فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۟۠فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Inscribed] in a Preserved Slate.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juzع
فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۟۠فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Inscribed] in a Preserved Slate.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Burooj
اُس لوح میں (نقش ہے) جو محفوظ ہے
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)
جو لوح محفوظ میں درج ہے۔
لو ح محفوظ میں،
(جو) لوحِ محفوظ میں (لکھا ہوا) ہے،
اس تختی میں (لکھا ہوا) ہے جس کی حفاظت کی گئی ہے۔
جو لوح محفوظ میں (درج ہے)
یہ لوح محفوظ کے اندر ہے۔
لوح محفوظ میں نقش ہے
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)۔
لوحِ محفوظ میں (نقش ہے)۔
اس لوح محفوظ میں
inscribed on a well-guarded Tablet.
(recorded) in the Preserved Tablet (LauH MaHfuZ) .
(recorded) in the Preserved Tablet (LauH MaHfuZ) .
In Al-Lawh Al-Mahfuz!
On a guarded tablet.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[Inscribed] in a Preserved Slate.
that exists in a well-guarded tablet.
In a guarded tablet.
Inscribed in a tablet preserved.
(Inscribed) in a Tablet Preserved!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–22
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…
Read the full tafseer →سورة الْبُرُوْج 9 مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کا لکھا امٹ ہے، اٹل ہے، خدا کی اس لوح محفوظ میں ثبت ہے جس کے اندر کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا، جو بات اس میں لکھ دی گئی ہے وہ پوری ہو کر رہنے والی ہے، تمام دنیا مل کر بھی اسے باطل کرنا چاہے تو نہیں کرسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
اس ’بَلْ‘ سے پہلے بھی بربنائے وضاحت قرینہ کچھ محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ یہ قرآن جس انجام سے تمہیں ڈرا رہا ہے یہ ایک حقیقت ہے۔ یہ ایک بزرگ و برتر کلام ہے۔ یہ شاعروں اور کاہنوں کے کلام کی طرح کی کوئی ہوائی چیز نہیں ہے بلکہ یہ خدا کی نازل کردہ وحی ہے اور اس کا منبع لوح محفوظ ہے جس تک کسی جن و انس کی رسائی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →22۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہیں، اللہ تعالیٰ حسب ضرورت اسے نازل فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
4: یعنی کفر کا برا انجام معلوم ہوجانے کے باوجود وہ اپنے کفر سے باز نہیں آ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
مجید کے معنی ہیں بلند قابل قدر اور گہری اصلیت والا ، اللہ کے کلام کے علاوہ یہ صفات کس پر صادق آسکتی ہیں۔ یہ کلام لوح محفوظ میں ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ لوح محفوظ کی نوعیت کیسی ہوگی کیونکہ یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے۔ ہم تو وہ پر توجان سکتے ہیں جو اس تعبیر سے ذہن پر پڑتا ہے یا دل جو اشارہ قبول کرتے ہیں اور وہ اشارات یہ ہیں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے۔ اور ہر معاملے میں اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔ تمام باتیں ختم ہوسکتی ہیں لیکن یہ محفوظ ہے۔ یہ بات تو واقعہ اخدود میں کہی گئی ہے لیکن تمام معاملات میں قرآن کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔
Read the full tafseer →10 جہاں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ پھر وہاں سے نہایت حفاظت و اہتمام کے ساتھ صاحب وحی کے پاس پہنچایا جاتا ہے۔ (فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا) 72 ۔ الجن :27) اور یہاں بھی قدرت کی طرف سے اس کی حفاظت کا ایسا سامان ہے جس میں کوئی طاقت رخنہ نہیں ڈال سکتی۔
Read the full tafseer →آیت 22{ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۔ } ”لوحِ محفوظ میں نقش ہے۔“ یعنی اصل قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں ہے۔ جس مقام کا ذکر یہاں لوحٍ مَّحْفوظ کے نام سے ہوا ہے ‘ سورة الزخرف کی آیت 4 میں اسے اُمُّ الْکِتٰب ‘ سورة الواقعہ کی آیت 78 میں کِتٰبٍ مَّـکْنُوْن اور سورة عبس کی آیات 13 اور 14 میں اسے صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →14 یہ لوگ جس قرآن کو جھٹلانے کے درپے ہو رہے ہیں وہ بڑی بلند شان والا ہے۔ جس کو جھٹلا دینا ان کے بس کا روگ نہیں۔ البتہ اپنی اس حرکت کی پاداش میں یہ خود تباہ ہوسکتے ہیں۔ قرآن کا لکھا ہوا اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی اور ہر طرح کی دستبرد سے، رد و بدل اور ترمیم و تنسیخ سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
12۔ (جس میں کسی طرح کے تغیر وتبدل کا امکان نہیں، اور وہاں سے وہ نہایت حفاظت کے ساتھ صاحب وحی کے پاس پہنچ جاتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…
Read the full tafseer →فی لوح محفوظ . طبرانی نے ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ کو سفید موتی کا بنایا ہے۔ اس کے صفحات سرخ یاقوت کے ‘ قلم نور کا اور تحریر نور کی ہے۔ ہر روز کے تین سو ساٹھ لمحات میں اللہ پیدا کرتا ‘ رزق دیتا ‘ موت اور زندگی عطا کرتا ‘ عزت اور ذلت دیتا اور جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔ بغوی ؓ نے سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ سر لوح پر لکھا ہوا ہے ‘ اللہ اکیلا ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا دین اسلام ہے۔ محمد ﷺ اسکے رسول اور بندے ہیں ‘ جو اللہ پر ایمان رکھے گا ‘ اللہ کے وعدہ کی تصدیق کرے گا اور اس کے پیغمبروں کا اتباع کرے گا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21۔ 22) اور رسول اکرم جو تمہیں قرآن حکیم سناتے ہیں وہ ایک باعظمت قرآن ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(بل ھو قرآن مجید) ’: اور اگر ان کا جھٹلانا اس خیال سے ہے کہ یہ کالم الٰہی نہیں یا اس میں شیطان کا کچھ دخل ہے تو ان کی یہ بات بھی غلط ہے، بلکہ یہ بڑی شان والا قرآن ہے، اس لوح میں سے اتارا گیا ہے جس کی فرشتوں کے ذریعے سے حفاظت کی جاتی ہے، کسی شیطان کا اس میں دخل نہیں ہوس کتا۔ اس کے کالم الٰہی ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اگر انہیں شبہ ہے تو وہ بھی اس جیسی کوئی سورت بنا کرلے آئیں، جب یہ نہیں کرسکتے تو اس کے کلام الٰہی ہونے میں کیا شبہ رہ گیا ؟ (ماخوذ از احسن التفاسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
واللہ من ورائھم محیط۔۔ تا۔۔۔ محفوظ یعنی اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان پر ایسا عذاب نازل فرمائے جو اس نے فرعون پر نازل کیا تھا، محاط بہ محصور کی طرح ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آگاہ ہے اس لیے وہ ان کو جزا عطا فرمائے گا بلکہ قرآن حکیم شرف، کرم، اور برکت میں انتہا کو پہنچنے والا ہے لوگوں کو دین ودنیا کے احکام میں جو اس کی احتیاج ہے اس کا بیان ہے یہ اس طرح نہیں جس طرح مشرکین کا گمان ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مجید کا معنی ہے وہ غیرمخلوق ہے وہ لوح میں لکھا ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس چیز سے محفوظ ہے کہ شیاطین اس تک پہنچ سکیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ام الکتاب…
Read the full tafseer →6۔ ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوح محفوظ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مید میں اپنے اس قول میں فرمایا بل ہو قرآن مجید فی لوح محفوظ۔ بلکہ وہ قرآن ہے بڑی شان والا لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اور وہ اسرافیل کی پیشانی میں ہے۔ لوح محفوظ کا ذکر 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی لوح محفوظ میں لوح محفوظ سے مراد ام الکتاب ہے۔ 8۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی لوح محفوظ سے مراد ہے کہ مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ جس لوح کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایک ہی لوح ہے جس میں قرآن مجید ہے اور یہ لوح نور کی ہے اس کی لمبائی تین سو سال کی مسافت ہے۔ 9۔ عبدالرزاق وابن…
Read the full tafseer →[فِيْ لَوْحٍ : ایک ایسی تختی میں (لکھا ہوا) ہے جو ][ مَّحْفُوْظٍ : محفوظ کی ہوئی ہے ] نوٹ 1: اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کے بعد سابقہ آیات میں کافروں کو جو دھمکیاں دی گئی ہیں، ان کو مزید موکدّ اور م للّ کرنے کے لیے آیات۔ 12 تا 16 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کچھ مزید صفات کی یاد دہانی کرائی ہے۔ اور ان دھمکیوں کو حقیقی ثابت کرنے کے لیے آیات۔ 17 ۔ 18 ۔ میں تاریخی حقائق کی طرف اشارہ فرما دیا۔ پھر ان میں سے قوم ثمود اور فرعون کا ذکر خاص اہتمام سے فرمایا ہے۔ قریش کے لیڈروں پر ان دونوں قوموں کی عظمت و شوکت کی بڑی دھاک تھی۔ ان کی طرف اشارہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھ لو، جب خدا نے ان کو پکڑا تو چشم زدن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِۙ0017﴾ (الی آخر السورۃ) (کیا آپ کے پاس لشکروں کی بات پہنچی ہے یعنی فرعون اور ثمود کی، بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ تکذیب میں ہیں اور اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے) ۔ ان آیات میں بعض بڑے بڑے کافروں باغیوں یعنی فرعون وثمود کا تذکرہ فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ کے پاس لشکروں کا قصہ پہنچا ہے یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کا واقعہ اور قوم ثمود کا واقعہ آپ کو معلوم ہے ؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی آپ کو ان لوگوں کے کبر نخوت اور غرور اور بغاوت پھر ان کی تعذیب اور ہلاکت کے واقعات معلوم ہوچکے ہیں آپ یہ واقعات موجودہ منکرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
12:۔ ” بل ھو قرآن “ یہ ” بل الذین کفروا فی تکذیب “ سے متعلق ہے۔ کافر اس قرآن کو جھٹلاتے ہیں، نہیں بلکہ یہ عالیشان کتاب ہے جو ان کی دسترس سے بالا ہے۔ ان کے عناد و تعنت کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی گئی ہے۔ تائید :۔ ” بل زین لھم سوء عملہم وصدوا عن السبیل “۔ ” فی لوح محفوظ “ یہ قرآن ایسی لوح میں ثبت ہے جو شیاطین کی دسترس سے محفوظ ہے اور اس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ امام نافع کی قراءت میں ” محفوظ “ مرفوع ہے اور قرآن کی صفت ہے یعنی قرآن ہر قسم کے رد و بدل سے محفوظ ہے یا کافروں سے محفوظ ہے یعنی وہ اسے سمجھ نہیں سکتے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ سورة البروج میں آیت توحید 1 ۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–22
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے…
Read the full tafseer →فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ 22 ۧ لوح اللَّوْحُ : واحد أَلْوَاحِ السّفينة . قال تعالی: وَحَمَلْناهُ عَلى ذاتِ أَلْواحٍ وَدُسُرٍ [ القمر/ 13] وما يكتب فيه من الخشب ونحوه، وقوله تعالی: فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ [ البروج/ 22] فكيفيّته تخفی علینا إلا بقدر ما روي لنا في الأخبار، وهو المعبّر عنه بالکتاب في قوله : إِنَّ ذلِكَ فِي كِتابٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] واللُّوحُ : العَطَشُ ، ودابّة مِلْوَاحٌ: سریع العطش، واللُّوحُ أيضا، بضمّ اللام : الهواء بين السماء والأرض، والأکثرون علی فتح اللام إذا أريد به العطش، وبضمّه إذا کان بمعنی الهواء، ولا يجوز فيه غير الضّمّ. ولَوَّحَهُ الحرّ : غيّره،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ترکیب ¦ ھل اتاک الجملۃ مستانفۃ مقررۃ لما تقدم من شدۃ بطشہ و کونہ فعالاً لما یرید فرعون وثمود بدل من الجنود والمراد بفرعون ھو وقومہ وثمود قوم معروفون عند العرب والمراد بحدیثھم ماوقع منھم من الکفر والعنا دوما وقع علیھم من العذاب واللہ الخ الجملۃ حال من فاعل کفروا محفوظ بالجر نعت للوح وبالرفع نعت للقرآن و الاول قراءۃ الجمہور۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ تیرے رب کی پکڑ سخت ہے اور اس کے ثبوت کے لیے اول اصحاب الاخدود کا قصہ نقل کیا تھا۔ اجمالاً جو آنحضرت ﷺ سے تھوڑے ہی برسوں پہلے گزرا تھا اور عرب میں زبان زد تھا۔ اس کے بعد پھر اسی بات کے ثبوت کے لیے اجمالی طور پر وہ واقعات کو یاد دلاتا ہے جن میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
بَلْ ھُوَا قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ۔ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۔ (البروج : 12، 22) (بلکہ یہ بلند پایہ قرآن ہے۔ لوحِ محفوظ کے اندر ہے۔ ) انسانوں کی ہدایت کے لیے آج جو کتاب نازل کی گئی ہے وہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ اور وہ ایک ایسا بزرگ و برتر کلام ہے جسے شاعروں اور کاہنوں کے کلام پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا سرچشمہ لوح محفوظ ہے۔ اس کا ہر حکم اٹل ہے۔ اس کی ہر خبر پوری ہو کر رہنے والی ہے۔ ساری دنیا مل کر بھی اسے باطل نہیں کرسکتی۔ اس لیے تمہیں وہ جس انجام سے آگاہ کررہا ہے اس سے بچنے کی فکر کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ذکر ہوا اب اس کی پکڑ کی دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔ اس سورت کی آٹھویں اور نویں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں سخت پکڑ کرنے والا ہوں، لوگوں کو معاف کرنے والا اور ان کے ساتھ محبت کرنے والا ہوں اور جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔ میرے سامنے کوئی پَر نہیں مار سکتا کیونکہ میں بڑے عرش کا مالک اور بڑی عظمت والا ہوں۔ اس کی عظمت کی نظیر دیکھنا چاہو تو ان لشکروں کا حال جانو جن کے سامنے کوئی دم نہیں مارسکتا تھا۔ فرعون اپنی طاقت اور لشکر وسپاہ پر اس قدر مغرور ہوا کہ اس نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلیٰ “ کا دعویٰ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →عظمت قرآن : 22 : فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (جو لوح محفوظ میں ہے) جو لوح شیاطین کی پہنچ سے محفوظ ہے۔ قراءت : نافع نے اس کو قرآن کی صفت قرار دیا۔ اور مضموم پڑھا ہے یعنی یہ قرآن تغیر و تبدل سے پاک ہے۔ قولِ حسن (رح) : ایک ایسی چیز ہے جو فرشتوں کے سامنے چمکتی ہے پس وہ اس کو پڑھتے ہیں۔ قولِ ابن عباس ؓ : یہ سفید موتی سے بنی ہے۔ اس کی طولانی آسمان و زمین کے مابین کا فاصلہ ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے مابین فاصلہ کے برابر ہے۔ اس کا قلم نور کا ہے اس میں ہر چیز لکھی ہے۔ قولِ مقاتل : یہ عرش کے دائیں جانب ہے۔ ایک قول : یہ ہے اس کا بالائی حصہ عرش سے معلق ہے۔ اور اس کا نچلا حصہ ایک معزز فرشتے کی گود میں…
Read the full tafseer →22 ۔” فی لوح محفوظ “ نافع نے محفوظ پیش کے ساتھ پڑھا ہے قرآن کی صفت ہونے کی بناء پر کیونکہ قرآن تبدیلی اور تحریف سے محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون “ اور دیگر حضرات نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے لوح کی صفت ہونے کی بناء پر اور یہ وہ لوح ہے جو لوح محفوظ کے ساتھ مشہور ہے اور یہ ام الکتاب ہے اور اس سے کتابیں لکھی گئی ہیں شیاطین سے محفوظ ہے اور اس میں کمی و زیادتی ہونے سے بھی محفوظ ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ لوح کے شروع میں ” لا الہ الا اللہ وحدہ، دینہ الاسلام و محمدا عبدہ ورسولہ “ لکھا ہوا ہے۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور اس کے وعدہ کی تصدیق کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…
Read the full tafseer →(فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ) یعنی وہ تغیر و تبدیلی اور کمی بیشی سے محفوظ ہے اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر کھی ہے یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدرومنزلت پر دلالت کرتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →(17) قرآن حکیم کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے نہیں " یعنی ایسے نہیں " جیسے تم لوگ کہتے اور سمجھتے ہو، بلکہ یہ بڑی ہی عظمت شان والا قرآن ہے "۔ کیونکہ یہ اس ذات اقدس و اعلی کا کلام ہے جس کی عظمتوں کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا اور نہ کوئی کنارا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جو لوگ صدق و اخلاص کے ساتھ اس سے وابستہ ہوجائیں گے وہ حقیقی عزت و عظمت اور سعادت و بزرگی سے سرفراز و سرشرا ہوجائیں گے، اور جو اس سے اعراض برتیں گے اور منہ موڑیں گے وہ ذلت و رسوائی سے ہمکنار ہوں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حرف " بل " کے اضراب سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ بڑی ہی عظمت اور بزرگی والا کلام ہے، اور جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…
Read the full tafseer →ف 8 جو ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔ فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اس سے قرآن نقل کر کے صاحب وحی تک پہنچاتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(85:22) فی لوح محفوظ۔ صفت ہے لوح کی۔ جو ایسی لوح میں لکھا ہوا ہے جو محفوظ ہے یعنی شیطان کی دسترس اور کمی بیشی سے محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
خدا اور اس کی نوازش 1: ان آیتوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس کے ارادوں میں کوئی قوت اور کوئی شخصیت حائل نہیں ہوسکتی ۔ وہ اگر مجرموں اور منکروں کو سزا دینا چاہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہے اور اگر اپنے بندوں کو مغفرت اور دوستی سے نوازنا چاہے تو وہ غفور اور ودود ہے جو لوگ خدا کے اسلامی تخیل سے متوحش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تصور میں وہ پیار نہیں ہے جو عیسائی مذہب میں ہے ، وہ ودود کے لفظ پر غورکریں کہ اس کے معنی دوست کے ہیں ۔ یعنی احکم الحاکمین رب السموت والارض خدا اور محبت کے لئے منتخب فرماتا ہے کیا اس سے بڑھ کرنوازش اور محبت کا کوئی دوسرا انداز ہو سکتا ہے ؟ وہ جس کے ہم ادنی…
Read the full tafseer →(22) جو لوح محفوظ ہوتے ہیں قرآن کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا یہ قرآن تو بڑا باعظمت اور بڑی شان والا ہے اس کی حفاظت اور نگرانی کا یہ حال ہے کہ یہ قرآن لوح محفوظ میں مندرج ہے اور اس کا جب کچھ حصہ وہاں سے جبرئیل (علیہ السلام) لاتے ہیں تو اول تو وہ خود امانت دار ہیں جیسا کہ سورة تکویر میں گزرا پھر ان کے ساتھ بہت سے فرشتے چوکیدار اور پہرہ دار ہوتے ہیں جو پیغمبر تک پہنچاتے ہیں جیسا کہ سورة جن میں گزرا۔ بہرحال قرآن کریم ہر اعتبار سے بلند وپایہ ہے اور ہر اعتبار سے محفوظ ہے جو لوگ اس کی تکذیب کررہے ہیں وہ ناسمجھ اور گمراہ ہیں اور مستوجب سزا ہیں۔ تم تفسیر سورة البروج
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–22
ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…
Read the full tafseer →جو لوح محفوظ میں بھی محفوظ ہے 22 ؎ ( لوح) مفرد ۔ الواح جمع ہے کشتی کا تختہ ۔ ہر تختہ۔ لکھنے کی جوڑی تختی خواہ وہ کسی چیز کی ہو ۔ لوح محفوظ وہی ہے جس کو دوسری جگہ ام ال کتاب سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ وہ کیسی ہے ؟ اور کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی حقیقت کوئی نہیں جانتا ۔ ابن عباس ؓ مجاہد اور مقاتل (رح) سے کچھ اقوال نقل کیے گئے ہیں لیکن وہ بھی ناقابل فہم ہیں جن کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایسوں کے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ بلا شبہ تفسیر ابن کیثر ، معالم التنزیل اور تفسیر کبیر میں بہت کچھ درج کیے گئے ہیں ۔ لیکن ان کا نقل کرنا طائل ہے۔ مراد سب کی اللہ تعالیٰ کی علمی کتاب ہی ہے جس میں ہرچیز موجود ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…
Read the full tafseer →9 That is, "The writ of the Qur'an is unchangeable and imperishable. It is inscribed in the Preserved Tablet of God. which cannot he corrupted in any way Whatever is written in it, has to be fulfilled: even the whole world together cannot avert its fulfilment.
Read the full tafseer →