صلوۃ خوف کے مسائل
نماز خوف کی کئی قسمیں مختلف صورتیں اور حالتیں ہیں، کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ دشمن قبلہ کی طرف کبھی دشمن دوسری جانب ہوتا ہے، نماز بھی کبھی چار رکعت ہوتی ہے کبھی تین رکعت جیسے مغرب اور فجر کی دو صلوۃ سفر، کبھی جماعت سے ادا کرنی ممکن کرتی ہے کبھی لشکر اس طرح باہم گتھے ہوئے ہوتے ہیں کہ نماز با جماعت ممکن ہی نہیں ہوتی بلکہ الگ الگ قبلہ کی طرف اور غیر قبلہ کی طرف پیدل اور سوار جس طرح ممکن ہو پڑھی جاتی ہے بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے جو جائز بھی ہے کہ دشمنوں کے حملوں سے بچتے بھی جائیں ان پر برابر حملے بھی کرتے جائیں اور نماز بھی ادا کرتے جائیں، ایسی حالت میں صرف ایک رکعت ہی نماز پڑھی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
سورة النِّسَآء 134
امام ابو یوسف اور حسن بن زیاد نے ان الفاظ سے یہ گمان کیا ہے کہ صلوٰۃِ خوف صرف نبی ﷺ کے زمانہ کے لیے مخصوص تھی۔ لیکن قرآن میں اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ایک حکم دیا گیا ہے اور وہی حکم آپ کے بعد آپ کے جانشینوں کے لیے بھی ہے۔ اس لیے صلوٰۃِ خوف کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ پھر بکثرت جلیل القدر صحابہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کے بعد بھی صلوٰۃ خوف پڑھی ہے اور اس باب میں کسی صحابی کا اختلاف مروی نہیں ہے۔
سورة النِّسَآء 135
صلوٰۃ خوف کا یہ حکم اس صورت کے لیے ہے جب کہ دشمن کے حملہ کا خطرہ تو ہو مگر عملاً معرکہ قتال گرم نہ ہو۔ رہی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
سفر اور قصر کے احکام
مسئلہ۔ جو سفر تین منزل سے کم ہو اس سفر میں نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔
مسئلہ۔ اور جب سفر ختم کر کے منزل پر جا پہنچے تو اگر وہاں پندرہ روز سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تب تو وہ حکم سفر میں ہے، فرض نماز چارگانہ آدھی پڑھی جائے گی اور اس کو قصر کہتے ہیں اور اگر پندرہ روز یا زیادہ کا رہنے کا ایک ہی بستی میں ارادہ ہو، تو وہ وطن اقامت ہوجائے گا وہاں بھی وطن اصلی کی طرح قصر نہیں ہوگا، بلکہ نماز پوری پڑھی جائے گی۔
مسئلہ۔ قصر صرف تین وقت کے فرائض میں ہے اور مغرب اور فجر میں اور سنن و وتر میں نہیں ہے۔
مسئلہ۔ سفر میں خوف نہ ہو تو بھی قصر نماز پڑھی جائے گی۔
مسئلہ۔ بعض لوگوں کو پوری نماز کی…
Read the full tafseer →وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ۣفَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ ۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ وَلْيَاْخُذُوْا حِذْرَھُمْ وَاَسْلِحَتَھُمْ ۚ وَدَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَاَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيْلُوْنَ عَلَيْكُمْ مَّيْلَةً وَّاحِدَةً ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَكُمْ ۚ وَخُذُوْا حِذْرَكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ…
Read the full tafseer →12۔ 1 اس آیت میں صلوٰۃ الخوف کی اجازت بلکہ حکم دیا جا رہا ہے۔ صلوٰۃ الخوف کے معنی، خوف کی نماز یہ اس وقت مشروع ہے جب مسلمان اور کافروں کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل جنگ کے لئے تیار کھڑی ہوں تو ایک لمحے کی غفلت مسلمانوں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ایسے حالات میں اگر نماز کا وقت ہوجائے تو صلوٰۃ الخوف پڑھنے کا حکم ہے، جس کی مختلف صورتیں حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً فوج دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ایک حصہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا تاکہ کافروں کو حملہ کرنے کی جسارت نہ ہو اور ایک حصے نے آکر نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب یہ حصہ نماز سے فارغ ہوگیا تو یہ پہلے کی جگہ مورچہ زن ہوگیا اور مورچہ زن پہلے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
63: اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں ظہر، عصر اور عشاء کی نماز آدھی کردی ہے۔ اسے قصر کہا جاتا ہے۔ عام سفروں میں قصر ہر حالت میں واجب ہے، چاہے دشمن کا خوف ہو یا نہ ہو لیکن یہاں ایک خاص قسم کے قصر کا ذکر مقصود ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت ہی ہوسکتا ہے، اس میں یہ چھوٹ بھی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر دو حصوں میں تقسیم ہو کر ایک ہی امام کے پیچھے باری باری ایک ایک رکعت پڑھے، اور دوسری رکعت بعد میں تنہا پوری کرے جس کا طریقہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ خاص قسم کا قصر جسے صلاۃ الخوف کہتے ہیں دشمن کے مقابلے کی حالت ہی میں ہوسکتا ہے، اس لیے یہاں قصر کے ساتھ یہ شرط لگائی گئی ہے کہ اگر تمہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
(آیت) ” نمبر 102 تا 103۔
جو شخص قرآن کے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے اور جو شخص ربانی منہاج تربیت میں فکر کرتا ہے خصوصا اس سبق پر تو اس پر عجیب اسرار و رموز کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اس سبق کے اندر ایسے لمحات فکر واحساس آتے ہیں جن کا اثر انسان کی روح کی گہرائیوں تک جا اترتا ہے ۔ ذرا میدان معرکہ کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں :
قرآن کریم کی یہ آیت محض ایک فقہی اور قانونی مسئلہ نہیں بیان کرتی کہ صلوۃ الخوف اس طرح ہوگی اس کے اندر تعلیم وتربیت کا بیشمار سامان ہے جس کے ذریعے ایک انقلابی جماعت کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اسے انقلابی عمل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے ۔
آیت سے جو پہلی بات معلوم ہوتی ہے وہ…
Read the full tafseer →2 پہلے نماز سفر کا بیان تھا یہ نماز خوف کا بیان ہے یعنی کافروں کی فوج مقابلہ میں ہو تو مسلمانوں کی فوج دو حصے ہوجائے، ایک حصہ امام کے ساتھ آدھی نماز پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں جا کر کھڑا ہوجائے، دوسرا حصہ آکر امام کے ساتھ نصف باقی پڑھ لے۔ امام کے سلام کے بعد دونوں جماعتیں اپنی آدھی نماز رہی ہوئی جدا جدا پڑھ لیں۔ اگر مغرب کی نماز ہو تو اول جماعت دو رکعت اور دوسری جماعت ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھے اور اس حالت میں نماز کے اندر آمد و رفت معاف ہے اور تلوار زرہ سپر وغیرہ کے اپنے ساتھ رکھنے کا بھی ارشاد فرمایا تاکہ کفار موقع پا کر یکبارگی حملہ نہ کردیں۔
3 یعنی اگر بارش یا بیماری اور ضعف کی وجہ سے…
Read the full tafseer →آیت 102 وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآءِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ وَلْیَاْخُذُوْآ اَسْلِحَتَہُمْ قف فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآءِکُمْص وَلْتَاْتِ طَآءِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ
یہ حکم صلوٰۃ الخوف کے بارے میں ہے۔ اس کی عملی صورت یہ تھی کہ حضور ﷺ نے ایک رکعت نماز پڑھا دی اور اس کے بعد آپ ﷺ بیٹھے رہے ‘ دوسری رکعت کے لیے کھڑے نہیں ہوئے ‘ جبکہ مقتدیوں نے دوسری رکعت خود ادا کرلی۔ دو رکعتیں پوری کر کے وہ محاذ پر واپس چلے گئے تو دوسرے گروہ کے لوگ جو اب تک نماز میں شریک نہیں ہوئے تھے ‘ نماز کے لیے حضور ﷺ کے پیچھے آکر کھڑے…
Read the full tafseer →139 اس آیت میں نماز خوف کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ نماز خوف کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ اور احادیث میں ایسی چھ سات صورتیں مذکور بھی ہیں۔
وہ صورتیں اس طرح بنتی ہیں کہ مقتدی جس نے ایک رکعت امام کے ساتھ ادا کی ہے تو آیا وہ دوسری رکعت خود موقع ملنے پر ادا کرے گا یا نہیں ؟ یا اگر کرے گا تو کیسے کرے گا اور نماز مغرب جس کی قصر بھی تین رکعت ہے اس کی صورت کیا ہوگی ؟ اور غالباً یہ طریقہ صرف اس ہنگامی حالت کے لیے ہے جبکہ معرکہ کار زار گرم نہ ہوا ہو۔ کیونکہ معرکہ گرم ہونے کی صورت میں تو جماعت کا موقع ہی نہیں آتا۔ جیسا کہ جنگ خندق میں رسول اللہ ﷺ سمیت اکثر مسلمانوں کی نماز عصر قضا ہوگئی جو آپ نے اور مجاہدین نے…
Read the full tafseer →287 ۔ یعنی حالت نماز میں بھی مسلح رہیں۔ (آیت) ” اذکنت فیھم “۔ صیغہ واحد حاضر ہے محض رسول اللہ ﷺ ہی مراد نہیں۔ آپ ہوں یا آپ کا کوئی قائم مقام۔ قال الائمۃ نواب عن رسول اللہ ﷺ فی کل عصر (مدارک) ھذہ الایۃ خطاب للنبی ﷺ وھو یتناول الامراء الی یوم القیمۃ ھذا قول کافۃ العلماء (قرطبی) (آیت) ” فاقمت لھم الصلوۃ “۔ یعنی جب وقت نماز آجانے پر آپ میدان جنگ میں امامت نماز کے لئے کھڑے ہوجائیں اور اندیشہ ہو کہ دشمن موقع پاکر حملہ کردے گا (آیت) ” فلتقم طآئفۃ منھم معک “۔ یعنی ایسے موقع پر چاہیے کہ سپاہ کے دو گروہ ہوجائیں کچھ لوگ تو نماز شروع کردیں اور کچھ لوگ نگہبانی کے لئے دشمن کے مقابل کھڑے ہوجائیں، یہ سب بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
آیت نمبر 101 تا 104
ترجمہ : اور جب تم سفر کرو تو نماز میں قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، بایں طور کہ تم چار (رکعت) کی دو کرلو، اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تمہیں تکلیف پیش آئے گی کہ کافر تمہیں ستائیں گے، یہ نزول کے وقت کے واقعہ کا بیان ہے لہٰذا اس کا مفہوم مراد نہیں ہے، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ سفر سے سفر طویل مراد ہے اور وہ چار برید ہیں جو مساوی ہے دو مرحلوں کے، اور اللہ کے قول '' فلَیْسَ عَلَیکُمْ جُنَاح '' سے سمجھا جاتا ہے کہ قصر رخصت ہے نہ کہ واجب اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے، یقینا کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں (یعنی) ان کی عداوت کھلی ہوئی ہے، اور اے محمد جب آپ ان میں موجود ہوں اور…
Read the full tafseer →واذا کنت فیہم اور جب آپ ان میں موجود ہوں اور دشمن کا خوف ہو۔ دشمن کا خوف ہونے کی قیدباجماع علماء اس جگہ ضروری ہے اور اِنْ خِفْتُمْکو اگر مابعد کلام سے مربوط مانا جائے تب تو قرینہ بھی موجود ہوگا۔ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ ان خفتم پر اس کا عطف ہو اور دونوں شرطوں کا مجموعہ صلوٰۃِ خوف کے لئے ضروری ہو یعنی اگر دشمن کا خوف ہو اور مجاہدین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی موجود ہوں تو صلوٰۃِ خوف پڑھی جائے (اگر دشمن کا خوف نہ ہو یا رسول اللہ ﷺ وہاں موجود نہ ہوں تو صلوٰۃ خوف کا جواز نہیں) اسی ظاہر کلام کے پیش نظر امام ابو یوسف (رح) نے فرمایا کہ صلوٰۃ خوف رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص تھی (دوسروں کے لئے جائز نہیں) مگر…
Read the full tafseer →(102) لہٰذا جب آپ تشریف فرما ہوں تو پھر آپ ہی ان کی امامت فرمائیں اور نماز شروع کرنے کے لیے تکبیر فرمائیں اور یہ آپ کے ساتھ تکبیر کہیں گے، لہٰذا اس وقت ایک جماعت تو آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے اور دوسرا گروہ دشمن کی نگرانی کے لیے کھڑا ہوجائے اور اب یہ جماعت نگرانی کے لیے چلی جائے اور جو جماعت دشمن کے مقابلہ پر کھڑی ہے جس نے آپ کے ساتھ پہلی رکعت نہیں پڑھی، وہ اب آکر دوسری رکعت پڑھ لے اور دشمن سے بچاؤ کے لیے اپنے ہتھیار بھی رکھیں۔
بنی انمار تو یہ چاہتے ہیں کہ ذرا تم اپنے ہتھیار وغیرہ سے غافل ہو تو تم پر نماز کی حالت میں ایک دم حملہ کردیں اور اگر تم بارش کی شدت اور زخموں وغیرہ کی حالت میں ہتھیار…
Read the full tafseer →وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ۔۔ : اس آیت میں صلاۃ الخوف کی اجازت بلکہ حکم دیا جا رہا ہے۔ یہ خوف کی نماز کا وہ موقع ہے کہ جب دشمن موجود ہو اور اس کے حملے کا خطرہ ہو، عملاً جنگ نہ ہو رہی ہو، لیکن ذرا سی غفلت بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہو، ایسے حالات میں اگر نماز کا وقت ہوجائے تو صلاۃ الخوف پڑھنے کا حکم ہے، جس کی مختلف صورتیں حدیث میں بیان کی گئی ہیں، مثلاً فوج دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، ایک حصہ (گروہ) دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا، تاکہ کافروں کو حملہ کرنے کی جسارت نہ ہو اور ایک حصے نے آ کر نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب یہ حصہ نماز سے فارغ ہوگیا تو یہ پہلے کی جگہ مورچہ زن ہوگیا اور مورچہ زن حصہ نماز کے لیے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 103 :
اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ “۔ دارقطنی نے ابو عیاش زرقی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ؛ ہم رسول اللہ ﷺ کے عسفان میں تھے، مشرکین سے ہمارا مقابلہ ہوا ان کے جرنیل خالد بن ولید تھے اور ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی مشرکین نے کہا : مسلمان اس حالت پر ہیں کہ ہم ان پر حملہ کریں، فرمایا : پھر کہا ابھی مسلمانوں پر ایسی نماز کا وقت ہونے والا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹوں اور اپنے نفسوں سے زیادہ عزیز ہے، فرمایا : جبریل امین ظہر اور عصر کے درمیان یہ آیت کریمہ لے کر آئے (1)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
صلاۃ الخوف کا طریقہ
(1) عبد الرزاق، سعید بن منصور وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید وابو داؤد و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتن ودار قطنی و طبرانی وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے ابو عیاش زرقی ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عسفان میں تھے مشرکین ہم سے ملے ان پر خالد بن ولید امیر تھے اور وہ مشرک ہمارے اور قبیلہ کے درمیان حائل تھے ہم کو نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکوں نے کہا یہ لوگ (یعنی مسلمان) اپنے حال پر تھے کاش ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے پھر انہوں نے (آپس میں کہا) ابھی ایک نماز ان پر آئے گی جو ان کو اپنے بیٹوں اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ جبرئیل…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ کُنْتَ : آپ ﷺ ہوں گے ] [ فِیْہِمْ : ان میں ] [ فَاَقَمْتَ : تو آپ ﷺ قائم کریں گے ] [ لَہُمُ : ان کے لیے ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ فَلْـتَقُمْ : پس چاہیے کہ کھڑی ہو ] [ طَـآئِفَۃٌ : ایک جماعت ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ مَّعَکَ : آپ ﷺ کے ساتھ ] [ وَلْیَاْخُذُوْآ : اور چاہیے کہ وہ پکڑیں ] [ اَسْلِحَتَہُمْ : اپنے اسلحے ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ سَجَدُوْا : وہ سجدہ کرلیں ] [ فَلْیَکُوْنُوْا : تو چاہیے کہ وہ ہوجائیں ] [ مِنْ وَّرَآئِکُمْ : تمہارے پیچھے ] [ وَلْتَاْتِ : اور چاہیے کہ آئے ] [ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی : دوسری جماعت ] [ لَمْ یُصَلُّوْا : جس نے نماز نہیں پڑھی ]…
Read the full tafseer →صلوٰۃ الخوف کا طریقہ اور اس کے بعض احکام
اس آیت شریفہ میں صلوٰۃ الخوف (خوف کی نماز) کا ذکر ہے لباب النقول صفحہ 81 میں حضرت ابو عیاش زرقی ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام عسفان میں تھے سامنے سے مشرکین آگئے جو خالد بن ولید کی سر کردگی میں تھے (وہ اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) یہ لوگ ایسی جگہ تھے جو ہمارے اور ہمارے قبلہ کے درمیان تھی، آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ہم کو ظہر پڑھائی تو مشرکین کہتے لگے کہ ہم نے غلطی کی جب یہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے اس وقت ان پر حملہ کردیتے ان کو تو ہمارے حملے کا خیال بھی نہ تھا۔ پھر کہنے لگے کہ ابھی ایک اور نماز آنے والی ہے (یعنی نماز عصر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
حکم بست وہفتم متعلق بہ صلوۃ سفر وصلاۃ خوف۔
قال تعالیٰ واذا ضربتم فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و ہجرت کا ذکر تھا اور غالب احوال میں جہاد و ہجرت کے لیے سفر کنا پڑتا ہے اور اب ان آیات میں حالت جہاد اور سفر میں نماز پڑھنے کی تعلیم وطریقہ بیان فرماتے ہیں اور سفر اور خوف کی وجہ سے نماز میں جو رعایتیں اور سہولتیں عطا کی ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔
حکم صلاۃ سفر۔
اور جب تم سفر کرو زمین میں جس کی مقدار تین منزل ہو یا اڑتالیس میل ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں بلکہ ضروری ہے کہ تم رباعی، (چار رکعت والی نماز میں سے دو رکعت) کم کردو اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے بیشک…
Read the full tafseer →75 یہ صلوۃ الخوف پڑھنے کا طریقہ ہے اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن آپ کے بعد تاقیامت آپ کے جانشین بھی اس میں داخل ہیں۔ وھذہ الایۃ خطاب للنبی ﷺ و ھو یتناول المراء بعدہ الی یوم القیامۃ (قرطبی ج 5 ص 364) حاصل یہ ہے کہ جب عین میدان جنگ میں نماز کا وقت آجائے اور کافروں کی طرف سے اچانک حملہ کردینے کا خطرہ ہو تو امام مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کردے ایک جماعت تو ہتھیاروں سے لیس دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہے اور دوسری امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے۔ جب ایک رکعت پڑھ چکیں تو چپکے سے پہلی جماعت کی جگہ چلے جائیں اور پہلی جماعت آخری رکعت میں امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔ جب امام دوسری رکعت پر سلام پھیرے تو…
Read the full tafseer →ربط آیات
اس رکوع کی پہلی آیت میں سفر کی حالت میں نماز کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرعی سفر میں چار رکعت والی نماز میں تخفیف کر کے اسے دو رکعت بنا دیا ہے۔ اس ضمن میں دیگر ضروری مسائل بھی گزشتہ درس میں بیان کردیے گئے تھے۔ تاہم سفر ہی سے متعلق دو مسائل باقی رہ گئے تھے۔ پہلا مسئلہ یہ کہ نماز قصر کہاں سے شروع کرنی چاہئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مزعومہ سفر کی نصف منزل طے کرلینے کے بعد نماز قصر شروع ہوئی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مسافر اپنی منزل پر پہنچ کر نماز قصر کرے۔ بعض دیگر حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ جب سفر کی نیت کرلے تو گھر سے ہی قصر شروع کرسکتا ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ جب مسافر اپنی بستی ، گاؤں یا…
Read the full tafseer →وَاِذَا كُنْتَ فِيْہِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ 0ۣ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ 0۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَۃٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ وَلْيَاْخُذُوْا حِذْرَھُمْ وَاَسْلِحَتَھُمْ 0ۚ وَدَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَاَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيْلُوْنَ عَلَيْكُمْ مَّيْلَۃً وَّاحِدَۃً 0ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَكُمْ 0ۚ وَخُذُوْا حِذْرَكُمْ 0ۭ اِنَّ اللہَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
ف : اس کو صلواۃ الخوف کہتے ہیں جو جماعت کی فضیلت کے لئے اسلام میں قائم ہے خود آنحضرت ﷺ کے روبرو یہ پیش آیا تھا اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ امام کے ساتھ ایک گروہ مسلمین ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں جا کھڑا ہو اور جو گروہ دشمن کے مقابلہ میں تھا وہ آکر امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شریک ہوجائے اور ہر گروہ ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لے اور نماز پڑھنے میں ہتھیار ساتھ رکھیں اور ہوشیار رہیں اور جب مقابلہ ہو اور اس کی بھی فرصت نہ ہو تو ہر حال میں اللہ کو یاد کرلینا چاہیے اور جو نماز قضا ہوگئی ہے اس کو بعد میں ادا کریں۔ 12 منہ
ترکیب : واذا ضربتم شرط فلیس الخ جواب ان تقصروا ای فی…
Read the full tafseer →وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ وَلْیَاْخُذُوْٓااَسْلِحَتَہُمْ قف فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِکُمْ ص وَلْتَاْتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ وَلْیَاْخُذُوْا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ ج وَدَّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَ اَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃً ط وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِنْ مَّطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَکُمْ ج وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فہم القرآن
ربط کلام : دین اپنے ماننے والوں کو بےجا تکلیف میں مبتلا نہیں کرتا۔ حالت جنگ میں اور سفر کے دوران آدمی تکلیف میں ہوتا ہے۔ لہٰذا جہاد ‘ اور سفر کی حالت میں نماز جیسی عظیم عبادت میں تخفیف فرما دی گئی ہے۔
ایمان لانے کے بعد مسلمانوں پر سب سے زیادہ زور نماز کی ادائیگی اور اس کے قیام پر دیا گیا ہے۔ قیام صلوٰۃ سے مراد اس کے ارکان کی سنت کے مطابق ادائیگی اور اس کے روحانی اور معاشرتی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر قسم کی رعایت بخشی گئی۔ حالت مجبوری میں نماز کے لیے تیمم ہی کافی سمجھا گیا۔ کسی وجہ سے قبلہ کی طرف منہ کرنا مشکل ہو تو یہ شرط بھی ختم کردی گئی۔ نماز…
Read the full tafseer →آیت 102 : وَ اِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ (اے محمد ﷺ جب آپ ان میں ہوں اور نماز پڑھانے کا ارادہ کریں) ہم سے مراد اصحاب رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اقمت یہاں اردت کے معنی میں ہے۔
صلوٰۃ خوف آپ کی خصوصیت نہیں :
امام ابویوسف (رح) نے اس کو اپنے ظاہر سے متعلق کیا اسی لئے انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہی نماز خوف کو خاص مانا ہے، مگر طرفین رحمہما اللہ کہتے ہیں۔ ائمہ، ہر زمانہ میں آپ ﷺ کے نائب ہیں پس آپ کو خطاب ان تمام کو شامل ہوگا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں : خذ من اموالہم صدقہ تطہرہم۔ التوبہ۔ 103۔ اب زکوٰۃ ہر زمانہ میں ہے اور اس کی دلیل صحابہ ؓ کا عمل ہے۔
فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ (پس…
Read the full tafseer →(خوف کی نماز کا بیان)
(تفسیر) 102۔:
(آیت)” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ “۔ کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے اور وہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ مشرکین نے جب رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب کو ظہر کی نماز میں دیکھا کہ وہ سب اکٹھے نماز پڑھ رہے ہیں ، ان کو ندامت ہوئی کہ ہم نے ان پر یکبارگی حملہ کیوں نہیں کیا ، بعض نے بعض سے کہا کہ چھوڑئیے اس کے بعد ایک نماز آرہی ہے جو ان کو اپنے آباء اور اپنے بیٹوں سے بھی پیاری ہے اور وہ عصر کی نماز ہے ، جب وہ اس نماز میں کھڑے ہوئے ہوں گے تو ہم ان پر حملہ کردیں گے اور ان کو قتل کردیں گے ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور…
Read the full tafseer →مسند امام احمد، سنن اربعہ، مستدرک حاکم، صحیح ابن حبان میں ابی عیاش رزقی ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عسفان کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز جماعت سے پڑھی جماعت کی نماز ہو چکنے کے بعد خالد بن ولید نے اپنے ساتھ کے مشرکوں سے یہ کہا کہ جس وقت سب مسلمان صف باندھ کر نماز میں مصروف تھے اس وقت ان کی پشت کی طرف سے حملہ کرنے کا خوب موقع تھا۔ پھر سب مشرکوں نے مل کر یہ بھی کہا تھا کہ تھوڑی دیر میں اور دوسری نماز کا موقع آنے والا ہے اس وقت ان کی پشت کی طرف سے حملہ کرنا چاہیے اس پر اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز سے پہلے یہ نماز خوف کا حکم نازل فرمایا 4۔ حاکم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آیت 101
یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لئے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا ضربتم فی الارض) ” جب چلو تم زمین میں “ یعنی سفر کے دوران آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہ، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے سہولت ہے…
Read the full tafseer →صلوٰۃ الخوف کا بیان
قول باری ہے ( واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوٰۃ فلتقم طائفۃ منھم معک۔ اور اے نبی ! جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور ( حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہو تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو) تا آخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتےیں کہ حضور ﷺ سے صلوٰۃ الخوف مختلف صورتوں میں منقول ہے۔ اس لیے فقہاء امصار کا اس بارے میں اختلاف رائے ہوگیا ہے۔ امام اوب حنیفہ اور امام محمد کا قول ہے کہ ایک گروہ امام کے ساتھ کھڑا ہوگا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہوگا۔ امام پہلے گروہ کو ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھائے گا اور اس کے بعد یہ لوگ اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ چلے جائیں…
Read the full tafseer →271 " اذا کنت فیہم " کا مطلب ؟ : یعنی آپ اے پیغمبر بذات خود ان کے اندر موجود ہیں۔ اسی سے امام ابو یوسف (رح) وغیرہ بعض ائمہ کرام نے کہا ہے کہ یہ نماز آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ آپ ﷺ کے بعد یہ کسی کیلئے بھی روا نہیں کیونکہ جو مرتبہ و مقام آپ ﷺ کا ہے، ظاہر ہے کہ وہ اور کسی کا نہیں ہوسکتا۔ (فتح القدیر وغیرہ) ۔ اس لئے یہ نماز آپ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ مگر جمہور کے نزدیک یہ نماز آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ آپ کے بعد ہر مقتدا و پیشوا کا یہی حکم ہے۔ بہرکیف اس سے اہل بدعت کے حاضر و ناظر کے اس شرکیہ عقیدے کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے جو انہوں نے عقل و نقل کے خلاف ازخود گھڑ رکھا ہے۔ اور سلف و خلف کے تمام ثقہ علمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
سفر میں نماز قصر اور نماز خوف کے مسائل
تشریح : پچھلی آیات میں ہجرت اور جہاد کا ذکر ہے جس میں سفر اور خوف لازمی ہے تو ان حالات میں نماز کے مسائل کا بیان ان آیات میں واضح کیا گیا ہے۔ اگر سفر میں ہوں یا جنگ کی حالت تو نماز میں رعایت دی گئی ہے مگر چھوڑنے کا ذکر بالکل آخر میں ہوا ہے وہ بھی چھوڑنے کا نہیں بلکہ قضا کرنے کا حکم ہے اس سے ظاہر ہوا کہ نماز کس قدر ضروری فریضہ ہے۔ سفر کے لیے یہ رعایت ہے کہ اگر 19 دن کا قیام ہو تو فرض چار کی بجائے دو پڑھ لیے جائیں وتر میں کوئی رعایت نہیں چونکہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں بھی پڑھے ہیں اس لیے سفر میں بھی پڑھ لیے جائیں۔ یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے، اس لیے اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
رکوع نمبر 15 آیات 101 تا 104 ۔ اسرار و معارف :
واذا ضربتم ۔۔۔ علیما حکیما۔
اللہ کریم نے جہاں دین میں استقامت اور ہمت و جرات کا حکم فرمایا ہے وہاں رخصتیں بھی دی ہیں۔ رعایتیں بھی برتی ہیں جیسے حدیث معراج میں مشہور واقعہ ہے کہ پچاس نمازوں کا حکم ہوا ایک رات دن میں پڑھی جائیں تو آپ ﷺ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کمی کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا الغرض بار بار جانا آنا ہوا حکم ہوا چالیس کردیتے ہیں پھر تیس ، بیس ، دس ، حتی کہ پانچ تو روایات میں ملتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ پانچ بھی زیادہ ہیں۔ میری امت دو کا حق بھی ادا نہ کرسکی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اب مزید درخواست کرتے…
Read the full tafseer →ف 5 کافروں کے ستانے کا ڈر اس وقت تھا جب یہ حکم آیا اس تقریب سے ہر وقت کے لیے معافی ملی۔ (موضح) یہ آیت چونکہ جہاد کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے اس لیے اس میں نماز میں قصر کی اجازت کیساتھ تمہیں کافروں کے ستانے کا ڈر ہو کو الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ باقی رہا عام سفر جس میں دشمن کا خوف نہ ہو تو اس میں قصر کے حکم سے یہ آیت ساکت ہے اسے نبی صلعم نے اپنے وقل وعمل سے واضح فرمایا ہے حضرت عمر ؓ سے ایک شخص نے سوال کیا کیا وجہ ہے کہ لوگ سفر میں قصر کر رہے حالانکہ قرآن میں خوف کے ساتھ مقید ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا خود مجھے بھی اس تعجب ہو اتھا اور میں نے آنحضرت سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک صدقہ ہے جو…
Read the full tafseer →(4:102) ولما خذوا اسلحتہم۔ (اور چاہیے کہ وہ پکڑے رکھیں اپنے ہتھیار) اس گروہ کے لئے ہے جو حضور ﷺ کے ساتھ شروع نماز میں نماز کے لئے کھڑا ہوا ہے۔
فاذا سجدوا۔ (پس جب یہ پہلا گروہ سجدہ کرچکے) فلیکونوا من ورائکم (تو یہ پیچھے چلے جائیں حفاظت کرنے کیلئے)
لم یصلوا۔ (جس دوسرے گروہ نے ابھی نماز پڑھنا شروع نہیں کی)
امتعتکم۔ تمہارا سازوسامان۔ متاع کی جمع۔ یمیلون۔ مضارع۔ میل مصدر (ضرب) وہ حملہ کردیں گے۔
میلۃ واحدۃ۔ یکبار گی حملہ کرنا۔ مال یمیل (ضرب) جھک جانا۔ ادھر ادھر مڑجانا۔ مال علیٰ حملہ کرنا۔ مال عن۔ اعراض کرنا۔ کنارہ کشی کرنا۔ ومال الی۔ کسی کی طرف رغبت کرنا۔
تضعوا۔ تم اتار رکھو۔ حذرکم۔ تمہارا بچاؤ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
آیت نمبر 101-104
لغات القرآن : ان تقصروا، یہ کہ تم قصر کرو۔ کنت، آپ ﷺ ہوں۔ اسلحۃ، ہتھیار۔ یمیلون، وہ حملہ کرتے ہیں۔ میلۃ واحدۃ، ایک دفعہ حملہ۔ مطر، بارش۔ تالمون، تم تکلیف میں ہو۔ ترجون، تم امید رکھتے ہو۔
تشریح : ان آیات میں قصر نماز اور صلوۃ خوف کا ذکر ہے ۔ سفر میں اور خوف میں دونوں حالات میں نماز مختصر بھی ہے اور مخصوص بھی۔ کتنے دور کے سفر میں قصر ہے، کتنا قصر ہے۔ کن نمازوں میں قصر ہے۔ کتنے دنوں کے قیام سے قصر ٹوٹتا ہے ، کیا قصر لازم ہے وغیرہ وغیرہ ان سوالات کے جواب مختلف آئمہ فکر نے قدرے اختلافات کے ساتھ دئیے ہیں۔ ایک بات ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ سفر میں قصر کیا ہے اور چاروں خلفائے…
Read the full tafseer →اس میں باجماعت نماز خوف کا بیان ہے شان نزول : جہاد میں جب آنحضرت ﷺ کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ نے مع تمام اصحاب کے نماز ظہر باجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا، اور آپ میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھا۔ بعضوں نے ان میں سے کہا کہ اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نماز عصر۔ جب مسلمان اس نماز کے لئے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کرکے قتل کردو۔ اس وقت حضرت جبریل علیہ اسلام نازل ہوئے اور انہوں نے سید عالم سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ یہ نماز خوف ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حاضرین کو دو جماعتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
[69] یہ ہے حالت جنگ میں نماز پڑھنے کا طریقہ۔ اگر جنگ کی حالت ایسی ہو کہ نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر قضا کرنی چاہئے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے غزوہ خندق میں کیا تھا۔
Read the full tafseer →مسلح رہو !:
(ف 1) (آیت) ” وخذواحذرکم “۔ میں یہ بتایا ہے کہ بجز عذر کے ہر وقت تمہیں مسلح رہنا چاہئے تاکہ سپاہیانہ زندگی میں ہر وقت محسوس کی جائے ۔
مطلقا سفر میں بھی قصر درست ہے ، ان اور اذا کی قیود و اظہار واقعہ کے لئے ہیں ، تحدید حکم کے لئے نہیں ، سفر کی حد میں اختلاف ہے ، حضرت عمر ؓ کے نزدیک پورے دن کا سفر ، سفر ہے امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ‘ دن اور رات دونوں ہوں تو سفر کا اطلاق ہوگا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں پانچ فرسخ کا اعتبار ہے ، حضرت امام حسین ؓ کا ارشاد ہے دو راتیں ہونا چاہئیں ۔ شعبی ، نخعی اور سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے ۔ کوفہ سے مدائن تک کا فاصلہ سفر ہے یعنی تقریبا تین دن…
Read the full tafseer →ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ ! جب آپ مسلمانوں میں تشریف رکھتے ہوں اور آپ ان میں موجود ہوں اور آپ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کریں اور ان کو نماز پڑھانے کے ارادے سے کھڑے ہوں تو ایسی حالت میں یوں کرنا چاہئے کہ مسلمانوں کے دو حصے کر دئیے جائیں ان دو میں سے ایک گروہ تو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے اور یہ لوگ جو آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہونے والے ہیں۔ حسب ضرورت اپنے اپنے ہتھیار اپنے ساتھ رکھیں یعنی ہتھیار بند ہو کر نماز پڑھیں پھر جب یہ لوگ سجدہ کر چکیں یعنی ایک رکعت پوری کر چکیں تو یہ لوگ تمہارے پیچھے چلے جائیں اور پیچھے ہوجائیں اور مسلمانوں کا وہ دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی آپ کے…
Read the full tafseer →ف 2۔ صلوة الخوف اجماعا بعد رسول اللہ ﷺ کے بھی مشروع ہے جیسے آدمی سے خوف کے وقت یہ نماز مشروع ہے ایسے ہی اگر کسی شیر یا اژدہا وغیرہ کا خوف ہو اور نماز کا وقت تنگ ہو تو اس وقت بھی جائز ہے۔ عین قتال کے وقت نماز کو قضا کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →نماز کا بیان جو صرف جنگ ہی سے مخصوص ہے
174 ۔ اس آیت میں نماز کی وہ خاص شکل و صورت بیان ہوئی ہے جو نماز باجماعت کے لیے میدان جنگ میں اختیار کی جاسکتی ہے اور علاوہ ازیں نہیں۔ ہاں ! جنگی مشقوں میں نماز کا وقت آجائے تو جنگی مشقیں کرانے والوں کو اس کی مشق کرانا بھی لازم ہے اس لیے یہ بےدھڑک کہا جاسکتا ہے کہ جنگی مشقوں میں اس ہیئت کے ساتھ میدان میں نماز ادا کرنا جائز اور درست ہے۔ بہرحال اس جگہ جو صورت حال بیان فرمائی گئی وہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر گروہ اسلحہ سے لیس ہو کر امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کیلئے کھڑا ہو اور دوسرا گروہ حفاظت کا فرض انجام دے۔ جب پہلا گروہ سجدہ کرچکے تو وہ پیچھے ہٹ کر حفاظت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
The concessions given in travel
(In Islamic legal terminology, Safar means journey or travel; Qasr refers to the making of one's Salah short while in that status. Thus, four obligatory Raka’ at of Zuhr, 'Asr and 'Isha are reduced in number and confined to two Raka'at only.)
Rulings:
1. Full Sarah is made in a journey which is less than 48 miles.
2. If, after reaching the destination at the end of the journey, one intends to stay there for less than fifteen days, rules relating to 'journey' will continue to apply to him, that is, the obligatory four Raka'at of Salah will be reduced to half.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
134. These words have led Abu Yusuf and Hasan b. Ziyad to the view that Prayer in a state of insecurity was confined to the time of the Prophet (peace be on him) alone. There are numerous examples, however, where a Qur'anic injunction was addressed specifically to the Prophet (peace be on him), yet holds good for the succeeding periods. Moreover, it is established that many outstanding Companions also resorted to this form of Prayer, even after the death of the Prophet (peace be on him), and there are no reports of disagreement on this question among the Companions. (For discussion see…
Read the full tafseer →