Explained with ayahs 5–20
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
سورة نُوْح 15
یہاں زمین کے مادوں سے انسان کی پیدائش کو نباتات کے اگنے سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح کسی وقت اس کرے پر نباتات موجود نہ تھیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو اگایا، اسی طرح ایک وقت تھا جب روئے زمین پر انسان کا کوئی وجود نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کی پود لگائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(آیت) اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15ۙوَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا، اس آیت میں دلائل توحید وقدرت کے سلسلے میں سات آسمانوں کا طبق برطبق ہونا اور پھر ان میں قمر کا نور ہونا ارشاد ہوا ہے جس میں لفظ فیھن سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ چاند آسمانوں کے جرم کے اندر داخل ہے آج کل کی نئی تحقیقات و مشاہدت اسے اس کے خلاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسانوں سے بہت نیچے فضائے آسمانی میں ہے جس کو آج کل خلاء کہا جاتا ہے اس کی مفصل تحقیق سورة فرقان کی (آیت) جعل فی السمآء بروجا وجعل فیھا سرجا و قمرا منیرا کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے۔ قوم کے شکوہ کے سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
زمین بجائے خود ایک عظیم نشانی ہے:
’وَاللہُ جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا ۵ لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلاً فِجَاجًا‘۔ اب یہ خود زمین کی نشانی کی طرف توجہ دلائی جس سے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت کا بھی اظہار ہوتا ہے اور اس کی بے نہایت رحمت و عنایت کا بھی۔ فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرش کی طرح بچھایا۔ اس کو متوازن اور پابرجا رکھنے کے لیے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دی ہیں اور پہاڑوں کے اندر درے اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ تم پہاڑوں کی دیواروں کے پیچھے محصور ہو کے نہ رہ جاؤ بلکہ دروں سے گزر کر ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جا سکو۔
یہ امر یہاں واضح رہے کہ زمین کے گہوارہ یا فرش بننے کے…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
4: یعنی جس طرح ایک پودا زمین میں مختلف مراحل طے کرکے اگتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر اس زمین میں پیدا فرمایا ہے، نیز جس طرح زمین سے اگنے والا سبزہ فنا ہو کر مٹی میں مل جاتا ہے، اور پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس سبزے کو دوبارہ اسی مٹی سے اگا دیتا ہے، اس طرح تم بھی مر کر مٹی میں مل جاؤگے، پھر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو تہیں دوبارہ زندگی عطا فرما کر زمین سے دوبارہ نکال لے گا۔
Read the full tafseer →آخر میں حضرت نوح (علیہ السلام) لوگوں کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے زمین کے اندر تمہارے لئے کیا کیا سہولیات پیدا کی ہیں۔ اس زمین کو تمہارے لئے مسخر کیا ، سدھایا۔ اس میں تمہارے زندہ رہنے کے لئے تمام سہولیات رکھ دیں۔
واللہ جعل ................ فجاجا (17 : 02) ” اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو “۔
یہ حقیقت جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کے سامنے پیش کی اور ان کے سامنے موجود تھی ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی باتوں سے وہ تو بھاگتے تھے لیکن ان میں جو حقائق تھے ، ان سے ان کے لئے فرار مشکل تھا۔ یہ زمین ان کے سامنے بچھی ہوئی تھی۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1 یعنی اس پر لیٹو، بیٹھو، چلو، پھرو ہر طرف کشادہ راستے نکال دیے ہیں۔ ایک شخص چاہے اور وسائل ہوں تو ساری زمین کے گرد گھوم سکتا ہے۔ راستہ کی کوئی رکاوٹ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 20{ لِّـتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلًا فِجَاجًا۔ } ”تاکہ تم چلو پھرو اس میں کشادہ راستوں پر۔“
اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی عرضداشت اور رودادِ الم پیش کرتے ہوئے آخر کار حضرت نوح علیہ السلام یوں فریادکناں ہوئے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
11 پھر اس زمین میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ تم اس پر مکان بناؤ۔ باغات لگاؤ، چلو پھرو، لیٹو، بیٹھو، ہر طرف کشادہ راہیں ہیں۔ اگر ایک شخص کے پاس وسائل ہوں تو ساری دنیا کے گرد گھوم سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
9۔ نہ شجر پرستی کوئی مغز ومعنی رکھتی ہے، اور نہ دھرتی مائی کوئی دیوی ہیں، زمین اور جو کچھ بھی اس پر ہے یہ سب تو خود ہی انسان اور اس کی ضروریات میں صرف میں لانے کے لئے مخلوق ہوئی ہے۔ (آیت) ” واللہ ... نباتا “۔ یہ اس اعتبار سے فرمایا گیا کہ انسان کی ترکیب میں غالب عنصر اجزائے ارضی ہی کے ہیں۔ (آیت) ” یعیدکم فیھا “۔ یعنی بعد موت انسان کے اجزائے ارضی پھر اسی زمین میں مل ملا جائیں گے۔ (آیت) ” ویخرجکم اخراجا “۔ یعنی حشر کے وقت انسان کامل طور پر اسی زمین سے از نوبرآمد کرلیا جائے۔ (آیت) ” لتسلکوا منھا سبلا فجاجا “۔ یہ سطح زمین پر چلنا پھرنا تو موقوف ہی ہے زمین کے فرش ہونے پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–20
ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…
Read the full tafseer →واللہ جعل لکم الارض بساطا . زمین کو تمہارے لیے بستر بنایا تم اس پر لوٹتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(17۔ 20) اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں آدم سے اور آدم کو مٹی سے اور مٹی کو زمین سے بنایا اور تمہیں پھر قبر میں دفن کرے گا اور پھر قیامت کے دن تمہیں قبروں سے باہر نکال لائے گا اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو فرش کی مانند بنایا تاکہ تم اس کے کشادہ رستوں میں چلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
الم تروا کیف خلق اللہ …: نوح ؑ نے اپنی قوم کو ان کی پیدائش میں توحید اور قیامت کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان چیزوں پر غور و فکر کی دعوت دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے گرد و پیش ان کی ضرورتوں کے لئے پیدا فرمائی ہیں۔ فرمایا، کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان، ان میں روشنی پھیلانے والا چاند اور جلتا ہوا چراغ یعنی سورج کس طرح پیدا فرمایا ؟ زمین کو بچھونے کی طرح نرم کردیا اور تمہاری سہولت کے لئے اس میں گھاٹیاں اور کشدہ رستے بنا دیئے۔ یہ تمام انتظام سا بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بےکار اور بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ جس طرح اس نے تمہیں پہلے زمین سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
بساط کا معنی مبسوط ہے پھیلائی ہو (1) السبل کا معنی راستے ہیں۔ فجاج یہ فج کی جمع ہے۔ اس سے مراد کھلا راستہ ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فج سے مراد ایسا راستہ ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان ہو۔ سورة الانبیاء اور سورة الحج میں بحث گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللہ انبتکم من الارض نباتا اور اللہ ہی نے تمہیں زمین سے ایک خاص طور پر پیدا کیا۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کو ساری سطح زمین سے پیدا کیا گیا۔
Read the full tafseer →[وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ : اور اللہ نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ] [بِسَاطًا : ایک بچھونا ہوتے ہوئے ]
(آیت۔ 19) یہاں بھی ہم بِسَاطًا کو جَعَلَ کا مفعول ثانی ماننے کے بجائے اسے اَلْاَرْضَ کا حال ماننے کو ترجیح دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
9:۔ ” واللہ انبتکم “ نباتا مفعول مطلق ہے من غیر بابہ، جیسا کہ تبتل الیہ تبتیلا میں ہے انسان کو زمین سے پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سب کے بابا حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ یا مطلب یہ ہے کہ جن نطفوں سے تم کو پیدا کیا گیا ہے وہ زمین سے حاصل ہونے والی غذا سے پیدا ہوتے ہیں پھر موت کے بعد تمہیں دوبارہ زمین میں لوٹائے گا اور تم قبروں میں دفن کیے جاؤ گے پھر قیامت کے دن تمہیں زندہ کر کے قبروں میں سے نکالے گا۔ ” واللہ جعل لکم الارض بساطا “ پھر نیچے دیکھو زمین کو اس نے کس طرح نرم اور ہموار بنادیا ہے جس میں تم کھلے راستے اور چوڑی چوڑی سڑکیں بناتے اور ان میں چلتے ہو۔ ان تمام صفات کا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
گذشتہ سے پیوستہ :
یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔
استغفار کی ترغیب :
آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…
Read the full tafseer →وَاللہُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا 19 ۙ
بسط
بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ،
( ب س ط )
بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے بسط لثوب ( اس نے کپڑا پھیلایا ) اسی سے البساط ہے جو ہر پھیلائی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے وَاللَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : الوقار بمعنی التوقیر ترجون بمعنی تعتقدون وانما عبرعن الاعتقاد بالرجاء التابع لاونی الظن مبالغۃ وللہ اللام للتبین بیان للموقرو یمکن ان یکون صلۃ للوقار ‘ وقد خلقکم الجملۃ حال من الضمیر فی لکم اطوارا مختلفین حال من ضمیر فی خلقکم وقیل مفعول ثان لخلق بمعنی جعل قال اللیث الطور التارۃ یعنی حال بعد حال وقال ابن الانباری الطور الحال والھیئۃ وجمعۃ اطوار ‘ طباقا انتصابہ علی المصدریۃ یقال طابقہ طباقا ومطابقۃ اوحال بمعنی ذات طباقٍ فحذف ذات واقیم طباقا مقامہ نباتا منصوب علی انہ مفعول مطلق ولم یقل انباتاً کما یقتضیۃ الظاہر للدقیقۃ اللطیفۃ وھی انہ لوقال ابناتا کان صفۃ للہ تعالیٰ وھم لایعتقدونہ بل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔ وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۔ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ ثُمَّ یُعْیِدُکُمْ فِیْھَا وَیُحْزِجُکُمْ اِخْرَاجاً ۔ وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۔ لِّـتَسْلُـکُوْا مِنْھَا سُبُلاً فِجَاجًا۔ (نوح : 15 تا 20)
(کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔ اور چاند کو ان کے اندر روشنی بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے خاص اہتمام سے اگایا۔ پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان الفاظ میں کروایا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو جو تبلیغ فرمائی اس کا خلاصہ اس سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکزی نقطہ اللہ کی توحید کی دعوت دینا اور لوگوں کو شرک سے منع کرنا تھا۔ توحید کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے ایسے دلائل دیئے کہ جن سے انکار کرنا کسی مشرک اور کافر کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم…
Read the full tafseer →19 : وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا (اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا) بساطًا بچھی ہوئی جیسا کہ فرش ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →18 ۔” ثم یعید کم فیھا “ موت کے بعد۔ ” ویخرجکم “ اس سے بعث کے دن زندہ۔ ” اخراجا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…
Read the full tafseer →(واللہ جعل لکم الارض بساطا) ۔ اور اللہ ہی نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنایا۔ یعنی زمین کو استفادے کی خاطر پھیلا کر تیار کردیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18 بعث بعدالموت کا ذکر مع اس کی دلیل کے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہی تم سب کو لوٹائے گا اس زمین میں اور پھر وہی تم سب کو اس سے نکالے گا اپنے حکم سے اور اس نکالنے کے لئے محض اس کے حکم و ارشاد کی دیر ہوگی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا فانماھی زجرۃ واحدۃ فاذا ھم بالساھرۃ (النازعات :13-14) تاکہ اس طرح تم اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پا سکو اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں، سو اس یوم حساب کو آنا چاہئے اور وہ ضرور اپنے وقت پر آ کر رہے گا کہ اس کے بغیر عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ سو اس ارشاد میں بعث بعد المتو کا ذکر بھی فرمایا گیا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
اللہ کی نعمتیں
تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 6 زمین کے بچھونا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پھیلی ہوئی برابر معلوم ہوتی ہے اور اس پر چلنے اور بیٹھنے میں تکلیف نہیں ہوتی، اگرچہ وہ گول ہے۔
Read the full tafseer →(71:19) بساطا : الارض سے حال ہے (اور اللہ ہی نے زمین کو تمہارے لئے بصورت بستر بنایا) بساطا اسم ہے۔ بچھونا۔ فرش۔ ہر پھیلی ہوئی چیز کو بساش کہتے ہیں ۔ چناچہ وسیع زمین کا نام بھی بساط ہے۔ بسط یبسط (باب نصر) بسط مصدر۔ بمعنی کشادہ کرنا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
[4] یہ ان کے بتوں کے نام ہیں جنہیں وہ پوجتے تھے۔ بت تو ان کے بہت تھے مگر یہ پانچ ان کے نزدیک بڑی عظمت والے تھے۔ یہ بت قوم نوح سے منتقل ہو کر عرب میں پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…
Read the full tafseer →(19) اور اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
ف 6۔ ان نعمتوں کے ذکر سے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں عاجل کی طلب زیادہ ہے۔ چناچہ در منثور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریص تھے اس لئے یہ فرمایا۔
Read the full tafseer →اور اللہ نے تمہارے لئے زمین کو بچھا دیا ہے
19 ؎ پہلے آسمانوں کی طرف توجہ منعطف کرائی گئی اور اس کے بعد زندہ ہونے اور مرنے اور پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا قانون بنایا اور اب اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے انسان پر کئے اور انسان کو کس طرح انسان بنایا اور اس پر کیا کیا ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری خاطر کس طرح اس زمین کو بچھا دیا کہ تم اس میں جو چاہو کرو اور جو کام اس سے لو وہ تم کو دیتی چلی جائے۔ چاہو اس پر محل تیار کرو اور چاہو بنائے ہوئے محلات کو اکھاڑ کر پھینکو اور اس کو ہموار کر کے اس میں باغات لگا دو اور پھر جس جگہ چاہو جو فصل تمہاری مرضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
لَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا
(Did you not see how Allah has created seven heavens one upon another, and has made the moon a light therein? ....71:15-16)
These verses are adduced as proof positive of Divine Oneness and His power. He has created seven heavens, one on top of the other, and placed the moon as a light in them. The prepositional phrase in the verse apparently indicates that the moon is placed in the body of the heavens. The subject is fully discussed in Surah Al-Furqan under the following verse:
تَبَارَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
15 Here, the creation of man out of the substances of the earth has been compared to the growth of vegetation. Just as at one time there was no vegetation on the earth, then Allah caused it to grow, so at one time man did not exist, then Allah created him.
Read the full tafseer →