Explained with ayahs 103–104
صلوٰۃ خوف کے بعد کثرت ذکر
جناب باری عزاسمہ اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ نماز خوف کے بعد اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو، گو ذکر اللہ کا حکم اور اس کی ترغیب و تاکید اور نمازوں کے بعد بلکہ ہر وقت ہی ہے، لیکن یہاں خصوصیت سے اس لئے بیان فرمایا کہ یہاں بہت بڑی رخصت عنایت فرمائی ہے نماز میں تخفیف کردی، پھر حالت نماز میں ادھر ادھر ہٹنا جانا اور آنا مصلحت کے مطابق جائز رکھا، جیسے حرمت والے مہینوں کے متعلق فرمایا ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، جب کہ اور اوقات میں بھی ظلم ممنوع ہے لیکن ان کے مہینوں میں اس سے بچاؤ کی مزید تاکید کی، تو فرمان ہوتا ہے کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہو، اور جب اطمینان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
سورة النِّسَآء 134
امام ابو یوسف اور حسن بن زیاد نے ان الفاظ سے یہ گمان کیا ہے کہ صلوٰۃِ خوف صرف نبی ﷺ کے زمانہ کے لیے مخصوص تھی۔ لیکن قرآن میں اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ایک حکم دیا گیا ہے اور وہی حکم آپ کے بعد آپ کے جانشینوں کے لیے بھی ہے۔ اس لیے صلوٰۃِ خوف کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ پھر بکثرت جلیل القدر صحابہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کے بعد بھی صلوٰۃ خوف پڑھی ہے اور اس باب میں کسی صحابی کا اختلاف مروی نہیں ہے۔
سورة النِّسَآء 135
صلوٰۃ خوف کا یہ حکم اس صورت کے لیے ہے جب کہ دشمن کے حملہ کا خطرہ تو ہو مگر عملاً معرکہ قتال گرم نہ ہو۔ رہی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
سفر اور قصر کے احکام
مسئلہ۔ جو سفر تین منزل سے کم ہو اس سفر میں نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔
مسئلہ۔ اور جب سفر ختم کر کے منزل پر جا پہنچے تو اگر وہاں پندرہ روز سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تب تو وہ حکم سفر میں ہے، فرض نماز چارگانہ آدھی پڑھی جائے گی اور اس کو قصر کہتے ہیں اور اگر پندرہ روز یا زیادہ کا رہنے کا ایک ہی بستی میں ارادہ ہو، تو وہ وطن اقامت ہوجائے گا وہاں بھی وطن اصلی کی طرح قصر نہیں ہوگا، بلکہ نماز پوری پڑھی جائے گی۔
مسئلہ۔ قصر صرف تین وقت کے فرائض میں ہے اور مغرب اور فجر میں اور سنن و وتر میں نہیں ہے۔
مسئلہ۔ سفر میں خوف نہ ہو تو بھی قصر نماز پڑھی جائے گی۔
مسئلہ۔ بعض لوگوں کو پوری نماز کی…
Read the full tafseer →فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِكُمْ ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَـنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا۔
قصر کی اجازت سے نماز کے ظاہر میں جو کمی واقع ہوئی تو نماز سے فراغ کے بعد اس کی اصل حقیقت۔ ذکر الٰہی۔ کے اہتمام میں زیادہ سرگرم ہونے کی ہدایت فرمائی تاکہ اس کسر کا جہر بھی ہوجائے اور دوام ذکر الٰہی، جو روح دین ہے، کی یاد دہانی بھی ہوجائے۔ بالخصوص میدان جنگ میں اس کی خاص اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ تمام عزم و حوصلہ کا منبع درحقیقت اللہ تعالیٰ کی یاد ہی ہے۔ حالت خوف دور ہوجانے کے بعد جب…
Read the full tafseer →13۔ 1 مراد یہی خوف کی نماز ہے اس میں چونکہ تخفیف کردی گئی ہے، اس لئے اس کی تلافی کے لئے کہا جا رہا کہ کھڑے بیٹھے لیٹے اللہ کا ذکر کرتے رہو۔
13۔ 2 اس سے مراد ہے کہ جب خوف اور جنگ کی حالت ختم ہوجائے تو پھر نماز اس طریقے کے مطابق پڑھنا ہے جو عام حالات میں پڑھی جاتی ہے۔
13۔ 3 اس میں نماز کو مقررہ وقت میں پڑھنے کی تاکید ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شرعی عذر کے دو نمازوں کو جمع کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس طرح کم از کم ایک نماز غیر وقت میں پڑھی جائے گی جو اس آیت کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →64: یعنی سفر یا خوف کی حالت میں نماز میں تو قصر ہوسکتا ہے لیکن اللہ کا ذکر ہر حالت میں جاری رہنا چاہیے، کیونکہ اس کا نہ کوئی خاص وقت مقرر ہے، نہ کوئی خاص ہیئت۔ وہ کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حالت میں ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
(آیت) ” نمبر 102 تا 103۔
جو شخص قرآن کے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے اور جو شخص ربانی منہاج تربیت میں فکر کرتا ہے خصوصا اس سبق پر تو اس پر عجیب اسرار و رموز کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اس سبق کے اندر ایسے لمحات فکر واحساس آتے ہیں جن کا اثر انسان کی روح کی گہرائیوں تک جا اترتا ہے ۔ ذرا میدان معرکہ کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں :
قرآن کریم کی یہ آیت محض ایک فقہی اور قانونی مسئلہ نہیں بیان کرتی کہ صلوۃ الخوف اس طرح ہوگی اس کے اندر تعلیم وتربیت کا بیشمار سامان ہے جس کے ذریعے ایک انقلابی جماعت کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اسے انقلابی عمل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے ۔
آیت سے جو پہلی بات معلوم ہوتی ہے وہ…
Read the full tafseer →5 یعنی خوف کے وقت بوجہ تنگی اور بےاطمینانی اگر نماز میں کسی طرح کی کوتاہی ہوگئی تو نماز خوف سے فراغت کے بعد ہر وقت اور ہر حالت میں کھڑے ہو یا بیٹھے یا لیٹے اللہ کو یاد کرو حتٰی کہ عین ہجوم اور مقاتلہ کے وقت بھی کیونکہ وقت کی تعیین اور دیگر قیود کی پابندی تو بحالت نماز تھی جن کی وجہ سے تنگی اور بےاطمینانی پیش آنے کا موقع ہے۔ اس کے سوا ہر حالت میں بلا دقّت اللہ کو یاد کرسکتے ہو کسی حالت میں اس کی یاد سے غافل نہ رہو۔ عبد اللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا کہ صرف وہ شخص کہ جس کے عقل و حواس کسی وجہ سے مغلوب ہوجائیں البتہ معذور ہے ورنہ کوئی شخص اللہ کی یاد نہ کرنے میں معذور نہیں۔
1 یعنی جب…
Read the full tafseer →آیت 103 فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ ج
چلتے پھر تے ‘ اٹھتے بیٹھتے ‘ سواری پر ‘ پیدل چلتے ہوئے ہر حالت میں اللہ کا ذکر جاری رہنا چاہیے۔ یہ ذکر کثیر صرف نماز کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر حالت میں اس کا اہتمام رہنا چاہیے۔ جیسے سورة الجمعہ میں حکم دیا گیا ہے : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ‘ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔…
Read the full tafseer →141 نمازوں کے اوقات
جنگ میں نماز اسی وقت ہی ادا کی جاسکتی ہے جب موقع ملے، اس دوران بھی اللہ کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے پھر جب حالات معمول پر آجائیں تو نماز بھی معمول کے مطابق پڑھی جائے اور نمازوں کے اوقات کا بھی خیال رکھا جائے۔ احادیث کی رو سے نمازوں کے اوقات درج ذیل ہیں :
1۔ آپ نے فرمایا ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے لے کر آدمی کا سایہ اس کے برابر ہونے تک ہے۔ اور عصر کا وقت (سایہ برابر ہونے سے لے کر) دھوپ میں زردی آنے تک ہے۔ اور نماز مغرب کا وقت (سورج غروب ہونے سے لے کر) شفق غائب ہونے تک ہے اور عشاء کا وقت (شفق غائب ہونے سے لے کر ٹھیک آدھی رات تک ہے اور صبح کا وقت طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک…
Read the full tafseer →291 ۔ (غرض ہر صورت میں حال کے مناسب) علی ای حال کنتم (قرطبی) (آیت) ” علی جنوبھم “۔ کے لفظی معنی ہیں۔ اپنے پہلوؤں پر۔ یا اردو محاروہ میں مراد لیٹنے سے ہے۔ (آیت) ” فاذکروا للہ “۔ مطلب یہ ہوا کہ تخفیف نماز میں تو یہ ہوگئی باقی ذکر الہی میں کوئی تخفیف نہیں۔ اور اسی لیے ہے۔ یہاں تک کہ عین قتال کے وقت بھی ذکر الہی دل سے تو جاری ہی رہ سکتا ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ احکام شریعت کا اتباع بجائے خود ذکر الہی ہے۔ (آیت) ” فاذا قضیتم الصلوۃ “۔ الصلوۃ سے یہاں مراد وہی نماز خوف ہے جس کی ایک ہیئت مخصوص ہے عام نمازی ہئیت سے ہٹی ہوئی۔ اس نماز کے لئے لفظ (آیت) ” قضیتم “۔ ارشاد فرمانا اس کی دلیل ہے کہ یہ بظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
آیت نمبر 101 تا 104
ترجمہ : اور جب تم سفر کرو تو نماز میں قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، بایں طور کہ تم چار (رکعت) کی دو کرلو، اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تمہیں تکلیف پیش آئے گی کہ کافر تمہیں ستائیں گے، یہ نزول کے وقت کے واقعہ کا بیان ہے لہٰذا اس کا مفہوم مراد نہیں ہے، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ سفر سے سفر طویل مراد ہے اور وہ چار برید ہیں جو مساوی ہے دو مرحلوں کے، اور اللہ کے قول '' فلَیْسَ عَلَیکُمْ جُنَاح '' سے سمجھا جاتا ہے کہ قصر رخصت ہے نہ کہ واجب اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے، یقینا کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں (یعنی) ان کی عداوت کھلی ہوئی ہے، اور اے محمد جب آپ ان میں موجود ہوں اور…
Read the full tafseer →فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبکم پھر جب تم اس نماز کو ادا کر چکو تو اللہ کی یاد میں لگ جاؤ کھڑے بھی اور بیٹھے بھی اور پہلو کے بل لیٹے بھی۔ یعنی ہر وقت تسبیح ‘ تحمید ‘ تہلیل اور تکبیر میں مشغول رہ کر اللہ کی یاد کرو۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ تمام اوقات میں اللہ کی یاد کرتے تھے۔ رواہ ابو داؤد۔ ظاہر یہ ہے کہ آیت اور حدیث میں دوام ذکر سے ذکر قلبی مراد ہے زبان سے ہر وقت ذکر تو ممکن ہی نہیں ہے۔
بعض علماء نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب تم صلوٰۃ خوف سے فارغ ہوجاؤ تو پھر اللہ کا ذکر کرو یعنی نماز پڑھو ‘ صحت کی حالت میں کھڑے ہو کر اور بیماری کی حالت میں یا…
Read the full tafseer →(103) اہل ایمان تم جب نماز خوف سے فارغ ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ کی یاد میں اگر تندرست ہو تو کھڑے ہوکر، بیمار ہو تو بیٹھ کر اور زخمی ہو تو جس کی حالت نازل ہو وہ لیٹ کر نماز کی ادائیگی میں لگ جائے اس کے بعد سفر ختم کرکے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ تو حسب سابق پوری نماز پڑھو، یقیناً نماز فرض ہے، مسافر پر دو رکعتیں اور مقیم پر چار۔
Read the full tafseer →فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ : یعنی صلاۃ الخوف میں نماز کی حالت میں اذکار پورے نہیں ہوسکتے، اس لیے نماز پوری ہونے پر کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرو، تاکہ تلافی ہوجائے، اس کے علاوہ ہر حال ہی میں ذکر کی کثرت ہونی چاہیے۔ جنگ کے موقع پر تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خاص حکم دیا، فرمایا : (اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) [ الأنفال : 45 ] ”جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“
فَاِذَا اطْمَاْنَـنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ۚ: یعنی جب خوف کی حالت ختم ہوجائے اور دشمن کا کوئی خطرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
آیت نمبر 103 تا 104۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” قضیتم “ اس کا معنی ہے تم نماز خوف سے فارغ ہوجاؤ، یہ دلیل ہے کہ قضا کا لفظ اس فعل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو وقت کے اندر کیا جائے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فاذا قضیتم مناسککم “۔ (بقرۃ : 200) یہ پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاذکرواللہ قیما وقعودا وعلی جنوبکم “۔ جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ یہ ذکر جس کا حکم دیا گیا ہے وہ نماز خوف کے بعد ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 107 دارالکتب العلمیہ) یعنی جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دل اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
صلاۃ الخوف کا طریقہ
(1) عبد الرزاق، سعید بن منصور وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید وابو داؤد و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتن ودار قطنی و طبرانی وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے ابو عیاش زرقی ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عسفان میں تھے مشرکین ہم سے ملے ان پر خالد بن ولید امیر تھے اور وہ مشرک ہمارے اور قبیلہ کے درمیان حائل تھے ہم کو نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکوں نے کہا یہ لوگ (یعنی مسلمان) اپنے حال پر تھے کاش ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے پھر انہوں نے (آپس میں کہا) ابھی ایک نماز ان پر آئے گی جو ان کو اپنے بیٹوں اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ جبرئیل…
Read the full tafseer →[ فَاِذَا : پھر جب ] [ قَضَیْتُمُ : تم پورا کرو ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ فَاذْکُرُوا : تو تم یاد کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ قِیٰـمًا : کھڑے ہوئے ] [ وَّقُعُوْدًا : اور بیٹھے ہوئے ] [ وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ : اور اپنی کروٹوں پر ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ اطْمَاْنَنْتُمْ : تم مطمئن ہو ] [ فَاَقِیْمُوا : تو تم قائم کرو ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ اِنَّ : بیشک ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز ] [ کَانَتْ : ہے ] [ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں پر ] [ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا : مقرر وقت پر فرض ]
Read the full tafseer →انفاق فی سبیل اللہ نماز روزہ اور ذکر کا ثواب :
حضرت سہل بن معاذ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ فی سبیل اللہ جو مال خرچ کیا جائے، نماز، روزہ اور ذکر کا ثواب اس پر سات سو گنا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ (الترغیب و الترہیب صفحہ 267: ج 2)
پھر فرمایا (فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ) (پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو نماز کو قائم کرو) مفسرین نے فرمایا ہے اس کا تعلق (وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی ا آاَرْضِ ) سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سفر سے واپس ہو کر مقیم ہوجاؤ تو پوری نماز پڑھو نیز اس کا تعلق نماز خوف سے بھی ہوسکتا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب حالت خوف ختم ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
حکم بست وہفتم متعلق بہ صلوۃ سفر وصلاۃ خوف۔
قال تعالیٰ واذا ضربتم فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و ہجرت کا ذکر تھا اور غالب احوال میں جہاد و ہجرت کے لیے سفر کنا پڑتا ہے اور اب ان آیات میں حالت جہاد اور سفر میں نماز پڑھنے کی تعلیم وطریقہ بیان فرماتے ہیں اور سفر اور خوف کی وجہ سے نماز میں جو رعایتیں اور سہولتیں عطا کی ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔
حکم صلاۃ سفر۔
اور جب تم سفر کرو زمین میں جس کی مقدار تین منزل ہو یا اڑتالیس میل ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں بلکہ ضروری ہے کہ تم رباعی، (چار رکعت والی نماز میں سے دو رکعت) کم کردو اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے بیشک…
Read the full tafseer →76 جب بطریق مذکور صلوۃ الخوف ادا کر چکو تو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر جاری رکھو۔ ذکر اللہ سے اللہ کی پکار مراد ہے لہذا ذکر اللہ بھی نماز کی طرح فرض ہے جو شخص اللہ کو یاد نہ کرے گویا اس نے فرض کو ترک کیا۔ ع : ذکر حق ہمچوں نمازے فرض دان۔ وروی عن ابن عباس ؓ انہ قال عقب تفسیر ھالم یعذر اللہ تعالیٰ احدا فی ترک ذکرہ الا المغلوب علی۔ اور پھر آخر میں (روح ج 5 ص 137) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ربط آیات
اس رکوع کی پہلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں اور خوف کی حالت میں نماز ادا کرنے کا طریقہ بیان فرمایا۔ دورانِ سفر بعض نمازوں کی رکعتوں کی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے اور سنت اور نوافل وغیرہ بھی ضروری نہیں رہتے۔ اور جب کسی دشمن کا خوف ہو یا کسی موذی جانور کی طرف سے خطرہ لاحق ہو ، تو اس موقع پر نماز خوف ادا کی جاسکتی ہے ، جس کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ ایک گروہ امام کے ساتھ نصف نماز پڑھے اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے۔ پھر دوسرا گروہ آ کر امام کے ساتھ مل جائے اور نصف نماز ادا کرے۔ ہر دو گروہ اپنی اپنی بقیہ نصف نماز علیحدہ ادا کریں۔ اس طرح نماز کی حالت میں…
Read the full tafseer →فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْكُرُوا اللہَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِكُمْ 0ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَـنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ 0ۚ اِنَّ الصَّلٰوۃَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا 103
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل :
الذّكر ذکران :
ذكر بالقلب .
وذکر باللّسان .
وكلّ واحد منهما ضربان :
ذكر عن نسیان .
وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
ف : اس کو صلواۃ الخوف کہتے ہیں جو جماعت کی فضیلت کے لئے اسلام میں قائم ہے خود آنحضرت ﷺ کے روبرو یہ پیش آیا تھا اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ امام کے ساتھ ایک گروہ مسلمین ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں جا کھڑا ہو اور جو گروہ دشمن کے مقابلہ میں تھا وہ آکر امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شریک ہوجائے اور ہر گروہ ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لے اور نماز پڑھنے میں ہتھیار ساتھ رکھیں اور ہوشیار رہیں اور جب مقابلہ ہو اور اس کی بھی فرصت نہ ہو تو ہر حال میں اللہ کو یاد کرلینا چاہیے اور جو نماز قضا ہوگئی ہے اس کو بعد میں ادا کریں۔ 12 منہ
ترکیب : واذا ضربتم شرط فلیس الخ جواب ان تقصروا ای فی…
Read the full tafseer →فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ ج فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ج اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا
” پس جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ‘ بیٹھے اور لیٹے۔ پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو پھر پوری نماز قائم کرو، بیشک نماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔ “ (النسآء : 103)
صلاۃ الخوف میں کمی کی تلافی ذکر اللہ کی کثرت سے
جب تم نماز پڑھ چکو سے مراد یہ ہے کہ تم نے خوف کے باعث صلاۃ الخوف پڑھی ہے۔ جس میں امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کی اور باقی ایک ایک رکعت اپنے طور پر اور وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حالت جنگ اور سفر میں نماز مختصر پڑھنے کی اجازت تھی اب مقیم کو بروقت اور پوری نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ نماز کے بعد اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔
ذکر ایسی عبادت ہے کہ جسے کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ نماز بذات خود بہت بڑا ذکر ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کثرت کے ساتھ یاد الٰہی میں مصروف رہنے کا حکم فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔[ رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب ھل یتتبع المؤذن فاہ ھھناوھھنا ] یہاں تک کہ رات…
Read the full tafseer →تین طرز تفسیر :
آیت 103 : فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْداً وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ ( جب تم نماز سے فارغ ہوچکو۔ تو اللہ تعالیٰ کو قیام وقعود اور اپنے پہلوئوں پر پڑے یاد کرو) یعنی تمام احوال میں ذکر اللہ کی مداومت کرو۔ یا جب نماز کی ادائیگی کا ارادہ کرو تو کھڑے نماز ادا کرو جبکہ کھڑے ادا کرسکتے ہو۔ اور اگر قیام سے عاجز ہو تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھنے کی سکت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر۔ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ (جب تم اطمینان کی حالت میں ہوجائو) یعنی خوف زائل ہو کر اطمینان میسر آجائے۔ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (تو نماز کو قائم کرو) یعنی ایک جماعت کے ساتھ اس کو مکمل ادا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 103۔:
(آیت)” فاذا قضیتم الصلوۃ “۔ جب تم صلوۃ خوف سے فارغ ہوجاؤ ، (آیت)” فاذکروا اللہ “ اللہ کے ذکر میں لگ جاؤ، ” قیاما “ صحت کی حالت میں کھڑے ہو کر ” وقعودا “ اور حالت مرض میں بیٹھ کر (آیت)” وعلی جنوبکم “ زخمی یا اپاہج ہونے کی وجہ سے، بعض نے کہا اللہ کو یاد کرو تسبیح ، تحمید ، تہلیل ، اور تجمید کے ساتھ ہر حال میں ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ (آیت)” فاذا اطماننتم “ جب تم سکون اور اطمینان کی حالت میں ہو (آیت)” فاقیموا الصلوۃ “ تو تم اس نماز کو تمام ارکان کے ساتھ پورا پورا ادا کرو۔ (آیت)” ان الصلوۃ کانت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(103 ۔ 104) ۔ اوپر کی آیتوں میں صلوٰۃ الخوف کی اجازت تھی اور صلوۃ الخوف میں لڑائی کا خدشہ دل میں رہتا ہے اس لئے رکوع سجدہ اس طرح کے اطمینان سے نہیں ہوسکتا جس طرح امن کی حالت میں ہوسکتا ہے۔ اس واسطے فرمایا کہ صلو ۃ الخوف کے بعد اللہ کا ذکر کثرت سے ہر حال میں کیا جائے۔ تاکہ لڑائی کے خدشہ کے سبب سے اس نماز کے ارکان میں جو کچھ کمی ہوئی ہے وہ آسانی سے پوری ہوجائے کیونکہ ذکر الٰہی میں نماز کی طرح نہ وقت کی قید ہے نہ وضو کی چناچہ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بلا قید وقت اور وضو کے ہر حال میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے 1۔ پھر فرمایا کہ صلوۃ الخوف میں وقت اور تکمیل…
Read the full tafseer →آیت 103
جب تم اپنی نماز سے فارغ ہوجاؤ، یعنی نماز خوف وغیرہ سے تو اپنے تمام احوال اور تمام ہیات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ یہاں یہ حکم خاص طور پر نماز خوف کے بارے میں دیا گیا ہے، جس کے چند فائدے ہیں۔
(1) قلب کی صلاح و فلاح اور اس کی سعادت، اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی انابت اور اس کے ساتھ محبت میں پنہاں ہے نیز اس بات میں ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی حمد وثناء سے لبریز رہے۔ سب سے بڑا ذریعہ جس سے یہ مقصد حاصل ہوتا ہے نماز ہے جو درحققیت بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔
(2) نماز حقائق ایمان اور معاف ایقان پر مشتمل ہے جو اس امر کے موجب ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر دن اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے ( فاذا اطماننتم الصلوٰۃ ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتاباً موقوتا۔ اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پوری نماز پڑھو۔ نماز در حقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔ حسن اور مجاہد نیز قتادہ سے مروی ہے کہ جب تم واپس اپنے پانے وطن اور ٹھکانوں پر پہنچ جائو تو پوری نماز پڑھو اور قصر نہ کرو۔
سدی اور کچھ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ تم پر نماز کے رکوع و سجود کو پوری طرح ادا کرنا لازم ہے جبکہ تم چل نہ رہے ہو اور نہی سواریوں پر سور ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جن حضرات نے قول باری ( واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان نقصروا من الصلوٰۃ) میں قصر سے تعداد رکعات میں…
Read the full tafseer →276 ہر حال میں ذکر الہٰی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کیا کرو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے۔ یعنی ہر حال میں ذکر الہی اور یاد خداوندی سے سرشار رہنا چاہیئے کہ اللہ پاک کا ذکر اور اس کی یاد دلشاد دلوں کی قوت اور عزم و ہمت کی مضبوطی کا باعث ہے۔ اس لئے عین معرکہ میں بھی اس کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ سورة انفال میں فرمایا گیا { اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلََّکُمْ تُفْلِحُوْنَ } (الانفال : 45) اب دیکھئے جہاد کے موقع پر قرآنی تعلیمات کیا ہیں، اور آج کے مسلمان کا عمل کیا ہے۔ وہ جب اس موقع پر بھی غیر اللہ کو پکارتا،…
Read the full tafseer →اللہ کو یاد کرو
تشریح : جنگ ہو، سفر ہو یا بیماری نماز ہر صورت میں ادا کرنی ضروری ہے جو رعایتیں دی گئی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ۔ اب اس آیت میں اللہ حکم دیتا ہے کہ مشکلات میں نماز تو بس فرض ہی پورا ہوتا ہے، اس لیے جب حالت جنگ ختم ہوجائے اور امن و سکون ہوجائے تو پھر پورے سکون و اطمینان اور خشوع و خضوع سے نماز قائم کرو۔ اس کے بعد اللہ رب العالمین نے فرمایا : اللہ کو ہر وقت دل میں، زبان سے، اٹھتے، بیٹھتے یاد کرتے ر ہو اس ذکر کے لیے کوئی پابندی نہیں، ہر وقت، ہر صورت اس کو یاد کیا جاسکتا ہے۔ مگر نماز کی ادائیگی کے لیے وقت کی پابندی ضروری ہے نہ بےوقت نماز ہوسکتی ہے اور نہ ہی وقت پر ٹالی جاسکتی ہے۔ صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
رکوع نمبر 15 آیات 101 تا 104 ۔ اسرار و معارف :
واذا ضربتم ۔۔۔ علیما حکیما۔
اللہ کریم نے جہاں دین میں استقامت اور ہمت و جرات کا حکم فرمایا ہے وہاں رخصتیں بھی دی ہیں۔ رعایتیں بھی برتی ہیں جیسے حدیث معراج میں مشہور واقعہ ہے کہ پچاس نمازوں کا حکم ہوا ایک رات دن میں پڑھی جائیں تو آپ ﷺ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کمی کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا الغرض بار بار جانا آنا ہوا حکم ہوا چالیس کردیتے ہیں پھر تیس ، بیس ، دس ، حتی کہ پانچ تو روایات میں ملتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ پانچ بھی زیادہ ہیں۔ میری امت دو کا حق بھی ادا نہ کرسکی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اب مزید درخواست کرتے…
Read the full tafseer →ف 2 کہ مبادا تمہیں غافل پاکر وہ تم پر اچانک حملہ کردے۔3 یعنی ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رہو۔ یاں تک کہ عین اس وقت بھی جب معر کہ قتال گرم ہو جمہور مفسرین نے اس کے یہی معنی کئے ہیں، بعض مفسرین نے اس کے یہ معنی بتائے ہیں کہ جب نماز پڑھنا چاہو تو معر کہ قتال گرم ہونے کی وجہ کھڑے، بیٹھے لیٹے جس طرح نماز پڑھ سکتے ہو پڑھ لو۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ (قرطبی)
4 یعنی جب خوف کی حالت ختم ہوجائے اور تم میدان جنگ سے پلٹ کر اپنے گھروں میں آجاتو نماز کے اس کے جملہ ارکان شرئط اور حددد کے ساتھ مقررہ اوقات پر ادا کرو۔ اور قصر نہ کرو۔ ( قرطبی) دوسرا مطلب جیسا کہ شاہ صاحب (رح) نے لکھا ہے یہ بھی…
Read the full tafseer →(4:103) اطماننتم۔ تم مطمئن ہوجاؤ۔ تم مطمئن ہوگئے۔ اطمینان سے ماضی جمع مذکر غائب۔
موقوتا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ وقت۔ مصدر۔ وقت مقرر کیا ہوا۔ یعنی جس کا وقت مقرر شدہ ہے۔ کتبا موقوتا۔ ایک فرض جس کی ادائیگی کا وقت مقرر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
آیت نمبر 101-104
لغات القرآن : ان تقصروا، یہ کہ تم قصر کرو۔ کنت، آپ ﷺ ہوں۔ اسلحۃ، ہتھیار۔ یمیلون، وہ حملہ کرتے ہیں۔ میلۃ واحدۃ، ایک دفعہ حملہ۔ مطر، بارش۔ تالمون، تم تکلیف میں ہو۔ ترجون، تم امید رکھتے ہو۔
تشریح : ان آیات میں قصر نماز اور صلوۃ خوف کا ذکر ہے ۔ سفر میں اور خوف میں دونوں حالات میں نماز مختصر بھی ہے اور مخصوص بھی۔ کتنے دور کے سفر میں قصر ہے، کتنا قصر ہے۔ کن نمازوں میں قصر ہے۔ کتنے دنوں کے قیام سے قصر ٹوٹتا ہے ، کیا قصر لازم ہے وغیرہ وغیرہ ان سوالات کے جواب مختلف آئمہ فکر نے قدرے اختلافات کے ساتھ دئیے ہیں۔ ایک بات ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ سفر میں قصر کیا ہے اور چاروں خلفائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
اوپر کی آیتوں میں صلٰوۃ الخوف کی اجازت تھی اور اس حالت میں رکوع و سجدہ اطمینان سے نہیں ہوسکتا جس طرح امن کی حالت میں ہوسکتا ہے۔ اس واسطے فرمایا کہ صلٰوۃ الخوف کے بعد اللہ کا ذکر کثرت سے ہر حال میں کیا جاوے تاکہ لڑائی کے خدشہ کے سبب سے اس نماز کے ارکان میں جو کچھ کمی ہوئی ہے وہ آسانی سے پوری ہوجاوے۔ کیونکہ ذکر الٰہی میں نماز کی طرح نہ وقت کی قید ہے نہ وضو کی۔ آنحضرت ﷺ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ صلٰوۃ الخوف میں وقت اور تکمیل ارکان کی پوری پابندی نہ ہوسکے تو حرورت شرعی کے سبب سے معاف ہے۔ لیکن امن کی حالت میں اس طرح ادھوری نماز کی عادت نہ ڈالی جائے کہ امن کی حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
[69] یہ ہے حالت جنگ میں نماز پڑھنے کا طریقہ۔ اگر جنگ کی حالت ایسی ہو کہ نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر قضا کرنی چاہئے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے غزوہ خندق میں کیا تھا۔
Read the full tafseer →نماز فرض موقوت ہے :
(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ نماز فرض موقوت ہے ، اس کا مقصد باوقت احساس فرائض ہے اور جب ہی حاصل ہوتا ہے جب پوری پابندی کے ساتھ نماز ادا کی جائے ۔
Read the full tafseer →ف 2 پھر جب تم یہ نماز خوف پوری کر چکو تو اللہ تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے رہو اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی مداد مت کرو پھر جب تم کو ہر طرح اطمینان نصیب ہوجائے یعنی مسافر ہو تو سفر ختم ہوجائے اور جہاد میں ہو تو دشمن کا خوف جاتا رہے تب تم نماز کو اس کے عام قاعدے کے مطابق پڑھنے لگو یقینا نماز مسلمانوں پر معین اور مقررہ اوقات کے ساتھ موقت اور فرض ہے۔ (تیسیر)
کتاب کے معنی ہیں مکتوب یعنی مفروض، موقوت، محدود بالا وقات یعنی نماز مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے اور اوقات کے ساتھ محدود ہے۔ مطل یہ ہے کہ جب تم لوگ صلوۃ الخوف ادا کر چکو تو پھر حسب عادت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو جائو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ف 3۔ یعنی ہر حالت میں حتی کہ عین قتال کے وقت بھی دل سے بھی اور احکام کے اتباع سے بھی کہ وہ بھی ذکر ہے چناچہ قتال میں خلاف شرع کوئی کاروائی کرنا ناجائز ہے۔ غرض نماز تو ختم ہوئی ذکر ختم نہیں ہوتا نماز میں تو تخفیف ہوگئی تھی لیکن یہ بحالہ ہے۔
Read the full tafseer →حالت جنگ میں نماز ادا کرنے کے بعد ذکر الٰہی کی مشغولیت
176 ۔ ہمارے ہاں معروف یہ ہے کہ ذکر اللہ کیلئے ضروری ہے کہ تسبیح ہاتھ میں ہو اور ایک کونہ میں الگ تھلگ بیٹھ کر اللہ اللہ کرتا رہے کوئی مرے یا جئے اس کی بلا سے۔ آپ اس جگہ ذکر اللہ سے یہ مفہوم نہ نکالیں جب عین حالت نماز میں بھی جو ذکر اللہ کی ایک خاص الخاص حالت ہے اس میں بھی اپنے دفاع کی طرف غافل ہونے کو جرم قرار دیا ہے تو وہ نماز کے بعد اس طرح کا ذکر کیوں ارشاد فرمائے گا اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حالت جنگ میں ضروریات زندگی کے جس طرح سارے کام تم پورے کرتے ہو گویا کبھی تم لیٹنے کا موقع ملے گا کبھی کھڑے رہنے کا حکم ہوگا اور کبھی بیٹھ جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
The concessions given in travel
(In Islamic legal terminology, Safar means journey or travel; Qasr refers to the making of one's Salah short while in that status. Thus, four obligatory Raka’ at of Zuhr, 'Asr and 'Isha are reduced in number and confined to two Raka'at only.)
Rulings:
1. Full Sarah is made in a journey which is less than 48 miles.
2. If, after reaching the destination at the end of the journey, one intends to stay there for less than fifteen days, rules relating to 'journey' will continue to apply to him, that is, the obligatory four Raka'at of Salah will be reduced to half.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
134. These words have led Abu Yusuf and Hasan b. Ziyad to the view that Prayer in a state of insecurity was confined to the time of the Prophet (peace be on him) alone. There are numerous examples, however, where a Qur'anic injunction was addressed specifically to the Prophet (peace be on him), yet holds good for the succeeding periods. Moreover, it is established that many outstanding Companions also resorted to this form of Prayer, even after the death of the Prophet (peace be on him), and there are no reports of disagreement on this question among the Companions. (For discussion see…
Read the full tafseer →