84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 84:1

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

جب آسمان پھٹ جائے گا ( اذا السماء انشقت) 1 ؎ (انشقت) کا اصل مادہ ش ق ق ہے اور اس کے معنی ہیں وہ پھٹ گئی۔ انشقاق سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ یہ لفظ آسمان کے پھٹ جانے کے لیے بولا گیا ہے اور یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے اور اب دوبارہ بتائی جا رہی ہے کہ آسمان کا لفظ اردو زبان میں مذکر تصور ہوتا ہے لیکن عربی زبان میں اس کو مؤنث استعمال کرتے ہیں جیسے سورج اردو میں مذکر استعمال ہوتا ہے اور عربی میں مؤنث۔ اس لیے لفظ (انشقت) کا استعمال ہوا ہے کہ وہ پھٹ گئی۔ یعنی آسمان ۔ یہ بات قبل ازیں بیسیوں بار عرض کی جا چکی ہے کہ قیامت کے روز جس طرح ہر ایک چیز کے لیے فنا لازم ہے صرف ایک اللہ تعالیٰ کی ذات کو فنا نہیں باقی تمام کے تمام نظام کو موت ہے اس لیے سورج ، ستارے ، چاند اور سیارے یہاں تک کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے اندر اللہ نے بنایا ہے سب کا سب فناہو جائے گا اور اس کی وضاحت سورة الرحمن کی آیت 26 ، 27 میں کردی گئی ہے اور آسمان کا پھٹنا بھی محض اس لیے ہوگا کہ قانون الٰہی میں جس فیصلہ کا اعلان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے روز ہر ایک چیز کو فنا ہونا ہے اور اس میں کسی چیز کی استثناء نہیں ہے سو اپنے رب ذوالجلال والاکرام کی ذات کے لہٰذا یہی وجہ ہے کہ ہر ایک چیز کا فنا ہونا لازم ہے جس طرح ہر ایک چیز حکم الٰہی کی پابند ہے اسی طرح آسمان بھی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ باقی ہر ایک چیز تو فنا ہوجائے لیکن آسمان کو فنا نہ آئے ۔ ایسا نہیں ہو سکتا ، فنا ہر ایک چیز کے لیے لازم ہے اور ہر ایک چیز میں آسمان بھی آتا ہے اس لیے اس کا فنا ہونا بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
Ayah 84:2

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے رب کے لیے کان لگائے گا اور (یہی) اسے سزاوار ہے

وہ اپنے رب کے لیے کان لگائے گا اور یہی اسے سزا وار ہے 2 ؎ (اذنت) کا اصل مادہ اذن ہے اور اس کے معنی ہیں کہ اس نے سن لیا اذن جس کے معنی سننے کے ہیں ، ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب (حقت) وہ اس لائق ہے ، وہ ثابت کی گئی ، وہ مطابق کی گئی ، وہ لائق بنائی گئی ، حق سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ، یہ بھی اس آسمان ہی کے متعلق ہے کہ آسمان پھٹ گیا ، کیوں ؟ اسے لیے کہ اس نے اپنے رب کا حکم کان لگا کر اچھی طرح سن لیا ہے کہ اب مجھے پھٹنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور پھر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو حکم مل گیا تو وہ کیسے ثابت اور قائم رہ سکتا ، اس کے لیے پھٹنا ضروری ہے اور وہ اسی لیے پھٹ گیا ہے یا پھٹ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آنے کے بعد نہ وہ قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی وہ قائم رہے گا۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین پھیلا دی جائے گی

اور جب زمین پھیلا دی جائے گی 3 ؎ ( مدت) کا مادہ م د د ہے۔ واحد مؤنث غائب ماضی مجہول مد مصدر باب نصر کھینچی جائے گی ۔ چمڑے کی طرح کھینچ کر چھوڑ دی جائے گی ، نہ اس پر بلندی رہے گی نہ پستی ۔ جابر بن عبد اللہ ؓ سے مرفوعا ً مروی ہے کہ حاکم نے اس کو بیان کیا ہے قیامت کا دن وہ ہوگا کہ اس روز یہ زمین کھینچ کر پھیلا دی جائے گی کہ اس کے نشیب و فراز ختم ہوجائیں گے۔ فاعا ً صفصفا ہموار میدان کی طرح ہوجائے گی نہ اس میں سمندر رہیں گے اور نہ ہی پہاڑ ۔ کف دست کی طرح صاف ستھری ہوجائے گی ۔ گویا جس اطاعت و فرمانبرداری کا مظاہرہ آسمان کرے گا اسی طرح زمین بھی حکم الٰہی کا پابند ہوگی جب اس کو ہموار ہونے کا حکم ہوگا تو ہموار ہوجائے گی اور اس کے پہاڑوں سے اس کے سمندر بھر جائیں گے اور اس طرح ایک وسیع و عریض سیادت میدان بن جائے گا ۔
Ayah 84:4

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور جو کچھ اس میں ہے وہ اس کو نکال پھینکے گی اور خالی ہوجائے گی

جو کچھ اس میں ہے وہ اس کو نکال پھینکے گی اور خالی ہوجائے گی 4 ؎ ( القت) کا مادہ ل قہے۔ اس نے نکال ڈالا ۔ القاء سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ تخلت مادہ اس کا خ ل و ہے ۔ وہ خالی ہوجا ئیگی ۔ زمین کے پیٹ میں کیا کیا کچھ مدفون ہے ، پہاڑوں کے نیچے ابھی کیا کیا کچھ پڑا ہے اور سمندروں کی تہہ میں ابھی کیا کچھ محفوظ کردیا گیا ہے اور ان سارے بوجھوں سے زمین فی الحال گویا حاملہ ہے اور حاملہ کا حمل اس روز وضع ہونا ضروری ہے اس لیے زمین بھی اپنے ان بوجھوں سے فارغ ہونا چاہے گی اور وہ یقینا خالی پیٹ ہوگی تب ہی جا کر اس کائنات کا خاتمہ ہوگا ۔ اس وقت زمین اپنے بوجھ نکالنے لگی ہوتی ہے اور کتنی معدنیات ہیں جو اس کے اندر سے نکالی جا رہی ہیں اور جب تک یہ سب نکل کر باہر نہ آجائیں اس وقت تک زمین اندر سے خالی نہیں ہو سکتی جب کہ اس کا خالی ہونا ضروری ہے۔ زیر نظر آیت کے اندر صرف دو الفاظ ہیں کہ زمین کے اندر جو کچھ ہے وہ باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ بالکل خالی ہوجائے گا اور انسان جب کہ مرنے کے بعد ہر حالت میں اس کے اندر سمایا جا رہا ہے وہ بھی ساری مخلوق نکل آئے گی۔
Ayah 84:5

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے رب کے لیے کان لگائے گی اور یہی اسے سزاوار بھی ہے

وہ اپنے رب کے لیے کان لگائے گی اور حکم کی فرمانبرداری کے لیے تیار ہو گی 5 ؎ اس آیت کی تفسیر وہی ہے جو اوپر آیت 2 میں گزر چکی کیونکہ یہ آیت بالکل وہی آیت ہے جو اوپر آیت نمبر 2 میں گزر چکی ہے اور اس میں فرق ہے تو فقط یہ ہے کہ آیت 2 میں آسمانوں کا رب کریم کی بات کا سنتا اور فرمانبرداروں کا جوا اپنی گردن میں ڈالنا تھا اور زیر نظر آیت میں زمین کے کان لگا کر بات سننے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبردار ہونے کا بیان ہے اور ظاہر ہے کہ دنیا کی ہرچیز ہی رب ذوالجلال والاکرام کی فرمانبردار ہے اور وہی سب کا خالق ومالک ہے ، اس کے سامنے کسی کی مجال ہے کہ وہ حکم عدولی کرے اور پھر ان سب کا فرمانبردار ہونا لازم و ضروری بھی ہے۔
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان ! تو خوب کوشش کرنے والا ہے (اس لیے) اپنے رب کی طرف (پہنچنے کی) خوب کوشش کر (کہ تو ہی) اس سے ملنے والا ہے

اے انسان تو خوب کوشش کرنے والا ہے پس اپنے رب کی طرف کوشش کر 6 ؎ ( کا دح) کا اصل مادہ ل د ح ہے۔ اسم فاعل واحد مذکر کدح مصدر و اسم مصدر فتح الفظ کدح لازم بھی ہے اور معتدی بھی ۔ اول صورت میں کوشش کرنے اور مشقت اٹھانے کے معنی ہوں گے ۔ کدح فی العمل اس نے کام کرنے میں کوشش کی مشقت اٹھائی کدح لعیالہ اس نے اپنے اہل و عیال کے لیے کوشش کی اور اگر معتدی ہو تو چھیلنے اور خراش پیدا کرنے کے معنی ہوں گے جیسے کدح وجھہ اس نے چہرے کو چھیل دیا لیکن زیر نظر آیت میں پہلے معنی مراد ہیں دوسرے نہیں ۔ دوڑنے والا ۔ محنت و مشقت کرنے والا ، کوشش کرنے والا ۔ انسان سے مراد سارے انسان ہی لیے جاسکتے ہیں اور وہ خاص انسان بھی جو اس دنیا میں مغرورانہ زندگ گزارتے رہے ہیں اور جو اپنے آپ کو ہم چوما دیگر نے نیست سمجھتے ہیں ۔ قیامت کے منکر اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے سے عقیدۃ ً یا عملاً انکاری ہیں ۔ ان انسانوں کو مخاطب کر کے بات کی جا رہی ہے کہ اے انسان تو طالب دنیا ہے یا طلب عقبیٰ دونوں ہی صورتوں میں تو بڑی جانفشانی سے اپنے کاموں کی انجام دہی میں کوشاں رہتا ہے ، ہر قسم کی صعوبت کو برداشت کرتا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے یہاں تک کہ تیرے رب سے تیری ملاقات کا وقت آجاتا ہے اور اس ملاقات سے وہ ملاقات عقبیٰ مراد نہیں ہے جو بعض کے لیے جائز اور بعض کے لیے حرام ہے یعنی بعض اس کو کر ہی نہیں سکیں گے اس جگہ ملاقات سے مراد ہے موت کہ ہر انسان خواہ وہ کون ہے ، کیسا ہے اور کہاں ہے موت اس کے لیے نا گریز ہے اور مرنا اس کا لازم ہے خواہ وہ انسان کتنی کوششیں کرے اور جو جتن چاہے کرتا رہے موت سے دو چار ہوئے بغیر اس کو چارہ نہیں ہے اور دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ انسان کی جدوجہد اس وقت تک جاری وساری رہے گی جس وقت تک وہ اپنی جان جان آفریں کے سپرد نہیں کردیتا اور پھر جہاں بھی انسان لگا ہے اس کی کوشش ہو رہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے آگے بڑھتا جائے اگر کوئی برائی میں لگا ہے تو یہی بات اس کے ذہن میں سمائی ہے اور اگر وہ نیکی کی طرف راغب ہے تو یہی بات اس کے ذہن پر سوار ہے اور انجام سب کا موت ہے۔ بلا شبہ اگر خاتمہ بالخیر ہے تو کوئی خوف و خطر نہیں ہے اور اگر بات دوسری ہے تو سزا اس کے لیے تیار کھڑی ہے اور عذاب الٰہی اس کے انتظار میں ہے لیکن بہتر کیا طریقہ ہے فرمایا تیری زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ تو اپنے رب کریم کی طرف رواں دواں رہے اور جب تیری ملاقات کا وقت آئے اور تجھے موت دی جائے تو تیرے استقبال کے لیے اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی تیار کھڑے ہوں ۔ کمال تو اس میں ہے کہ اللہ کرے کہ کمال کے بعد زوال نہ شروع ہوجائے اور تیری زندگی کیا کامیاب گزرے کہ تیری آخرت شاندار ہوجائے اور تو اس دنیا سے سروخرو ہو کر نکلے۔ تیرے مرنے پر کوئی آنسو بہانے والا ہو اور تیرے استقبال کے لیے کھڑا ہونے والا تیری ملاقات تیرے رب سے کردار دے تو کیا ہی زندگی ہے ، سبحان اللہ !
Ayah 84:7

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

پس جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا

پس جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا 7 ؎ کامیابی کی علامت اور ناکامی کی علامت جو قیامت کے روز ظاہر ہوگی وہ یہی ہے جس کا ذکر اس سے قبل بھی کیا جا چکا ہے کہ کامیاب لوگوں کے داہنے ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا اور ناکام لوگوں کے بائیں ہاتھ میں اور یہ علامت ایسی علامت ہے کہ کسی کو کوئی شبہ نہ رہے گا کہ کون کامیاب ہوا اور کون ناکام ؟ اور نہ ہی اس میں کوئی دیر لگے گی ، ہاں ! کسی کو کسی طرح کا کوئی شبہ ہوگا تو وہ بلا روک ٹوک اپنا نکال سکے گا اور جو بھی اس سلسلہ میں کوشش کرے گا وہ یقینا نادم ہوگا کہ میں نے کیا کیا ۔ زیر نظر آیت میں کامیاب ہونے والوں کا ذکر ہے کیونکہ یہ وہی لوگ ہوں گے جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ وہ اعمال نامہ کو دیکھتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ اس کی تفصیل چاہتے ہوں تو سورة الحاقہ کی آیت 19 کی تفسیر دیکھیں ۔
Ayah 84:8

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

تو اس سے جلد ہی آسان حساب لے لیا جائے گا

تو اس سے جلد ہی آسان حساب لیا جائے گا 8 ؎ وہ لوگ جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ موصول ہوں گے لاریب ان میں ان کی ہر نیکی اور بدی کی تفصیل موجود ہوگی لیکن ان سے ایک ایک بات کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا اور جب وہ کامیاب ہوگئے تو اب بات کی ضرورت بھی نہ رہی کہ اس کی تفصیل بتائی جائے یہ تو ایک قسم کا رزلت کارڈ ہے اور سند تو اس کے بعد آئے گی۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا حساب تو بہت ہی آسان ہوگا کہ جوں ہی میدان حشر میں اکٹھے ہوئے اور ملاقات ہوتے ہی ان کا اعمال نامہ ان کو داہنے ہاتھ میں دے دیا گیا تو اس سے زیادہ آسانی اور کیا ہوگی ، ہاں ! اعمالنامہ تو ان کو بھی اسی وقت دے دیا جائے گا جن کے بائیں ہاتھ میں جائے گا لیکن ان کے لیے حساب آسان نہ ہوا کیونکہ اس کارڈ نے تو میدان حشر میں جاتے ہی ان کو گویا پھنسا دیا اس لیے ان کا حساب آسان نہ ہوا ۔ آسان صرف ان ہی لوگوں کے حساب کو کہا گیا ہے جن لوگوں کے پاس (Pass) ہونے کی خوشخبری ان کو دی گئی کہ ان کی ساری مشکلات جو انہوں نے دنیوی زندگی میں اٹھائی تھیں ایک ایک کر کے ختم ہوگئیں اور آنے والی مصیبت جب گزر جاتی ہے اور دوسرے لفظوں میں جس کو مصیبت ٹل گئی کہتے ہیں اس کے بعد اس کا احساس اسوقت نہیں رہتا یا کم ہی رہ جاتا ہے جب اس کا نتیجہ بھی اچھا نکل آئے۔
Ayah 84:9

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور یہ اپنے گھر والوں کے پاس خوش خوش واپس آئے گا

اور یہ اپنے گھر والوں کے پاس نہایت خوش و خرم واپس آئے گا 9 ؎ عین ممکن ہے کہ جوں جوں اعمال نامے ان کو دیئے جائیں ساتھ ساتھ ہی ان کو جنت کی طرف بھی رواں دواں کردیا جائے گا اگر بات اس طرح ہوگی تو ظاہر ہے کہ وہ جنت میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب کے سب اکٹھے ہوجائیں گے خصوصاً یہ ان اہل و عیال کا ذکر کیا جا رہا ہے جس گھر کے سارے افراد بحمد اللہ جنت جانے کے مستحق ٹھہریں گے اور جب وہ جنت میں اکٹھے ہوجائیں گے تو بہر حال سب ہی خوش ہوں گے اور اگر اس وقت میدان حشر میں اکٹھاے ہونے کا وقت ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ میدان حشر ہی کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ خوش و خرم نظر آئیں گے اور ان کے چہروں پر کسی طرح کی کوئی اداسی نہیں ہوگی۔ بلکہ ساری اداسیاں ختم ہوجائیں گی اور وہ اب جنت میں جائیں گے تو ان میں سے جن کے درجات بلند ہوں گے ان کے برابر سب کو کردیا جائے گا تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہ سکیں ۔ ان سب کے مل کر رہنے کا ذکر پیچھے بلا شبہ سورة الطور کی آیت 21 ، 22 میں پوری وضاحت سے گزر چکا ہے۔
Ayah 84:10

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کو اس کا اعمال نامہ پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا

اور جس کو اس کے اعمالنامہ پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا 10 ؎ جن لوگوں کو ان کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ان کو ان کی پیٹھ کی طرف سے پکڑا یا جائے گا اور پیٹھ کے پیچھے سے دیئے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو پشت کے پچھے ڈال رکھا تھا اور ان کی اس علامت کو وہاں بھی اجاگر کیا جائے گا کہ تم لوگوں نے جس طرح کتاب اللہ کی پشت کے پیچھے ڈال کر اپنی مرضی سے کیا جو کچھ کیا اور ہمارے قانون کی کوئی پروانہ کی اس طرح تم کو بھی تمہاری پشت ہی کے پیچھے سے تمہارا اعمال نامہ ہم پیش کر رہے ہیں اور تم کو مجبور کر رہے ہیں کہ اس کو بائیں ہاتھ میں پکڑو اور ابھی جب تم کو دوزخ کی طرف جانے کا حکم ملے گا تو دوزخ میں تم کو پہنچ جانا ہوگا۔
Ayah 84:11

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

پس وہ موت کو (خود اپنے منہ سے) پکارے گا

پس وہ موت کو خود اپنے منہ سے پکارے گا ۔ 11 ؎ (ثبورا) ہلاکت اور موت کو کہتے ہیں اور یہ ثبر یثثبر کا مصدر ہے۔ اس کا مادہ ث ب رہے۔ ( ثبورا) کا لفظ قرآن کریم میں 4 بار آیا ہے تین بار سورة الفرقان کی آیت 13 ، 14 میں اور ایک بار اس جگہ زیر نظ آیت میں اور اس مادہ کا ایک لفظ (مثبورا) کا استعمال سورة الاسراء کی آیت 102 میں ہوا ہے۔ فرمایا وہ لوگ جن کی پشت کے پیچھے سے ان کو اعمال نامہ پیش کیا جائے گا اور ان کے بائیں ہاتھ میں وہ تھما یا جائے گا وہ موت کو پکاریں گے اور واویلا کریں گے ، گال نوچیں گے اور بال کھوئیں گے اور اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی اور وہ موت کو پکاریں گے کہ کاش ہم کو موت آجائے لیکن موت اب کہاں ؟ وہ تو خود موت کے گھاٹ ایار دی جائے گی اب تو ان کی زندگی ایسی ہی زندگی ہوگی کہ نہ وہ مریں گے اور نہ ہی جینے کا کوئی لطف ان کو رہے گا ۔ اسی حالت کو قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ( لا یموت فیھا ولا یحییٰ ) ان کی کیفیت کچھ اس طرح ہوگی کہ نہ تو وہ مریں گے اور نہ ہی وہ زند ہوں گے ۔ ظاہر ہے جس زندگی پر انسان خود موت کو بہتر سمجھے اور اچھا جانے وہ زندگی کیا زندگی ہوئی اس لیے وہ اپنی اس زندگی پر روئیں گے لیکن ان کے رونے سے بھی ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
Ayah 84:12

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور (انجام کار) بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا

اور انجام کار بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا 12 ؎ اس کے چیخنے اور چلانے سے اس کو کچھ فائدہ نہ ہوگا اور اس کو پکڑ کر دوزخ رسید کردیا جائے گا ( یصلیٰ ) کا مادہ ص ل ی ہے ۔ واحد مذکر غائب مضارع صلی مصدر ہے وہ داخل ہوگا ۔ مطلب یہ ہے کہ اب وہ خواہ کچھ بھی کرے اس کو دوزخ میں پہنچا دیا جائے گا جو ایسے ہی لوگوں کے لیے بھڑکائی گئی ہے اور ان لوگوں کو اس میں ڈال کر مزید بھڑکا دیا جائے گا ۔ گویا ان کو بطور ایندھن اس میں ڈالا جائے گا جیسا کہ سورة البقرہ کی آیت 24 میں اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ پتھروں کے ساتھ ان لوگوں کو بھی دوزخ کو مزید بھڑکانے کے لیے ڈالا جائے گا ۔
Ayah 84:13

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

بلاشبہ وہ اپنے اہل و عیال میں مگن رہا کرتا تھا

بلا شبہ وہ اپنے اہل و عیال میں مگن رہا کرتا تھا 13 ؎ ان لوگوں کو اس بےدردی کے ساتھ آگ میں جلانے کا جو ذکر کیا گیا ہے تو اس میں تعجب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں یہ دنیا کی زندگی میں اس قدر مگن تھے کہ ان کو جب آخرت کا نام بھی سنائی دیتا تو یہ لوگ جزبز ہوجاتے اور آخرت کا نام لنے والے کو دو چار سنا دیا کرتے تھے اور اپنے اہل و عیال میں جب رہتے تھے تو ہر وقت ان ہی کے متعلق ان کی سوچ وبچار رہتی تھی اور دنیا کے کاموں میں اس قدرمنہمک تھے کہ اس کے سامنے سب کچھ ہیچ سمجھتے تھے کبھی ان کو بھول کر بھی اس بات کا خیال نہ آتا تھا کہ ایک دن ان کو اللہ تعالٰ کے روبرو پیش ہونا ہے اور وہاں امن خرمستیوں اور بد عتدالیوں کا جواب دینا ہے۔ بس اس خود فراموشی کا نتیجہ ہے کہ آج سیٹھ صاحب کو ، پیر جی کو ، سجادہ نشین صاحب کو اور حضرت العلام کو اور وزیر صاحب کو دوزخ رسید کیا جارہا ہے اور اس وقت ان کی ساری خوشیاں ہرن ہوچکی ہیں۔
Ayah 84:14

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اس نے سمجھ رکھا تھا کہ اسے کبھی واپس نہیں لوٹنا ہے

اس نے سمجھ رکھا ہے کہ اسے کبھی واپس نہیں لوٹنا ہے 14 ؎ ( یحور) کا اصل ما ح و ر ہے ۔ واحدمذکر غائب مضارع منفی منصوب حور مصدر ۔ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جب دنیا کی زندگ گزار رہے تھے تو ان کو کبھی بھول کر بھی اس کا خیال نہ آیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں بس ان کو اس دنیا کی ہوس نے اس قدر مصروف بنا دیا تھا کہ آخرت ان کو یاد ہی نہ تھی اور اگر کوئی ان کو یاد دلاتا تھا تو وہ اس کو برا بھلا کہتے تھے اور مست ہاتھی کی طرح اس کے پیچھے پڑجاتے تھے اور ان کی جی چاہتا تھا کہ آخرت کا نام لینے والوں کو وہ کہیں اٹھا کر پھینک دیں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے نہ آئیں گویا وہ اس کے نام ہی سے الرجک تھے۔
Ayah 84:15

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

کیوں نہیں ، بلاشبہ وہ اپنے رب کی نظر میں تھا

کیوں نہیں ، بلا شبہ وہ اپنے رب کی نظر میں تھا 15 ؎ ( بلی) ہاں ! الف اس میں اصل ہے لیکن بعض نے کہا ہے کہ زائد ہے اور اصل میں بل ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تانیث کے لیے ہے کیونکہ اس کا امالہ ہوتا ہے۔ ( بلی) کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے ایک تونفی ما قبل کی تردید کے لیے جیسے : (زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا بلی ورتی لتبعثن) (التغابن : 64 : 7) ” کافروں کا دعویٰ کہ ہرگز وہ نہیں اٹھائیں جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا “۔ دوسرے یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر دلالت کرتا ہے خواہ استفہام حقیقی ہو یا استفہام تو سیخی یا استفہام تقریری ہو ۔ اس طرح نعم کے معنوں میں آئے گا لیکن نعج اور (بلی) میں فرق ہے۔ نعم استفہام مجرد کے جواب میں آتا ہے اور ( بلی) بالاتفاق ایجاب کے جواب میں نہیں آتا بلکہ اس استفہام کے جواب میں آتا ہے جو مقترن بنفی ہو نیز (بلی) ابطال نفی کے لیے آتا ہے اور نعم تصدیق ما قبل کے لیے ( بلی ) کا استعمال قرآن کریم میں 22 بار ہوا ہے جیسے ( البقرہ : 81 ، 112 ، 260) ( آل عمران : 76 ، 125) ( الانعام : 30) ، (الاعراف : 172) ، (النحل : 28 ، 38) ، (سبا : 3) ، (یٰسین : 81) ، ( الزمر : 59 ، 71) ، ( المؤمن : 50) ، ( الزخرف : 80) ، (الحدید ، 14) ، ( الاحقاف : 34) ، ( التغابن : 7) ، ( الملک : 9) ، (القیامہ : 4) اور زیر نظر آیت میں آیا ہے۔ محولہ بالا آیتوں کو نکال کر ( بلی) کا استعمال دیکھیں گے تو آپ کو خود بخود اندازہ ہوجائے گا کہ اس کا استعمال کیا ہے۔ فرمایا کیوں نہیں ، وہ تسلیم کے یا نہ کرے ، وہ مانے یا نہ مانے بہر حال اس کے رب سے اس کی کوء حالت بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

پس نہیں ، میں شفق (کے رب ) کی قسم کھاتا ہوں

پس نہیں ، میں شفق کے رب کی قسم کھاتا ہوں 16 ؎ ( شفق) خیال رہے کہ ( شفق) کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے۔ بعض شام کے وقت افق کی سرخی کو (شفق) کہتے ہیں اور بعض اس کی سپیدی کو ۔ راغب نے بیان کیا ہے کہ ” سورج کے ڈوب جانے پر ، دن کی روشنی اور رات کی سیاہی کی باہمی آمیزش شفق ہوتی ہے۔ یہ معنی کنارہ آسمان کی سرخی اور سپیدی دونوں پر مشتمل ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ” ( شفق ) اضداد میں سے ہے ، اس سرخی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جو مغرب میں آفتاب غروب ہونے پر نظر آتی ہے اور امام شافعی نے اسی کو لیا ہے اور اس سپیدی کے لیے بھی آتا ہے جو سرخی کے بعد مغربی افق پر باقی رہتی ہے اور امام ابوحنیفہ نے اسی کو اختیار کیا ہے “۔ ( النہایۃ) شو کانی نے نزع القدیر میں ابوحنیفہ کے قول کی تردید میں کہا ہے کہ : ولا وجہ لھذا القول ولا متمسک لا من لغۃ العرب ولا من الشرع “ اور اس قول کی کوئی وجہ نہیں اور نہ ہی اس کے لیے زبان عرب سے کوئی سند ہے اور نہ شروع ہے “۔ بہر حال فقہاء کے اختلاف کو نقل کیا گیا ہے اور اس میں کلام طویل کیا گیا ہے اور فقہاء کے اقوال کے اختلاف میں فقہی مسائل ہیں جن کا تعلق نماز مغرب اور عشاء کے تعین میں ہے اور یہ لا یخل مسائل ہیں اس لیے ہم اس سے زیادہ بحث نہیں کرتے نہ اس جگہ کوئی ضرورت ہو ۔ وہ وقت جو دن کے جانے اور رات کے آنے کا ہوتا ہے یا اس کا عکس یعنی رات کے جانے اور دن کے آنے کا ہوتا ہے دونوں وقتوں کو بطور شہادت پیش کیا گیا ہے اور آنے والے اور جانے والے دونوں مضامین کو اس سے مؤکد کیا گیا ہے اور اس کی تاکید کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ تاکید کے بعد بیان کیا گیا مضمون بھی مؤکد ہوگا اور آنے والے مضمون کی بھی وضاحت ہوجائے گی گویا اس کی تاکید کے ساتھ بیان کرنا مقصود تھا اور وہ کردیا ۔
Ayah 84:17

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات (کے رب ) کی بھی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے

اور رات کے رب کی بھی جب وہ سب کچھ سمیٹ لیتی ہے 17 ؎ ( وسق) کا مادہ و س ق ہی ہے واحد مذکرغائب ماضی معروف وسق مصدر ( ضرب) سمیٹ کر جمع کرلیا۔ یعنی سمیٹ کر جمع کرتی ہے ۔ رات آتے ہی جو کچھ سمیٹنے لگتی ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ چو پائے ، آدمی ، پرندے سب کو رات سمیٹ کر ہر ایک کو ٹھکانے پر پہنچا دیتی ہے اور اس مادہ سے لفظ ( اتسق) کا بھی ہے اور یہی دونوں الفاظ ہیں جو قرآن کریم میں اس مادہ کے بیان ہوئے ہیں اور وہ بھی صرف اس مقام پر علاوہ ازیں کسی بھی دوسری جگہ پر دونوں الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔ رات کو اور جو کچھ رات سمیٹ کر اکٹھا کرلیتی ہے سب کو استشہاد کے لیے پیش کیا جا رہا ہے اور بات کو مؤکد کرنے کے لیے اس طرح کا مضمون لایا گیا ہے۔
Ayah 84:18

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور قسم ہے چاند (کے رب ) کی جب وہ مکمل ہو جائے

اور قسم ہے چاند کے رب کی جب وہ مکمل ہو جائے 18 ؎ ( اتسق) جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ مادہ تو اس کا بھی و س ق ہی ہے ( اتسق ) وہ پورا ہوا ، مکمل ہوا تساق سے جس کے معنی پورا ہونے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ قمر کے اتساق کے معنی قدرے بھرنے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ نور اسی وقت بھرتا ہے جب وہ بدر ہوجاتا ہے یعنی مکمل ہوجاتا ہے جیسے چودہویں اور پندرہویں کا چاند اور اس کی اس حالت کو ماہ یامہ کے لفظ سے بھی یاد کرتے ہیں ۔ پھر چاند کی اس حالت کو بھی بطور شہادت بھی پیش کیا جا رہا ہے اور مقصود بات کو مؤکد کرنا ہے خصوصاً وہ بات جو آنے والی آیت میں باپن کی گئی ہے۔
Ayah 84:19

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

تم ضرور درجہ بدرجہ ان حالتوں کو پہنچو گے

تم صرف درجہ بدرجہ ان حالتوں کو پہنچو گے 19 ؎ ( ترکبن) تم ضرور سوار ہو گے رکوب سے مضارع بانون تاکید کا صیغہ جمع مذکر حاضر ( طبقا) ( طبق) اصل مادہ ط ب ق ہے اور طبقہ درجہ ، منزل ، کھنڈ ، حال ، حالت ، طبق اصل میں مطلقا ً اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری چیز کے مطابق ہو اور عرف میں یہ الفاظ اس حال کے لیی خاص ہوگیا ہے کہ جو دوسرے حال کے مطابق ہو ۔ بعض علماء لغت نے صبق کو طبقۃ کی جمع بتایا ہے جس کے معنی درجہ کے ہیں اور بعض کے خیال میں یہ اسم جنس جمع ہے جو واحد اور جمع دونوں کے لیے مستعمل ہے اور زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ تم کو ضرور ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچنا ہے۔ گویا ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف ترقی کرنا ہے۔ دنیا میں جو انسان مختلف حالات میں ترقی کرتا ہے اور اس طرح منزل در منزل پہنچتا ہے اپنی پیدائش سے لے کر مرنے تک اور مرنے کے بعد اس کی آخری حالت دوزخ یا جنت میں پہنچنے تک مختلف منازل سے گزرتا ہوا پہنچتا ہے ان سب حالتوں کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے یا ان سب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی حشر و نشر اور حساب و کتاب کی ساری منازل اس میں آگئی ہیں اوپر تین چیزوں کی قسم کے ساتھ اس بات کو مؤکد کیا گیا ہے اور مؤکد کرنے کے بعد اس بات کی طرف توجہ کی ہے جس کے لیے مؤکد کیا گیا ہے ۔ اور وہ کیا ہے ؟ فرمایا تم کو تمہاری زندگی سے سبق دیتا ہے کہ تم نے رحم مادر سے ہوتے ہوئے اس دنیا کے منہ پر قدم رکھا اور اس دھرتی پر تمہارا بچپن اور جوانی گزری اور تم بڑھاپے کی طرف مائل ہو اور اس طرح چلتے چلتے تم قبر کی منزل تک پہنچ گئے اور یہ وہ وقت ہے کہ تمہارا دنیا سے تعلق منقطع ہوگیا اور کتنا دور گزرا کچھ معلوم نہیں اور آخر کار تم قیامت کے روز دامن جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر وہ دنیا مشاہدہ کی نہیں ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کہاں سے کہاں ہوتے ہوئے اپنے آخری ٹھکانے تک پہنچ گئے اور تم کو معلوم ہوگیا کہ ہم کس راستہ پر گامزن تھے اور یہ بات تمہارے اس آخری ٹھکانہ ہی نے تم پر واضح کی کہ قیامت کے نہ ماننے کا نقصان کیا ہوا ۔
Ayah 84:20

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے

پھر ان لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ؟ 20 ؎ تم کو کیا ہوا ہے کہ تم باوجود ایک انسان ہونے کے ایمان نہیں لاتے یا ایمان نہیں لانا چاہتے حالانکہ ان تغیرات کو تم روزانہ اپنی زندگی پر بھی ملاحظہ کر رہے ہو اور اپنے ارد گرد ماحول کو بھی دیکھ رہے ہو اور اللہ تعالیٰ کی اس وسیع و عریض کائنات میں ہر آن مشاہدہ کر رہے ہو پھر ان سارے تغیرات میں سے گزرنے کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو ۔ قیامت کے بپا میں جو حکمتیں قدرت الٰہی نے پنہاں رکھی ہیں ان پر نظر رکھنے کے لے تم تیار ہی نہیں ہو ۔ کتنے نادان ہو تم لیکن تمہارے خیال میں تم ہی دانایان وم و وطن ہو کہ اقتدار میں تمہارا بہت حصہ رکھا گیا ہے اور مال سے تم مالا مال ہو حالانکہ دانائی کے ساتھ ان دونوں چیزوں کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
Ayah 84:21

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جائے تو وہ سجدہ نہیں کرتے

اور جب ان کے سامنے قرآن کریم پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے 21 ؎ تمہاری نادانی کا ثبوت اس سے بڑا اور کیا ہو سکتا ہے کہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ جب تمہارے سامنے قرآن کریم پڑھا جاتا ہے تو تم سجدہ نہیں کرتے حالانکہ حق تو یہ تھا کہ جب قرآن کریم تم کو ہدایت دے رہا ہے اور اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ جو تم کو لازما ً پیش آنے والی ہے اور پھر صرف ایک حقیقت ہی کی طرف تم کو دعوت نہیں دے رہا ، تمہاری زندگی کی آسان راہیں بھی تمہارے سامنے کھول رہا ہے اور وہ طریقے بتا دیئے جن پر عمل کر کے تم نہایت اعلیٰ اور نہایت اچھے انسان بن سکتے ہو ، تمہاری ساری کثافتیں ختم ہوجائیں اور تم نہایت پاکیزہ انسان بن جائو ۔ تعجب ہے تمہاری حالت پر کہ تم انسان ہو کہ اثر قبول نہیں کر رہے حالانکہ قرآن تو اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہے کہ اس کی تاثیر سے پتھر بھی موم ہوجاتے اور پہاڑوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور کائنات کی ہرچیز اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس سے متاثر ہوتی ہے لیکن اگر ٹس سے مس نہیں ہوتے تو تم انسان کہلانے والے ہو اور انسانیت سے محروم ہو ۔ زیر نظر آیت پر قرآن کریم کا چودہواں سجدہ ہو جو سجدہ ٔ تلاوت کے نام سے معروف ہے اور ہر قاری اور سامع پر لازم ہے کہ جب وہ ایسی آیات کو سنے تو سجدہ میں گر پڑے اور اگر کوئی مجبوری لا حق ہو تو فرصت ملتے ہی اس سجدہ کی نیت سے ایک سجدہ کرلے تاکہ نہ سجدہ کرنے والے میں اس کا شمار نہ ہو ۔ نماز کے اندر ایسی آیات میں کوئی آیت تلاوت کی جائے تو بھی سجدہ کرنا افضل ہے اور سجدہ کرنے کے بعد دوبارہ وہیں سے تلاوت شروع کردینا چاہیے اور قیام سے فارغ ہو کر رکوع کرنا چاہیے لیکن اگر نماز کے اندر سجدہ نہ کیا گیا تو بھی نماز ادا ہوجائے گی۔
Ayah 84:22

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ وہ لوگ جو کافر ہیں (اس قرآن کو) جھٹلاتے ہیں

بلکہ وہ لوگ جو کافر ہیں اس قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں 22 ؎ حق بات کو جھٹلا نا کیا ہے ؟ سیدھا کفر ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو اس بات سے مانع ہو کہ قرآن کریم کے جھٹلانے والے کو کافر نہ کہا جائے جب کہ اس کے کفر میں کسی طرح کا کوئی ابہام باقی نہیں رہتا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان کا اقرار بھی کرے اور کلمہ اسلام کا ورد بھی کرے اور اس کے باوجود تعلیمات اسلامی کے مطابق اعمال نہ کرے ، وہ تعلیمات جو قرآن کریم ہی کے ذریعہ سے ہماری پاس پہنچی ہیں تو ایسے انسان کو بھی کافر ہی کہا اور سمجھا جائے کیونکہ قرآن کریم کی آمد کا اصل مقصد ہی اصلاح انسانی ہے اور اگر کسی چیز سے جو اصل مقصود ہے وہ پورا نہ ہو رہا ہو تو اس چیز کے ہونے کا فائدہ ؟ مطالبہ تو یہ تھا کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو سننے والے ، پڑھنے والے سجدہ کی آیت پر اسی وقت سجدہ میں گر پڑیں اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ سجدہ کرنے کی بجائے انہوں نے قرآن کریم ہی کو جھٹلایا اور اس کو کتاب اللہ ماننے سے انکار کردیا تو اس سے زیادہ بڑا کفر اور کیا ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کو قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم مسلمان کہلانے میں مخلص اور سچے ثابت ہوں۔
Ayah 84:23

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ (اس کو) خوب جانتا ہے جو وہ (دِلوں میں) چھپاتے ہیں

اللہ اس کو خوب جانتا ہے جو وہ دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں 23 ؎ ( یوعون) کا اصل مادہ و ع ی ہے ۔ اس مادہ کے چند الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں جیسے ( تعیھا) الحاقہ : 12) ، (واعیھا) (الحاقہ : 12) ، (فادعیٰ ) (المعارج : 18) ، (وعاء) (یوسف : 176) ، (باوعیتھم) (یوسف : 76) ، (یوعون ) زیر نظر آیت میں جمع مذکر غائب مضارع ایعاء مصدر یعنی وہ جمع کرتے ہیں ۔ چھپاتے ہیں ، پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں سے بھی آگاہ ہے وہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں چھپا ہے یا جو وہ کچھ ان کے اعمالناموں میں لکھا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ عداوت کے سوا اور کیا ہے اور کیا ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے دلوں میں عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ان کی حالت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ بھی نہیں ہے اور وہ ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دینے میں بھی ہر طرح کا اختیار رکھتا ہے اور لا ریب وہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا ۔
Ayah 84:24

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

پس آپ ان کو دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیں

پس آپ ان کو درد ناک عذاب کی خبر پہنچا دیں 24 ؎ ( بشرھم) بشر کا مادہ ب ش ر ہے اور یہ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے ۔ تو خوش خبری دے ۔ تو خبردے ۔ تبشیر سے نفس انسانی کا خاصہ ہے کہ جب اس کو خوش خبری سنائی جاتی ہے تو وفور محبت اور حسرت سے اس کا جسم پر خون دورہ کرنے لگتا ہے اس لیے ایسی خوشخبری جس کو سنانے سے انسان کے چہرے پر مسرت اور فرحت کے آثار ظاہر ہونے لگیں بشر کہتے ہیں لیکن کبھی کبھی غصہ کے اظہار کے لیے بطور اطلاع اس کا استعمال افسوسناک ، اندوہ گین اور بری خبر سنانے کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور دراصل یہ اس لیے بھی بولا جاتا ہے کہ اس سے مراد افسوس کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔ گویا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خبر بھی سامع تک پہنچ جائے اور افسوس کا اظہار بھی ہوجائے اور اس طرح کے استعمال کو استعارہ سے بھی موسوم کیا جاتا ہے جیسا کہ کسی سر سڑنے نے کہا ہے کہ ع تحیۃ بینھم ضرب وجیع ” ان کا آپس کا سلام درد انگیز ضرب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ کار زار کی گرما گرمی سے ان کے سلام کی ابتدا ہوتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی ان کو خبر دینے اور اظہار افسوس کرنے کے لیے اس کا استعمال ہوا ہے کہ درد ناک عذاب کی خبر ذرا بھر بھی خوش آئندہ نہیں ہو سکتی لنکع اس کا ذکر کرنے کے لیے ( بشر) کا استعمال اس افسوسناک حالت کے باعث ہے کہ باوجود ان کو سمجھانے کے اور مثالیں دینے کے ان کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی اور نہ ہی وہ اپنی ڈگر سے باز آئے ہیں اور نہ ہی آئندہ ان کے باز آنے کی کوئی صورت نظر آتی ہے ۔
Ayah 84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

مگر ہاں ! جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی منقطع ہونے والا نہیں

مگر ہاں ! وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے اجر غیر منقطع ہے 25 ؎ جب برے اعمال کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایک کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔ نہیں ! جہاں برے اعمال کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب کی خبر ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے اس طرح کا اجر محفوظ کر رکھا ہے کہ وہ اس کو دیکھ کر محظوظ ہونے لگیں گے اور وہ اجر بھی ایسا ہے جو کبھی احسان نہیں کہا گیا بلکہ ایسا ہے کہ غیر منقطع بھی ہے اور کسی کے سر پر احسان بھی نہیں کیا گیا ہوگا کیونکہ کسی کے کیے کے بدلہ کو احسان نہیں کہا جاسکتا ۔ بلا شبہ اجر دینے والا ایسا سمجھے اور ایسے سمجھتا ہے لیکن جس نے اجر حاصل کیا ہے وہ اس کو اللہ تعالیٰ کا احسان ہی خیال کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے ایسا ہوا کہ ان کو اچھے اعمال کی توفیق بخشی گئی اگر وہ اعمال اچھے نہ کرتے تو کرسکتے تھے کیونکہ بہت سے لوگوں کو سمجھا گیا لیکن اس کے باوجود وہ نہ سمجھے بلکہ انہوں نے سمجھانے والوں کو بھی اچھا نہ سمجھا۔ ہاں ! وہ لوگ جو نیک اعمال کرتے رہے اور ان نامساعد حالات میں بھی انہوں نے ایمان و عمل کی مکمل طور پر حفاظت کا ان کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے اور قیامت کے روز ان کو اس کا اچھا بدلہ عطا کیا جائے گا جس سے وہ ہمیشہ کے لیے خوش و خرم رہیں گے ۔ اسی مضمون پر ہم اس سورة کی تفسیر ختم کرتے ہیں ۔ رب یسر ولا تعسرو تمم بالخیر۔