Explained with ayahs 25–28
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے
خطیئاتھم کی دوسری قرأت خطایاھم بھی ہے فرماتا اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول ﷺ حد سے گذر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور کوئی نہ کھڑا ہوا جو انہیں ان عذابوں سے بچا سکتا، جیسے فرمان ہے آیت (قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ 43) 11۔ ھود :43) یعنی آج کے دن عذاب اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا صرف وہی نجات یافتہ ہوگا جس پر اللہ رحم کرے، نوح نبی ؑ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
سورة نُوْح 19
یعنی غرق ہونے پر ان کا قصہ تمام نہیں ہوگیا، بلکہ مرنے کے بعد فوراً ہی ان کی روحیں آگ کے عذاب میں مبتلا کردی گئیں۔ یہ بعینہ وہی معاملہ ہے جو فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ کیا گیا، جیسا کہ سورة مومن، آیات 45۔ 46 میں بیان کیا گیا ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، المومن، حاشیہ 63)۔ یہ آیت بھی ان آیات میں سے ہے جس سے برزخ کا عذاب ثابت ہوتا ہے۔
سورة نُوْح 20
یعنی اپنے جن معبودوں کو وہ اپنی حامی و مددگار سمجھتے تھے ان میں سے کوئی بھی انہیں بچانے کے لیے نہ آیا۔ یہ گویا تنبیہ تھی اہل مکہ کے لیے کہ تم بھی اگر خدا کے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو تمہارے یہ معبود، جن پر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(آیت) مِمَّا خَطِيْۗـــٰٔــتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا، یعنی یہ لوگ اپنی خطاؤں کفر و شرک کی وجہ سے پانی میں غرق کئے گئے تو یہ آگ میں داخل ہوگئے۔ یہ متضاد عذاب کہ ڈوبے پانی میں اور نکلے آگ میں، حق تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں جہنم کی آگ تو مراد نہیں کیونکہ اس میں داخلہ تو قیامت کے حساب کتاب کے بعد ہوگا یہ برزخی آگ ہے جس میں داخل ہونے کی قرآن کریم نے خبر دی ہے۔
عذاب قبر قرآن سے ثابت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عالم برزخ یعنی قبر میں رہنے کے زمانے میں بھی مردوں پر عذاب ہوگا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جب قبر میں بدعمل کو عذاب ہوگا تو نیک عمل والوں کو ثواب اور نعمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
دعا کی تکمیل:
تضمین کے بعد یہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا پھر شروع ہو گئی چنانچہ ’قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ‘ کے الفاظ نے اس کو تضمین سے ممتاز کر دیا۔ اگر تضمین بیچ میں نہ آ گئی ہوتی تو ان الفاظ کے اعادے کی ضرورت نہ ہوتی۔ التباس سے بچنے کے لیے ان کا اعادہ ضروری ہوا۔
فرمایا کہ اے رب! اب تو زمین پر کافروں میں سے ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑ۔ عربی میں اگر کہیں کہ ’مَا فِی الدَّار دَیّار‘ تو اس کے معنی ہوں گے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ اس عمومیت کے ساتھ بددعا کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ رسول پوری قوم کو اپنے جھاج میں پھٹک لیتا ہے اور وہ اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے جس کے بعد سنت الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
26۔ 1 یہ بددعا اس وقت کی جب حضرت نوح ؑ ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہوگئے اور اللہ نے بھی اطلاع کردی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 36ښ) 11۔ ہود :36) مطلب ہے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
6: یہ سب ان بتوں کے نام ہیں جن کو حضرت نوح ؑ کی قوم پوجا کرتی تھی۔
Read the full tafseer →وقال نوح ........................ الاتبارا
حضرت نوح (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر یہ الہام آگیا تھا کہ اس ناپاک زمین کو غسل دینا مقصود ہے اور ظالموں اور سرکشوں نے اس کو شروفساد سے بھر دیا ہے۔ یہ شر اس قدر غالب ہوگیا ہے اور اس قدر جم گیا ہے کہ اس نے دعوت دین کو جامد کرکے رکھ دیا ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے لوگ اب ناقابل اصلاح ہوگئے ہیں اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی وقت اہل زمین ناقابل اصلاح ہوجائیں تو ان پر عام تباہی آتی ہے اور اس طرح اللہ زمین کی تطہیر فرما دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تک حضرت نوح (علیہ السلام) پہنچ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ، ان لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
9 یعنی ایک کافر کو زندہ نہ چھوڑیے۔ ان میں کوئی اس لائق نہیں کہ باقی رکھا جائے جو کوئی رہے گا میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ اس کے نطفہ سے بھی بےحیا ڈھیٹ منکر حق اور ناشکرے پیدا ہوں اور جب تک ان میں سے کوئی موجود رہے گا خود تو راہ راست پر کیا آتا دوسرے ایمانداروں کو بھی گمراہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت 27{ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا۔ } ”اگر تو نے ان کو چھوڑ دیاتو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسلوں میں بھی اب فاجر اور کافر لوگوں کے سوا اور کوئی پیدا نہیں ہوگا۔“
ان لوگوں کی فطرتیں مسخ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے ان کی آئندہ نسلوں سے بھی کسی خیر کی توقع نہیں ہے۔ اس لیے ان کا نیست و نابود ہوجانا ہی بہتر ہے۔ انسانی تاریخ میں اللہ کے کسی بندے نے شاید ہی ایسی سخت دعا مانگی ہو۔ لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک جس طرح صبر و استقامت کے ساتھ اپنی قوم کی زیادتیوں کو برداشت کیا ‘ اس پس منظر میں آپ علیہ السلام کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
16 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا قوم کے رویہ سے تنگ آکر غصہ کی حالت میں اور بےصبری کی بنا پر کی ہوگی۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے آپ نے یہ دعا بےصبری کی بنا پر نہیں بلکہ ساری عمر یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے بعد تجربہ کی بنا پر اور نہایت مایوسی کے عالم میں کی تھی۔ اور آپ کی دعا اللہ کی مشیئت کے عین مطابق تھی۔ اگر آپ ایسی دعا نہ بھی کرتے تو بھی ان پر عذاب کا مقرر وقت آچکا تھا اور اس کی دلیل سورة ہود کی آیت 36 ہے جو اس طرح ہے : اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے سوا اب اور کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے لہذا اب ان کی کرتوتوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
15۔ کہ ان سب پر تیری حجت پوری ہوچکی ہے۔ اور یہ سب کے سب میرے مکذب ہیں (آیت) ” علی الارض “۔ مراد ارض عراق ہے۔ زمین پر انسانی آبادی اس وقت کل اسی علاقہ میں تھی، اس لئے جس نے یہ کہا کہ طوفان نوح سے صرف قوم نوح غرق ہوئی، اس نے بھی ٹھیک کہا اور جس نے کہا کہ اس میں ساری انسانی آبادی (بجز چند نفوس کے) غرق ہوگئی۔ اس نے بھی ٹھیک ہی کہا۔
16۔ (جیسا کہ اب تک کا تجربہ، مشاہد ثابت کررہا ہے) حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنی طویل العمری کی بناء پر خوب تجربہ اپنی قوم ووطن والوں کی سرشت وافتاد مزاج کا ہوچکا تھا ان جیسے صاحب تجربہ کی زبان سے ایسے حکم کا نکلنا کچھ زیادہ عجیب یوں بھی نہیں اور پھر آپ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
قال نوح رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ دعاء اس وقت فرمائی جب حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید اور مایوس ہوگئے، اور اللہ نے بھی بذریعہ وحی اطلاع کردی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں دیار، فیعال کے وزن پر دیوار تھا وائو کو یاء سے بدل کر یاء میں ادغام کردیا، رہنے بسنے والے۔
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →و قال نوح رب لا تذر علی الارض . الارض میں لام عہدی ہے۔ مخصوص زمین یعنی قوم کی زمین۔
مطلب یہ ہے کہ اس قوم کی زمین پر نہ چھوڑ۔
من الکافرین دیارا . دیارًا : رہنے والا۔ یہ نکرہ ہے جو فعل منفی کے بعد آیا ہے ‘ اس لیے مفید عموم ہے یعنی کسی
رہنے والے کو نہ چھوڑ۔ دیار کی اصل دیوار تھی جیسے سید اصل سیود ہے اگر یہ لفظ اصل میں دو وارٌ ہو تو ادغام کے بعد دَوَّار ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(25۔ 26) اپنے ان ہی گناہوں کی وجہ سے وہ دنیا طوفان کے ذریعے غرق کیے گئے اور آخرت میں دوزخ میں داخل کیے گئے اور اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا بھی ان کو میسر نہ ہوا اور جبکہ نوح سے ان کے پروردگار نے کہا کہ آپ کی قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا، تب نوح نے یہ بھی فرمایا پروردگار ان کافروں میں سے کسی کو باقی مت چھوڑ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
وقال نوح رب لاتذر…: یہاں سے نوح ؑ کی دعا کا بقیہ حصہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوح ؑ کو کیسے سے معلوم ہوا کہ اگر یہ لوگ زندہ رہے تو ان کی پشت سے کافر ہی پیدا ہوں گے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات ؓ نے خود نوح ؑ کو بتا ید تھی کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ اب کوئی شخص ایمان قبول نہیں کرے گا۔ (دیکھیے ہود : 36) یہ بات معلوم ہونے کے بعد نوح ؑ نے دعا کی کہ یا اللہ ! زمین پر ان کافروں میں سے ایک ”’ یار“ بھی باقی نہ چھوڑو۔ ”’ یارا“ ’ فیعال“ کے وزن پر ہے، یہ ”’ دار یدور دوراً“ (گھومنا) سے ہو تو معنی ہوگا، ایک پھرنے والا بھی نہ چھوڑ اور اگر ”’ دار“ (گھر) سے مشتق ہو تو معنی ہے، گھر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
اس میں چار مسائل ہیں :
حضرت نوح (علیہ السلام) نے کب بد دعا کی
مسئلہ نمبر 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں اس وقت بد دعا کی جب آپ مایوس ہوگئے کہ وہ لوگ آپ کی اتباع کریں گے۔ قتادہ نے کہا، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کے بعد بد دعا کی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی انہ لن یومن من قومک الا من قدامن (ھود : 36) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کی امت کو غرق کردیا۔ یہ بھی اسی طرح ہے جس طرح نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : اللھم منزل الکتاب سریع الحساب و ھازم الاحزاب اھزمھم و زلزلھم (1) اے اللہ ! اے کتاب کو نازل فرمان والے، اے جلد حساب لینے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
18۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت رب لا تذر علی الارض من الکفرین یا ارا اے میر رب زمین پر کافروں کا کوئی گھر نہ چھوڑ یعنی ایک بھی۔
19۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم ! نوح (علیہ السلام) نے ان پر بددعا نہیں کی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تیری قوم میں سے اب ہرگز کوئی ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا تو اس وقت انہوں نے ان پر بددعا کی۔ پھر آپ نے عام دعا فرمائی آیت رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مومنا وللمومنین والمومنت ولا تزد الظلمین الا تبارا۔ اے میرے رب مجھے…
Read the full tafseer →[وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِ : اور کہا نوح (علیہ السلام) نے اے میرے رب ] [لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ : تو مت چھوڑ زمین پر ] [مِنَ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں میں سے (کسی کو)] [دَيَّارًا : رہتا بستا ہوا ]
(آیت۔ 26) ۔ دَیَّارٌکا لفظ فَعَّالُ کے وزن پر نہیں ہے۔ کیونکہ اس وزن پر لفظ دَوَّارٌ بنے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل فَیْعَالٌ کے وزن پر ہے۔ اس وزن پر اصلی شکل دَیْوَارٌ بنتی ہے۔ پھر واو ، یا میں تبدیل ہو کر سابقہ یا میں مدغم ہوتی ہے تو دَیَّارٌ استعمال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
فائدہ : یہ جو فرمایا : ﴿ مِمَّا خَطِيْٓـٰٔتِهِمْ۠ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا ﴾ (اپنی خطاؤں کی وجہ سے وہ لوگ غرق کردیئے گئے پھر آگ میں داخل کردیئے گئے) اس میں چونکہ اغرقوا اور ادخلوا دونوں ماضی کے صیغے ہیں اس لیے حضرات علماء کرام نے اس آیت سے عذاب قبر کو ثابت کیا ہے عذاب قبر میں کافر مبتلا ہوتے ہیں اور بعض گناہگار اہل ایمان کا بھی ابتلا ہوتا ہے۔
احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات وارد ہوئی ہیں۔ ثبوت عذاب قبر کے جو دلائل ہیں ان میں ایک یہ آیت بھی ہے ظاہر ہے دوزخ کا داخلہ تو قیامت کے دن ہوگا صیغہ ماضی کے ساتھ جو فرمایا ہے کہ وہ لوگ غرق کردیئے جانے کے بعد آگ میں داخل کردیئے گئے۔ اس سے ثابت ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
شکوۂ نوح (علیہ السلام) ببارگاہ خداوندی برنافرمانی وسرکشی قوم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قال نوح رب انھم ......... الی ......... الا تبارا “۔
(ربط) ابتداء سورت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے جذبہ تبلیغ اور دعوت الی اللہ کا ذکر تھا کہ کیسے انہماک اور دل سوزی سے دن رات اپنی قوم کو خدا کی طرف بلاتے رہے ہدایت وسعادت کا پیغام دیتے رہے کوئی حالت اور کوئی مجلس ایسی نہ چھوڑی جس میں ایسی لگن اور ولولہ سے قوم کو راہ حق کی طرف لانے کی کوشش نہ کرتے ہوں اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ان کی قوم کا کردار ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس قدر نصیحت وہمدردی بڑھتی گئی، اسی قدر قوم کی شقاوت و گستاخی بڑھتی چلی گئی حتی کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
14:۔ ” وقال نوح “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے آخر اللہ تعالیٰ سے دعا کی : میرے پروردگار ! ان مشرکین میں سے اس دھرتی پر ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑ۔ ” انک ان تذرھم “ اگر تو ان کو ہلاک نہیں کرے گا اور ان کو زندہ چھوڑ دے گا تو وہ تیرے مومن بندوں کو بھی مکر و فریب سے گمراہ کردیں گے اور ان کی نسلوں میں بھی مشرکوں اور فاجروں کے سوا کوئی مومن اور موحد نہیں ہوگا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعاء پہلے تھی، قوم کی غرقابی بعد میں ہوئی۔ لیکن نظم قرآن میں دونوں کا ذکر معکوس ہے یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ واوؤ مطلق جمع کے لیے ہوتی ہے اور ترتیب کی مقتضی نہیں۔ اہل بدعت کہتے ہیں اس آیت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کے دوران ان دائوپیچوں کا ذکر تھا جو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت کے خلاف آزمائے۔ نبوت میں شبہات پیدا کئے لوگوں کو تلقین کی کہ اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا۔ خاص طور پر دو ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر سے وابستگی پر آمادہ رکھا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کی بات نہ ماننا بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہنا۔ سابقہ درس میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قوم نوح کے معبود ان باطلہ کی پرستش نبی (علیہ السلام) کے زمانے کے مشرکین بھی کرتے تھے اور انہوں نے بھی انہیں ناموں سے مجسمے بنا رکھے تھے۔ یہ تصور ہندوستان میں بھی برہما ، بش دشنو ، اندر دیوتا اور…
Read the full tafseer →وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا 26
نوح
نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس .
( ن و ح ) نوح
۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ترکیب : مما ما مزیدۃ لتاکیدوا لمعنی من۔ خطیئتھم قرء الجمہور علی جمع السلام ۃ وقری خطایاھم علی جمع التکسیر ‘ دیارا من یسکن الدیار ویدورفی الارض ولاتستعمل الافی النفی العام اصلہ دیوار علی وزن فیعال من الدارا والدورفقلبت الواویا ئً وادغمت احدھمافی الاخری قالہ الزجاج والفراء قال ابن قتیبہ مابھاد یارا ای نازل دارلافعال والا لکان دوارا۔ البیضاوی۔ مؤمنا حال لمن دخل۔ تبارا۔ ہلاکا۔
تفسیر : اس کشمکش میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو سینکڑوں برس گزر گئے اور سوائے چند شخصوں کے کوئی بھی ہدایت پر نہ آیا تب ان حضرت کی بددعا کے سبب عذاب آیا کہ آسمان سے بےانتہا پانی برسا اور زمین نے بھی اپنی سوتیں کھول دیں، تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لاَ تَذَرْعَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۔ اِنَّـکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلاَ یَلِدُوْٓا اِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا۔ (نوح : 26، 27)
(حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی، اے میرے رب ! تو زمین پر ان کافروں میں سے ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑ۔ اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور نابکاروں اور کافروں کو ہی جنم دیں گے۔ )
اتمامِ حجت کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کافروں سے بیزاری
حضرت نوح (علیہ السلام) چونکہ منشائے ایزدی کو پاچکے تھے کہ اب ان لوگوں میں کسی کو بھی ایمان نصیب ہونے والا نہیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان پر اتمامِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو مدت مدید تک دن اور رات سمجھایا مگر قوم نے کھلے لفظوں میں ان کی دعوت ماننے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں اپنے رب کے حضور فریاد کی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن اور رات، جلوت اور خلوت میں اللہ کی طرف بلاتے رہے مگر قوم نے کہا کہ تیرے کہنے پر وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے اور اس قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے ان کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر…
Read the full tafseer →26 : وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا ( اور نوح نے کہا اے میرے پروردگار کافروں میں سے زمین پر ایک باشندہ بھی مت چھوڑ) کوئی ایک نہ چھوڑ جو زمین میں گھومے پھرے۔ دَیَّارا یہ فیْعَال کا وزن ہے۔ الدور سے بنا ہے۔ یہ ایسے اسموں میں سے ہے۔ جو نفی عام کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →25 ۔” مما خطیئاتھم “ یعنی ان کی خطائوں میں سے۔ اور (ما) صلہ ہے اور ابوعمرو نے ” خطایاھم “ پڑھا ہے اور یہ دونوں ” خطیئۃ “ کی جمع ہیں۔ ” اغرقوا “ طوفان کے ساتھ۔ ” فادخلوانار “ اضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ دنیا میں ایک حالت میں ہوا کہ ایک جانب سے غرق کیے گئے اور دوسری جانب سے جلائے گئے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” فادخلوانارا “ یعنی آخرت میں۔ ” فلم یجدوالھم من دون اللہ انصارا “ یعنی کسی ایک کو نہیں پایا جو ان کو اللہ واحد قہار کے عذاب سے بچائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
25۔ 28۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکایت اور بددعا کا آخر نتیجہ یہ ہوا کہ سوا تھوڑے سے آدمیوں کے جو حضرت نوح کے سمجھانے سے راہ راست پر آگئے تھے اور سب قوم کے لوگ طوفان سے ہلاک ہو کر سیدھے جہنم کو چلے گئے یہ طوفان کا قصہ سورة عنکبوت اور سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکا ہے ساڑھے نو سو برس تک حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی سرکشی کا خوب تجربہ ہوچکا تھا اس لئے طوفان کے وقت انہوں نے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ اس سرکش قوم میں کا ایک گھر بھی طوفان کی آفت سے باقی نہ رہے کیونکہ ان میں کا ایک گھر بھی باقی رہے گا تو وہ اور ان کی اولاد لوگوں کو بہکائیں گے پھر اپنی ذات اور اپنے ماں باپ اور جو فرمانبردار…
Read the full tafseer →(وقال نوح رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا) ، نوح نے دعا کی، میرے رب۔ کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ جو روئے زمین پر گھومتا پھرتا رہے۔ اور اس کا سبب بھی ذکر کیا۔
Read the full tafseer →26 ۔ کافروں کے ایک متنفس کو بھی باقی نہ چھوڑنے کی دعا : سو حضرت نوح نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور کے بوجھ سے پاک اور ان کی شر انگیزوں سے محفوظ ہوجائے۔ " دیارا "۔ کا لفظ یا تو۔ " دار یدور " سے ماخوذ ہے یا " دار " کی طرف منسوب ہے اس کی اصل " دیوار " ہے اس میں وہی تعلیل جاری ہوتی ہے جو کہ سید کے لفظ میں ہوتی ہے، (جامع البیان وغیرہ) سو حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اب ان میں سے کسی متنفس کو بھی زندہ نہ چھوڑنا کہ اب اس بدبخت قوم سے کسی خیر کی کوئی توقع نہیں ہوسکتی۔ ان پر حجت تمام ہوگئی ہے۔ اب ان میں سے نہ کسی کو زندہ رہنے کا حق ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے کسی خیر کی توقع کی جاسکتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
اللہ کی نعمتیں
تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
آیات 21 تا 28۔
اسرار معارف۔
لہذا پوری محنت شاقہ کے بعد نوح (علیہ السلام) نے ناامید ہوکردعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میری بات نہیں مانتے اور ایسے کام کرتے ہیں جس میں عذاب کا خطرہ اور جان ومال کا نقصان ہے اور میرے خلاف میرے لائے ہوئے نظام کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں کہ اپنے ، ود ، سواع ، یعوث ، یعوق ، اور نسر بت کو مت چھوڑ کہا گیا ہے کہ یہ پہلے گزرنے والے نیک لوگ تھے جن کے انہوں نے بت بنارکھے تھے لہذا یہ گمراہی میں حد سے گزرچکے تھے اب ان کو اس گمراہی کی ذلت میں دھنسا دے چناچہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کردیے گئے اور آگ میں داخل ہوئے انہیں اللہ کے مقابلے میں کوئی…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی سب کو ہلاک کر دے۔ یہ بد دعا حضرت نوح نے اس وقت فرمائی جب وہ قوم کے ایمان لانے سے بالکل مایوس ہوگئے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ بد دعا اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی فرمائی انہ لن یومن من قومک الا من قدا من یعنی آپ کی قوم کے جو لوگ ایمان لانے والے تھے لے آئے اب کوئی نیا آدمی ایمان نہ لائے گا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(71:26) رب : ای یا ربی۔ لاتذر۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر، نہ چھوڑ، نیز ملاحظہ ہو : 70:42 ۔
علی الارض۔ میں الارض کا لاف لام عہدی ہے مخصوص زمین یعنی وہ زمین جس میں قوم نوح آباد تھی۔ مطلب یہ کہ اس قوم کی زمین پر کسی کافر کو چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔
من الکفرین۔ میں من تبعیضیہ نہیں ہے بیانہ ہے بیان جنس کے لئے ہے جیسے اور جگہ آیا ہے فاجتبوا الرحمن من الاوثان (22:30) تو بتوں کی پلیدی سے بچو۔ یہاں بھی آیت زیر مطالعہ میں من الکفرین سے کافروں کی جنس مراد ہے اور کافروں سے مراد بھی وہ کافر مراد ہیں جن کی طرف حضرت نوح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔
دیارا۔ بسنے والا۔ گھومنے اور چلنے پھرنے والا۔
دور (باب نصر) مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکایت اور بددعا کا آخرنتیجہ یہ ہوا کہ سواتھوڑے سے آدمیوں کے جو حضرت نوح کے سمجھانے سے راہ راست پر آگئے تھے اور سب قوم کے لوگ طوفان سے ہلاک ہوکر سیدھے جہنم کو چلے گئے یہ طوفان کا قصہ سورة عنکبوت اور سورة ہود میں تفصیل سے گذرچکا ہے ۔ حضرت نوح کو ساڑھے نوسو برس تک اپنی قوم کی سرکشی کا خوب تجربہ ہوا اس لیے طوفان کے وقت انہوں نے یہ دعامانگی کہ یا اللہ اس سرکش قوم میں ایک بھی گھر طوفان کی آفت سے باقی نہ رہے کیونکہ ان میں کا ایک گھر بھی باقی رہے گا تو وہ ان کی اولاد لوگوں کو بہکائیں گے پھر اپنی ذات اور اپنے ماں باپ اور جو فرمانبردار عورت حضرت نوح کے گھر میں طوفان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
[6] اس سورت میں نوح (علیہ السلام) کا قصہ محض قصہ گوئی کی خاطر بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ مقصود اس سے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دینا ہے جس میں آپ ﷺ بھی دیکھ لیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لئے صبروانتظار کے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی آپ ﷺ کی قوم بھی دیکھ لے کہ اس نے بھی وہی روش اختیار کر رکھی ہے جو نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کر رکھی تھی اور اگر اس روش سے یہ لوگ باز نہ آئے تو انہیں بھی وہی انجام دیکھنا پڑے گا جو ان لوگوں نے دیکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…
Read the full tafseer →(26) اور نوح نے یہ بھی کہا اے میرے پروردگار آپ ان کافروں میں سے زمین پر کسی بسنے والے کو باقی نہ چھوڑئیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
ف 3۔ تاکہ یہ لوگ مستحق ہلاکت ہوجاویں، پس مقصود دعا کرنا زیادہ ضلال کی نہیں بلکہ استحقاق ہلاکت کی ہے۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) نے عرض کی اے پروردگار ! زمین کے حصہ میں کوئی بھی کافر کا گھر آباد نہ چھوڑ
26 ؎ (الارض) کے لفظ سے لوگوں نے پوری زمین مراد لی ہے حالانکہ اس کے لئے کسی طرح کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ پھر نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے نبی و رسول اپنی اپنی قوم اور بستی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے ، کسی نبی کو اللہ نے تمام جہانوں کے لئے نبی اور رسول بنا کر نہیں بھیجا سوائے محمد رسول اللہ ﷺ کے پھر جب آپ (علیہ السلام) کی قوم پوری دنیا میں آباد ہی نہ تھی بلکہ وہ ایک علاقہ میں بسائی گئی اس لئے (الارض) سے پوری زمین مراد لینا کسی حال میں بھی صحیح اور درست نہیں ہے اور پھر ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَنصَارًا (Because of their sins they were drowned, and then admitted into the Fire. So they found no helpers for them besides Allah…1:25). The 'sins' referred to here are unpardonable sins of 'kufr and shirk'. They were drowned in water and emerged in fire, an opposing punishment which is not impossible for Divine power. Obviously, the ‘Fire’ mentioned in the verse does not refer to the fire of Hell, but refers to the fire in the realm of ‘Barzakh’ (the existence between the worldly life and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
19 That is, "Drowning was not their end, but after death their souls were immediately subjected to the punishment of the Fire." This precisely was the treatment that was meted out to Pharaoh and his people, as has been stated in Surah Al-Mu'min: 45-46. (For explanation, see E.N. 63 of Al-Mu'min) . This verse also is of those verses which prove the punishment of barzakh (intermediary stage between death and Resurrection) .
20 That is, "None of the gods whom they looked upon as their supporters and helpers came to their rescue." This, in fact, was a warning to the people of Makkah, as if to…
Read the full tafseer →