Al-Mursalaat 77:43

Al-Mursalaat · from ayah 43

77:43

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِیْٓـًٔا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا هَنِيْٓئًا ۢ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

اور جو عمل تم کرتے رہے تھے ان کے بدلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Being told], "Eat and drink in satisfaction for what you used to do."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:43

کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو عمل تم کرتے رہے تھے ان کے بدلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

— مولانا فتح محمد جالندہری

(اے جنتیو!) کھاؤ پیو مزے سےاپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان سے کہا جائے گا کہ) مزے سے کھاؤ، اور پیو ان اعمال کی بدولت جو تم کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کھاؤ اور پیو رچتا ہوا اپنے اعمال کا صلہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ان سے کہا جائے گا:) تم خوب مزے سے کھاؤ پیو اُن اَعمالِ (صالحہ) کے عوض جو تم کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مزے سے کھاؤ اور پیو، اس کے عوض جو تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مزے سے کھاؤ پیو، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کھائو پیو راس آتا اپنے اعمال کے صلہ میں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے کہا جائے گا کہ) مزے سے کھاؤ اور پیؤ تم لوگ اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے (اپنی زندگی میں)

— مولانا اسحاق مدنی

خوب مزے سے کھاؤ پیو اپنے اعمال کے صلہ میں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور ہم ان سے کہہ دیں گے) کھائو پیو مزے سے رچتا پچتا ان اعمال کے انعام کے طور پر جو تم کرتے رہے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو عمل تم کرتے تھے ان کے بدلے میں مزے سے کھاؤ پیؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Eat and drink and may every joy attend you as a reward for your deeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will be said to them, :Eat and drink with pleasure because of what you used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

It will be said to them, :Eat and drink with pleasure because of what you used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Eat and drink comfortably for that which you used to do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Unto them it is said:) Eat, drink and welcome, O ye blessed, in return for what ye did.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Being told], "Eat and drink in satisfaction for what you used to do."

— Saheeh International

(They will be told), "Eat and drink in good health as a reward for what you have done".

— Muhammad Sarwar

Eat and drink pleasantly because of what you did.

— Muhammad Habib Shakir

'Eat and drink with relish that which ye have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

"Eat ye and drink ye to your heart's content: for that ye worked (Righteousness).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–50

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 42–45

سورة الْمُرْسَلٰت 23 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے لیے ایک مصیبت تو وہ ہوگی جو اوپر بیان ہوچکی ہے کہ میدان حشر میں وہ مجرموں کی حیثیت سے کھڑے ہوں گے، علی الاعلان ان کے جرائم اس طرح ثابت کردیے جائیں گے کہ ان کے زبان کھولنے تک کا یارانہ رہے گا۔ اور آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ دوسری مصیبت بالائے مصیبت یہ ہوگی کہ وہی ایمان لانے والے جن سے ان کی عمر بھر لڑائی رہی، جنہیں وہ بیوقوف اور تنگ خیال اور رجعت پسند کہتے رہے، جن کا وہ مذاق اڑاتے رہے اور جنہیں اپنے نزدیک حقیر و ذلیل سمجھتے رہے، انہی کو وہ جنت میں مزے اڑاتے دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–45

هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙوَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْن، یعنی اس دن میں کوئی بول نہ سکے گا اور نہ کسی کو اپنے کئے ہوئے عمل کا عذر پیش کرنے کی اجازت ہوگی، اور دوسری آیات قرآن میں جو کفار کا بولنا اور عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ محشر میں مختلف مواقف اور مقامات آئیں گے، کسی مقام میں کلام اور عذر پیش کرنا ممنوع ہوگا، کسی میں اجازت ہوگی۔ (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ان کو خوش خبری دی جائے گی کہ اب چین سے کھاؤ پیو۔ تمہارا یہ کھانا پینا راس آنے والا اور ہر غل و غش سے پاک ہو گا۔ یہ تمہارے ان اعمال کا صلہ ہے جو تم نے دنیا میں کیے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ ناشکروں نے دنیا میں جو کھایا پیا وہ ان کے لیے آخرت میں راس آنے والا نہیں بنے گا بلکہ وہ ان کے لیے تباہی کا سبب ہو گا اس لیے کہ انھوں نے اس کھانے پینے کا حق نہیں ادا کیا لیکن تمہارا یہاں کھانا پینا راس آنے والا بنے گا اس لیے کہ تم اپنے حقوق و فرائض سے سبکدوش ہو کر آئے ہو۔ ’ہَنِیْئًا‘ کے معنی راس آنے اور سازگار ہونے کے ہیں۔ یہ مفعول سے حال پڑا ہوا ہے جو فعل سابق سے مفہوم ہو رہا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے:…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43۔ 1 یہ بطور احسان انہیں کہا جائے گا یعنی جنت کی یہ نعمتیں ان اعمال صالحہ کی وجہ سے تمہیں ملی ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان جنت میں داخل ہوگا اعمال صالحہ ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کے بغیر اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی زمین میں ہل چلائے اور بیج بوئے بغیر فصل کا امیدوار ہو یا حنظل بوکر خوش ذائقہ پھلوں کی امید رکھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–50

10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور ان سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اونٹوں جیسی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–44

کلوا واشربوا ........................ المحسنین (44:77) ” کھاﺅ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمان کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ یہ ایک عظیم اعزاز ہے کہ ان کے بارے میں شاہی نوٹیفیکیشن جاری ہوگا۔ اور آخری تبصرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 42–43

12 مکذبین کے مقابل یہ متقین کا حال بیان فرما دیا کہ " الاشیاء تعرف باضدادہا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 42–44

آیت 42{ وَّفَوَاکِہَ مِمَّا یَشْتَہُوْنَ۔ } ’ انہیں ایسے پھل دیے جائیں گے جنہیں کھانا انہیں بہت مرغوب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 42–45

25 یعنی مجرموں اور آخرت کے منکروں کو ایک تو اپنے انجام سے گھبراہٹ اور پریشانی ہوگی۔ دوسرے وہ لوگ ان کے سامنے جنت میں جارہے ہوں گے جنہیں وہ حقیر سمجھتے تھے اور ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو کوئی بالاتر مخلوق قرار دیتے تھے۔ اس طرح ان کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–44

15۔ یہ سب مومنین متقین کو مخاطب کرکے کہا جائے گا۔ (آیت) ” انا ..... المحسنین “۔ اس میں مخاطبین کو ترغیب ہے محسن (نیک کار) بن جانے کی، جو بھی محسن ہوگا اس مرتبہ ومنزلت کا حقدار ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–47

ترجمہ : بیشک پرہیز گار لوگ سایوں یعنی گھنے درختوں میں ہوں گے اس لئے کہ (وہاں) سورج نہیں ہوگا، کہ اس کی گرمی سے سایہ حاصل کیا جائے اور بہتے ہوئے پانی کے چشموں میں ہوں گے، یعنی ابلتے ہوئے پانی کے، اور دل پسند میووں میں ہوں گے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں کھانے پینے کی چیزیں حسب خواہش ہوں گی بخلاف دنیا کے کہ یہاں وہی میوے (پھل) ملتے ہیں جو اغلباً لوگوں کو دستیاب ہوتے ہیں اور ان سے کہا جائے گا (اے جنتیو ! ) تم خوشگواری کے ساتھ اپنے طاعت اعمال کے صلہ میں کھائو پیو، ھنیئا حال ہے ای متھنئین، بیشک ہم ایسی جزاء جیسی کہ تمام پرہیزگاروں کو دی ہے ہر نیکوکار کو دیں گے، اس دن جھٹلانے والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلوا واشربوا . فی ظلال کے متعلق (مُسْتَقِرُّوْنَ ) محذوف کی ضمیر مرفوع سے حال ہے ‘ یعنی وہ جنت کے گھنے درختوں کے اندر ایسی حالت میں ہوں گے کہ ان سے کہا جائے گا : کھاؤ ‘ پیو ‘ یا جملہ معترضہ ہے یعنی ان سے یہ الفاظ کہے جائیں گے۔ ھنیئا . یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی کھاؤ ‘ پیو ‘ خوشگوار کھانا پینا ‘ یا حال ہے یعنی خوشگواری کے ساتھ کھاؤ۔ ہَنَاءٌ وہ چیز ہے جس کے حصول میں مشقت نہ ہو اور نتیجہ میں برائی نہ ہو۔ بما کنتم تعملون . اپنے اعمال کے عوض (عمل قلب کا ہو جیسے) ایمانیات پر عقیدہ (یا اعضاء جسمانی کا ہو جیسے) تمام طاعات بدنیہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–44

(41۔ 44) اب اہل ایمان کے مقام کا بیان ہے کہ کفر و شرک سے بچنے والے درختوں کے سایوں اور پاکیزہ چشموں کے پانی اور مختلف قسم کے مرغوب میووں میں ہوں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اپنے دنیاوی اعمال کے بدلہ میں خوب مزے سے بغیر کسی تکلیف کے خوف کے کھاؤ پیو ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 41–45

ان المتقین فی ظلل و عیون…: اب جھٹلانے والوں کے مقابلے میں متقین کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے کہ وہ دھوئیں کے سائے کے بجائے گھنے درختوں اور نجت کے مکانوں کے ٹھنڈے سایوں ، چشموں اور پانی پسند کے پھلوں میں عیشک ر رہے ہوں گے۔ انہیں کہا جائے گا کہ مزے سے کھاؤ پیو، اس عمل کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔ ”ویل یومئذ للمکذبین“ جھٹلانے والوں کیلئے اس دن بڑی ہلاکت ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ لوگ عیش و آرام میں ہوں گے جنہیں وہ تمام عمر مذاق کرتے رہے اور یہ خود ان کے سامنے آگ میں جل رہے ہوں۔“ جنیاء“ جو کسی مشقت کے بغیر حاصل ہوجائے اور اسے کھانے کے بعد کسی قسم کی گرانی یا بدہضمی نہ ہو۔ (راغب) دنیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–45

ان المتقین فی ظلل وعیون۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ یہاں اس چیز کے بارے میں خبر دی ہے جس کی طرف متقی لوٹیں گے، ظلل سے مراد درختوں اور محلات کے سائے ہیں یہ اس سایہ کی جگہ ہوں گے جو تین شاخوں والا ہوگا، سورة یاسین میں ہے، ھم وازواجھم فی ظلل علی الارائک متکئون۔ یاسین) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں ہوں گی پلنگوں پر ٹیک لگائے ہوئے۔ ان کے لیے وہ پھل ہوں گے جس کی تمنا کریں گے، عام قراء کی قرات ظلال ہے۔ اعرج، زہری اور طلحہ نے ظلل پڑھ ا ہے، جو ظللہ کی جمع ہے یعنی جنت میں وہ سائے میں ہوں گے۔ کھاؤ پیو یعنی متقین کو آخرت میں یہ کہا جائیگا جب کہ مشرکین کو کہا جائے گا اگر تم کوئی حیلہ کرسکتے ہو توحیلہ کرو، کلو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–45

33۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت کلوا واشربوا ہنیئا (مزے سے کھاؤ اور پئیو) کیونکہ (اب) موت نہیں آئے گی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كُلُوْا وَاشْرَبُوْا : تم لوگ کھائو اور پیؤ] [هَنِيْۗــــــًٔـــۢا بِمَا : خوشگوار ہوتے ہوئے بسبب اس کے جو ] [كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ عمل کیا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–45

متقیوں کے سایوں، چشموں اور میووں کا تذکرہ منکرین و مکذبین کا عذاب بیان فرمانے کے بعد متقیوں ( پرہیزگاروں) کے انعامات بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا یقین جانو پرہیزگار لوگ سایوں میں ہوں گے۔ (یہ وہی سایہ ہے جس کا سورة ٴ دھر کی آیت ﴿وَدَانِیَۃً عَلَیْھِمْ ظِلٰلُھَا﴾ میں بیان فرمایا) اور چشموں میں ہوں گے (ان میں سے بعض چشموں کا ذکر سورة ٴ دھر میں گزر چکا ہے) اور یہ لوگ ایسے میووں میں ہوں گے جن کی انہیں اشتہاء ہوگی، من بھاتے میوے ہوں گے مرغوب ہوں گے، ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ کھاؤ پیو مبارک طریقہ پر ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے، مبارک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کھائیں پئیں گے وہ جسموں کے لیے بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–45

11:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ کفار و مشرکین کے مقابلہ میں مومنوں اور شرک سے بچنے والوں کو جنت میں ہر قسم کی راحت اور ہر نعمت میسر ہوگی وہ جنت میں ٹھنڈی چھاؤں کے مزے لیں گے۔ ہر نوع مشروب کے ابلتے چشموں سے لطف اندوز ہوں گے اور جس قسم کے میووں اور پھلوں کی خواہش کریں گے وہ حاضر کردئیے جائیں گے۔ حاصل یہ کہ ان کو جنت میں ہر قسم کی راحت اور ہر نعمت حاصل ہوگی۔ ” کلوا وشربوا “ اس سے پہلے یقال لہم محذوف ہے یا یہ حال بتاویل مقولا لہم (روح، مدارک) ۔ ان سے کہا جائیگا آج مزے سے کھاؤ پیو اور یہ تمہارے ان نیک عملوں کا صلہ ہے جو دنیا میں تم نے سر انجام دئیے۔ ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح انعام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِيْۗــــــًٔۢـا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 43 أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ شرب الشُّرْبُ : تناول کلّ مائع، ماء کان أو غيره . قال تعالیٰ في صفة أهل الجنّة : وَسَقاهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–47

ترکیب : ان اسمھا المتقین فی ظلال خبرھا وعیون وکذافوا کہ عطف علی الخبر وممایشتھون من بیانیۃ ماموصولۃ یشتھون صلۃ والعائد محذوف ای یشتھونہ والجملۃ مجروربمن ای متعلقہ بمحذوف نعت لفواکھہ۔ کلواواشربوا فی محل الحال من ضمیر المتقین فی الخبر بتقدیر القول ای مقولا لھم کلواواشبروا۔ ھنیئًا منصوب علی انہ صفۃ مصدر محذوف ای اکلاً ھنیئًا وشرباً ھنیئا (ھن) گواراشدن طعام و شراب۔ یقال ھنت الطعام ای تھنات بہ ومنہ قولہ تعالیٰ فکلوہ ھنیئًا مریئًا من باب فتح یفتح وکرم یکرم (من الصراح) بما الباء لسببیۃ کلواوتمتعواقلیلا ای زماناً قلیلا الجملۃ حال من المکذبین ای الویل ثابت لھم فی حال مایقال لھم کلواوتمتعوا ایذاناً…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–45

کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِـٓـیْــًٔا م بِمَا کَنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 43 تا 45) (کھائو اور پیو، راس آتا اپنے اعمال کے صلہ میں۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) اعمالِ حسنہ کا حیرت انگیز نتیجہ دنیا میں دولت کی قیمت پر ہر چیز تو نہیں، بیشتر چیزیں خریدی جاسکتی ہیں اور حکومت کے زور سے بھی بہت کچھ مزے لوٹے جاسکتے ہیں، لیکن ایک چیز ایسی ہے جو نہ دولت سے حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ حکومت سے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو بھی یہ یقین نہیں دلا سکتا کہ آپ جو کچھ کھائیں گے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–45

فہم القرآن ربط کلام : جس دن اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور کوئی چھوٹا اور بڑا مجرم رب ذوالجلال کے مقابلے میں کسی قسم کی چال نہیں چل سکے گا اس دن نتیجے کے اعتبار سے لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے۔ جو لگ ایمان لائے اور اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے انہیں گھنے سایوں اور بہتے چشموں کی جنت میں ٹھہرایا جائے گا وہ جو چاہیں گے وہ پھل انہیں مہیا کیے جائیں گے۔ حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو ! ارشاد ہوگا کہ ہم نیک لوگوں کو اس طرح ہی جزا دیتے ہیں اور جن لوگوں نے قیامت کو جھٹلایا ان کے لیے تباہی ہوگی۔ ان آیات میں جنت کی تین نعمتوں سائے، بہتے چشمے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43 : کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِیْئًآم بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تم کھائو پیو خوب مزے سے اپنے اعمال کے بدلے) کلوا واشربواؔ یہ موضع حال میں واقع ہے۔ اور اس کا ذوالحال متقین کی ضمیر ہے جو اس ظرف میں واقع ہے جو فی ظلالٍ میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ہم مستقرون فی ظلال مقولا لھم ذلک۔ وہ سایوں میں قرار پکڑنے والے ہونگے اور ان کو یہ کہا جائے گا کلوا واشربوا بماکنتم تعملون جو تم دنیا میں عمل کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50۔ متقیوں سے مطلب ان آیتوں میں یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک سے بچتے رہے کیونکہ متقیوں کا لفظ ان آیتوں میں ان مشرک لوگوں کے مقابلہ میں فرمایا ہے جن کا ذکر شروع سورة سے یہاں تک تھا یہ اوپر گزرچکا ہے کہ کلمہ گو گناہ گار اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا میں ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں جائیں گے لیکن پھر آخر ان کو جنت نصیب ہوگی اور یہی نعمتیں ان کو ملیں گی جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس لئے لفظ متقی کے جو معنی بیان کئے گئے ان میں سب جنتی شامل ہوسکتے ہیں۔ دوزخیوں کی چھائوں وہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ یہ جنتی لوگوں کی چھاؤں جنت کے عالی شان مکانوں اور میوہ کے نہایت سایہ دار درختوں کی ہوگی۔ علاوہ اس کے فقط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

هَنِيْۗــــــًٔـــۢا) یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہوگی حتی کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہوگا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے۔ (بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) پس تمہارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنہوں نے تمہیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

33 ۔ اہل جنت کے لئے ایک اور عظیم الشان انعام کا ذکر : سو اس سے حق تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کے لئے ایک اور عظیم الشان انعام و اکرام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جنت کو ان کے اعمال کا بدلہ قرار دیا جائے گا سو یہ اس اکرم الاکرمین رب نعمتوں کو جو اس نے محض اپنی رحمت و عنایت اور کرم و احسان سے ان کو بخشی ہوں گی، ان کو اس کی طرف سے اہل جنت کے اعمال کا صلہ اور بدل ہقرار دیا جائیگا تاکہ اس سے ان کا سرور دوبالا ہو، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ونودوا ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعملون (الاعراف۔ 43) سو جنت تو انسان کو محض اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے ملے گی، نہ کہ اپنے عمل کے بدلے میں، جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

نیکوکاروں کے لیے رحمتیں تشریح : اللہ بڑا ہی رحمن و رحیم ہے وہ سب کو اپنی نعمتیں دیتا ہے جو شکر گزار اور عبادت گزار ہیں ان کے لیے اس نے بہترین جنت میں ٹھکانے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جو ضرور پورا ہوگا اور جو اس کے نافرمان اور ناشکرے لوگ ہیں اور باوجود رسول ﷺ کے بتانے کے بھی ایمان نہیں لاتے اللہ کو رسول ﷺ کو اور حساب کے دن، یعنی آخرت کو نہیں مانتے تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ جبار اور قہار بھی ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے جہنم کے بدترین ٹھکانے کی بری خبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ بات سمجھ لینی بڑی آسان ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ قیامت کا تصور موجودہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

آیات 41 تا 50۔ اسرار ومعارف۔ البتہ جنہوں نے اللہ سے اطاعت کا رشتہ قائم کیا ان کے لیے یہاں بھی سایہ ہوگا اور خوبصورت نہریں اور طرح طرح کے میوے کہ مزے سے کھاتے ہوں گے اور حکم ہوگا کہ عیش کرو کھاؤ پیو کہ تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ہم ایسے ہی انعام عطا کرتے ہیں مگر انکار کرنے والوں کے لیے صرف بربادی ہوگی بلکہ اے بدکارو ، دنیا میں چند روز مہلت سے موج کرلو آخر کار تمہارے نصیب میں بربادی ہی ہے یہاں بھی وہاں بھی۔ نظام اسلام۔ جب انہیں اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے کہا جاتا ہے یعنی اللہ کا نظام قبول کرنے کا کہا جاتا ہے تو مان کر نہیں دیتے تو پھر ان کے لیے ماسوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 40–44

ف 6 جھٹلانے والوں کے مقابلے میں یہ پرہیز گاروں کا حال بیان ہوا۔ پھر بہت ہی بدبخت ہیں وہ لوگ جو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور پرہیز گاری (خدا کا ڈر) اختیار نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:43) کلوا واشربوا ھنیئا : ای یقال لہم کلوا واشربوا ۔۔ الخ۔ (ان سے کہا جائے گا) کھاؤ پئو۔ مزے لے کر کلوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اکل (باب سمع) مصدر سے ہے۔ ھنیئا فعل کلوا کی ضمیر فاعل جمع مذکر سے حال ہے۔ تم نجوشی بلا تکلف، مزے لے کر۔ (نیز ملاحظہ ہو 69:24) بم کنتم تعلمون۔ ب سببیہ ہے۔ ما موصولہ۔ ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–45

اہل جنت کی پرکیف زندگی۔ (ف 1) للمکذبین کے مقابل یہ المتقین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جنت کے درختوں کے سایہ میں ہوں گے ان کے ارگرد شریں پاک صاف چشمے رواں ہوں گے طرح طرح کے میوے جو دل میں آرزو خواہش ہوگی وہی موجود ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ لوکھاؤ پیو عیش کرو مبارک ہو اب نہ بیماری ہے نہ موت۔ اس کے بدلے جو تم دنیا میں اچھے کام کیا کرتے تھے ہم ان کو جو اقوال افعال میں بھلائی کا خیال رکھتے ہیں ایسا ہی اچھا بدلہ دیتے ہیں اس دن للمکذبین کو سخت عذاب ہوگا جو ایمان نہ لاتے تھے قیامت اور رسول اور جنت دوزخ کی تکذیب کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–44

[15] یعنی جب یہ حال ہو کہ نہ وہ خود کوئی بات زبان سے نکالنے میں پہل کرسکیں گے اور نہ ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ملے گی تو تباہی و ہلاکت کے سوا ان کے لئے کیا باقی رہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–50

ف 1: جہنم کی تفصیلات کے بعد ضروری تھا ۔ کہ پاکبازوں کو بشارت سنائی جائے ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ اہل تقویٰ کے لئے جو سائے ہیں ۔ وہ ٹھنڈے اور رحمت کے سائے ہیں ۔ وہ میٹھے اور شیریں چشموں میں ہوں گے ۔ ان کو ہر نوع کے مرغوب میوے ملیں گے ۔ اور کہا جائیگا ۔ کہ چونکہ تم نے دنیا میں اپنی خواہشات کے خلاف ہمارے دین کا ساتھ دیا ہے ۔ اور نیک زندگی بسر کی ہے ۔ اس لئے تمہاری خواہشات کو یہاں ملحوظ رکھا جائے گا ۔ تمہیں اجازت ہے ۔ کہ اس باغ میں رہو سہو اور جو چاہو کھاؤ پیو ۔ حل لغات :۔ کید ۔ مکر اور تدبیر عیون ۔ جمع عین ھدایتا ۔ خوش گواری کے ساتھ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) ان سے کہا جائے گا کہ جو اعمال تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے اور صلے میں خوب مزے کے ساتھ محفوظ ہوکر کھائو پیو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–50

ف 3۔ ان تفریعات و تہدید ات قرآنیہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ سنتے ہی ڈر کر ایمان لے آتے مگر جب اس پر بھی ان کو اثر نہیں تو پھر اس قرآن بلیغ الالفاظ والانداز کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے اس میں کفار پر توبیخ اور ان کے ایمان سے آپ کا اقناط ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 41–45

(بیشک اللہ تعالیٰ ) (سے ڈرنے والے) جنت کے درختوں کے (سایوں) میں (اور) اس میں بہنے والے پانی کے (چشموں میں ہیں) ۔ یعنی نہروں کے کنارے ہیں جن کے مکانوں کے ہر طرف نہریں بہہ رہی ہیں ، تو گویا وہ نہروں کے درمیان ہیں۔ (اور میوؤں میں) یعنی میووں کے باغ میں (جو چاہیں) یعنی جس چیز کی انہیں آرزو ہوگی ان کے لیے موجود ملے گی ، اور فرشتے ان سے کہیں گے۔۔۔ (کہ کھاؤ) ان میووں میں سے (اور پیو) ان نہروں سے ( فراغت سے) ایسا کھانا پینا جو ہضم ہونے والا ہے۔ (ثواب اس کا جو کرتے تھے) دنیا میں نیک عمل (بیشک اسی طرح ثواب دیتے ہیں احسان والوں کو ) یعنی ایسی ہی جزا دیتے ہیں ہم نیک کام کرنے والوں کو۔ (ہلاکی) یعنی جہالت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–45

هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُ‌ونَ (This is a day when they will not speak, nor will they be allowed to offer excuses....77:35, 36) In other words, this is the Day in which they will not be able to talk, nor will they be permitted to offer pleas for their misdeeds. However, other verses of the Qur'an inform us that they will speak and will be permitted to offer excuses. There is no discrepancy between the two verses, because there will be various stages on the Plain of Gathering (Mahshar) through which people will have to pass. Sometimes they will pass…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–45

23 Here this sentence means that one of their afflictions. as mentioned above, will be that they will be standing as culprits in the plain of Resurrection, their crimes will have been proved and established openly and they will not be in a position even to open their mouths to put forward a plea in self defence, and shall ultimately become fuel of Hell. Their other affliction, and by far the worse will be that they will see the same believers enjoying themselves in Paradise, whom they had been opposing and resisting and mocking throughout their lives as foolish, narrow-minded, mean and old…

Read the full tafseer →