84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 84:1–3

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے ،

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا حکم سن لے،1۔ اور وہ اسی لائق ہے

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین کھینچ (کر بڑھا) دی جائے،2۔

2۔ (جیسے آج بھی ربڑ کھنچ کر بڑھا دی جاتی ہے) (آیت) ” وحقت “۔ یعنی آسمان، محکوم ومسخر قدرت ہونے کے باعث ہے ہی ایسا کہ جس امر کی مشیت اس کے متعلق ہو، اس کا وقوع ضرور ہو کر رہے۔ جاہلی فلاسفہ یونان ومصر وغیرہ نے آسمان کو مستقل صاحب ارادہ و تصرف ہستی، اور خدا تعالیٰ کی محکومیت سے آزاد وخود مختار سمجھا ہے۔ آیت ان خرافات کی بھی تردید کررہی ہے۔
Ayahs 84:4–5

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور اپنے اندر کی چیزوں کو نکال پھینکے اور خالی ہوجائے ،

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا حکم سن لے، اور وہ اسی لائق،3۔

3۔ (آیت) ” ما فیھا کے عموم میں ہر وہ چیز داخل ہے جو بطن زمین کے اندر ہے، مردوں کے جسم، خزانے وغیرہا (آیت) ” اذنت، حقت “۔ دونوں پر حاشیے ابھی گزر چکے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ان کا تعلق آسمان سے تھا، اس آیت میں زمین سے ہے۔ مقصود دونوں جگہ یہ ہے کہ جس حاکم علی الاطلاق کی اطاعت سے آسمان و زمین تک کو مفر نہیں، انسان اس کے احکام تشریعی سے انکار کی جرأت کررہا ہے !
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان تو کام میں جتا رہتا ہے اپنے پروردگار کے پاس پہنچنے تک پھر اس سے جا ملے گا،4۔

4۔ مطلب یہ ہوا کہ ہر انسان مرتے دم تک کسی نہ کسی شغل میں، اچھا ہو یا برا، بہرحال لگاہی رہتا ہے۔ (آیت) ” کا دح، کدحا “۔ کدح کے معنی سعی وجہد کے ہیں۔ الکدح سعی الانسان وجھدہ فی الامر (معالم) جب مشقت وتعب انسان کے لیے زندگی میں بہر صورت ناگزیر ہے، جب تو یہ بات اور زیادہ دیکھ لینے کی ہے کہ انسان خیر یا شرکس قسم کا کسب اعمال کررہا ہے۔ (آیت) ” یایھا الانسان “۔ خطاب جنس انسانی سے ہے۔
Ayahs 84:7–9

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

تو جس کسی کا نامہ عمل اسکے داہنے ہاتھ میں ملے گا ،

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

سو اس سے آسان حساب لیاجائے گا ،

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے والوں کے پاس خوش خوش لوٹ کر آئے گا،5۔

5۔ (کہ میں تو خوب سستا چھوٹ آیا) (آیت) ” حسابا یسیرا “۔ حساب کی آسانی کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ سرے سے کوئی باز پرس ہی نہ ہو۔ اور محض ضابطہ کی پیشی ہو کر رہ جائے۔
Ayahs 84:10–11

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کسی کا نامہ عمل اس کی پیٹھ کے پیچھے سے ملے گا ،

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

سو وہ موت کو پکارے گا،6۔

6۔ (جیسا کہ دنیا میں بھی انسان انتہائی مصیبت کے وقت پکارتا ہے) (آیت) ” واما ..... ظہرہ “۔ ذکرکفار اہل جہنم کا ہورہا ہے، انہیں نامہ اعمال پشت کی طرف سے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayahs 84:12–15

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور جہنم میں پڑے گا ،

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

وہ اپنے والوں میں خوش خوش رہا کرتا تھا ،

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اس نے خیال کر رکھا تھا کہ اسے لوٹنا نہیں ہے ،

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

ضرور ہے، اس کا پروردگار اسے خوب دیکھتا رہتا تھا،7۔

7۔ (اس کے اقوال، احوال، اعمال سب کو) اور اس وقت جو اسے فی الفور سزا نہیں ملی، تو اس لیے کہ حکمت الہی، اور مشیت مطلق جزاء کا ایک وقت خاص مقرر کرچکی تھی۔ (آیت) ” انہ ...... مسرورا “۔ یہ دنیا میں اس طرح مگن اور سرمست تھا کہ آخرت کی طرف سے بالکل بےپرواوغافل ہی ہوگیا تھا۔
Ayahs 84:16–18

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

میں قسم کھاتا ہوں شفق کی ،

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور ان چیزوں کی جنہیں وہ سمیٹ لیتی ہے ،

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب وہ پورا ہوجائے،8۔

8۔ یعنی بدرکامل بن جائے۔ (آیت) ” فلا ..... اقسم “۔ جن چیزوں کی قسمیں آگے آرہی ہیں، یہ سب زبان حال سے گواہی سے دے رہی ہیں، وقوع آخرت پر۔ اقسام قرآنی کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحجر (پ 14) کا ضمیمہ۔ (آیت) ” بالشفق “۔ جس طرح شفق سے رات کا آغاز ہوتا ہے، موت سے عالم آخرت کی ابتداء ہوتی ہے۔ (آیت) ” والیل “۔ جس طرح دن کے بعد رات میں ایک نئی حیات نومی کا تجربہ ہوتا ہے، حیات ناسوتی کے بعد ایک نئی حیات برزخی ملتی ہے۔ (آیت) ” وما وسق “۔ اس کے عموم میں وہ سارے جاندار بھی آجاتے ہیں، جو رات کو آرام لینے کے لیے اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جاتے ہیں، (آیت) ” والقمر اذا اتسق “۔ چاند کہاں تو غائب ہوتا ہے اور کہاں پھر بدر کامل بن کرنمودار ہوتا ہے، فنائے عالم کے بعد اسی طرح ایک کامل حیات آخری نصیب میں آئے گی۔
Ayah 84:19

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے،9۔

9۔ (اور ایک حالت پر قائم ودائم رہنا ہرگز نہیں ہے) (آیت) ” عن طبق “۔ عن یہاں بعد کے مرادف ہے۔ حالابعد حال (معالم، عن ابن عباس ؓ وعن للمجاوزۃ وقال غیرواحدھی بمعنی بعد والمجاوزۃ والبعدیۃ متقاربان (روح) آیت میں یہ بتایا ہے کہ انسان ایسی مخلوق نہیں، جسے شروع سے آخر تک ایک حالت پر جامد رکھا جائے۔ سارا نظام عالم گواہ ہے کہ انسان ایک ترقی پذیر مخلوق بنایا گیا ہے، ابھی زندہ تھا ابھی مردہ ہوجائے گا۔ ابھی مردہ سے پھر زندہ کردیا جائے گا۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ آیا ہے کہ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کی امت کے لیے مخصوص ہے۔ یہ مان لینے کے بعد آیت سے مراد مراتب قرب میں ترقی ہوگی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہی شان وارث رسول عارف کی مراتب واحوال میں ہوتی ہے۔
Ayahs 84:20–21

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

سو انہیں کیا ہوا کہ ایمان نہیں لاتے ،

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو جھکتے نہیں،10۔

10۔ (اللہ کی آگے کمال شقاوت سے) (آیت) ” لایسجدون “۔ سجدہ “۔ یہاں اصطلاحی معنی میں نہیں، انقیاد، کمال تعظیم کی لغوی معنی میں ہے۔ (آیت) ” فمالھم لایؤمنون “۔ اپنی بصیرت پر ایسے غفلت کے پردے انہوں نے ڈال رکھے ہیں کہ مشاہدات فطرت سے ذرا سبق ایمان کا نہیں لیتے۔ (آیت) ” واذا ...... یسجدون “۔ اور اس سے بھی بڑھ کر کمال شقاوت یہ ہے کہ قرآن جو ان غفلت کے پردوں کو اٹھاتا جاتا ہے، اور اسی لیے ہے، اس سے بھی ہدایت کا اثر نہیں قبول کرتے۔ فقہاء نے آیت سے سجدۂ تلاوت کا وجوب نکالا ہے۔ یستدل بہ علی وجوب سجدۃ التلاوۃ لذمہ لتارک السجود عند سماع التلاوۃ (جصاص)
Ayahs 84:22–25

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ یہ کافر الٹی تکذیب کرتے ہیں ،

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ یہ لوگ جمع کررہے ہیں ،

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

سو آپ انہیں ایک عذاب دردناک کی خبر دے دیجئے ،

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ان کے لئے تو ایسا اجر ہے جو کبھی موقوف ہونے والا نہیں،11۔

11۔ اور یہی معنی ہیں جنت اور اہل جنت کے دوام وخلود کے۔ (آیت) ” بمایوعون “۔ یعنی اعمال کفریہ کا ذخیرہ حق سے دشمنی، رسول حق سے بعض وعناد، وغیرہا۔ (آیت) ” فبشرھم بعذاب الیم “۔ ان کافروں کی سعی ناحق بھی رائیگاں نہ جائے گی، ایک ایک چیز کا بدلہ مل کررہے گا۔