84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 84:1–2

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب پھٹ پڑے گا آسمان (کا یہ عظیم الشان نیلگونی چھت)

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور وہ تعمیل کرے گا اپنے رب کے حکم کی اور یہی اس کے لائق بھی ہے

(1) آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آسمان پھٹ پڑے گا اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور یہی اس لائق ہے "۔ سو زمین و آسمان کے ان عظیم الشان کروں میں سے ہر ایک اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اس کے لائق بھی یہی ہے کہ اپنے خالق ومالک کا حکم پوری طرح بجا لائے سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اپنے خالق ومالک کے حکم ماننا اس کا حق بھی ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور مالک بھی، اور اسی میں مخلوق کی بہتری اور بھلائی بھی ہے، سو انسان سوچے کہ جس خالق ومالک کا حکم آسمان و زمین کے یہ عظیم الشان کرے بھی اس قدر مستعدی اور خوشی سے سنتے مانتے اور اس کی تعمیل کرتے ہیں، اس کا حکم اگر یہ انسان نہ مانے جو کہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان مخلوق کے مقابلے میں ایک ذرہ بےمقدار کی حیثیت رکھتا ہے تو یہ کس قدر تعجب اور افسوس کی بات اور کتنے بڑے خسارے کا سودا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف اس سے قیامت کے اس حادثہ کبری کی ہلچل کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو اس دنیا کے خاتمے اور ایک نئے جہاں کے قیام کے سلسلے میں بپا ہوگی، اور اس جہان نو کا قیام نئے قوانین و نوامیس کے تحت ہوگا۔ اس لیے اس موقع پر اس آسمان و زمین کو جو آج موجود ہیں ختم کردیا جائے گا، اور ان کی جگہ نئے آسمان و زمین کو وجود میں لایا جائے گا، جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة فرقان میں ارشاد فرمایا گیا وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاء بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِکَۃُ تَنزِیْلاً ( فرقان 25 پ 19) یعنی " جس دن آسمان پھٹ پڑے گا بادل کے ساتھ اور اتار دیا جائے گا فرشتوں کو پرے کے پرے "۔ اور " بائ " یہاں پر آلیت کے لیے ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے " انشقت الارض من بالنبات " یعنی " زمین پھٹ گئی پیداوار کے ذریعے "۔ سو اسی طرح آسمان اس روز پھٹ جائے گا، اور اس سے ایک بادل نمودار ہوگا جس میں فرشتے پرے کے پرے باندھے لوگوں کے صحیفے اور اعمال نامے لیے اتریں گے، سو یہ بڑا ہی سخت اور انتہائی ہولناک وقت ہوگا کہ جاں سے ان کی خیر کی توقع ہوا کرتی تھی وہیں سے ان کے لیے اس روز شر نمودار ہوگا ( روح، وغیرہ) اس لیے دوسرے مقام پر اس کے بارے میں فرمایا گیا یوفُون بالنَّذْرِ وَیَخَافُونَ یَوْماً کَانَ شَرُّہُ مُسْتَطِیْراً ( الدھر، 7 پ 29) یعنی وہ ایسا ہولناک دن ہوگا کہ اس کا شر چاروں طرف پھیلا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، وسوء و انحراف بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب پھیلا دیا جائے گا زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو

(2) کرہ ارضی کے مد اور اس کے پھیلا دیے جانے کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور جب پھیلا دیا جائے گا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو "۔ اور اس کی یہ سب اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک چٹیل میدان بنادیا جائے گا تاکہ اولین وآخرین کی سب مخلوق اس میں سما سکے، جیسا کہ سورة طہ میں فرمایا گیا فَیَذَرُہَا قَاعاً صَفْصَفاً ، لَا تَرَی فِیْہَا عِوَجاً وَلَا أَمْتاً ( طہ 106, 107 پ 16) یعنی اس روز اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو خاک بنا کے اڑا دے گا اور اس کے نتیجے میں اس زمین کو ایسا چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم نہ کوئی اونچ دیکھ سکو گے نہ نیچ، ( ابن کثیر، محاسن التاویل، خازن، اور صفوۃ، وغیرہ) سو اس روز زمین کو اس طرح کس اور تن دیا جائے گا کہ اس کی سب سلوٹیں اور شکنیں دور ہوجائیں گی، اور اس کے اندر پائے جانے والے سب نشیب و فراز، اس کی وادیاں و کوہسار، اس کے دریا و پہاڑ، اور اس کی یہ اونچ نیچ سب کچھ اس روز ختم ہوجائے گا۔ اور یہ تنی ہوئی چادر کی طرح بالکل ہموار اور سپاٹ ہوجائے گی۔ پس جن منکرین آسمان و زمین کی ان عظیم الشان مخلوقات کو جو اٹل اور لافانی سمجھتے ہیں ان کو ہش کے ناخن لینے چاہیں، اور اپنی روش کی اصلاح کرلینی چاہے۔ قبل اس کے فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے، اور پھر ان کے لیے عمل اور تلافی مافات کا کوئی موقع نہ رہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء و انحراف من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔
Ayah 84:4

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور وہ باہر نکال کر پھینک دے گی وہ سب کچھ جو کہ اس کے اندر ہے اور وہ بالکل خالی ہوجائے گی

(3) زمین کے اپنے اندر سے سب کچھ باہر نکال پھینکنے کا ذکرو بیان : ارشاد فرمایا گیا کہ " اور یہ نکال پھینکے گی وہ سب کچھ جو کہ اس کے اندر ہے اور پوری طرح فارغ ہوجائے گی "۔ یعنی اس روز یہ زمین ان تمام خزائن و دفائن اور مردوں وغیرہ کو جو کہ اس کے اندر ہیں ان سب کو نکال کر باہر پھینکے گی اور بالکل خالی ہوجائے گی ( فتح القدیر، محاسن التاویل وغیرہ) اگرچہ " مافیھا " کا اصل اور بڑا مقصد مردے ہی ہیں، لیکن یہ اپنے عموم کے اعتبار سے ان سب ہی چیزوں کو شامل ہے جو اس کے اندر موجود ہیں، سو یہ اپنے اندر کے ان تمام بوجھوں کو اس طرح باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی جس طرح کہ ایک حاملہ بچہ جننے کے بعد اپنے حمل کے بوجھ سے خالی اور فارغ ہوجاتی ہے۔ سو اسی طرح اس روز یہ زمین اپنے اندر کے ان تمام بوجھوں کو نکال پھینکنے سے وہی راحت محسوس کرے گی جو کہ ایک حاملہ وضع حمل کے بعد محسوس کرتی ہے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے قدموں کے نیچے بچھی ہوئی یہ زمین جس کو ہم لوگ بےجان، بےحس اور بےشعور سمجھتے ہیں یہ کس قدر حساس اور کتنی صابر و امانتدار اور اپنے رب کے حکم و ارشاد کی کتنی مطواع و فرمانبردار ہے، سو انسان اگر اسی نقطے پر صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لے اور صحیح طریقے سے سوچے تو سارا مسئلہ حل ہوجائے۔ اور یہ اپنے رب کے حضور دل و جان سے جھک جھک جائے مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہی ہے کہ صحیح غور وفکر کا یہی گوہر مقصود عنقاء ہے، لوگوں کو اس کی پرواہ ہی نہیں، الا ماشاء اللہ، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیئ۔
Ayah 84:5

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور یہ پوری طرح بجا لائے گی حکم اپنے رب کا اور یہی اس کے لائق بھی ہے

(4) زمین کی شان اطاعت و فرمانبرداری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور یہ زمین اپنے رب کا حکم بجا لائے گی "۔ اور یہی اس کے لائق بھی ہے کہ یہ اپنے خالق ومالک جل جلالہ کا حکم پوری طرح بجا لائے سبحانہ وتعالی۔ جس خالق ومالک کے حکم کے آگے زمین و آسمان کے یہ عظیم الشان بھی اس طرح عاجز اور سرافگندہ ہیں، اور اس کے حکم و ارشاد کے اس طرح پابند ہیں، اس کا حکم اگر یہ انسان ضعیف نہ مانے اور اس کے مقابلے میں یہ انکار و استکبار سے کام لے، اور تمردو سرکشی کا مظاہرہ کرے تو اس سے بڑھ کر ظالم، بےانصاف اور محروم القسمت کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ " اذا " کا جواب یہاں پر محذوف ہے، جس سے اس کی تہویل اور تفخیم کا اظہار ہوتا ہے، اور آگے کے مضمون سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے، یعنی جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو انسان کے سامنے وہ کچھ آجائے گا جس کا احاطہ کسی کے خیال اور تصور میں بھی نہیں آسکتا، اور اس وقت انسان اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کو خود دیکھ لے گا، اور اس کو وہ سب کچھ معلوم ہوجائے گا جس کو یہ آج سننے ماننے کو تیار نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا أَسْمِعْ بِہِمْ وَأَبْصِرْ یَوْمَ یَأْتُونَنَا لَکِنِ الظَّالِمُونَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ ( مریم 38 پ 16) یعنی اس روز یہ منکرین کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے لیکن آج یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہیں، مگر اس دن کے جاننے ماننے سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا، کیونکہ وہ ایمان بالمشاہدہ ہوگا، جبکہ مطلوب ایمان بالغیب ہے نہ کہ ایمان بالمشہود و والمشاہدہ، ( ابن کثیر، مراغی، مظہری، صفوہ اور محاسن وغیرہ) اور زمین و آسمان کی اس عظیم الشان مخلوق کی شان اطاعت و فرمانبرداری کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاء وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْأَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعاً أَوْ کَرْہاً قَالَتَا أَتَیْْنَا طَائِعِیْنَ ( حم السجدہ 11 پ 24) یعنی " پھر اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں حاضر ہوجاؤ خوشی کے ساتھ یا مجبوری کے طور پر، تو ان دونوں نے جواب میں عرض کیا کہ ہم حاضر ہیں خوشی بخوشی "۔ سبحان اللہ۔ کیا شان عظمت و جلال ہے ہمارے خالق ومالک کی سبحانہ و تعالیٰ ، اور کیسی شان اطاعت و فرمانبرداری ہے زمین و آسمان کی اس عظیم الشان مخلوق کی، پس اس میں یہ درس ہے ہر انسان کے لیے کہ وہ دل و جان سے جھک جائے اپنے اس خالق ومالک کے حضور، جس نے اس کو وجود بخشا، اور جس کی رحمت و عنایت کے سہارے یہ جی رہا ہے، کیونکہ صدق دل سے اس کی اطاعت و بندگی اس وحدہ لا شریک کا اس کے بندے پر حق بھی ہے، اور اسی میں اس کا بھلا اور فائدہ بھی ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی جو آج اس کو حاصل ہے اور اس کے بعد بھی۔
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان تو یقینا کشاں کشاں جا رہا ہے اپنے رب کی طرف سو (تو مان یا نہ مان بہرکیف) تجھے آخرکار اس سے ملنا ہے

(5) انسان کو اپنے انجام کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور غافل انسان کو اس کے انجام کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اے انسان ! تجھے بالآخر یقینا اپنے رب سے ملنا ہے " یعنی ضمیر مجرور کا مرجع رب ہے کہ اس کے حضور بہرحال تمہیں پیش ہونا ہوگا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا مرجع وہی " کدح " ہو جو کہ " کا دح " سے ماخوذ ہے ( القاسمی وغیرہ) یعنی ہر کسی کو اپنے کیے کا بدلہ بہرحال پانا ہوگا، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ سو ایسا نہیں کہ انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح یونہی مر کھپ کر ختم ہوجائے۔ پس تو اے انسان ہمیشہ ایسے کاموں کی فکر و کوشش میں رہا کر جو تیرے لیے رضائے خداوندی اور نجات و بخشش اخروی کا ذریعہ بنیں۔ اور ایسے تمام کاموں سے تو دور و نفور رہا کر جو تیرے لیے رب کی نارضگی کا باعث بنیں۔ والعیاذ باللہ العظیم ( محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) سو " فملقیہ " سے انسان کے اس سفر کی غایت بیان فرما دی گئی جس میں وہ پیدا ہوتے ہی محوو مشغول ہوجاتا ہے، اور اس کا سفر مسلسل و لگاتار جاری وساری رہتا ہے، سو بتایا گیا کہ انسان اس دنیا میں شتر بےمہار نہیں کہ یونہی منہ اٹھائے بےمقصد چلتا رہے، بلکہ یہ کشاں کشاں اپنے خالق ومالک کے حضور حاضری کے لیے بڑھتا چلا جارہا ہے۔ اور اس کے حضور حاضر اور پیش ہو کر اس نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، جس کے نتیجے میں نیک بخت اور سعادت مند لوگ ہمیشہ کے آرام اور نعمتوں میں ہوں گے، اور بدبخت ہمیشہ کے عذاب میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ آگے اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ پس جو لوگ دنیاوی زندگی کو اصل مقصد قرار دے کر اسی کی پوجا پاٹ میں لگے ہوئے ہیں وہ اسی کے لیے جیتے، اور اسی کے لیے مرتے ہیں، اور وہ اسی دنیا کی کامیابیوں اور اس کی عارضی لذتوں اور فانی فوائد و منافع کو سب کچھ سمجھتے بیٹھے ہیں، اور وہ اپنی آخرت اور انجام سے بےو فکر و لاپرواہ ہیں، اور وہ اسی دنیا کو اپنی حقیقی اور آخری منزل سمجھے بیٹھے ہیں، وہ سب کے سب سراسر خسارے میں ہیں، کیونکہ انسان کی آخری منزل دنیا نہیں آخرت ہے۔ دنیا تو محض ایک پڑاؤ ہے، سب لوگ خداوند قدوس کے قانون کی زنجیر میں اس قدر مضبوطی اور پختگی سے بندھے ہوئے ہیں کہ وہ نہایت بےبسی کے ساتھ کشاں کشاں اپنے آخری انجام کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں، اگر لوگوں کی نظر زندگی کے اس پہلو پر بھی پوتی تو یہ جادہ استقامت سے کبھی منحرف نہ ہوتے، بلکہ یہ کھلی آنکھوں سے دیکھتے کہ جتنی تیز روی کے ساتھ یہ خواہشات نفس اور مرغوبات دنیا کی طرف بڑھتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ یہ خداوند قدوس کے حضور حاضر اور اپنے اعمال کے محاسبے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، پس اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے، اس لیے اصل تیاری اسی کے لیے کرنی چاہیے۔ جو کہ حقیقی اور ابدی و سرمدی زندگی ہے، اور جس میں انسان کے لیے یا تو ہمیشہ کی سعادت اور سدا بہار کامیابی کی بشارت ہوگی، اللہ نصیب فرمائے، یا اس کے لیے ہمیشہ کی شقاوت اور دائمی عذاب کا فیصلہ سنایا جائے گا،۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ آخرت کی اس ابدی زندگی اور اس کے تقاجوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھا جائے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد۔
Ayahs 84:7–8

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

پھر جس کو دیا گیا اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

تو اس سے بڑا ہی آسان (اور برائے نام سا) حساب لیا جائے گا

(6) کامیاب اور فائز المرام لوگوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا تو اس سے بڑا ہی آسان حساب لیا جائے گا "۔ سو اس میں داہنے ہاتھ والوں سے آسان حساب لینے کی عظیم الشان خوشخبری ہے کہ ان سے حساب کے ضمن میں کوئی سوال اور مناقشہ نہیں کیا جائے گا بلکہ محض بیشی پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی خطاوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما لیا جائے گا، اور نیکیوں کی جزا سے نوازا دیا جائے گا، جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی روایت میں مروی و منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا " من حوسب عذب "۔ یعنی " جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں ڈال دیا گیا "۔ تو اس پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ اس سے آسان حساب لیا جائے گا ؟ ’ ’ فسوف یحاسب حسابا یسیرا " تو آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اس سے محاسبہ مراد ہے حساب اور مناقشہ نہیں۔ بلکہ محض عرضی اور پیشی ہے، ورنہ اس روز جس سے مناقشہ ہوا وہ عذاب میں پڑگیا۔ " من نوقش عذب " اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو اپنی ایک نماز میں اس طرح دعا کرتے سنا " اللھم حاسبنی حسابا یسیرا "۔ یعنی اے اللہ مجھ سے آسان حساب لینا۔ تو میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول حساب یسیر یعنی آسان حساب سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ صرف نامہ اعمال میں نظر ڈالی جائے اور درگزر فرما لیا جائے۔ ورنہ اس روز جس سے مناقشہ ہوا وہ ہلاک ہوگیا ( ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر، اور خازن وغیرہ) فحاسبنی اللھم حسابا یسیرا بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین۔ سو نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں دیا جانا ہی کامیابی اور فائز المرامی کی علامت اور اس کی نشانی ہوگی۔ اور اس سے ظاہر اور واضح ہوجائے گا کہ ایسے لوگ نجات و فلاح کے لائق اور اس کے حق دار ہیں، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین واکرم الاکرمین، اللہ ہمیشہ اپنی خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، جل جلالہ، وعم نوالہ۔
Ayah 84:9

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ (حساب سے فراغت کے بعد) لوٹے گا اپنوں کی طرف خوش باش

(7) کامیاب لوگوں کی مسرت و شادمانی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کامیاب لوگوں کی مسرت و شادمانی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسا شخص اپنے گھر کی طرف خوش باش لوٹے گا "۔ کہ وہ حقیقی کامیابی سے سرفراز ہوچکا ہوگا ایسی کامیابی جس جیسی دوسری کوئی کامیابی ہو ہی نہیں سکتی۔ ایسی کامیابی جو کہ سدا بہار اور ہمیشہ کے لیے ہوگی، ایسی کامیابی جس کے بعد کسی غم، دکھ، یا صدمے کا کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا، اے اللہ اکرم الاکرمین اور ارحم الراحمین اللہ اپنے اس سیاہ کار بندے محمد اسحاق خان اور اس کے جملہ متعلقین و لواحقین کو بھی اس فوز عظیم سے سرفراز فرمادے، کہ میرے گناہ و قصور جتنے بھی زیادہ ہوں، تیری رحمت و عنایت ان سے بہرحال کہیں زیادہ اور لا محدود ہے۔ فاغفرلی بھا مغفرۃ من عندک وارحمنی رحمۃ تغنینی عن رحمۃ من سواک، فان مغفرتک اوسع من ذنوبی و رحمتک ارجی عندی من عملی یا ذا الجلال والاکرام۔ سو ان لوگوں نے چونکہ غافل لوگوں کی طرح اپنے اہل و عیال میں رہ کر غفلت کی زندگی نہیں گزاری تھی، بلکہ یہ اپنے اہل و عیال کے اندر رہتے ہوئے بھی اپنی آخرت کے بارے میں فکر مند رہتے تھے اس لیے اس کے صلہ و بدلہ اور اس کے نتیجے میں جزا و سزا کے اس یوم الفصل میں یہ لوگ اس سعادت سے بہرہ مند و سرشار ہوں گے کہ خوش و خرم اور شاداں وفرحاں اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹیں گے۔ اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ چونکہ انہوں نے اپنے اہل و عیال کے اندر رہ کر آخرت سے بےفکری اور لاپرواہی کی زندگی نہیں گزاری تھی، بلکہ اخروی کامیابی کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا اور اپنی اور اپنے اہل و عیال کی آخرت بنانے کی فکر میں لگے رہے، اس لیے ان کو یوم حساب میں اس عظیم الشان کامیابی سے سرفرازی نصیب ہوگی، پس اہل و عیال کی محبت کا تقاضا اصل میں یہی ہے کہ انسان ان کی آخرت سنوارنے کی فکر میں رہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اہل جنت کے بارے میں ذکر فرمایا گیا کہ وہ جن کی ان طرح طرح کی نعمتوں سے سرفراز اور فیضیاب ہوتے ہوئے اپنے اس پر کیف ماحول میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر کہیں گے۔ قَالُوا إِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْ أَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ( الطور 26 پ 27) یعنی بیشک ہم لوگ دنیا میں اپنے اہل و عیال کے بارے میں ڈرتے اور فکر مند رہا کرتے ہیں، یعنی اس بنا پر ہمیں جنت کی اس عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں سے نواز دیا گیا، پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنی آخرت کی فکر میں رہے، اپنی بھی اور اپنی اہل و اعلاد کی بھی، خود بھی اسی فکر میں رہے، اور ان کو بھی اس کے لیے فکر مند رکھنے کی سعی اور کوشش کرے، اسی فکر مندی اور کوشش سے ان کو آخرت میں اپنے اہل و عیال سے یکجائی اور محبت کا اصل سرور حاصل ہوگا۔ جس پر کا اظہار وہ اس طرح کریں گے۔ فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْْنَا وَوَقَانَا عَذَاب السَّمُومِ ۔ إِنَّا کُنَّا مِن قَبْلُ نَدْعُوہُ إِنَّہُ ہُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ (الطور 27 تا 28 پ 27) یعنی " ہم چونکہ دنیا میں اپنے اہل و اولاد کے اندر رہتے ہوئے آخرت کے عذاب سے ڈرتے رہتے تھے تو اسی بنا پر آج اللہ پاک نے ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا لیا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان و حین۔
Ayahs 84:10–12

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کو دیا گیا اس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

تو وہ (رہ رہ کر) پکارے گا موت کو

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور اسے بہر حال داخل ہونا ہوگا (دوزخ کی دہکتی) بھٹرکتی آگ میں

(8) ناکام و نامراد لوگوں کا ذکرو بیان۔ والعیاذ باللہ : سو ناکام و نامراد لوگوں کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا تو وہ رہ رہ کر موت کو پکارے گا۔ اور اس کو دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، اور بہرحال داخل ہونا ہوگا اپنے کرتوتوں کی بنا پر، ایسے شخص کو چونکہ یہ اندازہ ہوچکا ہوگا کہ میرا نامہ اعمال مجھے دائیں ہاتھ میں ملے گا نہیں اس لیے وہ اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے کرلے گا تاکہ اس کو اس کا نامہ اعمال ملے ہی نہ، لیکن اس کی یہ تدبیر اس کو کچھ کام نہ آئے گی، بلکہ اس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے ہی اس کو تھما دیا جائے گا اس لیے ’ ’ وراء ظھرہ " سے اس کی تصریح فرما دی گئی، ایسوں کو ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ہی ملے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے وَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَہُ بِشِمَالِہِ فَیَقُولُ یَا لَیْْتَنِیْ لَمْ أُوتَ کِتَابِیْہْ ( الحاقہ 25 پ 29) والعیاذ باللہ العظیم۔ اللھم اعطنی کتابی بیمینی، ولا تعطنی کتابی بشمالی یوم لقائک یوم العرض علیک بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین۔ بہرکیف اس سے بائیں بازو والوں کے حال کا ذکرو بیان فرما دیا گیا، سو ان کا حال بہت ہی برا ہوگا، والعیاذ باللہ۔ اور ان کے اعمال نامے کا ان کے بائیں بازو میں پڑجانا ہی اس بات کی علامت اور نشاندہی ہوگا کہ انہوں نے اب نہایت ہی برے انجام سے دوچار ہونا ہے۔ جس سے مفر اور گلو خلاصی کی کوئی صورت ان کے لیے وہاں ممکن نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 84:13

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

بیشک یہ (دنیا میں) اپنے لوگوں میں مست و مگن رہا کرتا تھا

(9) دخول دوزخ کے سبب و باعث کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ناکام و نامراد لوگوں کے دخول دوزخ کے سبب و باعث کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ یہ اپنے اہل و عیال میں مست و مگن رہا کرتے تھے "۔ اور ایسے مست و مگن کہ نہ ان کو اپنے انجام کی فکر تھی نہ آخرت اور وہاں کے حساب و کتاب کی کوئی چنتا اور پروا، کہ انہوں نے دنیائے دوں اور اس کے متاع فانی اور حطام زائل اور اس کے آرام و راحت اور عیش و عشرت ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا تھا۔ ایسا شخص اسی کے لیے جیتا اور اسی کے لیے مرتا تھا، اور یہ مست ہو کر رہتا تھا کہ بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔ سو اس غلط فہمی اور کوتاہ اندیشی نے اس کا راستہ ہی غلط کردیا تھا، اور اس کے جینے کے انداز اور رنگ ڈھنگ ہی بدل دیئے تھے، حق کو سننے اور ماننے کے لیے یہ تیار ہی نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ حیات دنیا کی فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل گئی اور یہ اپنے انجام محتوم اور مصیر موعود کی طرف خالی ہاتھ بلکہ گناہوں اور خطاؤں کے اثقال اور انبار لے کر لوٹا اور ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوگیا، سو آخرت کا انکار اس کے بارے میں غفلت و لاپرواہی برتنا بیماریوں کی بیماری اور تمام مفاسد اور خرابیوں کی جڑ و بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللھم کن لنا واجعلنا لک وخذبا بنواصینا الی ما تحب وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام، یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین۔ سو جب ایسے لوگ دنیا میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مشغول اور مست و مگن ہو کر اپنی آخرت اور اس کے تقاضوں کو بھول چکے تھے تو ان کی سزا یہی ہوگی، اور ایسے لوگ آخرت کے اس جہان ابدی میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ یکجائی کے سرور سے ہمیشہ کے لیے محروم رہیں گے ،۔ کیونکہ انہوں نے اپنے حصے کا سرور دنیا میں اٹھا لیا تھا، سو اب ان کے لیے محرومی کے سوا کچھ نہیں ہوگا، اور یہی لوگ وہ ہوں گے جن کو ان کی تذلیل و تحقیر اور ندامت و رسوائی کے لیئے اس طرح خطاب کیا جائے گا اور ان کے کفر و انکار کی بنا پر ان کو دوزخ کی آگ پر پیش کیا جائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا عَلَی النَّارِ أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِہَا فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ فِیْ الْأَرْضِ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنتُمْ تَفْسُقُونَ ( الاحقاف 20 پ 27) یعنی یاد کرو اس ہولناک دن کو کہ جس دن کافروں کو دوزخ پر پیش کیا جائے گا ( اور ان کی تذلیل کے لیے ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے اپنے حصے کی نعمتوں کے مزے دنیا میں لوٹ لیے، اور تم نے ان سے وہاں پر پورا فائدہ اٹھا لیا، پس اب تمہیں رسوائی کے عذاب ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس بنا پر کہ تم لوگ دنیا میں اللہ کی زمین میں اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا رہا کرتے تھے، اور اس بنا پر کہ تم لوگ وہاں پر فسق و فجور کا ارتکاب کیا کرتے تھے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے، آمین۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ زندگی بس یہی دنیاوی زندگی ہے، اس میں جس نے عیش کرلی کرلی، اور جو اس سے محروم رہا وہ محروم رہا، والعیاذ باللہ۔ دوسری کوئی زندگی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے، بلکہ ہم یونہی مر کھپ کر ختم ہوجائیں گے، پھر نہ کسی نے اٹھنا ہے نہ کوئی حساب کتاب دینا ہے، سو ایسے لوگوں کی ساری پہنچ اور تگ و دو دنیاوی زندگی اور اس کے عارضی فوائد و منافع ہی تک محدود تھی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّی عَن ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ إِلَّا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا۔ ذَلِکَ مَبْلَغُہُم مِّنَ الْعِلْمِ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اہْتَدَی ( النجم 29، 30 پ 27) یعنی " تم منہ موڑ لو اس سے جو پھر گیا راہ حق و ہدایت سے، اور اس کے سامنے دنیاوی زندگی کے سوا اور کچھ نہیں، ان کے علم کی رسائی بس اسی قدر ہے، بیشک تمہارا رب خود جانتا ہے ان کو جو بھٹک گئے اس کی راہ سے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ راستہ پر ہیں "۔ سو ایسوں سے منہ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ایسے لوگ دنیا اور اس کے وقتی اور مادی فوائد کے سوا اور کسی بات کو سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، سو برے گمان کا نتیجہ و انجام نہایت برا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 84:14

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اس نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ اس نے کبھی (ہمارے پاس) لوٹ کر آنا ہی نہیں

(10) محرومی کے اصل سبب کی نشاندہی کا ذکرو بیان : سو ایسے شخص کو محرومی کے اصل سبب کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اس نے کبھی ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں "۔ بلکہ دنیاوی زندگی ہی میں کھا پی کر اور عیش و عشرت کر کے ختم ہوجانا ہے اور بس، اس کے بعد نہ دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ کوئی حساب و کتاب ہونا ہے، سو حق و ہدایت کے نور سے محروم مادہ پرستوں کا ہمیشہ یہی حال رہا، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور اسی غلط فہمی اور محرومی نے ان کو تباہ کردیا، اسی لیے ایسوں سے اعراض برنے اور ان سے منہ موڑ دینے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّی عَن ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ إِلَّا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا۔ ذَلِکَ مَبْلَغُہُم مِّنَ الْعِلْمِ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اہْتَدَی ( النجم 29 تا 30 پ 27) سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے شخص نے چونکہ یہ سمجھ رکھا تھا کہ اس نے کبھی مرنے کے بعد نہ دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ ہماری طرف لوٹنا اور حساب دینا ہے، بس دنیا ہی دنیا ہے اس میں عیش کرلوں اور اس کے مزے اڑا لوں اور خواہ مخواہ کے فکر فردا میں پڑ کر اپنا عیش مکدر نہ کرو، سو انہوں نے اپنے حصے کے مزے وہیں اپنی دنیاوی زندگی میں لوٹ لیے اور بس، آخرت کے لیے نہ انہوں نے کچھ کیا تھا اور نہ ہی کبھی اس بارے میں سوچا تھا، اس لیے وہاں پر ان کو کچھ نہیں ملے گا، بلکہ وہاں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الاکفر والانکار۔
Ayah 84:15

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

کیوں نہیں اس کا رب تو اسے ہر حال میں دیکھ رہا تھا

(11) منکرین کے زعم باطل کی تردید : سو منکرین کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے فرمایا گیا کہ " لوٹنا کیوں نہیں تھا جبکہ اس کا رب اس کو پوری طرح دیکھ رہا تھا " کلمہ " بلی " نفی کے بعد اثبات و ایجاب کے لیے آتا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ بنتا ہے کیوں نہیں ؟ یعنی ایسا کیوں نہیں جبکہ اس کے وجود و ایجاب کے لیے یہ اور وجہ پائی جاتی ہے، سو اس اعتبار سے یہاں پر اس ارشاد کا مطلب و مفہوم یہ بنے گا کہ لوٹنا کیوں نہیں ؟ جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل و حکمت اور رحمت و عنایت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، اور نہ لوٹنا اس کی ان صفات عالیہ کے خلاف اور عقل و نقل کے تقاضوں کے منافی ہے، اسی لیے اس کے بعد ارشاد فرمایا گیا " ان ربہ کان بہ بصیرا " کہ یقینا اس کا رب اس کو پوری طرح دیکھ رہا تھا اور دیکھ رہا ہے "۔ اور تمام لوگوں کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا ریکارڈ اس کے سامنے اور اس کے علم میں ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بدلہ و جزا کا وہ دن آئے جس میں ہر کوئی اپنی زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھر پور صلہ و بدلہ پائے اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوں۔ ورنہ ہست و بودع کا یہ سارا کارخانہ اور اس دنیا کا وجود ہی عبث اور بیکار قرار پائے گا، جو کہ اس حکیم مطلق جل جلالہ کی حکمت کاملہ، رحمت شاملہ اور عنایت بالغہ کے شایان شان نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثاً وَأَنَّکُمْ إِلَیْْنَا لَا تُرْجَعُونَ ۔ فَتَعَالَی اللَّہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ( المومنون 115, 116 پ 18) سو دوبارہ اٹھنا اللہ پاک کے حضور حاضری دینا اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ وبدلہ پانا عقل و نقل سب کا تقاضا ہے۔ فزدنا اللھم ایمانا بک و بوعدک وخذنا بنواصینا الی ما تحب وترضی من القول والعمل یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان لوگوں کے اس زعم فاسد اور گمان باطل کی تردید کردی گئی جن کا کہنا اور ماننا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھنا، بلکہ سب یونہی ختم ہوجائیں گے جیسا کہ مینڈک اور دوسرے کیڑے مکوڑے ختم ہوجاتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء و انحراف من کل سوء وشر۔
Ayah 84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

(12) منکرین کے زعم باطل کی تردید موکد : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے مزاعم باطلہ کی تردید موکد کے لیے ارشاد فرمایا گیا " پس نہیں " یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا کہ ان کفار و منکرین نے سمجھ رکھا ہے، کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا نہیں، بلکہ یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، اور یہ کہ زندگی بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس، اور اسی کا عیش و عشرت سب کچھ ہے، وغیرہ۔ سو ایسا کہنا اور سمجھنا قطعا غلط اور حق و حقیقت کے بالکل خلاف ہے، دوبارہ اٹھنا ایک قطعی اور یقینی امر ہے، سو ایسے لوگوں کے اس زعم فاسد اور گمان باطل کی تردید فرمائی گئی اور تین چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا گیا کہ تم لوگوں کی کشاں کشاں چلتے ہوئے اور درجہ بدرجہ مختلف منزلیں طے کر کے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا اور وہاں پر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا، اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے، یہ ایک ایسی قطعی حقیقت شدنی امر ہے کہ اس سے کسی کے لیے بھی گریز و فرار کی کوئی راہ ممکن نہیں، سو ان قسموں سے پہلے یہ لاء نفی منکرین کے اسی زعم باطل کی تردید کے لیے ہے جس کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں، پس یہ " لا " نہ تو زائدہ ہے اور نہ ہی نفی قسم کے لیے، جیسا کہ عام طور پر مفسرین حضرات ایسا کہہ دیتے ہیں، بلکہ یہ اسی زعم باطل کی تردید کے لیے ہوتا ہے جس کے لیے یہ قسمیں کھائی ہوتی ہیں۔ اور یہ عربی زبان کا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے جو آج تک پایا جاتا ہے، اور روز مرہ کے عام محاورات میں استعمال ہوتا ہے، چناچہ عرب لوگ آج بھی اپنی عام گفتگو میں کہتے ہیں " لا واللہ "، " بلی اللہ "، وغیرہ۔ اور یہ سب اسی مفہوم و معنی میں ہوتا ہے اور صرف یہ عربی زبان ہی کی بات نہیں یہ دنیا کی ہر زندہ زبان میں پایا جاتا ہے کہ یہ بلاغت کا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے۔ خود ہماری زبان میں جب کہا جاتا ہے " نہیں " اللہ کی قسم بات ایسے نہیں ایسے ہے۔ تو وہ یہی اسلوب ہوتا ہے، اور اس اسلوب میں بلاغت یہ ہوتی ہے کہ متکلم مخاطب کے زعم باطل کی تردید میں اتنا توقف بھی گوارا کرنے کو تیار نہیں ہوتا کہ دلیل بیان کرنے کے بعد اس کی تردید کرے۔ بلکہ وہ اپنے کلام کا آغاز ہی اس کی تردید سے کرتا ہے، اور یہ ایک فطری اسلوب ہے، بہرکیف اس لاء نفی سے منکرین کے ایسے مزاعم باطلہ کی تردید فرما دی گئی، جو انہوں نے معاد اور آخرت کے بارے میں از خود گھڑ رکھے ہیں۔
Ayahs 84:17–19

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور ان تمام چیزوں کی جن کو وہ سمیٹ لیتی ہے (اپنی سیاہ چادر میں)

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب کہ وہ پورا ہوجاتا ہے

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

تم لوگوں کو ضرور بالضرور (اور درجہ بدرجہ) ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بڑھتے اور چڑھتے چلے جانا ہے

(13) منکرین کی تردید کے لیے تین قسموں کا ذکرو بیان : سو منکرین کی تردید اور ان کے مزاعم باطلہ کی تفنید کے لیے یہاں پر معلوم و مشاہد حقائق میں سے تین کی قسم کھائی گئی ہے۔ پس جس طرح ان تینوں حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ اس کائنات میں ٹھہراؤ نہیں بلکہ لگاتار تغیر اور انقلاب جاری وساری ہے، انسان ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا، بڑھاپے سے موت اور قبر، اور وہاں سے برزخ اور آخرت۔ یہاں تک کہ یہ آخرت کے اس دار القرار میں پہنچ جائے گا جہاں اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے، یا نعمتوں میں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا الَّذِیْ أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِن فَضْلِہِ لَا یَمَسُّنَا فِیْہَا نَصَبٌ وَلَا یَمَسُّنَا فِیْہَا لُغُوبٌ ( فاطر 35 پ 22) اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے انہی میں سے کرے، آمین۔ اور یا پھر اس کے برعکس ان لوگوں کو دوزخ کی دہکتی بھڑکتی اس ہولناک آگ میں رہنا ہوگا جہاں پر یہ " لایموت فیھا و لا یحی " والی ندگی جئیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا والَّذِیْنَ کَفَرُوا لَہُمْ نَارُ جَہَنَّمَ لَا یُقْضَی عَلَیْْہِمْ فَیَمُوتُوا وَلَا یُخَفَّفُ عَنْہُم مِّنْ عَذَابِہَا کَذَلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُورٍ ( فاطر 36 پ 24) یعنی جو لوگ اپنے کفر و باطل پر اڑے رہے ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے ( جس میں ان کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا) نہ اس ان کے بارے میں یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ مرجائیں، اور نہ ہی ان کے عذاب میں کسی قسم کی کوئی تخفیف ہوگی۔ سو جس طرح انسان اپنی زندگی کے ان تمام مراحل میں ایک سے دوسرے مرحلے کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے اور اس سے اس کے لیے نہ کوئی مفر ہے، نہ انکار، اور اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ان میں سے کسی بھی مرحلے اور مقام پر اڑ کر اور جم کر بیٹھ جائے، اور کہے کہ میں اس سے اگلے مرحلے کی طرف منتقل نہیں ہوگا۔ اسی طرح اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ آخرت کے اپنے ابدی اور دائمی ٹھکانے میں جانے اور وہاں رہنے سے انکار کردے، اس کو بہرحال وہاں پہنچنا ہے اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پھل پاکر رہنا ہے۔ " وما وسق " سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کو رات اپنے اندر سمیٹ اور ان کو اپنی چادر میں ڈھانپ لیتی ہے۔ اہل لغت " وما وسق " کی تشریح اس طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں " ما جمع و ضم الیہ "۔ سو اس طرح رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے کی آمد و رفت کا یہ مضبوط و مربوط اور مستحکم و پر حکمت نظام ایک طرف تو اس دنیا کی بےثباتی اور تغیر پذیری کی واضح دلیل ہے، اور دوسری طرف رات اور دن کے اس ادل بدل میں انسان کے درجہ بدرجہ اپنے رب کی طرف بڑھتے چلے جانے اور اس کے حضور حاضری کا ایک کھلا اور واقعاتی ثبوت بھی ہے، اور خاص کر رات کے وقت آسمان میں ظاہر ہونے والے ان کواکب و نجوم میں یہ چیز اور زیادہ واضح اور نمایاں طور پر سامنے آتی ہے جو اپنے طلوع و غروب اور اپنے ظہور و بروز سے اس حقیقت کا اپنی زبان حال سے اعلان کرتے ہیں۔ اور خاص کر چاند میں جو کہ ہر مہینے میں ہلال سے بڑھتے بڑھتے بدر اور ماہ کامل بن جاتا ہے اور پھر گھٹتے گھٹتے عرجون قدیم یعنی کھجور کی پتلی اور پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے، اور یہ ہمیشہ پوری پابندی کے ساتھ ایسے کرتا ہے، اور اس طرح وہ اپنی زبان حال کے ساتھ دنیا کو دعوت غور و فکر دیتا ہے اور اس حقیقت کا اعلان و اظہار کرتا ہے کہ اس کا ئنات کی کسی چیز میں کوئی دوام وقرار اور بقاء و ٹھہراؤ نہیں ہے، پس اسی سے انسان اپنے مال و انجام کے بارے میں غور کرے اپنی آخرت کے لیے تیاری کرے، قبل اس سے کہ فرصت عمل اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین۔
Ayah 84:20

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ یہ ایمان نہیں لاتے

(14) منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : یعنی اس سب کے باوجود منکرین کا انکار قابل تعجب اور لائق افسوس ہے اسی لیے ان کے انکار اور انکے حال بد پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ یہ پھر بھی ایمان نہیں لاتے، اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو یہ لوگ ( اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز نہیں ہوتے "۔ اور اتنے کھلے شواہد اور معقول دلائل کے باوجود یہ لوگ حق کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتے، اور یہی حال ہوتا ہے عناد اور ہٹ دھرمی کا کہ اس کے نتیجے میں انسان کھلے اور واضح حق کے آگے بھی چھپنے اور سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد عالی میں ان لوگوں کے انکار اور ان کے حال پر اظہار تعجب و افسوس ہے کہ اتنے واضح شواہد اور اس قدر کھلے دلائل کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ یہ ٹس سے مس نہیں ہوتے، اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، تو آخر یہ اتنے سنگدل اور اس قدر بےحس کیوں ہوگئے ؟ ان کو ہو کیا گیا ؟ اور ان کی مت کیوں اور کیسی مار دی گئی ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ ان کو جب قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو اس یہ اس کی عظمت شان کے اعتراف و اقرار میں اپنے رب کے آگے جھکتے اور سجدہ ریز نہیں ہوتے، بلکہ الٹا یہ اس کی تکذیب کرتے ہیں، اور اس طرح یہ اپنی سیاہ بختی میں مزید اضافہ کرتے ہیں، جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللھم فھذہ نواصینا بین یدیک فخذنا بھا الی ما تحب وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام، بیدک الخیر وانت علی کل شیء قدیر، تبارکت وتعالیت، جل جلالہ وعم نوالہ۔
Ayahs 84:21–24

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو یہ سجدہ ریز نہیں ہوتے (اپنے رب کے حضور)

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ یہ لوگ تو الٹا جھٹلاتے ہی جاتے ہیں

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ کو خوب معلوم ہے وہ سب کچھ جو یہ جمع کرتے ہیں

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

سو خوشخبری سنا دو ان کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی

(16) منکرین کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب، والعیاذ باللہ : سو اس سے منکرین کے لیے ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنانے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ ان کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو، یعنی ایسے بڑے اور دردناک عذاب کی جس کی شدت اور سختی کا اندازہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جب انہوں نے حق کی تکذیب کر کے اور اس سے منہ موڑ کر اور کفر و بغاوت کی راہ کو اپنا کر اپنے آپ کو اس عذاب الیم کا مستحق بنادیا ہے تو انہوں نے اپنے آپ کو ایسے ہی عذاب کا مورد و مستحق بنادیا ہے اس لیے ان کو اس کی خوشخبردی سنا دو ۔ اور جب یہ نجات و فلاح کی خوشخبری سننے کو تیار نہیں تو پھر ان کو اس درد ناک عذاب کی خوشخبردی سنا دو ، جس کے اسباب کو انہوں نے اپنے شوق ورغبت سے خود اپنا رکھا ہے۔ کیونکہ جس کفر و شرک کو انہوں نے گلے لگا رہا ہے وہی حقیقت میں عذاب الیم ہے، مگر آج اس پر پردہ پڑا ہوا ہے جو کہ دنیا کے اس دار الامتحان کا تقاضا ہے لیکن کل جب آخرت کی کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان غیب میں یہ پردہ ہٹے گا اور ہر چیز اپنی اصل شکل و صورت میں حقیقی رنگ روپ میں سامنے آجائے گی تو اس وقت ان کو سب کچھ معلوم ہوجائے گا اور حقائق کھل کر اور اپنی اصلی شکل و صورت میں ان کے سامنے واضح ہوجائیں گے، مگر اس وقت یاس و حسرت کے سوا ان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا کہ کمائی اور اصلاح احوال کا موقع ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، اور اس کے واپس ملنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی اور یہی ہے خساروں کا خسارہ۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، وسوء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔
Ayah 84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

بجز ان (خوش نصیبوں) کے جو ایمان لائے (صدق دل سے) اور انہوں نے کام بھی نیک کیے کہ ان کے لئے ایک ایسا عظیم الشان اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا

(17) ایمان والوں کے لیے دائمی اجر کا مژدہ جانفزا، والحمدللہ جل وعلا : سو اس میں ایمان والوں کے لیے اجر غیر ممنون کی بشارت ہے، کہ ایسے خوش نصیب اپنے ایمان و یقین کی برکت سے اور اس کے صلہ وثمرہ کے طور پر یہ جنت کی سدابہار نعمتوں سے ہمیشہ ہمیش کے لیے مستفید و فیضیاب ہوتے رہیں گے۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین، سبحان اللہ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت اور کتنا عظیم اور بےمثل ہے اس کا ثمرہ و پھل جو اہل ایمان کو آخرت کے اس جہان کرم غیب میں جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں نصیب ہوگا۔ فایاک نسال اللھم التوفیق لذالک والسداد فانک انت ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان اور عمل صالح کی راہ کو اپنانے والوں کے لیے جو قرآن حکیم کی دعوت حق و ہدایت پر لبیک کہتے ہیں ان کے لیے نہ صرف یہ کہ عذاب الیم سے نجات و حفاظت کی خوشخبری ہے، بلکہ ان کے لیے سعادت دارین سے سرفرازی اور اجر غیر ممنون کی بشارت اور مژدہ جانفزا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔ فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد۔