84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 84:1

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

اذا السماء انشقت . جب آسمان پھٹ جائے گا۔ السَّمَآءُ انْشَقَّتْ محذوف کا فاعل ہے اور انشقّت مذکور اس محذوف کی تفسیر ہے۔
Ayah 84:2

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا فرمان بجا لائے گا اور اسے واجب بھی یہ ہی ہے

واذنت لربھا . اور اپنے مالک کے حکم انشقاق کو سنے گا اور اطاعت کرے گا۔ و حقت . اور آسمان کے لیے حکم کی اطاعت ہی حق ہے ممکن کی چونکہ اپنی ذاتی کوئی اقتضاء نہیں ہو سکتی ‘ اس لیے مشیت واجب کی اطاعت کے سوا اس کے لیے کوئی امکان ہی نہیں۔
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی

واذا الارض مدت . جب زمین پھلائی جائے گی ‘ یعنی اس کی وسعت بڑھا دی جائے گی۔ مقاتل نے کہا : زمین کو ایسا ہموار کردیا جائے گا جیسا چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے ‘ نہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا ‘ نہ کوئی عمارت۔ حاکم ؓ نے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کا دن ہوگا تو زمین کو اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑا پھیلایا جاتا ہے اور مخلوق کو اٹھایا جائے گا۔ حاکم ؓ نے عمدہ سند سے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن زمین کو اس طرح پھیلایا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے۔ پھر آدمی کو زمین میں صرف قدم رکھنے کی جگہ ملے گی۔ پھر سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا ‘ میں سجدہ میں گر جاؤں گا تو مجھے (کچھ عرض کرنے کی) اجازت دی جائیگی۔ اس وقت جبرئیل ( علیہ السلام) اللہ کے دائیں طرف ہوں گے۔ واللہ ! اس سے پہلے جبرئیل ( علیہ السلام) نے اللہ کو کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ میں عرض کروں گا : اے میرے ربّ ! اے میرے ربّ ! مجھے اس جبرئیل ( علیہ السلام) نے خبر دی تھی کہ تو نے اس کو میرے پاس بھیجا تھا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) خاموش ہوں گے کوئی بات نہیں کریں گے یہاں تک کہ اللہ فرمائے گا۔ اس نے سچ کہا پھر اللہ مجھے شفاعت کی اجازت دے گا اور میں عرض کروں گا : اے میرے رب ! تیرے بندے تمام زمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔ مقام محمود (شفاعت کا مقام) یہی ہوگا۔
Ayah 84:4

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر باہر ڈال دے گی اور (بالکل) خالی ہو جائے گی

والقت مافیھا و تخلت . اور زمین اپنے اندر کے تمام مردے اور خزانے باہر پھینک دے گی اور کوشش کے ساتھ (اندر سے) خالی ہوجائے گی ‘ اس کے اندر کوئی چیز نہیں رہے گی۔
Ayah 84:5

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے ارشاد کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی یہی ہے (تو قیامت قائم ہو جائے گی)

واذنت لربھا وحقت . خزانوں اور مردوں کو اندر سے باہر پھینکنے کے حکم کو سن کر اطاعت کرے گی اور اس کی یہ اطاعت حق ہوگی۔ اِذَا کی خبر محذوف ہے ‘ جس کے مضمون پر آئندہ آیات دلالت کر رہی ہیں یعنی جب ایسا ایسا ہوگا تو انسان اپنی کوشش کو پائے گا ‘ اس کے دائیں ہاتھ میں کتابچہ دیا جائے گا تو وہ خوش خوش لوٹے گا اور بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا تو ہلاکت کو پکارے گا۔ چونکہ دونوں جملوں میں سے ہر جملہ ایک قسم کی مخصوص قدرت کا حامل ہے اس لیے ہر جملہ کے ساتھ اِذَا الگ الگ لایا گیا۔ ابو القاسم ختلی نے الدیباج میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : اذا السمآء انشقت ..... کی تشریح میں فرمایا : میں ہی ہوں گا سب سے اوّل وہ شخص جو زمین پھٹ کر باہر نکلے گا۔ میں (اُٹھ کر) اپنی قبر میں بیٹھ جاؤں گا۔ میرے سر کے مقابل آسمان تک ایک دروازہ کھل جائے گا کہ عرش تک مجھے دکھائی دیگا۔ پھر میرے نیچے سے ایک دروازہ کھولا جائے گا کہ ساتویں زمین تک مجھے نظر آجائے گی اور ثریٰ تک میں دیکھ لوں گا۔ پھر دائیں طرف ایک دروازہ کھولا جائے گا کہ میں جنت تک دیکھ لوں گا اور اپنے ساتھیوں کے مکان مجھے نظر آجائیں گے اور زمین مع میرے جنبش میں آجائے گی تو میں کہوں گا : زمین تجھے کیا ہوگیا ؟ زمین جواب دے گی ‘ میرے مالک نے مجھے حکم دیا ہے کہ میرے اندر جو کچھ ہے اس کو باہر پھینک دوں اور خالی ہوجاؤں۔ لہٰذا جیسے میں (انسانوں سے پہلے) تھی ‘ ویسی ہی ہو جاؤنگی۔ اسی (مضمون) کے متعلق ہے اللہ کا فرمان ہے : والقت ما فیھا و تخلت . ابن المنذر نے اپنی تفسیر میں آیت : والقت مافیھا و تخلت کے سلسلے میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ (زمین) سونے کے ستون (باہر پھینک دے گی) یعنی زمین کے اندر جو خزانے مدفون ہوں گے ان کو زمین باہر نکال پھینکے گی۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ کا بھی یہی قول نقل کیا ہے لیکن ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا اور فریابی نے مجاہد کا یہ قول بیان کیا کہ : اخرجت الارض اثقالھا : زمین اپنے اندر سے اپنا بوجھ باہر نکال پھینکے گی ‘ یعنی مردوں کو۔
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا

یایھا الانسان . عام انسانوں سے خطاب ہے۔ انک کا دح . کَدْحٌ کا معنی ہے اچھے برے کام میں اتنی محنت اور کوشش کرنا کہ محنت کا اثر کرنے والے میں پیدا ہوجائے کیونکہ کدحٌ کا لغوی معنی ہے خراش پیدا کردینا (پس کوشش اور محنت اگر انسان میں کوئی اثر پیدا کر دے تو گویا کوشش نے اس کے اندر خراش پیدا کردی) ۔ الی ربک کدحا . اپنے مالک کی طرف یعنی موت کی طرف۔ مراد یہ ہے کہ اے انسان ! تو مرنے تک (اچھے برے کام کی) کوشش میں لگا رہتا ہے۔ فملاقیہ . ہضمیر یا کَدْحًا کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آخر میں تو اپنی کوشش کو یعنی کوشش کے بدلہ کو پالے گا۔ یا ضمیر ربک کی طرف راجع ہے یعنی مرنے کے بعد جب قیامت کا دن ہوگا تو اپنے مالک سے تیری ملاقات ہوگی ‘ یا مضاف محذوف ہے یعنی رب کی طرف سے محاسبہ تجھے پیش آئے گا۔ اس آیت میں اجمالاً کوشش کے عوض کے ملنے کا اظہار کیا اور آئندہ آیت میں خود ہی اس کی تفصیل کردی۔ فرمایا :
Ayah 84:7

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

تو جس کا نامہٴ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا

پس جس شخص کے دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا
Ayah 84:8

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

اس سے حساب آسان لیا جائے گا

اس کا حساب آسان ہوگا۔ اس سے مراد مؤمن ہیں۔ بخاری نے اپنی سند سے ابن ابی ملیکہ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اگر کوئی بات ایسی سنتی تھیں جس کا مطلب ان کی سمجھ میں نہیں آتا تو سمجھ لینے کے لیے اس بات کو (حضور ﷺ سے) دریافت کرلیتی تھیں چناچہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ جس سے حساب لیا گیا (پس) اس کو عذاب دیا گیا تو حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ اللہ نے یہ نہیں فرمایا ہے : فَسَوْفَ یُحَاسِبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا (پھر حساب فہمی کے لیے عذاب کس طرح لازم ہے ؟ ) فرمایا : یہ (حساب جس کا ذکر آیت میں ہے) صرف ایک پیشی ہوگی جس کی پوچھ گچھ کے ساتھ حساب فہمی ہوگی وہ ہلاک ہوجائے گا۔ امام احمد کی روایت ہے ‘ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! حساب یسیر کیا ہوگا ؟ فرمایا : صرف اس کا کتابچہ دیکھ کر درگزر کی جائے گی۔ البتہ جس کی حساب فہمی پوچھ گچھ کے ساتھ کی جائے گی وہ ہلاک ہوجائے گا۔
Ayah 84:9

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھر والوں میں خوش خوش آئے گا

و ینقلب الی اھلہ مسرورا . اور اپنے گھر والوں کے پاس خوش ‘ خوش لوٹ کر جائے گا۔
Ayah 84:10

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس کا نامہٴ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا

و اما من اوتی کتابہ وراء ظھرہ . اور جس کے ہاتھ میں پشت کے پیچھے سے اعمالنامہ دیا جائیگا۔ اس آیت کی تشریح میں علامہ بیہقی (رح) نے مجاہد (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ اس کا بایاں ہاتھ پشت کے پیچھے کردیا جائیگا اور اعمالنامہ کو وہ بائیں ہاتھ سے لے گا۔ ابن السابت ؓ نے کہا : اس کا بایاں ہاتھ مروڑ کر سینہ کے اندر سے پشت کے پیچھے نکال دیا جائے گا۔
Ayah 84:11

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

وہ موت کو پکارے گا

فسوف یدعوا ثبو را . ثبور کا معنی ہے ہلاکت یعنی وہ مرنے کی تمنا کریگا اور کہے گا : وائے موت (آ جا ! )
Ayah 84:12

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور وہ دوزخ میں داخل ہو گا

و یصلی سعیرا . اور دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
Ayah 84:13

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

یہ اپنے اہل (و عیال) میں مست رہتا تھا

انہ کان فی اھلہ مسرورا . یعنی وہ دنیا میں اپنے گھر والوں کے ساتھ آخرت سے غافل اور نڈر ہو کر ‘ مال و جاہ میں پڑ کر خوش تھا۔ یہ جملہ موت کو پکارنے کی علت ہے۔
Ayah 84:14

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا

انہ ظن ان لن یجور . یہ قیامت کا انکار کرتے ہوئے خیال رکھتا تھا کہ حساب فہمی کے لیے مالک کے پاس لوٹ کر جانا نہ ہوگا۔
Ayah 84:15

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

ہاں ہاں۔ اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا

بلے . یہ نفی کا ایجاب ہے یعنی اللہ کی طرف واپسی لازمی ہے۔ انہ ربہ کان بہ بصیرا . یہ رجوع کو ثابت کرنے کی علّت ہے یعنی اس کی واپسی خدا کی طرف ضرور ہوگی اللہ اس کو ضرور سزا دے گا کیونکہ اللہ اس کے اعمال سے بخوبی واقف ہے ‘ دیکھ رہا ہے ‘ اس کے اعمال کو یونہی رائیگاں نہیں چھوڑے گا ‘ ضرور انتقام لے گا۔
Ayah 84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

ہمیں شام کی سرخی کی قسم

فلا اقسم بالشفق . شفق غروب کے بعد والی سفیدی جو سرخی کے بعد ہوتی ہے۔
Ayah 84:17

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کر لیتی ہے ان کی

والیل وما وسق . مَا وَسَقَ سے مراد ہیں وہ مویشی جو دن میں ادھر ادھر منتشر ہوتے ہیں اور رات کو انکے ٹھکانوں پر جمع کردیتی ہے۔ منصور نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ ما وسق کا معنی یہ ہے کہ جس چیز کو رات اپنی لپیٹ میں لے ‘ لے اور تاریکی میں چھپالے۔ سعید بن جبیر ؓ نے کہا : رات میں جو کچھ کیا جائے (سب ما وسق میں داخل ہے) یعنی قسم ہے شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ دیتی ہے یا جن کو رات اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے یا اس کی جو رات میں کیا جاتا ہے۔
Ayah 84:18

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب کامل ہو جائے

والقمر اذا تسق . اور قسم ہے چاند کی جب وہ مکمل ہوجاتا ہے اور اس کی چاندنی روشن راتوں میں پوری ہو جاتی ہے۔ اِتَّسَقَ باب افتعال سے ہے وسق اس کا مجرد ہے وسق کا معنی ہے ‘ جمع کرنا۔
Ayah 84:19

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہٴ اعلیٰ پر) چڑھو گے

لترکبن طبقا عن طبق . اگر لَتَرْکَبُنَّ صیغۂ واحد مذکر مخاطب بر قراءت ِ ابن کثیر و حمزہ و کسائی پڑھا جائے تو خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہوگا۔ بر قول شعبی ؓ و مجاہد ؓ یہ مطلب ہوگا کہ اے محمد ! تم ضرور ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے۔ اللہ نے فرمایا ہے : الذی خلق سبع سمٰوٰت طباقًا (گویا عن طبق سے مراد ہے۔ آسمان بالائے آسمان کیونکہ اللہ نے سات آسمان منزل در منزل بنائے ہیں) پس اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے معراج کی بشارت ہے۔ قصۂ معراج کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ان کا ذکر سورة اسراء اور سورة النجم میں ہوچکا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرب خداوندی اور علو مرتبہ میں درجہ بدرجہ ترقی دینا مراد ہو۔ بخاری (رح) نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ طبقًا عن طبق کا معنی ہے حالا بعد حال۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد تمہارے نبی اکرم ﷺ ہیں۔ اگر لترکبن کو واحد مؤنث غائب کا صیغہ قرار جائے تو ضمیر فاعلی آسمان کی طرف راجع ہوگی (اور طبقا عن طبق کا معنی ہوگا ایک کے بعد دوسرا حال) یعنی آسمان ایک حال کے بعد دوسرا حال اختیار کرے گا۔ سعید بن منصور اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ آسمان میں شگاف ہوجائیں گے پھر پھٹ پڑے گا پھر سرخ ہوجائے گا۔ بیہقی نے حضرت ابن مسعود کا قول بیان کیا ہے کہ آسمان کے مختلف رنگ ہوں گے وردی ‘ گلابی اور آسمان کمزور ہوجائے گا اور پھٹ جائے گا اس طرح ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت ہوگی۔ موجودہ قراءت میں باء کے ضمہ کے ساتھ جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور انسانوں کو خطاب ہے یعنی اے انسانو ! قیامت کی منازل میں تم ایک حال کے بعد دوسرے حال میں اور ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر ہو گے۔ مقاتل نے طبقا عن طبق سے مراد لی ہے موت اور موت کے بعد زندگی۔ عطاء نے دنیوی احوال سے تفسیر کی ہے۔ کبھی فقیر ‘ کبھی مالدار۔ عمرو بن دینار کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ طبقا عن طبق سے مراد ہیں) شدائد ‘ مصائب ‘ موت پھر حشر ‘ پھر پیشی۔ عکرمہ نے کہا : طبقا عن طبق یعنی ایک حال کے بعد دوسرا حال پہلے شیر خوار ہوتا ہے پھر دودھ چھوڑتا ہے پھر بچہ لڑکا ہوتا ہے پھر جوان ہوتا ہے پھر بوڑھا ہوجاتا ہے۔ ابو عبیدہ ؓ نے اس طرح تشریح کی کہ تم ضرور گزشتہ اقوام کے طریقوں پر چلو گے۔ حضرت ابن عباس کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث آئی ہے۔ جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے کہ تم لوگ بالشت بالشت اور بانہہ بانہہ گزشتہ اقوام کے طریقوں پر چلو گے ‘ یہاں تک کہ اگر گزشتہ اقوام میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا تھا تو تم بھی داخل ہو گے اور اگر ان میں کسی نے اپنی بیوی سے سر راہ جماع کیا تھا تو تم بھی کرو گے۔ بخاری (رح) نے اسی طرح کی حدیث حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کی ہے۔
Ayah 84:20

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے

فمالھم لا یومنون . اس استفہام سے مقصود ہے انکار اور تعجب کا اظہار۔ وعد ابرار اور وعید فجار جو اوپر گزرا ‘ اس سے یہ کلام تعلق رکھتا ہے۔ درمیان میں جملہ فلا اقسم بطور معترضہ ذکر کیا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ بھی احتمال ہے کہ اس کلام کا ربط آیت : لترکبن طبقا عن طبق سے ہو کیونکہ تبدیل احوال سے تبدیل کرنے والے کی ہستی کا پتہ چلتا ہے پھر کیا وجہ کہ اس کو نہیں مانتے۔
Ayah 84:21

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے

واذا قری علیھم القرآن لا یسجدون . اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سننے سے سجدہ کرنا واجب ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن سن کر سجدہ نہ کرنے والوں کی اس آیت میں مذمت کی ہے حالانکہ اگر آیت سجدہ نہ ہو کوئی دوسری آیت ہو تو عموماً قرآن کو سن کر بالاجماع سجدہ واجب نہیں۔ پس آیت مذکورہ میں سجدہ سے مراد یا تو خضوع ہے ‘ خضوع کو مجازاً سجدہ فرمایا۔ ہر آیت قرآنی کو سننے کے وقت دل کا خضوع واجب ہے یا سجدہ سے سجدۂ تلاوت مراد ہے اور القراٰن میں الف لام (جنسی نہیں) عہدی ہے یعنی آیت سجدہ مراد ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سجدۂ تلاوت کو واجب قرار دیتے ہیں ‘ مؤخر الذکر معنی کی بنا پر امام اعظم (رح) کے لیے آیت دلیل بن جائیگی۔ لیکن امام صاحب نے سجدۂ تلاوت کو فرض نہیں قرار دیا (باوجودیکہ آیت مذکورہ میں حکم سجدہ موجود ہے) کیونکہ مسئلہ مختلف فیہا ہے اور تفسیر مذکور معین نہیں مگر ظاہر یہ ہے کہ شک و احتمال کی صورت میں تو وجوب بھی ثابت نہیں ہوتا بلکہ وجوب کا ثبوت دلیل ظنی سے ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) اور صاحبین (رح) نے وجوب سجدۂ تلاوت کے ثبوت میں حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھتا (اور سجدہ کرتا) ہے تو شیطان روتا ہوا الگ چلا جاتا ہے اور کہتا ہے : ہائے افسوس ! آدمی کو سجدہ کا حکم دیا گیا اور اس نے سجدہ کیا اور اس کے لیے جنت ہوگئی اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا مگر میں نے نہیں کیا اور میرے لیے دوزخ ہوگئی۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ جب کوئی دانش مند کسی دانش مند کے کلام کو نقل کرتا ہے اور نقل کرنے کے بعد اس کی تردید نہیں کرتا تو معلوم ہوتا ہے کہ ناقل کے نزدیک منقول عنہ کا کلام صحیح ہے ( رسول اللہ ﷺ نے شیطان کا کلام نقل کیا ہے جس میں آیت سجدہ پڑھنے پر حکم سجدہ کا ذکر تھا اور شیطان کے اس قول کی حضور ﷺ نے تردید نہیں فرمائی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سجدۂ تلاوت واجب ہے اور شیطان نے سچ کہا) ابن ابی شیبہ (رح) نے مصنف میں حضرت ابن عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص (آیت) سجدہ سن لے ‘ اس پر سجدہ واجب ہے۔ جمہور فقہاء و محدثین کے نزدیک سجدۂ تلاوت سنت ہے۔ جمہور نے مندرجۂ ذیل حدیث و اثر سے استدلال کیا ہے۔ حضرت زید بن ثابت نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے النجم پڑھی مگر حضور ﷺ نے سجدہ نہیں کیا۔ (مسلم ‘ بخاری ‘ دارقطنی اور اصحاب السنن نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ دارقطنی نے اتنا زائد بیان کیا ہے کہ ہم میں سے کسی نے سجدہ نہیں کیا۔ حنفیہ ؓ نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ اس حدیث سے سجدہ کا واجب نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یہ تو ایک واقعہ کا بیان ہے پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ترک سجدہ اس وجہ سے ہو کہ قراءت مکروہ وقت میں کی گئی ہو یا وضو نہ ہو یا یہ بتانا مقصود ہو کہ سجدۂ تلاوت فوراً واجب نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ان وجوہ میں سے ترک سجدہ کی کوئی وجہ ہوتی تو اس کو بیان کردیا جاتا۔ عدم بیان سے تو وقت حاجت میں بیان مجمل کا ترک لازم آئے گا۔ دوسری حدیث حضرت عمر بن خطاب کی ہے کہ آپ نے جمعہ کے روز ممبر پر سجدہ کی آیت پڑھی اور نیچے اتر کر سجدہ کیا اور سب لوگوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا پھر ایک اور جمعہ میں بھی (اسی طرح) آیت سجدہ کی تلاوت کی اور لوگ سجدہ کرنے کو تیار ہوگئے مگر آپ نے ممبر پر سے ہی فرمایا : اللہ نے تم کو مہلت دی ہے ‘ فرض نہیں کیا ہاں ! جو چاہے (کرے) یہ اثر بخاری (رح) نے بھی بیان کیا ہے اور امام مالک (رح) نے موطا میں بھی۔ شیخ ابن حجر ؓ مکی نے کہا : مزنی کا خیال ہے کہ یہ بخاری کے تعلیقات میں سے ہے مگر یہ وہم ہے بیہقی اور ابو نعیم نے اس کی روایت کی ہے۔ میں کہتا ہوں اس روایت میں اجماع کا بیان ہے کہ سب لوگ جمعہ کی نماز میں موجود تھے اور کسی نے حضرت عمر کے قول کی تردید نہیں کی۔ رہی وہ روایت جس میں بیان کیا گیا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ آدمی کو حکم دیا گیا اور اس نے سجدہ کرلیا تو بظاہر اس سے مطلق سجدہ مراد ہے خصوصیت کے ساتھ سجدۂ تلاوت مراد نہیں کیونکہ شیطان کو تو حکم دیا گیا تھا کہ آدم کی طرف رخ کر کے اللہ کو سجدہ کرے وہاں سجدۂ تلاوت کا حکم نہیں تھا۔ مسئلہ مفصلات میں سجدۂ تلاوت اختلافی ہے۔ جمہور کے نزدیک النجم اور اذا السماء انشقت اور العلق میں سجدہ ہے پھر باہم اختلاف ہے۔ سورة حج کے دو سجدوں اور سورة ص کے سجدہ میں۔ اس طرح جمہور کے نزدیک پورے قرآن میں 14 یا 15 سجدے ہیں۔ امام مالک (رح) نے فرمایا : مفصلات میں کہیں سجدہ نہیں۔ آپ نے استدلال میں حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مفصلات میں کہیں سجدہ نہیں کیا۔ اس حدیث کو ابوداؤد اور ابو علی بن السکن نے بروایت ابو قدامہ حارث بن عبید از مطراز عکرمہ بھی بیان کیا ہے اور ابو قدامہ نے براہ راست بھی عکرمہ سے اسکی نقل کی ہے۔ شیخ ابن حجر ؓ نے ابو قدامہ اور مطر کو ضعیف کہا ہے۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ امام احمد نے فرمایا ابو قدامہ مضطرب الحدیث ہے۔ یحییٰ نے کہا ابو قدامہ ہیچ ہے ‘ اسکی حدیث نہ لکھی جائے۔ طحاوی (رح) اور بعض دوسرے لوگوں نے بیان کیا کہ حضرت ابی بن کعب سے مفصلات میں سجدہ کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ فرمایا : نہیں ہے۔ ہماری دلیل حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اذا السما انشقت اوراقراء میں سجدہ نہیں کیا۔ یہ حدیث صرف مسلم نے بیان کی ہے لیکن دوسری اسناد سے بخاری و مسلم دونوں نے ابو نافع کا یہ قول نقل کیا ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ آپ ؓ نے اذا السمآء انشقت پڑھی اور سجدہ کیا۔ میں نے کہا : یہ کیا کیا ؟ فرمایا رسول اللہ ﷺ کے پیچھے میں نے یہ سجدہ کیا تھا لہٰذا مرتے دم تک اس جگہ سجدہ کرتا رہوں گا۔ حضرت ابوہریرہ 6 ھ میں مسلمان ہوئے تھے۔ دوسری حدیث حضرت ابن عباس کی ہے کہ سورة النجم میں رسول اللہ ﷺ نے بھی سجدہ کیا اور مشرکوں نے بھی۔ یہ روایت بخاری (رح) نے بیان کی ہے اور ترمذی نے اس کو نقل کرنے کے بعد صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت عمرو بن العاص کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن میں پندرہ سجود پڑھے۔ تین مفصلات میں اور دو سورة حج میں۔ یہ حدیث ابو داؤد ‘ ابن ماجہ ‘ دارقطنی اور حاکم نے بیان کی ہے۔ منذری اور نووی نے اس کو حسن کہا ہے مگر شیخ عبدالحق نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن جوزی نے بھی اس کو ناقابل اعتماد کہا ہے اور صراحت کی کہ اس حدیث کی اسناد میں محمد بن راشد ہے اور علماء نے اس کو کاذب قرار دیا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت ہے کہ میں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اذا السمآء انشقت میں (صرف) دس بار سجدہ کیا۔ (رواہ البزار) مسئلہ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے خواہ ارادہ سے سنے یا بلا ارادہ سن لے کیونکہ موجب سجدہ مطلق ہے ترک سجدہ پر مذمت غیر مقید ہے۔ جمہور کے نزدیک بلا ارادہ آیت سجدہ سننے پر حکم سجدہ نہیں ہے (یعنی سنت بھی نہیں ہے) حضرت عثمان والی حدیث اس پر دلالت کر رہی ہے۔ جب حضرت عثمان ‘ عاص کی طرف سے گزرے اور عاص ؓ نے آیت سجدہ پڑھی تاکہ حضرت عثمان ؓ بھی سجدہ میں شرکت فرمائیں لیکن آپ ؓ نے سجدہ نہیں کیا اور چلے گئے اور فرمایا : سجدہ اس شخص پر ہے جو قصداً سنے۔ یہ حدیث عبدالرزاق نے بروایت معمر ؔ از زھریؔ از ابن مسیب ؔ بیان کی ہے۔ بخاری نے اس کو تعلیقًا ذکر کیا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں حضرت عثمان کا قول نقل کیا ہے کہ سجدہ اس شخص پر ہے جو اس کے (یعنی آیت سجدہ سننے کے) لیے بیٹھا ہوا ہو۔ حضرت ابن عباس کی حدیث میں آیا ہے کہ سجدہ اس شخص پر ہے جو اس کے لیے بیٹھا ہو۔ (رواہ البیہقی و ابن ابی شیبۃ) مسئلہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک سننے والے پر سجدہ واجب ہے خواہ پڑھنے والا سجدہ نہ کرے کیونکہ امر مطلق ہے (پڑھنے والے کے سجدہ کرنے کی قید اس میں نہیں ہے) جمہور کے نزدیک سامع کے لیے سجدہ کا حکم اس وقت تک نہیں ہے جب تک قاری سجدہ نہ کرے کیونکہ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضور ﷺ کے سامنے آیت سجدہ پڑھی اور حضور ﷺ نے سجدہ کیا پھر ایک اور آدمی نے آیت سجدہ پڑھی مگر حضور ﷺ نے سجدہ نہیں کیا۔ اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس شخص کی تلاوت پر تو حضور ﷺ نے سجدہ کیا اور میری تلاوت پر نہیں کیا۔ فرمایا : تو امام تھا اگر تو سجدہ کرتا تو ہم بھی سجدہ کرتے۔ ابوداؤد ؓ نے یہ حدیث زید بن اسلم کی روایت سے مرسلاً (بغیر ذکر صحابی ؓ کے) ذکر کی ہے لیکن زید بن اسلم ؓ نے بحوالہ عطاء بن یسار بھی اس کو ذکر کیا ہے (یعنی تابعی کے حوالہ سے ذکر کیا ہے مگر صحابی کا ذکر اس میں بھی نہیں ہے) ۔ امام شافعی (رح) نے بھی اس کو اسی طرح (یعنی مرسل صحابی) بیان کیا ہے لیکن بیہقی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث قرہ نے اور قرہ ؓ سے زہری ؓ نے اور زہری ؓ سے حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا مگر قرہ ضعیف ہے۔ بخاری کے نزدیک تعلیقاً حضرت ابن مسعود سے یہ حدیث مروی ہے۔ مسئلہ اگر امام ہو تو سری نماز میں آیت سجدہ کو (جہراً ) پڑھنا مکروہ ہے لیکن یہ حکم جہری نماز کا نہیں ‘ نہ منفرد کے لیے یہ حکم ہے۔ امام احمد (رح) نے فرمایا : اگر امام آیت سجدہ سر اً پڑھے تو سجدہ نہ کیا جائے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک کسی صورت میں مکروہ نہیں ہے کیونکہ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں آیا ہے کہ ظہر کی نماز میں رسول اللہ ﷺ نے سجدۂ تلاوت کیا جب صحابہ ؓ نے دیکھا کہ حضور ﷺ نے آیت سجدہ پڑھی تو انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ (ابوداؤد ‘ طحاوی ‘ حاکم) مسئلہ جب امام سجدہ کرے تو مقتدی بھی سجدہ کریں۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک سجدۂ تلاوت اگرچہ سنت ہے مگر حکم اقتداء یہی ہے ‘ قنوت کے متعلق بھی امام شافعی (رح) کا یہی قول ہے۔
Ayah 84:22

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں

بل الذین کفروا یکذبون . کافر فقط اتنا ہی نہیں کرتے کہ قرآن سننے کے وقت سجدہ نہ کریں بلکہ قرآن کی تکذیب بھی کرتے ہیں۔
Ayah 84:23

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور خدا ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے

واللہ اعلم بما یوعون . یعنی جو کفر و عداوت وہ اپنے سینوں میں جمع رکھتے ہیں۔ اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔ مجاہد نے کہا جو کچھ کافر چھپاتے ہیں ‘ اللہ اس سے خوب واقف ہے۔
Ayah 84:24

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

فبشرھم بعذا الیم . فاء سببی ہے تکذیب ‘ سبب بشارت ہے۔ عذاب سے ڈرانے کی جگہ ‘ عذاب کی خوشخبری دینے کا حکم استہزاءً ا آیا (یعنی ان کے حق میں یہی بشارت ہے) ۔
Ayah 84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بےانتہا اجر ہے

الا الذین امنوا وعملوا الصلحت لھم اجر غیر ممنون یہ استثناء متصل ہے یا منقطع ہے یعنی الاَّ کا معنی لکنّ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو بشارت نہ دو جو ان میں سے ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں کیونکہ ان کے لیے ثواب لازوال ہے یا غیر ناقص (پورا پورا) ثواب ہے یا بلا منت ثواب ہے۔ یہ استثناء کی علّت ہے۔ سورۃ الانشقاق ختم ہوئی ‘ بحمدہ و منہ تعالیٰ