Explained with ayahs 97–100
بےمعنی عذر مسترد ہوں گے ہجرت اور نیت
محمد بن عبدالرحمن ابو الا سود فرماتے ہیں اہل مدینہ سے جنگ کرنے کے لئے جو لشکر تیار کیا گیا اس میں میرا نام بھی تھا۔ میں حضرت ابن عباس کے مولیٰ حضرت عکرمہ سے ملا اور اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے اس میں شمولیت کرنے سے بہت سختی سے روکا۔ اور کہا سنو حضرت ابن عباس سے میں نے سنا ہے کہ بعض مسلمان لوگ جو حضور ﷺ کے زمانے میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور ان کی تعداد بڑھاتے تھے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے کوئی تیر سے ہلاک کردیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے قتل کردیا جاتا، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یعنی موت کے وقت ان کا اپنی بےطاقتی کا حیلہ اللہ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 131
یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جو شخص اللہ کے دین پر ایمان لایا ہو اس کے لیے نظام کفر کے تحت زندگی بسر کرنا صرف دو ہی صورتوں میں جائز ہوسکتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اسلام کو اس سرزمین میں غالب کرنے اور نظام کفر کو نظام اسلام میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتا رہے جس طرح انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے ابتدائی پیرو کرتے رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ درحقیقت وہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پاتا ہو اور سخت نفرت و بیزاری کے ساتھ وہاں مجبورانہ قیام رکھتا ہو۔ اس دو صورتوں کے سوا ہر صورت میں دارالکفر کا قیام ایک مستقل معصیت ہے اور اس معصیت کے لیے یہ عذر کوئی بہت وزنی عذر نہیں ہے کہ ہم دنیا میں کوئی…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
ہجرت کی تعریف۔ ان چار آیتوں میں ہجرت کے فضائل، برکات اور احکام کا بیان ہے لغت میں ہجرت، ہجران اور ہجر کے معنی ہیں کسی چیز سے بیزار ہو کر اس کو چھوڑ دینا اور محاورات عامہ میں ہجرت کا لفظ ترک وطن کرنے کے لئے بولا جاتا ہے، اصطلاح شرع میں دارالکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میں چلے جانے کو ہجرت کہتے ہیں (روح المعانی)
اور ملا علی قاری نے شرح مشکوة میں فرمایا کہ کسی وطن کو دینی وجوہ کی بناء پر چھوڑ دینا بھی ہجرت میں داخل ہے (مرقاة صفحہ 93 جلد 1)
سور حشر کی آیت الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم جو مہاجرین صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی ملک کے کافر مسلمانوں کو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
97 تا 100:۔
اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔
تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ میں لفظ مَلٰىِٕكَةُ اسی طرح جمع آیا ہے جس طرح آل عمران کی آیات 39، 42 اور 45 میں آیا ہے۔ وہاں فنادتہ الملئکۃ کے تحت ہم اس کے جمع لانے کی وجہ بیان کرچکے ہیں۔ بعض مرتبہ جمع سے مقصود صرف جنس کا اظہار ہوتا ہے۔ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حال ہے۔ اپنی جانوں پر ظلم سے مقصود یہاں ہجرت کی…
Read the full tafseer →10۔ 1 اس میں ہجرت کی ترغیب اور مشرکین سے دوری اختیار کرنے کی تلقین ہے مُرَاغَمَا کے معنی جگہ، جائے قیام یا جائے پناہ اور سَعَۃَ سے رزق یا جگہوں اور ملکوں کی کشادگی و فراخی ہے۔
10۔ 2 اس میں نیت کے مطابق اجر وثواب ملنے کی یقین دہانی ہے چاہے موت کی وجہ سے وہ اس عمل کے مکمل کرنے سے قاصر رہا ہو۔ جیسا کہ گزشتہ آیتوں میں سے ایک سو افراد کے قاتل کا واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ جو توبہ کے لئے نیکوں کی ایک بستی میں جا رہا تھا کہ راستے میں موت آگئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے نیکوں کی بستی کو نسبت دوسری بستی کے قریب تر کردیا جس کی وجہ سے اسے ملائکہ رحمت اپنے ساتھ لے گئے، اسی طرح جو شخص ہجرت کی نیت سے گھر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
62: اپنی جان پر ظلم کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کرکے انسان اپنی جان ہی کو نقصان پہنچاتا ہے، آیت نمبر : 97 میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قدرت کے باوجود مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی، جب مسلمانوں کے لئے ہجرت کا حکم آگیا تھا تو مکہ میں رہنے والے ہر مسلمان پر شرعاً فرض تھا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے ؛ بلکہ اس کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا تھا، اور اگر کوئی شخص قدرت کے باجود ہجرت نہ کرتا تو اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا، اس آیت میں ایسے ہی بعض لوگوں کا ذکر ہے کہ جب فرشتے…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 100۔
اس آیت میں قرآن کریم حیات نفس انسانی کے اندر پیدا ہونے والے متنوع وسوسوں کا مداوا کرتا ہے ۔ اس وقت کے موجود حالات میں ہجرت کرنے میں مشکلات نظر آتی تھیں اور ایسے ہی وسوسے ہر وقت لوگوں کے سامنے آتے رہتے ہیں جب بھی کوئی شخص اللہ کی خاطر نکلتا مصائب کا شکار ہوجاتا ۔
قرآن کریم ایسے نفوس کی تربیت ہی واضح طور پر کرتا ہے ۔ ان کو صاف صاف بتایا جاتا ہے اور کوئی بات چھپائی نہیں جاتی ۔ یہ نہیں کیا جاتا کہ اگر کوئی اقدام کرے تو اس سے پیش آنے والے خطرات کو چھپایا جائے بلکہ سب کچھ بتا دیا جاتا ہے ‘ جن میں موت اور جان تک قربان کرنے کے خطرات شامل ہیں ‘ لیکن قرآن کریم بعض دوسرے حقائق کے ذریعے…
Read the full tafseer →4 اس آیت میں ہجرت کی ترغیب ہے اور مہاجرین کو تسلی دی جاتی ہے یعنی جو شخص اللہ کے واسطے ہجرت کرے گا اور اپنا وطن چھوڑے گا تو اس کو رہنے کے لئے بہت جگہ ملے گی اور اس کی روزی اور معیشت میں فراخی ہوگی تو ہجرت کرنے میں اس سے مت ڈرو کہ کہاں رہیں گے اور کیا کھائیں گے اور یہ بھی خطرہ نہ کرو کہ شاید راستہ میں موت آجائے تو ادھر کے ہوں نہ ادھر کے کیونکہ اس صورت میں بھی ہجرت کا پورا ثواب ملے گا اور موت تو اپنے وقت ہی پر آنی ہے وقت مقرر سے پہلے نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →آیت 100 وَمَنْ یُّہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً ط
جیسے سورة العنکبوت میں فرمایا : یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ‘ میری زمین بہت کشادہ ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو !“۔ اگر یہاں اپنے وطن میں اللہ کی بندگی نہیں کرسکتے ہو تو کہیں اور چلے جاؤ۔
وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْم بَیْتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ط
یعنی جس کسی نے بھی ہجرت کی ‘ فی سبیل اللہ ‘ دولت کے لیے یا حصول دنیا کے لیے نہیں ‘…
Read the full tafseer →136 ہجرت کے مقاصد اور ضرورت :۔ ہجرت اس لیے فرض کی گئی تھی کہ ایک تو مسلمان کفار کے تشدد سے آزاد ہو کر اپنے اسلامی شعائر آزادی کے ساتھ بجا لاسکیں۔ اور دوسرے اس لیے کہ مدینہ کی طرف ہجرت کر کے مسلمانوں کی اجتماعی قوت کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا اور پورے خطہ عرب میں اسلام کا بول بالا ہوگیا تو پھر ہجرت کی ضرورت نہ رہی۔ جیسا کہ کئی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اب تاقیامت ہجرت فرض نہیں۔ بلکہ جب بھی دوبارہ ایسا موقع پیدا ہوجائے کہ کسی علاقہ میں مسلمانوں کو اپنے شعائر اسلام کو بجا لانا بھی مشکل ہو رہا ہو تو مسلمانوں کو کوئی ایسا خطہ تلاش کرنا چاہیے جہاں انہیں…
Read the full tafseer →283 ۔ (اقامت دین اور اظہار کلمہ حق کے لئے) یعنی کوئی ہجرت کرکے دیکھے تو۔ اللہ کی سرزمین تنگ نہیں۔ اس زمین پر اسے متعدد جگہیں مل جائیں گی جہاں وہ آزادی سے اپنے دین کا اظہار کرسکے گا۔ بعض اہل لطائف نے کہا کہ مراغم اور سعۃ دو الگ الگ لفظ لانے میں اشارہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اظہار دین کی جگہیں مل جائیں گی اور آخرت میں فراخ اور وسیع بہشتیں ملیں گی،
284 ۔ (قبل اس کے کہ وہ اپنی منزل مقصود یا ہجرت گاہ تک پہنچ سکے اور اس لیے گویا بہ ظاہر ناکام رہے) فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ ہر ایسی مجبوری جو انسان کو عاجز وبے بس کردے، موت ہی کے حکم میں داخل ہے۔ (آیت) ” مھاجرا الی اللہ ورسولہ “۔ یعنی ایسے کی طرف چلے…
Read the full tafseer →وَمَنْ یُھاجر فی سبیل اللہ (الآیة) اس میں ہجرت کی ترغیب اور مشرکین سے مفارقت اختیار کرنے کی تلقین ہے اور اخلاص نیت کے مطابق اجر وثواب ملنے کی یقین دہانی ہے۔
شان نزول : ومن یُھَاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارضِ مُراغماً ، (الآیة) سعید بن جبیر وغیرہ سے طبری نے روایت کیا ہے کہ مذکورہ آیت ایک ضمرہ نامی شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ ہجرت کے بعد مکہ میں مقیم تھا، جب اس نے اللہ کا کلام '' اَلم تکن ارض اللہ واسعة فتھا جروا فیھا '' سنا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا حالانکہ وہ مریض تھا، مجھے مدینہ لے چلو چناچہ اس کے اہل خانہ اس کو چارپائی پر ڈال کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے جب مقام تنعیم میں پہنچے تو ان…
Read the full tafseer →ومن یہاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مرغما کثیرا اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا اس کو زمین پر بہت سے منتقل ہونے کے مقام مل جائیں گے۔ یا جانے کی بہت جگہ مل جائے گی۔
علی ؓ بن ابی طلحہ کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ مراغمًا کا معنی ہے منتقل ہونے کی جگہ جہاں منتقل ہو کر جاسکے ‘ یہ لفظ رغام سے مشتق ہے اور رغام کا معنی ہے مٹی۔
بعض علماء نے کہا مراغما یعنی ایسا راستہ مل جائے گا کہ وہ اپنی قوم کی ناک خاک آلود کر دے مطلب یہ ہے کہ ان کی مرضی کے خلاف ترک وطن کر کے چلا جائے۔ اس مطلب پر بھی یہ رغام سے مشتق ہوگا اور رغام کا معنی خاک ہوگا۔ مجاہد نے کہا مراغماً یعنی ناگوار امور سے ہٹنے کا…
Read the full tafseer →(100) اطاعت خداوندی میں ہجرت کرنے پر مدینہ منورہ کی زمین میں اظہار دین اور معیشت کے لیے بہت گنجائش ملے گی، یہ آیت کریمہ اکثم بن صیفی کے بارے میں نازل ہوئی، جندع بن ضمرہ ؓ بہت بوڑھے تھے، یہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے لیے روانہ ہوئے راستہ میں مقام تنعیم پر انتقال فرماگئے، ان کو ثواب مہاجرین کے برابر ملا اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
جو مکہ مکرمہ سے اطاعت خداوندی میں مدینہ منورہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کرتا ہے اور راستے میں موت آجاتی ہے، انھیں ہجرت کا ثواب ہوگیا، ان سے زمانہ شرک میں جو گناہ سرزد ہوئے اور زمانہ اسلام میں جن امور کی تکمیل نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →مُرٰغَمًا : یہ ام ظرف ہے، یعنی مَوْضِعَ رَغْمِ الْاَعْدَاء دشمنوں کی ناک خاک آلود ہونے کی جگہ، جس سے دشمن ذلیل ہوں۔ ”مراغم“ کے معنی جگہ، جائے قیام اور جائے پناہ بھی آتے ہیں۔ ہجرت کر کے نکلنے کے بعد حاصل ہونے والی جائے قیام کو ”مراغمًا“ اس لیے فرمایا کہ وہ تمام دشمنوں کی ناک کو خاک آلود کردیتی ہے۔ (قرطبی) اس آیت میں اگرچہ ان لوگوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جو مکہ اور دوسرے مقامات پر دارالکفر میں زندگی بسر کر رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے، لیکن یہ آیت عام ہے اور متعدد احادیث میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے اور وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کو ذلیل و خوار کرے گا اور اس کی طرف…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 100۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد “۔ یہ شرط اور جواب شرط ہے۔ (آیت) ” فی الارض مرغما “۔ المراغم کی تاویل میں اختلاف ہے، مجاہد نے کہا : المراغم سے مراد بچنے کی جگہ ہے (1) (تفسیر مجاہد، جلد 1، صفحہ 57، دارالکتب العلمیہ)
حضرت ابن عباس ؓ ، ضحاک ؓ اور ربیع ؓ وغیرہم نے کہا : اس سے مراد گھومنے کی جگہ اور راستہ ہے۔ (2) (تفسیر الماوردی جلد 1، صفحہ 522، درالکتب العلمیہ)
ابن زید نے کہا : المراغم سے مراد ہجرت گاہ ہے۔ (3) (تفسیر الماوردی جلد 1، صفحہ 522، درالکتب العلمیہ)
یہ ابوعبیدہ ؓ کا قول ہے، نحاس نے کہا : یہ تمام اقوال ہم معنی ہیں، المراغم ہجرت…
Read the full tafseer →مہاجر کے لئے کشادگی رزق کا وعدہ
(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے ” مرغما کثیرا وسعۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” مرغما “ سے مراد ہے کہ ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف منتقل ہوجانا اور ” سعۃ “ سے مراد ہے رزق۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” مرغما “ سے مراد ہے اس چیز سے بچنے کی جگہ جس کو وہ ناپسند کرتا ہے۔
(3) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے ” مرغما “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ھذیل کی لغت میں ” مرغما “ کا معنی ہے کشادگی انہوں نے کہا کہ عرب کے لوگ…
Read the full tafseer →[ وَمَنْ یُّہَاجِرْ : اور جو ہجرت کرے گا ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ یَجِدْ : تو وہ پائے گا ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا : جانے کی کثیر جگہیں ] [ وَّ : اور ] [ سَعَۃً : کشادگی ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّخْرُجْ : نکلتا ہے ] [ مِنْم بَیْتِہٖ : اپنے گھر سے ] [ مُہَاجِرًا : ہجرت کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ اِلَی اللّٰہِ : اللہ کی طرف ] [ وَرَسُوْلِہٖ : اور اس کے رسول کی طرف ] [ ثُمَّ : پھر ] [ یُدْرِکْہُ : آ لیتی ہے اس کو ] [ الْمَوْتُ : موت ] [ فَقَدْ وَقَعَ : تو واقع ہوچکا ہے ] [ اَجْرُہٗ : اس کا اجر ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَکَانَ : اور ہے ] […
Read the full tafseer →فی سبیل اللہ ہجرت کرنے والوں کے لیے وعدے
لباب النقول صفحہ 79 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب نے ہجرت کی نیت سے نکلنے کا ارادہ کیا اپنے گھر والوں سے کہا کہ مجھے سواری پر سوار کر دو اور مشرکین کی سر زمین کے سے نکال دو میں رسول اللہ ﷺ تک پہنچ جاؤں جب وہ روانہ ہوگئے تو راستے میں موت آگئی آنحضرت سرور عالم ﷺ تک نہیں پہنچ سکے آپ پر وحی کا نزول ہوا اور آیت بالا نازل ہوئی۔
دوسرا واقعہ ابو ضمرہ زرقی کا نقل کیا ہے وہ مکہ معظمہ میں مشرکین میں پھنسے ہوئے تھے جب آیت کریمہ (اِلاَّالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً ) نازل…
Read the full tafseer →ترغیب ہجرت۔
قال تعالی، ومن یھاجر فی سبیل اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ رحیما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیت میں ترک ہجرت پر وعید تھی اب اس آیت میں ہجرت کی ترغیب ہے اور اس پر سعادت دارین کا وعدہ ہے چناچہ فرماتے ہیں اور جو شخص اللہ کی راہ میں دارالکفر اور دارالحرب سے ہجرت کرجائے تو وہ وطن کے مقابلہ میں اللہ کی زمین میں علی رغم الاعداء بہت جگہ اور وسعت رزق پائے گا اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف نکلے اور پھر مقام ہجرت تک پہنچنے سے پہلے ہی راستہ میں اس کو موت آجائے تو تحقیق اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ثابت ہوگیا یعنی گو اس کی ہجرت پوری نہیں ہوئی لیکن چونکہ اس کی نیت ہجرت کرنے کی تھی اس لیے ہجرت کا ثواب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
73 ساتواں حکم سلطانی۔ (اے مکہ میں محصور مسلمانو ! تمہاری مدد کے لیے مجاہدین کو بھیج تو رہا ہوں لیکن تم خود بھی مکہ سے ہجرت کرکے جانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ ) پہلے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو جہاد میں شریک ہونے سے جی چراتے تھے اب یہاں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے تھے۔ بیان لحال القاعدین عن الھجرۃ اثر بیان القاعدین عن الجھاد (روح ج 5 ص 125) اور ان لوگوں کو ظالم اس لیے فرمایا کہ انہوں نے ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے یہ ان لوگوں کے لیے زجر اور تخویف ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ معظمہ میں محصور تھے فرمایا تمہاری مدد اور نصرت کے لیے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ہجرت کی فرضیت
گزشتہ درس میں مجاہدین اور قاعدین کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا تھا اور مجاہدین کی فضیلت اور اجر عظیم کا ذکر تھا۔ اب جہاد کے ساتھ ساتھ ہجرت کی ضرورت اور اس کی فرضیت کا تذکرہ ہے۔ اور بوقت ضرورت ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا کا بیان ہے جس طرح بعض حالات میں جہاد فرض کفایہ سیفرض عین بن جاتا ہے اسی طرح بعض اوقات ہجرت بھی فرض عین کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے جب کسی مقام میں کفار کو اس قدر غلبہ حاصل ہوجائے کہ مومن اپنے دین کے شعار پر عمل نہ کرسکے ، تو مومن پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے گھر بار ، کاروبار ، وطن ، عزیز و اقارب وغیرہ کو اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جائے جہاں وہ دین کے احکام…
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَۃً 0ۭ وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ يُدْرِكْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَي اللہِ 0ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 100ۧ
هجر
والمُهاجرَةُ في الأصل :
مصارمة الغیر ومتارکته، من قوله عزّ وجلّ : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] ، وقوله : لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] ، وقوله :
وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] ، فَلا تَتَّخِذُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ترکیب : ظالمی مضاف انفسہم مضاف الیہ یہ حال ہے ضمیرھم سے جو تو فیہم میں ہے۔ فتہاجروا منصوب ہے جواب بن کر استفہام کا کیونکہ نفی بسبب استفہام کے اثبات ہوگی۔ الا المستضعفین استناء ہے اولئک ماوھم جہنم سے ‘ من الرجال والنساء والولدان مستضعفین کا بیان ہے۔ لا یستطیعون اس سے حال مبینہ ہے خبران قالوا وقیل فاولئک وقیل محذوف وھو ھلکوا۔
تفسیر : مدینہ میں چونکہ لوگ ہجرت کرکے مجتمع ہوگئے تھے جو جہاد قائم ہونے کا باعث ہوا اور جہاد کی رغبت پچھلی آیت میں بیان ہوچکی تھی اور بعض لوگ جو کہ مکہ میں یا اور شہروں میں ایمان تو لے آئے تھے مگر بسبب حبِّ وطن کے ہجرت کرکے اس جماعت میں شریک ہونے سے پہلو تہی کرتے تھے اور…
Read the full tafseer →وَمَنْ یُّہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً ط وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْ م بَیْتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ع
” اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بڑے بڑے ٹھکانے اور وسعت پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے مہاجر بن کے نکلے اور پھر اسے راستے میں ہی موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہوگیا۔ اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “ (النسآء : 100)
ہجرت پر دنیوی اور اخروی برکات کے دعوے
پہلے ترہیب سے کام لیا گیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مہاجر کو تسلی دی گئی ہے کہ گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رزق کو ایک جگہ مقید نہیں رکھا ہوارزق تو انسان کے ساتھ ‘ ساتھ رہتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے راستے میں بےدھڑک نکلو اللہ تمہارا رزق کشادہ کردے گا۔
ہجرت کا حکم دینے اور معذور لوگوں کو معاف کرنے کے اعلان کے بعد مہاجرین کو تسلی دی جارہی ہے۔ میرے نام اور کام پر بےخانماں ہونے اور در بدر کی ٹھوکریں کھانے والو ! دل چھوٹا کرنا نہ حوصلہ ہارنا۔ تم ایسے خالق ومالک کے حکم سے وطن چھوڑ رہے ہو جو پتھر کے کیڑے کو چٹان میں ‘ گوشت خور درندوں کو جنگل میں ‘ پانی کے جانوروں کو سمندر کی لہروں اور تہوں میں ‘ پرندوں کو…
Read the full tafseer →آیت 100 : وَمَنْ یُّہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا (جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے گا۔ اس کو زمین میں منتقل ہونے کے مقام مل جائیں گے)
معنی الرغم :
مراغمًا ہجرت کے مقامات اور راستے جن پر چل کر وہ اپنی قوم کی ناک خاک آلود کرنے والا ہوگا۔ یعنی وہ ان سے ان کی ناک خاک آلود کر کے جدا ہو۔ الرغمذلت و رسوائی کو کہتے ہیں۔ اصل میں ناک کا خاک آلود کرنا ہے۔ رُغاممٹی کو کہتے ہیں۔ محاورہ ہے راغمت الرجل۔ جب وہ اس سے جدا ہو اور وہ اپنی ذلت و رسوائی کی وجہ سے جدائی کو پسند نہ کرتا ہو۔ کَثِیْرًا وَّسَعَۃً (بہت اور رزق میں وسعت) یا دین کو ظاہر کرنے کی وسعت یا سینے کی وسعت کیونکہ…
Read the full tafseer →100۔ (آیت)” ومن یھاجر فی سبیل اللہ ۔۔۔۔۔۔ تا کثیرا وسعۃ “۔ علی بن ابی طلحۃ کی روایت سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ ” مراغما “ کا معنی ہے منتقل ہونے کی جگہ جہاں منتقل ہو کر جاسکے ، مجاہد (رح) نے کہا ” مراغما “ یعنی ناگوار امور سے ہٹنے کا مقام ، ابوعبیدہ (رح) نے کہا ” مراغما “ یعنی ہجرت کا مقام ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” راغمت قومی وحاجرتھم “۔ میں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا مضطرب اور مذہب پر بھی بولا جاتا ہے ، بعض نے کہا کہ اس کو مہاجرۃ اس وجہ سے کہا جاتا ہیے کہ وہ اپنی قوم کی ناک خاک آلود کردے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی مرضی کے خلاف ترک وطن کرکے چلا جائے ، بعض نے کہا کہ گمراہی سے ہدایت…
Read the full tafseer →ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن سعد ابو یعلیٰ الموصلی، اور ابن مندہ نے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا کہ جو کوئی درپردہ مسلمان ہو کر بلا عذر فتح مکہ سے پہلے مدینہ کو ہجرت نہ کرے گا۔ اس کا اسلام قبول نہ ہوگا۔ تو بہت سے لوگوں نے ہجرت کی اور ان میں بعض لوگ مدینہ میں پہنچنے سے پہلے فوت ہوگئے ان کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کی درگاہ میں سب کاموں کا دارومدار نیت پر ہے۔ جو شخص ہجرت کی نیت کر کے گھر سے نکلا۔ وہ اسی وقت ہجرت کے ثواب کا مستحق ٹھہر چکا خواہ مدینہ میں پہنچے یا راستہ میں…
Read the full tafseer →آیت 100
اس آیت کریمہ میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے اور ان مصالح اور فوائد کا بیان ہے جو ہجرت میں پنہاں ہیں۔ اس سچی ہستی نے وعدہ کیا ہے کہ جو کوئی اس کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے وہ زمین میں بہت سے راستے اور کشادگی پائے گا۔ پس یہ راستے دینی مصالح، زمین کی وسعت اور دنیاوی مصالح پر مشتمل ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہجرت، وصال کے بعد فراق، غنا کے بعد فقر، عزت کے بعد ذلت اور فراخی کے بعد تنگدستی میں پڑنے کا نام ہے۔ معاملہ دراصل یہ نہیں کیونکہ بندہ مومن جب تک کفار کے درمیان رہ رہا ہے اس کا دین انتہائی ناقص ہے، اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق صرف اسی کی ذات سے ہے جیسے نماز،…
Read the full tafseer →ہجرت کی فضیلت
قول باری ہے (ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیرا واسعۃ، جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسراوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا۔
ایک قول ہے کہ مراغم سے اللہ نے ہجرت کے لیے کافی گنجائش اور بہت جگہ مراد لی ہے اس لیے کہ رغم کے اصل معنی ذلت اور عاجزی کے ہیں، آپ کہتے ہیں ، فعلت ذالک علی الرغم من فلاں، یعنی میں نے یہ کام فلاں شخس سے عاجز اور مجبور ہونے کی بنا پر کیا ہے دغام مٹی کو کہتے ہیں کیونکہ مٹی ہراس شخص کو میسر ہوتی ہے جوا سے حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہے خواہ وہ کتنا ہی حقیر کیوں نہ ہو، محاورہ ہے ارغم اللہ انقہ، یعنی اللہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
262 مجبوروں اور معذوروں کیلئے معافی کی امید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کے بارے میں امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرما دے ان کی مجبوری، بےبسی اور لاچاری کی بنا پر۔ ورنہ کافروں کے ملک میں اور کافروں کے درمیان اس طرح دب کر رہنا کہ ایک مسلمان اپنے دین پر عمل نہ کرسکے جائز نہیں۔ اور ایسی صورت میں اس پر فرض ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر جائے۔ اور اس ملک کو چھوڑ دے جہاں وہ اپنے دین کی تعلیمات حقہ پر عمل نہ کرسکتا ہو۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ سو دین و ایمان کی عظمت و اہمیت سب سے بڑھ کر اہم اور سب پر مقدم ہے کہ دین و ایمان ہی سے انسان کی قدر و قیمت ہے اور اسی سے اس کی دنیا بھی ہے اور آخرت بھی۔ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ہجرت کا بیان
تشریح : ان آیات میں اللہ کے دین کے لیے ہجرت کرنے کو بےحد اچھا کام کہا گیا ہے۔ یہ اس وقت کا حکم ہے جب مدینہ دارالاسلام کے طور پر مسلمانوں کے لیے آزادی سے رہنے کا مقام بن چکا تھا۔ تو اس وقت پوری طرح اعلان کردیا گیا تھا کہ آس پاس اور جہاں کہیں بھی مسلمان کفار کی بستیوں میں رہ رہے ہیں تو وہ فوراً مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور سکون سے اسلامی فرائض ادا کریں۔ مگر کچھ لوگ ہجرت کرسکنے کے باوجود کفار کے ساتھ ہی آدھے مسلم آدھے کافر کی زندگی گزارتے رہے یہ اس لیے کہ ہجرت کرنے سے ان کے مال مویشی، زمین اور گھروں کا نقصان ہوجاتا تو ایسے دنیا پرست آدھے مسلمان اور آدھے کافر اللہ کو ہرگز ناپسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 97 تا 100 ۔
ان الذین۔۔۔ غفورا رحیما۔
اور جو لوگ ہجرت نہیں کرپاتے فتح مکہ تک تو مکہ مکرمہ سے دین کی خاطر نکل جانا ہجرت تھا۔ لوگ حبشہ بھی گئے اور مدینہ منورہ بھی اور مدینہ منورہ سے اسلامی ریاست کی بنیاد شروع ہوئی۔ اور یہ دار الہجرۃ قرار پایا پھر فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے فرما دیا اب کوئی ہجرت نہیں مگر یہ ارشاد مکہ مکرمہ کے بارے تھا۔ ورنہ اسلام تو ہمیشہ کے لیے ہے اور ساری دنیا کے لیے ہے۔ جب بھی جہاں بھی کوئی دین پر عمل کرنے سے مانع ہو اس معاشرے کو یا اس شہر کو اس غرض سے چھوڑ دینا کہ کسی اسی جگہ چل کر رہا جائے جہاں دین پر عمل کیا جاسکے ہجرت ہوگی۔ اور بدکار معاشرہ کسی کو زبردستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
ف 3 مراغما یہ مرغم کی جمع ہے اور ہجرت کر کے نکلنے اور وار ہجرت پالینے کو مراغما اس لیے فرمایا ہے کہ جو شخص ہجرت کر کے نکلتا ہے گویا وہ تمام قریش کی ناک کو خاگ آلود کردیتا (قرطبی) اس آیت میں اگرچہ ان لوگوں کو مدینہ کی ہجرت کرن کی ترغیب دی گئی ہے جو مکہ اور دسرے مقامات پر دارالکفر میں پڑے زندگی بسر کر رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے لیکن یہ آیت عام ہے اور متعد احادیث میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے۔ّ (فتح القدیر) عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہجرت نہ کرنے کے بارے میں وعید نازل ہوئی تو جندع ؓ بن صمرۃ لیثی جو مکہ میں مستضعفین میں سے تھے بیمار تھے۔ چناچہ انہوں نے حالت مرض میں سفر شروع کردیا حتی کہ…
Read the full tafseer →(4:100) سعۃ۔ کشائش ۔ وسعت۔ فراغی۔ طاقت۔ پہنچ۔ وسع یسع (سمع) کا مصدر ہے جس کے معنی فراخ ہونے کے ہیں۔ اول سے واؤ کو حذف کرکے آخر میں اس کے عوض تاء لائے ہیں۔ جیسے عدۃ (وعدہ) زنۃ (وزن) ۔
سعۃ کا استعمال مقامات کے لئے بھی ہوتا ہے اور حالت کے لئے بھی۔ اور فعل کے لئے بھی چناچہ مقام کے بارے میں ارشاد ہے الم تکن ارض اللہ واسعۃ (آیۃ ہذا) کیا اللہ کی زمین اتنی کشادہ نہ تھی۔ حالت کے بارے میں ہے لینفق ذوسعۃ من سعتہ (65:7) اور صاحب دولت اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے۔ فعل کے بارے میں ہے وسع کرسیۃ السموت والارض (2:255) اور اس کی حکومت آسمانوں اور زمین کو اپنی وسعت میں لئے ہوئے ہے۔ (یہاں کشائش رزق مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
آیت نمبر 97-100
لغات القرآن : فیم، تم کہاں تھے، (کس دین میں تھے) ۔ واسعۃ، وسیع۔ تھا جروا، تم ہجرت کروگے۔ حیلۃ، بہانہ۔ مراغم، کشادہ جگہ۔ وقع، طے پا گیا۔
تشریح : ان ملکوں میں جہاں نظام حکومت اور نظام معاشرت کا فرانہ ہے مسلمانوں کا رہنا غلط ہے۔ اگر رہیں گے تو خواہ انفرادی سطح پر وہ نیک اور شریف رہیں ، انہیں اجتماعی مشینری کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کا دل چاہتا ہے اسلام کے راستے پر چلنے کو مگر وہ کفر کے راستہ پر چلنے پر مجبور ہیں۔ یہ اپنے نفس پر ظلم ہے۔ مجبوری ہو تو دوسری بات ہے موت کے وقت فرشتے ان سے سوال و جواب کریں گے
قرآن و سنت کے مطابق ایسی صورت میں ہجرت فرض ہے۔ جو مسلمان کفر کی اجتماعی مشین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہ اسلام زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی، اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے نکلے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے۔ اور ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتلایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جان پر ظلم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
[63] یعنی دین کے اعتبار سے تمہارا کیا حال تھا۔
[64] یعنی احکام دین پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہ تھا۔
[65] جاننا چاہئے کہ ہر نقل مکانی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت یہ ہے کہ مسلمان ایسے مقام کو جہاں اس کے لئے اپنے دین پر قائم رہنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہو، چھوڑ کر ایسے مقام کو منتقل ہوجائے جہاں وہ اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرسکتا ہو اور اگر دارالسلام موجود ہو، اس کی طرف ہجرت کی راہ ہموار ہو، کوئی سخت مجبوری نہ ہو تو ایسے مقام سے ہجرت کر کے دارالسلام میں منتقل ہوجانا واجب ہے ورنہ ایسے شخص کا ایمان معتبر نہیں۔ (ملاحظہ ہو سورة عنکبوت
حواشی 27-26۔
[66] جب مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے…
Read the full tafseer →(ف 1) مراغم کا اشتقاق رغم سے ہے جس کے معنی خاک آلودہ کرنے کے ہیں ۔ علی رغم الف فلاں کا محاورہ اسی سے ماخوذ ہے ، یعنی مہاجرین جب ظلم و استبداد کے خلاف اجتجاج کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیں گے تو انہیں ایسی جگہیں مل جائیں گی جو دشمنوں کی پائمالی اور تحقیر کا باعث بنیں گی اور جس کی وجہ سے ظالم و سرکش کا تمام کبر و غرور خاک میں مل جائے گا ۔
ہجرت کے معنی جہاں یہ ہیں کہ بطور احتجاج کے ظالم ومستبد حکومت کا ملک چھوڑ دیاجائے ، وہاں یہ بھی ہیں کہ مسلمان نہایت شریف النفس اور آزاد قوم ہے ضمیر و مذہب کی غلامی اس کے نزدیک بدترین گناہ ہے مسلمان اجنبی ممالک میں رہ کر تکلیف وتنگ دستی کے مصائب کو برداشت کرسکتا ہے مگر…
Read the full tafseer →ف 3 اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے گا اور ترک وطن اختیار کرے گا تو وہ زمین میں بسنے کے لئے بہت جگہ اور بسر اوقات اور دین کی حفاظت کے لئے بہت فراخی اور گنجائش پائے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے لئے اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ پھر مقصد تک پہنچنے سے پہلے اتفاقاً اس کو موت نے آلیا تو ایسے شخص کا اجر وثواب وعدہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہوچکا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ فی سبیل اللہ کا مطلب یہ ہے کہ ہجرت کا مقصد صحیح ہو کسی دنیوی غرض کے لئے یا عورت وغیرہ کے لئے ہجرت نہ ہو بلکہ اپنے دین کی حفاظت…
Read the full tafseer →ف 4۔ ہجرت ابتدائے اسلام میں فرض تھی اور فرضیت کے ساتھ وہ ظاہر شعار لازم و موقوف علیہ ثبوت اسلام کی بھی تھی لیکن حالت عذر میں اس کی فرضیت اور شعاریت ساقط ہوجاتی تھی اور اس شعار ہونے کی وجہ سے اس کو بلاعذر ترک کرنا علامت ارتداد کی تھی۔
Read the full tafseer →جو ہجرت کے پیش نظر گھر سے نکل کھڑا ہوا اللہ اس کا حامی و ناصر ہوگا
171 ۔ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کیلئے اپنے گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑنے پر تیار ہوگئے فرمایا ان کی حمایت کیلئے اللہ کی ذات خود موجود ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ اگر ساری دنیا مخالف ہوجائے لیکن اللہ کی ذات جس انسان کی حمایت میں ہو اس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا اور مخالف کو ناکوں چنے چبانے پڑتے ہیں اس لیے ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح فرمایا کہ :
جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کرگئے ہیں ان کو ہم دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بڑا ہے ، کاش جان لیں وہ…
Read the full tafseer →Commentary
The Definition of Hijrah
In the four verses cited above, the merits, blessings and injunctions of Hijrah have been described. Lexically, Hijrah, Hijran and Hajr mean 'being displeased with something and leaving it'. In common parlance, the leaving of one's home country is known as Hijrah. In the terminology of the Shari’ ah, leaving Dar al-Kufr (Homeland of disbelievers) and going to Dar al-Islam (Abode of Islam) is called Hijrah (Ruh al-Ma'ani).
In Sharh al-Mishkah, Mulla ` Ali al-Qari has said: Leaving a home country for religious reasons is also included under Hijrah (Mirqat,…
Read the full tafseer →131. It should be understood clearly that it is only permissible for a person who believes in the true religion enjoined by God to live under the dominance of an un-Islamic system on one of the following conditions. First, that the believer struggles to put an end to the hegemony of the un-Islamic system and to have it replaced by the Islamic system of life, as the Prophets and their early followers had done. Second, that he lacks the means to get out of his homeland and thus stays there, but does so with utmost disinclination and unhappiness.
If neither of these conditions exist, a believer…
Read the full tafseer →