Explained with ayahs 103–104
صلوٰۃ خوف کے بعد کثرت ذکر
جناب باری عزاسمہ اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ نماز خوف کے بعد اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو، گو ذکر اللہ کا حکم اور اس کی ترغیب و تاکید اور نمازوں کے بعد بلکہ ہر وقت ہی ہے، لیکن یہاں خصوصیت سے اس لئے بیان فرمایا کہ یہاں بہت بڑی رخصت عنایت فرمائی ہے نماز میں تخفیف کردی، پھر حالت نماز میں ادھر ادھر ہٹنا جانا اور آنا مصلحت کے مطابق جائز رکھا، جیسے حرمت والے مہینوں کے متعلق فرمایا ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، جب کہ اور اوقات میں بھی ظلم ممنوع ہے لیکن ان کے مہینوں میں اس سے بچاؤ کی مزید تاکید کی، تو فرمان ہوتا ہے کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہو، اور جب اطمینان…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 138
یعنی گروہ کفار جو اس وقت اسلام کی دعوت اور نظام اسلامی کے قیام کی راہ میں مانع و مزاحم بن کر کھڑا ہوا تھا۔
سورة النِّسَآء 139
یعنی تعجب کا مقام ہے کہ اگر اہل ایمان حق کی خاطر اتنی تکلیفیں بھی برداشت نہ کریں جتنی کفار باطل کی خاطر برداشت کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے سامنے صرف دنیا اور اس کے ناپائیدار فائدے ہیں اور اس کے برعکس اہل ایمان رب السمٰوات والارض کی خوشنودی و تقرب اور اس کے ابدی انعامات کے امیدوار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
سفر اور قصر کے احکام
مسئلہ۔ جو سفر تین منزل سے کم ہو اس سفر میں نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔
مسئلہ۔ اور جب سفر ختم کر کے منزل پر جا پہنچے تو اگر وہاں پندرہ روز سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تب تو وہ حکم سفر میں ہے، فرض نماز چارگانہ آدھی پڑھی جائے گی اور اس کو قصر کہتے ہیں اور اگر پندرہ روز یا زیادہ کا رہنے کا ایک ہی بستی میں ارادہ ہو، تو وہ وطن اقامت ہوجائے گا وہاں بھی وطن اصلی کی طرح قصر نہیں ہوگا، بلکہ نماز پوری پڑھی جائے گی۔
مسئلہ۔ قصر صرف تین وقت کے فرائض میں ہے اور مغرب اور فجر میں اور سنن و وتر میں نہیں ہے۔
مسئلہ۔ سفر میں خوف نہ ہو تو بھی قصر نماز پڑھی جائے گی۔
مسئلہ۔ بعض لوگوں کو پوری نماز کی…
Read the full tafseer →وَلَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَاۗءِ الْقَوْمِ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْ لَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ يَاْ لَمُوْنَ كَمَا تَاْ لَمُوْنَ ۚ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِــيْما۔
" القوم " کا لفظ، جب اس سیاق وسباق میں آئے گا جس سیاق وسباق میں یہاں تو اس سے مراد دشمن اور حریف ہوگا۔ کلامِ عرب میں اس مخصوص استعمال کی مثالیں بہت ہیں۔ قرآن میں بھی اس کی مثال موجود ہے۔ مثلاً ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ : اگر تمہیں کوئی چوٹ پہنچی تو کوئی تعجب کی بات نہیں، آخر دشمن کو بھی اسی طرح کی چوٹ پہنچی۔
ترغیب جہاد کے مضمون کی مزید تاکید : یہ اسی ترغیب جہاد کے مضمون کی…
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی اپنے دشمن کے تعاقب کرنے میں کمزوری مت دکھاؤ بلکہ ان کے خلاف بھرپور جہدوجہد کرو اور گھات لگا کر بیٹھو۔
14۔ 2 یعنی زخم تو تمہیں بھی اور انہیں بھی دونوں کو پہنچے ہیں لیکن ان زخموں پر تمہیں تو اللہ سے اجر کی امید ہے۔ لیکن وہ اس کی امید نہیں رکھتے۔ اس لئے اجر آخرت کے حصول کے لئے جو محنت و کاوش تم کرسکتے ہو وہ کافر نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →65: جنگ کے اختتام پر لوگ تھکے ہوئے ہوتے ہیں، اور اس وقت دشمن کا تعاقب بھاری معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر جنگی مصلحت ہو اور امیر حکم دے تو تعاقب واجب ہے۔ ایسے میں یہ سوچنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ جس طرح ہم تھکے ہوئے ہیں، دشمن بھی تو تھکا ہوا ہے، اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور ثواب کی جو امید ہے وہ دشمن کو حاصل نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 104۔
یہ معدودے چند الفاظ ہیں ‘ جن میں دو ٹوک اور واضح خطوط کھینچ دیے گئے ہیں ‘ یہ بتاتے ہیں کہ ایک مومن کی راہ کس قدر طویل اور پر مشقت ہے ۔ مومنین ہمیشہ چکی کے دو پاٹوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ بیشک اس دائمی معرکے میں وہ رنج والم اور گہرے زخم پاتے ہیں لیکن وہ یہ سوچیں کہ کیا یہ تکالیف صرف ان پر ہی آئی ہیں یا دشمنوں کو بھی انہیں جیس تکالیف سے سابقہ درپیش ہے ۔ دشمن بھی تو رنج والم سے دوچار ہوتے ہیں ۔ انہیں بھی تو زخم آتے ہیں۔ لیکن تم دونوں میں فرق یہ ہے کہ اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور اللہ سے شاندار جزا کے امیدوار ہیں اور ان کے دشمنوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بےمقصد…
Read the full tafseer →2 یعنی کفار کی جستجو اور ان کے تعاقب میں ہمت سے کام لو اور کوتاہی نہ کرو۔ اگر تم کو ان کی لڑائی سے زخم اور درد پہنچا ہے تو اس تکلیف میں تو وہ بھی شریک ہیں اور آئندہ تم کو حق تعالیٰ سے وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں یعنی دنیا میں کفار پر غلبہ اور آخرت میں ثواب عظیم اور اللہ تعالیٰ تمہارے مصالح اور تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے اس کا جو حکم ہے اس میں تمہارے لئے بڑے منافع اور حکمتیں ہیں دین اور دنیا دونوں کے لئے۔ سو اس کے امتثال کو غنیمت اور بڑی نعمت سمجھو۔
Read the full tafseer →آیت 104 وَلاَ تَہِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ ط۔
حق و باطل کی جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس آخری مرحلے میں آکر تھک نہ جانا اور دشمن کا پیچھا کرنے میں سست مت پڑجانا ‘ ہمت نہ ہار دینا۔
اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّہُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ ج۔
یہ بڑا پیارا انداز ہے کہ اس کشمکش میں اگر تم لوگ نقصان اٹھا رہے ہو تو کیا ہوا ؟ تمہارے دشمن بھی تو ویسے ہی نقصان سے دو چار ہو رہے ہیں ‘ انہیں بھی تو تکالیف پہنچ رہی ہیں ‘ وہ بھی تو زخم پر زخم کھا رہے ہیں ‘ ان کے لوگ بھی تو مر رہے ہیں۔
وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لاَ یَرْجُوْنَ ط
تمہیں تو جنت کی امید ہے ‘ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →142 یعنی جنگ میں جیسے تمہیں جانی نقصان یا دکھ پہنچتا ہے ویسے ہی دشمن قوم کو بھی پہنچتا ہے۔ پھر جب وہ باطل پر ہو کر یہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں تو پھر تم حق پر ہو کر کیوں برداشت نہ کرو ؟ علاوہ ازیں تم میں سے کوئی شہید ہوجائے یا زندہ سلامت گھر آجائے دونوں صورتوں میں تم اللہ سے اجر وثواب کی توقع رکھتے ہو جو ان کو مطلق نہیں ہوتی۔ پھر تم آخر ان کا پیچھا کر کے ان کا قلع قمع کیوں نہ کرو۔ اس معاملہ میں ہرگز کمزوری یا سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →294 ۔ (جب تعاقب کی ضرورت آپڑے) روایتوں میں آتا ہے کہ آیت غزوۂ حمراء الاسد کے سلسلہ میں نازل ہوئی تھی، اس کا ذکر غزوۂ احد کے سلسلہ میں سورة آل عمران رکوع 18 میں آچکا ہے۔ (آیت) ” الذین استجابوا للہ والرسول “۔ کے ماتحت۔
295 ۔ یعنی اجر آخرت کی۔ جس کے مقابل کوئی چیز منکروں کے پاس نہیں۔ تو قوت قلب کے لحاظ سے تم ان سے کہیں بڑھے چڑھے رہے۔ دنیوی فتح مندیوں اور کامیابیوں کی پیش گوئیاں بھی اس کے تحت میں آسکتی ہیں۔
296 ۔ چناچہ علیم کل ہونے کی بنا پر اس نے تمہاری قوت تحمل سے زیادہ تمہیں کوئی حکم نہیں دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
آیت نمبر 101 تا 104
ترجمہ : اور جب تم سفر کرو تو نماز میں قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، بایں طور کہ تم چار (رکعت) کی دو کرلو، اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تمہیں تکلیف پیش آئے گی کہ کافر تمہیں ستائیں گے، یہ نزول کے وقت کے واقعہ کا بیان ہے لہٰذا اس کا مفہوم مراد نہیں ہے، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ سفر سے سفر طویل مراد ہے اور وہ چار برید ہیں جو مساوی ہے دو مرحلوں کے، اور اللہ کے قول '' فلَیْسَ عَلَیکُمْ جُنَاح '' سے سمجھا جاتا ہے کہ قصر رخصت ہے نہ کہ واجب اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے، یقینا کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں (یعنی) ان کی عداوت کھلی ہوئی ہے، اور اے محمد جب آپ ان میں موجود ہوں اور…
Read the full tafseer →ولا تہنوا فی ابتغآء القوم . اور (اے مسلمانو) اس قوم یعنی کافروں سے لڑنے کی طلب میں کمزوری نہ دکھاؤ۔ (ہمت نہ ہارو)
ان تکونوا تالمون . اگر تم (زخموں کا) دکھ محسوس کرتے ہو۔
فانہم یالمون کما تالمون . تو وہ بھی تمہاری طرح زخموں کا دکھ محسوس کرتے ہیں یعنی لڑائی کا ضرر دونوں کو برابر پہنچتا ہے ‘ دُکھ تمہارے لئے ہی مخصوص نہیں ہے۔
وترجون من اللہ ما لا ترجون . اور تم کو اللہ سے اجر وثواب کی امید ہے وہ کافروں کو نہیں ہے۔ لہٰذاتم کو جہاد کی رغبت اور تکالیف پر صبر کافروں سے زیادہ ہونا چاہئے۔
وکان اللہ علیما . اور اللہ (تمہارے اعمال اور نیتوں کو) خوب جانتا ہے۔
حخیما . اور (جو کچھ حکم دیتا یا ممانعت کرتا ہے…
Read the full tafseer →(104) غزوہ احد کے بعد ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے تعاقب کا رسول اکرم ﷺ نے جو حکم دیا تھا اللہ تعالیٰ اس کی ترغیب فرمارہا ہے، کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے تعاقب میں ہمت مت ہارو اگر تم الم رسیدہ اور غمگین ہو تو وہ بھی الم رسیدہ ہیں اور تمہیں اللہ کی طرف سے ثواب کی امید ہے اور ان کو تو عذاب الہی کا ڈر ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے زخموں سے واقف ہے اس نے تمہیں حکمت کے تحت دشمنوں کے تعاقب کا حکم دیا ہے، یہاں سے اللہ تعالیٰ طعمہ بن ابیرق زرہ کے چرانے والے اور زید بن سمین یہودی کا جس نے اس چیز کو شہرت دی کا تذکرہ فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →وَلَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَاۗءِ الْقَوْمِ ۭ : یہ آیت اس آیت سے ملتی جلتی ہے : (اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ) [ آل عمران : 140 ] ”اگر تمہیں کوئی زخم پہنچے تو یقیناً ان لوگوں کو بھی اس جیسا زخم پہنچا ہے۔“ قرطبی نے جنگ احد میں زخم کھانے کے باوجود کفار کا پیچھا کرنے کو اس آیت کی شان نزول بتایا ہے، مگر الفاظ عام ہیں، اس لیے اس واقعے کے علاوہ ہر ایسے موقع پر یہی حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمت افزائی ہے کہ درد و الم میں تو تم یکساں ہو مگر اللہ سے اجر کی امید میں تو تمہارا اور ان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں، تو پھر ان کا پیچھا کرنے میں کیوں ہمت ہارتے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
آیت نمبر 103 تا 104۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” قضیتم “ اس کا معنی ہے تم نماز خوف سے فارغ ہوجاؤ، یہ دلیل ہے کہ قضا کا لفظ اس فعل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو وقت کے اندر کیا جائے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فاذا قضیتم مناسککم “۔ (بقرۃ : 200) یہ پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاذکرواللہ قیما وقعودا وعلی جنوبکم “۔ جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ یہ ذکر جس کا حکم دیا گیا ہے وہ نماز خوف کے بعد ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 107 دارالکتب العلمیہ) یعنی جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دل اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تھنوا “ سے مراد ہے تم کمزور نہ ہوجاؤ (دشمن کے مقابلہ میں) ۔
(2) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” ولا تھنوا فی ابتغاء القوم “ کہ تم دشمن کی قوم کی تلاش میں کمزور نہ ہوجاؤ۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان تکونوا تالمون “ یعنی اگر تم کو دیکھ پہنچے (اور فرمایا) ” وترجون من اللہ ما لا یرجون “ یعنی تم خیر کی امید رکھتے ہو۔
(4) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تم دشمن کی تلاش میں کمزور نہ ہوجاؤ اگر تم کو دکھ پہنچا ہے تو ان کو بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا کہ…
Read the full tafseer →[ وَلاَ تَہِنُوْا : اور تم سست مت ہو ] [ فِی ابْتِغَــآئِ الْقَوْمِ : اس قوم کی جستجو میں ] [ اِنْ : اگر ] [ تَـکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ : تکلیف اٹھایا کرتے ہو تم ] [ فَاِنَّــہُمْ : تو وہ لوگ (بھی) ] [ یَاْلَمُوْنَ : تکلیف اٹھاتے ہیں ] [ کَمَا : اس کی مانند جیسی ] [ تَاْلَمُوْنَ : تم تکلیف اٹھاتے ہو ] [ وَتَرْجُوْنَ : اور تم امید رکھتے ہو ] [ مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [ مَا : اس کی ‘ جس کی ] [ لاَ یَرْجُوْنَ : وہ امید نہیں رکھتے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
نوٹ : ان آیات میں قصر نماز اور صلوٰۃِ خوف کا بیان ہے جن کی تفصیل خاصی…
Read the full tafseer →دشمنوں کا پیچھا کرنے میں سستی نہ دکھاؤ
جب دشمنوں کا پیچھا نہ کیا جائے تو وہ شیر ہوجاتے ہیں اور اہل ایمان کو ضعیف اور کمزور سمجھنے لگتے ہیں اور حملے کرنے کے ارادے کرتے رہتے ہیں اس آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ دشمنوں کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو کمزور نہ ہوجاؤ۔ سستی کا مظاہرہ نہ کرو۔ پھر چونکہ دشمنوں کا پیچھا کرنے سے قتال کے مواقع بھی آجاتے ہیں اور اس میں قتل بھی ہوتے ہیں زخم بھی آتے ہیں اور بھی تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں اس لیے ان تکلیفوں کا احساس کم کرنے کے اور طبعی طور پر جو دکھ ہو اس کا ازالہ کرنے کے لیے۔
اگر تم دکھ پاتے ہو تو دشمن بھی تو تکلیف اٹھاتے ہیں :
ارشاد فرمایا کہ اگر تم دکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
حکم بست وہفتم متعلق بہ صلوۃ سفر وصلاۃ خوف۔
قال تعالیٰ واذا ضربتم فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و ہجرت کا ذکر تھا اور غالب احوال میں جہاد و ہجرت کے لیے سفر کنا پڑتا ہے اور اب ان آیات میں حالت جہاد اور سفر میں نماز پڑھنے کی تعلیم وطریقہ بیان فرماتے ہیں اور سفر اور خوف کی وجہ سے نماز میں جو رعایتیں اور سہولتیں عطا کی ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔
حکم صلاۃ سفر۔
اور جب تم سفر کرو زمین میں جس کی مقدار تین منزل ہو یا اڑتالیس میل ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں بلکہ ضروری ہے کہ تم رباعی، (چار رکعت والی نماز میں سے دو رکعت) کم کردو اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے بیشک…
Read the full tafseer →77 یہ ترغیب الی القتال ہے۔ القوم سے مراد مشرکین ہیں یعنی اگر کسی وقت مشرکین کا تعاقب کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس میں سستی اور کمزوری نہ دکھاؤ بیشک اس میں تمہیں تکلیف اٹھانی پڑے گی لیکن ساتھ ہی مشرکین کو بھی تکلیف ہوگی۔ تکلیف اٹھانے میں تو تم دونوں فریق برابر ہو مگر ان تکلیفوں کے بدلے اللہ کی رحمت و بخشش اور اخروی انعامات جن کے تم امید وار ہو مشرکین کا ان میں کوئی حصہ نہیں۔ اس لیے مشرکین کی تکلیف تو محض تکلیف ہی ہے لیکن تمہاری تکلیف پر اخروی اجر اور جاودانی نعمتیں مرتب ہوں گی۔ لہذا تمہیں اللہ کی راہ میں ہر تکلیف خوشی اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ربط آیات
اس رکوع کی پہلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں اور خوف کی حالت میں نماز ادا کرنے کا طریقہ بیان فرمایا۔ دورانِ سفر بعض نمازوں کی رکعتوں کی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے اور سنت اور نوافل وغیرہ بھی ضروری نہیں رہتے۔ اور جب کسی دشمن کا خوف ہو یا کسی موذی جانور کی طرف سے خطرہ لاحق ہو ، تو اس موقع پر نماز خوف ادا کی جاسکتی ہے ، جس کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ ایک گروہ امام کے ساتھ نصف نماز پڑھے اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے۔ پھر دوسرا گروہ آ کر امام کے ساتھ مل جائے اور نصف نماز ادا کرے۔ ہر دو گروہ اپنی اپنی بقیہ نصف نماز علیحدہ ادا کریں۔ اس طرح نماز کی حالت میں…
Read the full tafseer →وَلَا تَہِنُوْا فِي ابْتِغَاۗءِ الْقَوْمِ 0ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ يَاْلَمُوْنَ كَـمَا تَاْلَمُوْنَ 0ۚ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللہِ مَا لَا يَرْجُوْنَ 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِــيْمًا 104ۧ
وهن
الوَهْنُ : ضعف من حيث الخلق، أو الخلق . قال تعالی: قالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي
[ مریم/ 4] ، فَما وَهَنُوا لِما أَصابَهُمْ [ آل عمران/ 146] ، وَهْناً عَلى وَهْنٍ [ لقمان/ 14] أي : كلّما عظم في بطنها : زادها ضعفا علی ضعف : وَلا تَهِنُوا فِي ابْتِغاءِ الْقَوْمِ
[ النساء/ 104] ،
( و ھ ن ) الوھن
کے معنی کسی معاملہ میں جسمانی طور پر کمزور ہونے یا اخلاقی کمزور یظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
ف : اس کو صلواۃ الخوف کہتے ہیں جو جماعت کی فضیلت کے لئے اسلام میں قائم ہے خود آنحضرت ﷺ کے روبرو یہ پیش آیا تھا اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ امام کے ساتھ ایک گروہ مسلمین ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں جا کھڑا ہو اور جو گروہ دشمن کے مقابلہ میں تھا وہ آکر امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شریک ہوجائے اور ہر گروہ ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لے اور نماز پڑھنے میں ہتھیار ساتھ رکھیں اور ہوشیار رہیں اور جب مقابلہ ہو اور اس کی بھی فرصت نہ ہو تو ہر حال میں اللہ کو یاد کرلینا چاہیے اور جو نماز قضا ہوگئی ہے اس کو بعد میں ادا کریں۔ 12 منہ
ترکیب : واذا ضربتم شرط فلیس الخ جواب ان تقصروا ای فی…
Read the full tafseer →وَلَا تَہِنُوْا فِی ابْتِغَآئِ الْقَوْمِ ط اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّہُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ ج وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ع
” اور دشمن کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھائو۔ اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں جس طرح تم تکلیف اٹھاتے ہو۔ اور تم خدا سے وہ توقع رکھتے ہو جو توقع وہ نہیں رکھتے اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے۔ “ (النسآء : 104)
القوم کا معنی
اس آیت کریمہ میں ” القوم “ کا لفظ آیا ہے جس کا ترجمہ ہم نے دشمن کیا ہے۔ کیونکہ آیت کا سیاق وسباق اس بات پر دلالت کر رہا ہے ‘ بات دشمن کی ہو رہی ہے اسی کو اب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ جہاد کے مضمون سے پیوستہ۔
جہاد کے مسائل اور احکامات کا اس موقعہ پر اختتام کرنے سے پہلے حسب معمول تربیت اور نصیحت کے پہلو کو نمایاں فرمایا۔ کیونکہ سفر میں نماز پڑھنا خاص کر اوّل وقت پر ادا کرنا عام حالات کی نسبت مشکل ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا نماز کی ادائیگی اور اس کے اوقات کی پابندی کا ذکر فرمانے کے بعد جہادی خطاب کے آخر میں مجاہدین کو تسلی اور امید دلائی گئی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہیں جہاد کے راستے میں مشکلات پہنچیں۔ تم زخمی ہوئے ہو تو وہ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن یاد رکھو تمہارے دشمن اس سے دگنی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ اگر بدر و احد کو ملا کر دیکھا جائے تو وہ تم سے…
Read the full tafseer →آیت 104 : وَلَا تَہِنُوْا (کافروں کے سلسلہ میں کمزوری نہ دکھائو اور سستی نہ کرو) فِی ابْتِغَآئِ الْقَوْمِ (کافروں سے لڑنے کی طلب میں) اور ان کے سامنے رکاوٹ بننے میں۔ پھر اس ارشاد سے مسلمانوں پر حجت قائم کی۔ اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّہُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ (اگر تم دکھ محسوس کرتے ہو تو وہ بھی زخموں کا دکھ محسوس کرتے ہیں۔ اور تم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہو (ثواب کی) اور وہ اس کی توقع نہیں رکھتے) ۔
تلقین صبر :
مطلب یہ ہے کہ زخموں کی تکلیف یا قتل کا دکھ یہ فقط تمہارے ساتھ خاص نہیں بلکہ وہ تمہارے اور ان کے مابین مشترک ہے۔ ان کو…
Read the full tafseer →(تفسیر) 104۔:
(آیت)” ولا تھنوا فی ابتغاء القوم “۔ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ ابو سفیان اور اس کے ساتھی جب احد کے دن واپس لوٹ گئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے ایک جماعت کو بھیجا جب انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ (آیت)” ولا تھنوا فی ابتغاء القوم “۔
یعنی تم کمزوری نہ دکھاؤ، قوم کی تلاش میں ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے لیے (آیت)” ان تکونوا تالمون “ اگر تم (زخموں کا) دیکھ محسوس کرتے ہو ، (آیت)” فانھم یالمون “۔ وہ بھی تکلیف میں ہیں یعنی کفار (آیت)” کماتالمون وترجون من اللہ مالا یرجعون “۔ اور تمہیں جو دکھ درد پہنچا ہے اس کی وجہ سے تمہیں اللہ سے ثواب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(103 ۔ 104) ۔ اوپر کی آیتوں میں صلوٰۃ الخوف کی اجازت تھی اور صلوۃ الخوف میں لڑائی کا خدشہ دل میں رہتا ہے اس لئے رکوع سجدہ اس طرح کے اطمینان سے نہیں ہوسکتا جس طرح امن کی حالت میں ہوسکتا ہے۔ اس واسطے فرمایا کہ صلو ۃ الخوف کے بعد اللہ کا ذکر کثرت سے ہر حال میں کیا جائے۔ تاکہ لڑائی کے خدشہ کے سبب سے اس نماز کے ارکان میں جو کچھ کمی ہوئی ہے وہ آسانی سے پوری ہوجائے کیونکہ ذکر الٰہی میں نماز کی طرح نہ وقت کی قید ہے نہ وضو کی چناچہ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بلا قید وقت اور وضو کے ہر حال میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے 1۔ پھر فرمایا کہ صلوۃ الخوف میں وقت اور تکمیل…
Read the full tafseer →آیت 104
یعنی اپنے دشمن کفار کو طلب کرنے ان کے خلاف جہاد اور ان کے مقابلے میں تیار رہنے میں کمزوری اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو، کیونکہ دل کی کمزوری بدن کی کمزوری کو دعوت دیتی ہے اور یہ کمزوری دشمن کے مقابلے میں کمزوری کا باعث بنتی ہے بلکہ دشمن کے خلاف جنگ میں چست و چالاک اور طاقتور بنو، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور
1۔ صحیح البخاری، الاذان، باب الاذان۔۔۔ الخ، حدیث :631
کا ذکر فرمایا ہے جو اہل ایمان کے دل کو قوت بخشتے ہیں اور وہ دو چیزیں ہیں۔
اول : جس درد و الم، مشقت، تھکاوٹ اور زخموں وغیرہ کا تمہیں سامنا کرنا پڑتا ہے انہی چیزوں کا سامنا تمہارے دشمن کو بھی کرنا پ ڑتا ہے، اس لئے انسانی مروت اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے ( ولا تھنوا فی اتبغاء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون۔
اس گروہ کے تعاقت میں کمزوری نہ دکھائو اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں ( تا آخری آیت۔ اس قول باری میں جہاد پر ابھارا گی ہے۔ اس میں جہاد کرنے کا حکم ہے اور مشرکین کا تعاقب کرنے اور ان کے ساتھ پنجہ آزمائی میں کمزوری اور سستی دکھانے سے منع کیا گیا ہے اس لیے کہ ابتغاء کے معنی طلب اور تعاقب کے ہیں۔ جب آپ کسی چیز کی طلب میں اس کا پیچھا کریں تو اس وقت آپ ” بغیت و ابتغیت کا فقرہ استعمال کریں گے۔ وہن دل کی اس کمزوری اور بزدلی کو کہتے ہیں جو انسان دشمن کا مقابلہ کرتے وقت محسوس کرتا ہے۔
اللہ…
Read the full tafseer →278 دنیا میں تکلیف سب ہی کو پہنچتی ہے : مومن کو بھی اور کافر کو بھی۔ سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو کیا ہو وہ بھی تو تکلیف اٹھاتے ہیں جیسے تم اٹھاتے ہو کہ قتل ہوتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں، طرح طرح کی مشقتیں اٹھاتے ہیں، حالانکہ نہ انہیں کوئی اجر، نہ ثواب، کہ وہ کفر و باطل پر ہیں۔ سو کافر کی تکلیفیں رائیگاں، بےمقصد اور بیکار جاتی ہیں۔ نہ اس کو ان کا کوئی اجر نہ ثواب، نہ صلہ نہ نتیجہ سوائے محرومی اور نقصان و خسران کے۔ جبکہ مومن کو اس کی ہر تکلیف اور مصیبت پر اجر وثواب ملتا ہے۔ اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور ایسی ہر تکلیف اس کیلئے مغفرت سیئات اور رفع…
Read the full tafseer →دشمن کو ڈھیل نہ دو
تشریح : اس آیت میں بھی جنگ کے داؤ پیچ سکھائے گئے ہیں اور حکم ہو رہا ہے کہ جب ایک دفعہ تمہارا آمنا سامنا کفار سے ہو ہی جائے تو پھر ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہ برتی جائے ان کو آخر دم تک دھکیلتے رہو اور پوری طرح ان کا پیچھا کرو اور اچھی طرح ان کو سزا دو تاکہ فتنہ و فساد پوری طرح ختم ہوجائے۔ لڑائی سے جو کچھ تکالیف تمہیں اٹھانی پڑتی ہیں وہ تکالیف ان کو بھی اٹھانی پڑتی ہیں مگر کیونکہ ان کا مقصد لڑائی کا اللہ کے خلاف لڑنا ہے جبکہ تمہارا مقصد صرف اور صرف اللہ اور اس کے دین کی سربلندی ہے، لہٰذا تمہیں خوش ہونا چاہیے اور مطمئن بھی کہ تم جیت گئے تو غازی، مارے گئے تو شہید، غازی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
رکوع نمبر 15 آیات 101 تا 104 ۔ اسرار و معارف :
واذا ضربتم ۔۔۔ علیما حکیما۔
اللہ کریم نے جہاں دین میں استقامت اور ہمت و جرات کا حکم فرمایا ہے وہاں رخصتیں بھی دی ہیں۔ رعایتیں بھی برتی ہیں جیسے حدیث معراج میں مشہور واقعہ ہے کہ پچاس نمازوں کا حکم ہوا ایک رات دن میں پڑھی جائیں تو آپ ﷺ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کمی کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا الغرض بار بار جانا آنا ہوا حکم ہوا چالیس کردیتے ہیں پھر تیس ، بیس ، دس ، حتی کہ پانچ تو روایات میں ملتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ پانچ بھی زیادہ ہیں۔ میری امت دو کا حق بھی ادا نہ کرسکی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اب مزید درخواست کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
ف 6 یعنی شریعت کے قواعد کے مطابق فیصلہ کرو جیسے اللہ نے تجھ کو دکھلا یا یعنی وحی بھیج کر یا کسی اور طریقے سے آپ ﷺ کو سمجھایا حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں یہ ادراک اللہ کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ ٰ خاص تھا کہ آپ ﷺ کی رائے اللہ تعالیٰ کے سمجھانے سے ٹھیک ہوتی تھی اس لیے آپ ﷺ کا فیصلہ واجب الا تباع ہے، آنحضرت ﷺ کے بعد یہ ممصب کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اور امام یا مجتہد کی ہر بات صحیح نہیں ہوتی لہذا اس پر عمل کرنا بھی ضروری نہیں ہے (کذافی اللوحیدی)
7 ان آیات کی شان نزول کے تحت عطا نے لکھا ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طعمہ یا بشر بن ابیر تھا۔ اس نے ایک انصاری کی زرہ چرالی اور اسے ایک یہودی کے گھر میں…
Read the full tafseer →(4:104) لاتھنوا۔ تم سست مت ہوجاؤ۔ تم کمزور دل نہ ہوجاؤ۔ وھن۔ سے فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ ولا تھنوا ۔۔ القوم۔ دشمن قوم کو ڈھونڈھ نکالنے اور اس کا مقابلہ کرنے میں بزدلی نہ دکھاؤ۔
تکونوا تالمون۔ تم درد مند ہوتے ہو۔ تم تکلیف پاتے ہو۔ الم سے، درد۔ تکلیف۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ (یعنی اگر تم کو دشمن کا مقابلہ کرنے اور اس کا تعاقب کرنے میں دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو بھی تمہاری طرح تم سے مقابلہ کرنے سے ویسی ہی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے) ۔ اراک اللہ۔ جو اللہ نے تمہیں دکھایا ہے۔ یعنی جو حقیقت حال کا علم خدا نے تمہیں عطا کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
آیت نمبر 101-104
لغات القرآن : ان تقصروا، یہ کہ تم قصر کرو۔ کنت، آپ ﷺ ہوں۔ اسلحۃ، ہتھیار۔ یمیلون، وہ حملہ کرتے ہیں۔ میلۃ واحدۃ، ایک دفعہ حملہ۔ مطر، بارش۔ تالمون، تم تکلیف میں ہو۔ ترجون، تم امید رکھتے ہو۔
تشریح : ان آیات میں قصر نماز اور صلوۃ خوف کا ذکر ہے ۔ سفر میں اور خوف میں دونوں حالات میں نماز مختصر بھی ہے اور مخصوص بھی۔ کتنے دور کے سفر میں قصر ہے، کتنا قصر ہے۔ کن نمازوں میں قصر ہے۔ کتنے دنوں کے قیام سے قصر ٹوٹتا ہے ، کیا قصر لازم ہے وغیرہ وغیرہ ان سوالات کے جواب مختلف آئمہ فکر نے قدرے اختلافات کے ساتھ دئیے ہیں۔ ایک بات ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ سفر میں قصر کیا ہے اور چاروں خلفائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
اوپر کی آیتوں میں صلٰوۃ الخوف کی اجازت تھی اور اس حالت میں رکوع و سجدہ اطمینان سے نہیں ہوسکتا جس طرح امن کی حالت میں ہوسکتا ہے۔ اس واسطے فرمایا کہ صلٰوۃ الخوف کے بعد اللہ کا ذکر کثرت سے ہر حال میں کیا جاوے تاکہ لڑائی کے خدشہ کے سبب سے اس نماز کے ارکان میں جو کچھ کمی ہوئی ہے وہ آسانی سے پوری ہوجاوے۔ کیونکہ ذکر الٰہی میں نماز کی طرح نہ وقت کی قید ہے نہ وضو کی۔ آنحضرت ﷺ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ صلٰوۃ الخوف میں وقت اور تکمیل ارکان کی پوری پابندی نہ ہوسکے تو حرورت شرعی کے سبب سے معاف ہے۔ لیکن امن کی حالت میں اس طرح ادھوری نماز کی عادت نہ ڈالی جائے کہ امن کی حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
[70] یعنی دشمنوں کا گروہ۔
Read the full tafseer →ولا تھنوا :
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسلمان جہاد وجنگ میں دلیر اور بہادر ثابت ہو ، اس لئے کہ اس کے سامنے جو نصب العین ہے ‘ وہ زیادہ بلند اور پاکیزہ ہے ۔
کفار دنیائے دوں کے لئے لڑتے ہیں اور مسلمان اعلاء حق کے لئے ۔
مسلمان کے سامنے توقعات ویقین کا انبار ہے اور کافر عقبی کی جانب یکسر مایوس ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
ف 3 اور اے مسلمانو ! تم اپنی دشمن اور مخالف قوم کا تعاقب اور پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو اور بزدلی نہ دکھائو اگر جنگ کی وجہ سے اور زخم خوردہ ہونے کے باعث تم بےآرام اور دکھی ہوتے ہو تو وہ تمہارے دشمن بھی اسی طرح بےآرام اور دکھی ہوتے ہیں جس طرح تم بےآرام اور دکھی ہوتے ہو یعنی جہاں تک جنگ اور مجروح ہونے کی وجہ سے تم کو درد اور تکلیف ہوتی ہے اسی طرح انکو بھی ہوتی ہے تو گویا اس معاملہ میں تم اور وہ مشترک ہو مگر تم اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو امیدیں ان کو ہیں اور وہ اجر وثواب کی توقع سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہ وہ تمہارے حال سے خوب واقف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ف 3۔ یعنی ہر حالت میں حتی کہ عین قتال کے وقت بھی دل سے بھی اور احکام کے اتباع سے بھی کہ وہ بھی ذکر ہے چناچہ قتال میں خلاف شرع کوئی کاروائی کرنا ناجائز ہے۔ غرض نماز تو ختم ہوئی ذکر ختم نہیں ہوتا نماز میں تو تخفیف ہوگئی تھی لیکن یہ بحالہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
منکرین سے تم کو جو دکھ پہنچا ہے اس سے زیادہ تم ان کو دکھ پہنچا چکے ہو
178: اشارہ اس طرف ہے کہ میدان احد میں اگر تم کو کفار سے تکلیف پہنچی ہے جو در اصل تمہاری ہی کوتاہی کا نتیجہ تھی تو تم کو یہ تو نہ بھول جانا چاہئے کہ تم اس سے پہلے میدان بدر میں ان کو اس سے دوگنی تکلیف پہنچا چکے ہو۔ پھر جب وہ اتنی تکلیف و مصیبت برداشت کرکے دوسرے ہی سال احد میں آدھمکے ہیں تو تم اتنے بد دل کیوں ہو رہے ہو حالانکہ تم اللہ سے وہ امید بھی رکھتے ہو جو ان کو نہیں ہے۔ کیونکہ تم کو جو کچھ پیش آیا ہے وہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے پیش آیا ہے اور یقیناً اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ اگر کچھ لوگ تمہارے جنگ احد میں کام آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
The concessions given in travel
(In Islamic legal terminology, Safar means journey or travel; Qasr refers to the making of one's Salah short while in that status. Thus, four obligatory Raka’ at of Zuhr, 'Asr and 'Isha are reduced in number and confined to two Raka'at only.)
Rulings:
1. Full Sarah is made in a journey which is less than 48 miles.
2. If, after reaching the destination at the end of the journey, one intends to stay there for less than fifteen days, rules relating to 'journey' will continue to apply to him, that is, the obligatory four Raka'at of Salah will be reduced to half.…
Read the full tafseer →138. This refers to those unbelievers who adamantly opposed the cause of Islam and the establishment of the Islamic order.
139. It is astonishing that men of faith should not be prepared to endure the same degree of hardship for the sake of the Truth as unbelievers do for the sake of falsehood. This is strange insofar as the latter merely seek the transient benefits of worldly life whereas the faithful seek to please, and secure the proximity of the Lord of the Universe and look forward to everlasting rewards.
Read the full tafseer →