہ نہیں حضرت عائشہ کی حدیث میں رسول اللہ کی حدیث میں اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا قیامت کے روز جس کا محاسبہ کیا جائے گا اس کو عذاب دیا جائے گا، حضرت عائشہ نے کہا میں نے عرض کی یارسول اللہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، فامامن اوتی کتابہ بیمینہ، فسوف یحاسب حسابایسیرا۔ فرمایا وہ حساب نہیں وہ تو پیشی ہے قیامت کے روز جس کے حساب پر مناقشہ ہو اسے عذاب دیا جائے گا، اے امام بخاری اور امام مسلم اور امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اھل سے مراد جنت میں حورعین ہیں مسرورا سے مراد خوش ٹھنڈی آنکھ والا ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت ابوسلمہ بن عبدلاسد کے بارے میں نازل ہوئی، یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تھی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس اہل کی طرف جو دنیا میں اس کے اہل تھے تاکہ انہیں اپنی نجات اور سلامتی کے بارے میں بتلائے پہلا قول قتادہ کا ہے یعنی ان اہل کی طرف لوٹے گا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت میں تیار کیا ہے۔
Ayahs 84:10–12

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کا نامہ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا .

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

وہ موت کو پکارے گا

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور دوزخ میں داخل ہوگا

واما من اوتی کتابہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ بصیر۔ واما من اوتی کتابہ وراء ظہرہ، فسوف یدعو ثبورا۔ ویصلی سعیرا۔ یہ آیت اسود بن عبدالاسد کے بارے میں نازل ہوئی جو ابوسلہم کا بھائی تھا یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے پھر یہ ہر مومن اور کافر کے بارے میں عام ہے حضرت ابن عباس نے کہا، وہ اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھائے گا تاکہ وہ اپنی کتاب لے تو فرشتے اسے کھینچے گا اور اس کا دایاں ہاتھ الگ کردے گا تو وہ اپنی کتاب بائیں ہاتھ میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے لے گا قتادہ اور مقاتل نے کہا، اس کے سینے کی ہڈیاں اور پسلیاں توڑ دی جائیں گی پھر اس کا ہاتھ داخل کیا جائے گا اور اس کی پیٹھ کے پیچھے سے نکالاجائے گا تو وہ اپنی کتاب اسی طرح لے گا، وہ ہلاکت کو پکارے گا اور کہے گا یاویلا، یاثبوراہ۔ وہ جہنم میں داخل ہوگا یہاں تک کہ اس کی گرمی کو تاپے گا حرم کے قارئیوں ابن عامر اور کسائی نے اسے یصلی پڑھا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ثم الجحیم صلوہ۔ پھر اسے جحیم میں داخل کردو، اور ارشاد باری تعالیٰ ہے، وتصلیۃ جحیم۔ الواقعہ) مگر اسے جو تاپنے والا ہے بھڑکتی آگ کو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یصلی النار الکبری، الاعلی) وہ بڑی آگ میں داخل ہوگا، فرمایا، ثم انھم لصالوالجحیم۔ المطففین) پھر وہ جحیم میں داخل ہوں گے اس کی تیسری قرات بھی ہے جسے ابان نے عاصم سے خارجہ نے نافع سے اور اسماعیل مکی نے ابن کثیر سے نقل کیا ہے وہ یصلی ہے جس طرح سیصلون ہے اسی طرح سورة الغاشیہ میں ہے اسے تصلی نارا بھی پڑھا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں یعنی صلی، اصلی، جس طرح نزل اور انزل ہے۔
Ayah 84:13

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

یہ اپنے اہل و عیال میں مست رہتا تھا

انہ کان فی اھلہ مسرورا۔ وہ دنیا میں خوش وخرم تھا، ابن زید نے کہا اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کی صفت دنیا میں خوف رکھنے والے، غمگین، رونے والے اور شفقت کرنے والوں سے بیان کی ہے جبکہ آخرت میں ان کی صفت نعم اور سرور سے کی اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین، فمن اللہ علینا ووقنا عذاب السموم۔ طور) ہم بھی اس سے پہلے اپنے اہل خانہ میں (اپنے انجام کے بارے میں) سہمے رہتے تھے سو بڑا احسان فرمایا ہے اللہ نے ہم پر اور بچالیا ہے، ہمیں گرم لو کے عذاب سے، اور جہنمیوں کی دنیا میں صفت و سرور، ہنسنے اور لطف اندوزی سے کی، فرمایا، انہ کان فی اھلہ مسرورا۔ انشقاق) وہ اپنے اہل میں خوش وخرم تھا۔
Ayah 84:14

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا

انہ ظن ان لن یحور۔ اسے زندہ کرکے ہر گرز دوبارہ نہیں اٹھایاجائے گا کہ اس کا محاسبہ کیا جاتا پھر اس کو ثواب دیا جائے گا یا سزادی جائے گی، یوں باب ذکر کیا جاتا ہے، حاریحور جب وہ لوٹے، لبید نے کہا : وما المرء الا کا لشھاب وضوئہ، یحور رمادا بعد اذاھوا ساطع۔ انسان نہیں ہے مگر ایک شہابچے اور اس کی روشنی کی مانند پہلے وہ روشن ہوتا ہے پھر خاکستر ہوجاتا ہے۔ عکرمہ اور داؤد بن ابی ہند نے کہا : یحور یہ حبشی زبان کالفط ہے اس کا معنی ہے لوٹنا ہے، یہ بھی جائز ہے کہ دو کلمے متفق ہوجائیں کیونکہ دونوں کلمہ اشتقاق ہیں اس سے، الخبز الحواری ہے کیونکہ یہ روٹی سفید ہوجاتی ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ حواری کیا ہے، یہاں تک کہ میں نے بدوی عورت کو سنا جو اپنی بیٹی کو بلارہی تھی حوری، یعنی میری طرف لوٹ آقوم عرب میں حور کا معنی لوٹنا ہے اس معنی میں رسول اللہ کا یہ فرمان ہے، اللھم انی اعوذبک من الحور بعدالکور، اے اللہ میں زیادتی کے بعد کمی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اسی طرح لفظ حور ہے ضرب المثل ہے حور فی محارۃ، نقصان درنقصان، یہ اس آدمی کے بارے میں بولا جاتا ہے جس کا معاملہ ادبار کا شکار ہو شاعر نے کہا : والذم یبقی وزاد القوم فی حور۔ مذمت باقی رہتی ہے اور قوم نقصان میں بڑھ جاتی ہے۔ حوریہ تیرے اس قول سے اسم ہے، طحنت الطاحنہ فما احارث شیئا۔ آٹا پسینے والی نے پیسے اور آٹے میں کچھ اضافہ نہ کیا حور کا معنی ہلاکت بھی ہے راجز نے کہا : فی بشر لاحور سری ولاشعر۔ ابوعبیدہ نے کہا، یہ اصل میں بئر حور ہے اور لازائد ہے یعنی ہلاکت والاکنواں۔ بعدالکون کے الفاظ روایت کیے گئے جس کا معنی ہے امر کے مکمل ہونے کے بعد اس کا منتشر ہونا، معمر سے الحور بعدالکون کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے کہا، اس سے مراد الکنتی ہے، عبدالرزاق نے ان سے پوچھا، الکنتی کیا چیز ہے ؟ فرمایا ایک آدمی پہلے صالح ہوتا ہے، پھر برا ہوا جاتا ہے، ابوعمرو نے کہا : جب ایک آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے تو اسے کنتی کہتے ہیں کہ گویا اسے اس کے قول کی طرف منسوب کیا گیا کنت فی شبابی کذا، شاعر نے کہا : فاصبحت کنتیا، واصبحت عاجنا، وشر خصال المرء کنت وعاجن۔ میں کنتی ہوگیا ہوں اور میں عاجن ہوگیا ہوں اور انسان کی خصلتوں میں سے سب سے بری کنتی اور عاجن ہونا ہے۔ عجن الرجل کا معنی ہے جب ایک آدمی اٹھے توتکبر کی وجہ سے زمین پر سہارالے، ابن اعرابی نے کہا، کنتی سے مراد وہ آدمی ہے جو کہتا ہے، میں جوان تھا میں بہادر تھا کانی اسے کہتے ہیں جو یہ کہتا ہے میرے پاس مال تھا میں ہبہ کیا کرتا تھا میرے پاس گھوڑے تھے اور میں اس پر سوار ہوا کرتا تھا۔
Ayah 84:15

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

ہاں ہاں اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا

بلی، ان ربہ کان بہ بصیرا۔ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح اس نے گمان کیا بلکہ وہ ضرور ہماری طرف لوٹے گا، اللہ تعایل اس کی تخلیق سے پہلے بھی اسے دیکھتا تھا اور جانتا تھا کہ اس کالوٹنا اس کی طرف ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کیوں نہیں وہ ضرور لوٹے گا پھر جملہ نئے سرے سے شروع کیا، فرمایا، اللہ تعایل اس کی تخلیق سے لے کر اس کے دوبارہ اٹھائے جانے تک اسے دیکھ رہا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے حق میں جو شقاوت اور سعادت مقدر ہوچکی ہے اس کو جانتا ہے۔
Ayah 84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

ہمیں شام کی سرخی کی قسم

فلا اقسم بالشفق۔۔۔۔ تا۔۔۔ لایسجدون۔ فلا اقسم بالشفق۔ معنی ہے میں قسم اٹھاتا ہوں لانافیہ صلہ (زائدہ) ہے شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج کے غروب ہونے کے وقت ہوتی ہے یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہوجاتا ہے، اشہب، عبداللہ بن حکم، یحییٰ بن یحییٰ اور دوسرے کثیر علماء نے امام مالک سے قول نقل کیا ہے، شفق سے مراد مغرب میں سرخی ہے جب سرخی ختم ہوجاتی ہے تو مغرب کا وقت ہوجاتا ہے اور عشاء کی نماز واجب ہوجاتی ہے، ابن وہب سے مروی ہے کہ مجھے کئی علماء نے حضرت علی بن ابی طالب، حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت شداد بن اوس، اور حضرت ابوہریرہ سے مجھے یہ خبر دی کہ ان کے نزدیک شفق سے مراد سرخی ہے، امام مالک بن انس نے یہی کہا ہے ابن وہب کے علاوہ کئی علماء نے صحابہ یعنی حضرت عمر، حضرت ابن عمر، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس اور حضرت انس ؓ، قتادہ، ابن مسیب، طاوس، عبداللہ بن دینار اور زہری سے یہی قول نقل کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد سفیدی ہے یہ قول حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز، اواعی اور امام ابوحنیفہ سے بھی ایک روایت مروی ہے، اسد بن عمرو نے روایت کی ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا، حضرت ابن عمر سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سفیدی ہے پہلاقول پسندیدہ ہے۔ کیونکہ اکثر صحابہ، تابعین اور فقہا کی یہی رائے ہے کیونکہ کلام عرب کے شواہد اشتقاق اور سنت اس کی شہادت دیتے ہیں۔ فراء نے کہا، میں نے ایک عرب کو کہتے ہوئے سنا جو اسی کپڑے کے بارے میں کہہ رہا تھا جس پر رنگ تھا، گویا وہ شفق ہے، جب کہ وہ کپڑا سرخ تھا، یہ اس کے سرخ ہونے کا شاہد ہے، شاعر نے کہا : واحمرللون کمحمر الشفق۔ وہ سرخ رنگ والا ہے جس طرح شفق سرخ ہوتی ہے۔ سرغ گیرو کو شفق کہتے ہیں صحاح میں ہے، شفق سے مراد سورج کی بقیہ روشنی اور سرخی ہے جو رات کے پہلے حصے میں ہوتی ہے، اور عتم (عشاء) کے قریب ہوتی ہے خلیل نے کہا، شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج کے غروب ہونے سے لے کر عشاء کے وقت تک رہتی ہے جب وہ چلی جائے تو کہتے ہیں، غاب الشفق، پھر کہا گیا اس کا اصل معنی نرمی ہے یہ لفظ بولا جاتا ہے، شی شفق، اس کی نرمی کی وجہ سے اسمیں کوئی مضبوطی نہیں، اشفق علیہ اس کا دل نرم ہوگیا، شفقت، اشفاق سے ایک اسم ہے اس سے مراد دل کی نرمی ہے اسی طرح شفق ہے، شاعر نے کہا : تھوی حیاتی، واھوی موتھا شفقا۔ وہ میری زندگی کی خواہش کرتی ہے اور میں شفقت کی وجہ سے اس کی موت کی خواہش کرتا ہوں۔ شفق سے مراد سورج کی باقی ماندہ روشنی اور سرخی ہے گویا وہ نرمی سورج کی روشنی سے ہے، حکماء نے کہا، سفیدی اصلا غیب نہیں ہوتی، خلیل نے کہا، میں اسکندریہ کے مینارہ پر چڑھا میں نے سفیدی کو دیکھا تو میں نے اسے ایک افق سے ودسرے افق میں مضطرب دیکھا میں نے اسے غائب ہوتے ہوئے نہیں پایا ابن ابی اویس نے کہا، میں نے اسے طلوع فجر تک پھیلتا ہوا پایا ہمارے علماء نے کہا، جب اس کا وقت محدود نہیں تو اس کا اعتبار ساقط ہوجائے گا۔ سنن ابی داؤد میں نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ میں عشاء کے وقت کو تم سے زیادہ جانتا ہوں نبی کریم عشاء کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب تیسری رات کا چاند غروب ہوجاتا تھا یہ اس وقت کی حد ہے پھر حکم اسم کے اول جز کے ساتھ متعلق ہوتا ہے، یہ اعتراض نہ کیا جائے گا کہ آپ کا یہ دعوی فجر اول کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں، فجر اول کے ساتھ نمازوں اور روزے کا حکم متعلق نہیں کیونکہ نبی کریم نے فجر کی وضاحت اپنے ارشاد اور عمل سے بیان فرمائی، ولیس الفجر ان تقول ھکذا، فرفع یدہ الی فوق، ولکن الفجر ان تقول ھکذا وبسطھا، فجر یہ نہیں کہ تو کہے اس طرح اور اپناہاتھ اوپر کی طرف اٹھایا بلکہ اس طرح ہے اور اپنے ہاتھ پھیلایا اس کی وضاحت سورة بقرہ میں روزوں والی آیت میں گزرچکی ہے اس کے اعادہ کا کوی معنی نہیں مجاہد نے کہا، شق سے مراد تمام دن ہے، کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، والیل وماوسق۔ عکرمہ نے کہا، دن کا باقی ماندہ حصہ، شفق سے مراد ردی چیز بھی ہے یہ جملہ بوجالاتا ہے، عطاء مشفق تھوڑاعطیہ۔ کمیت نے کہا : ملک اغر من الملوک تحلبت للسائلین یداہ غیر مشفق۔ وہ بادشاہوں میں سے روشن چہرے والا بادشاہ ہے اس کے ہاتھ سائلین کے لیے دوہتے یعنی کوئی کمی نہیں کرتے۔
Ayah 84:17

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کرلیتی ہے ان کی

والیل وماوسق۔ جس کو جمع کرے اور لپیٹے، اس کا اصل معنی بادشاہ کا غضب ہے اس کا دبدبہ ہے اگر یہ رحمت کے دروازے سے بندوں کی طرف نہ آتی تو بندے اسکے آنے کو برداشت نہ کرسکتے لیکن یہ رات رحمت کے دروازے سے نکلی تو اس کے ساتھ مل گئی تو مخلوق اس کی طرف سکونت پذیر ہوگئی پھر لوگ متفرق ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے اور منقبض ہوئے اور ہر ایک اپنے ٹھکانہ کی طرف لوٹ ایا یا تو اس کی ہولناکی سے خوفزدہ ہو کر اسمیں سکون پایا اللہ تعالیٰ کے فرمان، جعل لکم الیل والنھار فیہ، القصص 73) اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایاتا کہ اسمیں سکون حاصل کرو، اور فرمایا، ولتبتغوا من فضلہ، الجاثیہ 12) تاکہ تم دن کے وقت اس کا فضل تلاش کرورات کو اس چیز کو جمع کرتی ہے جو دن کے وقت اپنی مصروفیات میں منتشر ہوتے ہیں یہی حضرت ابن عباس، مجاہد، مقاتل اور دوسرے علماء کا قول ہے، ابن حارچ برجمی نے کہا : فانی وایاکم وشوقا الیکم، کقابض ماء لم تسقہ، اناملہ۔ بیشک میں تم اور تمہارے ساتھ اشتیاق اسی طرح ہے جس طرح ایک آدمی پانی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جس پانی کو اس کی انگلیاں جمع نہیں کرتیں۔ وہ کہتا ہے، اس کے ہاتھ میں اس سے کچھ بھی نہیں جس طرح اس آدمی کے پاس کچھ بھی ہیں جو ہاتھ میں پانی روکتا ہے جب رات پہاڑوں اور درختوں، سمندروں اور زمین کو ڈھانپ لیتی ہے تو ہر چیز اس کے لیے جمع ہوگئی تو تحقیق رات نے ان چیزوں کو جمع کرلیا، وسق کا معنی ہے تیرا ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا تو کہتا ہے، وسقتہ، اسقہ، وسقا، اس لیے جو کھانا کثیر ہو مجتمع ہو اسے بھی وسق کہتے ہیں یہ ساٹھ صاع ہوتا ہے طعام موسق جمع شدہ کھانا، ابل مستوسقہ، مجتمع اونٹ، راجز نے کہا : ان لنا قلائصاحقائقا مستوسقات لویجدن سائقا۔ ہماری حقہ اونٹنیاں ہیں وہ جمع ہیں کاش وہ کوئی ہانکنے والا پاتیں۔ عکرمہ نے کہا : وماوسق سے مراد ہے جس چیز کو ہانک کر ایسی جگہ لے جاتے جہاں وہ پناہ لیتا ہے وسق دھتکارنے کے معنی میں ہے اس وجہ سے اونٹوں بھیڑ بکریوں، اور گدھوں میں سے جنہیں ہانک کرلے جایا جارہا ہو انہیں وسیقہ کہتے ہیں۔ شاعر نے کہا : کماقاف آثار الوسیقہ قائف۔ جس طرح قیافہ شناس جانوروں کے نشانات کو دیکھ کر پیچھے چلا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ وماوسق کا معنی ہے جو کسی چیز کو چھپالے اور آپ سے ہی یہ بھی مروی ہے جو چیز تو کسی پر لادے جس چیز کو تونے کسی پر لادا، فقد وسقتہ، عرب کہتے ہیں، لا افعلہ ماوسقت عینی المائ، میں اس وقت تک ایسا نہیں کروں گا جب تک میری آنکھ آنسو اٹھائے ہوئے ہے۔ وسقت الناقۃ تسق وسقا، وہ حاملہ ہوئی اور اپنی رحم کو پانی پر بند کردیا، اس کے لیے یہ بولا جاتا ہے، ھی ناقۃ واسق ھی نوق واسق، جس طرح نائم کی جمع نیام آتی ہے اور صاحب کی جمع صحاب آتی ہے بشر بن ابی حازم نے کہا : الظ بھن یحدوھن حتی تبنیت الحیال من الوساق۔ شعر میں وساق اسی معنی میں ہے۔ مواسیق بھی اسی طرح ہے اوسقت البعیر میں نے اس پر بوجھ لادا، اوسقت النخلۃ اس کا پھل زیادہ ہوگیا، ضحاک اور مقاتل بن سلیمان نے کہا، وہ تاریکی کی وجہ سے بوجھل ہوگئی، مقاتل نے کہا، وہ ستاروں والی ہوگئی قشیری نے کہا، جمل کا معنی ملانا اور جمع کرنا ہے رات اپنی تاریکی کے ساتھ ہر شی کو دھانپ لیتی ہے جب اس نے ہر چیز کو ڈھانپ لیا تو انہیں جمع کرلیا، یہ قسم تمام مخلوقات کی قسم ہے کیونکہ رات ان سب کو جامع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فلا اقسم بماتبصرون، ومالاتبصرون۔ الحاقہ) میں قسم اٹھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو اور جن کو تم نہیں دیکھتے۔ ابن جبیر نے کہا، اس کا معنی ہے اس میں جو عمل کیا جائے یعنی تہجد اور سحری کے وقت استغفار، شاعر نے کہا : ویوما ترانا صالحین وتارۃ، تقوم بنا کالواسق المتلبیب۔ کسی دن تو ہمیں دیکھتا ہے کہ ہم صالح ہیں اور کبھی تو ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تہجد گزار کر کمرکسنے والے کی طرح۔ یہاں واسق سے مراد عامل ہے یعنی عمل کرنے کی طرح۔
Ayah 84:18

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب کامل ہوجائے

والقمر اذاتسق۔ یعنی چاند کی قسم جب وہ چاند مکمل ہوجائے مجمتع ہوجائے حجرت حسن بصری نے کہا، اتسق کا معنی ہے جب وہ بھرجائے اور مجمتعم ہوجائے، حضرت ابن عباس نے کہا، اس کا معنی ہے درست ہوجائے، قتادہ نے کہا، جب وہ گھومے، فراء نے کہا اتساقہ کا معنی ہے اس کا بھرجانا اور چودہویں رات کا مکمل ہوجانا، یہ وسق سے افتعال کا وزن ہے جس کا معنی جمع کرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے میں نے اسے جمع کیا تو وہ جمع ہوگئے جس طرح یہ کہتا جاتا ہے، وصلتہ فاتصل، یہ جملہ کہا جاتا ہے امر فلان متسق فلاں کا معاملہ درست اور منظم ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، اتسق الشی جب وہ پے درپے آئے۔
Ayah 84:19

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہ اعلی پر) چڑھو گے

لترکبن طبقا عن طبق۔ ابوعمرو، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، ابوالعالیہ، مسروق، ابو وائل، مجاہد، نخعی، شعبی، ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے اسے لترکبن باء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، کہ یہ نبی کریم کو خطاب ہے یعنی اے محمد آپ ایک حال کے بعد دوسرے حال پر چڑھیں گے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، امام شعبی نے کہا، اے محمد ﷺ آپ ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان، ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ اور ایک رتبہ کے بعد دوسرے رتبہ پر اللہ تعالیٰ کے قریب چڑھیں گے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، آپ ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں آسمان پر چڑھیں گے یعنی وہ حالات جن کی صفت اللہ تعایل نے بیان کی ہے یعنی آسمان کا پھٹنا، اس کا لپیٹنا جانا، اس کا کبھی مہل کی طرح ہوجانا، کبھی تیل کی طرح ہوجانا، ابراہیم نے عبدالاعلی سے طبقا عن طبق کی یہ تعبیر نقل کی ہے آسمان ایک حال کے بعد دوسرے حال میں بدل جائے گا تیل کی طرح سرخ ہوجائے گا، وہ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائیگا ایک قولی یہ کیا جائے گا اے انسان ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر چرھے گا وہ یہ کہ تو نطفہ ہوگا، پھر جما ہوا خون ہوگا، پھر گوشت کالوتھڑا ہوگا پھر زندہ پھر مرد، اور گنی اور فقیر، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یا ایھا الانسان انک کا دح۔ میں انسان مذکور کو خطاب ہے، الانسان اسم جنس ہے اس کا معنی، الانس (لوگ) ہے باقی قراء نے اسے لترکبن پڑھا ہے خطاب الناس کو ہے ابوعبید اور ابوحاتم نے اسی کو اختیار کیا ہے کہا، الناس مراد لینا نبی کریم کی ذات مراد لینے سے زیادہ موذوں ہے کیونہ اس آیت سے قبل یہ ذکر کیا گیا ہے جس کو کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی گئی اور جس کو کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی گئی یعنی تم قیامت کی سختیوں میں ایک حالت کے بعددوسری حالت میں چڑھو گے یا تم اپنے سے ماقبل لوگوں کے طریقہ پر چلو گے جو وہ انبیاء کو جھٹلاتے اور انبیاء پر اختلاف کرنے کے اعتبار سے اپنایا کرتے تھے۔ میں کہتا ہوں : سب ہ مراد ہے اس بارے میں احادیث وارد ہیں ابونعیم حافظ نے جعفر بن محمد بن علی سے وہ حضرت جابر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا ہے اس سے انسان غفلت میں ہے بیشک الہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جب وہ کسی انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتے سے فرماتا ہے اس کارزق، اس کا اثر، (جہاں سفر کرے گا) اور اس کی موت کا وقت لکھ دے اور یہ بھی لکھ دے کہ وہ بدبخت ہے یا سعادت مند، ہے پھر یہ فرشتہ چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک اور فرشتہ بھیجتا ہے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ سمجھ بوجھ کے قابل ہوجاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ دو فرشتے بھیجتا ہے جو اس کی اچھائیاں اور برائیاں لکھتے ہیں جب موت آجاتی ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپرچلے جاتے ہیں پھر ملک الموت آجاتا ہے وہ اس کی روح قبض کرتا ہے جب اسے اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کی روح اس کے جسم میں لوٹ جاتی ہے پھر ملک الموت چلا جاتا ہے پھر اس کے پاس قبر والے دو فرشتے آتے ہیں جو اس کا امتحان لیتے ہیں پھر یہ دونوں اوپرچلے جاتے ہیں جب قیامت قائم ہوگی تو اس پر نیکیوں اور برائیوں والافرشتہ نازل ہوگا، دونوں وہ کتاب کھولیں گے جو اس کے گلے میں بندھی ہوگی پھر دونوں اس کے ساتھ حاضر ہوں گے ایک اس کے پیچھے ہوگا اور دوسرا گواہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا، لقد کنت فی غفلۃ من ھذافکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید۔ ق) تو اس سے غافل تھا ہم نے تجھ سے پردے کو چاک کردیا آج تیری نظر بڑی تیز ہے رسول اللہ نے فرمایا تم ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر چڑھو گے، پھر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ان قدامکم امراعظیما فاستعینوا باللہ العظیم۔ تمہارے سامنے عظیم امر ہے اللہ عظیم سے طلب کرو، یہ حدیث کئی احوال پر مشتمل ہے جو انسان کو لاحق ہوتے ہیں اس کی پیدائش سے لے کر اس کے دوبارہ اٹھائے جانے تک، سب ایک شدت کے بعد دوسری شدت ہے زندگی ہے، پھر موت ہے، پھر دوبارہ اٹھایاجانا ہے پھر جزا ہے ان میں سے ہر ایک میں شدائد ہیں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، لترکبن سنن من قبلکم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتی لودخلو جحر ضب لدخلتموہ قالوایارسول اللہ الیھود والنصاری ؟ قال فمن خرجہ البخاری۔ تم ضرور بضرور متقدمین کے طبقہ پر قدم بقدم چلو گے یہاں تک وہ اگر گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں ضرور داخل ہوجاؤ گے، صحابہ نے عرض کی یہود ونصاری ؟ فرمایا تو پھر اور کون ؟ امام بخاری نے اسے روایت کیا ہے جہاں تک مفسرین کے اقول کا تعلق ہے توعکرمہ نے کہا : ایک حالت کے بعد دوسری حالت، دودھ پینے کی حالت کے بعددودھ چھڑانا اور نوجوانی کے بعد بڑھاپا۔ شاعر نے کہا : کذالک المرء ان ینسالہ اجل، یرکب علی طبق من بعدہ طبق۔ اسی طرح انسان اگر اسے مہلت دی گئی تو ایک طبق کے بعد دوسرے طبق پر سوار ہوتا ہے۔ مکحول سے مروی ہے کہ ہر بیس سال میں تم ایسا امر پاتے ہو، جس پر تم پہلے نہ تھے، حضرت حسن بصری نے کہا : ایک امر کے بعد دوسرا امر، تنگدسی کے بعد خوشحالی کے بعد تنگدسیتی، فقر کے بعد غنا، غنا کے بعد فقر، بیماری کے بعد صحت، صحت کے بعد بیماری ،۔ سعید بن جبی رنے کہا ایک منزل کے بعد دوسری منزل، ایک قوم دنیا میں کمزور تھی وہ آخرت میں بلند ہوں گئے، ایک قوم دنیا میں بلند تھی تو وہ آخرت میں پست ہوگئے ایک قول یہ کیا گیا ہے منزل کے بعد دوسری منزل ایک طبق کے بعد دوسرا طبق اس کی وجہ یہ ہے جب وہ صالحیت میں ہوتوا سے یہ صالحیت اوپر والے مرتبہ کی طرف بلاتی ہے اور جو آدمی فساد پر ہوتویہ فساد اسے اوپر والے فساد کی طرف بلاتا ہے کیونکہ یہ چیز اپنی مثل کی طرف چلتی ہے ابن زید نے کہا، تم ضرور دنیا کے طبق سے آخرت کے طبق کی طرف جاؤ گے، حضرت ابن عباس نے فرمایا، اس سے مراد شدائد اور ہولناکیاں ہیں موت پھر دوبارہ اٹھایاجانا ہے پھر پیشی۔ عرب اس آدمی کے بارے میں کہتے ہیں جو کسی مصیبت میں جاپڑتا ہے : وقع فی بنات طبق، وقع فی احدی بنات طبق۔ اسی سے ایک قول یہ بھی مروی ہے، بڑی مصیبت ام طبق اور احدی بنات طبق ہے۔ اس کا اصل معنی سانپ ہے کیونکہ سانپ کو ام طبق کہتے ہیں کیونکہ وہ سمٹ جاتا ہے لغت میں طبق حالت کو کہتے ہیں جس طرح ہم نے بیان کیا ہے اقرع بن حابس تمیمی نے کہا : وساقنی طبق منہ الی طبق۔ مجھے ایک حالت دوسری حالت کی طرف ہانک کرلے گئی۔ یہ اس عالم کے حادث ہونے اور صانع کے اثبات پر واضح دلیل ہے حکماء نے کہا، جو آج ایک حالت پر ہو اور کل ودسری حالت پر ہو تو وہ جان لے کہ اس کا انجام کسی اور امر پر ہوگا، ابوبکر وراق سے پوچھا گیا اس عالم کے صانع پر کیا دلیل ہے ؟ اس نے جواب دیا حالات کا بدلنا، قوی کا کمزور ہونا، ارکان کا ضعیف ہونا، نیت کا مغلوب ہوجانا اور عزیمت کامنسوخ ہوجانایہ جملہ بولا جاتا ہے ہمارے پاس لوگوں اور ٹڈیوں کا طبق آیا یعنی جماعت آئی نبی کریم کی مدح میں حضرت ابن عباس کا ایک شعر ہے۔ تنقل من صالب الی رحم اذا مضی عالم بداطبق۔ آپ کو پشت سے رحم کی طرف منتقل کیا جاتا رہا جب ایک عالم گزر گیا تو دوسراطبق یعنی جماعت ظاہر ہوگئی۔ یعنی لوگوں کی ایک جماعت زمین کا طبق ہوگئی یعنی اس نے اسے بھردیا، طبق کا یہ معنی بھی ہے نرم ہڈی جو دومہروں کے درمیان ہوتی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، مضی طبق من الیل، طبق من النھار، رات کا بڑا حصہ گزر گیا، طبق کی جمع اطباق ہے یہ مشترک ہے اسے لترکبن بھی پڑھتے ہیں یہ نفس کو خطاب ہے اسے لیرکبن بھی پڑھا گیا ہے اس وقت ضمیر انسان کی طرف لوٹے گی عین طبق محل نصب میں ہے کیونکہ یہ طبقا کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہوگی، طبقا مجاوزا الطبق، یا یہ لترکبن میں جو ضمیر ہے اس سے عن طبق حال ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، لترکبن طبقا لطبق اومجاوزا اومجاوزۃ۔
Ayah 84:20

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے

فمالھم لایومنون۔ یعنی کون سی چیز انہیں ایمان سے روکتی ہے جب کہ جب کہ ان کے لیے آیات واضح ہوگئی اور دلائل قائم ہوگئے یہ استفہام انکاری ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ تعجب ہے ان پر تعجب کرو کہ وہ ان آیات کے ہوتے ہوئے ایمان ترک کررہے ہیں۔
Ayah 84:21

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے

واذاقری علیھم القرآن لایسجدون۔ یعنی وہ نماز نہیں پڑھتے۔ صحیح میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے اس سورت کو پڑھا تو اس میں سجدہ کیا جب اس سے فارغ ہوئے تو دوسرے ساتھیوں کو بتایا کہ رسول اللہ نے اس میں سجدہ کیا تھا امام مالک نے ارشاد فرمایا، یہ لازمی سجدوں میں سے نہیں کیونکہ اس کا معنی ہے وہ یقین نہیں رکھتے اور اس کے واجبات پر عمل نہیں کرتے۔ ابن عربی نے کہا، صحیح میں ہے کہ یہ آیت لازمی سجدوں میں سے ہے یہ مدنیوں کی روایت ہے اس میں قرآن وسنت کی تائید ہوتی ہے ابن عربی نے کہا، جب میں لوگوں کی امامت کراتا ہوں تومین اس کی قرات کو ترک کردیتا ہوں۔ کیونکہ اگر میں سجدہ کروں تو وہ اس کا انکار کریں گے اگر میں ترک کروں گا تو یہ میری تقصیر ہوگی اس وجہ سے میں اجتناب کرتا ہوں مگر جب میں اکیلے نماز پڑھوں یہ صادق امین کے قول کی تصدیق کی ہے کہ معروف منکرین جائے اور منکر معروف بن جائے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ سے فرمایا تھا، لولاحدثان قومک بالکفر لھدمت البیت ولرددہ علی قواعد ابراہیم۔ اگر تیری قوم کا کفر کا دور قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ شریف کو گرا دیتا اسے حضرت ابراہیم کی بنیادوں پر تعمیر کردیتا۔ ہمارے شیخ ابوبکر فہری رکوع اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین (ہاتھ اٹھانا) کیا کرتے تھے، یہ امام مالک، امام شافعی کا مذہب ہے اور شیعہ بھی اسی طرح کرتے ہیں ایک روز وہ میرے پاس سرحد پر ابن شواء کی چھاؤنی میں تشریف لائے یہی میری تدریس کی جگہ تھی ظہر کا وقت تھا وہ مذکورہ چھاؤنی کی مسجد میں داخل ہوئے اگلی صف میں ہوگئے اور میں ان کے پیچھے سمندر پر لگائے گئے تختوں پر بیٹھا ہوا تھا۔ ، میری صف میں ابوثمنہ رئیس البحر اور اس کا کمانڈر بھی تھا، جبکہ وہ چند ساتھیوں کے ساتھ انتظار کررہے تھے اور بندرگاہ کے نیچے جہازوں پر نظر رکھے ہوئے تھے جب شیخ نے رکوع اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو اٹھایا تو ابوثمنہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا، اس مشرقی کو نہیں دیکھتے یہ کیسے ہماری مسجد میں داخل ہوگیا، اس کی طرف اٹھو، اسے قتل کردو اور سمندر میں پھینک دو تمہیں کوئی بھی نہ دیکھے، میرا دل خوف سے لرزنے لگا میں نے کہا، یہ طرطوشی موجودہ دور کا فقیہ ہے، انہوں نے مجھے کہا، اس نے اپنے ہاتھ کیوں اٹھائے ہیں ؟ میں نے کہا نبی کریم ﷺ کا یہی معمول تھا یہ امام مالک کا مذہب جو اہل مدینہ نے آپ سے روایت کیا ہے میں انہیں ٹھنڈا کرنے لگا اور خاموش کرانے لگا یہاں تک ک کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے میں ان کے ساتھ چھاؤنی میں اپنے مسکن کی طرف گیا تو انہوں نے میرے چہرے کی رنگت کو بدلے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اسے عجیب جانا، انہوں نے مجھ سے سوال کیا کیا میں نے انہیں تمام بات بتادی وہ مسکرائے اور فرماتے میرے لیے اس سے بڑھ کر کیا اعزاز ہوسکتا ہے کہ میں ایک سنت کے احیاء کی وجہ سے قتل کیا جاتا ؟ میں نے عرض کی، یہ آپ کے لیے حلال نہیں کیونکہ آپ ایسے لوگوں کے درمیان ہیں اگر آپ اس پر قائم رہے تو یہ آپ پر حملہ کردیں گے ممکن ہے آپ کا خون رائیگاں چلاجائے انہوں نے کہا، اس بات کو چھوڑو اور کوئی دوسری بات کرو۔
Ayahs 84:22–23

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے

بل الذین کفرو ایکذبون۔۔ تا۔۔۔ غیرممنون۔ بل الذین کفرو ایکذبون۔ بلکہ کافر محمد اور جو وہ پیغام حق لائے ہیں اس کو جھٹلاتے ہیں، مقاتل نے کہا، آیت بنی عمرو بن عمیر کے بارے میں نازل ہوئی یہ چار افراد تھے ان میں سے دو مسلمان ہوگئے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ سب کفار کے بارے میں نازل ہوئی۔ واللہ اعلم بمایوعون۔ اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو وہ اپنے دلوں میں تکذیب چھپائے ہوئے ہیں ضحاک نے حضرت ابن عباس سے یہی روایت نقل کی ہے مجاہد نے کہا، وہ اپنے افعال چھپاتے ہیں، ابن زید نے کہا، وہ اچھے اور برے اعمال جمع کرتے ہیں، یہ دعاء سے ماخوذ ہے دعاء اسے کہتے ہیں کہ اس میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو جمع کرنے والا ہوتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، اوعیت الزاد والمتاع، جب توزادہ راہ سامان کو برتن میں رکھ لے، شاعر نے کہا : الخیر ابقی وان طال الزمان بہ، والشر اخبث ما اوعیت من زاد۔ اچھائی باقی رہنے والی ہے اگرچہ زمانہ طویل ہوجائے اور برائی براترین زاد ہے جو توجمع کرے۔ وعاہ کا معنی ہے جس کی وہ حفاظت کرے تو کہتا ہے، وعیت الحدیث اعیہ وعیا، میں نے بات کو یاد کیا اسی سے ہے اذن واعیہ یادرکھنے والے کان، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔
Ayah 84:24

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

فبشرھم بعذاب الیم۔ انہوں نے جو تکذیب کی اس پر ان کے لیے ایسا عذاب ہے جو دردناک ہے یعنی اسے بشارت کی جگہ رکھ لو۔
Ayah 84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکے لئے بےانتہا اجر ہے

الا الذین آمنواوعملوالصالحات لھم اجرغیرممنون۔ یہ مستثنی منقطع ہے گویا فرمایا، لیکن جنتیوں نے لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے کر تصدیق کی اور نیک اعمال یعنی فرائض ادا کیے ان کے لیے ایسا اجر ہے جس سے نہ کوئی کمی ہوگی نہ وہ جلد ختم ہوگا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، منت الحبل جب تو اسے کاٹ دے، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے نافع بن ازرق نے حضرت ابن عباس سے لھم اجر غیرممنون۔ کے بارے میں پوچھا فرمایا وہ ختم ہونے والانہ ہوگا، پوچھا گیا عرب اس معنی کو پہنچانتے ہیں فرمیا، ہاں، اخویشکر اس معنی کی وضاحت کرتا ہے، جب وہ کہتا ہے، فتری خلفھن من سرعۃ الرجع، منینا کا نہ اھبائ۔ تیزی سے پلٹنے کی وجہ سے تو ان کے پیچھے غبار پائے گا گویا باریک ذرات ہیں۔ مبرد نے کہا، منین کا معنی غبار ہے کیونکہ یہ غبار اپنے مابعد کو قطع کرلیتا ہے ہر کمزور منین اور منون ہے ایک قول یہ کیا گی ا ہے، غیرممنون کا معنی ہے ان پر اس کی وجہ سے کوئی احسان نہیں جتلائے گا اہل علم میں سے چند لوگوں نے کہا : الا الذین آمنواعملوالصالحات، یہ استثنا نہیں یہ واؤ کے معنی میں ہے گویا کہا، اور جو ایمان لائے اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں گزرچکی ہے۔