Explained with ayahs 41–50
دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ :
اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
سورة الْمُرْسَلٰت 23
یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے لیے ایک مصیبت تو وہ ہوگی جو اوپر بیان ہوچکی ہے کہ میدان حشر میں وہ مجرموں کی حیثیت سے کھڑے ہوں گے، علی الاعلان ان کے جرائم اس طرح ثابت کردیے جائیں گے کہ ان کے زبان کھولنے تک کا یارانہ رہے گا۔ اور آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ دوسری مصیبت بالائے مصیبت یہ ہوگی کہ وہی ایمان لانے والے جن سے ان کی عمر بھر لڑائی رہی، جنہیں وہ بیوقوف اور تنگ خیال اور رجعت پسند کہتے رہے، جن کا وہ مذاق اڑاتے رہے اور جنہیں اپنے نزدیک حقیر و ذلیل سمجھتے رہے، انہی کو وہ جنت میں مزے اڑاتے دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35ۙوَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْن، یعنی اس دن میں کوئی بول نہ سکے گا اور نہ کسی کو اپنے کئے ہوئے عمل کا عذر پیش کرنے کی اجازت ہوگی، اور دوسری آیات قرآن میں جو کفار کا بولنا اور عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ محشر میں مختلف مواقف اور مقامات آئیں گے، کسی مقام میں کلام اور عذر پیش کرنا ممنوع ہوگا، کسی میں اجازت ہوگی۔ (روح)
Read the full tafseer →یہ آیت اوپر کی آیت ۱۸ کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ وہاں فرمایا ہے:
’کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ‘
(ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں)
یہاں اس کے مقابل میں فرمایا کہ ہم خوب کاروں کو اسی طرح دیا کرتے ہیں۔ لفظ ’مُحْسِنٌ‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →44۔ 1 اس میں بھی اس امر کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر آخرت میں حسن انجام کے طالب ہو تو دنیا میں نیکی اور بھلائی کا راستہ اپناؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
کلوا واشربوا ........................ المحسنین (44:77) ” کھاﺅ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمان کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔
یہ ایک عظیم اعزاز ہے کہ ان کے بارے میں شاہی نوٹیفیکیشن جاری ہوگا۔ اور آخری تبصرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
13 جو دنیا میں مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد دوسری زندگی ہے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے۔ اب ان کو عیش میں اور اپنے کو تکلیف میں دیکھ کر اور زیادہ جلیں گے اور ذلیل و رسوا ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42{ وَّفَوَاکِہَ مِمَّا یَشْتَہُوْنَ۔ } ’
انہیں ایسے پھل دیے جائیں گے جنہیں کھانا انہیں بہت مرغوب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
25 یعنی مجرموں اور آخرت کے منکروں کو ایک تو اپنے انجام سے گھبراہٹ اور پریشانی ہوگی۔ دوسرے وہ لوگ ان کے سامنے جنت میں جارہے ہوں گے جنہیں وہ حقیر سمجھتے تھے اور ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو کوئی بالاتر مخلوق قرار دیتے تھے۔ اس طرح ان کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
15۔ یہ سب مومنین متقین کو مخاطب کرکے کہا جائے گا۔ (آیت) ” انا ..... المحسنین “۔ اس میں مخاطبین کو ترغیب ہے محسن (نیک کار) بن جانے کی، جو بھی محسن ہوگا اس مرتبہ ومنزلت کا حقدار ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ترجمہ : بیشک پرہیز گار لوگ سایوں یعنی گھنے درختوں میں ہوں گے اس لئے کہ (وہاں) سورج نہیں ہوگا، کہ اس کی گرمی سے سایہ حاصل کیا جائے اور بہتے ہوئے پانی کے چشموں میں ہوں گے، یعنی ابلتے ہوئے پانی کے، اور دل پسند میووں میں ہوں گے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں کھانے پینے کی چیزیں حسب خواہش ہوں گی بخلاف دنیا کے کہ یہاں وہی میوے (پھل) ملتے ہیں جو اغلباً لوگوں کو دستیاب ہوتے ہیں اور ان سے کہا جائے گا (اے جنتیو ! ) تم خوشگواری کے ساتھ اپنے طاعت اعمال کے صلہ میں کھائو پیو، ھنیئا حال ہے ای متھنئین، بیشک ہم ایسی جزاء جیسی کہ تمام پرہیزگاروں کو دی ہے ہر نیکوکار کو دیں گے، اس دن جھٹلانے والوں کے…
Read the full tafseer →ان المتقین ..... پورا جملہ مستانفہ ہے۔ مکذبین کی حالت سننے کے بعد سننے والا غیر مکذبین کے احوال پوچھ سکتا ہے ‘ اس کا جواب اس جملہ میں دے دیا گیا۔
انا کذلک نجزی المحسنین . کذلک ‘ نجزی کا مفعول ہے۔ نجزی جملۂ فعلیہ اِنّ کی خبر ہے ‘ اِنّ
سے جو جملۂ اسمیہ بنتا ہے وہ سابق کی تاکید ہے کیونکہ محسنین سے مراد بھی متقی ہی ہیں۔ یوں احسان میں تقویٰ سے زیادہ خصوصیت ہے کیونکہ احسان کا معنی ہے اللہ کی اس طرح عبادت کرنا کہ گویا عبادت کرنے والا خدا کو دیکھ رہا ہے ‘ اگر عبادت کرنے والے کو خدا نظر نہیں آتا تو خدا (بہرحال) اس کو دیکھتا ہے۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے احسان کا یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
(41۔ 44) اب اہل ایمان کے مقام کا بیان ہے کہ کفر و شرک سے بچنے والے درختوں کے سایوں اور پاکیزہ چشموں کے پانی اور مختلف قسم کے مرغوب میووں میں ہوں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اپنے دنیاوی اعمال کے بدلہ میں خوب مزے سے بغیر کسی تکلیف کے خوف کے کھاؤ پیو ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ان المتقین فی ظلل و عیون…: اب جھٹلانے والوں کے مقابلے میں متقین کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے کہ وہ دھوئیں کے سائے کے بجائے گھنے درختوں اور نجت کے مکانوں کے ٹھنڈے سایوں ، چشموں اور پانی پسند کے پھلوں میں عیشک ر رہے ہوں گے۔ انہیں کہا جائے گا کہ مزے سے کھاؤ پیو، اس عمل کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔
”ویل یومئذ للمکذبین“ جھٹلانے والوں کیلئے اس دن بڑی ہلاکت ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ لوگ عیش و آرام میں ہوں گے جنہیں وہ تمام عمر مذاق کرتے رہے اور یہ خود ان کے سامنے آگ میں جل رہے ہوں۔“ جنیاء“ جو کسی مشقت کے بغیر حاصل ہوجائے اور اسے کھانے کے بعد کسی قسم کی گرانی یا بدہضمی نہ ہو۔ (راغب) دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ان المتقین فی ظلل وعیون۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔
یہاں اس چیز کے بارے میں خبر دی ہے جس کی طرف متقی لوٹیں گے، ظلل سے مراد درختوں اور محلات کے سائے ہیں یہ اس سایہ کی جگہ ہوں گے جو تین شاخوں والا ہوگا، سورة یاسین میں ہے، ھم وازواجھم فی ظلل علی الارائک متکئون۔ یاسین) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں ہوں گی پلنگوں پر ٹیک لگائے ہوئے۔ ان کے لیے وہ پھل ہوں گے جس کی تمنا کریں گے، عام قراء کی قرات ظلال ہے۔ اعرج، زہری اور طلحہ نے ظلل پڑھ ا ہے، جو ظللہ کی جمع ہے یعنی جنت میں وہ سائے میں ہوں گے۔ کھاؤ پیو یعنی متقین کو آخرت میں یہ کہا جائیگا جب کہ مشرکین کو کہا جائے گا اگر تم کوئی حیلہ کرسکتے ہو توحیلہ کرو، کلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
33۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت کلوا واشربوا ہنیئا (مزے سے کھاؤ اور پئیو) کیونکہ (اب) موت نہیں آئے گی۔
Read the full tafseer →[انا كَذٰلِكَ نَجْزِي : بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ] [الْمُحْسِنِيْنَ : خوب کاروں کا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
متقیوں کے سایوں، چشموں اور میووں کا تذکرہ
منکرین و مکذبین کا عذاب بیان فرمانے کے بعد متقیوں ( پرہیزگاروں) کے انعامات بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا یقین جانو پرہیزگار لوگ سایوں میں ہوں گے۔ (یہ وہی سایہ ہے جس کا سورة ٴ دھر کی آیت ﴿وَدَانِیَۃً عَلَیْھِمْ ظِلٰلُھَا﴾ میں بیان فرمایا) اور چشموں میں ہوں گے (ان میں سے بعض چشموں کا ذکر سورة ٴ دھر میں گزر چکا ہے) اور یہ لوگ ایسے میووں میں ہوں گے جن کی انہیں اشتہاء ہوگی، من بھاتے میوے ہوں گے مرغوب ہوں گے، ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ کھاؤ پیو مبارک طریقہ پر ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے، مبارک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کھائیں پئیں گے وہ جسموں کے لیے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
11:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ کفار و مشرکین کے مقابلہ میں مومنوں اور شرک سے بچنے والوں کو جنت میں ہر قسم کی راحت اور ہر نعمت میسر ہوگی وہ جنت میں ٹھنڈی چھاؤں کے مزے لیں گے۔ ہر نوع مشروب کے ابلتے چشموں سے لطف اندوز ہوں گے اور جس قسم کے میووں اور پھلوں کی خواہش کریں گے وہ حاضر کردئیے جائیں گے۔ حاصل یہ کہ ان کو جنت میں ہر قسم کی راحت اور ہر نعمت حاصل ہوگی۔ ” کلوا وشربوا “ اس سے پہلے یقال لہم محذوف ہے یا یہ حال بتاویل مقولا لہم (روح، مدارک) ۔ ان سے کہا جائیگا آج مزے سے کھاؤ پیو اور یہ تمہارے ان نیک عملوں کا صلہ ہے جو دنیا میں تم نے سر انجام دئیے۔ ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح انعام…
Read the full tafseer →اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ 44
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ترکیب : ان اسمھا المتقین فی ظلال خبرھا وعیون وکذافوا کہ عطف علی الخبر وممایشتھون من بیانیۃ ماموصولۃ یشتھون صلۃ والعائد محذوف ای یشتھونہ والجملۃ مجروربمن ای متعلقہ بمحذوف نعت لفواکھہ۔ کلواواشربوا فی محل الحال من ضمیر المتقین فی الخبر بتقدیر القول ای مقولا لھم کلواواشبروا۔ ھنیئًا منصوب علی انہ صفۃ مصدر محذوف ای اکلاً ھنیئًا وشرباً ھنیئا (ھن) گواراشدن طعام و شراب۔ یقال ھنت الطعام ای تھنات بہ ومنہ قولہ تعالیٰ فکلوہ ھنیئًا مریئًا من باب فتح یفتح وکرم یکرم (من الصراح) بما الباء لسببیۃ کلواوتمتعواقلیلا ای زماناً قلیلا
الجملۃ حال من المکذبین ای الویل ثابت لھم فی حال مایقال لھم کلواوتمتعوا ایذاناً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِـٓـیْــًٔا م بِمَا کَنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 43 تا 45)
(کھائو اور پیو، راس آتا اپنے اعمال کے صلہ میں۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
اعمالِ حسنہ کا حیرت انگیز نتیجہ
دنیا میں دولت کی قیمت پر ہر چیز تو نہیں، بیشتر چیزیں خریدی جاسکتی ہیں اور حکومت کے زور سے بھی بہت کچھ مزے لوٹے جاسکتے ہیں، لیکن ایک چیز ایسی ہے جو نہ دولت سے حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ حکومت سے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو بھی یہ یقین نہیں دلا سکتا کہ آپ جو کچھ کھائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
فہم القرآن
ربط کلام : جس دن اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور کوئی چھوٹا اور بڑا مجرم رب ذوالجلال کے مقابلے میں کسی قسم کی چال نہیں چل سکے گا اس دن نتیجے کے اعتبار سے لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے۔
جو لگ ایمان لائے اور اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے انہیں گھنے سایوں اور بہتے چشموں کی جنت میں ٹھہرایا جائے گا وہ جو چاہیں گے وہ پھل انہیں مہیا کیے جائیں گے۔ حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو ! ارشاد ہوگا کہ ہم نیک لوگوں کو اس طرح ہی جزا دیتے ہیں اور جن لوگوں نے قیامت کو جھٹلایا ان کے لیے تباہی ہوگی۔ ان آیات میں جنت کی تین نعمتوں سائے، بہتے چشمے اور…
Read the full tafseer →44 : اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) پس تم بھی نیکیاں کروتا کہ تمہیں یہ بدلہ ملے۔
Read the full tafseer →43 ۔ اور ان کو کہا جائے گا ” کلوا واشربوا ھنیا بما کنتم تعملون “ دنیا میں میری طاعت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
41۔ 50۔ متقیوں سے مطلب ان آیتوں میں یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک سے بچتے رہے کیونکہ متقیوں کا لفظ ان آیتوں میں ان مشرک لوگوں کے مقابلہ میں فرمایا ہے جن کا ذکر شروع سورة سے یہاں تک تھا یہ اوپر گزرچکا ہے کہ کلمہ گو گناہ گار اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا میں ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں جائیں گے لیکن پھر آخر ان کو جنت نصیب ہوگی اور یہی نعمتیں ان کو ملیں گی جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس لئے لفظ متقی کے جو معنی بیان کئے گئے ان میں سب جنتی شامل ہوسکتے ہیں۔ دوزخیوں کی چھائوں وہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ یہ جنتی لوگوں کی چھاؤں جنت کے عالی شان مکانوں اور میوہ کے نہایت سایہ دار درختوں کی ہوگی۔ علاوہ اس کے فقط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
بنا بریں (اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ ۔ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) بیشک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن وغم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–50
میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے
قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →34 ۔ صفت احسان کی عظمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو جن کے کام بھی صحیح ہوں اور ان کی نیتیں اور ارادے بھی درست ہوں، اللہ ہم سب کو انہی میں سے بنائے آمین، اوپر آیت نمبر 18 میں ارشاد فرمایا گیا تھا (ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں) سو اس کے مقابلے میں اب یہاں پر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور یہی عدل و انصاف کا تقاضہ ہے اور اسی لیے قیامت کے اس یوم عظیم کو بپا کیا جائے گا، تاہ عدل و انصاف کے یہ تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ سو صفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
نیکوکاروں کے لیے رحمتیں
تشریح : اللہ بڑا ہی رحمن و رحیم ہے وہ سب کو اپنی نعمتیں دیتا ہے جو شکر گزار اور عبادت گزار ہیں ان کے لیے اس نے بہترین جنت میں ٹھکانے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو ضرور پورا ہوگا اور جو اس کے نافرمان اور ناشکرے لوگ ہیں اور باوجود رسول ﷺ کے بتانے کے بھی ایمان نہیں لاتے اللہ کو رسول ﷺ کو اور حساب کے دن، یعنی آخرت کو نہیں مانتے تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ جبار اور قہار بھی ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے جہنم کے بدترین ٹھکانے کی بری خبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ بات سمجھ لینی بڑی آسان ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ قیامت کا تصور موجودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیات 41 تا 50۔
اسرار ومعارف۔
البتہ جنہوں نے اللہ سے اطاعت کا رشتہ قائم کیا ان کے لیے یہاں بھی سایہ ہوگا اور خوبصورت نہریں اور طرح طرح کے میوے کہ مزے سے کھاتے ہوں گے اور حکم ہوگا کہ عیش کرو کھاؤ پیو کہ تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ہم ایسے ہی انعام عطا کرتے ہیں مگر انکار کرنے والوں کے لیے صرف بربادی ہوگی بلکہ اے بدکارو ، دنیا میں چند روز مہلت سے موج کرلو آخر کار تمہارے نصیب میں بربادی ہی ہے یہاں بھی وہاں بھی۔
نظام اسلام۔
جب انہیں اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے کہا جاتا ہے یعنی اللہ کا نظام قبول کرنے کا کہا جاتا ہے تو مان کر نہیں دیتے تو پھر ان کے لیے ماسوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
ف 6 جھٹلانے والوں کے مقابلے میں یہ پرہیز گاروں کا حال بیان ہوا۔ پھر بہت ہی بدبخت ہیں وہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور پرہیز گاری (خدا کا ڈر) اختیار نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →(77:44) انا کذلک نجزی المحسنین : انا مرکب ہے ان حرف تحقیق اور نا ضمیر جمع متکلم ہے۔ تحقیق ہم۔ ک حرف تشبیہ ہے۔ ذلک اسم اشارہ جس کا مشار الیہ وہ نعمتیں ہیں جو آیات (41، 43) مذکورہ بالا میں بیان ہوئی ہیں۔
نجزی مضارع جمع متکلم۔ جزاء (باب ضرب) مصدر سے۔ ہم بدلہ دیتے ہیں۔ ہم جزاء دیتے ہیں۔
محسنین : احسان (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، منصوب، احسان کرنے والے۔ اپنے فریضہ سے زیادہ ادا کرنے والے۔ اعمال میں احسان دو طرح کا ہوتا ہے :۔
(1) کسی کو اس کے حق سے زیادہ دینا اور اپنے حق سے کم لینا۔
(2) اپنے اعمال میں خوبی پیدا کرنا۔ یعنی فرض سے آگے بڑھ کر مستحبات کو بھی ادا کرنا۔ جو چیز واجب نہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔
المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔
تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
اہل جنت کی پرکیف زندگی۔
(ف 1) للمکذبین کے مقابل یہ المتقین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جنت کے درختوں کے سایہ میں ہوں گے ان کے ارگرد شریں پاک صاف چشمے رواں ہوں گے طرح طرح کے میوے جو دل میں آرزو خواہش ہوگی وہی موجود ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ لوکھاؤ پیو عیش کرو مبارک ہو اب نہ بیماری ہے نہ موت۔ اس کے بدلے جو تم دنیا میں اچھے کام کیا کرتے تھے ہم ان کو جو اقوال افعال میں بھلائی کا خیال رکھتے ہیں ایسا ہی اچھا بدلہ دیتے ہیں اس دن للمکذبین کو سخت عذاب ہوگا جو ایمان نہ لاتے تھے قیامت اور رسول اور جنت دوزخ کی تکذیب کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
[15] یعنی جب یہ حال ہو کہ نہ وہ خود کوئی بات زبان سے نکالنے میں پہل کرسکیں گے اور نہ ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ملے گی تو تباہی و ہلاکت کے سوا ان کے لئے کیا باقی رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ف 1: جہنم کی تفصیلات کے بعد ضروری تھا ۔ کہ پاکبازوں کو بشارت سنائی جائے ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ اہل تقویٰ کے لئے جو سائے ہیں ۔ وہ ٹھنڈے اور رحمت کے سائے ہیں ۔ وہ میٹھے اور شیریں چشموں میں ہوں گے ۔ ان کو ہر نوع کے مرغوب میوے ملیں گے ۔ اور کہا جائیگا ۔ کہ چونکہ تم نے دنیا میں اپنی خواہشات کے خلاف ہمارے دین کا ساتھ دیا ہے ۔ اور نیک زندگی بسر کی ہے ۔ اس لئے تمہاری خواہشات کو یہاں ملحوظ رکھا جائے گا ۔ تمہیں اجازت ہے ۔ کہ اس باغ میں رہو سہو اور جو چاہو کھاؤ پیو ۔
حل لغات :۔ کید ۔ مکر اور تدبیر عیون ۔ جمع عین ھدایتا ۔ خوش گواری کے ساتھ ۔
Read the full tafseer →(44) بیشک ہم نیک روش اختیار کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ متقی کی بحث اوپر کئی دفعہ گزر چکی ہے جو شرک سے بچے اسے بھی متقی کہتے ہیں اور اعلیٰ درجے کا متقی وہ جو ناجائز چیزوں کے خوف سیبعض جائز چیزوں کو بھی چھوڑ دے یعنی محض شبہ کی بنا پر ان چیزوں کو بھی چھوڑ دے جن کے استعمال کی گنجائش ہو۔
بہرحال ! یہ متقی لوگ سایوں میں ہوں گے سایے سے مراد یا تو محض راحت و آرام سے کنایہ ہے یا وہ سایے مراد ہیں جن کا احادیث میں ذکر آتا ہے یعنی میدان حشر میں عرش اعظم کا سایہ اور پل صراط پر صدقات و خیرات کا سایہ اور جنت میں طوبیٰ اور دوسرے درختوں کا سایہ اگرچہ جنت میں آفتاب نہ ہوگا اور نہ اس کی گرمی ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–50
ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
(بیشک اللہ تعالیٰ ) (سے ڈرنے والے) جنت کے درختوں کے (سایوں) میں (اور) اس میں بہنے والے پانی کے (چشموں میں ہیں) ۔ یعنی نہروں کے کنارے ہیں جن کے مکانوں کے ہر طرف نہریں بہہ رہی ہیں ، تو گویا وہ نہروں کے درمیان ہیں۔ (اور میوؤں میں) یعنی میووں کے باغ میں (جو چاہیں) یعنی جس چیز کی انہیں آرزو ہوگی ان کے لیے موجود ملے گی ، اور فرشتے ان سے کہیں گے۔۔۔
(کہ کھاؤ) ان میووں میں سے (اور پیو) ان نہروں سے ( فراغت سے) ایسا کھانا پینا جو ہضم ہونے والا ہے۔ (ثواب اس کا جو کرتے تھے) دنیا میں نیک عمل (بیشک اسی طرح ثواب دیتے ہیں احسان والوں کو ) یعنی ایسی ہی جزا دیتے ہیں ہم نیک کام کرنے والوں کو۔ (ہلاکی) یعنی جہالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ (This is a day when they will not speak, nor will they be allowed to offer excuses....77:35, 36) In other words, this is the Day in which they will not be able to talk, nor will they be permitted to offer pleas for their misdeeds. However, other verses of the Qur'an inform us that they will speak and will be permitted to offer excuses. There is no discrepancy between the two verses, because there will be various stages on the Plain of Gathering (Mahshar) through which people will have to pass. Sometimes they will pass…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
23 Here this sentence means that one of their afflictions. as mentioned above, will be that they will be standing as culprits in the plain of Resurrection, their crimes will have been proved and established openly and they will not be in a position even to open their mouths to put forward a plea in self defence, and shall ultimately become fuel of Hell. Their other affliction, and by far the worse will be that they will see the same believers enjoying themselves in Paradise, whom they had been opposing and resisting and mocking throughout their lives as foolish, narrow-minded, mean and old…
Read the full tafseer →