84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsانوار البیان

Ayah 84:1

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

(84:1) اذا السماء انشقت : اذا بمعنی جب، اس وقت، ناگہاں ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے اکثر و بیشتر شرطیہ ہوتا ہے۔ آیت ہذا میں بعض کے نزدیک اذا شرطیہ ہے جواب شرط محذوف ہے جس کے مضمون پر آئندہ آیات دلالت کر رہی ہیں۔ یعنی جب ایسا ایسا ہوگا تو انسان اپنی کوشش کو پالے گا۔ اور اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ خوش خوش لوٹے گا۔ اور اگر پیٹھ کے پیچھے سے اس کو اعمال نامہ دیا گیا تو ہلاکت کو پکارے گا۔ (مظہری) مولانا عبد الحق اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔ اذا : اذا کرکے یہ تو بیان فرما دیا کہ جب ایسا ہوگا اور جب ایسا ہوگا۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ جب یہ ہوگا تو کیا ہوگا ؟ یعنی اذا شرطیہ کی جزاء یا شرط کا جواب نہیں فرمایا۔ کہ اس کو اہل زبان کے مذاق پر چھوڑ دیا کہ وہ خود سمجھ لیں گے۔ کہ اس وقت ضرور انسان کا یہ خیال غلط ثابت ہوجائے گا ۔ کہ اس کو مر کر کسی دار جزاو سزا کی طرف جانا نہیں ہے۔ اور اسی لئے بعد میں اس مقصود کی تشریح کردی جس کو بعض نے جواب شرط سمجھ لیا۔ (تفسیر حقانی) بعض نے کہا ہے کہ :۔ لیست بشرطیۃ بل ہی منصوبۃ باذکر المحذوف : وہی مبتداء وخبرھا اذا الثانیۃ والواو زائدۃ (ایضا) ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ شرطیہ نہیں ہے بلکہ اذکر محذوف سے منصوب ہے اور مبتداء ہے جس کی خبر دوسرا اذا ہے واؤ زائدہ ہے۔ انشقت فعل محذوف کی تفسیر ہے جس کا السماء فاعل ہے کلام یوں ہوگا :۔ اذانشقت السماء انشقت (جب آسمان پھٹ جائے گا) ۔ انشقت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ انشقاق (انفعال) مصدر سے۔ جس کا معنی ہے شق ہوجانا۔ پھٹ جانا۔ وہ (آسمان ) پھٹ جائے گا۔ (عربی میں السماء مؤنث مستعمل ہے) ۔
Ayah 84:2

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا فرمان بجالائے گا اور اسے واجب بھی یہی ہے

(84:2) واذنت لربھا واؤ عاطفہ اذنت کا عطف انشقت پر ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے۔ اذنت ماضی واحد مؤنث غائب اذن (باب سمع) مصدر۔ اذن لہ۔ سننا کان لگا کر سننا۔ اذن (باب سمع) مصدر سے۔ اذن لہ اجازت دینا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : الا من اذن لہ الرحمن (79:38) مگر جس کو (خدا) رحمن اجازت بخشے۔ آیت زیر مطالعہ میں اذنت اذن مصدر سے ہے اگرچہ باب و مادہ دونوں کا ایک ہی ہے۔ وحقت یہ اذنت کی ضمیر فاعل سے حال ہے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب حق (باب ضرب) مصدر سے حق علی واجب ہونا۔ لازم ہونا۔ حق لک ان تفعل تمہارے لئے اس کا کرنا موزون ہے۔ حقت وہ اسی لائق ہے۔ اس کے لئے حق یہی ہے (کہ سنے اور عمل کرے) ۔ ضحاک نے کہا کہ :۔ حقت ای حق لہا ان تطیع ربھا۔ اس کے لئے واجب ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کرے۔ یعنی جو اسے حکم دیا گیا بلا چوں و چرا بجا لائے۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین ہموار کردی جائے گی

(84:3) واذا الارض مدت اس کا عطف بھی آیت نمبر 1 پر ہے مدت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب مد (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ پھیلا دی گئی۔ وہ ہموار کردی گئی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔
Ayah 84:4

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر باہر کر دے گی اور (بالکل) خالی ہوجائے گی

(83:4) والقت ما فیہا۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے جس کا عطف سابقہ جملہ پر ہے۔ القت ماضی واحد مؤنث غائب القاء (افعال) مصدر سے جس کے معنی ڈالنا۔ نکال ڈالنا۔ دونوں کے ہیں۔ ما موصولہ فیہا۔ اس کا صلہ موصول اور صلہ مل کر مفعول انشقت کا۔ اور وہ (زمین) نکال پھینکے گی جو کچھ اس میں ہے (از قسم مردہ انسان ، حیوان، جن ، دفینے، خزانے وغیرہ۔ جیسا کہ اور جگہ ہے واخرجت الارض اثقالہا (99:2) جب زمین اپنے بوجھ۔ یعنی دفینے وغیرہ نکال پھینکے گی۔ وتخلت : اس کا عطف والقت پر ہے۔ تخلت ماضی واحد مؤنث غائب تخلی (تفعل) مصدر سے بمعنی خالی ہونا۔ تفعل کے وزن پر فعل میں تکلف کی خاصیت پائی جاتی ہے لہٰذا ترجم ہوگا :۔ اور (زمین) بہ تکلف (اپنی اپنی کوشش سے) اپنے مافیہا سے خالی ہوجائے گی (کہ کوئی چیز اندر نہ رہ جائے)
Ayah 84:5

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے ارشاد کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی ہے (تو قیامت قائم ہوجائے گی)

(84:5) واذنت لربھا وحقت اور اپنے رب کا حکم کان لگا کر سنے گی اور اس کو بجا لائے گئ۔ نیز ملاحظہ ہو 84:2) متذکرۃ الصدر۔ فائدہ : جن علماء کے نزدیک اذا (84:1-3) شرطیہ ہے (اور اس کا جواب شرط محذوف سمجھا گیا ہے مندرجہ ذیل جواب محذوف نقل ہوا : (1) جواب شرط محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے اذا ۔۔ بعثتم جب ۔۔ تو تم قبروں سے دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جاؤ گے (2) جواب شرط آیت 84:6 ہے ای یایھا الانسان ۔۔ الخ۔ (3) جو اسب شرط قول ربانی : فاما من ۔۔ الخ ہے یہ قول المبرد اور الکسائی کا ہے۔ (4) جواب شرط فلملاقیۃ ہے۔ یہ قول اخفش کا ہے۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا

(84:6) یایھا الانسان۔ یا حرف ندا ہے۔ ایھا جب منادی پر الف لام داخل ہو تو مذکر میں ایھا اور مؤنث میں ایتھا یاء کے ساتھ بڑھایا جاتا ہے الانسان میں منادی پر چونکہ الف لام داخل ہے اس لئے حرف نداء کے بعد الف لام بڑھا دیا گیا ہے یایھا الانسان۔ اے آدمی۔ اے انسان۔ مؤنث کی مثال ہے۔ یایتھا النفس المطمئنۃ (89:27) اے اطمینان پانے والی روح۔ الانسان منادی ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) بعض نے کہا ہے کہ الانسان سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں اور اس کے معنی یہ لئے ہیں کہ اے انسان ! یعنی اے نبی کریم ﷺ آپ ابلاغ رسالت میں اور ارشاد و تعلیم میں جو کوشش بلیغ اور سرگرمی دکھا رہے ہیں آپ اس کا نیک بدلہ ضرور پائیں گے آپ کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی۔ (2) بعض کے نزدیک اس سے مراد کافر ابوجہل و ابی بن خلف ہے کہ تمہارے کفر پر اصرار ، رسالت کی تکذیب اور دنیا کی طلب آخر رنگ لائے گی اور ہیبت ناک شکل میں قیامت کے روز تیرے سامنے ہوگی۔ (3) بعض اس طرف گئے ہیں کہ یہ خطاب سب بنی نوع انسان سے ہے ہر ایک اپنے کئے کا بدلہ ضرور پائے گا۔ انک کا دح الی ربک کدحا : ان حرف تحقیق مشبہ بالفعل ک ضمیر متصل اسم ان کا دح اس کی خبر۔ کدحا مفعول مطلق الی ربک متعلق خبر۔ کا دح ، کدح (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر، کسی چیز کے حصول و کسب میں محنت و مشقت اٹھانا۔ کدح کہلاتا ہے لغت عرب میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان دنیا و آخرت کے سلسلہ میں کسی کام میں کوشاں ہو۔ اس کے دل میں اس کی خواہش بھی ہو اور اس کی یہ کوشش لگاتار جاری رہے ان سب امور کے مجموعہ کو کدح کہتے ہیں۔ امام راغب المفردات میں لکھتے ہیں :۔ الکدح بمعنی کوشش کرنا مشقت اٹھانا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشش کر رہا ہے۔ آیت ہذا کے ذیل حاشیہ پر تفہیم القرآن میں تحریر کرتے ہیں :۔ یعنی وہ ساری تگ و دو اور دوڑ و دھوپ جو تو دنیا میں کر رہا ہے اس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے اور دنیوی اغراض کے لئے ہے لیکن در حقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر (کشاں کشاں) اپنے رب ہی کی طرف جا رہا ہے اور آخر کار تجھے وہیں پہنچ کر ہی رہنا ہے۔ فملاقیہ :بمعنی انجام کار، پس، ملاقیہ مضاف مضاف الیہ۔ ملاقی اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ ملنے والا۔ پالینے والا۔ پاس پہنچنے والا۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مضاف الیہ ، اس کا مرجع رب ہے۔ انجام کار تجھے وہیں پہنچنا ہے ۔
Ayah 84:7

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

تو جس کا نامہ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا

(84:7) فاما من اوتی کتبہ بیمینہ۔بمعنی پھر، پس۔ اما تفصیل کے لئے ہے بمعنی یا۔ سو۔ جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ فاما الذین منوا فیعلمون انہ الحق من ربھم واما الذین کفروا فیقولون ماز اراد اللہ بھذا مثلا (2:26) سو جو لوگ ایمان کائے ہیں تو وہ یہی سمجھیں گے کہ وہ (مثال) یقینا حق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے اور جو لوگ کفر اختیار کئے ہوئے ہیں وہ یہی کہتے رہیں گے کہ اللہ کا اس مثال سے مطلب کیا تھا ؟ من شرطیہ ہے اور اوتی کتبہ بیمینہ جملہ شرط ہے اوتی ماضی مجہول واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر سے وہ دیا گیا۔ اس کو ملا۔ کتبہ مضاف مضاف الیہ اس کی کتاب، اس کا اعمال نامہ۔ یمینہ اس کا دایاں ہاتھ۔ اس کا سیدھا ہاتھ۔ ترجمہ :۔ پھر جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔
Ayah 84:8

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

اس سے حساب آسان لیا جائے گا

(84:8) فسوف یحاسب حسابا یسیرا۔ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے ہے سوف فعل مضارع پر داخل ہوکر مستقبل کے لئے مختص کردیتا ہے اور زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔ عنقریب، اب ہی۔ حسابا یسیرا موصوف و صفت مل کر فعل یحاسب کا مفعول۔ یسیرا ، یسر (باب سمع) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ آسان سہل ۔ اس کا آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا۔ حضرت امام احمد کی روایت ہے کہ :۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ حساب یسیر کیا ہوگا ؟ فرمایا اس کا کتابچہ دیکھ کر درگزر کی جائے گی۔ البتہ جس کے حساب فہمی پوچھ گچھ کے ساتھ کی جائے گی وہ ہلاک ہوجائے گا۔
Ayah 84:9

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھروالوں میں خوش خوش آئے گا

(84:9) وینقلب الی اہلہ مسرورا۔ واؤ عاطفہ، ینقلب مضارع واحد مذکر غائب انقلاب (انفعال) مصدر سے وہ لوٹے گا۔ قلب الشیء کے معنی کسی چیز کو پھیرنے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں۔ انقلاب کے معنی پھرجانے کے ہیں ۔ انسان کے دل کو قلب اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ کثرت سے الٹتا لپٹتا رہتا ہے۔ اہلہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے اہل ۔ اپنے لوگ۔ اپنے اہل۔ اپنے لوگوں سے مراد آدمی کے وہ اہل و عیال، رشتیہ دار، ساتھی جو اسی کی طرح معاف کئے گئے ہوں گے۔ (تفہیم القرآن) نیز ملاحظہ ہو 83:31 ۔ ینقلب کا عطف یحاسب پر ہے۔ مسرورا : سرور (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر (بحالت نصب) خوش کیا ہوا۔ خوش، اترایا ہوا۔ جو خوشی اندر چھپ رہی ہو وہ سرور ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 76:11) ۔ مسرورا حال ہے من سے۔
Ayah 84:10

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کا نامہ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا .

(84:10) وراء ظھور۔ ظھرہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف ہے ورآء مضاف الیہ کا۔ اس کی پشت کے پیچھے سے۔ ورآء مصدر ہے لیکن اس کا معنی ہے آڑ، حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے ہونا پیچھے ہونا۔ چاروں طرف ہونا۔ سوا۔ علاوہ۔ فصل اور حد بندی پر دلالت کرتا ہے اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔ ظھر بمعنی پشت۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واما من اوتی کتبہ بشمالہ (69:25) اور جسے اس کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ اس کی تشریح میں علامہ بیہقی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ اس کا بایاں ہاتھ پشت کے پیچھے کردیا جائے گا۔ اور اعمال نامہ کو وہ بائیں ہاتھ سے لے گا۔ واما من اوتی کتبہ ورآء ظھرہ جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ اس کا جواب۔
Ayah 84:11

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

وہ موت کو پکارے گا

(84:11) فسوف یدعوا ثبورا۔ جواب شرط ہے۔جواب شرط کے لئے ہے سوف (ملاحظہ ہو 84:8 مذکورہ بالا) یدعوا مضارع واحد مذکر غائب باب نصر۔ مصدر سے۔ وہ پکارے گا۔ وہ بلائے گا۔ ثبورا۔ مفعول یدعوا کا۔ باب نصر۔ ثبر یثبر کا مصدر ہے بمعنی ہلاکت، بربادی، موت ، تو وہ موت کو پڑا پکارے گا۔
Ayah 84:12

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور دوزخ میں داخل ہوگا

(84:12) ویصلی سعیرا۔ جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ ہے یصلی مضارع واحد مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر سے وہ داخل ہوگا۔ سعیرا مفعول فیہ۔ یعنی دوزخ میں ۔ سعیر : سعر (باب فتح) مصدر سے۔ جس کا معنی آگ بھڑکانا کے ہیں ۔ فعیل کے وزن پر بمعنی مفعول ہے۔ بھڑکتی ہوئی آگ، دوزخ۔
Ayah 84:13

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

یہ اپنے اہل و عیال میں مست رہتا تھا

(84:13) انہ کان فی اہلہ مسرورا۔ یہ جملہ موت کو پکارنے کی علت ہے کیونکہ وہ تو اپنے گھر والوں میں خوشیاں منایا کرتا تھا۔ نہ اللہ کا ڈر تھا نہ حلال و حرام کی تمیز نہ آخرت کی فکر بس عیش و عشرت میں غرق نفسانی خواہشات کا غلام ہو کر دنیاوی رنگ رلیوں میں مگن رہتا تھا اس کے برخلاف اللہ کے نیک بندوں کی حالت مختلف ہوتی تھی۔ قرآن مجید میں ہے قالوا انا کنا قبل فی اہلنا مشفقین (52:26) اللہ کے مومن بندے بہشت میں اس کی نعمتوں سے خط اٹھا رہے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ہم کلام ہوکر ۔ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہا کرتے تھے۔ مسرورا۔ خوش۔ نیز ملاحظہ ہو 84:9 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 84:14

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا

(84:14) انہ ظن ان لن یحور۔ تحقیق اس نے سمجھ رکھا تھا کہ اس نے کبھی پلٹ کر جانا ہی نہیں ہے۔ ظن : ظن (باب نصر) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس نے خیال کیا۔ اس نے سمجھا۔ اس نے گمان کیا۔ ان مصدریہ لن یحور مضارع منفی تاکید بلن واحد مذکر غائب حور (باب نصر) مصدر سے بمعنی پلٹنا۔
Ayah 84:15

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

ہاں ہاں اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا

(84:15) بلی۔ ہاں۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے :۔ ّ 1) نفی ماقبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافر دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ۔ تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی۔ تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ آیت زیر مطالعہ بھی نفی ما قبل کی تردید کے لئے ہے۔ (2) اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہو خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے :۔ الیس ذید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں) ۔ اور جواب میں کہا جائے بلی۔ یا استفہام توبیخی ہو جیسے :۔ ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:3-4) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے ۔ ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں۔ (نیز ملاحظہ ہو 3:76) ان ربہ کان بہ بصیرا۔ یہ رجوع (خدا کی طرف پلٹنا) کو ثابت کرنے کی علت ہے یعنی اس کی واپسی خدا کی طرف ضرور ہوگی۔ اللہ اس کو ضرور سزا دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو دیکھ رہا ہے ، بخوبی واقف ہے۔ اس کے اعمال کو یوں ہی رائیگاں نہیں چھوڑے گا ضرور انتقام لے گا۔ ان حرف مشبہ بالفعل ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان ، کان بہ بصیرا، ان کی خبر۔ کان فعل ناقص ضمیر فاعل اس کا اسم بصیر اس کی خبر۔ بہ متعلق خبر۔ جملہ محل رفع میں ہے ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع وہ شخص ہے جس کا اعمالنامہ اس کی پشت کی طرف سے دیا گیا۔
Ayah 84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

ہمیں شام کی سرخی کی قسم

(84:16) فلا اقس بالشفق :عاطفہ ہے لا زائدہ ہے اقسم مضارع واحد متکلم اقسام (افعال) مصدر سے میں قسم کھاتا ہوں نیز ملاحظہ ہو 69:38 ۔ الشفق مقسم بہ (جس کی قسم کھائی جائے) الشفق آسمان کی سرخی جو غروب آفتاب کے بعد ہوتی ہے یا وہ سفیدی جو اس سرخی کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ امام راغب (رح) فرماتے ہیں :۔ سور کے غروب کے وقت دن کی روشنی کا رات کی سیاہی سے ملنا شفق ہے ۔ میں شفق کی قسم کھاتا ہوں۔
Ayah 84:17

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کرلیتی ہے ان کی

(84:17) والیل وما وسق۔ اس کا عطف الشفق پر ہے۔ اور میں قسم کھاتا ہوں رات کی اور میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے رات اکٹھا کرلیتی ہے۔ ما موصولہ وسق اس کا صلہ دونوں مل کر اقسم کا مقسم بہٖ ۔ وسق وسق (ضرب) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے سمیٹ کر جمع کرلیا۔ مجاہد کا قول ہے کہ :۔ ماوسق کا معنی یہ ہے کہ جس چیز کو رات اپنی لپیٹ میں لے لے اور تاریکی میں چھپالے ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ :۔ رات میں جو کچھ کیا جائے (سب ما وسق میں داخل ہے) یعنی قسم ہے شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ دیتی ہے یا جن کو رات اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے یا ان کی جو رات میں کیا جاتا ہے۔
Ayah 84:18

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب کامل ہوجائے

(84:18) والقمر اذا اتسق : اس کا عطف بھی آیت نمبر 1 پر ہے اور میں قسم کھاتا ہوں چاند کی جب وہ پورا ہوجائے۔ اتسق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اتساق (افتعال) مصدر سے۔ وہ پورا ہوا ، وہ مکمل ہوا۔
Ayah 84:19

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہ اعلی پر) چڑھو گے

(84:19) لترکین طبقا عن طبق۔ جملہ جواب قسم ہے۔ لترکبن۔ مضارع معروف بلام تاکید و نون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ رکوب (باب سمع) مصدر بمعنی سواری کرنا۔ اس کے اصل معنی تو جانور کی پشت پر سوار ہونے کے ہیں لیکن یہ کشتی پر سوار ہونے کے لئے بھی مستعمل ہے جیسے فاذا رکبوا فی الفلک دعو اللہ مخلصین لہ الدین (29:65) پھر جب یہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے ہیں (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ یہاں آیت زیر مطالعہ میں مجازا ایک منزل کے بعد دوسری منزل سے گزرنے اور ایک حال سے دوسرے حال سے گزرنے کے لئے اس کا استعمال ہوا ہے۔ طبقا مفعول فعل لترکبن کا۔ عن طبق صفت طبقا کی ہے طیق بمعنی طبقہ درجہ۔ منزل، حال، حالت، طبقا اصل میں مطلقا اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری چیز کے مطابق ہو اور عرف میں یہ لفظ اس حال کے لئے خاص ہوگیا ہے جو دوسرے حال کے مطابق ہو۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ ارشاد الٰہی ہے : کترکبن طبقا عن طبق (تم کو ضرور ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچنا ہے یعنی ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف ترقی کرنی ہے۔ دنیا میں جو انسان مختلف حالات کی طرف ترقی کرتا ہے یہ ان حالات کی طرف ارشادہ ہے جیسا کہ آیت کریمہ خلقکم من تراب ثم من نطمۃ (22:5) تم کو بنایا مٹی سے پھر بوند پانی سے) ۔ فرما کر بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ نیز آخرت میں حشر و نشر، حساب و کتاب، اور پل صراط سے لے کر جنت دوزخ میں ٹھکانا ہونے تک جو مختلف حالات پیش آنے والے ہیں یہ ان کی طرف اشارہ ہے۔ (المفردات)
Ayah 84:20

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے

(84:20) فما لہم لا یؤمنون : ما استفہامیہ ہے پھر ان کو کیا ہوا کہ ایمان نہیں لاتے۔ علامہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔ اس استفہام سے مقصود ہے انکار اور تعجب کا اظہار۔ وعدہ ابرار اور وعید فجار جو اوپر گزرا اس سے یہ کلام تعلق رکھتا ہے درمیان میں جملہ فلا اقسم بطور معترضہ ذکر کیا گیا ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کلام کا ربط آیت لترکبن طبقا عن طبق سے ہو کیونکہ تبدیل احوال سے تبدیل کرنے والے کی ہستی کا پتہ چلتا ہے پھر کیا وجہ کہ اس کو نہیں مانتے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 84:21

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے

(84:21) واذا قری علیہم القرآن لا یسجدون۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔
Ayah 84:22

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں

(84:22) بل الذین کفروا یکذبون بل حرف اضراب ہے حکم ماقبل کو برقرار رکھتے ہوئے حکم ما بعد کو حکم ما قبل پر زیادہ کرنے کے لئے آیا ہے یعنی قرآن کو سن کر سجدہ کرنا تو کجارہا یہ اس سے بدتر عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں یونی اس کی تکزیب کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کفار الٹا اسے جھٹلاتے ہیں۔
Ayah 84:23

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے

(84:23) واللہ اعلم بما یوعون جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ جو انہوں نے اپنے اندر بھر رکھا ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ یوعون مضارع یا صیغہ جمع مذکر غائب (ایعاف (انعال) مصدر۔ مادہ و عی حفاظت کے لئے جمع کرنا۔ بوری یا تھیلا کو جس میں دوسری چیزیں اکٹھی کرکے رکھی کائیں اس کو دعاء کہتے ہیں ۔ اور اس کی جمع اوعیۃ ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے فبدا باوعیتھم قبل وعاء اخیہ (12:76) پھر اس (یوسف) نے اپنے باھائی کے شیلتے سے پہلے ان کی شلیتوں کو دیکھانا شروع کیا۔ (راغب) (2) اپنے اعمالناموں میں جمع کرتے ہیں ۔ (محلی) (3) چھپاتے ہیں۔ پوشیدہ رکھتے ہیں (یعنی اپنے دلوں میں) حضرت ابن عباس ؓ قتادہ سے نزدیک مطلب یہ کہ :۔ یہ کافر لوگ اور کذاب لوگ اپنے سینوں میں کفرو عناد اور عداوت حق اور برے ارادں کے مطلب اور فاسد نیتوں کی جو گندگی لئے پھرتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
Ayah 84:24

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

(84:24) فبشرھم بذاب الیمسببیہ ہے تکذیب سبب بشارت سے۔ عذاب سے ڈرانے کی بجائے عذاب کی خوشخبری دینے کا حکم استہزاء دیا ہے (بمعنی ان کے حق میں یہی بشارت ہے) ۔ بشر فعل امر واحد مذکر حاضر تبشیر (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع تکذیب کرنے والے ہیں۔ تو ان کو بشارت (خوشخبری) دیدے۔ عذاب الیم موصوف صفت دردناک عذاب۔
Ayah 84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکے لئے بےانتہا اجر ہے

(84:25) الا الذین امنوا وعملوا الصلحت لہم اجر غیر ممنون۔ استثناء منقطع یا استثنا متصل ہے یعنی الا کا معنی لکن ہے۔ مطلب یہ کہ ان لوگوں کو بشارت نہ دو جو ان میں سے ایمان لے آئیں۔ اور نیک کام کریں۔ کیونکہ ان کے لئے اجر لازوال ہے یا غیر ناقص (پورا پورا) ثواب ہے۔ یا بلامنت ثواب ہے۔ یہ استثناء کی علت ہے۔ ممنون : من (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر ، کم کیا ہوا۔ ۔ قطع کیا ہوا۔ غیر ممنون صفت ہے اجر کی جو موصوف ہے کم نہ کیا ہوا۔ غیر منقطع۔ غیر حرف استثناء ہے اس کے بعد مستثنیٰ مجرور ہوتا ہے۔ ایسا اجر جس میں کبھی کمی نہ کی جائے گی اور نہ کبھی منقطع ہوگا۔ ترجمہ : لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو بےانتہاء دوامی اجر ملے گا۔