84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : یہ سورة مکہ مکرمہ کے اس دور میں نازل ہوئی جب کفار و مشرکین قیامت کو نہ صرف جھٹلا رہے تھے بلکہ اس سے شدید اختلاف کرتے ہوئے کھلم کھلا یہ بات کہہ رہے تھے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیوں کا چورہ چورہ ہوجائے گا تو ہم دوبارہ کیسے پیدا ہوسکتے ہیں ؟ یہ بات ہماری عقلوں میں نہیں آتی ان کا گمان یہ تھا کہ مرکر دوبارہ زندہ ہونا، اللہ کے سامنے حاضری اور زندگی بھر کے اعمال کا حساب دینا کیسے ممکن ہے ؟ یہ بات ہماری عقلوں میں نہیں آتی ان کا گمان یہ تھا کہ مر کر دوبارہ زندہ ہونا، اللہ کے سامنے حاضری اور زندگی بھر کے اعمال کا حساب دینا کیسے ممکن ہے ؟ اللہ نے فرمایا کہ اس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے وہ جب بھی اس کو مٹ جانے کا حکم دے گا یہ دنیا ختم ہو کر ایک نئی دنیا بن کر تیار ہوجائے گی۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے خالق کا حکم مانے۔ اسی بات کو ثابت کرنے کے لئے اللہ نے اس سورة میں جو کچھ فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ پنے پروردگار کے حکم کی تعمیل کرے گا اس کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنے رب کا حکم مانے اور جب زمین پھیلا کر ہموار کردی جائے گی اور زمین اپنے اندر کی ہر چیز کا اگل دے گی اور باہر پھینک دے گی۔ یہ اللہ کا حکم ہوگا جس کی وہ پوری طرح تعمیل کرے گی۔ فرمایا کہ ہر انسان بڑی تیزی کے ساتھ اس منزل کی طرف چلا جا رہا ہے جہاں اسے اپنے رب سے ملنا ہے۔ اس وقت جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے اس کا حساب آسان اور ہلکا لیا جائے گا اور وہ اپنے لوگوں میں خوشی خوشی ملے گا اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا تو وہ موت کو پکارے گا یعنی فریاد کرے گا کہ اس سے بہتر تھا کہ میں پھر مرگیا ہوتا لیکن وہ بھڑکتی آگ میں داخل کردیا جائے گا۔ یہ وہ ہوگا جو اپنے گھر والوں میں مگن رہتا تھا اور اس نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ وہ کبھی لوٹ کر اپنے رب کے پاس نہ جائے گا۔ حالانکہ اس کا رب تو اس کے اعمال کو دیکھ رہا تھا۔ فرمایا کہ میں قسم کھاتا ہوں شفق (سورج ڈوبنے کے بعد کی سرخی) کی اور اس رات کی جو ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اس چاند کی قسم جب وہ ماہ کامل ( پورا چاند) بن جاتا ہے کہ تمہیں درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرے چلے جانا ہے۔ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ (اس سچائی پر) ایمان نہیں لاتے ؟ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ وہ تو اس کو جھٹلاتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے نامہ اعمال میں جو کچھ جمع کر رہے ہیں اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوشی خبری سنا دیجئے۔ البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اور بھلے اعمال کیے ان کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر وثواب ہے۔

Ayahs 84:1–25

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے رب کے حکم کان لگائے گا ( اطاعت کرے گا) اور وہ اسی لائق ہے کہ اپنے پروردگار کا کہا مانے۔

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور زمین کھینچ کر پھیلا دی جائے گی

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور جو کچھ اس میں ہے اس کو نکال پھینکے گی اور خالی ہوجائے گی۔

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور وہ اسی لائق ہے کہ اطاعت کرے۔

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان ! تو اپنے رب کے پاس جانے کے وقت تک پوری کوشش کے ساتھ عمل کر رہا ہے۔ پھر تو اس (عمل کی جزا) سے ملے گا۔

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

تو اس سے (اس کی زندگی کا) حساب آسانی سے لیا جائے گا ۔

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوشی خوشی آئے گا۔

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

اور جس شخص کو اس کانامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

تو وہ بہت جلد موت کو پکارے گا۔

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

( یہ وہ شخص ہوگا) جو اپنے گھر والوں میں مگن رہتا تھا۔

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اس نے تو سمجھ رکھا تھا کہ اس کو پلٹ کر نہیں جانا ہے۔

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

ہاں یوں نہیں۔ بیشک اس کا رب اس کو خوب اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

پھر میں شام کی سرخی کی قسم کھاتا ہوں

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی جو چیزوں کو (اپنے اندر) سمیٹ لیتی ہے۔

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب وہ پورا ہوجاتا ہے

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

کہ البتہ تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جانا ہے

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

پھر انہیں کیا ہوگیا کہ وہ ایمان نہیں لاتے

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے ؟

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ یہ کافر اس کو جھٹلاتے ہیں۔

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

اور اللہ خوب جانتا ہے جو ( وہ اپنے نامہ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں۔

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

پھر ( اے نبی ﷺ آپ ان کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے انکے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم قدم پر ایسی بیشمار نعمتیں ہیں جن سے وہ ہر آن ہر طرح کے فائدے حاصل کر رہا ہے۔ زمین، آسمان، چاند، سورج ، ستارے، فضائیں، ہوائیں، چرند، پرند، جمادات، نباتات، پہاڑ، دریا اور سمندر وغیرہ سب اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ان تمام نعمتوں کا تقاضا یہ تھا کہ آدمی ہر وقت اس کا شکر ادا کرتا، اسی کی عبادت و بندگی اور نیاز مندی میں زندگی کا ہر لمحہ گزارتا۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اگر اس کو مال و دولت، گھر بار، اولاد اور عیش و آرام کے زیادہ اسباب مل جاتے ہیں تو وہ ان پر اترانے اور غرور وتکبر کرنے لگتا ہے۔ اپنے مالک حقیقی کو بھول کر دوسروں کی عبادت و بندگی اور کفرو شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اللہ، اس کے رسول، قیامت اور آخرت کی ابدی زندگی کا انکار تک کر بیٹھتا ہے۔ اس کی زندگی نافرمانیوں کا پیکر بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کے برخلاف اللہ نے کائنات میں جتنی بھی چیزیں پیدا کی ہیں وہ ہر وقت اس کے سامنے سر جھکائے اس کے حکم کی منتظر رہتی ہیں۔ قیامت کے دن زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کو جو بھی حکم دیا جائے گا وہ اسی وقت اس کی تعمیل کریں گی۔ آسمان پھٹ جائے گا اور زمین کو کھینچ کر صاف، چٹیل اور ہموار میدان بنا دیا جائے گا جس کی وسعت میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک جتنے انسان گزرے ہیں وہ سب اس پر جمع ہوجائیں گے۔ زمین اپنے اندر سے ہر چیز کو نکال کر باہر پھینک دے گی اور بالکل خالی ہوجائے گی۔ وہ زمین اس قدر ہم وار ہوجائے گی کہ کوئی پہاڑ، ٹیلہ، سمندر، دریا اور درخت ایک دوسرے کے دیکھنے میں رکاوٹ نہ بنیں گے کیونکہ اس سرزمین پر ان میں سے کوئی چیز بھی موجود نہ ہوگی۔ یہی وہ میدان حشر ہوگا جس میں ہر شخص کو اپنی زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینا ہوگا۔ پھر جز ایا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے اے لوگو ! تم زندگی بھر، دن رات، صبح شام، اچھی یا بری، کسی نہ کسی بھاگ دوڑ، جدوجہد ، محنت اور مشقت میں لگ کر زندگی کے ہر میدان میں دوڑتے رہتے ہو۔ کبھی تم نے اس بات پر بھی غوروفکر سے کام لیا ہے کہ جس محنت لگن اور اپنے خون پسینے سے سینچ کر جس باغ کو بنا رہے ہو تو تمہاری آنکھ بند ہوتے ہی اس پر دوسروں کا قبضہ ہوجائے گا۔ موت کے ایک ہی جھٹکے میں ان تمام چیزوں سے رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ تم زندگی کے کتنے مرحلوں سے گزر کر ایک منزل تک پہنچتے ہو۔ شکم مادر، بچپن، نوجوانی، جوانی ، ادھیڑ عمری اور پھر بڑھاپا اور ایک دن تم ان منزلوں سے گزرنے کے بعد موت کی آغوش میں جا کر سو جاتے ہو۔ کیا تم نے اس سے آگے کی منزلوں پر بھی غور کیا ہے کہ قبر یعنی عالم برزخ اور میدان حشر میں پہنچنے کے بعد تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟ حالانکہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کی زندگی پر غور کرنا چاہتے تھا کیونکہ دنیا کی زندگی تو پچاس سو سال تک محدود ہے لیکن آکرت کی زندگی تو ہمیشہ کے لئے ہے اور وہاں کی ہر راحت اور تکلیف دائمی ہے۔ فرمایا کہ جب آدمی میدان حشر میں پہنچے گا تو اس نے زندگی بھر جو کام کئے ہوں گے ان کا مکمل ریکارڈ یعنی نامہ اعمال اس کے حوالے کردیا جائے گا۔ یہ اعمال نامے جن لوگوں کے داہنے ہاتھ میں دئیے جائیں گے وہ تو خوشی خوشی اپنے گھر والوں کے پاس پہنچیں گے۔ ہر ایک کو اپنے اعمال نامے دے کر کہیں گے کہ دیکھویہ ہے میرا اعمال نامہ ذرا اس کو پڑھو تو سہی غرضیکہ ایسا آدمی خوشی سے پھولا نہ سمائے گا۔ اور اس کو جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار کردیا جائے گا۔ اور وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائیں گے وہ اپنے اعمال نامے پڑھ کر اور اپنے بدترین انجام کو دیکھ کر رونا اور چلان شروع کردیں گے اور نہایت حسرت و افسوس سے کہہ اٹھیں گے کہ اس سے تو موت ہی اچھی تھی کاش کہ ہمیں ایک مربتہ اور موت ہی آجائے لیکن ان کو موت نہ آئے گی بلکہ وہ اپنے برے انجام سے دور چار ہونے کے لئے جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے گھروالوں میں بےفکر اور راحت و آرام کے اسباب میں مگن رہتے تھے جنہیں آکرت تک یاد نہ تھی بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اسی دنیا میں رہنا ہے اور لوٹ کر اللہ کے سامنے نہیں جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا ہے ( جس کا خلاصہ یہ ہے کہ) کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ سورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر جو سرخی اور شفق ہوتی ہے وہ کچھ دیر کیسی بہار اور رونق دکھاکر غائب ہوجاتی ہے اور اس پر رات کا اندھیراچھا جاتا ہے۔ پھر رات آتی ہے تو رات کا اندھیرا ہر چیز کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ سارے دن کا تھکا ماندہ انسان اپنے گھرلوٹتا ہے، پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف اور دوسرے جانور اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ کر آرام کرتے ہیں لیکن وہ رات بھی اسی حالت پر نہیں رہتی بلکہ ایک صبح نمودار ہو کر سارے اندھیروں کو سمیٹ کر رکھ دیتی ہے۔ رات کے اندھیرے میں چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے۔ اس کی ٹھنڈی کرنوں سے سکون ملتا ہے۔ وہ مکمل چاند ہر روز گھٹتے گھٹتے کھجور کی سوکھی شاخ کی طرف باریک ہو کر غائب ہوجاتا ہے اور پھر اپنے وقت پر نکل آتا ہے۔ فرمایا کہ اس کائنات اور اس کی رونقیں جو ہمیں نظر آرہی ہیں ایک دن ختم ہو کر رہ جائیں گی اور پھر ایک نئی زمین اور نیا آسمان پیدا ہوگا۔ فرمایا کہ انسان کو کیا ہوگیا ایسی کھلی سچائیوں کو دیکھ کر بھی وہ اللہ پر یمان نہیں لاتا۔ جب اس کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر مومن اللہ کے سامنے سجدہ کر رہا ہے تو اس کی جبین نیاز اللہ کے سامنے نہیں جھکتی اور ہر سچائی کو جھٹلانا اس کا مزاج بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ کو ان کے تمام حالات کا اچھی طرح علم ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ کون نیکیوں کو اپنا رہا ہے اور کون اس کا انکار کر رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کو جو سچائیوں کا نکار کرنے والے ہیں جہنم کی خوش خبری سنا دیجئے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ایمان و یقین کے راستے کو اختیار کرکے عمل صالح اختیار کئے ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ نے ان کے لئے ایسا عظیم اجر تیار کر رکھا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا اور ایسے لوگ ہمیشہ کی راحتوں میں رہیں گے۔