Al-Burooj 85:21

Al-Burooj · from ayah 21

85:21

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ ۟ۙبَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ

(یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But this is an honored Qur'an

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Burooj

All translations of 85:21

(اُن کے جھٹلانے سے اِس قرآن کا کچھ نہیں بگڑتا) بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ وه کمال شرف والا قران ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ وہ ایک بڑی شان والا قرآن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یہ جھٹلانے کی چیز نہیں) بلکہ یہ بڑے مرتبہ کا کلام ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور یہ کوئی جھٹلانے کی چیز نہیں) بلکہ یہ تو ایک بڑا ہی عظمت والا قرآن ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اصل یہ ہے کہ یہ بزرگی والا قرآن ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ یہ تو قرآن ہے بہت عزت والا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ (کتاب) قرآن بلند پایہ ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Nay; but this is a glorious Qur'an,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The reality is that it is the glorious Qur‘an,

— Muhammad Taqi Usmani

The reality is that it is the glorious Qur‘an,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! This is a Glorious Qur'an,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But this is an honored Qur'an

— Saheeh International

What is revealed to you is certainly a glorious Quran

— Muhammad Sarwar

Nay! it is a glorious Quran,

— Muhammad Habib Shakir

Aye! it is a Recitation glorious,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 85:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–22

عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–21

سورة الْبُرُوْج 8 روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اپنے طاقتور جتھوں کے زعم میں خدا کی زمین پر سرکشیاں کر رہے ہیں۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ کچھ تمہیں خبر بھی ہے کہ اس سے پہلے جن لوگوں نے اپنے جتھوں کی طاقت کے بل پر یہی سرکشیاں کی تھیں وہ کس انجام سے دوچار ہوچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوالمومنین یہ ان ظالموں کی سا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر اگٓ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا، اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے، دوسرا ولھو عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے ہی جملے کا بیان اور تاکید ہو اور معنے یہ ہوں کہ جہنم میں جا کر اس کو ہمیشہ آگ میں جلتے رہنے کا عذاب ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی دنیا میں سزا کا ذکر ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن مؤمنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تو تکلیف سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

اس ’بَلْ‘ سے پہلے بھی بربنائے وضاحت قرینہ کچھ محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ یہ قرآن جس انجام سے تمہیں ڈرا رہا ہے یہ ایک حقیقت ہے۔ یہ ایک بزرگ و برتر کلام ہے۔ یہ شاعروں اور کاہنوں کے کلام کی طرح کی کوئی ہوائی چیز نہیں ہے بلکہ یہ خدا کی نازل کردہ وحی ہے اور اس کا منبع لوح محفوظ ہے جس تک کسی جن و انس کی رسائی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

4: یعنی کفر کا برا انجام معلوم ہوجانے کے باوجود وہ اپنے کفر سے باز نہیں آ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–22

مجید کے معنی ہیں بلند قابل قدر اور گہری اصلیت والا ، اللہ کے کلام کے علاوہ یہ صفات کس پر صادق آسکتی ہیں۔ یہ کلام لوح محفوظ میں ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ لوح محفوظ کی نوعیت کیسی ہوگی کیونکہ یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے۔ ہم تو وہ پر توجان سکتے ہیں جو اس تعبیر سے ذہن پر پڑتا ہے یا دل جو اشارہ قبول کرتے ہیں اور وہ اشارات یہ ہیں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے۔ اور ہر معاملے میں اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔ تمام باتیں ختم ہوسکتی ہیں لیکن یہ محفوظ ہے۔ یہ بات تو واقعہ اخدود میں کہی گئی ہے لیکن تمام معاملات میں قرآن کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ان کا قرآن کو جھٹلانا محض حماقت ہے۔ قرآن ایسی چیز نہیں جو جھٹلانے کے قابل ہو، یا چند احمقوں کے جھٹلانے سے اس کی شان اور بزرگی کم ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–21

آیت 16{ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ } ”وہ جو ارادہ کرلے ‘ کر گزرنے والا ہے۔“ ظاہر ہے اس کے ارادے کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–21

13 یعنی ان کفار مکہ کا شغل اور وطیرہ ہی یہ بن گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو آیات نازل ہوتی ہیں یہ انہیں جھٹلانے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ فرعون اور ثمود کے لشکر بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے اور یہ قریش مکہ تو قوت اور جمعیت کے لحاظ سے ان کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ پھر یہ بیچارے آخر کس کھیت کی مولی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اور کسی وقت بھی انہیں برے انجام سے دوچار کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 21–22

12۔ (جس میں کسی طرح کے تغیر وتبدل کا امکان نہیں، اور وہاں سے وہ نہایت حفاظت کے ساتھ صاحب وحی کے پاس پہنچ جاتا ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–22

ان الذین فتنوا المئومنین یہ ان ظالموں کی سزا کا بیان ہے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف ان کے ایمان کی بناء پر آگ کی خندق میں ڈال کر جلایا تھا اور سزا میں دو باتیں ارشاد فرمائیں فلھم عذاب جھنم یعنی ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے دوسری ولھم عذاب الحریق یعنی ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے، ہوسکتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملہ کا بیان اور تاکید ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے جملے میں ان کی اسی سزا کا ذکر ہو جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جن ومنین کو ان لوگوں نے آگ کی خندق میں ڈالا تھا اللہ نے ان کو تو تکلیف سے اس طرح بچا لیا کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی ان کی ارواح قبض کرلی گئیں، پھر یہ آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل ھو قرآن مجید . بزرگی اور شرف والا ‘ تمام کتابوں میں عالی مرتبہ ‘ یکتا ‘ بےمثال ‘ جس کی عبارت بھی اعجازی ہے اور معنی بھی۔ اس جملہ کا بل الذین کفروا سے معنوی ربط ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں کی طرف سے تکذیب قرآن میں حقانیت کا شائبہ بھی نہیں۔ قرآن کی تکذیب تو وہ شخص کر ہی نہیں سکتا جس کو عبارت و معنی کا کچھ بھی شعور ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) اور رسول اکرم جو تمہیں قرآن حکیم سناتے ہیں وہ ایک باعظمت قرآن ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

(بل ھو قرآن مجید) ’: اور اگر ان کا جھٹلانا اس خیال سے ہے کہ یہ کالم الٰہی نہیں یا اس میں شیطان کا کچھ دخل ہے تو ان کی یہ بات بھی غلط ہے، بلکہ یہ بڑی شان والا قرآن ہے، اس لوح میں سے اتارا گیا ہے جس کی فرشتوں کے ذریعے سے حفاظت کی جاتی ہے، کسی شیطان کا اس میں دخل نہیں ہوس کتا۔ اس کے کالم الٰہی ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اگر انہیں شبہ ہے تو وہ بھی اس جیسی کوئی سورت بنا کرلے آئیں، جب یہ نہیں کرسکتے تو اس کے کلام الٰہی ہونے میں کیا شبہ رہ گیا ؟ (ماخوذ از احسن التفاسیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

واللہ من ورائھم محیط۔۔ تا۔۔۔ محفوظ یعنی اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان پر ایسا عذاب نازل فرمائے جو اس نے فرعون پر نازل کیا تھا، محاط بہ محصور کی طرح ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آگاہ ہے اس لیے وہ ان کو جزا عطا فرمائے گا بلکہ قرآن حکیم شرف، کرم، اور برکت میں انتہا کو پہنچنے والا ہے لوگوں کو دین ودنیا کے احکام میں جو اس کی احتیاج ہے اس کا بیان ہے یہ اس طرح نہیں جس طرح مشرکین کا گمان ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مجید کا معنی ہے وہ غیرمخلوق ہے وہ لوح میں لکھا ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس چیز سے محفوظ ہے کہ شیاطین اس تک پہنچ سکیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ام الکتاب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–21

5۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الودود سے مراد ہے حبیب یعنی بہت محبت کرنے والا آیت ذوالعرش المجید۔ عرش کا مالک بڑی شان والا۔ یعنی وہ صاحب عرش ہے اور کریم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–22

﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِۙ0017﴾ (الی آخر السورۃ) (کیا آپ کے پاس لشکروں کی بات پہنچی ہے یعنی فرعون اور ثمود کی، بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ تکذیب میں ہیں اور اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے) ۔ ان آیات میں بعض بڑے بڑے کافروں باغیوں یعنی فرعون وثمود کا تذکرہ فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ کے پاس لشکروں کا قصہ پہنچا ہے یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کا واقعہ اور قوم ثمود کا واقعہ آپ کو معلوم ہے ؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی آپ کو ان لوگوں کے کبر نخوت اور غرور اور بغاوت پھر ان کی تعذیب اور ہلاکت کے واقعات معلوم ہوچکے ہیں آپ یہ واقعات موجودہ منکرین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

تنبیہ خداوندی بدوام عذاب جہنم برتعذیب مومنین و مومن ات : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین فتنوا ال مومنین وال مومنت ......... الی ....... فی لوح محفوظ “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب الاخدود اور آگ کی خندقین کھودنے اور ان میں اہل ایمان کو ڈال کر ستانے والوں کا ذکر تھا، اب اس مناسبت سے ان آیات میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ خداوند عالم کا قہر وغضب جو بیان کیا گیا ہے، ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس دور اور قرن میں مجرمین اس قسم کا رویہ اختیار کریں گے اور ایمان لانے والوں کو ستائیں گے، خواہ وہ کفار اہل مکہ ہوں یا آج کے بعد کوئی اور قوم ہو سب کو اپنا انجام سمجھ لینا، اور جان لینا چاہئے کہ وہ عذاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

12:۔ ” بل ھو قرآن “ یہ ” بل الذین کفروا فی تکذیب “ سے متعلق ہے۔ کافر اس قرآن کو جھٹلاتے ہیں، نہیں بلکہ یہ عالیشان کتاب ہے جو ان کی دسترس سے بالا ہے۔ ان کے عناد و تعنت کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی گئی ہے۔ تائید :۔ ” بل زین لھم سوء عملہم وصدوا عن السبیل “۔ ” فی لوح محفوظ “ یہ قرآن ایسی لوح میں ثبت ہے جو شیاطین کی دسترس سے محفوظ ہے اور اس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ امام نافع کی قراءت میں ” محفوظ “ مرفوع ہے اور قرآن کی صفت ہے یعنی قرآن ہر قسم کے رد و بدل سے محفوظ ہے یا کافروں سے محفوظ ہے یعنی وہ اسے سمجھ نہیں سکتے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ سورة البروج میں آیت توحید 1 ۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–22

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ ہُوَقُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ۝ 21 ۙ بل بَلْ كلمة للتدارک، وهو ضربان : - ضرب يناقض ما بعده ما قبله، لکن ربما يقصد به لتصحیح الحکم الذي بعده وإبطال ما قبله، وربما يقصد تصحیح الذي قبله وإبطال الثاني، فممّا قصد به تصحیح الثاني وإبطال الأول قوله تعالی: إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ كَلَّا بَلْ رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ ما کانوا يَكْسِبُونَ [ المطففین/ 13- 14] ، أي : ليس الأمر کما قالوا بل جهلوا، فنبّه بقوله : رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ علی جهلهم، وعلی هذا قوله في قصة إبراهيم قالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هذا بِآلِهَتِنا يا إِبْراهِيمُ قالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هذا فَسْئَلُوهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–22

ترکیب ¦ ھل اتاک الجملۃ مستانفۃ مقررۃ لما تقدم من شدۃ بطشہ و کونہ فعالاً لما یرید فرعون وثمود بدل من الجنود والمراد بفرعون ھو وقومہ وثمود قوم معروفون عند العرب والمراد بحدیثھم ماوقع منھم من الکفر والعنا دوما وقع علیھم من العذاب واللہ الخ الجملۃ حال من فاعل کفروا محفوظ بالجر نعت للوح وبالرفع نعت للقرآن و الاول قراءۃ الجمہور۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا کہ تیرے رب کی پکڑ سخت ہے اور اس کے ثبوت کے لیے اول اصحاب الاخدود کا قصہ نقل کیا تھا۔ اجمالاً جو آنحضرت ﷺ سے تھوڑے ہی برسوں پہلے گزرا تھا اور عرب میں زبان زد تھا۔ اس کے بعد پھر اسی بات کے ثبوت کے لیے اجمالی طور پر وہ واقعات کو یاد دلاتا ہے جن میں سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 21–22

بَلْ ھُوَا قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ۔ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۔ (البروج : 12، 22) (بلکہ یہ بلند پایہ قرآن ہے۔ لوحِ محفوظ کے اندر ہے۔ ) انسانوں کی ہدایت کے لیے آج جو کتاب نازل کی گئی ہے وہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ اور وہ ایک ایسا بزرگ و برتر کلام ہے جسے شاعروں اور کاہنوں کے کلام پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا سرچشمہ لوح محفوظ ہے۔ اس کا ہر حکم اٹل ہے۔ اس کی ہر خبر پوری ہو کر رہنے والی ہے۔ ساری دنیا مل کر بھی اسے باطل نہیں کرسکتی۔ اس لیے تمہیں وہ جس انجام سے آگاہ کررہا ہے اس سے بچنے کی فکر کرو۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–22

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ذکر ہوا اب اس کی پکڑ کی دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔ اس سورت کی آٹھویں اور نویں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں سخت پکڑ کرنے والا ہوں، لوگوں کو معاف کرنے والا اور ان کے ساتھ محبت کرنے والا ہوں اور جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔ میرے سامنے کوئی پَر نہیں مار سکتا کیونکہ میں بڑے عرش کا مالک اور بڑی عظمت والا ہوں۔ اس کی عظمت کی نظیر دیکھنا چاہو تو ان لشکروں کا حال جانو جن کے سامنے کوئی دم نہیں مارسکتا تھا۔ فرعون اپنی طاقت اور لشکر وسپاہ پر اس قدر مغرور ہوا کہ اس نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلیٰ “ کا دعویٰ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21 : بَلْ ھُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ (بلکہ وہ ایک باعظمت قرآن ہے) ھوؔ سے قرآن مجید کی طرف اشارہ ہے کہ جس کو انہوں نے جھٹلایا وہ قرآن مَّجِیْدٌ شرف والا ہے۔ کتابوں میں اعلیٰ طبقہ والا ہے اپنے نظم میں بےمثل اور اعجاز میں بےمثال ہے۔ اس طرح نہیں جس طرح کفار کا خیال ہے کہ اس کو گھڑ لیا گیا ہے اور یہ پہلے لوگوں کے خیالاتی قصے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” بل ھوقرآن مجید “ معزز مرتبہ والا کثرت خیر والا۔ یہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ مشرکین نے گمان کیا کہ یہ شعر اور کہانت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–22

11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ) بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–21

(16) منکرین اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت و بطش میں، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے ان منکروں کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے "۔ پس اس کی پکڑ اور گرفت اور اس کے عذاب و نکال سے یہ کسی بھی طرح نکل اور بچ نہیں سکتے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ لوگ اگر اپنے کفر و انکار اور تکذیب حق ہی پر بضد ہیں تو یہ ان کی مرضی، اپنی ضد پر اڑے رہیں، کیونکہ ہدایت اور حق کے سلسلے میں کسی پر کوئی جبر اور زبردستی نہیں، مگر یہ لوگ اس اہم اور بنیادی بات کو یاد رکھیں کہ ان کی تکذیب سے حقیقت جھوٹ نہیں بن جائے گی، اور یہ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے کہیں نکل کر بھاگ نہیں سکتے، اللہ تعالیٰ ان کو ہر طرف سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–22

خندق والوں کا واقعہ، ایمان داروں اور ظالموں کا انجام تشریح : جب بھی کوئی نئی جماعت ابھرتی ہے خاص طور سے کفر کے خلاف تو اس وقت کے مخالف لوگ ان کی خوب کھل کر مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اہل عرب مسلمانوں کو ہر طرح سے اذیتیں دیتے تھے گھر سے نکال دیتے گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے غرض جو بھی ہوسکتا ظلم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر ان کو تسلی دلانے کے لیے ایک گزرے ہوئے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ قسم ہے 12 برجوں والے آسمان کی اور قیامت کے دن کی جو یقینی آنے والا ہے کہ اصحاب الاخدود نے جو اس وقت کے مومن عیسائیوں کو توحید پر ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا تھا اور سامنے بیٹھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة البروج۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے آسمان کی جس میں پہریداروں کے قلعے ہیں اکثر روایات میں بروج سے مراد آسمان کے چوکیدار فرشتو کے قلعے ہیں فلاسفہ نے فرضی طور پر آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا نام برج رکھا ہے اور کہا ہے کہ ستارے تو ان میں رہتے ہی ہیں سیارے بھی آمدورفت رکھتے ہیں ان کے ملنے سے جو شکلیں بنتی ہیں وہی ان برجوں کے نام رکھ دیے جیسے حمل ، ثور ، جوز ، وغیرہ مگر یہ سب لغویات ہیں اور دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور قسم ہے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور قسم ہے ہراس گواہ کی جو حق کی شہادت دیتا ہے اور ہر اس حقیقت کی جس پر شہادت دی جاتی ہے یعنی یہ سب امور اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اس لئے اگر جھٹلاتے ہیں تو اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ قرآن کی شان اور بزرگی میں کوئی کمی نہیں کرتے اور نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(85:21) بل ھو قرآن مجید : بل حرف اضراب ہے ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے یعنی ان کفار مکہ کی جانب سے قرآن مجید کی تکذیب صحیح نہیں کہ کبھی اس کو کسی کاہن کا کلام کہہ دیا کبھی من گھڑت کلام سے تعبیر کیا اور کبھی یہ کہا کہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے یوں نہیں بلکہ یہ تو قرآن بڑی شان والا ہے عظیم المرتبت ہے۔ تفسیر خازن میں ہے :۔ ای کریم شریف، کثیر النفع والخیر لیس ھو کما زعم المشرکون انہ شعر و کھانۃ۔ یعنی کریم ہے۔ شریف ہے کثیر النفع والخیر اور مشرکین کے زعم کے مطابق نہ تو یہ شاعر انہ کلام ہے اور نہ کسی کاہن کا کلام۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ ذات البروج۔ برجوں والا۔ قلعہ والا۔ الیوم الموعود۔ جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شاھد۔ حاضر ہونے والا۔ مشھود۔ جس میں لوگ حاضر ہوں۔ الاخدود۔ خندقیں۔ ذات الوقود۔ ایندھن والی۔ قعود۔ بیٹھے ہوئے۔ مانقموا۔ وہ بدلہ نہیں لیتے۔ فتنوا۔ آزمایا۔ عذاب الحریق۔ جلا ڈالنے والا عذاب۔ بطش۔ گرفت۔ پکڑ۔ فعال۔ کر گزرنے والا۔ تشریح : سورة البروج مکہ مکرمہ کے اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور کسی طرح اہل ایمان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے کفار کی اذیتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–22

(ف 1) اوپران اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبی ان ک لیے راحت کی جگہ ہے مشرک لوگ اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کو تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے پھر اگر یہ سرکش مشرک لوگ باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا، وہ دنیا میں بھی اپنے کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنی اسے اٹھ گئے تو جس اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–22

[4] خندق میں آگ جلا کر ایمان والوں کو اس میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں لیکن سب سے مشہور واقعہ یمن کے یہودی بادشاہ کا ہے جس نے نجران کو جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل دین پر قائم تھے۔ انہوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کیا جس پر بادشاہ نے بکثرت لوگوں کو خندق میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ قیصر روم جو عیسائی تھا اس کی تحریک و ایما سے حبشہ کے مسیحی بادشاہ نے یمن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور یہودی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–22

خدا اور اس کی نوازش 1: ان آیتوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس کے ارادوں میں کوئی قوت اور کوئی شخصیت حائل نہیں ہوسکتی ۔ وہ اگر مجرموں اور منکروں کو سزا دینا چاہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہے اور اگر اپنے بندوں کو مغفرت اور دوستی سے نوازنا چاہے تو وہ غفور اور ودود ہے جو لوگ خدا کے اسلامی تخیل سے متوحش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تصور میں وہ پیار نہیں ہے جو عیسائی مذہب میں ہے ، وہ ودود کے لفظ پر غورکریں کہ اس کے معنی دوست کے ہیں ۔ یعنی احکم الحاکمین رب السموت والارض خدا اور محبت کے لئے منتخب فرماتا ہے کیا اس سے بڑھ کرنوازش اور محبت کا کوئی دوسرا انداز ہو سکتا ہے ؟ وہ جس کے ہم ادنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–22

ف 1۔ اس سورت میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکر ہے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کسی کافر بادشاہ کے پاس ایک کاہن تھا، اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو کوئی ہوشیار لڑکا دو تو میں اسکو اپنا علم کہنات سکھا دوں۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا، اس کے راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق مسیحیت کا سچا پیرو تھا، اس لڑکے کی راہب کے پاس بھی آمدورفت شروع ہوگئی۔ چناچہ وہ خفیہ مسلمان ہوگیا، ، ایک مرتبہ اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک شیر نے راستہ روک رکھا ہے اور لوگ پریشان ہیں، اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیکر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے، یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلکہ یہ قرآن کریم تو بڑی ہی عظمت والا ہے 21 ؎ جو دلائل تم کو دیئے گئے ہیں تم ایک ایک کو نگاہ میں رکھ کر ان پر غور و فکر کرو اس لیے یہ حقائق قرآن کریم کے بیان کردہ ہیں اور یاد رکھو کہ قرآن کریم نے جو باتیں اور جو قصے بھی بیان کیے ہیں محض لوگوں کی دل لگی کے لیے نہیں بیان کیے بلکہ ان کے اندر نصیحت و مؤعظت کے سبق موجود ہیں ۔ اگر تم ان کو حرز جان بنائو اور قرآن کریم کی مثالی راہ حیات پر چلنے لگو تو تم بہت جلد منزل تک پہنچ جائو اور تم کو راستہ میں پھسلنے اور بھٹک جانے کا کسی بھی خطرہ لاحق نہ ہو ۔ تم اس کو کیا سمجھو یہ نہایت عظمت والی اور اونچی شان والی کتاب ہے۔ اس کے اندر جو کچھ بیان ہوا ہے سب کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–22

إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (Surely, those who persecuted the believing men and the believing women, then did not repent,...85:10) This verse describes the torment of the wrong-doers who burned the Muslims in the fire pit only on account of their faith. The description points out two things: [ 1] فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ them there is the torment of Jahannam) and [ 2] وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (and for them there is the torment of burning). The second sentence may be treated as explicative of the first sentence, a statement for emphasis.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–21

8 The address is directed to the people who in their false pride of having powerful hosts, are breaking the law of God on His earth. They are being warned. as if to say: "Do you know what evil fate was stet before by those who broke the hounds set by AIIah on the strength of the power of their hosts'"

Read the full tafseer →