Al-Inshiqaaq 84:23

Al-Inshiqaaq · from ayah 23

84:23

وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ ۟ؗۖوَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ

اور خدا ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah is most knowing of what they keep within themselves.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:23

حالانکہ جو کچھ یہ (اپنے نامہ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو کچھ یہ جمع کر رہے ہیں، اللہ کو خوب معلوم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ خوب جانتا ہے جو اپنے جی میں رکھتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ (کفر و عداوت کے اس سامان کو) خوب جانتا ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ جمع کررہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ وہ (دلوں میں) محفوظ رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ جمع کر رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ کو خوب معلوم ہے وہ سب کچھ جو یہ جمع کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ یہ لوگ جمع کررہے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ (اپنے اندر) کیا بھرے ہوئے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے جن کو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah knows best what they are accumulating (in their Record).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Allah is most aware of what they store.

— Muhammad Taqi Usmani

And Allah is most aware of what they store.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Allah knows best what they gather,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah knoweth best what they are hiding.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah is most knowing of what they keep within themselves.

— Saheeh International

but God knows best whatever they accumulate in their hearts.

— Muhammad Sarwar

And Allah knows best what they hide,

— Muhammad Habib Shakir

Whereas Allah knoweth best that which they cherish.

— Abdul Majid Daryabadi

But Allah has full knowledge of what they secrete (in their breasts)

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 84:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–25

پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–23

سورة الْاِنْشِقَاق 12 یعنی ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور یہ اس کے آگے نہیں جھکتے۔ اس مقام پر سجدہ کرنا رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔ امام مالک، مسلم اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے نماز میں یہ سورة پڑھ کر اس مقام پر سجدہ کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں سجدہ کیا ہے۔ بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے ابو رافع کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے عشاء کی نماز میں یہ سورة پڑھی ہے اور حضور نے اس مقام پر سجدہ کیا ہے، اس لیے میں مرتے دم تک یہ سجدہ کرتا رہوں گا۔ مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–25

واذا قری علیھم القرآن لایستجدون یعنی جب ان کے اسمنے اور واضح ہدایات سے بھرا ہوا قرآن پڑھا جاتا ہے اس وقت بھی وہ اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ سجدہ اور سجود کے معنی لغت میں جھکنے کے ہیں اور یہ اطاعت شعاری اور فرمانبرداری سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس جگہ سجدہ سے مراد سجدہ اصطلاحی نہی بلکہ اللہ کے سامنے اطاعت کیساتھ جھکنا جسکو خشوع و خضوع کہتے ہیں وہ مراد ہے اور وجہ اس کی یہ کھلی ہوئی ہے کہ اس آیت میں حکم سجدہ کسی خاص آیت کے متعلق نہیں بلکہ پورے قرآن کے متعلق ہے اگر اس سے سجدہ اصطلاحی مراد لیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ پورے قرآن کی ہر آیت پر سجدہ لازم ہو جو باجماع امت مراو نہیں ہو سکتا۔ سلف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی اس گہر کو پھینک کر جو پشیز اور خزف ریزے یہ لوگ جمع کر نے میں لگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کے نقد عاجل نے ان کو قرآن کی تکذیب پر آمادہ کیا لیکن یہ جو کچھ جمع کر رہے ہیں اس کی اصل حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ اس کی حقیقت سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے۔ جس دن ان کا اندوختہ اپنی اصل صورت میں ان کے سامنے آئے گا تب انھیں پتہ چلے گا کہ انھوں نے کس چیز کو پھینکا اور کس چیز کے انبار جمع کیے! ’بِمَا یُوْعُوْنَ‘ کے اجمال میں ان کی دولت بھی داخل ہے، ان کے اعمال بھی شامل ہیں اور ان کے وہ نتائج اعمال بھی جو لازماً ظہور میں آنے والے ہیں لیکن ان کا حقیقی علم اس دنیا میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–25

9: اس کا ایک مطلب تو یہ کہ وہ اپنے اعمال کا جو ذخیرہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں میں جو باتیں چھپا رکھی ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے خوب واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 22–23

اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ تکذیب کرنے پر تل گئے ہیں ، جھٹلانا ان کا مزاج ثانی بن گیا ہے۔ تکذیب ان کی علامت ہے لیکن ان کے دلوں کے اندر جو بیماریاں ہیں اور جن کی وجہ سے انہوں نے تکذیب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔ یہ محض شرارت ہے اور برے مقاصد ہیں جو تکذیب کا سبب بن رہے ہیں۔ اب ان کی بات یہاں ختم ہوتی ہے اور روئے سخن براہ راست حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 22–23

17 یعنی فقط اتنا ہی نہیں کہ اللہ کی آیات سن کر انقیاد و تذلل کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان کو زبان سے جھٹلاتے ہیں اور دلوں میں جو تکذیب و انکار، بغض وعناد اور حق کی دشمنی بھری ہوئی ہے اس کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 23–24

آیت 23{ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ۔ } ”اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اپنے اندر کیا بھرے ہوئے ہیں۔“ عام طور پر اس آیت کے بارے میں یہی سمجھا گیا ہے کہ اس میں انسان کے مال و دولت جمع کرنے کی طرف اشارہ ہے ‘ لیکن دراصل اس سے دلوں اور سینوں کی گندگی مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان لوگوں کے سینے کفر ‘ عداوت ‘ بغض ‘ حسد ‘ تکبر وغیرہ کی غلاظتوں سے بھرے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے یہ اللہ کی آیات کو پہچان لینے کے بعد بھی ان کی تکذیب کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 وعی کا لغوی مفہوم :۔ یُوْعُوْنَ ۔ وعی کا معنی کسی چیز کو تھیلی میں رکھ کر اوپر سے اس کا منہ بند کردینا ہے اس لحاظ سے وعی کا معنی بخل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ حفاظت کرنا بھی اور چھپا کر رکھنا بھی اور کسی چیز کو یاد رکھنا بھی۔ یہاں یہ لفظ تیسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی کافر لوگ جو بغض وعناد اور کینہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–25

11۔ اور یہی معنی ہیں جنت اور اہل جنت کے دوام وخلود کے۔ (آیت) ” بمایوعون “۔ یعنی اعمال کفریہ کا ذخیرہ حق سے دشمنی، رسول حق سے بعض وعناد، وغیرہا۔ (آیت) ” فبشرھم بعذاب الیم “۔ ان کافروں کی سعی ناحق بھی رائیگاں نہ جائے گی، ایک ایک چیز کا بدلہ مل کررہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واللہ اعلم بما یوعون . یعنی جو کفر و عداوت وہ اپنے سینوں میں جمع رکھتے ہیں۔ اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔ مجاہد نے کہا جو کچھ کافر چھپاتے ہیں ‘ اللہ اس سے خوب واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–25

(23۔ 25) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و اقوال اور ان کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہے آپ ان کو دردناک عذاب کی خبر دے دیجیے جو کہ بدر میں اور آخرت میں ان پر واقع ہوگا۔ البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے جنت میں ایسا ثواب ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں، یا یہ کہ بڑھاپے اور موت کے بعد ان کی نیکیوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

واللہ اعلم بما یوعون :”یوعون“ ”وعائ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی برتن ہے،”اوعی المال“ اس نے مال جمع کیا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ جو اعمال و وہ آخرت کے لئے جمع کر رہے ہیں، زبانی جھٹلانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دلوں میں جو کبر و عناد جمع کررکھا ہے اور آپ کے خلاف جو جو ساشزیں انہوں نے تیار کر رکھی ہیں وہ اللہ کو ان سے بھی زیادہ معلوم ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

بل الذین کفرو ایکذبون۔۔ تا۔۔۔ غیرممنون۔ بل الذین کفرو ایکذبون۔ بلکہ کافر محمد اور جو وہ پیغام حق لائے ہیں اس کو جھٹلاتے ہیں، مقاتل نے کہا، آیت بنی عمرو بن عمیر کے بارے میں نازل ہوئی یہ چار افراد تھے ان میں سے دو مسلمان ہوگئے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ سب کفار کے بارے میں نازل ہوئی۔ واللہ اعلم بمایوعون۔ اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو وہ اپنے دلوں میں تکذیب چھپائے ہوئے ہیں ضحاک نے حضرت ابن عباس سے یہی روایت نقل کی ہے مجاہد نے کہا، وہ اپنے افعال چھپاتے ہیں، ابن زید نے کہا، وہ اچھے اور برے اعمال جمع کرتے ہیں، یہ دعاء سے ماخوذ ہے دعاء اسے کہتے ہیں کہ اس میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو جمع کرنے والا ہوتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–24

49۔ عبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی تم کو ایک امر کے بعد دوسرے امرت کی طرت بتدریج چڑھنا ہے۔ 51۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لترکبن طبقا عن طبق ایک حال کے بعد دوسرا حال کی طرف چڑھنا ہے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کے بارے میں ہے۔ 52۔ ابی عبید فی القراءات و سعید بن منصور وابن منیع وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی باء کے فتح کے ساتھ اور فرمایا تمہارے نبی نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔ 53۔ ابو عبید فی القراء ات و سعید بن منصور وابن منیع وعبد بن حمید وابن جریر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاللّٰهُ اَعْلَمُ : اور اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ][ بِمَا يُوْعُوْنَ : اس کو جو یہ محفوظ کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–24

﴿ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَؕ 0021﴾ (اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو نہیں جھکتے) نہ ان کا قلب جھکتا ہے نہ ان کا سر جھکتا ہے۔ ﴿ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَٞۖ0022﴾ (بلکہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ جھٹلاتے ہیں) یعنی ایمان کی طرف رجوع کرنے کی بجائے تکذیب ہی پر جمے رہتے ہیں ﴿ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَٞۖ0023﴾ (اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ جمع کر رہے ہیں) اپنے دلوں میں کفر و حسد، بغض اور بغاوت کو چھپائے ہوئے ہیں یہ ﴿بِمَا يُوْعُوْنَ﴾ کی ایک تفسیر ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–23

8:۔ ” فما لہم “ یہ زجر ہے ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے حالانکہ ان کے اعراض و انکار کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں اور جب ان کو قرآن پڑھ سنایا جاتا ہے تو عاجزی اور خشوع و خضوع نہیں کرتے اور اس کے احکام کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔ ” بل الذین کفروا یکذبون “ ماقبل سے ترقی ہے وہ قرآن کو سن کر نہ صرف سجدہ نہیں کرتے، بلکہ وہ تو سرے سے اس کو مانتے ہی نہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں لیکن جو کچھ وہ جمع کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور اس کی ان کو پوری پوری سزا دے گا۔ ” ما یوعون “ جو کفر و عداوت وہ اپنے دلوں میں جمع کر رہے ہیں۔ بما یجمعون فی الصدور من الکفر والعداوۃ (مظہری) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–25

(گذشتہ سے پیوستہ) جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَ۝ 23 ۡ ۖ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–25

ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ ۔ (الانشقاق : 23) (اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ جمع کررہے ہیں۔ ) مخالفین کے معیارِفکر کی خرابی کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ جن چیزوں کو ہیروں اور جواہر کی طرح قیمتی سمجھ کر جمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور جلبِ زر کے حریص ہو کر جس طرح دمڑی دمڑی پر جان دے رہے ہیں اور جس طرح دولت و ثروت میں اضافے کے لیے ہر ذلت اٹھانے کو تیار ہیں اسے دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے نزدیک اصل قیمت کس چیز کی ہے۔ لیکن انھیں معلوم نہیں کہ آخرت میں یہ جن چیزوں کو ہیرے سمجھ رہے ہیں وہ خزف ریزے ثابت ہوں گے۔ اور جن کامیابیوں پر فخر کررہے ہیں وہ ان کی ذلتوں کا سبب بنیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–25

فہم القرآن ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔ خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23 : وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ یہ لوگ جمع کرتے ہیں) یوعونؔ جمع کرنے کے معنی میں ہے یعنی جو کفر یات اور تکذیب اپنے سینوں میں نبی اکرم ﷺ کے متعلق جمع کرنے والے ہیں۔ نمبر 2۔ جو برے اعمال وہ اپنے صحائف اعمال میں اکٹھے کرتے ہیں اور اپنے نفوس کے لئے کئی اقسام کے عذاب جمع کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔” واللہ اعلم بما یوعون “ ان کے سینوں میں تکذیب سے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ چھپاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–25

16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–24

(وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَ ) یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں اللہ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے پس عنقریب وہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا بنابریں فرمایا ( فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) پس انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو ۔ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے یہ ہے کہ اکثر لوگوں کا حال قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 21–25

سجدہ تلاوت واجب ہے قول باری ہے (واذا قری علیھم القران لا یسجدون اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے توک سجدہ نہیں کرتے) اس سے سجد ہ تلاوت کے وجوب پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت سن کر سجدہ نہ کرنے والے کی مذمت کی ہے ہم نے لفظ کے عموم کی بنا پر سجود کے مقامات میں اس پر عمل کیا ہے۔ اگر ہم مقامات سجود میں اس پر عمل نہ کرتے تو ہم سرے سے اس حکم کو نظر انداز کردینے کے مرتکب قرار پاتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جھکنا مراد لیا ہے کیونکہ سجود کا اسم خضوع یعنی جھکنے کے فعل پر واقع ہوتا ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ بات اسی طرح ہے تاہم خضوع کو ایک خاص وصف کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–24

(16) منکرین کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب، والعیاذ باللہ : سو اس سے منکرین کے لیے ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنانے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ ان کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو، یعنی ایسے بڑے اور دردناک عذاب کی جس کی شدت اور سختی کا اندازہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جب انہوں نے حق کی تکذیب کر کے اور اس سے منہ موڑ کر اور کفر و بغاوت کی راہ کو اپنا کر اپنے آپ کو اس عذاب الیم کا مستحق بنادیا ہے تو انہوں نے اپنے آپ کو ایسے ہی عذاب کا مورد و مستحق بنادیا ہے اس لیے ان کو اس کی خوشخبردی سنا دو ۔ اور جب یہ نجات و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–23

ف 10 یعنی پیغمبر ﷺ کی دعوت کو ٹھکرانے کے لئے دلوں میں جو بہانے اور اسکی میں تیار کرتے ہیں ان سب کا اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:23) واللہ اعلم بما یوعون جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ جو انہوں نے اپنے اندر بھر رکھا ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ یوعون مضارع یا صیغہ جمع مذکر غائب (ایعاف (انعال) مصدر۔ مادہ و عی حفاظت کے لئے جمع کرنا۔ بوری یا تھیلا کو جس میں دوسری چیزیں اکٹھی کرکے رکھی کائیں اس کو دعاء کہتے ہیں ۔ اور اس کی جمع اوعیۃ ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے فبدا باوعیتھم قبل وعاء اخیہ (12:76) پھر اس (یوسف) نے اپنے باھائی کے شیلتے سے پہلے ان کی شلیتوں کو دیکھانا شروع کیا۔ (راغب) (2) اپنے اعمالناموں میں جمع کرتے ہیں ۔ (محلی) (3) چھپاتے ہیں۔ پوشیدہ رکھتے ہیں (یعنی اپنے دلوں میں) حضرت ابن عباس ؓ قتادہ سے نزدیک مطلب یہ کہ :۔ یہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–25

(ف 2) بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس آیت میں نبی ﷺ کا حال بیان فرمایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ آپ کو مشرکین پر فتح وظفر حاصل ہوگی اور انجام بہت بہتر ہوگا، آپ کفار کی سرکشی اور ان کی تکذیب سے غمگین نہ ہوں، اور ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ خطاب نبی کو ہے کہ آپ شب معراج ایک آسمان پر تشریف لے گئے پھر دوسرے پر ، اسی طرح درجہ بدرجہ مرتبہ بمرتبہ منازل قرب میں واصل ہوئے یا یہ خطاب انسان کو ہے اس تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ تم ہمیشہ زندہ نہیں رہو گے بلکہ موت کے بعد کی سختیاں تم کو جھیلنی ہیں۔ مسندامام احمد اور طبرانی میں انس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگرچہ انسان کے لیے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–25

زندگی یک قلم تحولات کا نام ہے اس سے قبل کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بعثت وحشر کے عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اس آیت کی وجہ استحالہ کی تردید ہے ۔ اور فرمایا کہ اس میں عقلاً کوئی اشکال نہیں ہے ۔ جس طرح نظام قدرت میں تم دوسری تبدیلیاں دیکھتے ہو اور تم کو کوئی تعجب نہیں ہوتا ۔ اسی طرح یہ بھی فطرت کی ایک تبدیلی اور محول ہے ۔ جیسا کہ سورج غروب ہوتا ہے اور اس وقت ایک سرخی سی افق پر چھاجاتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے اور رات کی تاریکی اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ جیسا کہ چودھویں شب کا چاند سارے آسمان کو روشن کردیتا ہے ۔ اسی طرح تمہاری زندگی کا آفتاب غروب ہوتا ہے تو موت کی شفق برزخ کے کناروں پر نظر آتی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) اور اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو یہ تکذیب کا سامان دلوں میں جمع رکھتے ہیں - یعنی جو اعمال بد کا ذخیرہ یہ جمع کرتے رہتے ہیں اور دلوں میں جو قرآن کی تکذیب کی تدابیر اور کفرونفاق جمع رکھتے ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–25

ف 5۔ وہ حالتیں ایک موت ہے اس کے بعد احوال برزخ، اس کے بعد احوال قیامت، پھر خود ان میں بھی تعدد تکثیر ہے، اور ان قسموں کا مناسب مقام ہونا اس طرح ہے کہ رات کے احوال کا مختلف ہونا کہ اول شفق نمودار ہوتی ہے، پھر زیادہ رات آتی ہے تو سب سو جاتے ہیں اور پھر ایک رات کا دوسری رات سے نور قمر کی زیادت و نقصان میں مختلف ہونا یہ سب اختلاف احوال بعد الموت کے مشابہ ہے، نیز موت سے عالم آخرت شروع ہوتا ہے جیسے شفق سے رات شروع ہوتی ہے، پھر لبث برزگ لوگوں کے سو رہنے کے مشابہ ہے اور چاند کا پورا ہونا بعد محاق کے حیوة قیامت کے بعد فناء عالم کے مشابہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اس کو خوب جانتا ہے جو وہ دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں 23 ؎ ( یوعون) کا اصل مادہ و ع ی ہے ۔ اس مادہ کے چند الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں جیسے ( تعیھا) الحاقہ : 12) ، (واعیھا) (الحاقہ : 12) ، (فادعیٰ ) (المعارج : 18) ، (وعاء) (یوسف : 176) ، (باوعیتھم) (یوسف : 76) ، (یوعون ) زیر نظر آیت میں جمع مذکر غائب مضارع ایعاء مصدر یعنی وہ جمع کرتے ہیں ۔ چھپاتے ہیں ، پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں سے بھی آگاہ ہے وہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں چھپا ہے یا جو وہ کچھ ان کے اعمالناموں میں لکھا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ جو کچھ ان کے دلوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–25

Therefore, the verse concludes: فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿20﴾ وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ So, what has happened to them that they do not believe, and when the Qur'an is recited to them, they do not offer sajdah [ prostration ] ۩? (84:20-21) It means that when the Qur'an, replete with clear guidelines, is recited to them, they do not bow in submission. The word sajdah /sujud literally denotes 'to bow' and it connotes 'obedience'. Obviously, the word here is not used in its technical sense. It is used in the sense of bowing in submission with respect, humbleness…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

13 Another meaning also can be: "Allah knows best what tilth of disbelief, malice, hostility to the Truth and evil intentions and designs they keep tilled in their breasts."

Read the full tafseer →