Al-Mursalaat 77:26

Al-Mursalaat · from ayah 26

77:26

اَحْیَآءً وَّاَمْوَاتًا ۟ۙاَحۡيَآءً وَّاَمۡوَاتًا

یعنی) زندوں اور مردوں کو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Of the living and the dead?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:26

زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یعنی) زندوں اور مردوں کو

— مولانا فتح محمد جالندہری

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارے زندوں اور مردوں کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جو سمیٹتی ہے) زندوں کو (بھی) اور مُردوں کو (بھی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

زندوں کو اور مردوں کو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی

— مولانا اسحاق مدنی

زندوں کو بھی اور ُ مردوں کو بھی !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی زندہ اور مردوں کو

— محترمہ رفعت اعجاز

the living and the dead?

— Muhammad Taqi Usmani

the living and the dead?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For the living and the dead

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Of the living and the dead?

— Saheeh International

for the living and the dead,

— Muhammad Sarwar

The living and the dead,

— Muhammad Habib Shakir

Both for the living and the dead,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 77:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–28

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کردیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کردیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہوگی، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورة یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کرسکے گا میں نے تو تجھے اسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–27

سورة الْمُرْسَلٰت 15 یہ آخرت کے ممکن اور معقول ہونے پر ایک دلیل ہے۔ یہی ایک کرہ زمین ہے جو کروڑوں اور اربوں سال سے بےحدوحساب مخلوقات کو اپنی گود میں لیے ہوئے ہے، ہر قسم کی نباتات، ہر قسم کے حیوانات اور انسان اس پر جی رہے ہیں اور سب کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کے پیٹ میں سے طرح طرح کے اتھاہ خزانے نکلتے چلے آ رہے ہیں۔ پھر یہی زمین ہے جس پر ان تمام اقسام کی مخلوقات کے بیشمار افراد روز مرتے ہیں، مگر ایسا بےنظیر انتظام کردیا گیا ہے کہ سب کے لاشے اسی زمین میں ٹھکانے لگ جاتے ہیں اور یہ پھر ہر مخلوق کے نئے افراد کے جینے اور بسنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔ اس زمین کو سپاٹ گیند کی طرح بھی بنا کر نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–31

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا 25؀ۙاَحْيَاۗءً وَّاَمْوَاتًا یعنی ہم نے زمین کو کفات بنایا ہے زندہ اور مردہ انسانوں کے لئے کفات، کفت سے مشتق ہے جس کے معنے ملانے اور جمع کرلینے کے ہیں کفات وہ چیز جو بہت سی چیزوں کو اپنے اندر جمع کرے۔ زمین کو حق تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ زندہ انسان اس کی پیٹھ پر سوار ہیں اور مردے سب اس کے پیٹ میں جمع ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اَحْیَآءً وَأَمْوَاتًا‘۔ ’کفت‘ کے معنی جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔ عربی میں ’فِعَالٌ‘ کا وزن اس چیز کے لیے بھی آتا ہے جس سے فعل انجام پذیر ہو اس وجہ سے ’کِفَات‘ کے معنی جمع کر لینے والی کے ہوں گے۔ اسی معنی کے اعتبار سے اس میں فاعل کی قوت پیدا ہو گئی ہے اور اس کے بعد مفعول لانا جائز ہوا۔ یہ ربوبیت اور احاطہ کے دو گونہ پہلوؤں سے معاد اور روز جزا و سزا کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ ربوبیت سے استدلال زیادہ وضاحت سے آگے والی سورہ میں ہے جو اس کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرمایا ہے: أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ۵ وَخَلَقْنَاکُمْ أَزْوَاجًا ۵ وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–28

26۔ 1 یعنی زمین زندوں کو اپنی پشت پر اور مردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–29

8: یعنی انسان کو ہم نے صرف پیدا ہی نہیں کیا، بلکہ اس کی بناوٹ میں ایسا بہترین توازن رکھا ہے جو ہمارے سوا کوئی قائم نہیں رکھ سکتا۔ انسان کے جسم کے مختلف حصوں پر جتنا غور کیا جائے، یہ حقیقت اتنی ہی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–28

الم نجعل ............................ للمکذبین یعنی زمین کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے دامن میں زندہ اور مردہ سب چیزوں کو لپیٹ کر رکھتی ہے اور اس میں ہم نے بلند وبالا پہاڑ جما دیئے ہیں جو ہبت اونچے اور جمے ہوئے ہیں۔ اور ان کے اوپر ہر وقت بادل چھائے رہتے ہیں اور ان سے میٹھا پانی بہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عظیم قدرت اور ٹھیک ٹھیک اندازوں کا مظہر ہے۔ اور گہری حکمت پر دلالت کرتا ہے ، لہٰذا مکذبین کے لئے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ جھٹلائیں۔ اب ان مشاہد قدرت اور گہرے حکیمانہ قوانین فطرت کے پیش کرنے اور انسانی شعور کو تاثرات اور احساسات سے بھر دینے کے بعد اب روئے سخن حساب و کتاب اور روز جزاء کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 24–26

16 جو یوں کہا کرتے تھے کہ مٹی میں مل کر جب ہماری ہڈیاں تک ریزہ ریزہ ہوجائیں گی، پھر کس طرح زندہ کردیے جائیں گے ؟ اس وقت اپنے لچر پوچ شبہات پر شرمائیں گے۔ اور ندامت سے ہاتھ کاٹیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–27

آیت 26 { اَحْیَآئً وَّاَمْوَاتًا۔ } ”زندوں کو بھی اور ُ مردوں کو بھی !“ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین ایسی بنائی ہے کہ یہ اپنے اوپر موجود ہر زندہ وجود کی تمام ضروریات پوری کر رہی ہے اور ہر قسم کے مردہ کو بھی تحلیل کر کے اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ اس حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں ایسی گنجائش رکھی ہے کہ یہ تاقیامِ قیامت تمام زندوں اور تمام ُ مردوں کے لیے کفایت کرے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 25–26

16 کفاتا کا لغوی مفہوم :۔ کِفَاتًا : کَفَتَ بمعنی کسی چیز کو جمع کرکے اسے اپنے قبضہ میں لے لینا، سنبھال لینا، سمیٹ لینا اور کَفِیْت بمعنی توشہ دان جس میں خوراک اور سامان خوراک سنبھال کر رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی اور موت اور پھر دوبارہ زندگی زمین ہی سے وابستہ ہے۔ انسان زمین یا مٹی سے پیدا کیا گیا اور یہ بےجان چیز ہے۔ پھر انسان نے زمین سے پیدا ہونے والی بےجان اشیاء کھائیں جو اس کی زندگی کی بقاء کا ذریعہ بنیں۔ پھر انہی بےجان غذاؤں سے اس کا نطفہ بنا جس میں زندگی کے آثار تھے۔ پھر اسی نطفہ سے انسان کو بنایا گیا پھر مرنے کے بعد انسان مٹی میں چلا جاتا ہے۔ اور مرنے والے خواہ لاکھوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–28

9۔ (جو ہمارے سارے سلسلہ ربوبیت کا انکار کررہے ہیں) (آیت) ” کفاتا احیآء وامواتا “۔ زمین کا زندوں کی سمیٹنے والی ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ کہ انسان زندگی بھر اسی پر چلتا پھرتا، اٹھتا بیٹھتا رہتا بستا ہے اور مردوں کی سمیٹنے والی یوں کہ موت کے بعد بھی اسی میں دفن ہوتا ہے۔ اور جو مردے نہیں بھی دفن ہوتے ان کے بھی اجزاء ارضی آگ سے جلنے یا پانی میں ڈوبنے کے بعد، بہرحال کسی نہ کسی واسطہ سے اسی زمین ہی میں جذب ہوتے ہیں۔ (آیت) ” رواسی شمخت “۔ پہاڑوں اور پہاڑوں کے بھی منافع ومصالح انسانی زندگی کیلئے ظاہر ہیں۔ (آیت) ” واسقینکم مآء فراتا “۔ ان ساری نعمتوں کے استحضار سے مقصود و مدعا یہی کہ تم اپنی توجہ اپنے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–40

الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

احیاء وامواتا . مفعول محذوف ہے یعنی زندہ اور بےجان انسانوں کو۔ یہ اس صورت میں ہوگا کہ کفات کو صفت کا صیغہ قرار دیا جائے ورنہ فعل محذوف ہوگا یعنی زمین جمع رکھتی اور سمیٹتی ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنی سطح پر جو اپنے گھروں میں اور مکانوں میں ہوتے ہیں اور کچھ مردوں کو اپنے اندر۔ فراء نے کہا : مفعول (الناس) چونکہ معلوم تھا اس لیے حذف کردیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ احیاءً اور امواتًا مفعول ہو۔ ان دونوں کی تنوین ان کی عظمت شان پر دلالت کر رہی ہے (اور اگر تنوین تبعیض ہو تو نکرہ لانے کی یہ وجہ ہوگی کہ) زندہ ‘ مردہ انسان ‘ دوسرے زندہ مردہ حیوانوں میں سے بعض ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ احیاءً و امواتًا ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–26

(24۔ 26) ایمان و قیامت کے منکروں کو قیامت کے دن سخت ترین عذاب ہوگا، بندوں پر جو اللہ تعالیٰ نے احسانات کیے ان کا تذکرہ کرتا ہے کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا کہ زندہ اس کے اوپر اور مردہ اس کے اندر ہیں یا یہ کہ زندوں اور مردوں کے لیے اس کو برتن نہیں بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–28

(1) الم نجعل الارض کفاتاً…:”کفاتا“ ”کفت یکفت“ (ض) سمیٹنا، جمع کرنا) سے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی سمیٹنے والی۔ ”رواسی“ ”راسیۃ“ کی جمع ہے اور ”راس یرسو“ (ن) زمین میں گڑا ہوا ہونا مراد پہاڑ ہیں۔”شمخت“ بلند۔ ”قراتاً“ بہت ہی میٹھا۔ زمین زندوں کو سمیٹتی ہے، وہ اسی پر زندگی گزارتے ہیں وہ ان کی غلاظتیں سنبھالتی ہے اور مردوں کو ب ھی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اگر زمین مرنے والے انسانوں اور دوسرے جان داروں کو نہ سمیٹی تو تعفن سے زندگی دشوار ہوجاتی۔ اس آیت سے مردوں کو سنبھالنے کے لئے دفن کی دلیل ملتی ہے، جو قومیں اپنے مردوں کو جلاتی ہیں ان کی راکھ اور ہڈیاں بھی زمین ہی کے سپرد ہوتی ہیں۔ (2) وجعلنا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 25–26

الم نجعل الارض۔۔۔ تا۔۔۔ للمکذبین اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1۔ الم نجعل الارض کفاتا۔ کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو جمع کرنے والی زندوں کو روئے زمین پر اور مردوں کو اس کے بطن میں، یہ اس امر پر دال ہے کہ میت کو چھپانا، اسے دفن کرنا، اس کے بالوں کو دفن کرنا اور وہ تمام چیزیں جن کو وہ اپنے جسم سے الگ کرتا ہے دفن کرنا اور اس میں چھپانا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، اپنے ناخن کاٹو اور کٹے ہوئے ناخن زمین میں دفن کردو۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ میں گزرچکی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، کفت الشئی اکفتہ، یعنی میں نے اسے جمع کیا کفت کا معنی جمع کرنا اور ملانا ہے، سیبویہ نے یہ شعر پڑھا ہے۔ کرام حین تنکفت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–26

5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کفاتا سے مراد ہے چھپانا حفاظت کرنا۔ 6۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم نجعل الارض کفاتا (کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہیں بنایا) سے مراد ہے کہ زمین ان کو چھپاتی ہے اس حال میں کہ وہ مرد ہوں اور وہ حفاظت کرتی ہے جب وہ زندہ ہوں۔ 7۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک جوں کو پکڑا اور اس کو مسجد میں دفن کردیا۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت الم نجعل الارض کفاتا۔ احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہیں بنایا زندوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَحْيَاۗءً : زندوں کو (اپنی پیٹھ پر)] [وَّاَمْوَاتًا : اور مردوں کو (اپنے پیٹ میں)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–26

اس کے بعد فرمایا کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنائی ؟ دیکھو اس نے زندوں اور مردوں کو سب کو سمیٹ لیا جب قیامت کا دن ہوگا (جو زندہ ہوں گے وہ بھی مرجائیں گے) پھر یہ سب زندہ ہو کر اٹھیں گے تم بھی اللہ کی مخلوق ہو اس نے تمہیں اپنی زمین میں دوسری مخلوق کی طرح جمع فرما دیا ہے قیامت کے دن زمین کے پیٹ سے نکل کر باہر آجاؤ گے، مزید فرمایا کہ ہم نے اس میں بڑے بڑے پہاڑ بنا دیئے ان پہاڑوں سے تمہارے لیے بہت سے فائدے ہیں جن میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ زمین کی میخیں بنے ہوئے ہیں جو اسے ہلنے نہیں دیتے پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین میں زلزلہ آجائے گا اور پہاڑ بھی دھنے ہوئے اون کی طرح اڑے اڑے پھریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–28

6:۔ ” الم نجعل الارض “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” کفات “ اسم جنس ہے یا اسم آلہ، یعنی جمع کرنے والی اور سمیٹنے والی۔ زندوں کو اپنی پیٹھ پر اور مردوں کو اپنے پیٹ میں جمع کرنے والی۔ الم نجعلہا کفاتا تکفت و تجمع احیاء کثیرۃ علی ظھرہا وامواتا غیر محصورۃ فی بطنہا (روح) ۔ ” وجعلناھا فیہا رواسی شٰمخٰت “ یہ تیسری دلیل عقلی ہے۔ ” واسقیناکم ماء فراتا “ یہ چوتھی دلیل عقلی ہے۔ شامخات، بلند وبالا۔ فرات، میٹھا پانی۔ فراتا عذبا (مدارک) ۔ ان سے پوچھو تو سہی کیا ہم نے زمین نہیں بنائی جو بیشمار مخلوق کو اٹھائے ہوئے ہے اور ایک غیر محدود مخلوق موت کے بعد اس کے پیٹ میں سمائی ہوئی ہے اور پھر اس پر بلند وبالا پہاڑ بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَحْيَاۗءً وَّاَمْوَاتًا۝ 26 ۙ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–28

ترکیب : الیٰ قدر الجارمتعلق یجعلنا بمعنی اثبناہ فقدرنا قرء نافع و عبداللہ بن عامر بالتشدید والباقون بالتخفیف علی الاول من التقدیر (اندازہ کردن) وعلی الثانی من القدرۃ کفاتا قیل ھو جمع کا فت کالصائم و الصیام وقیل مصدر مثل کتاب و حساب و التقدیر ذات کفت ای جمع۔ و معنی الکفت فی اللغۃ الضم والجمع یقال کفت الشیء اے ضممۃ ویقال جراب کفیت ٌ و کفت ٌ اذاکان لایضیع شیئا ممایجعل فیہ وقال صاحب الکشاف ھواسم مایکفت کقولھم الصمام والجماع لمایضم ویجمع احیائً وامواتًا منصوبات اماعلی انھما مفعول کفات ای الم نجعل الارض کفات احیائٍ و امواتٍ فاذانون نصب مابعدہ واماعلی انھما المفعول الثانی لجعلنا ای جعلنا بعض الارض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–28

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَا تًا۔ اَحْیَـآئً وَّاَمْوَا تًا۔ وَّجَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّاَسْقَیْنٰـکُمْ مَّـآئً فُرَا تًا۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 25 تا 28) (کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی۔ اور اس میں بلندوبالا پہاڑ جمائے اور تمہیں خوشگوار پانی پلایا۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) یوم الفصل پر اہتمامِ ربوبیت سے دلیل کفات، کفت سے ہے۔ اس کے معنی ہیں جمع کرنا، اکٹھا کرنا اور ملانا۔ کفات وہ چیز ہے جو بہت سی چیزوں کو اپنے اندر جمع کرے۔ یوم الفصل کے ممکن اور معقول ہونے پر پروردگار نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–28

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت۔ سور ۃ الدّھر کی ابتدائی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ اس کا کائنات میں ذکر تک نہیں تھا۔ اب ارشاد فرمایا ہے کہ کیا لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے انہیں ایک حقیر پانی سے پیدا کیا اور اپنی قدرت سے اسے ایک محفوظ مقام پر ٹھہرایا اور ہم پوری قدرت رکھنے والے ہیں یعنی انسان کی پوری زندگی اور اسے دوبارہ زندہ کرنے پھر اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہیں۔ گویا کہ انسان اپنے رب کے سامنے بےبس ہے نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے جیتا اور مرتا ہے۔ لیکن اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26 : اَحْیَآ ئً وَّاَمْوَاتًا (زندوں اور مردوں کو) ان کی تنوین تفخیم کے لئے ہے کلام اس طرح ہے : تکفت احیاء لا یعدون وامواتا لایحصرون۔ وہ لاتعداد زندوں اور مردوں کو سمیٹتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25 ۔ الم نجعل الارض کفاتا “ برتن اور کفت کا معنی ملانا اور جمع کرنا۔ کہا جاتا ہے ” کفت الشیئ “ جب اس کو ملادے اور جمع کردے اور فراء فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ان کو جمع کرتی ہے، زندہ ہونے کی حالت میں ان کے گھروں ورہائشوں میں اور مرنے کے بعد ان کو اپنے پیٹ میں جمع کرے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–28

16۔ 28۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–26

یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تمہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کرکے تم پر انعام نہیں کیا ؟ اس زمین کو (کفاتا) تمہارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا (احیآء) زندوں کو گھروں میں (وامواتا) اور مردوں کو، قبروں میں۔ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی انکے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجسام درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–50

میت کی کوئی چیز فروخت نہیں ہوسکتی، دفن کردینی چاہیے قول باری ہے (الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی) شعبی کا قول ہے کہ زمین کا ظاہری حصہ زندوں کے لئے ہے اور باطنی حصہ مردوں کے لئے کفات ضمام یعنی سمیٹنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمین دونوں حالتوں میں انہیں سمیٹ کر رکھتی ہے۔ اسرائیل نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ درج بالا آیت کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا : ” زمین میت کو سمیٹ لیتی ہے اور اس کا کوئی حصہ باہر نظر نہیں آتا۔ زمین زندوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ہوتا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

18 ۔ بچھونہ ارضی میں دعوت غور و فکر : سو انسانوں کے قلوب و ضمائر پر دستک کے طور پر سوالیہ انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے اس زمین کو نہیں بنایا سمیٹنے والی زندوں اور مردوں کو ؟۔ استفہام تقریری ہے۔ یعنی ہاں ہم نے اس کو ایسا ہی بنایا ہے کہ یہ مردوں کو سمیٹتی ہے اپنے پیٹ میں اور زندوں کو اپنی پیٹھ پر اور ان کے لئے ہم نے زندگی کی تمام ضروریات کا سامان بھی اس میں رکھ دیا، تو جس قادر مطلق نے یہ سب کچھ کردیا، اس کے لئے اس انسان ضعیف البنیان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور عقل و فکر اور عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ ان سب کو دوبارہ زندہ کر کے اپنی ان نعمتوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–40

سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:26) احیاء وامواتا۔ احیاء حی کی جمع زندہ لوگ۔ امواتا میت کی جمع مردہ لوگ۔ دونوں خلق (محذوف) سے حال ہیں۔ بدیں وجہ منصوب ہیں۔ (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر مظہری)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–28

انسان کی پیدائش اور نیک وبد کا ہونا۔ (ف 1) قوم نوح سے لے کر فرعون تک ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اسی واسطے فرمایا ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کفار مکہ نبی ﷺ کے زمانہ کے منکر لوگوں کو آخرین فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخرزمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–27

[10] زمین کا زندوں کی سمیٹنے والی ہونا تو ظاہر ہے کہ انسان زندگی بھر اس پر رہتا بستا ہے، اور مردوں کو سمیٹنے والی یوں کہ موت کے بعد انسان اس میں دفن ہوتا ہے اور جو مردے نہیں بھی دفن ہوتے ان کے بھی اجزا آگ سے جلنے یا پانی میں ڈوبنے کے بعد بہرحال کسی نہ کسی واسطے اسی زمین ہی میں جذب ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–29

ف 3: انسان کی توجہ کو اس کی پیدائش کی طرف منعلف کیا ہے ۔ کہ دیکھوہم نے کیونکر حقیرودلیل قطرہ آب سے تمہیں پیدا کیا ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ ایک طرف تو یہ معلوم ہو کہ حضرت انسان قدروقیمت کے لحاظ سے کسی معزاز اور بخیر کا استحقاق رکھتا ہے ۔ اور دوسری جانب یہ معلوم ہو کہ خدا کتناحلیم اور کس درجہ حکیم ودانا ہے ۔ کہ پانی کے ایک قطرہ سے انسان جیسے اشرف المخلوق وجود کو پیدا کیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–30

ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–26

(ہلاکی ہے اس دن) خدا کی توحید کو (جھٹلانے والوں کی) اور قدرت خداوندی کو باور نہ کرنے والوں کی۔ (کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی۔ زندوں اور مردوں کو) ؟ یعنی زندوں کو اپنے اوپر اور مردوں کو اپنے اندر رکھتی ہے ۔۔ چنانچہ۔۔ زندہ انسان زمین پر گھروں میں رہتے ہیں ، اور مردہ انسان زمین میں بنائی ہوئی قبروں میں رہتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے زمین کا ذکر فرمایا ، کیونکہ ہمارے باہر کی چیزوں میں جو چیز ہم سے سب سے زیادہ قریب ہے ، وہ زمین ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–31

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْ‌ضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا (Did We not make the earth a container that collects the living and the dead?....25, 26) The word kit is derived from kaft. It means 'to gather things together'. Thus kit is a thing that embodies many things within itself. Earth is created by Allah in a fashion that humans when alive, remain on its back, and when dead, in its belly.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

15 This is yet another argument for the possibility and reasonableness of the Hereafter. It is this very earth which since millions and millions of years has been sustaining and providing for countless different kinds of creatures. Every kind of vegetation and every kind of animal and man are living on it, To meet the requirements of aII immeasureable treasures of provisions of different kinds are corning out of its belly. Then it is on this very earth that countless members of all kinds of creatures die every day, but there exists a wonderful arrangement in that the dead bodies of all…

Read the full tafseer →