An-Nisaa 4:101

An-Nisaa · from ayah 101

4:101

وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ۖۗ— اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ؕ— اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا ۟وَاِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ‌ۖ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ اِنَّ الۡـكٰفِرِيۡنَ كَانُوۡا لَـكُمۡ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا‏

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when you travel throughout the land, there is no blame upon you for shortening the prayer, [especially] if you fear that those who disbelieve may disrupt [or attack] you. Indeed, the disbelievers are ever to you a clear enemy.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 15 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:101

اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کر دو (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے کیونکہ وہ کھلم کھلا تمہاری دشمنی پر تلے ہوئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب تم سفر میں جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناه نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے، یقیناً کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے، تو تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کرلو۔ یقینا کفر لوگ تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کرو (یعنی چار رکعت فرض کی جگہ دو پڑھو) اگر تمہیں اندیشہ ہے کہ کافر تمہیں تکلیف میں مبتلا کر دیں گے۔ بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کرلو، اگر ڈرو کہ تمہیں وہ لوگ فتنے میں ڈال دیں گے جنھوں نے کفر کیا۔ بیشک کافر لوگ ہمیشہ سے تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تمہارے لیے نماز مختصر کرلینے میں کوئی حرج نہیں (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں تشویش میں ڈال دیں گے۔ کیونکہ کافر تو بلاشبہ تمہارے کھلے دشمن ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب تم اس سفر میں نکلو تو اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے۔ بیشک یہ کفار تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب تم کسی سفر پر نکلو (اے مسلمانو ! تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنی نمازوں میں (سے بعض رباعی نمازوں میں) کمی کردو، اگر تمہیں ڈر (اور خطرہ) ہو اس بات کا کہ کافر لوگ تمہیں ستائیں گے بیشک کافر لوگ تمہارے (پکے اور) کھلے دشمن ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر اس باب میں کوئی مضائقہ نہیں کہ نماز میں کمی کردیا کرو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر لوگ تمہیں ستائیں گے۔ بیشک کافر تو تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہی ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے مسلمانو !) جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم نماز کو کچھ کم کرلیا کرو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں نقصان پہنچائیں گے یقینایہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب تم سفر کیلئے نکلو تو کوئی حرج نہیں اگر نماز میں اختصار کرلو۔ جب کہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے یقینا کافر تمہارے کھلم کھلا دشمن ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

When you go forth journeying in the land, there is no blame on you if you shorten the Prayer, (especially) if you fear that the unbelievers might cause you harm. Surely the unbelievers are your open enemies.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When you travel on the earth, there is no sin on you in shortening your Salah, if you fear that the disbelievers would put you in trouble. Surely, the disbelievers are an open enemy for you.

— Muhammad Taqi Usmani

When you travel on the earth, there is no sin on you in shortening your Salah, if you fear that the disbelievers would put you in trouble. Surely, the disbelievers are an open enemy for you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when you Darabtum in the land, there is no sin on you if you shorten the Salah if you fear that the disbelievers may put you in trial, verily, the disbelievers are ever unto you open enemies.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when ye go forth in the land, it is no sin for you to curtail (your) worship if ye fear that those who disbelieve may attack you. In truth the disbelievers are an open enemy to you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when you travel throughout the land, there is no blame upon you for shortening the prayer, [especially] if you fear that those who disbelieve may disrupt [or attack] you. Indeed, the disbelievers are ever to you a clear enemy.

— Saheeh International

When you are on a journey, it is no sin to shorten your prayers if you are afraid of the mischief of the unbelievers. The unbelievers have always been your sworn enemies

— Muhammad Sarwar

And when you journey in the earth, there is no blame on you if you shorten the prayer, if you fear that those who disbelieve will cause you distress, surely the unbelievers are your open enemy.

— Muhammad Habib Shakir

And when ye are journeying in the earth there shall be no fault in you that ye shorten the prayer if ye fear that those who disbelieve shall molest you, verily the infidels are ever unto you an avowed enemy.

— Abdul Majid Daryabadi

When ye travel through the earth, there is no blame on you if ye shorten your prayers, for fear the Unbelievers May attack you: For the Unbelievers are unto you open enemies.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:101

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

صلوۃ نصر ؟ فرمان الٰہی ہے کہ تم کہیں سفر میں جا رہے ہو۔ یہی الفاظ سفر کے لئے سورة مزمل میں بھی آئے ہیں۔ تو تم پر نماز کی تخفیف کرنے میں کوئی گناہ نہیں، یہ کمی یا تو کمیت میں یعنی بجائے چار رکعت کے دو رکعت ہے جیسے کہ جمہور نے اس آیت سے سمجھا ہے گو پھر ان میں بعض مسائل میں اختلاف ہوا ہے بعض تو کہتے ہیں یہ شرط ہے کہ سفر اطاعت کا ہو مثلاً جہاد کے لئے یا حج و عمرے کے لئے یا طلب و زیارت کے لئے وغیرہ۔ ابن عمر عطاء یحییٰ اور ایک روایت کی رو سے امام مالک کا یہی قول ہے، کیونکہ اس سے آگے فرمان ہے اگر تمہیں کفار کی ایذار سانی کا خوف ہو، بعض کہتے ہیں اس قید کی کوئی ضرورت نہیں کہ سفر قربت الہیہ کا ہو بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 132 زمانہ امن کے سفر میں قصر یہ ہے کہ جن اوقات کی نماز میں چار رکعتیں فرض ہیں ان میں دو رکعتیں پڑھی جائیں۔ اور حالت جنگ میں قصر کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ جنگی حالات جس طرح بھی اجازت دیں، نماز پڑھی جائے۔ جماعت کا موقع ہو تو جماعت سے پڑھو ورنہ فرداً فرداً ہی سہی۔ قبلہ رخ نہ ہو سکتے ہو تو جدھر بھی رخ ہو۔ سواری پر بیٹھے ہوئے اور چلتے ہوئے بھی پڑھ سکتے ہو۔ رکوع و سجدہ ممکن نہ ہو تو اشارہ ہی سے سہی۔ ضرورت پڑے تو نماز ہی کی حالت میں چل بھی سکتے ہو۔ کپڑوں کو خون لگا ہوا ہو تب بھی مضائقہ نہیں۔ ان سب آسانیوں کے باوجود اگر ایسی پرخطر حالت ہو کہ کسی طرح نماز نہ پڑھی جاسکے تو مجبوراً…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور جب تم زمین میں سفر کرو (جس کی مقدار تین منزل ہو) سو تم کو اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا (بلکہ ضروری ہے) کہ تم (ظہر اور عصر اور عشاء کے فرض) نماز (کی رکعات) کو کم کردو (یعنی چار کی جگہ دو پڑھا کرو) اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم کو کافر لوگ پریشان کریں گے (اور اس اندیشہ کی وجہ سے ایک جگہ زیادہ دیر تک ٹھہرنا خلاف مصلحت سمجھا جاوے، کیونکہ) بلاشبہ کافر لوگ تمہارے صریح دشمن ہیں اور جب آپ ان میں تشریف رکھتے ہوں (اور اسی طرح آپ کے بعد اور جو امام ہو) پھر آپ ان کو نماز پڑھانا چاہیں (اور اندیشہ ہو کہ اگر سب نماز میں لگ جائیں گے تو کوئی دشمن موقع پا کر حملہ کر بیٹھے گا) تو (ایسی حالت میں) یوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 101 تا 104: آگے صلوۃ الخوف یعنی جنگ کے خطرات کے دوران نماز باجماعت کی شکل بتائی گئی ہے۔ جہاد کے اس ذکر کے ساتھ نماز، بالخصوص نماز باجماعت، کے اس اہتمام سے کوئی حقیقتیں سامنے آتی ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کریں گے۔ جہاد کی اصل روح نماز ہے : پہلی یہ کہ اس سے نماز کی دین میں عظمت و اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اس سورة کی آیت 77 کے نماز اور جہاد کے باہمی ظاہر ظاہری و باطنی تعلق پر ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ یہاں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نماز وہ چیز ہے کہ جنگ کے خطرات کے اندر بھی یہ نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں جنگ، خونریزی اور لوٹ مار کے لیے نہیں ہے بلکہ جیسا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 اس حالت میں سفر میں نماز قصر کرنے (دوگانہ ادا کرنے) کی اجازت دی جا رہی ہے، ان خفتم۔ " اگر تمہیں ڈر ہو۔ " غالب احوال کے اعتبار سے ہے۔ کیونکہ اس وقت پورا عرب دارالحرب بنا ہوا تھا۔ کسی طرف بھی خطرات سے خالی نہیں تھا۔ یعنی یہ شرط نہیں ہے کہ سفر میں خوف ہو تو قصر کی اجازت ہے جیسے قرآن مجید میں اور بھی مقامات پر اس قسم کی قیدیں بیان کی گئی ہیں جو اتفاقی یعنی غالب احوال کے اعتبار سے (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً) 3:130 (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا)…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–102

63: اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں ظہر، عصر اور عشاء کی نماز آدھی کردی ہے۔ اسے قصر کہا جاتا ہے۔ عام سفروں میں قصر ہر حالت میں واجب ہے، چاہے دشمن کا خوف ہو یا نہ ہو لیکن یہاں ایک خاص قسم کے قصر کا ذکر مقصود ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت ہی ہوسکتا ہے، اس میں یہ چھوٹ بھی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر دو حصوں میں تقسیم ہو کر ایک ہی امام کے پیچھے باری باری ایک ایک رکعت پڑھے، اور دوسری رکعت بعد میں تنہا پوری کرے جس کا طریقہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ خاص قسم کا قصر جسے صلاۃ الخوف کہتے ہیں دشمن کے مقابلے کی حالت ہی میں ہوسکتا ہے، اس لیے یہاں قصر کے ساتھ یہ شرط لگائی گئی ہے کہ اگر تمہیں اس…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 101۔ جو شخص مسافر ہو ‘ اسے اپنے رب کے ساتھ دائمی تعلق کی ضرورت ہے ‘ تاکہ اللہ اس پر سفر کی مشکلات میں آسانیاں پیدا کر دے ۔ اس کی تیاریوں میں اس کی مداد ہو ‘ سامان سفر فراہم ہو اور راستے کی مشکلات اللہ اس کے لئے آسان کر دے ۔ نماز تعلق باللہ کا موثر ترین ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکلات اور تکالیف میں نماز سے امداد حاصل کریں ۔ جب خوف کا مقام ہو اور جب زندگی کی مشقتوں کا سامنا ہو تو حکم ہے کہ نماز سے معاونت حاصل کرو۔ (آیت) ” واستعنوا بالصبر والصلوۃ) (نماز اور صبر کے ذریعے اللہ کی امداد طلب کرو) یہی وجہ ہے کہ سفر و جہاد کے اس موضوع کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جب تم جہاد وغیرہ کے لئے سفر کرو اور کافروں سے جو کہ تمہارے صریح دشمن ہیں اس کا خوف ہو کہ وہ موقع پا کر ستائیں گے تو نماز کو مختصر رکھو یعنی جو نماز حضر میں چار رکعت کی ہو اس کی دو رکعت پڑھو۔ فائدہ : ہمارے یہاں سفر تین منزل کا ہونا ضروری ہے اس سے کم ہوگا تو قصر جائز نہ ہوگا اور کافروں کے ستانے کا ڈر اس وقت موجود تھا جب یہ حکم نازل ہوا۔ جب یہ ڈر جاتا رہا تو اس کے بعد بھی آپ سفر میں دو رکعت ہی پڑھتے رہے اور صحابہ کو بھی اسی کی تاکید فرمائی۔ اب ہمیشہ سفر میں قصر کرنے کا حکم ہے خوف مذکور ہو یا نہ ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے شکریہ کے ساتھ قبول کرنا لازم ہے جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اس رکوع میں پھر شریعت کے کچھ احکام اور عبادات کی کچھ تفاصیل ہیں۔ گویا خطاب کا رخ اب پھر اہل ایمان کی طرف ہے۔ آیت 101 وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِق اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط اِنَّ الْکٰفِرِیْنَ کَانُوْا لَکُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا یہ تو ہے حالت سفر میں قصر صلوٰۃکاحکم۔ لیکن جنگ کی حالت میں قصر یعنی صلوٰۃ الخوف کا طریقہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ حالت جنگ میں جب پورے لشکر کا ایک ساتھ نماز پڑھنا ممکن نہ رہے تو گروہوں کی شکل میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن ایسی صورت میں جب حضور ﷺ خود بھی لشکر میں موجود…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

138 اس آیت میں اگرچہ سفر کے ساتھ دشمن کے اندیشہ کا بھی ذکر ہے تاہم سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ ہر طرح کے سفر میں نماز قصر کی جاسکتی ہے۔ نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سفر فی سبیل اللہ ہی ہو بلکہ ہر سفر میں قصر کی جاسکتی ہے رہی یہ بات کہ کتنے فاصلہ کو سفر کہہ سکتے ہیں اس میں بھی اگرچہ اختلافات موجود ہیں۔ تاہم ہمارے لیے یہ امر کافی اطمینان کا باعث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت ایک رات بھی محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ (بخاری، کتاب العمرۃ، باب حج النسائ) گویا اتنی مسافت جہاں سے ایک انسان پیدل رات کو اپنے گھر واپس نہ پہنچ سکتا ہو، وہ سفر ہے اور سیدنا عمر ؓ نے اسے اپنے دور خلافت میں ایک عورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

286 ۔ یہ آخر کا فقرہ جیسا کہ شارع (علیہ السلام) کا عمل اس پر گواہ ہے اور سارے اہل علم بجز خوارج کے اس پر متفق ہیں، بہ طور شرط کے نہیں کہ صرف اسی حالت میں نماز قصر کی جائے بلکہ اس فقرہ میں نزول آیت کے وقت کی صرف حالت واقعی کا بیان ہے ورنہ قصر صلوۃ کا حکم ہر سفر کے لئے عام ہے۔ والخوف شرط جواز القصر عند الخوارج بظاھر النص وعند الجمھور لیس بشرط (مدارک) والذی علیہ الائمۃ ان القصر المشروع فی الامن ایضا وقد تظاھرت الاخبار علی ذلک (روح) (آیت) ” اذا ضربتم فی الارض “۔ سفر شرعی کی مسافت تین منزل کی قرار پائی ہے اور منزل کا اندازہ فقہا نے 20 میل کا کیا ہے۔ لیکن یہ سب اندازے اور تخمینے ہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–104

آیت نمبر 101 تا 104 ترجمہ : اور جب تم سفر کرو تو نماز میں قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، بایں طور کہ تم چار (رکعت) کی دو کرلو، اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تمہیں تکلیف پیش آئے گی کہ کافر تمہیں ستائیں گے، یہ نزول کے وقت کے واقعہ کا بیان ہے لہٰذا اس کا مفہوم مراد نہیں ہے، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ سفر سے سفر طویل مراد ہے اور وہ چار برید ہیں جو مساوی ہے دو مرحلوں کے، اور اللہ کے قول '' فلَیْسَ عَلَیکُمْ جُنَاح '' سے سمجھا جاتا ہے کہ قصر رخصت ہے نہ کہ واجب اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے، یقینا کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں (یعنی) ان کی عداوت کھلی ہوئی ہے، اور اے محمد جب آپ ان میں موجود ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ جناح کا معنی ہے گناہ۔ کذافی القاموس۔ ان تقصروا من الصلوۃ کہ نماز میں قصر کر دو ۔ یعنی چار رکعت والی نماز میں دو رکعت کم کر دو ۔ تین اور دو رکعت والی نماز میں باتفاق علماء قصر نہیں۔ اس لئے اس جگہ الصلٰوۃ سے مراد چار رکعت والی نماز ہے۔ سیبویہ کے نزدیک من الصلوۃ صفت ہے اور موصوف جو مفعول ہے محذوف ہے یعنی شیئاً کائنًا من الصَّلوۃ۔ اخفش کے نزدیک الصلوٰۃ ہی مفعول ہے۔ منزائد ہے۔ چندمباحث بحث (1) : جس سفر میں قصر کی اجازت ہے اس کی مقدار کیا ہے۔ یہ مفصل بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے جہاں روزہ نہ رکھنے کی اجازت کا بیان کیا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(101) سفر کی حالت میں رباعی (چار رکعتوں والی) نماز میں قصر کردینے میں کوئی گناہ نہ سمجھو اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ نماز کی حالت میں کفار تمہیں قتل کردیں گے کیوں کہ وہ کھلے دشمن ہیں تو اس طرح نماز خوف ادا کرو، جس طرح کہ اللہ نے بتلائی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ بنی نجار نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم سفر میں کس طرح نماز پڑھیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا یعنی جب تم سفر کرو سو تمہیں اس میں کوئی گناہ نہیں ہوگا کہ تم نماز کو کم کردو۔ اس کے بعد وحی بند ہوگئی پھر جب ایک سال کے بعد رسول اکرم ﷺ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ۔۔ : قصر کا معنی کمی ہے، یہ کمی رکعات کی تعداد میں بھی مسنون ہے اور اگر خوف زیادہ ہو تو نماز کی ہیئت و شکل میں بھی کمی ہوسکتی ہے، مثلاً پیدل جاتے جاتے نماز پڑھ لینا۔ ظاہر ہے اس میں سجدہ اور رکوع تو پوری طرح ممکن نہیں، یا سواری پر اشارے سے نماز پڑھ لینا۔ (دیکھیے سورة بقرہ (239)۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن انیس ؓ کو خالد بن سفیان کے قتل کے لیے بھیجا تو عصر کا وقت قریب تھا، انھوں نے جاتے جاتے ہی نماز پڑھ لی۔ [ أبو داوٗد، صلاۃ السفر، باب صلاۃ الطالب : 1249 ] حافظ ابن حجر ؓ نے فتح الباری میں اس کی سند کو حسن اور ابن کثیر نے جید کہا ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر ] عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 101۔ اس آیت میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ضربتم “ تم سفر کرو، یہ پہلے گزر چکا ہے، سفر میں قصر کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے، ایک جماعت سے مروی ہے کہ قصر کرنا فرض ہے۔ یہ عمر بن عبدالعزیز، کوفی علماء، قاضی اسماعیل، حماد بن ابی سلیمان کا مسلک ہے انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث : فرضت الصلاۃ رکعتین رکعتین (3) (صحیح بخاری، تقصیر الصلوۃ جلد 1 صفحہ 148) (نماز دو دو رکعت فرض کی گئی۔ ) سے حجت پکڑی ہے اس میں اس کے مخالف کے لیے حجت نہیں، کیونکہ حضرت عائشہ ؓ خود سفر میں نماز مکمل پڑھتی تھیں ان کا یہ عمل اس حجت کو کمزور کردیتا ہے، فقہاء امصار کا اس پر اجماع…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی شیبہ عبد بن حمید احمد ومسلم ابو داؤد و ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جار ودوابن خزیمہ والطحاوی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابن حبان نے یعلی بن امیہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے پوچھا کہ آیت میں یہ حکم ہے جبکہ لوگ تو امن میں رہیں لفظ آیت ” فلیس علیکم جناھ ان تقصروا من الصلوۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا “ تو عمر نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے تعجب کیا اس چیز سے جس سے تو نے تعجب کیا میں نے رسول صلی اللہ تم پر صدقہ فرمایا تو اس صدقہ کو قبول کرلو۔ شرعی مسافر پر نماز میں قصر واجب ہے (2) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابو حنظلہ ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ ضَرَبْتُمْ : تم سفر کرو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَلَیْسَ : تو نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم پر ] [ جُنَاحٌ : کوئی گناہ ] [ اَنْ : کہ ] [ تَقْصُرُوْا : تم کمی کرو ] [ مِنَ الصَّلٰوۃِ : نماز میں سے ] [ اِنْ : اگر ] [ خِفْتُمْ : تمہیں خوف ہو ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّفْتِنَکُمُ : تمہیں تکلیف دیں گے ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ اِنَّ الْکٰفِرِیْنَ : یقینا کافر ] [ کَانُوْا : ہیں ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ عَدُوًّا مُّبِیْنًا : کھلے دشمن ] ق ص ر قَصَرَ یَقْصُرُ (ن) قُصُوْرًا : (1) ناقص ہونا ‘ سست ہونا (لازم) ۔ (2) ناقص کرنا ‘ نیچا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سفر میں نماز قصر پڑھنے کا بیان جہاد اور ہجرت میں چونکہ سفر در پیش ہوتا ہے اس لیے ہجرت کے ساتھ سفر میں نماز قصر کرنے کا حکم بھی بیان فرما دیا۔ بموجب احکام کتاب و سنت مسلمان ہمیشہ نماز پڑھتے آئے ہیں۔ قصر صرف چار رکعت والی نماز میں ہے یعنی ظہر، عصر اور عشاء کی چار رکعتوں کے بجائے دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ نماز مغرب اور نماز فجر میں قصر نہیں ہے ان کو سفر میں بھی پورا ہی پڑھنا فرض ہے۔ اگر مسافر کسی مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے بھی امام کی اقتداء میں چار رکعت والی نماز پوری پڑھنی فرض ہے۔ مقیم اگر مسافر کے پیچھے اقتداء کرلے تو جب امام دو رکعت پر سلام پھیرے تو مقیم مقتدی کھڑے ہو کر اپنی چار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–104

حکم بست وہفتم متعلق بہ صلوۃ سفر وصلاۃ خوف۔ قال تعالیٰ واذا ضربتم فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و ہجرت کا ذکر تھا اور غالب احوال میں جہاد و ہجرت کے لیے سفر کنا پڑتا ہے اور اب ان آیات میں حالت جہاد اور سفر میں نماز پڑھنے کی تعلیم وطریقہ بیان فرماتے ہیں اور سفر اور خوف کی وجہ سے نماز میں جو رعایتیں اور سہولتیں عطا کی ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔ حکم صلاۃ سفر۔ اور جب تم سفر کرو زمین میں جس کی مقدار تین منزل ہو یا اڑتالیس میل ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں بلکہ ضروری ہے کہ تم رباعی، (چار رکعت والی نماز میں سے دو رکعت) کم کردو اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے بیشک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

74 آٹھواں حکم سلطانی (جہاد کے لیے جارہے ہو تو نماز میں قصر کرو اور عین میدان جنگ میں نماز کا وقت آجائے اور دشمن کے حملے کا ڈر ہو تو نماز اس طرح ادا کرو) ۔ ان آیتوں میں قصر صلوۃ کا حکم دیا گیا اور صلوۃ الخوف کا طریقہ بتایا گیا ہے جب عین میدان جنگ میں نماز کا وقت آجائیگا تو نماز کی فرضیت اس وقت بھی ساقط نہیں ہوگی اور نماز اس حالت خوف میں بھی معاف نہیں ہوگی۔ جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں قصر صلوۃ سے چار کے بجائے دو رکعت پڑھنا مراد ہے لیکن شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ قصر سے اختصار قراءت مراد ہے اور اِنْ خِفْتُمْ کی قید احترازی نہیں بلکہ اتفاقی ہے اور قصر (دو گانے) کا حکم سفر جہاد سے مختص نہیں بلکہ ہر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ آیات میں جہاد اور مجاہدین کی فضیلت کا بیان تھا ، پھر ہجرت کی فرضیت اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وعید کا تذکرہ تھا ، ہجرت اور جہاد کے لیے دور دراز کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ جہاد میں خاص طور پر دشمن کے ساتھ مقابلے یا اس کے تعاقب میں بہت دور تک جانا پڑتا ہے۔ بہرحال ان دونوں امور کے لیے سفر کا اختیار کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اب اس رکوع میں دورانِ سفر نماز کا حکم بیان کیا گیا ہے پہلی دو آیات کا تعلق اسی موضوع سے ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ پہلی آیات کا تعلق مطلقاً سفر کے ساتھ ہے ، خواہ وہ سفر کسی بھی نوعیت کا ہو اور دوسری آیت کا تعلق خوف کی حالت میں نماز پڑھنے سے ہے۔ سفر اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ۝ 0ۤۖ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝ 0ۭ اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيْنًا۝ 101 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ قصر چار رکعت کی جگہ دو پڑھنا۔ یہ قصر مسافر کے لئے درست ہے عام ہے کہ دشمن کا خوف ہو یا نہ ہو اور خوف کی قید احترازی نہیں بلکہ اتفاقی ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ صلے ق اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط اِنَّ الْـکٰفِرِیْنَ کَانُوْا لَـکُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا ” اور جب تم سفر میں نکلو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے بیشک کافر تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔ “ (النسآء : 101) آیت کا ربط جہاد اور ہجرت کا مضمون جاری ہے۔ اسی سیاق کلام میں نماز کا ذکر آگیا ہے۔ بظاہر وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ ہجرت بھی ایک سفر کا نام ہے اور جہاد میں سفر بھی ہوتا ہے اور دشمن کی طرف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–102

فہم القرآن ربط کلام : دین اپنے ماننے والوں کو بےجا تکلیف میں مبتلا نہیں کرتا۔ حالت جنگ میں اور سفر کے دوران آدمی تکلیف میں ہوتا ہے۔ لہٰذا جہاد ‘ اور سفر کی حالت میں نماز جیسی عظیم عبادت میں تخفیف فرما دی گئی ہے۔ ایمان لانے کے بعد مسلمانوں پر سب سے زیادہ زور نماز کی ادائیگی اور اس کے قیام پر دیا گیا ہے۔ قیام صلوٰۃ سے مراد اس کے ارکان کی سنت کے مطابق ادائیگی اور اس کے روحانی اور معاشرتی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر قسم کی رعایت بخشی گئی۔ حالت مجبوری میں نماز کے لیے تیمم ہی کافی سمجھا گیا۔ کسی وجہ سے قبلہ کی طرف منہ کرنا مشکل ہو تو یہ شرط بھی ختم کردی گئی۔ نماز…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 101 : وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ (جب تم زمین میں سفر کرو) الضرب کا معنی یہاں سفر کرنا ہے۔ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ (تو تم پر کچھ گناہ نہیں) اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ (کہ تم نماز میں قصر کرو) یعنی رکعات نماز میں قصر کہ چار کی دو پڑھو۔ اعتراض : آیت کے ظاہر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قصر سفر میں رخصت ہے۔ اور تکمیل عزیمت ہے۔ جیسا کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا۔ کیونکہ لا جناح تخفیف و رخصت کے مواقع میں مستعمل ہوتا ہے۔ لازم ہونے کے معنی میں نہیں آتا۔ نقصان کے خیال پر اطمینان کے لئے گناہ کی نفی کی : جواب : قصر عزیمت ہے۔ نہ کہ رخصت۔ حضرت عمر ؓ کے قول کے مطابق اکمال جائز نہیں۔ صلاۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

101۔ (آیت)” واذا ضربتم فی الارض “۔ جب تم زمین پر سفر کرو (آیت)” فلیس علیکم جناح “۔ نہ اس میں تمہارے لیے کوئی حرج ہے اور نہ ہی کوئی گناہ۔ (آیت)” وان تقصروا من الصلوۃ “۔ یعنی چاررکعتوں کے بدلے میں دو رکعتیں ادا کرنا اور یہ ظہر ، عصر ، عشاء کی نماز ہوسکتا ہے۔ (آیت)” ان خفتم ان یفتنکم “۔ مال لوٹنے سے یا قتل کرنے سے تمہیں خوف ہو (آیت)” الذین کفروا “۔ نماز میں تمہیں یہ خوف ہو اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے (آیت)” علی خوف من فرعون وملئھم ان یفتنھم “۔ یعنی ان کو تم قتل کرو گے (آیت)” ان الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا “۔ ان کی دشمنی ظاہر ہوگئی ، سفر میں نماز کی قصر کرنا بالاجماع جائز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

تفسیر ابن جریر میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ بنی نجار قبیلہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت ہم لوگ سفر کرتے رہتے ہیں سفر میں ہم نماز کیوں کر پڑھا کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا وہ ٹکڑا نازل فرمایا جس میں نماز کے قصر کرنے کا حکم ہے پھر اس کے ایک برس کے بعد آنحضرت ﷺ ایک لڑائی پر تشریف لے گئے۔ دشمنوں کے عین مقابلہ کے وقت آپ نے ظہر کی نماز پڑہی نماز کے وقت تو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی عقل پر پردہ ڈال دیا۔ لیکن جب آپ اور صحابہ کرام جماعت کی نماز پڑھ چکے تو خالد بن ولید نے جو مشرکوں کے لشکر کے سردار تھے بڑے افسوس کے ساتھ اپنے لشکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–102

آیت 101 یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لئے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا ضربتم فی الارض) ” جب چلو تم زمین میں “ یعنی سفر کے دوران آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہ، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے سہولت ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

سفر میں نماز کا حکم ارشاد باری ہے (واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصدوا من الصلوٰۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا۔ اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام میں اختصار کر دو ( خصوصاً ) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے) اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکور قصر کو دو باتوں کی بنا پر مباح کردیا ہے۔ ایک تو سفر یعنی زمین میں قدم مارنے ( سفر کرنے ) کی بنا پر اور دوسری خوف کی بنا پر۔ آیت میں مذکور قصر کے مفہوم کے متعلق سلف میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضر کی نماز چار رکعتیں اور سفر کی نماز دو رکعتیں اور خوف کی نماز ایک رکعت تمہارے نبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

267 سفر شرعی کیلئے خاص رعایتوں کا اعلان وبیان : جو شرعی اعتبار سے سفر کی تعریف میں داخل ہو، جیسا کہ کتب حدیث و فقہ میں مذکور ہے کہ احکام سفر کا ترتب ایسے ہی خاص سفر پر ہوتا ہے جو کہ شرعی سفر کی تعریف میں آتا ہو۔ اور عربی کلام و محاورے کے مطابق " ضرب فی الارض " کا اطلاق و استعمال ہوتا ہی اس سفر کے لیے ہے جو جہاد فی سبیل اللہ اور تجارت وغیرہ جیسے نیک مقاصد کیلئے ہوتا ہے جبکہ " ضرب فی الارض " کا معنیٰ و مطلب ہوتا ہے کہ اس نے قضائے حاجت کیلئے سفر کیا۔ (فتح القدیر للشوکانی (رح) ) ۔ بہرکیف سفر شرعی کیلئے خاص سہولتیں اور رعایتیں ہیں کہ مومن کا سفر ہوتا ہی نیک مقاصد کیلئے ہے۔ اور انہی اہم رعایتوں میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 101–102

سفر میں نماز قصر اور نماز خوف کے مسائل تشریح : پچھلی آیات میں ہجرت اور جہاد کا ذکر ہے جس میں سفر اور خوف لازمی ہے تو ان حالات میں نماز کے مسائل کا بیان ان آیات میں واضح کیا گیا ہے۔ اگر سفر میں ہوں یا جنگ کی حالت تو نماز میں رعایت دی گئی ہے مگر چھوڑنے کا ذکر بالکل آخر میں ہوا ہے وہ بھی چھوڑنے کا نہیں بلکہ قضا کرنے کا حکم ہے اس سے ظاہر ہوا کہ نماز کس قدر ضروری فریضہ ہے۔ سفر کے لیے یہ رعایت ہے کہ اگر 19 دن کا قیام ہو تو فرض چار کی بجائے دو پڑھ لیے جائیں وتر میں کوئی رعایت نہیں چونکہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں بھی پڑھے ہیں اس لیے سفر میں بھی پڑھ لیے جائیں۔ یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے، اس لیے اس میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–104

رکوع نمبر 15 آیات 101 تا 104 ۔ اسرار و معارف : واذا ضربتم ۔۔۔ علیما حکیما۔ اللہ کریم نے جہاں دین میں استقامت اور ہمت و جرات کا حکم فرمایا ہے وہاں رخصتیں بھی دی ہیں۔ رعایتیں بھی برتی ہیں جیسے حدیث معراج میں مشہور واقعہ ہے کہ پچاس نمازوں کا حکم ہوا ایک رات دن میں پڑھی جائیں تو آپ ﷺ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کمی کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا الغرض بار بار جانا آنا ہوا حکم ہوا چالیس کردیتے ہیں پھر تیس ، بیس ، دس ، حتی کہ پانچ تو روایات میں ملتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ پانچ بھی زیادہ ہیں۔ میری امت دو کا حق بھی ادا نہ کرسکی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اب مزید درخواست کرتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 مغرب اور صبح کی نماز کے علاوہ دوسری نمازوں میں چار کی بجائے دو رکعت پڑھنے کا نام قصر ہے تم پر کچھ گناہ نہیں کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ حالت سفر میں قصر واجب نہیں۔ اس کی صرف اجازت ہے یہی اکثر علمانے سلف کا مسلک ہے مگر آنحضرت ﷺ کی سنت کو دیکھتے ہوئے امام شافعی احمد بن جنبل اور اکثر محدثین کے نزدیک قصر افضل ہے، بعض علما نے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث فرضت الصلوٰۃ رکعیتن ( کہ نماز دو رکعت فرض ہوئی) کے پیش نظر قصر کو واجب مانا ہے مگر حضرت عائشہ ؓ کی اس حدیث کے متن میں اضطراب ہے اور حضرت عائشہ ؓ کا عمل اور فتویٰ اس کے خلاف ہے اور پھر حضرت ابن عباس ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ قصر کو سنت کہتے ہیں ناین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:101) ضربتم فی الارض (سبب) تم زمین میں سفر کرو۔ ضرب فی الماء پانی میں تیرنا۔ تقصروا من الصلوۃ۔ تم قصر کرو نماز میں۔ یعنی نماز کو مختصر کرلو۔ یغتنکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ فتن وفتون مصدر باب ضرب۔ کہ تم کو پریشانی میں ڈال دیں گے۔ مصیبت میں مبتلا کردیں گے۔ آیت ہذا میں کلام ان خفتم ۔۔ کفروا۔ کلام ما قبل سے منفصل ہے اور کلام مابعد سے متصل۔ اس صورت میں یہ شرط ہے اور جواب شرط اس کے بعد محذوف یعنی ” تو بھی قصر نماز کرلو۔ اور اگر اس کو کلام ماقبل کے ساتھ لیا جاوے تو مطلب ہے “ تم قصر نماز کرسکتے ہو جب تم حالت سفر میں ہو اور جب دشمنوں کی طرف سے تکلیف و گزند کا اندیشہ ہو۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–104

آیت نمبر 101-104 لغات القرآن : ان تقصروا، یہ کہ تم قصر کرو۔ کنت، آپ ﷺ ہوں۔ اسلحۃ، ہتھیار۔ یمیلون، وہ حملہ کرتے ہیں۔ میلۃ واحدۃ، ایک دفعہ حملہ۔ مطر، بارش۔ تالمون، تم تکلیف میں ہو۔ ترجون، تم امید رکھتے ہو۔ تشریح : ان آیات میں قصر نماز اور صلوۃ خوف کا ذکر ہے ۔ سفر میں اور خوف میں دونوں حالات میں نماز مختصر بھی ہے اور مخصوص بھی۔ کتنے دور کے سفر میں قصر ہے، کتنا قصر ہے۔ کن نمازوں میں قصر ہے۔ کتنے دنوں کے قیام سے قصر ٹوٹتا ہے ، کیا قصر لازم ہے وغیرہ وغیرہ ان سوالات کے جواب مختلف آئمہ فکر نے قدرے اختلافات کے ساتھ دئیے ہیں۔ ایک بات ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ سفر میں قصر کیا ہے اور چاروں خلفائے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

تفسیر ابن جریر میں حضرت علی ؓ کی روایت سے شان نزول اس آیت کا بیان کیا گیا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی نجار قبیلہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت ہم لوگ سفر کرتے رہتے ہیں۔ سفر میں ہم نماز کیونکر پڑھا کریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا وہ ٹکڑا نازل فرمایا جس میں نماز کے قصر کرنے کا حکم ہے یعنی چار رکعت والی دو رکعت پڑھے۔ مسئلہ : ہے کہ خوف کفار قصر کے لئے شرط نہیں ہے۔ یعلی بن امیہ نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں۔ فرمایا : اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا۔ تو میں نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا حضور نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے، تم اس صدقہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[67] قصر سے مراد نماز میں کمی کرنا ہے یعنی چار رکعت کی جگہ دو رکعت۔ جہاں تک سنتوں کا تعلق ہے تو نبی ﷺ کے عمل سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ سفر میں فجر کی سنتوں اور عشاء کے وتر کا التزام فرماتے تھے مگر باقی اوقات میں صرف فرض نماز پڑھتے تھے۔ [68] بعض لوگوں نے اس فقرے کا یہ مطلب لیا ہے کہ قصر صرف حالت جنگ کے لئے ہے، امن کی حالت میں نہیں۔ لیکن یہ بات تقریباً تواتر سے ثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے دونوں حالت میں قصر فرمایا ہے اور صحابہ کرام کا بھی اس پر عمل رہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

فلسفہ صلوۃ خوف : (ف 1) ان آیات میں صلوۃ خوف کا ذکر ہے کہ جب میدان جنگ ہو ، دشمن کی طرف سے زبردست خطرہ ہو تو اس وقت فریضہ نماز کس طرح ادا کیا جائے ؟ مقصد یہ ہے کہ جنگ و جہاد مقصود بالذات نہیں ، دین کا اصل و اساس عبادت ونیاز مندی ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ نماز و عبادت کو بہرحال محفوظ رکھا جائے ، جہاد تو اس لئے ہے کہ مسلمان کو خدا کی عبادت کا آزادانہ حق ہو ۔ یعنی مسلمان میدان جنگ میں نماز پڑھ کر یہ ثابت کردیتا ہے کہ وہ بجز خدائے قہار کے اور کسی کے سامنے نہیں جھکتا اور کوئی جنگ اور لڑائی اسے غیر اللہ کی پرستش پر مجبور نہیں کرسکتی ۔ صلوۃ خوف کا فلسفہ یہ بھی ہے کہ مسلمان عین اس وقت جب حیوانی قوتیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور جب تم ملک میں سفر کرو تو سفر کی حالت میں تم پر اس بات کا کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کرلیا کرو یعنی جس میں چار فرض ہیں بجائے چار کے دو پڑھا کرو اور اگر تم اس بات کا خوف کرتے ہو کہ کافر تم کو اپنی شرارت سے کسی فتنے اور پریشانی میں مبتلا کریں گے بلاشبہ کافر تمہارے صریح اور کھلے ہوئے دشمن ہیں۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سفر جو تین منزل کا ہو اس میں چار رکعت فرض آیا اس تقریب سے معافی ملی ہر وقت کو اور پوری نہ پڑھئے کہ اللہ صاحب کی بخشش سے بےپروائی ہوتی ہے اور سنت کا تقیہ سفر میں نہیں رہتا۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ شرعی سفر وہ معتبر ہے جو کم از کم تین منزل کا ہو تین منزل سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ جس کی مقدار تین منزل ہو۔ 6۔ ظہر وعصر و عشاء کے فرض کی رکعات چار کی جگہ دو پڑھا کرو۔ 1۔ جو سفر تین منزل سے کم ہو اس میں نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نماز قصر کرنے کے حکم سے دو باتوں کی اہمیت معلوم ہوگئی نماز کی بھی اور جہاد کی بھی 173 ۔ نماز قصر کرنے کے حکم سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نماز وہ چیز ہے کہ جنگ کے خطرات کے اندر بھی یہ نظر انداز نہیں کی جاسکتی وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام میں جنگ خونریزی اور لوٹ مار کیلئے نہیں بلکہ جیسا کہ دوسرے مقامات سے واضح ہوچکا ہے صرف اور صرف اس لیے ہے کہ اللہ کی زمین سے اس ظلم وجبر کا خاتمہ کیا جائے جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی بندگی سے روکنے کیلئے اللہ کے دشمنوں کی طرف سے برپا کیا جاتا ہے اس پہلو سے غور کیجئے تو جہاد کی اصل روح نماز ہی ہے اس سے جہاد اللہ کی عبادت بنتا ہے اگر اس کے اندر یہ روح نہ ہو تو یہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

1. Sajdah or Sujud, a way of prostration specified by the Shari` ah of Islam as a part of Salah. Commentary The subject of Jihad and Hijrah were taken up in previous verses. Since travel is involved in Jihad and Hijrah under most conditions, the likelihood of confrontation with the enemy is strong and frequent while making such a trip. Therefore, special mention has been made in the verses cited above of some particular leaves and concessions in the performance of Sarah in due consideration of travel and its dangers.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

132. Shortening Prayers (qasr) while travelling in peace-time consists of praying two rak'ahs at those appointed times when one is normally required to pray four rak'ahs. The form of qasr during a state of war has not been specified. Prayers should, therefore, be performed as circumstances permit. People should pray in congregation if possible, otherwise individually. If it is not possible to turn towards the qiblah, one may keep the direction in which one happens to be facing. One may even pray while seated either on the back of an animal or on a vehicle. If actual bowing and prostrating are…

Read the full tafseer →