84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 84:1–2

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور سن لے حکم اپنے رب کا، اور وہ آسمان اسی لائق ہے14

14 یعنی اللہ کی طرف سے جب پھٹنے کا حکم تکوینی ہوگا، آسمان اس کی تعمیل کرے گا اور وہ مقدورو مقہور ہونے کے لحاظ سے اسی لائق ہے کہ بایں عظمت و رفعت اپنے مالک و خالق کے سامنے گردن ڈال دے اور اس کی فرمانبرداری میں ذرا چون و چرا نہ کرے۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین پھیلا دی جائے1

1 محشر کے دن یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے گی اور عمارتیں پہاڑ وغیرہ سب برابر کردیے جائیں گے تاکہ ایک سطح مستوی پر سب اولین و آخرین بیک وقت کھڑے ہو سکیں اور کوئی حجاب و حائل باقی نہ رہے۔
Ayah 84:4

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور نکال ڈالے جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہوجائے2

2 زمین اس دن اپنے خزانے اور مردوں کے اجزاء اگال ڈالے گی اور ان تمام چیزوں سے خالی ہوجائے گی جن کا تعلق اعمال عباد کے مجازات سے ہے۔
Ayah 84:5

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور سن لے حکم اپنے رب کا اور وہ زمین اسی لائق ہے3

3 زمین و آسمان جس کے حکم تکوینی کے تابع و منقاد ہوں، آدمی کو کیا حق ہے کہ اس کے حکم تشریعی سے سرتابی کرے۔
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے آدمی تجھ کو تکلیف اٹھانی ہے اپنے رب تک پہنچنے میں سہ سہ کر، پھر اس سے ملنا ہے4

4 یعنی رب تک پہنچنے سے پہلے ہر آدمی اپنی استعداد کے موافق مختلف قسم کی جدوجہد کرتا ہے کوئی اس کی طاعت میں محنت و مشقت اٹھاتا ہے، کوئی بدی اور نافرمانی میں جان کھپاتا ہے۔ پھر خیر کی جانب میں ہو یا شر کی، طرح طرح کی تکلیفیں سہ سہ کر آخر پروردگار سے ملتا اور اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوتا ہے۔
Ayahs 84:7–8

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

سو جس کو ملا اعمالنامہ اس کا داہنے ہاتھ میں

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

تو اس سے حساب لیں گے آسان حساب5

5 آسان حساب یہ ہی کہ بات بات پر گرفت نہ ہوگی۔ محض کاغذات پیش ہوجائیں گے اور بدون بحث و مناقشہ کے سستے چھوڑ دیے جائیں گے۔
Ayah 84:9

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور پھر کر آئے گا اپنے لوگوں کے پاس خوش ہو کر6

6 نہ سزا کا خوف رہے گا نہ غصہ کا ڈر، نہایت امن واطمینان سے اپنے احباب و اقارب اور مسلمان بھائیوں کے پاس خوشیاں مناتا ہوا آئے گا۔
Ayah 84:10

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کو ملا اس کا اعمالنامہ پیٹھ کے پیچھے سے7

7 یعنی پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں پکڑایا جائے گا۔ فرشتے سامنے سے اس کے صورت دیکھنا پسند نہیں کریں گے گویا غایت کراہیت کا اظہار کیا جائے گا۔ اور ممکن ہے پیچھے کو مشکیں بندھی ہوں اس لئے اعمالنامہ پشت کی طرف سے دینے کی نوبت آئے۔
Ayah 84:11

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

سو وہ پکارے گا موت موت8

8 یعنی عذاب کے ڈر سے موت مانگے گا۔
Ayahs 84:12–13

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور پڑے گا آگ میں

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

وہ رہا تھا اپنے گھر میں بےغم9

9 یعنی دنیا میں آخرت سے بےفکر تھا اس کا بدلہ یہ ہے کہ آج سخت غم میں مبتلا ہونا پڑا۔ اس کے برعکس جو لوگ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی فکر میں گھلے جاتے تھے۔ ان کو آج بالکل بےفکری اور امن چین ہے۔ کافر یہاں مسرور تھا، مومن وہاں مسرور ہے۔
Ayah 84:14

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اس نے خیال کیا تھا کہ پھر کر نہ جائے گا10

10 اسے کہاں خیال تھا کہ ایک روز خدا کی طرف واپس ہونا اور رتی رتی کا حساب دینا ہے اسی لئے گناہوں اور شرارتوں پر خوب دلیر رہا۔
Ayah 84:15

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

کیوں نہیں اس کا رب اس کو دیکھتا تھا11

11 یعنی پیدائش سے موت تک برابر دیکھتا تھا کہ اس کی روح کہاں سے آئی، بدن کس کس چیز سے بنا۔ پھر کیا اعتقاد رکھا، کیا عمل کیا۔ دل میں کیا بات تھی۔ زبان سے کیا نکلا۔ ہاتھ پاؤں سے کیا کمایا، اور موت کے بعد اس کی روح کہاں گئی اور بدن کے اجزاء بکھر کر کہاں کہاں پہنچے۔ وغیر ذٰلک۔ جو خدا آدمی کے احوال سے اس قدر واقف ہو اور ہر جزئی وکلی حالت کو نگاہ میں رکھتا ہو، کیا گمان کرسکتے ہو کہ وہ اس کو یوں ہی مہمل اور معطل چھوڑ دے گا ؟ ضرورت ہے کہ اس کے اعمال پر ثمرات و نتائج مرتب کرے۔
Ayahs 84:16–17

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

سو قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور جو چیزیں اس میں سمٹ آتی ہیں12

12 یعنی آدمی اور جانور جو دن میں تلاش معاش کے لئے مکانوں سے نکل کر ادھر ادھر منتشر ہوتے ہیں رات کے وقت سب طرف سمٹ کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جمع ہوجاتے ہیں۔
Ayah 84:18

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب پورا بھر جائے13

13 یعنی چودھویں رات کا چاند جو اپنی حد کمال کو پہنچ جاتا ہے۔
Ayah 84:19

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم کو چڑھنا ہے سیڑھی پر سیڑھی14

14 یعنی دنیا کی زندگی میں مختلف دور سے بتدریج گزر کر اخیر میں موت کی سیڑھی ہے، پھر عالم برزخ کی، پھر قیامت کی، پھر قیامت میں خدا جانے کتنے احوال و مراتب درجہ بدرجہ طے کرنے ہیں۔ جیسے رات کے شروع میں شفق کے باقی رہنے تک ایک قسم کی روشنی رہتی ہے۔ جو فی الحقیقت بقیہ ہے آفتاب کے اثرات کا، پھر شفق غائب ہونے پر دوسرا دور تاریکی کا شروع ہوتا ہے جو سب چیزوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اس میں چاند بھی نکلتا ہے اور درجہ بدرجہ اس کی روشنی بڑھتی ہے آخر چودھویں شب کو ماہ کامل کا نور اس تاریک فضاء میں ساری رات اجالا رکھتا ہے۔ گویا انسانی احوال کے طبقات رات کی مختلف کیفیات سے مشابہ ہوئے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 84:20

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

پھر کیا ہوا ہے ان کو جو یقین نہیں لاتے15

15 کہ ہم کو موت کے بعد بھی کسی طرف رجوع ہونا ہے اور ایک بڑا بھاری سفر درپیش ہے جس کے لئے کافی توشہ ساتھ ہونا چاہئیے۔
Ayah 84:21

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب پڑھیے ان کے پاس قرآن وہ سجدہ نہیں کرتے16

16 یعنی اگر ان کی عقل خود بخود ان حالات کو دریافت نہیں کرسکتی تھی تو لازم تھا کہ قرآن کے بیان سے فائدہ اٹھاتے لیکن اس کے برخلاف ان کا حال یہ ہے کہ قرآن معجز بیان کو سن کر بھی ذرا عاجزی اور تذلل کا اظہار نہیں کرتے۔ حتٰی کے جب مسلمان خدا کی آیات سن کر سجدہ کرتے ہیں، ان کو سجدہ کی توفیق نہیں ہوتی۔
Ayahs 84:22–23

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

اوپر سے اور یہ کہ منکر جھٹلاتے ہیں

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ خوب جانتا ہے جو اندر بھر رکھتے ہیں17

17 یعنی فقط اتنا ہی نہیں کہ اللہ کی آیات سن کر انقیاد و تذلل کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان کو زبان سے جھٹلاتے ہیں اور دلوں میں جو تکذیب و انکار، بغض وعناد اور حق کی دشمنی بھری ہوئی ہے اس کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
Ayah 84:24

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

سو خوشی سنادے ان کو عذاب دردناک کی18

18 یعنی خوشخبری سنا دیجئے کہ جو کچھ وہ کما رہے ہیں اس کا پھل ضرور ملے گا۔ ان کی یہ کوشش ہرگز خالی نہیں جائیں گی۔
Ayah 84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کام کئے بھلے ان کے لیے ثواب ہے بےانتہا1

1 جو کبھی ختم نہ ہوگا۔