Explained with ayahs 16–28
حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کردیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کردیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہوگی، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورة یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کرسکے گا میں نے تو تجھے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة الْمُرْسَلٰت 15
یہ آخرت کے ممکن اور معقول ہونے پر ایک دلیل ہے۔ یہی ایک کرہ زمین ہے جو کروڑوں اور اربوں سال سے بےحدوحساب مخلوقات کو اپنی گود میں لیے ہوئے ہے، ہر قسم کی نباتات، ہر قسم کے حیوانات اور انسان اس پر جی رہے ہیں اور سب کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کے پیٹ میں سے طرح طرح کے اتھاہ خزانے نکلتے چلے آ رہے ہیں۔ پھر یہی زمین ہے جس پر ان تمام اقسام کی مخلوقات کے بیشمار افراد روز مرتے ہیں، مگر ایسا بےنظیر انتظام کردیا گیا ہے کہ سب کے لاشے اسی زمین میں ٹھکانے لگ جاتے ہیں اور یہ پھر ہر مخلوق کے نئے افراد کے جینے اور بسنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔ اس زمین کو سپاٹ گیند کی طرح بھی بنا کر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا 25ۙاَحْيَاۗءً وَّاَمْوَاتًا یعنی ہم نے زمین کو کفات بنایا ہے زندہ اور مردہ انسانوں کے لئے کفات، کفت سے مشتق ہے جس کے معنے ملانے اور جمع کرلینے کے ہیں کفات وہ چیز جو بہت سی چیزوں کو اپنے اندر جمع کرے۔ زمین کو حق تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ زندہ انسان اس کی پیٹھ پر سوار ہیں اور مردے سب اس کے پیٹ میں جمع ہیں۔
Read the full tafseer →’وَجَعَلْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَیْنَاکُم مَّآءً فُرَاتًا‘۔ یہ اسی ربوبیت کے مضمون سے متعلق ہے جو ’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ کِفَاتًا‘ میں بیان ہوا ہے۔ قرآن کی متعدد آیات میں یہ اشارہ موجود ہے کہ انسان کی رہائش و پرورش کے لیے زمین کو گہوارہ بنانے میں پہاڑوں کے وجود کو بڑا دخل ہے۔ اوپر سورۂ نبا کی جس آیت کا ہم نے حوالہ دیا ہے اس میں بھی فرمایا ہے کہ
’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا‘ (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارا بنایا ہے اور اس گہوارے کو متوازن رکھنے کے لیے اس میں پہاڑوں کی میخیں ٹھونکی ہیں؟) دوسرے مقام میں اسی حقیقت کی طرف یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26۔ 1 یعنی زمین زندوں کو اپنی پشت پر اور مردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
8: یعنی انسان کو ہم نے صرف پیدا ہی نہیں کیا، بلکہ اس کی بناوٹ میں ایسا بہترین توازن رکھا ہے جو ہمارے سوا کوئی قائم نہیں رکھ سکتا۔ انسان کے جسم کے مختلف حصوں پر جتنا غور کیا جائے، یہ حقیقت اتنی ہی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
الم نجعل ............................ للمکذبین
یعنی زمین کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے دامن میں زندہ اور مردہ سب چیزوں کو لپیٹ کر رکھتی ہے اور اس میں ہم نے بلند وبالا پہاڑ جما دیئے ہیں جو ہبت اونچے اور جمے ہوئے ہیں۔ اور ان کے اوپر ہر وقت بادل چھائے رہتے ہیں اور ان سے میٹھا پانی بہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عظیم قدرت اور ٹھیک ٹھیک اندازوں کا مظہر ہے۔ اور گہری حکمت پر دلالت کرتا ہے ، لہٰذا مکذبین کے لئے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ جھٹلائیں۔
اب ان مشاہد قدرت اور گہرے حکیمانہ قوانین فطرت کے پیش کرنے اور انسانی شعور کو تاثرات اور احساسات سے بھر دینے کے بعد اب روئے سخن حساب و کتاب اور روز جزاء کی طرف…
Read the full tafseer →17 یعنی زندہ مخلوق اسی زمین میں بسر کرتی ہے اور مردے بھی اس مٹی میں پہنچ جاتے ہیں۔ انسان کو زندگی بھی اس خاک سے ملی اور موت کے بعد بھی یہی اس کا ٹھکانا ہوا۔ تو دوبارہ اسی خاک سے اس کو اٹھا دینا کیوں مشکل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت 26 { اَحْیَآئً وَّاَمْوَاتًا۔ } ”زندوں کو بھی اور ُ مردوں کو بھی !“
اللہ تعالیٰ نے یہ زمین ایسی بنائی ہے کہ یہ اپنے اوپر موجود ہر زندہ وجود کی تمام ضروریات پوری کر رہی ہے اور ہر قسم کے مردہ کو بھی تحلیل کر کے اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ اس حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں ایسی گنجائش رکھی ہے کہ یہ تاقیامِ قیامت تمام زندوں اور تمام ُ مردوں کے لیے کفایت کرے گی۔
Read the full tafseer →17 زمین سے انسان کا دائمی تعلق :۔ پھر اسی زمین میں بلند وبالا پہاڑ پیدا کردیئے جو سمندروں سے اٹھنے والے آبی بخارات کو ٹھنڈا کردینے اور بارش کے قطرے بن جانے میں مدد دیتے ہیں۔ اور ان آبی بخارات کا رخ بدل دیتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں پہاڑوں پر برف بھی جمتی ہے اور بارشیں بھی خوب ہوتی ہیں۔ یہی پانی کچھ تو ندی، نالوں، نہروں اور دریاؤں کی صورت میں بہتا ہے اور انسانوں اور کھیتیوں کو سیراب کرتا ہے اور اسی بارش کے پانی کا کثیر حصہ زمین میں جذب ہوجاتا ہے۔ تو سطح زمین کے نیچے خاصی گہرائی میں پانی کی نہریں اور دریا رواں ہوجاتے ہیں۔ پانی کے یہ محفوظ ذخیرے اس وقت کام آتے ہیں جب بارش برسنے میں دیر ہوجائے۔ تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
9۔ (جو ہمارے سارے سلسلہ ربوبیت کا انکار کررہے ہیں) (آیت) ” کفاتا احیآء وامواتا “۔ زمین کا زندوں کی سمیٹنے والی ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ کہ انسان زندگی بھر اسی پر چلتا پھرتا، اٹھتا بیٹھتا رہتا بستا ہے اور مردوں کی سمیٹنے والی یوں کہ موت کے بعد بھی اسی میں دفن ہوتا ہے۔ اور جو مردے نہیں بھی دفن ہوتے ان کے بھی اجزاء ارضی آگ سے جلنے یا پانی میں ڈوبنے کے بعد، بہرحال کسی نہ کسی واسطہ سے اسی زمین ہی میں جذب ہوتے ہیں۔ (آیت) ” رواسی شمخت “۔ پہاڑوں اور پہاڑوں کے بھی منافع ومصالح انسانی زندگی کیلئے ظاہر ہیں۔ (آیت) ” واسقینکم مآء فراتا “۔ ان ساری نعمتوں کے استحضار سے مقصود و مدعا یہی کہ تم اپنی توجہ اپنے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…
Read the full tafseer →و جعلنا فیھا رواسی شمخت . زمین میں ہم نے اونچے پہاڑ بنائے جو زمین سے ابھرے ہوئے ہیں۔
واسقینکم ماء فراتا . صاف شیریں پانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
(27۔ 33) اور ہم نے اس زمین کی میخوں کے لیے اونچے اونچے پہاڑ بنائے اور اے جھٹلانے والو تمہیں میٹھا پانی یا یہ کہ دودھ پلایا تو قیامت کے دن ان جھٹلانے والوں کے لیے بڑی تباہی ہے۔ اے جھٹلانے والو تم اس عذاب کی طرف چلو جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ان سے فرشتے حساب سے فارغ ہونے کے بعد کہیں گے اور اے گروہ مکذبین تم دوزخ کے اس دھوئیں کی طرف چلو جس میں تین شاخیں ہیں جس میں نہ دوزخ کی گرمی سے ٹھنڈا سایہ ہے اور اس کی لپٹوں سے بچاتا ہے اور وہ انگارے برساتا ہے جیسا کہ بڑے درخت کے تنے جیسے کالے کالے اونٹ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(1) الم نجعل الارض کفاتاً…:”کفاتا“ ”کفت یکفت“ (ض) سمیٹنا، جمع کرنا) سے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی سمیٹنے والی۔ ”رواسی“ ”راسیۃ“ کی جمع ہے اور ”راس یرسو“ (ن) زمین میں گڑا ہوا ہونا مراد پہاڑ ہیں۔”شمخت“ بلند۔ ”قراتاً“ بہت ہی میٹھا۔ زمین زندوں کو سمیٹتی ہے، وہ اسی پر زندگی گزارتے ہیں وہ ان کی غلاظتیں سنبھالتی ہے اور مردوں کو ب ھی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اگر زمین مرنے والے انسانوں اور دوسرے جان داروں کو نہ سمیٹی تو تعفن سے زندگی دشوار ہوجاتی۔ اس آیت سے مردوں کو سنبھالنے کے لئے دفن کی دلیل ملتی ہے، جو قومیں اپنے مردوں کو جلاتی ہیں ان کی راکھ اور ہڈیاں بھی زمین ہی کے سپرد ہوتی ہیں۔
(2) وجعلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
وجعلنا فیھا رواسی شمخت واسقینکم ماء فراتا۔ ھا ضمیر سے مراد زمین ہے، رواسی سے مراد پہاڑ ہیں، رواسی سے مراد ثبت ہیں، شمخت سے مراد لمبے ہیں اس معنی میں کہا جاتا ہے، شمخ بانفہ، جب وہ تکبر کرتے ہوئے اپنے ناک کو اوپر اٹھائے اور ہم نے تمہارے لیے پانی بنادیا ہے فرات سے مراد میٹھا پانی ہے جس کو پایا جاتا ہے اور اس سے کھیتی سیراب کی جاتی ہے، یعنی ہم نے پہاڑوں کو پیدا کیا اور میٹھا پانی نازل کیا یہ امور دوبارہ اٹھائے جانے سے زیادہ عجیب ہیں ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ نے کہا، زمین میں جنت سے فرات، دجلہ اور نہر اردن ہے، صحیح مسلم میں ہے، سیحان، حیحان، نیل اور فرات عام جنت کے دریا ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” رواسی “ سے مراد ہے اونچے اور بلند پہاڑ ” فراتا “ سے مراد ہے میٹھا ” بشرر کالقصر “ سے مراد ہے ایسے انگارے جو عظیم محل کی طرح ہوں گے۔ ” جملت صفر “ یعنی ایسے اونٹ جو رنگ میں خاص تانبے کی طرح ہوں گے۔
Read the full tafseer →[وَّجَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ شٰمِخٰتٍ : اور ہم نے بنائے اس میں اونچے پہاڑ ] [وَّاَسْقَيْنٰكُمْ مَاۗءً فُرَاتًا : اور ہم نے پینے کے لیے دیا تم کو شیریں پانی ]
ش م خ
[شَمْخًا : (ف) ] بلند ہونا۔
شَامِخَۃٌ اسم الفاعل کے وزن پر صفت ہے۔ بلند ہونے والی یعنی بلند۔ زیر مطالعہ آیت۔ 27 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
مزید فرمایا کہ ہم نے تمہیں میٹھا پانی پلایا یہ میٹھا پانی تمہیں سیراب کرتا ہے خوب پیتے ہو اور پیاس بجھاتے ہو۔ اس کا شکر ادا کرنا لازم ہے۔ لہٰذا تم اپنے خالق اور مالک کی طرف متوجہ ہو اس کے نبی ﷺ کی تصدیق کرو اور قیامت کے دن کے لیے متفکر ہو ﴿وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 0028﴾ بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
6:۔ ” الم نجعل الارض “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” کفات “ اسم جنس ہے یا اسم آلہ، یعنی جمع کرنے والی اور سمیٹنے والی۔ زندوں کو اپنی پیٹھ پر اور مردوں کو اپنے پیٹ میں جمع کرنے والی۔ الم نجعلہا کفاتا تکفت و تجمع احیاء کثیرۃ علی ظھرہا وامواتا غیر محصورۃ فی بطنہا (روح) ۔ ” وجعلناھا فیہا رواسی شٰمخٰت “ یہ تیسری دلیل عقلی ہے۔ ” واسقیناکم ماء فراتا “ یہ چوتھی دلیل عقلی ہے۔ شامخات، بلند وبالا۔ فرات، میٹھا پانی۔ فراتا عذبا (مدارک) ۔ ان سے پوچھو تو سہی کیا ہم نے زمین نہیں بنائی جو بیشمار مخلوق کو اٹھائے ہوئے ہے اور ایک غیر محدود مخلوق موت کے بعد اس کے پیٹ میں سمائی ہوئی ہے اور پھر اس پر بلند وبالا پہاڑ بھی…
Read the full tafseer →وَّجَعَلْنَا فِيْہَا رَوَاسِيَ شٰمِخٰتٍ وَّاَسْقَيْنٰكُمْ مَّاۗءً فُرَاتًا 27 ۭ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
رسا
يقال : رَسَا الشیء يَرْسُو : ثبت، وأَرْسَاهُ غيره، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ
[ سبأ/ 13] ، وقال : رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] ، أي : جبالا ثابتات، وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] ،
( ر س و )
رسا الشئی ۔ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں اور ارسٰی کے معنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ۔ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ترکیب : الیٰ قدر الجارمتعلق یجعلنا بمعنی اثبناہ فقدرنا قرء نافع و عبداللہ بن عامر بالتشدید والباقون بالتخفیف علی الاول من التقدیر (اندازہ کردن) وعلی الثانی من القدرۃ کفاتا قیل ھو جمع کا فت کالصائم و الصیام وقیل مصدر مثل کتاب و حساب و التقدیر ذات کفت ای جمع۔ و معنی الکفت فی اللغۃ الضم والجمع یقال کفت الشیء اے ضممۃ ویقال جراب کفیت ٌ و کفت ٌ اذاکان لایضیع شیئا ممایجعل فیہ وقال صاحب الکشاف ھواسم مایکفت کقولھم الصمام والجماع لمایضم ویجمع احیائً وامواتًا منصوبات اماعلی انھما مفعول کفات ای الم نجعل الارض کفات احیائٍ و امواتٍ فاذانون نصب مابعدہ واماعلی انھما المفعول الثانی لجعلنا ای جعلنا بعض الارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَا تًا۔ اَحْیَـآئً وَّاَمْوَا تًا۔ وَّجَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّاَسْقَیْنٰـکُمْ مَّـآئً فُرَا تًا۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 25 تا 28)
(کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی۔ اور اس میں بلندوبالا پہاڑ جمائے اور تمہیں خوشگوار پانی پلایا۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ )
یوم الفصل پر اہتمامِ ربوبیت سے دلیل
کفات، کفت سے ہے۔ اس کے معنی ہیں جمع کرنا، اکٹھا کرنا اور ملانا۔ کفات وہ چیز ہے جو بہت سی چیزوں کو اپنے اندر جمع کرے۔
یوم الفصل کے ممکن اور معقول ہونے پر پروردگار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت۔
سور ۃ الدّھر کی ابتدائی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ اس کا کائنات میں ذکر تک نہیں تھا۔ اب ارشاد فرمایا ہے کہ کیا لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے انہیں ایک حقیر پانی سے پیدا کیا اور اپنی قدرت سے اسے ایک محفوظ مقام پر ٹھہرایا اور ہم پوری قدرت رکھنے والے ہیں یعنی انسان کی پوری زندگی اور اسے دوبارہ زندہ کرنے پھر اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہیں۔ گویا کہ انسان اپنے رب کے سامنے بےبس ہے نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے جیتا اور مرتا ہے۔ لیکن اس…
Read the full tafseer →27 : وَّجَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ (اور ہم نے اس میں پہاڑ بنائے گڑے رہنے والے پہاڑ) ۔ شٰمِخٰتٍ (بلند) وَّاَسْقَیْنٰـکُمْ مَّآئً فُرَاتًا (ہم نے تم کو میٹھا پانی پلایا)
Read the full tafseer →26 ۔ اور وہ اس کا قول ” احیاء وامواتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
16۔ 28۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ…
Read the full tafseer →(وَّجَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ ) یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا۔ (وَّاَسْقَيْنٰكُمْ مَّاۗءً فُرَاتًا) یعنی ہم نے تمہیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ نے فرمایا (افرائیتم الماء۔۔۔ تا۔۔۔ تشکرون۔ الواقعہ۔ 68 تا 70) بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو کیا تم نے اسے بادل سے برسایا ہم اسے برساتے ہیں ؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنادیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–50
میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے
قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →19 ۔ پہاڑوں میں سامان غور و فکر : سو پہاڑوں کے اندر موجود سامان غور و فکر میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے زمین میں ان بلند وبالا پہاڑوں کے عظیم الشان لنگر نہیں ڈال دیئے ؟ تاکہ تین حصے پانی میں گھرا ہوا یہ کرہ ارضی کہیں اپنے ساکنوں کو لے کر ڈولنے نہ لگے اور اس طرح ان کا اس میں رہنا بسنا دوبھر نہ ہوجائے، جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا گیا " والقی فی الارض رواسی ان تمیدبھم " الا بۃ (النحل :16) اور سورة انبیاء میں ارشاد فرمایا گیا۔ " وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبھم الابۃ (الانبیائ :31) نیز سورة لقمن بھی ارشاد فرمایا گیا۔ " والقی فی الارض رواسی ان تمید بھم " (لقمن :10) سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے
تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔
انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔
آیات 1 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ف 2 یعنی بہت بڑی بڑی۔
Read the full tafseer →(77:27) وجعلنا فیہا رواسی شمخت۔ واؤ عاطفہ ہے جملہ کا عطف جملہ سابقہ الم نجعل الارض پر ہے فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے۔ رواسی شمخت موصوف صفت مل کر جعلنا کا مفعول۔
رواسی جمع ہے راسیۃ کی بمعنی بوجھ۔ پہاڑ۔ رواسی کا استعمال ٹھیرے ہوئے پہاڑوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہ رسو سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز پر قائم رہنے اور استوار ہونے کے ہیں۔
شمخت : شموخ (باب فتح) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے، بمعنی بلند، اونچا، رواسی شمخت بلند و بالا پہاڑ جو ایک جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں ۔
واسقینکم ماء فراتا۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ اسقینا ماضی کا صیغہ جمع متکلم اسقاء (افعال) مصدر۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔
المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔
تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
انسان کی پیدائش اور نیک وبد کا ہونا۔
(ف 1) قوم نوح سے لے کر فرعون تک ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اسی واسطے فرمایا ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کفار مکہ نبی ﷺ کے زمانہ کے منکر لوگوں کو آخرین فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخرزمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
[10] زمین کا زندوں کی سمیٹنے والی ہونا تو ظاہر ہے کہ انسان زندگی بھر اس پر رہتا بستا ہے، اور مردوں کو سمیٹنے والی یوں کہ موت کے بعد انسان اس میں دفن ہوتا ہے اور جو مردے نہیں بھی دفن ہوتے ان کے بھی اجزا آگ سے جلنے یا پانی میں ڈوبنے کے بعد بہرحال کسی نہ کسی واسطے اسی زمین ہی میں جذب ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
ف 3: انسان کی توجہ کو اس کی پیدائش کی طرف منعلف کیا ہے ۔ کہ دیکھوہم نے کیونکر حقیرودلیل قطرہ آب سے تمہیں پیدا کیا ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ ایک طرف تو یہ معلوم ہو کہ حضرت انسان قدروقیمت کے لحاظ سے کسی معزاز اور بخیر کا استحقاق رکھتا ہے ۔ اور دوسری جانب یہ معلوم ہو کہ خدا کتناحلیم اور کس درجہ حکیم ودانا ہے ۔ کہ پانی کے ایک قطرہ سے انسان جیسے اشرف المخلوق وجود کو پیدا کیا ہے ۔
Read the full tafseer →(27) اور ہم نے اس زمین میں اونچے اونچے بوجھل پہاڑ بنائے اور ہم نے تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا۔ یعنی زمین زندوں کو اپنے اوپر بساتی ہے اور مرنے کے بعد مرنے والے کو اجزاء اسی زمین میں سما جاتے ہیں خواہ کوئی دفن ہو یا غرق ہو یا جل جائے، بہرحال سب کے اجزاء زمین میں ہی مل جاتے ہیں، پہاڑوں کا قائم ہونا اور میٹھے پانی کا پینا ظاہر ہی ہے یہ امور اس کی توحید کے مقتضی ہیں مگر تم توحید الٰہی کو جھٹلاتے ہو یادرکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–30
ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(اور کردیا ہم نے اس میں پہاڑ اونچے اونچے ، اور پلایا ہم نے تم لوگوں کو میٹھا پانی) تو جو لوگ خدا کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور اپنے منعم کو نہیں پہچانتے اور اس کی تکذیب کرتے ہیں تو (ہلاکی ہے اس دن) ان خدا ناشناس (جھٹلانے والوں کی) اور تکذیب کرنے والوں سے اس دن کہیں گے۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا (Did We not make the earth a container that collects the living and the dead?....25, 26) The word kit is derived from kaft. It means 'to gather things together'. Thus kit is a thing that embodies many things within itself. Earth is created by Allah in a fashion that humans when alive, remain on its back, and when dead, in its belly.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
15 This is yet another argument for the possibility and reasonableness of the Hereafter. It is this very earth which since millions and millions of years has been sustaining and providing for countless different kinds of creatures. Every kind of vegetation and every kind of animal and man are living on it, To meet the requirements of aII immeasureable treasures of provisions of different kinds are corning out of its belly. Then it is on this very earth that countless members of all kinds of creatures die every day, but there exists a wonderful arrangement in that the dead bodies of all…
Read the full tafseer →