An-Nisaa 4:99

An-Nisaa · from ayah 99

4:99

فَاُولٰٓىِٕكَ عَسَی اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا ۟فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّعۡفُوَ عَنۡهُمۡ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For those it is expected that Allah will pardon them, and Allah is ever Pardoning and Forgiving.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 14 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:99

بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر کرے، اللہ تعالیٰ درگزر کرنے واﻻ اور معاف فرمانے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ پوری امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرمادے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو قریب ہے اللہ ایسوں کو معاف فرمائے اور اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو یہ وہ لوگ ہیں کہ یقیناً اللہ ان سے درگزر فرمائے گا، اور اللہ بڑا معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو یہ لوگ، اللہ قریب ہے کہ انھیں معاف کر دے اور اللہ ہمیشہ سے بےحد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیونکہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخش دینے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ توقع ہے کہ اللہ ان سے درگز فرمائے۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو ایسوں کے بارے میں تو امید ہے کہ اللہ انہیں معاف کردے، اور اللہ بڑا ہی معاف کرنے والا، انتہائی درگزر فرمانے والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

تو یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ انہیں معاف کردے گا اور اللہ تو ہے ہی بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بعید نہیں کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور اللہ واقعتا بخشنے والا اور معاف فرمانے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور درگزر کرنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

maybe Allah shall pardon these, for Allah is All-Pardoning, All-Forgiving.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for such, it is likely that Allah would pardon them. Allah is Most-Pardoning, Most-Forgiving.

— Muhammad Taqi Usmani

As for such, it is likely that Allah would pardon them. Allah is Most-Pardoning, Most-Forgiving.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

These are they whom Allah is likely to forgive them, and Allah is Ever Oft-Pardoning, Oft-Forgiving.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As for such, it may be that Allah will pardon them. Allah is ever Clement, Forgiving.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For those it is expected that Allah will pardon them, and Allah is ever Pardoning and Forgiving.

— Saheeh International

perhaps God will forgive them; He is All-merciful and All-forgiving.

— Muhammad Sarwar

So these, it may be, Allah will pardon them, and Allah is Pardoning, Forgiving.

— Muhammad Habib Shakir

These: belike Allah will pardon them, and Allah is ever Pardoning, Forgiving.

— Abdul Majid Daryabadi

For these, there is hope that Allah will forgive: For Allah doth blot out (sins) and forgive again and again.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:99

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 97–100

بےمعنی عذر مسترد ہوں گے ہجرت اور نیت محمد بن عبدالرحمن ابو الا سود فرماتے ہیں اہل مدینہ سے جنگ کرنے کے لئے جو لشکر تیار کیا گیا اس میں میرا نام بھی تھا۔ میں حضرت ابن عباس کے مولیٰ حضرت عکرمہ سے ملا اور اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے اس میں شمولیت کرنے سے بہت سختی سے روکا۔ اور کہا سنو حضرت ابن عباس سے میں نے سنا ہے کہ بعض مسلمان لوگ جو حضور ﷺ کے زمانے میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور ان کی تعداد بڑھاتے تھے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے کوئی تیر سے ہلاک کردیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے قتل کردیا جاتا، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یعنی موت کے وقت ان کا اپنی بےطاقتی کا حیلہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 97–99

سورة النِّسَآء 129 مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ابھی تک بلا کسی مجبوری و معذوری کے اپنی کافر قوم ہی کے درمیان مقیم تھے اور نیم مسلمانہ اور نیم کافرانہ زندگی بسر کرنے پر راضی تھے، درآنحالیکہ ایک دارالاسلام مہیا ہوچکا تھا جس کی طرف ہجرت کر کے اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرنا ان کے لیے ممکن ہوگیا تھا۔ یہی ان کا اپنے نفس پر ظلم تھا کیونکہ ان کو پوری اسلامی زندگی کے مقابلہ میں اس نیم کفر و نیم اسلام پر جس چیز نے قانع و مطمئن کر رکھا تھا وہ کوئی واقعی مجبوری نہ تھی، بلکہ محض اپنے نفس کے عیش اور اپنے خاندان، اپنی جائیداد و املاک اور اپنے دنیوی مفاد کی محبت تھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 97–99

خلاصہ تفسیر بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے (باوجود قدرت ہجرت کے پھر ہجرت کے تارک ہو کر) اپنے کو گناہ گار کر رکھا تھا تو (اس وقت) وہ (فرشتے) ان سے کہتے ہیں کہ تم (دین کے) کس (کس) کام میں تھے (یعنی دین کے کیا کیا ضروری کام کیا کرتے تھے) وہ (جواب میں) کہتے ہیں کہ ہم (اپنی بود و باش کی) سر زمین میں محض مغلوب تھے (اسلئے بہت سی ضروریات دین پر عمل نہ کرسکتے تھے، یعنی ان فرائض کے ترک میں معذور تھے) وہ (فرشتے) کہتے ہیں (اگر اس جگہ نہ کرسکتے تھے تو) کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی تم کو ترک وطن کر کے اس (سے کسی دوسرے حصہ) میں چلا جانا چاہئے تھا (اور وہاں جا کر فرائض کو ادا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 97–100

97 تا 100:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ میں لفظ مَلٰىِٕكَةُ اسی طرح جمع آیا ہے جس طرح آل عمران کی آیات 39، 42 اور 45 میں آیا ہے۔ وہاں فنادتہ الملئکۃ کے تحت ہم اس کے جمع لانے کی وجہ بیان کرچکے ہیں۔ بعض مرتبہ جمع سے مقصود صرف جنس کا اظہار ہوتا ہے۔ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حال ہے۔ اپنی جانوں پر ظلم سے مقصود یہاں ہجرت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 98–99

98۔ 1 یہ ان مردوں، عورتوں اور بچوں کو ہجرت سے مستثنیٰ کرنے کا حکم ہے جو اس کے وسائل سے محروم اور راست سے بھی بیخبر تھے۔ بچے اگرچہ شرعی حکام کے مکلف نہیں ہوتے لیکن یہاں ان کا ذکر ہجرت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے کہا گیا ہے بچے تک بھی ہجرت کریں یا پھر یہاں بچوں سے مراد قریب البلوغت بچے ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 97–100

62: اپنی جان پر ظلم کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کرکے انسان اپنی جان ہی کو نقصان پہنچاتا ہے، آیت نمبر : 97 میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قدرت کے باوجود مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی، جب مسلمانوں کے لئے ہجرت کا حکم آگیا تھا تو مکہ میں رہنے والے ہر مسلمان پر شرعاً فرض تھا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے ؛ بلکہ اس کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا تھا، اور اگر کوئی شخص قدرت کے باجود ہجرت نہ کرتا تو اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا، اس آیت میں ایسے ہی بعض لوگوں کا ذکر ہے کہ جب فرشتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 97–99

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔ یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 97–99

3 بعضے مسلمان ایسے بھی ہیں کہ دل سے تو سچے مسلمان ہیں مگر کافروں کی حکومت میں ہیں اور ان سے مغلوب ہیں اور کافروں کے خوف سے اسلامی باتوں کو کھل کر نہیں کرسکتے نہ حکم جہاد کی تعمیل کرسکتے ہیں۔ سو ان پر فرض ہے کہ وہاں سے ہجرت کریں۔ اس رکوع میں اسی کا ذکر ہے آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں یعنی کافروں کے ساتھ مل رہے ہیں اور ہجرت نہیں کرتے تو فرشتے ان سے مرنے کے وقت پوچھتے ہیں کہ تم کس دین پر تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمان تھے مگر بوجہ ضعف و کمزوری کے دین کی باتیں نہ کرسکتے تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ کی زمین تو بہت وسیع تھی تم یہ تو کرسکتے تھے کہ وہاں سے ہجرت کر جاتے۔ سو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 99 فَاُولٰٓءِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ ط وَکَان اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا ایسے بےبس اور لاچار مردوں ‘ بچوں اور عورتوں کے لیے اسی سورة آیت 75 میں حکم ہوا تھا کہ ان کے لیے قتال فی سبیل اللہ کرو اور انہیں جا کر چھڑاؤ۔ لیکن جو لوگ ہجرت کے اس واضح حکم کے بعد بھی بغیر عذر کے بیٹھے رہے ہیں ان کے بارے میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ وہ منافق ہیں ‘ ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ‘ جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں۔ بلکہ قتال کے معاملے میں وہ بالکل کفار کے برابر ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 98–99

135 ہجرت نہ کرسکنے والے :۔ جو مسلمان فی الواقع کمزور تھے اور ہجرت کرنے کی کوئی راہ انہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ مستضعفین یا کمزور سے مراد وہ لوگ ہیں جو فی الحقیقت معذور ہوں جیسے بیمار، بچے، بوڑھے، عورتیں اور کافروں کی قید میں پڑے ہوئے مسلمان۔ اور وسائل محدود ہونے سے یہ مراد ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سواری کا بندوبست ہو اور نہ وہ پیدل سفر کی مشقت اٹھانے کے قابل ہوں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا گروہ سے مستثنیٰ قرار دیا، اور ان کے ہجرت نہ کرنے کے قصور کی معافی کا وعدہ فرمایا۔ چناچہ سیدنا ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں اور میری ماں ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے معذور رکھا۔ (بخاری،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

282 ۔ عفو کا تعلق ماضی سے ہے اور غفر کا مستقبل سے یعنی ان کی پچھلی کوتاہیوں کو معاف کردینے والا ہے اور آیندہ ان کے حق میں مغفرت کرنے والا ہے۔ (آیت) ” ان یعفوعنہم “۔ یعنی ان سے یہ فریضہ ہجرت سرے سے ساقط ہی کردیا جائے۔ (آیت) ” عسی اللہ “۔ عسی سے متعلق اوپر ذکر گزر چکا ہے کہ جب اس کے فعل کا تعلق اللہ سے ہوتا ہے تو مراد محض توقع یا امید نہیں رہ جاتی ہے بلکہ تیقن پیدا ہوجاتا ہے۔ وعسی ان کان للاطماع فھو من اللہ واجب (مدارک) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ عدم ہجرت کا گناہ فی الاصل اس قدر سخت ہے کہ ” غفور “ ا لا کر ادھر اشارہ کردیا گیا ہے کہ باوجود عذر موجود ہونے اور اس لئے گناہ نہ ہونے کے مشابہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 98–99

اِلاّ المستضفین (الآیة) ہجرت سے یہ ان مردوں عورتوں اور بچوں کو مستثنی کرنے کا حکم ہے جو ہجرت کے وسائل سے محروم ہوں وسائل خواہ مالی ہوں یا جسمانی چناچہ انتہائی بوڑھا بیمار ایسا کمزور کہ جو نہ پیدل چل سکے اور نہ سواری پر سوار ہوسکے، اور ایسا بال بچوں والا کہ جو نہ انھیں ساتھ لے جاسکتا ہو اور نہ تنہا چھوڑسکتا ہو، ہجرت سے مستثنی ہیں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ میں اور میری والدہ ماجدہ ان ہی لوگوں میں تھے، والدہ معذور تھیں اور میں بچہ۔ بچے اگرچہ شرعی احکام کے مکلّف نہیں ہوتے لیکن یہاں بچوں کا ذکر ہجرت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنہم سو ان کے لئے۔ امید ہے کہ اللہ معاف کر دے۔ ایک سوال : معذور دین کی مجبوری ظاہر ہے وہ مکلف نہیں۔ پھر یقین کی جگہ امید کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا اور جب وہ مکلف ہی نہیں تو پھر معافی کی صراحت کیوں فرمائی۔ جواب : امید اور عفو کا لفظ استعمال کرنے پر اس امر پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ ترک ہجرت کا معاملہ اتنا اہم ہے کہ معذور کو بھی بےخطر نہ ہونا چاہئے ‘ موقع کی تاک میں لگا رہے اور ہجرت سے دل کو وابستہ رکھے۔ وکان اللہ عفوا غفورا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں اور میری ماں ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ نے معذور قرار دیا تھا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 98–99

(98۔ 99) البتہ کمزور بچے، بوڑھے اور عورتیں جو کہ ہجرت کرنے پر قادر نہ ہوں کوئی تدبیر کرسکتے ہوں اور نہ راستہ ہی سے واقف ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ان سے غلطی ہوئی اور اس پر انہوں نے توبہ کی تو اپنے کرم سے اس کو معاف فرما دیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاُولٰۗىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّعْفُوَ عَنْھُمْ ۭ : اللہ تعالیٰ کے لیے ”عسیٰ“ کا لفظ یقین کے لیے ہوتا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص واقعی ہجرت نہیں کرسکتا، وہ کفار کی قید میں ہے، یا اسے راستے کا علم نہیں، یا اس کے پاس زاد راہ نہیں، غرض کوئی بھی صحیح عذر ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے امید کے انداز ہو بات کرنے میں حکمت بھی ہے کہ بندے بےخوف نہ ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 97–99

آیت نمبر : 97 تا 99۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہل مکہ سے تھے، انہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور نبی مکرم ﷺ پر ایمان لانا ظاہر کیا تھا، جب نبی مکرم ﷺ نے ہجرت کی تو وہ اپنی قوم کے ساتھ ٹھہرے رہے اور ان میں سے ایک جماعت فتنہ میں مبتلا کی گئی تو وہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے جب جنگ بدر کا موقع آیا تو ان میں کچھ لوگ کفار کے ساتھ نکلے تو یہ آیت نازل ہوئی، بعض علماء نے فرمایا : انہوں نے جب مسلمانوں کی تعداد کو حقیر سمجھا تو ان کے دین میں شک داخل ہوا پس وہ مرتد ہوگئے اور ردت پر ہی قتل کیے گئے، مسلمانوں کی تعداد کو حقیر سمجھا تو ان کے دین میں شک داخل ہوا پس وہ مرتد ہوگئے اور ردت پر ہی قتل کیے گئے مسلمانوں نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 97–99

(1) بخاری و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکین کے ساتھ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے خلاف مشرکوں کی جماعت میں اضافہ کرتے کوئی تیر پھینکا ہوا ان میں سے کسی کو لگ جاتا تو وہ قتل ہوجاتا یا اس پر تلوار کا وار کیا جاتا تو وہ مارا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ نازل فرمائی۔ (2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک قوم مکہ والوں میں سے مسلمان ہوگئی تھی اور وہ اسلام کو چھپاتے تھے تو ان کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ہیں ] [ عَسَی اللّٰہُ اَنْ : امید ہے کہ اللہ ] [ یَّعْفُوَ : درگزر کرے ] [ عَنْہُمْ : جن سے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَفُوًّا : بےانتہا درگزر کرنے والا ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (فَاُولٰٓءِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ وَکَان اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْراً ) کہ اللہ جل شانہ ان مستضعفین مغلوبین پھنسے ہوئے لوگوں کو معاف فرما دے گا وہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے۔ صاحب روح المعانی صفحہ 127: ج 5 میں لکھتے ہیں کہ اس میں یہ بتایا ہے کہ ہجرت کا چھوڑ دینا بڑے خطرہ کی چیز ہے یہاں تک کہ مجبور حال جس پر ہجرت فرض نہیں اس کا ہجرت چھوڑ دینا بھی اس درجے میں ہے کہ اس کو گناہ شمار کرلیا جائے کیونکہ معافی گناہ سے متعلق ہوتی ہے، ایسے مجبور حال کو بھی چاہیے کہ موقعہ کی تلاش میں رہے اور اس کا دل ہجرت کے خیال میں لگا رہے۔ جیسے ہی موقع ملے روانہ ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 97–99

حکم بست وششم وجوب ہجرت۔ قال تعالیٰ ان الذین تو فھم الملائکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ غفورا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب اور بےعذر جہاد ترک کرنے والوں کا بیان تھا اب اس آیت میں ہجرت کی ترغیب دیتے ہیں اس لیے یہ ہجرت جہاد کا مقدمہ ہے اور بےعذر ہجرت ترک کرنے والوں کا حال بیان فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان پر کیا گزری ہے اس لیے کہ ایمان کے بعد پہلے ہجرت کا حکم ہوا اور پھر ہجرت کے بعد جہاد کا حکم ہوا پس گویا کہ جو لوگ باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے گویا کہ وہ لوگ عمدا تارک جہاد ہیں اس لیے ان آیات میں ہجرت کا بیان ہے کہ ہجرت سعادت دارین کا سبب ہے اور ترک ہجرت محرومی کا سبب ہے اس لیے کافروں میں رہ کر نہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 97–100

73 ساتواں حکم سلطانی۔ (اے مکہ میں محصور مسلمانو ! تمہاری مدد کے لیے مجاہدین کو بھیج تو رہا ہوں لیکن تم خود بھی مکہ سے ہجرت کرکے جانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ ) پہلے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو جہاد میں شریک ہونے سے جی چراتے تھے اب یہاں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے تھے۔ بیان لحال القاعدین عن الھجرۃ اثر بیان القاعدین عن الجھاد (روح ج 5 ص 125) اور ان لوگوں کو ظالم اس لیے فرمایا کہ انہوں نے ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے یہ ان لوگوں کے لیے زجر اور تخویف ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ معظمہ میں محصور تھے فرمایا تمہاری مدد اور نصرت کے لیے تو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 97–100

ہجرت کی فرضیت گزشتہ درس میں مجاہدین اور قاعدین کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا تھا اور مجاہدین کی فضیلت اور اجر عظیم کا ذکر تھا۔ اب جہاد کے ساتھ ساتھ ہجرت کی ضرورت اور اس کی فرضیت کا تذکرہ ہے۔ اور بوقت ضرورت ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا کا بیان ہے جس طرح بعض حالات میں جہاد فرض کفایہ سیفرض عین بن جاتا ہے اسی طرح بعض اوقات ہجرت بھی فرض عین کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے جب کسی مقام میں کفار کو اس قدر غلبہ حاصل ہوجائے کہ مومن اپنے دین کے شعار پر عمل نہ کرسکے ، تو مومن پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے گھر بار ، کاروبار ، وطن ، عزیز و اقارب وغیرہ کو اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جائے جہاں وہ دین کے احکام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاُولٰۗىِٕكَ عَسَى اللہُ اَنْ يَّعْفُوَعَنْھُمْ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا۝ 99 عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین ( ع س ی ) عسیٰ کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں طمع اور جا کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 97–100

ترکیب : ظالمی مضاف انفسہم مضاف الیہ یہ حال ہے ضمیرھم سے جو تو فیہم میں ہے۔ فتہاجروا منصوب ہے جواب بن کر استفہام کا کیونکہ نفی بسبب استفہام کے اثبات ہوگی۔ الا المستضعفین استناء ہے اولئک ماوھم جہنم سے ‘ من الرجال والنساء والولدان مستضعفین کا بیان ہے۔ لا یستطیعون اس سے حال مبینہ ہے خبران قالوا وقیل فاولئک وقیل محذوف وھو ھلکوا۔ تفسیر : مدینہ میں چونکہ لوگ ہجرت کرکے مجتمع ہوگئے تھے جو جہاد قائم ہونے کا باعث ہوا اور جہاد کی رغبت پچھلی آیت میں بیان ہوچکی تھی اور بعض لوگ جو کہ مکہ میں یا اور شہروں میں ایمان تو لے آئے تھے مگر بسبب حبِّ وطن کے ہجرت کرکے اس جماعت میں شریک ہونے سے پہلو تہی کرتے تھے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–99

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ ط قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ ط قَالُوْٓا اَلمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوْا فِیہَا ط فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ ط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا لا اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَایَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا لا فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَعَنْہُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا ” بیشک جن لوگوں کی فرشتے جان قبض کریں گے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوں گے ‘ وہ ان سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–99

فہم القرآن ربط کلام : دارالکفر میں رہنے کی بجائے صاحب ہمت لوگوں کو دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا چاہیے یہ دنیا جب سے معرض وجود میں آئی ہے اسی وقت سے لے کر حق و باطل کے معرکے پیش آتے رہے ہیں۔ حق و باطل کی اس آویزش میں ہمیں بیشمار ہجرتیں دکھائی دیتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عراق سے ہجرت کر کے شام ‘ مصر اور ارض مقدس کی طرف جانا اور پھر حجاز میں تشریف لا کر اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے ذریعے حجاز کو مرکز دعوت مقرر کرنا ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور جناب یوسف (علیہ السلام) کی ہجرت مصر کی طرف، سیدنا لوط (علیہ السلام) کی ہجرت علاقہ سدوم کی جانب حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی پہلی ہجرت مدین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 99 : فَاُولٰٓپکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ (پس ان کے لئے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرے گا) یہاں عسٰی کا لفظ اگرچہ امید و طمع کے لئے آتا ہے۔ مگر شاہی محاورہ میں وجوب کے لئے ہے۔ کیونکہ سخی کا طمع دلانا وعدہ پورا کرنا ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا (اور اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے) اپنے بندوں کی تخلیق سے قبل ہی عفو و غفور ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 99۔ـ: (آیت)” فاولئک عسی اللہ ون یعفوا عنھم “۔ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اللہ سے امید رکھنا واجب ہے کیونکہ یہ بھی ایک خواہش ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے جب کوئی بندہ خواہش کرتا ہے اللہ اس کو عطا کردیتا ہے ۔ (آیت)” وکان اللہ عفوا غفورا “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں اور میری ماں ان میں سے تھی جن کو عذر لاحق تھا یعنی (آیت)” مستضعفین “۔ میں سے تھے آپ ﷺ ان جیسے ” مستضعفین “ کے لیے نماز میں دعا کیا کرتے تھے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کسی قوم کے لیے دعا کرتے تو رکوع کے بعد اس کے لیے دعا کرتے اور کبھی اس طرح کرتے (آیت)” سمع اللہ لمن حمدہ ربنالک الحمد “ عشاء…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 97–99

(97 ۔ 99) ۔ بخاری، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، اور ابن جریر نے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگ ظاہر میں تو جس وقت آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے اس وقت اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے مگر مشرکوں کا ساتھ انہوں نے نہیں چھوڑا تھا۔ مشرکوں کے ڈر سے مکہ سے مدینہ منورہ کو انہوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ اور بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ ہو کر مسلمانوں سے وہ لڑنے کو آئے اور مارے گئے ان کی شان میں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4 کہ ایسے لوگوں کے باب میں ایک طرح کا اختلاف مسلمانوں میں پڑ رہا تھا۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ اگرچہ اس طرح کے لوگ مشرکوں کی فوج میں شمار ہو کر مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 99 اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مرجاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے (فیم کنتم) ” تم کس حال میں تھے “ اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔ (قالواکنا مستضعفین فی الارض) وہ کہیں گے کہ ہم کمزور، مجبور اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 97–99

اپنے اوپر ظلم کرنے والے قول باری ہے (ان الذین توفاھم الملائکۃ ظالمی انفسھم قالوافیم کنتم، جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کررہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے) تاآخر آیت۔ ایک قول کے مطابق مفہوم ہے ، ہم موت کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیں گے ، حسن کا قول ہے ہم انہیں جہنم کی طرف اٹھائیں گے ایک قول اس آیت کا نزول منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں ہوا جو ڈر کی بنا پر مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتا تھا، اور جب اپنی قوم میں پہنچ جاتا تو کفر کا اظہار کرتا، یہ گروہ مدینہ ہجرت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمادیا کہ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 99–100

262 مجبوروں اور معذوروں کیلئے معافی کی امید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کے بارے میں امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرما دے ان کی مجبوری، بےبسی اور لاچاری کی بنا پر۔ ورنہ کافروں کے ملک میں اور کافروں کے درمیان اس طرح دب کر رہنا کہ ایک مسلمان اپنے دین پر عمل نہ کرسکے جائز نہیں۔ اور ایسی صورت میں اس پر فرض ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر جائے۔ اور اس ملک کو چھوڑ دے جہاں وہ اپنے دین کی تعلیمات حقہ پر عمل نہ کرسکتا ہو۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ سو دین و ایمان کی عظمت و اہمیت سب سے بڑھ کر اہم اور سب پر مقدم ہے کہ دین و ایمان ہی سے انسان کی قدر و قیمت ہے اور اسی سے اس کی دنیا بھی ہے اور آخرت بھی۔ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 97–100

ہجرت کا بیان تشریح : ان آیات میں اللہ کے دین کے لیے ہجرت کرنے کو بےحد اچھا کام کہا گیا ہے۔ یہ اس وقت کا حکم ہے جب مدینہ دارالاسلام کے طور پر مسلمانوں کے لیے آزادی سے رہنے کا مقام بن چکا تھا۔ تو اس وقت پوری طرح اعلان کردیا گیا تھا کہ آس پاس اور جہاں کہیں بھی مسلمان کفار کی بستیوں میں رہ رہے ہیں تو وہ فوراً مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور سکون سے اسلامی فرائض ادا کریں۔ مگر کچھ لوگ ہجرت کرسکنے کے باوجود کفار کے ساتھ ہی آدھے مسلم آدھے کافر کی زندگی گزارتے رہے یہ اس لیے کہ ہجرت کرنے سے ان کے مال مویشی، زمین اور گھروں کا نقصان ہوجاتا تو ایسے دنیا پرست آدھے مسلمان اور آدھے کافر اللہ کو ہرگز ناپسند…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 97–100

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 97 تا 100 ۔ ان الذین۔۔۔ غفورا رحیما۔ اور جو لوگ ہجرت نہیں کرپاتے فتح مکہ تک تو مکہ مکرمہ سے دین کی خاطر نکل جانا ہجرت تھا۔ لوگ حبشہ بھی گئے اور مدینہ منورہ بھی اور مدینہ منورہ سے اسلامی ریاست کی بنیاد شروع ہوئی۔ اور یہ دار الہجرۃ قرار پایا پھر فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے فرما دیا اب کوئی ہجرت نہیں مگر یہ ارشاد مکہ مکرمہ کے بارے تھا۔ ورنہ اسلام تو ہمیشہ کے لیے ہے اور ساری دنیا کے لیے ہے۔ جب بھی جہاں بھی کوئی دین پر عمل کرنے سے مانع ہو اس معاشرے کو یا اس شہر کو اس غرض سے چھوڑ دینا کہ کسی اسی جگہ چل کر رہا جائے جہاں دین پر عمل کیا جاسکے ہجرت ہوگی۔ اور بدکار معاشرہ کسی کو زبردستی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 99–100

ف 3 مراغما یہ مرغم کی جمع ہے اور ہجرت کر کے نکلنے اور وار ہجرت پالینے کو مراغما اس لیے فرمایا ہے کہ جو شخص ہجرت کر کے نکلتا ہے گویا وہ تمام قریش کی ناک کو خاگ آلود کردیتا (قرطبی) اس آیت میں اگرچہ ان لوگوں کو مدینہ کی ہجرت کرن کی ترغیب دی گئی ہے جو مکہ اور دسرے مقامات پر دارالکفر میں پڑے زندگی بسر کر رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے لیکن یہ آیت عام ہے اور متعد احادیث میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے۔ّ (فتح القدیر) عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہجرت نہ کرنے کے بارے میں وعید نازل ہوئی تو جندع ؓ بن صمرۃ لیثی جو مکہ میں مستضعفین میں سے تھے بیمار تھے۔ چناچہ انہوں نے حالت مرض میں سفر شروع کردیا حتی کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 98–99

(4:98) المستضعفین۔ جو در حقیقت مجبور و معذور تھے۔ مستضعفین۔ کمزور۔ ناتواں ضعیف لوگ۔ لا یستطیعون حیلۃ۔ کسی حیلہ و چارہ کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ولا یھتدون سبیلا۔ اور نہ (باہر نکلنے کی) کوئی راہ تلاش کرسکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 97–100

آیت نمبر 97-100 لغات القرآن : فیم، تم کہاں تھے، (کس دین میں تھے) ۔ واسعۃ، وسیع۔ تھا جروا، تم ہجرت کروگے۔ حیلۃ، بہانہ۔ مراغم، کشادہ جگہ۔ وقع، طے پا گیا۔ تشریح : ان ملکوں میں جہاں نظام حکومت اور نظام معاشرت کا فرانہ ہے مسلمانوں کا رہنا غلط ہے۔ اگر رہیں گے تو خواہ انفرادی سطح پر وہ نیک اور شریف رہیں ، انہیں اجتماعی مشینری کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کا دل چاہتا ہے اسلام کے راستے پر چلنے کو مگر وہ کفر کے راستہ پر چلنے پر مجبور ہیں۔ یہ اپنے نفس پر ظلم ہے۔ مجبوری ہو تو دوسری بات ہے موت کے وقت فرشتے ان سے سوال و جواب کریں گے قرآن و سنت کے مطابق ایسی صورت میں ہجرت فرض ہے۔ جو مسلمان کفر کی اجتماعی مشین میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 97–100

شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہ اسلام زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی، اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے نکلے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے۔ اور ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتلایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جان پر ظلم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 97–100

[63] یعنی دین کے اعتبار سے تمہارا کیا حال تھا۔ [64] یعنی احکام دین پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہ تھا۔ [65] جاننا چاہئے کہ ہر نقل مکانی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت یہ ہے کہ مسلمان ایسے مقام کو جہاں اس کے لئے اپنے دین پر قائم رہنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہو، چھوڑ کر ایسے مقام کو منتقل ہوجائے جہاں وہ اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرسکتا ہو اور اگر دارالسلام موجود ہو، اس کی طرف ہجرت کی راہ ہموار ہو، کوئی سخت مجبوری نہ ہو تو ایسے مقام سے ہجرت کر کے دارالسلام میں منتقل ہوجانا واجب ہے ورنہ ایسے شخص کا ایمان معتبر نہیں۔ (ملاحظہ ہو سورة عنکبوت حواشی 27-26۔ [66] جب مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–99

غیر مستطیع کون ہیں ؟ (ف 2) ہجرت سے وہ لوگ معذور سمجھے جاسکتے ہیں جو غیر مستطیع ہوں یعنی ہجرت کے لئے کوئی حیلہ وامکان ان کے بس میں نہ ہو اور کاملا انکی باغ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں ہو یا وہ جسمانی طور اس قابل نہ ہوں کہ ہجرت کرسکیں ، مگر جسمانی ضعف واضمحلال کا معیار کیا ہے ، اس کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے کیجئے : حضور ﷺ نے مکہ میں بچے کھچے لوگوں کو پیغام ہجرت بھیجا اور کہا تم مکہ چھوڑ دو ، یہ آیات ہجرت ان تک پہنچیں ، جندب بن حمزہ ؓ جو شیخ فانی تھے شوق ہجرت میں بےتاب ہوگئے ، کہنے لگو ، بچو ، مجھے چارپائی پر لاد کر مدینے لے چلو ، میں غیر مستطیع ہوں ۔ بوڑھے صحابی کا یہ ولولہ ایمان کیا ہمارے نوجوانوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 لہٰذا ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ان سے در گزر فرمائے اور امید ہے کہ ان کو معاف کر دے اور اللہ بہت معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ حال فرمایا ان کا جو کافروں کے ملک میں دل سے مسلمان ہیں اور ظاہر نہیں ہوسکتے ان کے ظلم سے تو اگر اپنی کمائی آپ کرتے ہیں اور سفر کی تدبیر سے واقف ہیں تو ان کا عذر قبول نہیں اور ملک میں جا رہیں۔ زمین اللہ کی کشادہ ہے اور اگر ناچار ہیں پرائے بس میں تو امید ہے معاف ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس ملک میں مسلمان کھلا نہ رہ سکے وہاں سے ہجرت فرض ہے ۔ (موضح القرآن) یہاں جن لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا تھا ظاہر ہے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ اوپر ترک ہجرت پر وعید تھی آگے ہجرت کی ترغیب اور اس پر سعادت دارین کا وعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وہ لوگ ہیں جو معذور متصور ہوسکتے ہیں : 170: ازیں بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو حقیقۃ بےبس اور معذور ہیں فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں معذور صرف وہ مرد ، عورتیں اور بچے قرار پائیں گے جو نہ تو کوئی تدبیر کرسکنے کی قدرت رکھتے ہوں اور نہ ان کے لیے کوئی اور راہ کھل رہی ہو یہ لوگ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرما دے اور بےمقصد عذر پیش کرنے والوں کا عذر قابل قبول نہیں ہوگا بلکہ ان کی آہ و پکار کے باوجود ان کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا اور ان کی ایک نہیں سنی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 96–99

The third verse (96) too recounts the same degrees of precedence that the Mujahidin have over others. Ruling Jihad is not obligatory on the lame, the crippled, the blind, the sick and on others who are excusable under the Islamic law.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 97–99

129. The reference here is to those who stay behind along with the unbelievers, despite no genuine disability. They are satisfied with a life made up of a blend of Islamic and un-Islamic elements, even though they have had the chance to migrate to the Dar al-Islam and thus enjoy a full Islamic life. This is the wrong that they committed against themselves. What kept them satisfied with the mixture of Islamic and un-Islamic elements in their life was not any genuine disability but their love of ease and comfort, their excessive attachment to their kith and kin and to their properties and…

Read the full tafseer →