بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ ۟ؗۖبَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ
بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
But those who have disbelieved deny,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ ۟ؗۖبَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ
بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
But those who have disbelieved deny,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq
بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں
بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں
بلکہ جنہوں نے کفر کیا وه جھٹلا رہے ہیں
بلکہ یہ کافر لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں۔
بلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں
بلکہ کافر لوگ (اسے مزید) جھٹلا رہے ہیں،
بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جھٹلاتے ہیں۔
بلکہ کافر لوگ تو (الٹا) جھٹلا دیتے ہیں
بلکہ جنہوں نے کفر کیا وہ جھٹلا رہے ہیں
بلکہ یہ لوگ تو الٹا جھٹلاتے ہی جاتے ہیں
بلکہ یہ کافر الٹی تکذیب کرتے ہیں
بلکہ یہ کافر تو جھٹلا رہے ہیں۔
بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں
Instead, the unbelievers reject it, calling it a lie.
Rather, those who disbelieve deny (the truth) .
Rather, those who disbelieve deny (the truth) .
Nay, those who disbelieve deny.
Nay, but those who disbelieve will deny;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
But those who have disbelieved deny,
In fact, they reject the Quran,
Nay! those who disbelieve give the lie to the truth.
Yea those who disbelieve belie.
But on the contrary the Unbelievers reject (it).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–25
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
سورة الْاِنْشِقَاق 12 یعنی ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور یہ اس کے آگے نہیں جھکتے۔ اس مقام پر سجدہ کرنا رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔ امام مالک، مسلم اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے نماز میں یہ سورة پڑھ کر اس مقام پر سجدہ کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں سجدہ کیا ہے۔ بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے ابو رافع کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے عشاء کی نماز میں یہ سورة پڑھی ہے اور حضور نے اس مقام پر سجدہ کیا ہے، اس لیے میں مرتے دم تک یہ سجدہ کرتا رہوں گا۔ مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
واذا قری علیھم القرآن لایستجدون یعنی جب ان کے اسمنے اور واضح ہدایات سے بھرا ہوا قرآن پڑھا جاتا ہے اس وقت بھی وہ اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ سجدہ اور سجود کے معنی لغت میں جھکنے کے ہیں اور یہ اطاعت شعاری اور فرمانبرداری سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس جگہ سجدہ سے مراد سجدہ اصطلاحی نہی بلکہ اللہ کے سامنے اطاعت کیساتھ جھکنا جسکو خشوع و خضوع کہتے ہیں وہ مراد ہے اور وجہ اس کی یہ کھلی ہوئی ہے کہ اس آیت میں حکم سجدہ کسی خاص آیت کے متعلق نہیں بلکہ پورے قرآن کے متعلق ہے اگر اس سے سجدہ اصطلاحی مراد لیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ پورے قرآن کی ہر آیت پر سجدہ لازم ہو جو باجماع امت مراو نہیں ہو سکتا۔ سلف…
Read the full tafseer →یہ اس صورت حال کا بیان ہے جو عملاً تھی۔ یعنی سجدہ کرنا تو درکنار، جو قیامت کے منکر ہیں وہ قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں کہ یہ محض پیش کرنے والے کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہے جو قیامت کے ڈراوے سنا کر ہمیں مرعوب کرنا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
22۔ 1 یعنی ایمان لانے کی بجائے جھٹلا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
8: یہ سجدہ کی آیت ہے، یعنی اس آیت کو جب عربی میں تلاوت کیا جائے تو پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ تکذیب کرنے پر تل گئے ہیں ، جھٹلانا ان کا مزاج ثانی بن گیا ہے۔ تکذیب ان کی علامت ہے لیکن ان کے دلوں کے اندر جو بیماریاں ہیں اور جن کی وجہ سے انہوں نے تکذیب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔ یہ محض شرارت ہے اور برے مقاصد ہیں جو تکذیب کا سبب بن رہے ہیں۔ اب ان کی بات یہاں ختم ہوتی ہے اور روئے سخن براہ راست حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
17 یعنی فقط اتنا ہی نہیں کہ اللہ کی آیات سن کر انقیاد و تذلل کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان کو زبان سے جھٹلاتے ہیں اور دلوں میں جو تکذیب و انکار، بغض وعناد اور حق کی دشمنی بھری ہوئی ہے اس کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 22{ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُـکَذِّبُوْنَ۔ } ”بلکہ یہ کافر تو جھٹلا رہے ہیں۔“ اس آیت کے الفاظ سے یہ اہم نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کفر اور تکذیب باہم مترادفات نہیں بلکہ الگ الگ معنی کے حامل دو الفاظ ہیں۔ کفر کے لغوی معنی چھپانے کے ہیں۔ اس مفہوم میں کسی انسان کا ”کفر“ یہ ہے کہ اس کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی معرفت سے متعلق جو گواہیاں رکھی ہیں ‘ وہ جانتے بوجھتے ان گواہیوں کو چھپا دے اور لوگوں کے سامنے ان کا اقرار و اظہار نہ کرے۔ جبکہ تکذیب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلانا ہے جو انسانی فطرت میں موجود گواہیوں کو اجاگر activate کرنے کے لیے اس کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس…
Read the full tafseer →17 یعنی قرآن کو سن کر بھی ان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہیں ہوتا نہ مسلمانوں کی طرح اس کے آگے جھکتے یا سجدہ کرتے ہیں۔ بلکہ الٹا قرآن کو ہی جھٹلانے لگتے ہیں اور جو کچھ قرآن پیش کرتا ہے سب باتیں جھوٹی ہی سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
11۔ اور یہی معنی ہیں جنت اور اہل جنت کے دوام وخلود کے۔ (آیت) ” بمایوعون “۔ یعنی اعمال کفریہ کا ذخیرہ حق سے دشمنی، رسول حق سے بعض وعناد، وغیرہا۔ (آیت) ” فبشرھم بعذاب الیم “۔ ان کافروں کی سعی ناحق بھی رائیگاں نہ جائے گی، ایک ایک چیز کا بدلہ مل کررہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →بل الذین کفروا یکذبون . کافر فقط اتنا ہی نہیں کرتے کہ قرآن سننے کے وقت سجدہ نہ کریں بلکہ قرآن کی تکذیب بھی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
(20۔ 22) ان مکہ کے کافروں کو کیا ہوا کہ یہ ایمان نہیں لاتے یا یہ کہ عبد یا لیل ثقفی کی اولاد کو مخاطب کیا جارہا ہے اور یہ تین تھے۔ مسعود، حبیب، ربیعہ۔ ان میں حبیب مشرف بااسلام ہوگئے اور بعد میں ربیعہ ایمان لائے اور جس وقت حضرت محمد ان کے سامنے قرآن حکیم پڑھتے ہیں تو یہ توحید خداوندی کے لیے نہیں جھکتے بلکہ یہ تو الٹا جھٹلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →بل الذین کفروا …: یہنی یہ بات نہیں کہ قرآن کے دلائل میں کوئی کمی ہے یا اس کی آواز ان کے دلوں کی گہرائی تک نہیں پہنچی، بلکہ انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہم نے ماننا ہی نہیں۔ چناچہ یہ کفر و عناد ہی تکذیب کا باعث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
بل الذین کفرو ایکذبون۔۔ تا۔۔۔ غیرممنون۔ بل الذین کفرو ایکذبون۔ بلکہ کافر محمد اور جو وہ پیغام حق لائے ہیں اس کو جھٹلاتے ہیں، مقاتل نے کہا، آیت بنی عمرو بن عمیر کے بارے میں نازل ہوئی یہ چار افراد تھے ان میں سے دو مسلمان ہوگئے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ سب کفار کے بارے میں نازل ہوئی۔ واللہ اعلم بمایوعون۔ اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو وہ اپنے دلوں میں تکذیب چھپائے ہوئے ہیں ضحاک نے حضرت ابن عباس سے یہی روایت نقل کی ہے مجاہد نے کہا، وہ اپنے افعال چھپاتے ہیں، ابن زید نے کہا، وہ اچھے اور برے اعمال جمع کرتے ہیں، یہ دعاء سے ماخوذ ہے دعاء اسے کہتے ہیں کہ اس میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو جمع کرنے والا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
49۔ عبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی تم کو ایک امر کے بعد دوسرے امرت کی طرت بتدریج چڑھنا ہے۔ 51۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لترکبن طبقا عن طبق ایک حال کے بعد دوسرا حال کی طرف چڑھنا ہے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کے بارے میں ہے۔ 52۔ ابی عبید فی القراءات و سعید بن منصور وابن منیع وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی باء کے فتح کے ساتھ اور فرمایا تمہارے نبی نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔ 53۔ ابو عبید فی القراء ات و سعید بن منصور وابن منیع وعبد بن حمید وابن جریر…
Read the full tafseer →[بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَ : بلکہ جنھوں نے انکار کیا وہ جھٹلاتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
﴿ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَؕ 0021﴾ (اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو نہیں جھکتے) نہ ان کا قلب جھکتا ہے نہ ان کا سر جھکتا ہے۔ ﴿ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَٞۖ0022﴾ (بلکہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ جھٹلاتے ہیں) یعنی ایمان کی طرف رجوع کرنے کی بجائے تکذیب ہی پر جمے رہتے ہیں ﴿ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَٞۖ0023﴾ (اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ جمع کر رہے ہیں) اپنے دلوں میں کفر و حسد، بغض اور بغاوت کو چھپائے ہوئے ہیں یہ ﴿بِمَا يُوْعُوْنَ﴾ کی ایک تفسیر ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
8:۔ ” فما لہم “ یہ زجر ہے ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے حالانکہ ان کے اعراض و انکار کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں اور جب ان کو قرآن پڑھ سنایا جاتا ہے تو عاجزی اور خشوع و خضوع نہیں کرتے اور اس کے احکام کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔ ” بل الذین کفروا یکذبون “ ماقبل سے ترقی ہے وہ قرآن کو سن کر نہ صرف سجدہ نہیں کرتے، بلکہ وہ تو سرے سے اس کو مانتے ہی نہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں لیکن جو کچھ وہ جمع کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور اس کی ان کو پوری پوری سزا دے گا۔ ” ما یوعون “ جو کفر و عداوت وہ اپنے دلوں میں جمع کر رہے ہیں۔ بما یجمعون فی الصدور من الکفر والعداوۃ (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(گذشتہ سے پیوستہ) جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…
Read the full tafseer →بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَ 22 ۡ ۖ بل بَلْ كلمة للتدارک، وهو ضربان : - ضرب يناقض ما بعده ما قبله، لکن ربما يقصد به لتصحیح الحکم الذي بعده وإبطال ما قبله، وربما يقصد تصحیح الذي قبله وإبطال الثاني، فممّا قصد به تصحیح الثاني وإبطال الأول قوله تعالی: إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ كَلَّا بَلْ رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ ما کانوا يَكْسِبُونَ [ المطففین/ 13- 14] ، أي : ليس الأمر کما قالوا بل جهلوا، فنبّه بقوله : رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ علی جهلهم، وعلی هذا قوله في قصة إبراهيم قالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هذا بِآلِهَتِنا يا إِبْراهِيمُ قالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
فَمَا لَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ وَاِذَا قُرِیَٔ عَلَیْہِمُ الْقُرْاٰنُ لاَ یَسْجُدُوْنَ ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُکَذِّبُوْنَ ۔ (الانشقاق : 20 تا 22) (تو پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے۔ اور جب انھیں قرآن سنایا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔ بلکہ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلا رہے ہیں۔ ) مخالفین کے ایمان نہ لانے پر تعجب کا اظہار ان شواہد کے ذکر کے بعد اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آخرت میں جزاء و سزا کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جبکہ ان کے واضح ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ اور جس قرآن نے ایسے اہم حقائق کو نہایت سادہ دلائل کے ساتھ قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فہم القرآن ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔ خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…
Read the full tafseer →22 : بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُکَذِّبُوْنَ (بلکہ یہ کافرتکذیب کرتے ہیں) تکذیب سے بعث و قرآن کی تکذیب مراد ہے۔
Read the full tafseer →22 ۔” بل الذین کفروا یکذبون “ قرآن اور بعث کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…
Read the full tafseer →(بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَ ) بلکہ کفار حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اس سے عنادرکھتے ہیں اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن ان کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں۔ کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
سجدہ تلاوت واجب ہے قول باری ہے (واذا قری علیھم القران لا یسجدون اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے توک سجدہ نہیں کرتے) اس سے سجد ہ تلاوت کے وجوب پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت سن کر سجدہ نہ کرنے والے کی مذمت کی ہے ہم نے لفظ کے عموم کی بنا پر سجود کے مقامات میں اس پر عمل کیا ہے۔ اگر ہم مقامات سجود میں اس پر عمل نہ کرتے تو ہم سرے سے اس حکم کو نظر انداز کردینے کے مرتکب قرار پاتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جھکنا مراد لیا ہے کیونکہ سجود کا اسم خضوع یعنی جھکنے کے فعل پر واقع ہوتا ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ بات اسی طرح ہے تاہم خضوع کو ایک خاص وصف کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
(16) منکرین کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب، والعیاذ باللہ : سو اس سے منکرین کے لیے ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنانے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ ان کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو، یعنی ایسے بڑے اور دردناک عذاب کی جس کی شدت اور سختی کا اندازہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جب انہوں نے حق کی تکذیب کر کے اور اس سے منہ موڑ کر اور کفر و بغاوت کی راہ کو اپنا کر اپنے آپ کو اس عذاب الیم کا مستحق بنادیا ہے تو انہوں نے اپنے آپ کو ایسے ہی عذاب کا مورد و مستحق بنادیا ہے اس لیے ان کو اس کی خوشخبردی سنا دو ۔ اور جب یہ نجات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 10 یعنی پیغمبر ﷺ کی دعوت کو ٹھکرانے کے لئے دلوں میں جو بہانے اور اسکی میں تیار کرتے ہیں ان سب کا اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے۔
Read the full tafseer →(84:22) بل الذین کفروا یکذبون بل حرف اضراب ہے حکم ماقبل کو برقرار رکھتے ہوئے حکم ما بعد کو حکم ما قبل پر زیادہ کرنے کے لئے آیا ہے یعنی قرآن کو سن کر سجدہ کرنا تو کجارہا یہ اس سے بدتر عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں یونی اس کی تکزیب کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کفار الٹا اسے جھٹلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
(ف 2) بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس آیت میں نبی ﷺ کا حال بیان فرمایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ آپ کو مشرکین پر فتح وظفر حاصل ہوگی اور انجام بہت بہتر ہوگا، آپ کفار کی سرکشی اور ان کی تکذیب سے غمگین نہ ہوں، اور ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ خطاب نبی کو ہے کہ آپ شب معراج ایک آسمان پر تشریف لے گئے پھر دوسرے پر ، اسی طرح درجہ بدرجہ مرتبہ بمرتبہ منازل قرب میں واصل ہوئے یا یہ خطاب انسان کو ہے اس تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ تم ہمیشہ زندہ نہیں رہو گے بلکہ موت کے بعد کی سختیاں تم کو جھیلنی ہیں۔ مسندامام احمد اور طبرانی میں انس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگرچہ انسان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[8] یعنی حق تو یہ تھا کہ جب قرآن ان کو سنایا جاتا تو وہ اس کی عظمت کا اعتراف کرتے اور اس کی بیان کردہ حقیقت کی تصدیق کے لئے بطور شکر اپنے رب کے آگے سجدہ میں گرپڑتے یعنی ان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور یہ اس کے آگے نہیں جھکتے۔ لیکن ان کا رویہ اس کے برعکس ہے کہ اکڑتے اور اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہاں عرب اور اہل مصر کی یہ روایت پیش نظر رہے کہ جب وہ کسی بات کا سچے جوش و جذبے کے ساتھ اعتراف کرنا چاہتے تو اس کو دیکھتے یا سنتے ہی بےتحاشا سجدے میں گرپڑتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے کے لئے فرعون مصر نے جن ساحروں کو اکٹھا کیا تھا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت اور ان کے معجزے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
زندگی یک قلم تحولات کا نام ہے اس سے قبل کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بعثت وحشر کے عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اس آیت کی وجہ استحالہ کی تردید ہے ۔ اور فرمایا کہ اس میں عقلاً کوئی اشکال نہیں ہے ۔ جس طرح نظام قدرت میں تم دوسری تبدیلیاں دیکھتے ہو اور تم کو کوئی تعجب نہیں ہوتا ۔ اسی طرح یہ بھی فطرت کی ایک تبدیلی اور محول ہے ۔ جیسا کہ سورج غروب ہوتا ہے اور اس وقت ایک سرخی سی افق پر چھاجاتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے اور رات کی تاریکی اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ جیسا کہ چودھویں شب کا چاند سارے آسمان کو روشن کردیتا ہے ۔ اسی طرح تمہاری زندگی کا آفتاب غروب ہوتا ہے تو موت کی شفق برزخ کے کناروں پر نظر آتی…
Read the full tafseer →(22) بلکہ یہ قرآن اور الٹی تکذیب کرتے ہیں - یعنی ایمان کو کیا لائیں گے اور قرآن سن کر جھکتے تو کیا بلکہ یہ تو قرآن کو جھٹلاتے اور قرآن کی تکذیب کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ف 5۔ وہ حالتیں ایک موت ہے اس کے بعد احوال برزخ، اس کے بعد احوال قیامت، پھر خود ان میں بھی تعدد تکثیر ہے، اور ان قسموں کا مناسب مقام ہونا اس طرح ہے کہ رات کے احوال کا مختلف ہونا کہ اول شفق نمودار ہوتی ہے، پھر زیادہ رات آتی ہے تو سب سو جاتے ہیں اور پھر ایک رات کا دوسری رات سے نور قمر کی زیادت و نقصان میں مختلف ہونا یہ سب اختلاف احوال بعد الموت کے مشابہ ہے، نیز موت سے عالم آخرت شروع ہوتا ہے جیسے شفق سے رات شروع ہوتی ہے، پھر لبث برزگ لوگوں کے سو رہنے کے مشابہ ہے اور چاند کا پورا ہونا بعد محاق کے حیوة قیامت کے بعد فناء عالم کے مشابہ ہے۔
Read the full tafseer →بلکہ وہ لوگ جو کافر ہیں اس قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں 22 ؎ حق بات کو جھٹلا نا کیا ہے ؟ سیدھا کفر ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو اس بات سے مانع ہو کہ قرآن کریم کے جھٹلانے والے کو کافر نہ کہا جائے جب کہ اس کے کفر میں کسی طرح کا کوئی ابہام باقی نہیں رہتا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان کا اقرار بھی کرے اور کلمہ اسلام کا ورد بھی کرے اور اس کے باوجود تعلیمات اسلامی کے مطابق اعمال نہ کرے ، وہ تعلیمات جو قرآن کریم ہی کے ذریعہ سے ہماری پاس پہنچی ہیں تو ایسے انسان کو بھی کافر ہی کہا اور سمجھا جائے کیونکہ قرآن کریم کی آمد کا اصل مقصد ہی اصلاح انسانی ہے اور اگر کسی چیز سے جو اصل مقصود ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
Therefore, the verse concludes: فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿20﴾ وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ So, what has happened to them that they do not believe, and when the Qur'an is recited to them, they do not offer sajdah [ prostration ] ۩? (84:20-21) It means that when the Qur'an, replete with clear guidelines, is recited to them, they do not bow in submission. The word sajdah /sujud literally denotes 'to bow' and it connotes 'obedience'. Obviously, the word here is not used in its technical sense. It is used in the sense of bowing in submission with respect, humbleness…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
12 "They do not fall prostrate": they do not bow down to God out of fear of Him. To perform a sajdah (prostration) here is confirmed by the practice of the Holy Prophet (upon whom be peace) . lmam Malik, Muslim and Nasa'i have related a tradition concerning Hadrat Abu Huraira (may Allah be pleased with him>, saying that he recited this Surah in the Prayer and performing a sajdah here said: "The Holy Prophet (upon whom be peace) performed a sajdah at this point." Bukhari; Muslim, Abu Da'ud and Nasa'i have cited this statement of Abu Rafi`: "Hadrat Abu Huraira recited this Surah in the 'Isha'…
Read the full tafseer →