84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 84:1

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا السماء انشقت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابو داوٗ دوالنسائی وابن مردویہ نے ابو رافع (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی انہوں نے آیت اذا السماء انشقت پڑھی اور سجدہ کیا میں نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ سجدہ کیوں کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کے پیچھے سجدہ کیا اور میں اس میں ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میں آپ سے قیامت کے دن ملاقات کروں گا۔ سجدۂ قرآن کا ذکر 4۔ ابن ابی شیبہ ومسلم وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیت اذا السماء انشقت اور آیت اقرأ باسم ربک میں سجدہ فرمایا۔ 5۔ البغوی فی معجمہ والطبرانی نے صفوان بن عسال ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت اذا لسماء انشقت میں سجدہ فرمایا۔ 6۔ ابن خزیمہ ولرویانی فی مسندہ والضیاء المقدسی نے المختارہ میں بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ ظہر کی نماز میں آیت اذا لسماء انشقت اور اس جیسی سورة پڑھا کرتے تھے۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ آسمان کہکشاں سے پھٹ جائے گا۔
Ayahs 84:2–3

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے رب کا حکم سن لے گا اور وہ اسی لائق ہے

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین کھینچ کر بڑھا دی جائے گی

8۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت یعنی اس نے اطاعت کی آیت وحقت۔ اور یہ اطاعت اور فرمانبرداری اس پر لازم ہے۔ 9۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے آیت واذنت لربہا وحقت اور اپنے رب کا حکم سن لے گا اور وہ اسی لائق ہے کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اطاعت کی اور اس کے لیے حق تھا کہ وہ اطاعت کرے۔ 10۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت لربہا یعنی اس نے کلام سن لیا جو بھی اللہ تعالیٰ نے اس سے کلام فرمایا۔ 11۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت لربہا وحقت یعنی اس نے اپنے رب کا فرمان سنا اور اطاعت کی آیت واذا الرض مدت اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن آیت ولاقت ما فیہا اور جو کچھ اس میں ہے ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی۔ یعنی زمین سب مردوں کو باہر نکال دے گی اور جو اس کے اندر ہیں آیت وتخلت اور ان سے خالی ہوجائے گی۔
Ayahs 84:4–5

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور وہ سب کچھ ڈال دے گی جو اس کے اندر ہے اور خالی ہوجائے گی

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور وہ اپنے رب کا حکم سن لے گی اور وہ اسی لائق ہے

12۔ عبد بن حمید نے مجاہد رحمہا للہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 13۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقت ما فیہا یعنی سونے کے کنگن (باہر ڈال دے گی) ۔ 14۔ الفریابی وعبد بن حمید والحاکم وصححہ والبیہقی نے الدلائل میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ بیت اللہ زمین سے دو ہزار سال پہلے موجود تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واذا الارض مدت۔ یعنی زمین بیت اللہ کے نیچے سے پھیلائی گئی مکمل طور پر۔ 15۔ الحاکم نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق انسان، جن، چوپائے اور جنگلی جانور سب کو اٹھائیں گے۔ جب وہی دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ جانوروں کے درمیان قصاص کو قائم فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کے لیے بدلہ لیں گے۔ اس کی ٹکر کی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ جانورون کے درمیان قصاص سے فارغ ہوجائیں گے۔ تو ان سے فرمائیں گے تم مٹی ہوجاؤ تو سب ختم ہوجائیں گے جب کافر اس کو دیکھے گا تو کہے گا آیت یلیتنی کنت ترٰبا (النباء آیت 40) اے کاش میں مٹی ہوگیا ہوتا۔ 16۔ الحاکم نے سند جید کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن زمین کو چمڑے کی طرح پھیلادیا جائے گا پھر ابن آدم کے لیے اس میں سے اپنے قدم رکھنے کی جگہ کے علاوہ کوئی جگہ نہ ہوگی۔ 17۔ ابو القاسم الختلی نے الدیباج میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اذا السماء انشقت کے بارے میں فرمایا کہ میں سب سے پہلا آدمی ہوں گا کہ جس سے قیامت کے دن سب سے پہلے زمین پھٹے گی۔ اور میں اپنی قبر میں سیدھا بیٹھ جاؤں گا اور میرے ساتھ زمین حرکت کرے گی۔ میں اس سے کہوں گا تجھے کیا ہوا وہ کہے گی میرے رب نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ جو کچھ میرے اندر ہے میں اس کو باہر نکال دوں۔ اور میں خالی ہوجاؤں پھر اس طرح ہوجاؤں جیسے پہلے تھی کہ کوئی چیز میرے اندر نہ تھی۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت والقت ما فیہا وتخلت۔ 18۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذنت لربہا وحقت سے مراد ہے اس نے رب کا فرمان سنا اور اطاعت کی آیت والقت ما فیہا وتخلت یعنی وہ نکال دے گی اپنے بوجھو کو اور جو کچھ اس میں ہے خزانوں میں سے اور لوگوں میں سے جو مدفون ہیں۔ اور فرمایا آیت یا ایہا الانسان انک کا دح الی ربک کدحا۔ اے انسان تو اپنے رب کے پاس پہنچتے تک کام میں کوشش کر رہا ہے۔ یعنی تو اس کے لیے مسلسل اور سخت کوشش کرتا ہے۔
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان ! تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک کوشش کر رہا ہے پھر اس سے ملاقات ہوجائے گی

19۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الانسان انک کا دح ربک الی کدحا یعنی تو اپنے رب کی طرف مسلسل محنت اور کوشش کرتا رہتا ہے۔ 20۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انک کا دح الی ربک کدحا یعنی بیشک تو سخت محنت کرتا ہے آیت فملقیہ یعنی تو اپنے عمل سے ملاقات کرنے والا ہے۔
Ayah 84:7

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

سو جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا گیا

21۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن المنذر وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نہیں ہے جس کا حساب کیا جائے گا مگر وہ ہلاک ہوگا۔ میں نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ہیں۔ آیت فاما من اوتی کتبہ بیمینہ۔ فسوف یحاسب حسابا یسیرا۔ جس کو اس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا تو عنقریب اس کا آسان حساب کیا جائے گا آپ نے فرمایا : یہ حساب کے بارے میں نہیں بلکہ یہ تو عرض کرنا ہے اور جس سے سخت حساب لیا گیا تو وہ ہلاک ہوگیا۔
Ayah 84:8

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

سو اس سے آسان حساب لیا جائے گا

22۔ احمد وابن جریر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض نماز میں یہ دعا فرماتے تھے آیت اللہم حاسبنی حسابایسیرا۔ اے اللہ میرا اس ان حساب کیجیے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یارسول اللہ ! آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا کہ اس کے اعمال نامہ میں دیکھا جائے پھر اس سے درگذر کردیا جائے۔ کیونکہ جس سے سخت حساب لیا گیا پس وہ ہلاک ہوگیا۔ 23۔ ابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت فسوف یحاسب حساب یسیرا تو اس سے آسانی کے ساتھ حساب لیاجائے گا۔ یعنی اس کے گناہوں کو پہچانا جائے گا پھر اس سے درگذر کردیا جائے گا۔ 24۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جس کا قیامت کے دن حساب کیا گیا تو وہ جنت میں داخل کردیا جائے گا اور فرمایا آیت فاما من اوتی کتبہ بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یعرف المجرمون بسیمہم فیوخذ باالنواصی والاقدام۔ (الرحمن آیت 41) مجرم اپنے چہرے کے نشان سے پہچانے جائیں گے پس پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑے جائیں گے۔ قیامت کے دن آسان حساب 25۔ البزار والطبرانی والحاکم نے ابوہریرہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ تین خصلتیں جس میں ہوں گی اللہ تعالیٰ اس پر حساب آسان فرمادے گا۔ اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمادے گا۔ تو اس کو عطا کرر جو تجھ کو محروم کرے۔ اور تو معاف کردے جو تجھ پر ظلم کرے اور تو صلہ رحمی کر جو تجھ سے قطع رحمی کرے۔
Ayah 84:9

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے متعلقین کی طرف خوش ہو کر لوٹے گا

26۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وینقلب الی اہلہ مسرورا اور وہ اپنے اہل و عیال میں خوش واپس آئے گا یعنی جنت میں اپنے گھر والوں کی طرف آیت وما من اوتی کتبہ وراء ظہرہ اور لیکن جس کا اعمال نامہ پیٹھ پیچھے سے دیا گیا۔ یعنی اس کے ہاتھ کو اپنی جگہ سے ہٹا کر اس کے پیٹھ پیچھے کردیا جائے گا۔ 27۔ ابن المنذر نے حمید بن ہلال (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے سامنے ذکر کیا گیا کہ ایک آدمی کو قیامت کے دن حساب کی طرف بلایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا اے فلانے آجاؤ حساب کی طرف راوی نے کہا یہاں تک کہ وہ کہے گا کیا میرے سوا کوئی اور مراد ہے جسے حساب کے لیے حاضر کیا جارہا ہے۔ 28۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یدعوا ثبورا۔ موت کو پکارے گا یعنی ہلاکت کو۔ 29۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہ کان فی اہلہ مسرورا۔ بیشک وہ دنیا میں اپنے اہل و عیال میں بڑا خوش وخرم تھا۔
Ayahs 84:10–15

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کا اعمال نامہ اس کے پشت سے دیا گیا

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

سو یہ شخص ہلاکت کو پکارے گا

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

بیشک وہ اپنے گھروالوں میں خوش تھا

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

بیشک اس نے یہ خیال کیا کہ وہ واپس نہ جائے گا

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

ہاں ضرور واپس ہونا ہے، بیشک اس کا رب اسے دیکھنے والا ہے

30۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر اور بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واما من اوتی کتبہ وراء ظہرہ اور لیکن جس کو اعمال نامہ پیٹھ پیچھے دیا گیا۔ یعنی اس کا بایاں ہاتھ اس کے پیٹ پیچھے کردیا جائے گا۔ اور اس سے وہ اپنے اعمال نامہ کو لے گا۔ 31۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ ظن ان لن یحور بیشک اس نے سمجھ لیا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 32 عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 33۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان لن یحور یعنی وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 34 عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان لن یحور یعنی وہ ہماری طرف ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 35۔ الطستی نے اپنے مسائل میں اور الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان لن یحور کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حبشہ کی لغت میں اس کا معنی ہے کہ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا یعنی وہی وہی ہرگز اللہ کی طرف آخرت میں نہیں لوٹے گا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے لبید کا قول نہیں سنا۔ وما المرء الا کا لشہاب وضوء ہ یوحور مادا بعد اذہو ساطغ ترجمہ : نہیں ہے کوئی آدمی مگر شہاب کی طرح کہ اس کے پھیلنے اور چمکنے کے بعد اس کی روشنی راکھ بن جاتی ہے۔ 36۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت انہ ظن ان لن یحور بیشک اس نے سمجھ لیا تھا کہ وہ ہرگز لوٹ کر نہ جائے گا کے بارے میں روایت کیا کہ کہ کیا تو نے حبشی کو نہیں سنا جب اس سے کہا جائے آیت خبر الی اہلک کہ تو اپنے گھر والوں کی طرف۔
Ayah 84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

سو میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

37۔ ابن ابی شیبہ نے عوام بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مجاہد (رح) سے کہا آیت بالشفق سے کیا مراد ہے تو فرمایا کہ شفق سورج میں سے ہے۔ 38۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وابن المنذر وعبد بن حمید وابن امردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت الشفق سے مراد سرخی ہے۔
Ayah 84:17

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو رات نے سمیٹ لیا

39۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللی وما وق سے مراد ہے کہ قسم ہے رات کی اور ان کی جو اس میں داخل ہو۔ 40۔ ابو عبید فی فضائلہ وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وللیل وما وسق یعنی قسم ہے رات کی اور ان کی جن کو جمع کیے ہوئے ہے۔ 41۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل وما وسق یعنی قسم ہے رات کی اور ان کی جو اس میں پناہ لیتی ہیں اور جن کو وہ جمع کیے ہوتی ہے یعنی سانپ بچو اور کیڑے، مکوڑے وغیرہ۔ 42۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما وسق سے مراد ہے قسم ہے رات کی اور جو کچھ اس میں عمل کیا جاتا ہے۔
Ayah 84:18

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب وہ پورا ہوجائے

43۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا اتسق اور چاند کی جو وہی پورا ہوجائے یعنی جب وہ پورا ہوجائے۔ 44۔ الطستی فی مسائلہ والطبرانی وابن الانباری فی الوقف والابتداء میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت والقمر اذا اتسق کے بارے میں پوچھاتو فرمایا کہ اتساقہ سے مراد ہے اس کا جمع ہونا پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابن صرمہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ ان لنا قلائصا نقانقا مستوسقات لویجدن سائقا ترجمہ بیشک ہمارے پاس شتر مرغ کی مثل لمبی ٹانگوں والی اونٹنیاں ہیں وہ جمع ہوجاتی ہیں اگر وہ سائق کو پالیں 45۔ عبدالرزاق عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا اتسق سے مراد ہے قسم ہے چاند کی جب وہ گول ہوجائے۔ 46۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس طرح روایت کیا۔ 47۔ عبد بن حمید وابن الانبار نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واللیل وما وسق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا قسم ہے رات کی اور جن کو وہ سمیٹے ہوئے کیا تو نے یہ شعر نہیں سنا۔ ان لنا قلائصا نقا مستوسقات لو یجدنا سائقا ترجمہ : بیشک ہمارے پاس شتر مرغ کی مثل لمبی ٹانگوں والی اونٹنیاں ہیں وہ جمع ہوجاتی ہیں اگر وہ سائق کو پالیں۔ 48۔ عبد بن حمید نے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا اتسق سے تیرھویں رات کا چاند مراد ہے۔
Ayahs 84:19–24

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

تم ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچو گے

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

سو ان لوگوں کو کیا ہوا جو ایمان نہیں لاتے

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو نہیں جھکتے

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ کافر لوگ جھٹلاتے ہیں

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ جمع کر رہے ہیں

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

سو آپ ان کو ایک درد ناک عذاب کی خبر دے دیجیے

49۔ عبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی تم کو ایک امر کے بعد دوسرے امرت کی طرت بتدریج چڑھنا ہے۔ 51۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لترکبن طبقا عن طبق ایک حال کے بعد دوسرا حال کی طرف چڑھنا ہے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کے بارے میں ہے۔ 52۔ ابی عبید فی القراءات و سعید بن منصور وابن منیع وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی باء کے فتح کے ساتھ اور فرمایا تمہارے نبی نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔ 53۔ ابو عبید فی القراء ات و سعید بن منصور وابن منیع وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے۔ 54۔ الطیالسی وعبد بن حمید وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عباس رضٰ اللہ عنہا سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی اے محمد آپ نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔ 55۔ عبد بن حمید وابن المنذر والحاکم فی الکنی ابن مندہ فی غرائب شعبہ وابن مردویہ والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن بطق میں لترکبن کو نصب کے ساتھ پڑھا یعنی اے محمد ! آپ نے ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان کی طرف چڑھنا ہے۔ 56۔ البزار نے ابن مسعد ؓ سے آیت لترکبن طبقا عن طبق کے بارے میں روایت کیا کہ اے محمد ! آپ نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔ 57۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے آیت لترکبن طبقا عن طبق کے بارے میں روایت کیا کہ اے محمد ! آپ نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔ 58۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور والفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ فی الحاکم والبیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی آسمان پھت جائے پھر شق ہوجائے گا پھر وہ سرخ ہوجائے گا۔ 59۔ عبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے ابن مسعودر ضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا آسمان رنگ برنگا ہوجائے گا پگھلی ہوئی دھات کی طرح اور گلاب کے پھول کے رنگ کی طرح ہوجائے گا ڈھیلا اور کمزور ہوجائے گا اور پھٹ جائے گا پس وہ ایک حال کے بعد دوسرے حال میں ہوجائے گا۔ 60۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق سے مراد ہے کہ تم پر بیس سال میں ایسے نئے امر ہوں گے کہ جس پر تم پہلے نہ تھے۔ 61۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق سے ایسی قوم مراد ہے کہ دنیا میں ان کے معاملات انتہائی حسین اور گھٹیا تھے اور وہ آخرت میں بلند ہوجائیں گے۔ اور ایک قوم دنیا میں بڑی معزز تھی اور آخرت میں پست ہوجائے گی۔ دنیا میں انسان کے مختلف حالات 62۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے ایک دنیا دار انسان خوشحالی میں تھا جبکہ پھر وہ آزمائش میں پڑگیا۔ اور ایک انسان آزمائش میں تھا جبکہ وہ پھر خوشحال ہوگیا۔ 63۔ ابو نعیم نے الحلیہ میں مکحول (رح) سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق سے مراد ہے کہ تم ہر بیس سال میں ایک حال پر ہوتے ہو اس طرح پر کہ تم پہلے اس حالت پر نہ تھے۔ 64۔ عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت لترکبن طبقا نصب کے ساتھ پڑھا۔ 65۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت لترکبن طبقا نصب کے ساتھ پڑھا۔ 66۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے صیغہ جمع کی صورت میں لترکبن تاء کے ساتھ اور باء کے رفع کے ساتھ پڑھا۔
Ayah 84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں

67۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللہ اعلم بما یوعون۔ اور اللہ خوب جانتا ہے وہ جو دل میں محفوظ رکھتے ہیں یعنی جو وہ چھپاتے ہیں۔ 68۔ عبدالرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اعلم بما یوعون یعنی جیسے وہ چھپاتے ہیں آیت لہم اجر غیر ممنون ان کے لیے بےانتہا اجر ہے یعنی ان کے لیے بےحساب اجر ہے۔ 69۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لہم اجر غیر ممنون کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے ایسا اجر جو کم نہیں ہوگا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے زہیر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ فضل الجواد علی الخیل البطاء فلا یعطی بذلک ممنونا ولا ترفا ترجمہ : تیز رفتار گھوڑے کو فضیلت سے سست رفتار گھوڑی پر پس اس کے سبب نہ کوئی اجر دیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی خوشحالی لائی جاتی ہے